حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ آسمانی کی حقیقت اور یہودیوں کے جرائم

درس نمبر 212، سورۃ النساء: آیات: 156 تا 162- اشاعتِ اول: 27 جون، 2022، بمطابق 27 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • حضرت مریم علیہا السلام پر یہودیوں کا گھناؤنا بہتان
  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دینے کے دعوے کی قرآنی تردید
  • قیامت سے قبل تمام اہل کتاب کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا
  • یہودیوں کی سرکشی، انبیاء کی مخالفت، سود خوری اور ان پر حلال چیزوں کی حرمت
  • پکے سچے اہل کتاب (راسخون فی العلم) اور مومنین کے لیے اللہ کے ہاں اجرِ عظیم

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔

وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا ﴿156﴾ وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿157﴾ بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿158﴾ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴿159﴾ فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيرًا ﴿160﴾ وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿161﴾ لَكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أُولَئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿162﴾

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور اس لئے کہ انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا، اور مریم پر بڑے بھاری بہتان کی بات کہی﴿156﴾

یہ یہودی لوگ جو تھے، چونکہ یہ مریم علیہ السلام اور زکریا سب یہ بنی اسرائیل تھے۔ تو ان لوگوں نے مریم علیہ السلام جو کہ بالکل پاک تھیں، ان پر بہتان لگا دیا۔ چونکہ ان کے ہاں یہ چیزیں تھیں تو دوسروں کو بھی اس طرح سمجھتے تھے۔ اور بعد میں یہ بات ان کی بڑی سخت تھی اور یہ کہا کہ

ترجمہ: اور یہ کہا کہ: ”ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر دیا تھا“ حالانکہ نہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا تھا، نہ انہیں سولی دے پائے تھے، بلکہ انہیں اشتباہ ہو گیا تھا﴿157﴾

حاشیہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ حضرت مریم علیہ السلام کے بطن سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، اس لیے یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اس معجزے کو تسلیم کرنے کی بجائے حضرت مریم علیہ السلام جیسی پاک نفس اور عفت مآب خاتون پر گھناؤنا الزام لگایا تھا۔

حاشیہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، اس لئے یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اس معجزے کو تسلیم کرنے کے بجائے حضرت مریم علیہا السلام جیسی پاک نفس اور عفت مآب خاتون پر گھناؤنا الزام لگایا تھا۔

حاشیہ: قرآنِ کریم نے یہ حقیقت بڑے پر زور الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ کوئی قتل کرسکا، اور نہ انہیں سولی دے سکا، بلکہ اُن کو اشتباہ ہو گیا، یعنی انہوں نے کسی اور شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر اُسے سولی پر چڑھا دیا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اوپر اُٹھا لیا۔ قرآنِ کریم نے اس حقیقت کو واضح کرنے پر اکتفا فرمایا ہے، اور اس واقعے کی تفصیل بیان نہیں فرمائی، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ کے مقدس ساتھیوں میں سے ایک نے یہ قربانی دی کہ خود باہر نکلے، اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی صورت حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی بنادی، دشمنوں نے اُن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر سولی پر لٹکا دیا، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اوپر اُٹھا لیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جاسوسی کر کے انہیں گرفتار کرنے کے لئے اندر داخل ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے اُسی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں تبدیل کردیا، اور جب وہ باہر نکلا تو اُسی کو گرفتار کر کے سولی دے دی گئی، واللہ سبحانہ اعلم۔

یعنی یہ بات شک کی بنیاد پر کی جا رہی ہے، اس میں کوئی یقینی بات نہیں ہے۔ یقینی بات یہی ہے کہ اللہ پاک نے اس کو اوپر اٹھا لیا، اور شبہ ہو گیا تھا ان کو یعنی یہودیوں کو، سمجھ رہے تھے کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دی ہے۔

ترجمہ: اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے ضرور بالضرور عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائے ﴿159﴾

یہاں پر یہ ہے کہ

حاشیہ: یعنی بظاہر تو وہ یقینی طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے دی گئی تھی، لیکن چونکہ اُن کے پاس اس کی کوئی یقینی دلیل نہیں ہے، اس لئے ایسا ہے جیسے وہ درحقیقت شک میں ہیں۔

یہودی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر ہی نہیں مانتے، اور عیسائی خدا کا بیٹا ماننے کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اُن کو سولی پر چڑھا کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ سارے اہل کتاب، چاہے یہودی ہوں، یا عیسائی، اپنے مرنے سے ذرا پہلے جب عالم برزخ کے مناظر دیکھیں گے تو اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اُن کے تمام غلط خیالات خود بخود ختم ہو جائیں گے، اور وہ اُن کی اصل حقیقت پر ایمان لے آئیں گے۔ یہ اس آیت کی ایک تفسیر ہے جسے بہت سے مستند مفسرین نے ترجیح دی ہے، اور حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ نے ”بیان القرآن“ میں اُسی کو اختیار کیا ہے۔ البتہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس آیت کی جو تفسیر منقول ہے، اُس کی رُو سے آیت کا ترجمہ اس طرح ہوگا: ”اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو عیسیٰ کی موت سے پہلے اُن پر ضرور بالضرور ایمان نہ لائے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس وقت تو آسمان پر اُٹھا لیا ہے، لیکن، جیسا کہ صحیح احادیث میں مروی ہے، آخر زمانے میں وہ دوبارہ اس دُنیا میں آئیں گے، اور اُس وقت تمام اہل کتاب پر اُن کی اصل حقیقت واضح ہو جائے گی، اور وہ سب اُن پر ایمان لے آئیں گے۔

یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے آسمان سے، تو اس وقت اصل حقیقت چونکہ عیسائیوں پر ظاہر ہو جائے گی، تو وہ ایمان لے آئیں گے۔

ترجمہ: غرض یہودیوں کی سنگین زیادتی کی وجہ سے ہم نے اُن پر وہ پاکیزہ چیزیں حرام کر دیں جو پہلے اُن کے لئے حلال کی گئی تھیں، اور اس لئے کہ وہ بکثرت لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے ﴿160﴾ اور سود لیا کرتے تھے، حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا، اور لوگوں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو لوگ کافر ہیں، اُن کے لئے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿161﴾ البتہ ان (بنی اسرائیل) میں سے جو لوگ علم میں پکے ہیں، اور مؤمن ہیں، وہ اس (کلام) پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو (اے پیغمبر!) تم پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا تھا، اور قابلِ تعریف ہیں وہ لوگ جو نماز قائم کرنے والے ہیں، زکوٰۃ دینے والے ہیں اور اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم اجرِ عظیم عطا کریں گے ﴿162﴾

جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، وہ ایمان لائے تھے۔ تو اس طریقے سے جو پکے لوگ ہیں، اور ان میں نفسانیت والی بات نہیں تھی، تو انہوں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دیکھا، تو چونکہ ان کی نشانیاں پہلے سے کتابوں میں موجود تھیں، لہٰذا وہ ان پر ایمان لائے تھے۔ اور یعنی اس وحی پر بھی ایمان رکھتے تھے اور گزشتہ پر بھی۔ اور ہم بھی یہی ہیں کہ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور گزشتہ جو یعنی کتابیں آئی تھیں ان پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اور گزشتہ پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو اس طریقے سے وہ ہمارے جیسے ہی ہیں۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