الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
آج جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات کو ہمارے ہاں سیرت النبی کی تعلیم ہوتی ہے۔ سیرت النبی جو حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمائی ہے اور مولانا شبلی نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔
عبادات کا باب اس میں چل رہا ہے، اور عبادات میں جو دوسری اہم عبادت ہے، مالی عبادت، زکوٰۃ کے بارے میں بات چل رہی تھی۔ اس میں زکوٰۃ کی مدت کی تعیین کے بارے میں جو بات شروع ہو رہی تھی تو ان شاء اللہ آج اس سے شروع کرتے ہیں۔
زکوٰۃ کی مدت کی تعیین:
اسلام سے پہلے زکوٰۃ کی مدت کی تعیین میں بڑی افراط و تفریط تھی، تورات میں جو عشر یعنی دسواں حصہ مقرر کیا گیا تھا وہ تین سال میں ایک دفعہ واجب ہوتا تھا۔ (استثنا 14 - 28) اور انجیل میں کسی مدت اور زمانہ کی تعیین ہی نہ تھی۔ اس بنا پر زکوٰۃ کی تنظیم کے سلسلہ میں سب سے پہلی چیز اس کی مدت کا تعین تھا کہ وہ نہ تو اس قدر قریب اور مختصر زمانہ میں واجب الادا ہو کہ انسان بار بار کے دینے سے اکتا جائے اور بجائے خوشی اور دلی رغبت کے اس کو ناگوار اور جبر معلوم ہو اور نہ اس قدر لمبی مدت ہو کہ غریبوں مسکینوں اور قابل امداد لوگوں کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے طویل انتظار کی سخت تکلیف اٹھانی پڑے۔ اسلام نے اس معاملہ میں دنیا کے دوسرے مالی کاروبار کو دیکھ کر ایک سال کی مدت مقرر کی کیوں کہ تمام متمدن دنیا نے خوب سوچ سمجھ کر اپنے کاروبار کے لئے 12 مہینوں کا سال مقرر کیا ہے
اس کی وجہ یہ ہے کہ چاروں موسم میں گزر جاتے ہیں۔ چاروں موسم اس سال میں گزر جاتے ہیں۔ تو گویا کہ ہر قسم کی تبدیلی گزر جاتی ہے۔ تو اس وجہ سے یہ گویا کہ ایک پیمانہ ہے۔
جس کی وجہ یہ ہے کہ آمدنی کا اصلی سرچشمہ زمین کی پیداوار ہے اور اس کے بعد اس پیداوار کی خود یا اس کی بدلی ہوئی شکلوں کی صنعتی صورت کا بنانا اور ان کا بیوپار کرنا ہے آمدنی کے ان تمام ذریعہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ سال کے مختلف موسم اور فصلیں جاڑا، گرمی، برسات، ربیع اور خریف گذر جائیں تا کہ پورے سال کے آمد و خرچ اور نفع و نقصان کی میزان لگ سکے اور زمیندار کاشتکار تاجر نوکر صناع ہر ایک اپنی آمدنی و سرمایہ کا حساب کتاب کر کے اپنی مالی حالت کا اندازہ لگا سکے۔ بڑے جانوروں کی پیدائش اور نسل کی افزائش میں بھی اوسطاً ایک سال لگتا ہے۔ ان تمام وجوہات سے ہر منظم جماعت ہر حکومت اور ہر قومی نظام نے محصول اور ٹیکس وصول کرنے کی مدت ایک سال مقرر کی ہے۔ شریعت محمدی نے بھی اس بارہ میں اسی طبعی اصول کا اتباع کیا ہے اور ایک سال کی مدت کی آمدنی پر ایک دفعہ اس نے زکوٰۃ کی رقم عائد کی ہے۔ چنانچہ اس کا کھلا ہوا ارشاد سورہ توبہ میں موجود ہے جس میں زکوٰۃ کے تمام احکام بیان ہوئے ہیں۔ زکوٰۃ کے بیان کے بعد ہی ہے۔﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾ (سورۃ التوبہ، آیت: 36)مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔
