مسجد کے آداب اور احترام: احادیث و اقوالِ سلف کی روشنی میں
بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 179، حدیث نمبر: 119، اشاعتِ اول: 16 جنوری، 2023 بمطابق 23 جمادی الثانی 1444 ہجری
- نبی کریم ﷺ پر امت کے نیک اور برے اعمال کا پیش کیا جانا
- راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ایک بہترین عمل ہے
- مسجد میں تھوکنے کی سخت ممانعت اور اس کا کفارہ
- مسجد میں تھوکنے پر فقہاء اور محدثین (امام نووی و احناف) کے فتوے
- استخفافاً (حقارت سے) مسجد میں تھوکنے کے موجبِ کفر ہونے کا بیان
- مساجد کی صفائی، ذکر و عبادت کے لیے ان کا احترام، اور بازاروں کی مذمت
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
مسجد میں تھوکنے کی ممانعت
(119) ﴿الثَّالِثُ: عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”عُرِضَتْ عَلَىَّ أَعْمَالُ أُمَّتِيْ حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا، فَوَجَدْتُ فِيْ مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيْقِ، وَوَجَدْتُ فِيْ مَسَاوِيءِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةُ تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ“﴾ (رواه مسلم)
ترجمہ: ”حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھ پر میری امت کے نیک اور برے اعمال پیش کئے گئے، تو میں نے نیک اعمال میں پایا وہ ایذا دینے والی چیزیں جن کو راستہ سے ہٹایا جائے، اور برے اعمال میں پایا کہ مسجد میں ناک وغیرہ کا فضلہ پھینکا جائے اور اس کو دفن نہ کیا جائے۔“
تشریح: مسجد میں تھوکنا جائز ہے احادیث کی روشنی میں وَوَجَدْتُ مَسَاوِئَ اَعْمَالِهَا النُّخَاعَةُ تَكُوْنُ فِی الْمَسْجِدِ لَاتُدْفَنُ: اس کے ساتھ ساتھ کوئی گناہ نہیں کہ مسجد میں ناک وغیرہ کا فضلہ نکالا جائے مگر اس کو دفن نہ کیا جائے۔ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اگر کسی سے یہ غلطی ہو جائے تو اس کو صاف کر دیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے معافی بھی مانگے۔
ایک دوسری روایت میں ہے آتا ہے ”اَلْبُزَاقُ فِى الْمَسْجِدِ خَطِيْئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا“ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اسکا کفارہ دفن کرنا ہے، ایک دوسری روایت میں ہے ”اَلتَّفْلُ فِی الْمَسْجِدِ سَيِّئَةٌ وَّدَفْنُهُ حَسَنَةٌ“ کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا دفن کرنا نیکی ہے۔
مسجد میں تھوکنا ناجائز ہے محدثین کے اقوال کی روشنی میں امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”قَالَ النَّوَوِيُّ فِى التَّحْقِيْقِ اَلْبُصَاقُ فِى الْمَسْجِدِ قَالَ سَوَاءٌ فِيْهِ دَاخِلُهُ وَ خَارِجُهُ“ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں محقق بات یہی ہے کہ مسجد میں تھوکنا حرام ہے خواہ تھوکنے والا مسجد میں ہو یا باہر ہو۔ علماء احناف رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسجد میں تھوکنا مکروہ تحریمی ہے، اگر کسی نے تھوکا تو اس کا صاف کرنا واجب ہے۔ ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے ابن عماد رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ۔ قَالَ ابْنُ عِمَادٍ لَا خِلَافَ اَنَّ مَنْ بَصَقَ بِالْمَسْجِدِ اِسْتِهَانَةً بِهِ كَفَرَ. ابن عماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں کسی کا بھی اختلاف نہیں کہ مسجد میں اِسْتِخْفَافاً وَ اِسْتِهَانَةً تھوکنا موجب کفر ہے۔ امام ابن ابی جمرۃ اندلسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مفتی کو دیکھا جو فتویٰ میں مقتداء تھے، کہ مسجد کے کنارے بیٹھے تھے اور مسجد کے باہر ایک باغیچہ تھا پھر بھی مسجد میں بیٹھ کر باغیچہ میں تھوکنا پسند نہیں کیا کرتے تھے۔ تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب المساجد (باب النهى عن البصاق فى الصلوة)
تو مسجد کا احترام یہ لازم ہے۔ اور مسجد میں کئی ایسی چیزیں ہیں جو باہر جائز ہیں لیکن مسجد میں جائز نہیں۔ مثلاً ایک تو یہ بات ہے کہ مسجد میں دنیا کی باتیں کرنا جائز نہیں۔ اور اس طریقے سے مسجد میں تھوکنا جائز نہیں۔ مسجد میں شور و غل یہ جائز نہیں ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ مسجد کی شان کے خلاف جو بھی چیز ہے وہ مسجد میں نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ پاک کا گھر ہے۔ اور جتنا اس کا احترام کیا جائے گا اللہ جل شانہ اس پر زیادہ خوش ہوتے ہیں۔
اور فرمایا کہ جو یعنی مومن ہوتا ہے اس کا دل مسجد میں اٹکا ہوتا ہے۔ اور جو منافق ہوتا ہے وہ مسجد میں نہیں ٹھہر سکتا۔
تو اس وجہ سے مسجد جو ہے اس کو پاک و صاف کرنا چاہیے۔ اس کی جو خدمت ہے وہ اللہ پاک کو بہت پسند ہے۔ اور اس میں عبادت کرنی چاہیے عبادت کے لیے اعتکاف کے لیے ہے۔ جو دین کا کام ہے اس کے لیے ہے۔
اس کو دنیاوی چیزوں کے لیے وہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ظاہر ہے اس کی نسبت بہت اونچی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی۔ جیسے فرمایا کہ سب سے بہترین جگہیں وہ مساجد ہیں۔ اور بدترین جگہیں وہ بازار ہیں۔ تو بازار میں صرف ضرورتاً جانا چاہیے اور مسجد میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