افضل اعمال کی ترتیب اور حقوق العباد کی اہمیت
بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 177، حدیث نمبر: 117، اشاعتِ اول: 14 جنوری، 2023 بمطابق 21 جمادی الثانی 1444 ہجری
- سب سے افضل عمل: اللہ پر ایمان اور اس کے راستے میں جہاد
- غلام آزاد کرنے کے درجات اور محبوب چیز خرچ کرنے کی فضیلت
- ضرورت مند، فقیر اور کام کرنے والے کی مدد کی اہمیت
- بے ہنر اور کمزور شخص کے کام میں مدد کا ثواب
- اپنے شر سے لوگوں کو محفوظ رکھنا بھی ایک صدقہ ہے
- حقوق العباد کی ادائیگی اور دوسروں کو تکلیف سے بچانے کی ترغیب
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ افضل اعمال کی ترتیب، حدیث الاول۔
عَنْ أَبِي ذَرٍّ جُنْدَبِ بْنِ جُنَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ»۔ قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا»۔ قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: «تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ»۔ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ؟ قَالَ: «تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ»، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا پر ایمان رکھنا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ میں نے عرض کیا کون سا غلام آزاد کرنا بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو گھر والوں کو زیادہ پیارا ہو اور جس کی قیمت بھی زیادہ ہو۔ میں نے عرض کیا اگر میں یہ نہ کر سکوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کام کرنے والے، فقیر، عیال دار کی مدد کر لے۔
کام کرنے والے، فقیر، عیال دار، دیکھو تین باتیں اس میں کیا کچھ بتا دیا۔ یہ مانگ سوال کرنے والے نہیں، عیال دار ہے اس کو واقعی ضرورت ہے، فقیر ہے کچھ مال نہیں اس کے پاس لیکن کام کرتا ہے۔ یا جو دوست کام نہ کر سکے اس کا کام کرنا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ بتائیں اگر میں ان میں سے بعض اعمال کرنے، عمل کرنے سے کمزور ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو لوگوں سے اپنی شرارت روک لے، یہ کام بھی تیرے نفس پر تیری طرف سے صدقہ ہے۔
دیکھیں، نفس جب کوئی شر کی طرف جاتا ہے آپ جب اسے روکیں تو یہ مجاہدہ ہے اور یہ مجاہدہ چونکہ اللہ کی رضا کے لیے ہے اس پر اجر ہے، ثواب ہے۔ لہذا اپنے شر سے لوگوں کو روکنا، یہ ماشاءاللہ اس پر اجر ہے۔
ایک دفعہ ہم گاڑی میں جا رہے تھے تو ہمارے ایک ساتھی تھے اس نے بہت خوبصورت عطر لگایا ہوا تھا، میں نے اس کی تعریف کی میں نے کہا بڑا اچھا عطر لگایا ہے۔ تو فرمایا میں اپنی بدبو سے اپنے ساتھیوں کو تکلیف نہیں دینا چاہتا۔ دیکھو کتنی اچھی بات کر لی، میں اپنی بدبو سے اپنے ساتھیوں کو تکلیف نہیں دینا چاہتا۔ اب دیکھیں اگر اس سے بدبو آ رہی تو اس وقت تو معذور تھے اس وقت، لیکن چونکہ اس کو پتہ ہے کہ اس سے لوگوں کو تکلیف ہو گی تو اس نے عطر لگایا، کس لیے لگایا تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو، ماشاءاللہ ایک عمل ہو گیا۔ جیسے آپ راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دیں، اس پر اجر ہے۔ تو اس طریقے سے کسی کو اپنے شر سے بچانا، کسی کو اپنے سے ہونے والی تکلیف سے بچانا، یہ بھی صدقہ ہے۔
فرمایا یعنی جس کا ثواب سب سے زیادہ وہ کون سے ہیں تو فرمایا کہ «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ»، اللہ پر ایمان رکھنا یہ تمام اعمال کی جڑوں کی جڑ اور بنیاد ہے اس کے بغیر تو کوئی کام کوئی خیر معتبر نہیں اور جہاد اس کے راستے میں۔ تو پھر فرمایا کہ «أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟» قَالَ «أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا»۔ گھر والوں کو زیادہ محبوب ہو جیسے قرآن میں آتا ہے «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» کہ تم نیکی کے کمال درجے تک نہیں پہنچو گے جب تک تم ایسی چیز کو خرچ نہ کرو جو تم کو محبوب ہے۔ «وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا» یعنی اس کی قیمت زیادہ ہو، یعنی ویسا غلام ہو جو بہت زیادہ سمجھدار ہو نفع والا ہو۔
علامہ مناوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ غلام آزاد کرنے میں اور قربانی کے جانور میں فرق ہو گا کہ اگر ایک ہزار روپے کے ایک طرف دو غلام ملتے ہوں تو دوسری طرف ایک ہی قیمتی غلام ملتا ہے، تو اب یہاں پر دو غلام آزاد کرنا افضل ہو گا بنسبت ایک قیمتی غلام کے۔ اور قربانی کے جانور میں ایک ہزار کے دو جانور کی بنسبت ایک موٹا تازہ جانور جو ایک ہزار روپے کا ہی ہو وہ زیادہ افضل ہو گا کیوں قربانی میں جانور کا موٹا تازہ ہونا زیادہ افضل ہے۔ سبحان اللہ، بڑی عجیب لطیف بات نکالی ہے۔ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زیادہ نفع والا عدد کے زیادہ ہونے سے افضل ہے۔ «أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ»، بے ہنر کا کام کر دو۔ ابن منیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غیر ہنرمند کے کام میں مدد کرنا یہ ہنر والے کے کام میں مدد کرنے سے افضل ہے۔ کیونکہ جس کو ہنر آتا ہی نہیں اس کو ہمت وہ کام کیسے ہو، جس کو ہنر آتا ہے تو آج نہیں کل وہ اپنا کام مکمل کر لے گا۔
صحیح بخاری کتاب العتق باب أي الرقاب أفضل، صحیح مسلم کتاب الایمان باب بيان كون الإيمان بالله أفضل الأعمال، أخرجه أحمد، نسائي، ابن ماجه، سنن دارمي، ابن حبان، مصنف عبدالرزاق والبيهقي۔ اللہ پاک ہم سب کو ایسی پیاری پیاری باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