جیسے میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ واقعی ایک شہرہ آفاق تصنیف ہے، یہ مطلب سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت النبی ﷺ کہ اس میں آپ ﷺ کی تعلیمات کو انتہائی مدلل، منظم اور مدون صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ یعنی زکوٰۃ پر ہم نے ابھی تک بہت کچھ پڑھا ہے، مطلب ظاہر ہے کہ الحمد للہ پڑھتے آ رہے ہیں۔ لیکن یہ باتیں جو آج ہم سن رہے ہیں، کبھی پہلے سنی ہیں ہم نے؟ یہ باتیں ہم نے کبھی نہیں سنی تھیں۔ یعنی یہ ایک ایسا طریقہ ہے، آج کل کے لوگوں میں پیدا کرنا ضروری ہے اس کا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دور گزر گیا جب لوگ اعتماد پر بات کرتے تھے۔ مثلاً مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم الاسلام میں کوئی حوالہ نہیں ہے کہ انہوں نے کہاں سے لیا ہوا ہے، لیکن ان پر اتنا اعتماد تھا لوگوں کا کہ وہ بغیر حوالے کے ساری چیزیں مانتے جاتے تھے۔
اس طرح فقہ حنفی میں، یعنی قرآن اور حدیث کا حوالہ دینا وہ کم رواج رہا اسی وجہ سے، کہ اعتماد رہا تھا۔ لیکن اب وہی ہمارے اکابر علماء جو پہلے ان چیزوں کی اتنی زیادہ ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے، اب کرتے ہیں۔ اور اب باقاعدہ حوالے سے بات کرتے ہیں، اور سند بتاتے ہیں، جو آج کل کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے ایک پہاڑ ہمارے سامنے کھڑا کیا ہے، social media کے ذریعے سے۔ جس کو کہتے ہیں نا وہ burst of information کہ وہ بالکل ایسے ایک مطلب جس کو کہتے ہیں نا بوچھاڑ ہے information کی۔ اب اس میں غلط بھی ہوتے ہیں، صحیح بھی ہوتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ خطرناک جھوٹ وہ ہوتا ہے جس میں کچھ سچ بھی شامل ہو۔ تو اب اس سچ کو واضح کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ اس سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کر دیں۔ تو پھر آپ کی بات مانی جائے گی۔ اور سچ کو جھوٹ سے واضح کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور دلیل کے لیے سند کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اب یہ ساری چیزیں ایک انتہائی منظم انداز میں ہونی چاہییں۔
اب یہ اللہ جل شانہٗ کا ایک نظام ہے، تربیت کا، کہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس پر لوگوں کو لگا لیتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر کافی لکھا ہوا ہے، مطلب حکمت کی باتوں کے عنوان سے۔ تو یہ جو حضرت سید سلیمان ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے للہ پاک نے کام جو لیا ہے، یہ بہت بڑا کام ہے کہ اس میں باقاعدہ ہر چیز کے بارے میں source بتایا جا رہا ہے کہ پہلے زمانے میں کیا ہوتا رہا اور اب کیا ہوا اور کیوں ہوا؟ مطلب یہ بالکل تفصیل بتائی گئی ہے۔
تو میں اس کا لب لباب بتاتا ہوں۔ کہ زکوٰۃ کی مدت کی تعیین میں گزشتہ امتوں میں افراط و تفریط والی بات تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جو تعلیمات تھیں، محفوظ بھی نہیں تھیں۔ لہٰذا سند کا بھی حوالہ دینا بڑا مشکل تھا کیونکہ جس کتاب کی سند دی جا رہی ہے، کیا وہ محفوظ ہے؟ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہمیں گمان ہے جیسے اسرائیلی واقعات ہیں۔ جس کے بارے میں ہمارے فقہاء کا قانون ہے: لَا نُصَدِّقُ وَلَا نُكَذِّبُ۔ ہم نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں نہ تکذیب کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں کچھ پتا نہیں ہے کہ اس میں کون سا واقعہ سچا ہے اور کون سا واقعہ سچا نہیں۔ ہمیں نہیں پتا۔ لہٰذا اس میں ایک تو یہ بات ہے کہ محفوظ نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ وقتی تھیں۔ اس پیغمبر کے یا اس کے ساتھ جو دوسرے پیغمبر تشریف لائے تھے اس کو سمجھانے کے لیے، ان تک تھیں، دوسری بات۔
