ماہِ صفر کی حقیقت، آفات کے اصل اسباب اور سچی توبہ کی اہمیت

احادیث از خطبات الاحکام، چالیسواں خطبہ، صفر کے بارے میں، اشاعت اول: 9 ستمبر، 2022 بمطابق 12 صفر المظفر 1444 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان

دینِ اسلام میں ماہِ صفر میں نحوست کا عقیدہ سراسر باطل ہے۔ آفتیں اور مصیبتیں کسی مہینے کے سبب نہیں بلکہ ہمارے اعمال اور گناہوں کی وجہ سے نازل ہوتی ہیں۔ آج معاشرے میں سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق جھوٹ پھیلانے، عام لین دین اور فکسڈ ڈیپازٹ میں سود کھانے اور کھلے عام رشوت لینے جیسے سنگین گناہ عام ہیں، جو سیلاب جیسے عذابات کو دعوت دیتے ہیں۔ ان سے نجات کا واحد راستہ سچی توبہ ہے۔ سود مال کو مٹاتا ہے جبکہ صدقات سے مال میں برکت ہوتی ہے۔ توبہ پر استقامت اور نفسِ امارہ کو نفسِ مطمئنہ بنانے کے لیے مجاہدہ، کثرتِ ذکر اور صادقین کی صحبت اختیار کرنا ضروری ہے، تاکہ دل نرم ہو اور دین کی راہ پر چلنا آسان ہو جائے۔

  1. ماہِ صفر میں نحوست اور بدشگونی کے عقیدے کی اسلامی حیثیت
    1. مصائب و عذابات کا نزول اور اس کا واحد علاج (اجتماعی و انفرادی توبہ)
      1. سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال اور بغیر تحقیق خبر پھیلانے (جھوٹ) کا گناہ
        1. جدید دور میں سود کی مختلف شکلیں (بشمول فکسڈ ڈپازٹ) اور صدقے کی برکات
          1. ڈنکے کی چوٹ پر رشوت خوری کا ناسور اور معاشرتی بے حسی
            1. توبہ پر استقامت کے طریقے: مجاہدہِ نفس اور صادقین (اللہ والوں) کی صحبت

              اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِيْ بِيَدِهٖ أَزِمَّةُ الْأُمُوْرِ وَ هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ الْمُتَصَرِّفُ فِيْهِ مِنَ الْخَيْرَاتِ وَ الشُّرُوْرِ، وَ نَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ، وَ نَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَ رَسُوْلُهٗ، اَلَّذِيْ أَخْرَجَنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّوْرِ، وَ مَحَا كُلَّ جَهْلٍ وَّ دَيْجُوْرٍ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ عَلٰی اٰلہٖ وَ أَصْحَابِہِ الَّذِيْنَ ظَهَرَ بِهِمُ الدِّيْنُ أَتَمَّ ظُهُوْرٍ، وَ رَسَخَ بِهِمُ الْيَقِيْنُ فِي الصُّدُوْرِ مَا تَعَاقَبَتِ الْأَيَّامُ وَ الشُّهُوْرُ، وَ سَلَّمَ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا،

              أَمَّا بَعْدُ:

              فَقَدْ حَانَ شَهْرُ صَفَرَ، يَتَشَائَمُ بِهٖ بَعْضُ النَّاسِ وَ يَتَطَيَّرُ كَمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ مَعَ هٰذَا الْإِعْتِقَادِ يَبْتَدِعُوْنَ فِيْهِ النَّسِيْءَ النُّکْرَ، فَأَبْطَلَهُ اللهُ تَعَالٰی بِقَوْلِهٖ: ﴿اِنَّمَا النَّسِیْءُ زِيَادَةٌ فِی الْكُفْرِ﴾ (التوبہ: 37) وَ كَذٰلِكَ نَفٰی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الشُّوْمَ وَ الطِّيَرَةَ بِهٖ خُصُوْصًا وَّ بِكُلِّ شَىْءٍ عُمُوْمًا، وَ أَزَاحَ بِهٰذَا النَّفْيِ عَنَّا ھُمُوْمًا وَّ غُمُوْمًا، فَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''لَا عَدْوٰى وَ لا طِيَرَةَ وَ لَا هَامَّةَ وَّ لَا صَفَرَ''۔ (بخاری، رقم الحدیث:5707)

              قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ: ''یَتَشَاءَمُوْنَ بِدُخُوْلِ صَفَرَ''۔ فَقَالَ النَبِیُّ ﷺ: ''لَا صَفَرَ''۔ (ابوداؤد، رقم الحدیث:3915، بِإِخْتِلَافِ الْأْلْفَاظِ) وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''الطِّیَرَۃُ شِرْكُٗ [قَالَهٗ ثَلٰثاً]، وَ قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: مَا مِنَّا إِلَّا وَلٰکِنَّ اللهَ یُذْھِبُهٗ بِالتَّوَکُّلِ''۔ (ابوداؤد، رقم الحدیث:3910) وَ عُلِمَ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ وَسْوَسَةَ الطِّیَرَۃِ إِذَا لَمْ یَعْتَقِدْھَا بِالْقَلْبِ وَ لَمْ یَعْمَلْ بِمُقْتَضَاھَا بِالْجَوَارِحِ وَ لَمْ یَتَکَلَّمْ بِھَا بِاللِّسَانِ لَا یُؤَاخَذُ عَلَیْھَا، وَ ھٰذَا ھُوَ الْمُرَادُ بِالتَّوَکُّلِ۔

              وَ مَا رُوِیَ أَنَّهٗ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ قَالَ: ''الشُّؤْمُ فِي المَرْأَةِ وَ الدَّارِ وَ الْفَرَسِ'' (بخاری، رقم الحدیث:5093) فَھُوَ عَلٰی سَبِیْلِ الْفَرْضِ لِمَا قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''وَ إِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِيْ شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ وَ الْمَرْأَةِ وَ الدَّارِ''۔ (ابوداؤد، رقم الحدیث:3921) أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ ﴿قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ ۚ اَئِنْ ذُكِّرْتُـمْ ۚ بَلْ اَنْتُـمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ﴾ (یس: 19)

              صدق الله مولانا العظيم وصدق رسوله النبي الكريم

              معزز سامعین حضرات! ماہِ صفر شروع ہو چکا ہے۔ اور ماہ صفر کے بارے میں بعض لوگوں کے بہت غلط خیالات یہ پھیلائے جاتے ہیں۔

              ہمارا جو دین ہے یہ اوپر سے آیا ہے، نیچے سے نہیں اوپر جا رہا۔ اس وجہ سے اس میں جو چیز پہلے سے طے ہے، وہی ہو گی، اس میں کوئی نئی چیز کے داخل ہونے کی جگہ نہیں ہے۔

              عرفات کا موقع تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی۔ "اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا"۔ "آج کے دن ہم نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر لیا اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کر لیا۔ اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا"۔

              ایک یہودی نے جب یہ آیت سنی تو کہا اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ یہ اتنی خوشی کی بات ہے کہ اللہ پاک نے نعمت تمام کر لیا، دین مکمل ہو گیا، اور اسلام ہی واحد دین بنا دیا گیا یعنی اللہ پاک کی رضا کا، تو یہ بہت بڑی بات تھی۔ تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے کسی نے کہا کہ ایک یہودی نے ایسا کہا ہے، اس نے کہا جس دن یہ آیت اتری تھی، اس دن ہماری دو عیدیں تھیں۔ ایک یہ کہ جمعہ کا دن تھا اور دوسرا حج کا دن تھا۔ تو ہمارے تو دو عیدیں تھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہم پر دین مکمل ہو گیا ہے۔

