شریعت و طریقت کا فرق اور اسرارِ الٰہی کو چھپانے کی حکمت

اشاعتِ اول: 14 فروری، 2018 بمطابق 27 جمادی الاول 1439 ہجری دفتر اول، مکتوب: 267

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مخصوص کمالات اور علمِ اسرار
  • اسرارِ الٰہی کو قریبی لوگوں (بشمول اولاد) پر بھی ظاہر نہ کرنے کی وجوہات
  • دین میں شرم و حیا کا مفہوم اور 'بہشتی * زیور' کے مسائل پر اعتراضات کا جواب
  • شریعت کا ظاہر ہونا اور اسی پر نجات کا مدار ہونا
  • طریقت کا اصل مقصد: شریعت پر چلنے کی رکاوٹیں دور کرنا
  • اپنے باطنی احوال کو شیخ کے علاوہ کسی پر ظاہر کرنے کی ممانعت

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔

دفتر اول مکتوب 267

مرزا حسام الدین احمد؂1 کی طرف صادر فرمایا۔ اس بیان میں کہ وہ اسرار و دقائق جن سے حضرت ایشاں (حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ) ممتاز ہوئے ہیں ان میں سے تھوڑا سا بھی ظاہر نہیں کیا جا سکتا بلکہ رمز و اشارے کے ساتھ بھی ان کے بارے میں گفتگو نہیں کی جا سکتی۔ وہ اسرار ’’مشکوٰۃِ نبوت‘‘ سے مقتبس ہیں اور ملائکۂ علیین بھی اس دولت میں شریک ہیں، اور اس کے مناسب بیان میں۔ حمد و صلوٰۃ اور تبلیغ دعوات کے بعد عرض ہے کہ آپ کا صحیفۂ شریفہ جو از روئے لطف و کرم اس حقیر کے نام تحریر فرمایا تھا، اس کے مطالعہ سے مشرف ہوا۔ جَزَاکُمُ اللہُ سُبْحَانَہٗ خَیْرًا (اللہ سبحانہٗ آپ کو اس کی بہترین جزا عطاء فرمائے) حق جل سلطانہٗ کے انعامات میں سے کیا کیا تحریر کرے اور اس کا شکر کس طرح ادا کرے۔ وہ ’’علوم و معارف ‘‘ جن کا فیضان ہوتا رہتا ہے ان میں سے بیش تر حصہ تحریر ہوتا رہتا ہے اور ہر اہل و نا اہل کے گوش گزار ہوتا رہتا ہے، لیکن وہ اسرار و دقائق جن کے ساتھ یہ فقیر ممتاز ہے، اس کا ذرا سا حصہ بھی اظہار نہیں کیا جا سکتا بلکہ رمز و اشارہ سے بھی ان دقائق کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ اپنے فرزند عزیز (خواجہ محمد صادق رحمۃ اللہ علیہ) جو اس فقیر کے معارف کا مجموعہ اور مقاماتِ سلوک و جذبے کا نسخہ ہے، اس سے بھی ان اسرار و دقائق میں سے کوئی ایک رمز بیان نہیں کر سکتا، اور ان کے پوشیدہ رکھنے میں پوری پوری احتیاط و کوشش کرتا ہے حالانکہ فقیر جانتا ہے کہ میرا فرزند ’’محرمانِ اسرار‘‘ میں سے ہے اور خطا و غلطی سے محفوظ ہے لیکن (یہ فقیر) کیا کرے کہ معانی کی دقت اور باریکی زبان کو پکڑ لیتی ہے اور اسرار کی لطافت ہونٹوں کو بند کر دیتی ہے۔ ﴿وَيَضِيۡقُ صَدۡرِىۡ وَ لَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِیْ﴾ (الشعراء: 13)میرا سینہ تنگ ہو جاتا ہے اور میری زبان جاری نہیں رہتی۔ نقدِ وقت ہے۔ وہ اسرار اس قبیل (قسم) میں سے نہیں ہیں کہ بیان میں نہیں آ سکتے بلکہ وہ ایسے ہیں کہ بیان میں لائے ہی نہیں جا سکتے ؂