اور وہ محدود تھیں، علاقائی تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس علاقے میں جو پیغمبر آیا، اسی علاقے کے لیے وہ دین بن گیا۔ تو اصل میں گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ انسانیت کی development ہو رہی تھی۔ جیسے مختلف جگہوں پہ modules میں کام ہو رہے ہوتے ہیں مختلف۔ تو ان modules میں کام جب ہو رہے ہوتے ہیں تو کوئی پھر آتا ہے پھر ان سب کو جوڑ دیتا ہے۔ تو ایک ماشاءاللہ established نظام بن جاتا ہے۔ تو اس طریقے سے مختلف پیغمبروں کے ذریعے سے اللہ جل شانہٗ نے مختلف کاموں کو رواج دیا، چل پڑے۔ کچھ ختم ہوئے، کچھ چل پڑے۔ کچھ رہے، کچھ باقی۔
تو آپ ﷺ جب تشریف لائے تو آپ ﷺ کے سامنے ساری دنیا تھی۔ صرف ایک علاقہ نہیں تھا۔ ایک بات۔
قیامت تک کا وقت تھا۔ دوسری بات۔
تیسری بات، حفاظت کا ایک بہت بڑا نظام اللہ تعالیٰ نے دیا تھا۔ قرآن۔
ایسی کتاب جس کی اللہ پاک نے خود ذمہ داری لی کہ اس میں کوئی گڑبڑ نہیں کر سکتا۔ اور احادیث شریفہ کا ایسا زبردست نظام رجال کے ذریعے سے کہ آج بھی بالکل دودھ کا دودھ، پانی کا پانی کیا جا سکتا ہے۔ یہ کسی گزشتہ امتوں میں کسی کے پاس یہ چیزیں نہیں تھیں۔ لہٰذا ان سے یہ توقع کی ہی نہیں جا سکتی تھی کہ وہ اس قسم کے کام کر لیں گے۔
حضرت نے فرمایا کہ ان کے ہاں یہ بات تھی کہ کوئی اس کے لیے تعیین نہیں تھی۔ اور مطلب یہ ہے کہ تین سال کی مدت تھی یہودیوں میں، اور عیسائیوں میں کوئی مدت ہی نہیں تھی۔ تو اس وجہ سے اسلام جب آیا تو اسلام نے ایک بالکل ایک قدرتی نظام جو سال کا ہوتا ہے۔ اور سال کیوں ہے؟ کہ اس میں تمام موسم گزر جاتے ہیں۔ پورے سال میں تمام قسم کے موسم گزر جاتے ہیں۔ اور چونکہ عموماً جو مال کا تعلق ہے وہ زمین کے ساتھ ہوتا ہے، زمین کی پیداوار کے ساتھ ہوتا ہے، زمین کی پیداوار سے جو متعلق چیزیں ہوتی ہیں ان پر ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے یہ زمین کے اوپر جو موسموں کی تبدیلی ہے اس میں سارا کچھ آ جاتا ہے۔ یہ جو بارہ مہینے ہیں، یہ ایک باقاعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں۔ مطلب إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ... یہ چلے آ رہے ہیں۔
اس میں اگر دیکھا جائے تو قمری مہینے تھے۔ قمری مہینے 12 قمری مہینے۔ وہ تقریباً ایک موسم بن جاتا ہے تھوڑے سے فرق کے ساتھ۔ جس فرق کا باقاعدہ قرآن ہی میں اشارہ دیا گیا ہے۔ اور وہ اشارہ کیا ہے؟ سورہ کہف کے اندر:وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًاعلی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا گیا کہ یہ "وَازْدَادُوا تِسْعًا" کا مطلب کیا ہے؟ فرمایا کہ 309 سال قمری بنتے ہیں اور 300 سال شمسی بنتے ہیں۔ اب بھی حساب کر لیں یہی بنتا ہے۔ 309 سال قمری، 300 سال شمسی بنتے ہیں۔ تو یہ مطلب ہے کہ تقریباً گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ 12 قمری مہینے، یہ تقریباً... تو جو شمسی سال ہے، اس میں گویا کہ تقریباً اتنی مدت جس میں پورے موسم گزر جائیں، سورج جہاں سے چلا تھا وہیں پر پہنچ جائے۔ خطِ استوا سے خطِ استوا پہ دوبارہ پہنچ جائے۔ تو اس میں ٹھیک 12 شمسی مہینے لگتے ہیں۔ 365.24 کے لگ بھگ دن ہوتے ہیں۔ اس میں اتنے دن لگ جاتے ہیں۔