              اب دیکھ لیں ہمارے پشتو میں ایک محاورہ ہے، ضرب المثل ہے، ہے تو بڑی عجیب سی، لیکن بہرحال اس موقع کے لیے بڑی مناسب ہے۔ وہ ہے "ما مهٔ شميره درګډ يم"۔ یعنی "مجھے گنو مت لیکن میں تمہارے ساتھ شامل ہوں"۔ عجیب بات ہے بھئی تم کسی شمار میں ہو نہیں، تو پھر خواہ مخواہ اپنے آپ کو کیوں پریشان کرتے ہو؟

              تو اللہ پاک نے ہمیں اس چیز میں شامل ہی نہیں فرمایا، کہ ہم اس کے بارے میں فیصلہ کر لیں۔ تو جب ایسی بات ہے تو پھر ہم اپنے آپ کو کیوں خراب کریں؟ کیوں اس میں اپنے آپ کو شامل کر لیں؟

              تو یہ جو صفر کا مہینہ ہے نا، اس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں اس میں بڑی بلائیں اترتی ہیںاور اس سے بڑا نقصان ہوتا ہے۔ اور فلاں وظیفہ کر لو، فلاں وظیفہ کر لو اس سے وہ دور ہو جائیں گی۔ اب وظیفے چونکہ کوئی بھی لوگ کر سکتے ہیں، مثلا کوئی کہتا ہے سورہ فاتحہ پڑھ لو، سورہ فاتحہ تو صحیح ہے، وہ تو غلط نہیں ہے۔ لیکن اس موقع پہ سورہ فاتحہ پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ اس کے لیے ضرورت نہیں ہے۔ تو سورہ فاتحہ ویسے پڑھ لو ثواب کی چیز ہے، ثواب کی نیت سے پڑھو نا، کس نے روکا ہے لیکن اس کے لیے کہ یہ بلائیں ہماری صفر کی دور ہو جائیں، اس کے لیے سورہ فاتحہ نہیں ہوتی سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کیونکہ بلائیں اتر ہی نہیں رہیں، کس نے کہا ہے بلائیں اتر رہی ہیں؟ ہاں بلائیں اترتی ہیں وہ ہمارے اعمال کی وجہ سے۔ اترتی ہیں ہمارے اعمال کی وجہ سے، اور وہ کسی بھی مہینے میں اتر سکتی ہیں۔

              وہ تو اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا نا کہ "ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت أيدي الناس" "خشکی اور تری میں، خشکی اور تری میں فساد آ گیا، لوگوں کے اعمال کی وجہ سے"۔ خشکی اور تری میں فساد آ گیا لوگوں کے اعمال کی وجہ سے۔

              اب اگر خشکی اور تری میں فساد آ جائے لوگوں کے اعمال کی وجہ سے تو اس کا حل کیا ہو گا؟ اس کا حل ہے توبہ کرنا، توبہ کرنا، استغفار کرنا، رجوع کرنا اللہ کی طرف، گناہوں کو چھوڑنا، یہ ہے اصل بات۔ نحوست اس بات کی ہے۔ نحوست صفر کے مہینے کی نہیں ہے۔ بلائیں صفر کے مہینے کی وجہ سے نہیں آ رہی ہیں، بلائیں آ رہی ہیں ہمارے اعمال کی وجہ سے، اپنے اعمال کو ٹھیک کر لو۔

              وہ تو اللہ تعالی کا کھلا حکم ہے۔ مشکوۃ شریف بھرا ہوا ہے احادیث شریف سے، آپ اس کو پڑھ لیں۔ اگر یہ گناہ کوئی کر لے تو یہ عذاب آتا ہے، اگر یہ گناہ کر لو تو یہ مصیبت ہوتی ہے، اگر یہ گناہ کر لو تو یہ مسئلہ ہوتا ہے۔ احادیث شریفہ موجود ہیں۔ زکوۃ نہ دو قحط آ جائے، زنا ہو جائے تو قتل و غارت عام ہو جائے۔ اس طرح اور بہت ساری باتیں ہیں جو احادیث شریفہ میں آئی ہیں، تو گناہوں کی وجہ سے عذابات آتے ہیں۔ گناہوں کی وجہ سے عذابات آتے ہیں۔

              ان عذابات کا علاج یہ ہے کہ اللہ پاک کی طرف رجوع کر لو، توبہ کر لو سچے دل سے۔ اجتماعی توبہ کر لو تو یہ سب سے زیادہ اچھا ہے۔

              یونس علیہ السلام پیغمبر تھے، قوم کو دعوت و تبلیغ کر رہے تھے، لیکن قوم نہیں مان رہی تھی۔ تو ان کو کہا کہ عذاب آ سکتا ہے، اور ایسا عذاب ہو گا، اور ایسا عذاب ہو گا۔ ان لوگوں نے ویسے ہی سمجھ لیا جیسے عام لوگ کرتے ہیں، ہمارے ہاں بھی اس طرح کرتے ہیں تو اصل میں ہوا یہ کہ یونس علیہ السلام کو کچھ اندازہ ہو گیا کہ شاید عذاب آ رہا ہے، اور اب مجھے نکلنا چاہیے کیونکہ نبی کو پھر حکم دے دیا جاتا ہے کہ نکلو یہاں سے۔ جیسے لوط علیہ السلام کے ساتھ ہوا، نوح علیہ السلام کے ساتھ ہوا۔ یہ ان کی اجتہادی بات تھی، لہذا ان کے اوپر پھر امتحان آ گیا، مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے۔ اور عوام کے اوپر عذاب واقعتا آ گیا۔ جب عذاب آ گیا تو جب ان لوگوں نے کہا اوہ! یہی تو پیغمبر نے کہا تھا۔ تو وہ سارے لوگ، مرد اور عورتیں، بچے، سب جا کے میدان میں گر پڑے اللہ تعالی کے سامنے۔ آہ و زاری کر رہے تھے، توبہ کر رہے تھے، اللہ پاک نے ان کا توبہ قبول فرما لیا اور آیا ہوا عذاب ٹل گیا۔ حالانکہ ایسا طریقہ ہوتا نہیں ہے، آیا ہوا عذاب ٹلا نہیں کرتا، لیکن وہ ٹل گیا۔

              اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک راستہ کھلا ہے۔ اور وہ راستہ کھلا کیا ہے؟ توبہ کریں۔ اس وقت میں آپ کو کیا بتاؤں؟ اللہ ہمیں معاف کرے، اللہ تعالی ہمیں سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم صرف خبریں سنتے ہیں۔ ہم صرف خبریں سنتے ہیں، یہ ہو گیا، یہ ہو گیا، یہ ہو گیا۔ بھئی یہ ہو گیا، یہ ہو گیا سے کوئی بات نہیں بنتی۔ اس سے سبق حاصل کر لو۔ کیا سبق حاصل کر لو؟ کہ یہ اللہ پاک کی ناراضگی کی باتیں ہیں۔ اور جس وقت عذاب آتا ہے تو حدیث شریف میں آتا ہے کہ فرمایا: عذاب جس وقت آ جائے اس میں اچھے لوگ بھی رل سکتے ہیں۔ لیکن آخرت میں ان کو علیحدہ کر لیا جائے گا۔

              تین گناہ بہت عام ہو چکے ہیں۔ تین گناہ بہت زیادہ عام ہو چکے ہیں۔ بہت زیادہ عام ہو چکے ہیں۔ اور اس پر بہت سخت عذابات کی وعید ہے۔ قرآن میں بھی، حدیث شریفہ میں بھی۔