فریادِ حافظ ایں ہمہ آخر بہرزہ نیست
ہم قصۂ غریب و حدیثِ عجیب ہست

ترجمہ:

نہیں بکواس یہ حافظ کی فریاد
وہ البتہ عجیب احوال کی ہے

یہ دولت جس کے پوشیدہ رکھنے میں ہم کوشش کرتے ہیں، انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کے ’’مشکوٰۃِ نبوت‘‘ سے اقتباس کی ہوئی ہے، اور ملائکۂ ملاء اعلیٰ علیٰ نبینا و علیہم الصلوات و التسلیمات بھی اس دولت میں شریک ہیں، اور انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کی متابعت کرنے والوں میں سے جس کو اس دولت سے مشرف فرمائیں وہ بھی اس دولت میں شریک ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سے دو قسم کے علم سیکھے ہیں، ان دو علموں میں سے ایک یہ ہے کہ جو میں نے تمہارے درمیان پھیلا دیا اور بیان کیا، اور دوسرا علم وہ ہے کہ اگر میں تم پر ظاہر کر دوں تو میرا گلا کاٹ دیا جائے اور وہ علم ’’علمِ اسرار‘‘ ہے کہ ہر شخص کی فہم وہاں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔ ﴿ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾ (الجمعہ: 4)

دوسری عرض یہ ہے کہ وہ مکتوب (266) جو حضرات خواجہ زادوں کے نام تحریر کیا ہے آپ کی نظر سے بھی گزرا ہو گا۔ میرے مخدوم و مکرم! طریقت میں بھی کوئی نئی بات نکالنا اس فقیر کے نزدیک اس بدعت سے کم نہیں ہے جو دین میں پیدا کی جائے۔ ’’برکاتِ طریقت‘‘ اسی وقت تک جاری و ساری رہتی ہیں جب تک کہ طریقت میں کوئی نئی بات پیدا نہ کی جائے، اور جب کوئی نئی بات طریقت میں پیدا ہو جائے تو اس طریقے کے فیوض و برکات کی راہ بند ہو جاتی ہے۔ لہٰذا طریقت کی محافظت انتہائی ضروری ہوئی، اور طریقت کی مخالفت سے پرہیز کرنا بھی ضروریات میں سے ہو گیا۔ پس آپ جس جگہ بھی ہوں اور جس سے بھی اپنے طریقے کی مخالفت دیکھیں تو نہایت سختی اور سر زنش کے ساتھ اس کو روکیں اور اس طریقت کی ترویج و تقویت میں کوشش کریں۔ و السلام و الاکرام۔

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ جل شانہ نے خصوصی انعام و اکرام سے نوازا۔ اس مکتوب شریف میں اس کا ذکر ہے۔ وہ کیا تھا؟ اس کو جاننے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد مبارک ہے: "اس چیز کو مبہم رکھو جس کو اللہ نے مبہم رکھا ہے"۔ جس چیز کو اللہ پاک نے ظاہر کیا ہے وہ ظاہر کرنے والی چیز ہوتی ہے، اور جس چیز کو اللہ پاک نے چھپایا، تو وہ چھپانے کی چیز ہوتی ہے۔

ظاہر ہے دنیا میں بھی ہم لوگ اگر کسی کی ملازمت کرتے ہیں، تو ہم ان کے رازوں کے امین بھی ہو جاتے ہیں اور ہمیں اس بات کی اجازت نہیں ہوتی کہ ان کو کسی اور کے سامنے افشا کر دیں۔ تو یہاں ملازمت تو نہیں ہے، یہاں تو بندگی ہے۔ ملازمت میں تو اور بات ہوتی ہے، وہ تو ایک لگا بندھا نظام ہوتا ہے اجرت کا، یہاں تو اجرت والی بات ہے ہی نہیں، یہاں تو غلامی ہے، یہاں تو بندگی ہے۔ غلاموں کے بھی حقوق ہوتے ہیں، بندوں کے تو حقوق بھی نہیں ہوتے۔ تو یہاں پر جو بات ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو جتنا آگے بتانے کی اجازت ہو اتنی ہی بتانی چاہیے بات۔