تو یہ ہمارا شمسی سال ہوتا ہے، موسمی سال ہوتا ہے۔ شمسی سال میں موسموں کا advantage ہے۔ Times calculable ہیں۔ اس کا حساب کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مشاہدہ مشکل ہے۔ جبکہ قمری سال میں قمری مہینوں کا مشاہدہ آسان ہے، حساب مشکل ہے۔ تو چونکہ عوام کے لیے مشاہدہ آسان تھا، تو لہٰذا عبادات جن کا سب کے ساتھ تعلق ہے۔ اس کا تعلق ان کے ساتھ لگا دیا، قمری مہینوں کے ساتھ لگا دیا۔ یہ قمری مہینوں کو بنیاد بنا دیا گیا ہماری عبادات کا۔ لیکن نمازوں کے اوقات شمسی طریقے سے ہیں۔ نمازوں کے جو اوقات ہیں، کیونکہ حساب قمری سالوں کا نہیں ہو سکتا۔ مثلاً اگر آپ کہ دیں کہ 12 محرم کو یہ اوقات ہوں گے، نہیں ہوں گے! اگلے سال تبدیل ہوں گے، پھر اگلے سال اور تبدیل ہوں گے، اگلے سال اور تبدیل ہوں گے۔ لیکن اگر آپ کہہ دیں 12 جنوری کو یہ ہیں، تو 12 جنوری کو ہمیشہ تقریباً اتنے پر ہی آئیں گے۔ تو گویا کہ نمازوں کے اوقات کے لیے وہ شمسی سال۔
اس وجہ سے، الحمدللہ، ثم الحمدللہ، ثم الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے کام ہم سے لے لیا کہ اس چیز کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اور جو یہ موجودہ شمسی سال ہے، جو ہمارے ہاں رائج ہے، یہ مشرکانہ شمسی سال ہے۔ یہ عیسوی نہیں ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یہ عیسائیوں نے لیا ہے رومن empire سے لیا ہوا ہے، جو لوگ پہلے تھے مشرک لوگ، وہ ان سے لیا ہوا ہے۔ تو انہوں نے جو جنوری، فروری، مارچ، یہ سب ان دیوتاؤں کے نام ہیں۔ البتہ ان میں جولیس (جولائی) یہ بادشاہ ہے اور اگستس، یہ بادشاہ کے نام ہیں۔ تو یہ ان کے لیے بازیچۂ اطفال بنا تھا۔ انہوں نے اپنے اپنے حساب سے کیا ہوا تھا۔ تو یہ ایک انتہائی غیر منظم قسم کا سال ہے۔ logically اس کے اندر بڑے flaws ہیں۔ تو اس وجہ سے پھر ہم نے الحمدللہ، الحمدللہ، ثم الحمدللہ، ایک نیا شمسی سال باقاعدہ الحمدللہ 12 مہینوں کا بنا لیا۔ جس میں 6 مہینے ابتدائی جو ہوتے ہیں، یہ 30 دن کے ہوتے ہیں۔ اور اگلے 5 مہینے 31 دن کے ہوتے ہیں۔ اور آخری جو بارہواں مہینہ ہے، وہ leap سالوں میں 31 کا ہوتا ہے اور بغیر leap سال کے 30 دن کا ہوتا ہے۔
اور اس کا فائدہ اتنا بڑا ہوا کہ ہم نے الحمدللہ نمازوں کے اوقات کا حساب اس سال سے بھی کیا، اس سال کے حساب سے بھی کیا۔ تو جو اس کو کہتے ہیں نا error جو آتا ہے۔ وہ اس دوسرے سال میں بہت کم آتا ہے، جو ہمارا مجوزہ سال ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا leap month درمیان میں آتا ہے۔ فروری ہے نا؟ یا 28 ہوتا ہے یا 29 ہوتا ہے۔ تو اگر 28 کے بجائے 29 کر لیں تو 10 مہینے آپ نے شفٹ کر لیے۔ تو وقتوں میں فرق پڑے گا یا نہیں پڑے گا؟ سارے مہینوں میں فرق پڑ جائے گا نا، 10 مہینوں میں فرق پڑ جائے گا۔ جبکہ ہمارے سال میں بالکل درمیان میں ہے۔ تو مطلب جب سال ختم ہو گیا تو اس کا کسی بھی، اس سال پہ بھی فرق نہیں پڑا، اس سال پہ بھی فرق نہیں پڑا، صرف وہ correction ہو گئی۔