              ایک جو ہے نا وہ کیا ہے؟ جھوٹ۔ کثرت کے ساتھ جھوٹ بولا جا رہا ہے آج کل، کثرت کے ساتھ۔ کوئی بھی جھوٹ کو جھوٹ نہیں سمجھ رہا۔ کوئی بھی جھوٹ کی وجہ سے اپنے آپ کو گناہ گار نہیں سمجھ رہا، اس کو ایک شغل میلہ سمجھا ہوا ہے۔ اس کا جو سب سے بڑا معروف نام ہے وہ "سوشل میڈیا" ہے۔ سوشل میڈیا پر اس طرح کھل کے جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ جس کا کوئی حساب نہیں ہے۔ پہلے اخباروں میں جھوٹ آتا تھا نا، ہم کہتے تھے بھئی اخبار جھوٹ بولتے ہیں۔ یا ٹیلی ویژن پہ جھوٹ بولا جاتا تھا۔ اس وقت تو ہر آدمی کی جیب میں جو پڑا ہوا ہے اس پہ جھوٹ پڑا ہوا ہے۔ اور اس پر یقین لوگ کر رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے۔ اور خود اس جھوٹ میں شامل ہو رہے ہیں، کس طرح شامل ہو رہے ہیں؟ وہ کوئی بھی آڈیو آتا ہے، ویڈیو آتا ہے، یا کوئی آرٹیکل آتا ہے جھوٹا، اس کو فورا جھٹ سے دوسرے کو بھیج دیتے ہیں۔

              حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس نے بغیر تحقیق کے کوئی چیز لے کے دوسرے کو بھی بتا دیا، تو وہ جھوٹ ہے۔ بغیر تحقیق کے، بغیر تحقیق کے۔

              رائیونڈ میں ہم تھے، مولانا مصطفیٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ وہ ہدایات دیا کرتے تھے اور کارگزاری سنتے تھے۔ تو حضرت نے ایک دفعہ کارگزاری سنتے ہوئے یہ فرمایا بھئی سن لو۔ اگر کوئی چیز آپ لوگوں نے نئی بیان میں سن لی۔ دیکھو کون سی چیز ہے، یہ کوئی سوشل میڈیا کی بات نہیں ہو رہی ہے، تبلیغی جماعت کی بات ہو رہی ہے، بیان کی بات ہو رہی ہے۔ بیان کی بات ہو رہی ہے، اور کہاں پر ہو رہی ہے؟ رائیونڈ میں ہو رہی ہے۔

              فرمایا: اگر آپ لوگوں نے اپنے بیان میں کوئی نئی بات سن لی، تو خبردار، اس کو بغیر تحقیق کے دوسرے کو نہ بتانا۔ اپنے بیان میں نہ بتانا۔ اس کی تحقیق ضروری ہے۔ کن سے ضروری ہے؟ جو اس کو جانتا ہو یعنی علمائے کرام سے۔ اپنے علاقے کے علمائے کرام سے تحقیق کرو کیا یہ بات صحیح ہے؟ اگر صحیح ہو تو بتا سکتے ہو، نہیں تو پھر نہ بتاؤ، ورنہ جھوٹ ہو گا۔ یہ مولانا مصطفیٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ورنہ جھوٹ ہو گا۔

              پھر مثال بڑی عجیب دی۔ بڑی عجیب مثال دی۔ فرمایا بھئی! گشت کے آداب بیان کرو، کسی کو اٹھا دیا بھئی گشت کے آداب بیان کرو۔ ٹھیک ہے ایک صاحب اٹھ گیا، گشت کے آداب بیان شروع کیے۔ پہلی بات کیا کی؟ گشت بہت بڑا عمل ہے، اس سے سارے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا رک جاؤ۔ رک جاؤ بھئی کس سے سنا ہے؟ کس سے سنا ہے؟ بتاؤ کس سے سنا ہے؟ اب جواب کیا؟ مجھے بتاؤ یہ بات لوگ بتاتے ہیں یا نہیں بتاتے؟ کم از کم میں گواہ ہوں کہ حضرت نے فرمایا کہ غلط ہے۔ میں اس بات کا گواہ ہوں، اور بوڑھے بوڑھے جو تبلیغی جماعت کے ہیں ان سے پوچھو ان کو بھی شاید یاد ہو گا۔ تو خیر ایسا ہے کہ فرمایا: یہ غلط ہے۔ کس نے کہا ہے کہ سارے گناہ معاف ہوتے ہیں؟ سارے گناہ تو توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں گشت سے بہت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ سارے گناہ معاف نہیں ہوتے۔ اگر کوئی قتل کر کے آ جائے، پھر آپ کے ساتھ گشت کر لے پھر کہہ دے میں معاف ہو گیا پھر کیا کرو گے؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟ آج کل ایسا ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا؟

              سارے فراڈ کر کے بازار میں پھر اجتماع میں شرکت کر کے کہتے ہیں بس میں معاف ہو گیا۔ ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ بھئی اس سے معاف نہیں ہوا کرتا۔ گشت سے معاف نہیں ہوتا اگر توبہ نہیں کیا ہے۔ چلہ لگانے سے معاف نہیں ہوتا اگر توبہ نہیں کیا ہے۔ چار مہینے لگانے سے معاف نہیں ہوتا اگر اگر توبہ نہیں کیا ہے، اللہ کے ہاں توبہ کرو گے پھر اللہ پاک معاف کرے گا۔ اس کے لیے توبہ ہے۔

              یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ حضرت نے اس کے اوپر بڑا زور دیا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ مجھ میں منتقل ہو گیا ہے۔ تو میں بھی حضرت کی اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ اور بات قرآن و حدیث کے مطابق صحیح ہے۔ فرمایا کیا؟ جب تک یہ تحقیق نہ کرو کہ کون سی بات صحیح ہے اور کون سی بات غلط، دوسرے کو نہ بتانا۔ اب آج کل سوشل میڈیا کا یہ حال ہے کہ جو میری پارٹی کی بات ہے، چاہے صحیح ہے، چاہے غلط، جھٹ سے میں نے دوسرے کو بھیج دیا۔ اور اگر کسی نے کہا کہ یہ غلط ہے، اس کے ساتھ لڑ پڑے۔ کمال ہے یار! کیا بات کرتے ہو؟ غلط بات پر لڑنا پھر تو مزید مصیبت ہے۔ اول تو یہ بات منتقل کرنا غلط ہے، اور اگر منتقل کر لی، اگر کسی نے آپ کی تصحیح کر دی کہ بھئی ایسا نہیں ہے، پھر آپ اس کے لڑ پڑے کہ نہیں ایسا ہی ہے۔ کیوں کہ آپ کی پارٹی کی بات ہے۔ بھئی پارٹی بازی نہیں چلے گی، اللہ کے ہاں پارٹی بازی نہیں ہے۔ اللہ کے ہاں حقیقت اور صحیح اور غلط اور گناہ کی بات یہ ہوتی ہے۔ یا غلط ہے یا صحیح ہے، یا ثواب ہے یا گناہ ہے۔ اور اللہ پاک نے اس کے اصول بتا دیے ہیں پارٹی بازی نہیں ہے۔

              میرا باپ بھی اگر جھوٹ بولے گا میں اس کو نہیں بیان کروں گا، کیونکہ میرے باپ کی بات ہونے سے وہ بات صحیح نہیں ہو جاتی۔ ہاں یہ تو ظاہر ہے حق اور باطل کے اللہ پاک کے اپنے فیصلے ہیں۔ شریعت ہے اس کے لیے، اس کے لیے شریعت کے احکامات پہ عمل کرنا پڑے گا۔ تو ایک تو جھوٹ بہت زیادہ ہے، ایک سمجھ میں آ گئی نا بات؟ بہت زیادہ جھوٹ پھیل گیا ہے۔

