نعتِ رسول ﷺ: اصل مقصد، آداب اور شرعی تقاضے

اشاعتِ اول:10 جون، 2022 بمطابق 10 ذیقعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. نعت شریف پڑھنے اور سننے کا حقیقی مقصد
    1. اشعار کے ذریعے ایمانی کیفیات کا حصول اور عمل کی ترغیب
      1. منظوم کلام: اتباعِ رسول ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی شاندار صفات
        1. نعت کے انتخاب میں مستند اور صحیح عقائد کی اہمیت
          1. گانوں کی طرز پر نعت پڑھنے کی سخت ممانعت
            1. نعت خوانی میں گلوکاروں کی مشابہت سے بچنے کی تاکید

              اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ۔

              أَمَّا بَعْدُ!

              فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

              إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا

              اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔


              معزز خواتین و حضرات!


              نعت شریف کا بھی میں اکثر بتایا کرتا ہوں کہ یہ کوئی ایسا نہیں ہے کہ ہم اس کے ساتھ سر دھنیں۔ یا کوئی شوقیہ بات ہے۔ یہ اصل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کو حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور وہ بھی ایسے الفاظ میں جو دل کو کھینچنے والے ہوں۔ ان الفاظ میں اگر وہ تعریف کی جائے۔ تو ما شاء اللہ اس کا اثر ہوتا ہے۔ اور اسی اثر کے ساتھ پھر جب دعا کی جائے تو ما شاء اللہ پھر بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے کہ ایک تو شوق کے ساتھ نعت شریف پڑھیں یا سنیں۔ اور اس کے ذریعے سے پھر سنتوں پر چلنے کی توفیق ہو جائے۔ اصل بات یہی ہے۔ کیونکہ عمل سے انسان بنتا ہے۔ تو یہ جو اعمال ہیں وہ بھی کسی حال کی وجہ سے آتے ہیں۔ اور یہ جو کیفیات ہیں یہ اشعار کے ذریعے سے تو حاصل ہوتے ہیں۔ تو اگر ہم اشعار کے ذریعے سے کیفیت حاصل کر لیں۔ اور کیفیت کے ذریعے سے عمل کر لیں تو کتنا فائدہ ہو گا؟ تو فائدہ تو ہوتا ہے۔ تو اب ان شاء اللہ مختصر نعت شریف۔



              نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے

              یہی تو بات ہے ایسی کہ جو سب کو سکھانی ہے


              صحابہ نے جو سیکھا آپ سے کر کے وہ دکھلایا

              تبھی تو مشعلِ راہ ان کی ساری زندگانی ہے


              نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے



              جو پیکر تھے سراپا صدق کے، صدیق کہلائے

              جو عشق و سوز سے پُر ہے، یہی ان کی کہانی ہے


              نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے



              فراست سے کہ جن کا کام ہر اک پُر تھا، تھے عمر

              تھی دور اندیشی ان کی جو وہ دشمن نے بھی مانی ہے


              نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے



              حیا اور جود کے پیکر مجھے عثمان یاد آئے

              وفا کے سامنے ان کی جھکی جو حکمرانی ہے


              نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے



              شجاعت علم میں آگے علی کا نام رہتا ہے

              قلم ہے ہاتھ میں دشمن پہ تلوار بھی چلانی ہے


              نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے



              صحابہ اہل بیت و امہات المومنین سب کی

              محبت دل میں ہو نسبت رسول کی جس نے پانی ہے


              نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے



              یہ در وہ ہے کہ جس در کی، کی جبرائیل نے دربانی

              شبیر بن اک خدا کے، آپ کی عظمت کس نے جانی ہے


              نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے

              یہی تو بات ہے ایسی کہ جو سب کو سکھانی ہے


              نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے۔


              نعت شریف کے بارے میں ذوق کو بہتر کرنا بہت ضروری ہے۔ اور ذوق یہ ہے کہ ایک تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح اور مستند تعریف ہو، اور ایسی بات نہ ہو جو غیر مستند ہو اور اس پہ بات کوئی کر سکے۔ دوسری طرف بات یہ ہے کہ اس کو اس انداز میں پڑھا گیا ہو کہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی مخالفت نہ ہوتی ہو۔ کیوں؟ آج کل بعض نعتیں لوگوں نے گانے کی طرز پر پڑھی ہیں۔ اور یقین جانیے کہ بڑے بڑے مجمعوں میں نے دیکھا ہے، سنا ہے، کسی کو خیال نہیں ہوتا کہ کیا ہم کر رہے ہیں۔ وہ گانے کی طرز پر نعتیں پڑھوائے جا رہے ہیں اور سن رہے ہیں۔ اور ذرا بھر بھی ان کے اوپر اس بات کی حقیقت نہیں کھل رہی کہ یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ بالکل یہ ایسی بات ہے جیسے -نعوذ باللہ من ذالک- کوئی Toilet میں قرآن پڑھ رہا ہو۔ اب قرآن تو قرآن ہے نا، لیکن Toilet میں پڑھنے کا تو ظاہر ہے مطلب بہت بڑی جسارت ہے۔ تو اس طرح نعت جیسا مقدس کام اس کو اس گندگی کے ساتھ ملانا، Music کے ساتھ یا Music کی طرح، یا گانے والے کی طرز پر، حالانکہ احادیث شریفہ موجود ہیں کہ جس نے بھی جس قوم کی مشابہت کی وہ ان میں سے اٹھایا جائے گا۔ تو ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو بہت زیادہ بچانا چاہیے، بہت زیادہ بچانا چاہیے۔ اگر صحیح معنوں میں نعت شریف مستند طریقے سے لکھی گئی ہو، اچھے انداز میں اچھی آواز میں پڑھی گئی ہو اور ان کے اندر یہ چیزیں نہ ہوں جو اس کے اثر کو نقصان پہنچا رہی ہوں، تو ما شاء اللہ اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے، بہت فائدہ ہوتا ہے۔ بہت اعلیٰ ذوق ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔

              اب ہم دعا کریں گے ان شاء اللہ۔


              نعتِ رسول ﷺ: اصل مقصد، آداب اور شرعی تقاضے - فضائل درود شریف