اب جہاں تک بات ہے بنیادی شریعت کی، اس میں تو کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ اور اصل میں نجات تو اسی پر ہے۔ جہاں تک بنیادی شریعت کی بات ہے، تو اس میں تو مخفی کوئی چیز نہیں ہے، شریعت واضح ہے، ظاہر ہے، بیّن ہے۔ یہاں تک کہ جو باتیں انسان اپنی ذاتی دوسروں کو نہیں بتا سکتا، بلکہ بتانا جرم ہے شرعی لحاظ سے، جیسے میاں بیوی کی اپنی باتیں ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان باتوں کو بھی اللہ پاک نے ظاہر کروایا، کیونکہ شریعت کی بات تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس کے سمجھانے والے تھے۔ وہاں پر تو اخفا نہیں تھا، ہمارے لیے اخفا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اخفا نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پھر کون ہم تک یہ بات پہنچاتا؟ کس طریقے سے ہمیں یہ باتیں سمجھ میں آتیں؟ یہ بھی ایک بڑا عجیب نقطہ آگیا ذہن میں۔

بہشتی زیور جو یہ کتاب ہے، جب یہ لکھی گئی تو بعض لوگوں نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ اس میں فحاشی ہے۔ کیوں؟ یہ اس لیے بتایا کہ اس میں ظاہر ہے جیسے مثال کے طور پر غسل فرض ہو جاتا ہے جن باتوں سے، اس کی تفصیل بھی ہے۔ مردوں کے لیے بھی اور عورتوں کے لیے بھی ہے۔ غسل کس طرح کیا جاتا ہے، وہ تفصیل ہے۔ حیض کے بارے میں مسائل ہیں، نفاس کے بارے میں مسائل ہیں، اب یہ باتیں ضرورت بھی اس کی ہے اور اس کو افشا کرنے کی بھی بات نہیں ہوتی کہ مطلب لوگوں کے سامنے اس طرح کھل کے بیان بھی نہیں کیے جا سکتا۔ تو حضرت نے ماشاءاللہ اس کو بیان فرمایا ہے؛ کیونکہ علمی باتیں تھیں۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ یہ باتیں تو نہیں کرنی چاہیے تھیں۔ تو ان کو جواب دیا گیا کہ پھر کس طرح کی جاتیں؟ مطلب اگر ضرورت تو تھی۔ کتاب لکھی گئی ہے خواتین کے لیے تو ان کی باتیں تو اس میں ہوں گی۔ تو جب کچھ نہیں بن پایا تو انہوں نے کہا جی ان کو اردو نہیں آتی۔ یعنی یہ ہے کہ ذرا ایسے پیرائے میں لکھنی چاہیے تھی کہ جو مناسب ہو۔ تو اس کا حضرت نے اس سے وہ کر لیا تھا انتظام۔ اور وہ یہ ہے کہ اس پہ لکھا تھا کہ یہ باتیں خواتین صرف ان کو سمجھائیں۔ جن کو ضرورت ہو اور عام درس میں یہ نہ آئیں، ٹھیک ہے۔ بس اتنا ہی ہو سکتا تھا کہ خود پڑھ لے یا یہ ہے کہ کوئی ایسی خاتون ان کو سمجھائے جو ظاہر ہے پردے کے ساتھ سمجھا سکتی ہے۔