              دوسری بات بہت زیادہ خطرناک۔ وہ جو پھیلی ہوئی ہے وہ سود ہے۔ سود۔ بعض سودوں کو لوگ سمجھتے نہیں کہ یہ سود ہے۔ آپ اڈوں پہ جاتے ہیں نا۔ چینج ہوتا ہے نا چینج؟ اب یہ کنڈکٹر وغیرہ چینج لیتے ہیں نا۔ تو کیا کرتے ہیں؟ وہ سو روپے کا نوٹ دیتا ہے یہ ننانوے روپے دیتے ہیں۔ چینج۔ کیا ہو گیا یہ؟ مفتی صاحب؟ جائز ہے؟ سود ہو گیا۔ بھئی پیسوں کے اوپر پیسوں میں تبدیلی نہیں ہے۔ پیسوں پر پیسوں میں تبدیلی نہیں ہے۔ یہ آج کل کتنا عام ہے؟

              حدیث شریف میں آتا ہے، حدیث شریف میں آتا ہے مفہوم بتاتا ہوں۔ کہ اگر بیس سیر مثال کے طور پر دیتا ہوں مفہوم، بیس سیر صحیح گندم۔ اگر آپ کمزور گندم ایک من سے بدل لیں تو یہ سود ہے۔ اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بیس سیر گندم کو پہلے بیچو۔ جتنے پیسے کا بک گیا۔ اس سے جتنا بھی آپ کا اچھا گندم مل گیا، بس ٹھیک ہے۔ اگر خراب گندم ہے بیچو، جتنا صحیح گندم مل گیا۔ صحیح گندم ہے بیچو، جتنا خراب گندم مل گیا۔ پیسوں کو درمیان میں لانا ہو گا۔ قیمت کو درمیان میں لانا ہو گا۔ یہ بات تو صرف میں نے ایک بات بتائی نا، اب پورے ایک بات تو نہیں ہے نا، یہ معاملات کا پورا ایک باب ہے فقہ کا۔

              حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بازار میں اس دکاندار کو نہیں چھوڑتے تھے جس کو معاملات کا علم نہیں ہوا کرتا تھا، ٹیسٹ لیتے تھے۔ امتحان لیتے تھے۔ اگر معاملات کے مسائل ان کو نہیں آتے ان کو بازار سے اٹھا دیتے۔ بازار آپ کے پاس قریب ہے، پوچھو نا کتنے لوگوں کو مسائل آتے ہیں معاملات کے؟ آتے ہیں ان کو؟ نہیں آتے۔ اس میں بہت ساری جگہوں پہ سود ہو جاتا ہے اور پتہ بھی نہیں ہوتا۔

              یہ تو وہ سود ہے جو انجانے میں ہوتا ہے۔ جان کر بھی سود ہوتا ہے۔ جان کر بھی سود ہوتا ہے۔ پرائیویٹ طور پر اتنے پیسے لو اور پھر مجھے اتنے پیسے دو۔ سال میں یا دو سال میں معاہدہ ہو جاتا ہے۔ اور پھر انہوں نے بدمعاشوں کا ایک ٹولہ ساتھ رکھا ہوتا ہے۔ اگر کوئی اس کے مطابق نہیں کرتا پھر ان کی پھینٹی لگاتے ہیں۔

              اس طریقے سے وہ اُگراہی (وصولی) کرتے ہیں وہ۔ تو یہ ساری باتیں معاشرے کے اندر موجود ہیں۔

              جہاں تک بینکوں کا سود ہے وہ تو سب کو معلوم ہے۔ فکسڈ ڈپازٹ۔ فکسڈ ڈپازٹ۔ جس نے فکسڈ ڈپازٹ پہ پیسے رکھے اور اس کا کھانا کھا رہا ہے کھانا حرام۔ فکسڈ ڈپازٹ کیا ہے؟ وہ بتاتا ہوں۔ فکسڈ ڈپازٹ یہ ہے کہ آپ نے مثال کے طور پر دو لاکھ روپے رکھ لیے بینک میں فکسڈ۔ اس پہ وہ بتاتے ہیں ہم آپ کو 14 فیصد دیں گے جی۔ اب 14 فیصد کا مطلب یہ کیا ہے؟ ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کا تقریبا دو ہزار روپے per month بنتا ہے۔ اس کے لگ بھگ، اب دو ہزار روپے per month جو آپ کو دے رہا ہے وہ آپ کے لیے حرام ہے۔ وہ آپ کے لیے حرام ہے۔

              ہاں کاروبار میں لگا دو۔ نفع ہے، نفع تقسیم کر لو۔ نقصان ہو جائے نقصان تقسیم ہو جائے گا۔ نفع نقصان کے ساتھ تجارت جائز ہے۔ اور سود پہ جو تجارت ہے وہ سود ناجائز ہے۔ باقاعدہ صاف باتیں ہیں اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے۔

              میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ خود میرے سامنے ہوا ہے۔ ہمارے ایک استاد تھے اللہ ان کی مغفرت فرمائے فوت ہو گئے ہیں۔ اس نے G/9 میں مکان بنایا۔ یہ 1980، 81 کے لگ بھگ کی بات ہے، 81 کے لگ بھگ۔ پانچ لاکھ روپے پر اس نے دو منزلہ مکان دس مرلے میں بنا لیا G/9 میں۔ ہماری کھانے کی دعوت کر لی۔ خوشی میں۔ ہم گئے، کھانا کھا لیا۔ واپس آ رہے تھے ہمارے ساتھی گاڑی میں تھے۔ ایک دوست نے پوچھا: کیا محسوس کیا آپ نے اتنا مکان بنا کر؟ ویسے لوگ پوچھتے ہیں۔ اس نے کہا مکان بنایا تو صحیح لیکن اچھا نہیں کیا، نہ بناتا تو اچھا تھا۔ اس نے کہا کمال ہے یار! اس پہ تو لوگ خوش ہوتے ہیں آپ نے بھی خوشی میں کھانا کھلایا ہے، یہ کیا باتیں کر رہے ہو؟ کیوں اچھا نہیں کیا؟ اس نے کہا اگر میں یہ فکسڈ ڈپازٹ میں پانچ لاکھ روپے رکھتا نا فکسڈ ڈپازٹ میں۔ تو مجھے چھے ہزار روپے per month ملتے، اور پانچ لاکھ روپے اپنی جگہ پر ہوتا۔ اب میں اگر اس کو کرائے پہ دیتا ہوں تو بارہ سو روپے سے زیادہ کرائے پہ نہیں جاتا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے۔ بارہ سو روپے کرائے سے زیادہ پہ نہیں جاتا۔ تو مجھے نقصان ہو رہا ہے۔

              یہ بات 1980، 81 کی ہے۔ اب آج کل کے دور میں آپ سے پوچھتا ہوں وہ مکان اب بھی موجود ہو گا۔ کیا خیال ہے؟ دو منزلہ مکان 10 مرلے کا جی 9 میں اس وقت کتنے کا ہو گا؟

              ہاں کچھ لوگ بتاتے ہیں پانچ کروڑ، کچھ بتاتے ہیں تین کروڑ، چلیں دو کروڑ سہی۔ مجھے کیا پتہ۔ دو کروڑ بھی اگر ہے، تو دو کروڑ سے پانچ لاکھ نکالو تو ایک کروڑ پچانوے لاکھ تو اس میں نقصان۔ ایک کروڑ پچانوے لاکھ تو اس میں نقصان۔

              اور اس کا کرایہ آج کل کتنا ہو گا اس مکان کا؟ تو لوگ بتاتے ہیں کہ تقریبا ایک لاکھ کے لگ بھگ ہو گا۔ اب ایک لاکھ سے چھ ہزار نکالو، 94 ہزار یہ نقصان۔ 94 ہزار کرائے میں نقصان، اور ایک کروڑ 95 لاکھ یہ مکان کی قیمت میں نقصان۔ اب بتاؤ فائدہ ہوا یا نقصان ہوا اگر سود لیتا تو نقصان ہوتا یا فائدہ ہوتا؟

