بندگی کی فضیلت اور اسلامی قانونِ وراثت میں بہن بھائیوں کا حصہ

درس نمبر 215، سورۃ النساء: آیات: 172 تا 176- اشاعتِ اول: 30 جون، 2022، بمطابق 30 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • اللہ کی بندگی کی اہمیت اور تکبر کا انجام
  • ایمان لانے والوں کے لیے اللہ کی رحمت، فضل اور نور کا بیان
  • کلالہ کی تعریف (اصول اور فروع کی وضاحت)
  • وراثت کے حقداروں میں حواشی کا تعارف
  • بہن بھائیوں کی تین اقسام (حقیقی، علاتی اور اخیافی)
  • کلالہ کی صورت میں بہن بھائیوں کی وراثت (عصبات) کے شرعی احکام

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا، عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ۔ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا۔ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ۔ وَأَمَّا الَّذِينَ اسْتَنكَفُوا وَاسْتَكْبَرُوا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا۔ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ، فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا۔ يَسْتَفْتُونَكَ، قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ، إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ۔ وَهُوَ يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ، فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ۔ وَإِن كَانُوا إِخْوَةً رِّجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ، يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوا، وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ۔

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: مسیح کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھ سکتے کہ وہ اللہ کے بندے ہوں، اور نہ مقرب فرشتے اس میں کوئی عار سمجھتے ہیں۔ اور جو شخص اپنے پروردگار کی بندگی میں عار سمجھے اور تکبر کا مظاہرہ کرے، تو اچھی طرح سمجھ لے کہ اللہ ان سب کو اپنے پاس جمع کرے گا۔ پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے، ان کو ان کا پورا پورا ثواب دے گا اور اپنے فضل سے اس سے زیادہ بھی دے گا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے بندگی کو عار سمجھا ہوگا اور تکبر کا مظاہرہ کیا ہوگا، تو ان کو دردناک عذاب دے گا اور ان کو اللہ کے سوا اپنا کوئی رکھوالا اور مددگار نہیں ملے گا۔ اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل آچکی ہے، اور ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی روشنی بھیج دی ہے جو راستے کی پوری وضاحت کرنے والی ہے۔ چنانچہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے، اور انہوں نے اسی کا سہارا تھام لیا، اللہ ان کو اپنے فضل و رحمت میں داخل کرے گا اور انہیں اپنے پاس آنے کے لیے سیدھے راستے تک پہنچائے گا۔ اے پیغمبر! لوگ تم سے کلالہ کا حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم بتاتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس حال میں مر جائے کہ اس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو، تو وہ اس کے ترکے میں سے آدھے کی حقدار ہوگی۔ اور اگر اس بہن کی اولاد نہ ہو اور وہ مر جائے اور اس کا بھائی زندہ ہو، تو وہ اس بہن کا وارث ہوگا۔ اور اگر بہنیں دو ہوں، تو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوں گی۔ اور اگر مرنے والے کے بھائی بھی ہوں اور بہنیں بھی، تو ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔ اللہ تمہارے سامنے وضاحت کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو، اور اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔ اس پر یہ سورۃ مکمل ہو گئی ہے۔ سورۃ نساء۔ اور ان شاء اللہ اگلے دن ہم دوسری سورۃ شروع کریں گے۔ اور اس میں کلالہ کا ایک لفظ آیا ہے۔ تو کلالہ جو ہے وہ اس شخص کو کہتے ہیں جس کے انتقال کے وقت نہ اس کا باپ یا دادا زندہ ہو، نہ کوئی بیٹا یا پوتا۔ یعنی اس کا مطلب ہے نہ اصول ہوں، نہ فروع ہوں۔ یعنی نہ اس کے اصول ہوں، نہ فروع ہوں۔ حواشی ہوں۔ حواشی سے مراد دائیں بائیں، لوگ جو ہوتے ہیں۔

تو اصول و فروع میں والد، پھر دادا، پھر پردادا، پھر سکڑ دادا، یہ سب آتے ہیں۔ اور فروع میں بیٹا، پوتا، پڑپوتا، سکڑ پوتا، یہ آتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جس کا، مطلب ظاہر ہے چونکہ سب سے پہلے حق ان کا بنتا ہے۔ اگر یہ موجود ہوں تو دوسرا حصہ نہیں پاتا۔ بنیادی ہے نا۔ بنیادی، مطلب، یا یہ اس کی بنیاد ہے، یا وہ اس کی بنیاد ہے۔ مطلب اصول و فروع آپس میں باہم وہ ہوتے ہیں نا۔ جو اصل ہوتا ہے تو مطلب ظاہر ہے وہ دوسرا اس کا فرع ہوتا ہے۔ اور جو فرع ہوتا ہے وہ دوسرا اس کا اصل ہوتا ہے۔ یہ تو آپس میں لازم و ملزوم۔