الغرض یہ ہے کہ دین میں شرم بھی نہیں ہے، اور دین میں بے شرمی بھی نہیں ہے۔ دونوں باتیں ہیں۔ دین میں شرم بھی نہیں ہے، دین میں بے شرمی بھی نہیں ہے۔ بے شرمی سے مراد بے حیائی اور شرم سے مراد ضروری چیز جو کہ ظاہر کرنی ہو، اس کے ظاہر کرنے سے طبیعت کا رک جانا، وہ شرم ہے۔ تو دین میں ایسی بات نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواتین مسئلے پوچھا کرتی تھیں۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے صحابہ کرام نے باتیں پوچھی ہیں۔ بلکہ ایک دفعہ ایک ایسا مسئلہ پوچھنا چاہتے تھے ایک صحابی، جس پہ ان کو بڑی شرم آ رہی تھی کہ میں کیسے پوچھوں؟ تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اس کو تاڑ لیا، فرمایا کہ: میں تیری ماں ہوں، شرم نہ کرو، میں تمہیں بتاتی ہوں آپ پوچھیں۔ تو پھر انہوں نے مسئلہ پوچھا اور اس کا جواب دے دیا۔ مطلب یہ ہے کہ دین میں شرم بھی نہیں ہے اور دین میں بے شرمی بھی نہیں ہے۔ جو چیز جتنی مطلوب ہے اتنا کرنا چاہیے۔

خیر یہ تو میں شریعت کی بات کر رہا تھا کہ شریعت جو ہے بالکل واضح ہے، بین ہے، اظہار والی چیز ہے، شرع ظاہر کو دیکھتی ہے اس کا مطلب ظاہر کے اوپر مبنی ہے تو تمام چیزوں کو ظاہر بھی کرنا ہوتا ہے۔

لیکن ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس پہ آنے کے لیے جو نظام ہے اس کو طریقت کہتے ہیں۔ اس پہ آنے کے لیے جو نظام ہے، یعنی جو رکاوٹیں ہیں اپنے نفس کی، اپنے قلب کی، اپنے عقل کی۔ جو رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے انسان شریعت پر چلنے سے رک سکتا ہے۔ تو ان رکاوٹوں کو دور کرنے کا نام "طریقت" ہے۔ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کا نام کیا ہے؟ یہ طریقت ہے۔

تو طریقت جو ہے اس کے بارے میں بھی یہ والی بات ہے کہ شیخ کے ساتھ معاملہ اور ہوتا ہے، باقی لوگوں کے ساتھ معاملہ اور ہوتا ہے۔ اس میں احوال ہوتے ہیں۔ شریعت میں اقوال ہوتے ہیں، اس میں احوال ہوتے ہیں۔ تو یہ جو احوال ہیں وہ صرف اپنے شیخ کو بتانے ہوتے ہیں، کسی اور کو نہیں بتانے ہوتے۔ جرم ہے! جرم ہے۔ اپنا حال کسی اور پر، شیخ کے علاوہ کسی اور پر ظاہر کرنا، یہ جرم ہے۔ اس پر بڑی سخت تنبیہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ اپنا کوئی حال کسی صاحب نے ظاہر کیا تھا کسی پہ خانقاہ میں، تو حضرت اتنے سخت ناراض ہوئے کہ سب کے سامنے ایسا دھنائی کی، ان الفاظ میں کہ "بدبخت! اپنے جورو یعنی اپنی بیوی کو کسی اور کے بغل میں دیکھے، تجھے شرم نہیں آتی؟" یعنی یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ آدمی کوئی اپنی بیوی کسی اور کے حوالے کر دے۔ یعنی احوال ایسی چیز ہے۔ ایسے پردے میں رکھنے ہوتے ہیں۔ یہ ظاہر نہیں کرنے ہوتے۔ یہ کچا پن ہے۔ کسی مرید میں اگر ہو، یہ کچا پن ہے۔ جس کی وجہ سے نقصان ہو سکتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ طریقت جو چیز ختم کرنا چاہتی ہے، یہ اس کے مخالف چیز کیسے؟ طریقت فنائیت چاہتی ہے۔ یعنی انسان اپنی اس کو فنا کر لے، حیثیت کو۔ اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھے۔ یعنی اس کا ہر کام اس طرف جا رہا ہو کہ جس میں فنائیت پائی جاتی ہو۔ اور اس میں اظہار ہے! اس میں دعویٰ ہے۔ اس میں اپنی حیثیت جتانا ہے، بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں اپنے آپ کی بزرگی دکھانا ہے۔ تو اب بتاؤ کون سی چیز ہے؟ بالکل اس کے مخالف چیز ہے۔ تو اس وجہ سے اس کو سختی کے ساتھ روکا جاتا ہے۔