              دیکھو اللہ پاک نے سب چیزیں بنائی ہوئی ہیں۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے: "يمحق الله الربا ويربي الصدقات"۔ اللہ جل شانہ سود کو مٹاتا ہے، اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔

              سود کو مٹاتا ہے کا تو میں نے آپ کو دکھا دیا۔ کہ سود کو کیسے مٹاتا ہے؟ بھئی برکت اٹھ جائے مجھے بتاؤ چیز کیا رہ جائے گی؟ تو سود کو تو مٹاتا ہے۔

              اب یہ صدقات سے دیکھو بظاہر لگتا ہے کہ پیسے کم ہوتے ہیں۔ ٹھیک ہے بھئی، میرے پاس دو لاکھ روپے ہیں اس میں میں نے 50 ہزار روپے صدقہ میں دے دیئے، تو ڈیڑھ لاکھ رہ گئے نا، کم ہو گئے، زیادہ ہو گئے؟ بظاہر کم ہو گئے۔ لیکن اللہ پاک فرماتے ہیں اللہ پاک اس کو بڑھاتا ہے۔ کیسے بڑھاتا ہے؟ اب یہ واقعہ سن لو۔

              جنید جمشید کا نام تو سنا ہو گا نا؟ (رحمۃ اللہ علیہ) یہ جب اپنا لائن چھوڑ دیا نا، وہ جو گانے وانے والا لائن چھوڑ دیا۔ اس کے بعد اس نے کچھ کاروبار وغیرہ شروع کیا۔ لیکن کاروبار کا تجربہ تو تھا نہیں۔ اس کا پارٹنر بھی تھا، نقصان پر نقصان، نقصان پر نقصان۔

              چونکہ تبلیغی جماعت میں ہونے کی وجہ سے علمائے کرام کے ساتھ ملاقات تو ہوتی تھی۔ مولانا تقی عثمانی صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ تو ان سے کہا کہ حضرت ہمارا نقصان پہ نقصان ہو رہے ہیں کیا کریں؟ حضرت نے فرمایا بھئی اللہ میاں کو اپنے ساتھ نفع میں شریک کرو۔ اللہ میاں کو اپنے ساتھ نفع میں شریک کر لو، ایک خاص مقدار نفع کی دو فیصد، چار فیصد، پانچ فیصد، سات فیصد، جتنا بھی ہے، وہ کہتا ہے میں نے اللہ کو دینا ہے۔ اس میں شریک کر لو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر ان کا کاروبار ایسا چمکا کہ ابھی فوت ہو گیا ہے لیکن ان کا کاروبار ابھی تک زبردست چل رہا ہے۔

              صدقات سے مال بڑھتا ہے۔ صدقات سے مال بڑھتا ہے۔ کیوں؟ کیسے بڑھتا ہے؟ دیکھو میں آپ کو بات بتاؤں، بڑھنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک طریقہ ہے کہ آپ کے پاس مال براہ راست آ جائے۔ یہ بھی بڑھنا ہے۔ اور ایک طریقہ ہے جو آپ سے خرچ ہو رہا ہے نا، جو آپ سے نکل رہا ہے اس مال سے نکل رہا ہے، وہ کم ہو جائے۔ تو بڑھ گیا یا نہیں بڑھا؟

              اب مثال کے طور پر یہ میرے پاس آئے تھے، یہ ایزی پیسہ نہیں ہے ایزی پیسہ، اس کا جو ڈائریکٹر تھا میرے پاس آئے تھے خانقاہ میں، میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے کہتا ہے شاہ صاحب میں کیا کروں؟ میری تنخواہ تقریبا تین لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ تنخواہ تقریبا تین لاکھ روپے سے زیادہ ہے اور بارہ تیرہ تاریخ سے آگے مجھے میرے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ 12، 13 تاریخ کے بعد میرے پاس کچھ نہیں ہوتا، کریڈٹ پہ چلتا ہوں۔ مجھے صاف بتا رہے ہیں خود بتا رہا ہے۔

              میں نے کہا اپنا روزگار چینج کر دو۔ یہ چھوڑ دو، یہ غلط کام ہے۔ اس میں سود آ جاتا ہے نا۔ تو بس یہ بات پھر جو ہے نا ان کو سمجھ میں آ گئی، کراچی سے مجھے ٹیلی فون کیا کہ میں نے اپنا کام چینج کر دیا۔

              مقصد میرا یہ دیکھو یہ صاف بات ہے، اللہ برکت نہ دے نا، پھر آپ کا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ڈکیت، جتنے لوگ یہ ڈاکے ڈال رہے ہیں نا، ڈاکے سے مراد یہ نہیں کہ خوامخواہ وہ پسٹل والا ڈاکہ۔ پسٹل والا ڈاکہ تو بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔ اصل ڈاکہ کیا ڈالتے ہیں؟ دکاندار بھی ڈاکہ ڈالتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ پولیس والا بھی ڈاکہ ڈالتا ہے۔ ڈاکٹر بھی ڈاکہ ڈالتا ہے۔ ہاں کوئی اور مطلب ہے وہ بھی ڈاکہ، مطلب ظاہر ہے ہر ایک۔ اب سب پہ ڈاکے پڑ رہے ہیں۔ سب پہ ڈاکے پڑ رہے ہیں، دکاندار نے دھوکہ کر لیا ملاوٹ کر کے مال بیچ دیا، اس نے ڈاکہ ڈالا گاہک کے اوپر، اس کے اوپر پولیس والے نے ڈاکہ ڈالا، پولیس والے پہ ڈاکٹر نے ڈاکہ ڈالا، ڈاکٹر پر کسی اور نے ڈاکہ ڈالا۔ سب پہ ڈاکے پڑ رہے ہیں، مجھے بتاؤ فائدہ کس کا ہو رہا ہے؟ دوزخ کا سماں ہے۔ دوزخ کا سماں ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہو رہا آپ سب کے حقوق ادا کر رہے ہیں، ماشاءاللہ سب کے حقوق پورے ہو رہے ہیں، سب خوش ہو رہے ہیں۔ سب خوش ہو رہے ہیں۔ بس یہی بات ہے، ہمیں اپنے آپ کو درست کرنا پڑے گا، تو سود کا میں نے آپ کو بتایا، ایک سود بہت زیادہ ہو گیا ہے۔

              تیسری بات۔ جھوٹ ہو گیا، سود ہو گیا، تیسرا ہے رشوت۔ رشوت بہت زیادہ ہو گیا۔ ہمارے بچپن میں بھی لوگ رشوت لیتے تھے، یہ نہیں کہ یہ پہلے کوئی ابھی شروع ہو گیا ہے۔ اس وقت رشوت لوگ لیتے تھے چھپ کر۔ اب رشوت کیسے لیتے ہیں؟ باقاعدہ ڈنکے کی چوٹ پر۔ چاہے آپ کچھ بھی کہیں جی، دینا پڑے گا جی۔ ورنہ کام نہیں ہو گا۔ تو یہ بے حیائی والا مزاج آ گیا ہے۔ رشوت میں بھی بے حیائی والا نظام آ گیا ہے۔

              ایسا نظام یہ اللہ تعالی کے عذاب کو دعوت دینے والا ہوتا ہے۔ جب انسان اس حد تک خوف چھوڑ دے تو پھر اللہ تعالی ان پر مسلط کر لیتے ہیں لوگوں کو۔ جو ان کی چمڑی ادھیڑتے ہیں۔ اور ایسے عذابات مسلط کرلیتے ہیں کہ لوگوں کی لوگوں کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ لوگوں کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ تو بہرحال ایک تو میں آپ سے عرض کرتا ہوں، یہ باتیں میں ذرا مجبورا کر رہا تھا۔