ٹھیک ہے نا؟ تو اس میں بہت کم فرق پڑتا ہے الحمدللہ، اس کی وجہ سے error اس کا بہت کم آتا ہے۔ پھر اس میں ہم نے جو ابتدا لی ہے، ابتدا لی ہے۔ یہ ابتدا اس سال کی بھی یہی تھی۔ آپ حضرات جانتے ہیں، دیکھیں نا، نومبر یہ لاطینی زبان ہے نا، تو اس میں نومبر کا مطلب نواں مہینہ، دسمبر کا مطلب دسواں مہینہ، اکتوبر کا مطلب آٹھواں مہینہ، ستمبر کا مطلب ساتواں مہینہ۔ کیا خیال ہے؟ ستمبر ساتواں مہینہ ہوتا ہے؟ کیوں اس کا نام ستمبر ہے؟ اس کا نام ستمبر اس لیے ہے کہ پہلے یہ مارچ سے سن شروع ہو رہا تھا۔ یہ بعد میں ان لوگوں نے اس کو جنوری سے کر لیا۔ مارچ سے شروع ہو رہا تھا۔ اگر مارچ سے شروع کر لیں تو ستمبر ساتواں مہینہ بنتا ہے۔ ٹھیک ہے نا، دسمبر دسواں مہینہ بنتا ہے۔ تو یہ گویا کہ مطلب یوں سمجھ لیں اگر 23 مارچ سے لے لو تو یہ خط استوا سے شروع ہو گیا نا؟ کیونکہ 23 مارچ کو اور 21 ستمبر کو سورج خط استوا پہ ہوتا ہے۔ تو آپ یا ستمبر سے شروع کر لیں یا مارچ سے شروع کر لیں۔
تو ہم نے اس کو ستمبر سے شروع کیا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی جو نشانیاں بتائی گئی ہیں، وہ ستمبر کے موسم کے ساتھ ملتی ہیں۔ ستمبر کے موسم کے ساتھ ملتی ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی یہی تھا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم اس سال کو اپنائیں، شمسی سال جو ہم نے تجویز کیا ہوا ہے، تو اس میں ایک تو آسانی ہے، کیونکہ اس میں آپ کو یاد رکھنے کی بہت مشکل ہے کہ 31 کا ہے، 30 کا ہے۔ مطلب پہلے، پہلے 30 کے ہیں پھر بعد میں 5، 31 کے ہیں پھر آخری ایک 30 کا ہو گا یا 31 کا ہو گا، تو بہت آسان ترتیب ہے نمبر ایک۔
دوسری بات؛ یہ ہے کہ leap سال کی گڑبڑ بہت کم effect ڈالتی ہے۔
تیسرا؛ شروع خط استوا کے اس سے ہوتا ہے۔ تو اس کا بھی calculation پہ فرق پڑتا ہے۔ مطلب جس کو intercept کہتے ہیں نا، intercept پہ فرق پڑ جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سارے اس کے اندر فائدے ہیں۔ تو یہ تجویز ہم نے الحمدللہ کی، مفتی مختار الدین شاہ صاحب اتنے زیادہ اتنے زیادہ خوش ہوئے کہ مجھے حکم دیا کہ آپ اس کو چھاپیں، میں اس کو پھیلاوں۔ بہت خوش ہوئے اس پر۔ کہتے ہیں اللہ کرے کوئی مسلمان ملک ایسا، بہادر ملک پیدا ہو جائے جو اس کو شروع کرائے۔ کیونکہ موجودہ ہمارے جو لوگ ہیں، وہ تو آپ کو پتا ہے وہ تو اس کام کرنے سے رہے ہیں۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ بہت بڑا پراجیکٹ ہے، الحمدللہ۔ اس کے لیے ہم نے کمپیوٹر پروگرام بھی بنائے ہوئے ہیں calculate کرنے کے لیے، تمام چیزیں اس کی ہو چکی ہیں۔ اور یہ ہماری کتاب میں شامل ہے۔ یہ نصاب میں جو کتاب شامل تھی یہ فلکیات والی، اس کے اندر یہ موجود ہے۔ تفصیلات اس کے اندر موجود ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان شاء اللہ کسی وقت بھی اگر موقع مل گیا، یا او آئی سی (OIC) والوں کو غیرت آ گئی۔ اور انہوں نے کچھ اپنے وسائل پہ اپنے پاؤں پہ کھڑے ہو گئے تو کر سکیں گے پھر ان شاء اللہ۔ تو یہ بہت اہم چیز ہے۔ تو خیر بہرحال یہ تو پتا نہیں کہاں سے میں کہاں نکل گیا، یہ باتیں تو اس میں نہیں تھیں۔ لیکن یہ ہے کہ یہ بھی اس ضمن میں آ گئی۔
خوب سوچ سمجھ کر اپنے کاروبار کے لئے 12 مہینوں کا سال مقرر کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ آمدنی کا اصلی سرچشمہ زمین کی پیداوار ہے اور اس کے بعد اس پیداوار کی خود یا اس کی بدلی ہوئی شکلوں کی صنعتی صورت کا بنانا اور ان کا بیوپار کرنا ہے
تو یہ ماشاءاللہ اس اسلام نے اس کو اسی بنیاد پر... کیونکہ قرآن میں ہے:
﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾دیکھو، پیدائش سے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اسی وقت سے مقرر کر لیا جب سے یہ زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں۔