تو جو، مطلب، سب سے پہلے حق ان کا بنتا ہے۔ سب سے پہلے حق بنتا ہے عصبات میں۔ وہ، اولاد کا بنتا ہے۔ یعنی نرینہ اولاد، اور جو، اس کے ساتھ وہ دوسرے بھی ہوں، زنانہ بھی ہوں، تو پھر ان میں، مِثْلُ حَظِّ... لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ہوگا۔

اب یہاں جو حکم آتا ہے کہ وہ تو ہیں نہیں۔ جب وہ نہیں ہیں تو پھر حواشی ہیں۔ حواشی میں پھر بہن بھائی آتے ہیں۔ بہن بھائی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ جن کے یعنی باپ اور ماں دونوں شریک ہوں، ان کو حقیقی بہن بھائی کہتے ہیں۔ جن کا جو، باپ شریک ہو اور مائیں مختلف ہوں، تو ان کو علاتی بہن بھائی کہتے ہیں۔ اچھا۔ اور جن کے وہ، یعنی ماں شریک ہو اور باپ مختلف ہو۔ یعنی کسی وہ ہے کہ وہ کسی عورت کا خاوند فوت ہو گیا اور اس نے دوسری شادی کر لی، تو پھر اس سے اس کی اولاد ہو گئی، تو ان کی جو دونوں قسم کی اولاد ہیں وہ آپس میں اخیافی بہن بھائی ہیں۔ اخیافی بہن بھائی۔ ماں شریک جس کو ہم کہتے ہیں۔

تو اخیافی بہن بھائیوں کا حکم تو پہلے سے گزر چکا ہے۔ وہ مطلب سورۂ نساء کی ابتداء میں۔ وہ ہے کہ وہ ذوی الفروض ہیں۔ یعنی ان کا حصہ قرآن نے مقرر کیا ہوا ہے۔ وہ ذوی الفروض ہیں۔ لیکن یہ جو علاتی بہن بھائی ہیں اور حقیقی بہن بھائی ہیں، یہ عصبات ہیں۔ مطلب یعنی کہ وہ، بن جاتے ہیں نا یہ جو، اگر، یعنی حقیقی بہن بھائی جو ہوتے ہیں، یہ عصبات بن جاتے ہیں۔ تو عصبہ وہ ہوتے ہیں جن کو ذوی الفروض میں تقسیم کے بعد حصہ ملتا ہے۔ اور جتنا ہو، سارا ملتا ہے۔

تو یہ عصبات ہیں۔ تو عصبات میں ظاہر ہے مطلب ہے کہ اگر بہن، اگر صرف بھائی ہوں، یا تو، اور پہلے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس قسم کا۔ حقیقی بہن بھائی موجود ہوں تو علاتی بہن بھائیوں کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے وہ پہلے آتے ہیں حقیقی بہن بھائی اگر موجود ہوں۔ اور اگر حقیقی بہن بھائی موجود نہ ہوں تو پھر علاتی بہن بھائیوں کو ملے گا۔ تو پھر ان میں دو قسم کی چیزیں ہیں۔ یا بالکل، یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ ہوں گے، صرف بھائی ہوں گے، یا صرف بہنیں ہوں گی، تو وہ تو برابر برابر، برابر تقسیم ہوگا۔ لیکن اگر بھائی اور بہن، بہنیں شریک ہوں، بالکل وہی اولاد والے کی طرح کی بات ہے، تو پھر مِثْلُ حَظِّ... لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ والی بات ہوگی۔ ون ٹو ٹو کا ریشو ہوگا۔

تو یہ اصل میں آج کی بات وہ خاص اس میں آئی ہے۔ باقی یہ ہے کہ آج کا چونکہ ابھی ہمیں پتہ چلا ہے کہ نماز کا وقت تبدیل ہو گیا ہے، یعنی پانچ منٹ آگے ہو گیا ہے۔ اب ہماری نماز چار بج کر پینتیس منٹ پہ ہوگی۔ پہلے ساڑھے چار پہ ہوتی تھی۔ تو اس وجہ سے ہمارا جو درس ہے، یہ بھی پانچ منٹ بعد شروع ہو گیا۔ تو جب تک ٹائم مزید تبدیل نہیں ہوتا، تو پھر یہ ابھی اسی کے حساب سے چلے گا۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ نصیب فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