              دوسری بات میں آپ سے عرض کروں گا، صفر میں کچھ نہیں ہے۔ صفر میں کیا ہے؟ کوئی نحوست نہیں ہے، میں اپنی بات نہیں کرتا بھئی، میں تو آپ کو حدیث شریف سناتا ہوں۔ حدیث شریف سن لو۔

              ارشاد فرمایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، کہ نہ مرض کا تعدیہ ہے، بلکہ جس طرح اولا حق تعالی کسی کو مریض بناتے ہیں، اسی طرح دوسرے کو اپنے مستقل تصرف سے مریض کر دیتے ہیں۔ میل جول وغیرہ سے مرض کسی کو نہیں لگتا، یہ سب اوہام ہیں۔ اور نہ جانور کے اڑنے سے بدشگونی لینا کوئی چیز ہے، جیسا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ داہنی جانب سے تیتر وغیرہ اڑنے سے منحوس ہو جاتا ہے۔ یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ اور نہ الو کی نحوست کوئی چیز ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگ اس کو منحوس خیال کرتے ہیں، بالکل من گھڑت بات ہے۔

              اور یہ جو ہے نا وہ حدیث شریف میں فرمایا کہ

              بدفالی شرک ہے، (اس کو تین مرتبہ فرمایا)

              اور یہ بھی فرمایا کہ

              صفر میں کچھ بھی نہیں ہے۔

              صفر میں کچھ بھی نہیں۔ صفر میں کوئی نحوست نہیں ہے۔

              "لا صفر"۔

              اب یہ حدیث شریف میں نے آپ کو سنائی، عربی میں نے آپ کو سنا دیے ہیں۔ میں ذرا دوبارہ آپ کو سناتا ہوں تاکہ آپ کو تسلی ہو جائے کہ میں اپنے آپ سے نہیں کہہ رہا۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔

              "أما بعد فقد حان شهر صفر، يتشاءم به بعض الناس ويتطير"۔

              مطلب اس میں بعض لوگ بدگمانی کرتے ہیں اور ساتھ جو ہے نا وہ کہتے ہیں کہ مطلب یہ منحوس ہے۔

              "كما كان أهل الجاهلية مع هذا الاعتقاد يبتدعون فيه النسيء"

              پھر فرماتے ہیں۔

              "نَفٰی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الشُّوْمَ وَ الطِّيَرَةَ بِهٖ خُصُوْصًا وَّ بِكُلِّ شَىْءٍ عُمُوْمًا، وَ أَزَاحَ بِهٰذَا النَّفْيِ عَنَّا ھُمُوْمًا وَّ غُمُوْمًا، فَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''لَا عَدْوٰى وَ لا طِيَرَةَ وَ لَا هَامَّةَ وَّ لَا صَفَرَ''

              صفر میں کچھ بھی نہیں ہے۔

              تو صفر کے بارے میں اگر کوئی اخباروں وغیرہ میں آ جائے نا، آتے ہیں آج کل آج کل آ رہے ہیں۔ اخباروں میں آتا ہے یہ وظیفہ کر لو تو محفوظ ہو جاؤ گے، یہ وظیفہ کر لو۔ بھئی مجھے بتاؤ اگر نحوست گناہوں کی وجہ سے ائی تو کوئی وظیفہ آپ کو نہیں بچا سکتا۔ اگر نحوست گناہوں کی وجہ سے آئی ہے نا، کوئی وظیفہ آپ کو نہیں بچا سکتا میں لکھ کے دیتا ہوں۔ گناہوں سے بچنے کے لیے ایک ہی وظیفہ کافی ہے اور وہ ہے توبہ کرنا۔ توبہ کرنا، توبہ کرنا۔ بغیر توبہ کے یہ وظیفوں سے دور ہونے والی چیزیں نہیں ہوتیں۔

              جیسے حضرت نے فرمایا، مولانا مصطفیٰ صاحب نے فرمایا۔ گشت بہت بڑا عمل ہے، لیکن فرمایا بھئی گشت سے بہت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں لیکن سارے گناہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔ ہم لوگ وضو کرتے ہیں نا اس سے بھی گناہ معاف ہوتے ہیں۔ ہم لوگ راستے سے بری چیز ہٹاتے ہیں اس پہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، لیکن وہ صغیرہ گناہ ہیں۔صغیرہ گناہ ہیں۔ صغیرہ گناہ بہت ساری چیزوں سے معاف ہوتے ہیں۔ جو کبیرہ گناہ ہے مثلا کسی نے زنا کیا، توبہ کرنا پڑے گا۔ کسی نے قتل کیا، توبہ کرنا پڑے گا اور قصاص بھی۔

              اور اگر کسی نے کوئی کرپشن کی ہے، توبہ کرنا پڑے گا، اور جن سے مال کھایا ہے ان کو پہنچانا بھی ہو گا۔ یہ ساری باتیں خود کرنی پڑے گی، پھر معافی ہوتی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے۔

              یہ میں آپ سے عرض کرتا ہوں، اس وقت میں کچھ الفاظ کہوں گا توبہ کے، آپ میرے ساتھ کہیں، لیکن یہ صرف الفاظ نہیں ہوں، بلکہ اس کے پیچھے نیت ہو کہ اب میں وہ گناہ نہیں کروں گا جن گناہوں سے ہم توبہ کر رہے ہیں، ٹھیک ہے نا؟ مطلب پھر جو ہے نا وہ گناہ ہم نہیں کریں گے۔

              اے اللہ! ہم توبہ کرتے ہیں۔ تمام گناہوں سے۔ چھوٹے یا بڑے۔ ہمیں معلوم ہیں یا نہیں۔ قصدا ہوئے یا خطا سے۔ ظاہر کے یا باطن کے۔ اے اللہ، میری توبہ قبول فرما۔ آئندہ کے لیے ان شاءاللہ میں گناہ نہیں کروں گا۔ اگر غلطی سے پھر ہو گیا، فورا توبہ کروں گا۔ یا اللہ، توبہ کرتا ہوں۔ جھوٹ سے۔ یا اللہ، توبہ کرتا ہوں سود سے۔ یا اللہ توبہ کرتا ہوں رشوت سے۔ اے اللہ ہمیں ان سے بچا دے۔ یا اللہ اس ظلم سے ہمیں بچا دے جو ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ اے اللہ اس سے ہمیں محفوظ فرما دے۔ ہمیں سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔

              تو میں آپ حضرات سے عرض کروں گا کہ ایک تو یہ دیکھیں توبہ ہم نے کر لیا، الحمد للہ الحمد للہ ثم الحمد للہ، اللہ تعالی ہمیں اس پہ قائم رکھے۔ لیکن ایک اور بات اہم عرض کرنا چاہتا ہوں۔ توبہ پر قائم رہنا۔ توبہ پر قائم رہنا۔ توبہ پر قائم رہنے کے لیے دعا بھی ہونی چاہیے، لیکن اس کے اسباب بھی اختیار کرنے چاہیے۔ اب اس کے اسباب کیا ہیں وہ عرض کرتا ہوں۔ سب سے پہلے آپ سمجھیں کہ گناہوں کے اسباب کیا ہیں؟ گناہوں کے اسباب کیا ہیں؟ گناہوں کے جو اسباب ہیں وہ کیا ہیں؟

              سب سے بڑا سبب کون سا ہے؟ وہ ہمارا نفس ہے۔ میں نہیں کہتا، اللہ پاک اپنے قرآن میں کہتا ہے یوسف علیہ السلام کہتے ہیں میں اپنے آپ کو بری نہیں سمجھتا۔ نفس امارہ سے۔ بے شک یہ تو برائی کی طرف مائل کرنے والا ہے۔ برائی کی طرف مائل کرنے والا ہے۔ ہر شخص نفس امارہ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور شیطان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ لہذا برائی کی جڑ کیا ہے؟ وہ نفس امارہ ہے۔ اب جب تک یہ نفس امارہ، نفس امارہ ہے، تو اس پر توبہ پر قائم رہنا بظاہر محال ہے۔ بظاہر محال ہے۔