تو یہ جو بات ہے میں عرض کر رہا ہوں، کہ طریقت اصل میں تو شریعت پر آنے کا نام ہے، شریعت پر چلنے کا نام ہے، شریعت پہ چلنے میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو دور کرنے کا نام ہے۔ لیکن یہ جو اس کا نظام ہے، وہ یہ ہے کہ کسی شیخ کی نگرانی میں ہو اور شیخ کے ساتھ معاملہ اس میں ایسا ہوتا ہے کہ جتنا اس پہ شیخ کھولے، اتنا لے اور جتنا نہ کھولے اس کی حرص نہ کرے۔ اس کی پابندیاں ہیں۔ اس کی حرص نہ کرے۔ وہ تعجیل کے زمرے میں آتا ہے۔ اور جو کھولے، اس کو محفوظ کرے۔ اس کو ضائع نہ کرے۔ اس کے مطابق کام کرے۔ اور اپنے حال کو کسی پہ ظاہر نہ کرے۔

یہ اس طریقے سے انسان اپنے قلب، عقل اور نفس کا علاج کرواتا رہے۔ یہاں تک کہ رکاوٹیں دور ہو جائیں اور سیر الی اللہ مکمل ہو جائے۔ نفس، نفس مطمئنہ بن جائے۔ قلب، قلب سلیم بن جائے۔ عقل، عقل فہیم بن جائے۔ تو گویا کہ سیر الی اللہ مکمل ہو جائے گا، پھر اس کے بعد سیر فی اللہ شروع ہو جائے گا۔ اور سیر فی اللہ میں کیا ہے؟ محض شریعت پر مستقل طور پر موت تک عمل ہے۔ جس میں اور کچھ نہیں ہے۔ محض شریعت پر موت تک عمل ہے۔ یہ سیر فی اللہ ہے۔ یہ چلتا رہے گا۔

اب قلب کے اوپر حجابات ہیں۔ ان حجابات کے دور ہونے کی وجہ سے قلب میں کچھ چیزیں منعکس ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ سمجھانے کے لیے میں عرض کروں، کہ جیسے مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ نفس اور روح کا آپس میں مقابلہ ہوتا ہے مقام قلب میں۔ اور نفس کو قابو کرنا ہوتا ہے، تاکہ روح اس سے آزاد ہو جائے۔ جب روح آزاد ہوگا تو اپنے مستقر اصلی یعنی ملاء اعلیٰ پہ پہنچ جائے گا۔ اب یہ ملأ اعلیٰ کا باسی ہو جائے گا۔ لیکن اس کا کنکشن قلب کے ساتھ ہوگا۔ جیسے نفس کا قلب کے ساتھ تعلق ہے، بے شک عبدیت میں ہو اپنی جگہ پہ پہنچ جائے نیچے ہو کر، اس طرف روح جتنا اوپر جائے پھر بھی اس کا قلب کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔

اب حضرت فرماتے ہیں کہ قلب برزخ بن جاتا ہے۔ اور روح کے ذریعے سے ملأ اعلیٰ سے لیتا ہے۔ اور نفس کے ذریعے سے آگے دیتا ہے۔ یہ نظام بن گیا۔ اب یہ جو نظام بن گیا، تو ملأ اعلیٰ تو لوگوں پہ کھلا نہیں ہے نا۔ ملأ اعلیٰ کے اندر کیا ہے؟ جو چیزیں حدیث شریفہ میں بتائی گئیں، بس اتنا ہی معلوم ہے نا، اس سے زیادہ تو معلوم نہیں ہے۔ اب جو جو چیزیں پتہ چلتی ہیں وہ "حقائق" ہیں۔ "اسرار" ہیں۔ جن پہ جتنی جتنی بات کھلتی جاتی ہے، اب جس طریقے سے اپنے احوال طریقت میں کسی پہ ظاہر نہیں کرنے سوائے شیخ کے۔ اس طرح ان اسرار کا بھی جو کشف ہوتا ہے، تو یہ بھی ظاہر نہیں کرنا ہوتا۔ یہ بھی مخفی ہے۔ یہ بھی کسی پہ ظاہر نہیں کرنا ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ معاملہ اللہ جل شانہٗ اور اس شخص کے درمیان ہے۔ اللہ جل شانہٗ اور اس شخص کے درمیان ہے کوئی اور اس میں درمیان میں نہیں ہے۔ اس وجہ سے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ یہاں تک فرمایا کرتے تھے کہ شیخ کا کام بھی اتنا ہوتا ہے، جیسے مشاطہ کا ہوتا ہے۔ یعنی جیسے میاں بیوی کی جو ملانے والی ہوتی ہے کہ اس کمرے میں لانے والی ہوتی ہے، تو بس اس کا کام ادھر ختم ہو گیا۔ اس کے بعد وہ تانک جھانک نہیں کر سکتی۔ کرے گی تو سخت پٹائی ہوگی۔

تو یہاں پر بھی بات ہے کہ یہ جو سیر فی اللہ ہے، جب یہ شروع ہو جاتا ہے اور پھر اس میں اللہ پاک اسرار کھولتے ہیں، تو وہ پھر اس کا اپنا معاملہ ہوتا ہے اللہ کے ساتھ۔ اور وہ اپنی ترتیب چلتی ہے۔ حقائق کھلتے ہیں، یہ "حقیقت" ہے۔ پھر اللہ تعالی اس کے دل پر ہر حالت کے مطابق جو نظام ہوتا ہے کھولتا ہے، تو اسی کو "معرفت" کہتے ہیں۔ پھر یہ جو عارف ہوتا ہے، معرفت والا ہوتا ہے، ایسے شخص کو "عارف باللہ" کہتے ہیں، کیونکہ یہ اللہ جل شانہ کے نظام کو سمجھنے لگا ہے اور جتنا اس کو بتایا گیا ہے۔ اس کو عارف باللہ کہتے ہیں۔

تو اس میں بعض چیزیں اللہ تعالی جن پر کھول لیتا ہے، دوسرے لوگوں کے لیے وہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ نہ سمجھنے والی چیزیں ہوتی ہیں۔ وہ باقی لوگ سمجھ نہیں سکتے۔ تو ایسی صورت میں چونکہ نجات تو شریعت پر ہے۔ تو تبلیغ تو شریعت کی ہے۔ طریقت میں آپ کا اپنا کام ہے، اپنے آپ کو بنانے کا اس کا بھی کسی اور کے ساتھ تعلق نہیں ہے، سوائے شیخ کے۔

لہذا شیخ کے ساتھ interaction کی اجازت دی گئی ہے، باقیوں کے ساتھ نہیں۔ اور یہ حقیقت کا معاملہ تو شیخ کے ساتھ بھی نہیں ہے۔ تو اب اس کا کسی کو کیسے بتایا جائے؟ بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تو ایسی صورت میں پھر وہ حفاظت اس کی ذمہ داری ہو جاتی ہے۔ وہ حفاظت اس کی ذمہ داری ہو جاتی ہے

میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ عجیب و غریب باتیں ہیں اور ساری چیزیں سمجھ میں آنے والی ہیں لیکن تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کہتے ہیں: اگر آپ کو کوئی محرم راز بنائے، یعنی آپ سے کوئی سرگوشی میں بات کر لے، اور تھوڑا سا ادھر ادھر بھی دیکھے، کہ کوئی ہے یا نہیں ہے۔ بس بے شک آپ کو زبانی طور پر نہ بھی کہے "کہ کسی کو بتانا نہیں"، آپ اس کے امین ہو گئے۔ اب آپ کسی کو نہیں بتا سکتے اس کی اجازت کے بغیر۔ اس نے ظاہر کر دیا کہ یہ خاص بات ہے۔ یہ میری خاص بات ہے، اس کو آپ کسی اور کو نہیں بتا سکتے۔ ہاں! اجازت دے دے تو پھر ٹھیک ہے۔ پھر آپ بتا دیں۔ جس کے لیے بھی اجازت دے دے اور جتنے کی اجازت دے، وہ علیحدہ بات ہے۔ لیکن اگر اجازت کے بغیر آپ نے بتا دیا تو آپ نے تعلقات کھٹے کر دیے۔ مجھے بتاؤ ایک انسان کے ساتھ تعلقات کھٹے کرنے کا نقصان تو سمجھتے ہیں ہم، تو اللہ پاک کے ساتھ کیسے معاملہ ہوگا یہ؟ تو ایسی صورت میں انسان کو بہت بچنا ہوتا ہے۔ تو حضرت نے اب یہی بات بتائی۔ کہ جو چیزیں اللہ پاک نے حضرت پہ کھولی ہیں، تو کچھ کا تعلق تو تھا شریعت کے ساتھ، لہذا وہ تو کھل کے بتا دیا۔ کچھ کا تعلق تھا طریقت کے ساتھ، تو جتنا بتانا تھا اپنے مریدوں کو، اپنے خلفاء کو، وہ اتنا بتا دیا۔ لیکن باقی چیزوں کا تعلق کسی چیز کے ساتھ تھا؟ تو نہیں تھا، لہذا باقی نہیں بتاتے۔

فرمایا اپنے بیٹے کو بھی نہیں بتا سکتا۔ یہ بھی فرمایا۔ کہ اپنے بیٹے کو بھی نہیں بتا سکتا۔ حالانکہ وہ محرم راز بھی ہے، سب کچھ ہے، لیکن نہیں۔ اس وجہ سے چلیں ایک بات اور عرض کر لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت دعوت دے رہے تھے ابتدائی، سب کو جمع کیا تو سوال کیا کہ "اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے کوئی دشمن آ رہا ہے اور ہم پر حملہ آور ہونے والا ہے، تو آپ لوگ یقین کریں گے؟" تو سب نے کہا کہ کیوں نہیں کریں گے، کیونکہ آپ صادق اور امین ہیں۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت دی۔ ظاہر ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہوئی۔ حالانکہ پہلے ہی کہا تھا کہ آپ صادق اور امین ہیں، ہم کیوں یقین نہیں کریں گے۔ تو اسی طریقے سے جو حضرات امین ہوتے ہیں رازوں کے۔ اور جن وجوہات، جن بنیادوں کے لیے وہ رازوں کا امین بنایا گیا ہے۔ اس کی استعمال اگر طریقت میں ہو، سمجھنے کے لحاظ سے، یا سمجھانے کے لحاظ سے، وہ ان تک بات پہنچ گئی۔ تو جس وقت وہ سمجھائے گا تو اس چیز کو استعمال کر چکا ہوگا۔ باقی کے لیے تو اس راستے سے گزرنا ضروری نہیں ہے۔

تو اسی طریقے سے بعض باتوں کو سمجھایا جاتا ہے لیکن وہ صرف آگے کام کے لیے ہوتا ہے اور لوگوں کا اس کے ساتھ اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ تو حضرت نے بھی یہ بات فرمائی کہ میں جو مجھے چونکہ اس کی اجازت نہیں ہے تو اس وجہ سے میں کسی کو نہیں بتا سکتا۔