              تو اب اس نفس امارہ کو بنانا پڑے گا نفس مطمئنہ۔ اللہ پاک نے تین قسم کے نفسوں کا ذکر کیا ہے قرآن میں۔ نفس امارہ، نفس لوامہ، نفس مطمئنہ۔ نفس امارہ برائی کا ہے۔ نفس لوامہ برائی کر کے توبہ کا ہے۔ یعنی انسان توبہ کرتا ہے پھر بار بار، یہ نفس لوامہ ہے۔ اور تیسرا نفس جو ہے وہ نفس مطمئنہ ہے، کہ انسان شریعت پر مطمئن ہو جائے۔ اور پھر اس کو شریعت کی باتیں اچھی لگتی ہیں۔ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے کہتا ہے شریعت ٹھیک ہے۔ تو اس کا گویا کہ طبعی خواہش شریعت پر چلنے کی ہو جاتی ہے۔

              تو یہ نفس مطمئنہ حاصل کرنا ہے۔ اب یہ نفس مطمئنہ باتوں سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ایک طریقہ ہے۔ وہ طریقہ کیا ہے؟ وہ طریقہ ہے کہ اپنے نفس کو، اپنے نفس کو دبانا ہے۔ یعنی اپنے نفس کی خواہش کو دبانا ہے۔

              مثلا میں روزہ رکھتا ہوں۔ تو کیا خیال ہے اس وقت انسان بھوکا نہیں ہوتا؟ بھوک لگتی ہے یا نہیں لگتی؟ پیاس لگتی ہے یا نہیں لگتی؟ تو انسان کیا کرتا ہے؟ پی لیتا ہے پانی؟ یا کھا لیتا ہے کھانا؟ نہیں، اس کو دبا لیتا ہے۔ کہتا ہے نہیں ابھی نہیں، ابھی نہیں، ابھی روزہ ہے، ابھی روزہ ہے، ابھی روزہ ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ یہ عام آدمی کا روزہ ہے۔ یہ عام آدمی کا روزہ ہے۔ عام آدمی کو بھی یہ کرنا پڑتا ہے۔

              صحیح جو اللہ والوں کا روزہ ہے نا، وہ کون سا روزہ ہے؟ وہ اپنی انکھ کا بھی روزہ رکھتے ہیں، کہ میں کسی غیر محرم کو نہ دیکھوں، کسی گناہ کی چیز کو نہ دیکھوں۔ اپنے کان کا بھی روزہ رکھتے ہیں کہ میں کوئی گناہ کی چیز نہ سنوں۔ کوئی زبان کا بھی روزہ رکھتا ہے کہ میں کوئی غیبت نہ کروں، جھوٹ نہ بولوں، ایسی بات نہ کروں جس سے اللہ پاک ناراض ہوتا ہے۔ کوئی غلط بات سوچوں نہیں، یہ اللہ والوں کا روزہ ہے، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ یہ اللہ والوں کا روزہ ہے۔

              اور یہ اللہ والوں کا روزہ اتنا اہم ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے، روزہ ڈھال ہے برائیوں سے، اگر کوئی اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔ روزہ ڈھال ہے اگر کوئی اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔ پھاڑ ڈالنے کا مطلب کیا ہے؟ یہ جو اللہ والوں کی باتیں ہیں نا اس سے احتراز کر لیں۔ مثلا زبان سے جھوٹ بولیں۔ ڈھال پھٹ گیا نا۔ ہاں، ہم نے جو ہے نا مطلب ہے کوئی دھوکہ کر لیا۔ آنکھوں سے غلط چیز کو دیکھ لیا۔ یہ روزے کو خراب کرتا ہے۔ یہ روزے کو خراب کرتا ہے، تو بہرحال یہ میں نے صرف مثال دی۔ مثال سے آپ سمجھ لو کہ انسان اپنے نفس کو دباتا ہے تو پھر بچتا ہے۔ اور اس میں یہ صلاحیت پھر بڑھتی ہے۔

              مطلب دیکھیں اگر آپ نے ابھی آج نفس کو دبا لیا تو وہ پورے زور سے چیخے گا۔ لیکن اگلے دن جب آپ اس کو دبائیں گے اتنے زور سے نہیں چیخے گا، کچھ کم زور سے چیخے گا۔ پھر تیسرے روز جب دبائیں گے تو اور آسانی کے ساتھ ہو گا۔ چوتھے روز اور آسانی کے ساتھ ہو گا، حتی کہ ایک وقت ا جائے گا کہ نفس مطمئنہ ہو جائے گا، سمجھ میں آ گئی نا بات؟

              تو لہذا نفس کو دبانا یہ علاج ہے۔ اس کو "مجاہدہ" کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو مجاہدہ کہتے ہیں۔ اب مجاہدہ چونکہ مشکل عمل ہے۔ اپنے نفس کو روکنا مشکل عمل ہے۔ لہذا اس کے لیے ایک آسانی ہے۔

              میں ڈاکٹر کے پاس گیا تھا میرا shoulder freeze ہو گیا تھا۔ تو ڈاکٹر نے کہا میں آپ کو ایکسرسائز بتاتا ہوں، یہ ایکسرسائز آپ نے کرنا ہے۔ پھر فرمایا: اچھا یہ دوائیاں بھی آپ استعمال کریں۔ پھر فرمایا: اصل علاج تو ایکسرسائز ہے، یہ دوائیاں میں اس لیے دے رہا ہوں تاکہ آپ ایکسرسائز اچھی طرح کر سکیں۔ اس کو کرنے کے لیے آسانی ہے۔ جیسے نہیں ہوتا کوئی نٹ بولٹ کا ہو تو اس میں گریس ڈال دیتے ہیں، ذرا اسانی کے ساتھ وہ چلا جاتا ہے، یہی بات ہوتی ہے نا؟ تو یہ اس کے لیے آسانی ہے۔

              میں نے کہا اچھا اگر اس کے لیے آسانی ہے اور اصل نہیں ہے، اصل تو وہی ہے، تو پھر میں وہی ایکسرسائز ہی کر لیتا ہوں۔ میں نے ایک ہفتہ ایکسرسائز کر لیا میں ٹھیک ہو گیا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اس کا مطلب ہے کہ اصل تو مجاہدہ ہے، علاج کیا ہے؟ اصل تو مجاہدہ ہے۔ لیکن جس کو مجاہدہ آسانی کے ساتھ نہیں ہو رہا ہو، تو کیا ہے؟ وہ پہلے ذکر دیتے ہیں۔ ذکر دیتے ہیں۔ ذکر سے دل نرم ہو جاتا ہے۔ دل کے نرم ہونے کی وجہ سے انسان میں رقت آ جاتی ہے، اللہ کی بات ماننے کا سلیقہ آ جاتا ہے، نفس کو کنٹرول کرنا آ جاتا ہے۔ نتیجتا اس وقت جو اس سے آپ کوئی بھی عمل کروانا چاہیں تو کر لیں گے۔ بس یہی ہے آپ بار بار ذکر بھی کریں، مجاہدہ بھی کریں، ذکر بھی کریں، مجاہدہ بھی کریں، تو کام بن جائے گا نا؟

              تو یہ مشائخ ہی کرتے ہیں، تو پھر تین قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جس کو ہم کہتے ہیں۔ اخیار۔ اخیار، اخیار وہ لوگ ہیں جو ہر وقت نفس کے ساتھ لڑتے ہیں۔ اور نفس کی مخالفت کر کے بات منوا لیتے ہیں۔ یہ کام اچھا ہے لیکن لمبا ہے اور مشکل ہے۔ جیسے بغیر اوزار کے کوئی کام کریں نا تو مشکل ہوتا ہے۔

              دوسرا کام "ابرار" کا ہے۔ ابرار وہ ہیں جو کسی شیخ کے ہاتھ پر بیعت ہو جاتے ہیں اور پھر اس کی بات مانتے ہیں۔ لہذا وہ اپنے experience کی وجہ سے وہ بات بتاتے ہیں جو اس کے لیے مفید ہو۔ ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے اس کے سلسلے کی برکت بھی ہوتی ہے، قبولیت بھی ہوتی ہے۔ لہذا اس کے ساتھ بھی فائدہ ہو جاتا ہے۔ دو باتیں ان کو ویسے مفت میں مل جاتی ہیں۔ صرف اس کا will power اس میں استعمال ہوتا ہے کہ میں نے اپنے شیخ کی بات ماننی ہے۔ بس۔ اس کی صرف اتنی بات ہوتی ہے۔ تو یہ زیادہ فائدہ مند چیز ہے۔

              تیسری بات یہ ہے کہ وہ بہت rare ہے لیکن وہ موجود ہے، اور وہ کیا ہے؟ اپنے شیخ کے ساتھ اتنی محبت ہو جائے کہ اس کے انکار ہی نہ کر سکے۔ تو پھر اس کو کوئی قوتِ ارادی کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ شیخ کی بات پر ہی چلے گا نا، کیونکہ اس کو محبت ہے اس کے ساتھ۔ جب محبت ہے تو پھر کون سی بات سے انکار کرے گا؟ لہذا کام جلدی جلدی ہو گا۔ تو بس یہ تین راستے ہیں۔

              ان تین راستوں میں کوئی ایک راستہ اپنے لیے چن لیں۔ نتیجہ میں بتاتا ہوں، پہلا راستہ لمبا ہے، مشکل ہے، وقت کے ساتھ ساتھ، جیسے خراب گاڑی ہے اور آپ اس کو چلا رہے ہیں کسی طریقے سے۔ ہمارے ایک رشتہ دار تھے، وہ بڑے اچھے ڈرائیور تھے۔ لیکن اس کی جو وہ گاڑی تھی نا Chevrolet گاڑی تھی اس وقت کی بات، تو اس میں وہ جو ہے نا وہ اس کے بٹنوں کے ذریعے سے اس نے وہ ڈالے ہوئے تھے رسیاں ڈالی ہوئی تھیں۔ اور جو اس کے ساتھ بیٹھ کے کہتا یہ فلاں رسی کھینچو، دوسرا کہتا فلاں رسی، اس رسیوں کے کھینچنے سے اپنے گاڑی چلا رہے تھے۔ وہ ٹھیک ہے جی، وہ کر سکتا تھا، بڑے اچھے ڈرائیور تھے۔ لیکن عمر بھر اس نے بڑی مشکل سے گزارا کیا۔ بس۔ لیکن جو آدمی ورک شاپ گاڑی لے جائے اور ٹھیک کر لے اور ٹھیک ہو کر پھر فراٹے بھرتے ہوئے سڑک پہ جائے تو اچھا ہے یا کیا ہے؟ وہ خراب گاڑی ہی چلانا؟ تو اخیار والا طریقہ کیا ہے؟ وہ خراب گاڑی چلانا ہے۔ اور جو ابرار والا طریقہ ہے، وہ ورک شاپ لے جانا ہے۔ اور جو شطاریہ والا طریقہ ہے اس کی تو بات ہی اور ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں اس میں سے صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

              یقین جانیے بہت آسان راستہ ہے۔ ہم پشاور گئے تھے، پشاور میں اسلامیہ کالج میں ہم نے ایڈمیشن لیا تھا، کسی مدرسے میں نہیں لیا تھا، کسی خانقاہ میں نہیں گئے تھے۔ وہاں کسی نے کہا یہاں ایک بزرگ ہیں، بیٹھتے ہیں، وہ ذرا بیان کرتے ہیں، آپ بھی بیان سن لیں۔ہم بھی چلے گئے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، بیان میں بیٹھ گئے تو دل نے کہا یہ آدمی صحیح ہے۔ یہ بات صحیح کرتا ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔ آپ یقین کیجئے مسجد میں بیٹھا ہوں چار پانچ سال مجھے پتہ نہیں چلا کہ وہ پیر ہیں۔ چار پانچ سال معمولی عرصہ ہوتا ہے؟ حضرت کے پاس جاتے رہے ہیں، لیکن ہمیں پتہ نہیں تھا کہ حضرت پیر ہیں۔ ایسے ہی مطلب شہرت وغیرہ سے بالکل علیحدہ تھے۔ پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ حضرت پیر ہیں، وہ تو بعد میں ایک عالم نے مجھے کہا کہ کیا آپ اس سے بیعت ہیں؟ میں نے کہا کیا حضرت بیعت کرتے ہیں؟ کہتے ہیں عجیب سادہ آدمی ہو! ان کے ذریعے سے تو یہ پوری یونیورسٹی کی اصلاح ہو رہی ہے آپ کہتے ہیں یہ بیعت کرتے ہیں؟ تو میں عرض کرتا ہوں کہ ان کے پاس گئے ان کے ساتھ بیٹھنے سے یونیورسٹی کے بہت سارے غلط کاموں سے اللہ نے بچا لیا۔ پتہ بھی نہیں چلا ان چیزوں کا کہ وہ چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ اللہ پاک نے بچا لیا۔ یہ ہوتی ہے برکت بزرگوں کے ساتھ بیٹھنے کی۔

              اور ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے کیا ہوتا ہے؟ وہ یہ ہوتا ہے اول تو ان کی نصیحت اور وہ طریقہ کار وہ الگ بات ہے، لیکن یقین کیجیے جہاں پر وہ بیٹھے ہوتے ہیں وہاں اللہ کی رحمت اترتی ہے۔ اور جہاں اللہ کی رحمت اترتی ہو وہاں جو کوئی بیٹھتا ہے اس کو کچھ اثر ہو گا یا نہیں ہو گا؟ ظاہر ہے اثر ہو گا نا؟ بس یہی سارا نظام ہے۔ سارا نظام یہی ہے کہ اللہ والوں کے پاس بیٹھ جاؤ۔ "كونوا مع الصادقين"، قرآن پاک کا حکم بھی یہی ہے۔ "كونوا مع الصادقين"۔ صادقین کے ساتھ ہو جاؤ۔ جو قول و فعل کے سچے ہیں۔ جو قول و فعل کے سچے ہیں، ان کے ساتھ ہو جاؤ۔

              دیکھو جھوٹ سب سے خطرناک بات میں نے عرض کی آج کل کے دور میں۔ اور صدق سب سے بڑی اونچی بات اس کے مقابلے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام کیا تھا؟ "صادق و امین"۔ آج کل تو صادق و امین کس کو کہتے ہیں؟ میں سیاست پہ بات نہیں کرتا، لیکن بہت دماغ پک گیا ہے۔ کہ "صادق و امین" آج کل لوگ کس کو کہتے ہیں۔ صادق و امین آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ صادق و امین آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اب ان کے اتباع میں ہم صادق و امین ہو جائیں یہ بڑی بات ہے، اللہ کر لے۔ اللہ کر لے، تو اس کے لیے پھر ہمیں کوشش محنت کرنی پڑے گی، اللہ تعالی ہمیں اس محنت کرنے کے لیے قبول فرمائے۔

              وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔ ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم، وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم۔ سبحان ربك رب العزة عما يصفون، وسلام على المرسلين۔ وصلى الله تعالى على خير خلقه سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔ والحمد لله رب العالمين برحمتك يا أرحم الراحمين۔