اہل کتاب کے مطالبات، ان کی سرکشیاں اور اللہ کی پکڑ

درس نمبر 211، سورۃ النساء: آیات: 153 تا 155- اشاعتِ اول: 26 جون، 2022، بمطابق 26 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • اہل کتاب کا آسمان سے براہ راست کتاب نازل کروانے کا مطالبہ
  • موسیٰ علیہ السلام سے اللہ کو کھلی آنکھوں دیکھنے کی ضد اور اس کا انجام
  • کھلی نشانیاں دیکھنے کے باوجود بچھڑے کی پوجا اور اللہ کی معافی
  • کوہِ طور اور شہر کے دروازے پر بنی اسرائیل کی سرکشی اور نافرمانی
  • اللہ کے احکام اور انبیاء کے قتل کی جسارت پر بنی اسرائیل کی سزا
  • نفس اور شیطان کا دھوکہ: ہدایت کو جھٹلانا اور دلوں پر مہر لگ جانا

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَى أَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذَلِكَ وَآتَيْنَا مُوسَى سُلْطَانًا مُبِينًا ﴿153﴾ وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا ﴿154﴾ فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِمْ بِآيَاتِ اللهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿155﴾

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: (اے پیغمبر!) اہل کتاب تم سے (جو) مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم ان پر آسمان سے کوئی کتاب نازل کرواؤ، تو (یہ کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ) یہ لوگ تو موسیٰ سے اس سے بھی بڑا مطالبہ کر چکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے (موسیٰ سے) کہا تھا کہ ہمیں اللہ کھلی آنکھوں دکھاؤ، چنانچہ ان کی سرکشی کی وجہ سے ان کو بجلی کے کڑکے نے آپکڑا تھا، پھر ان کے پاس جو کھلی کھلی نشانیاں آئیں، ان کے بعد بھی انہوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا تھا۔ اس پر بھی ہم نے انہیں معاف کر دیا، اور ہم نے موسیٰ کو واضح اقتدار عطا کیا ﴿153﴾ اور ہم نے کوہِ طور کو ان پر بلند کر کے ان سے عہد لیا تھا، اور ہم نے ان سے کہا تھا کہ (شہر کے) دروازے میں جھکے ہوئے سروں کے ساتھ داخل ہونا، اور ان سے کہا تھا کہ تم سنیچر کے دن کے بارے میں حد سے نہ گزرنا، اور ہم نے ان سے بہت پکا عہد لیا تھا ﴿154﴾ پھر ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اس لئے کہ انہوں نے اپنا عہد توڑا، اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، انبیاء کو ناحق قتل کیا، اور یہ کہا کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھا ہوا ہے

اللہ اکبر۔

اصل میں ہم لوگ اس دنیا میں جو ہیں، تو اس دنیا میں ہمارے ساتھ دو چیزیں لگی ہوئی ہیں۔ ایک شیطان اور ایک ہمارا نفس۔ ہمارے نفس کی کچھ فرمائشیں، کچھ خواہشات ہوتی ہیں۔ اور شیطان ان کو استعمال کر کے ہمیں دھوکہ دیتے ہیں، یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو یہ سب کے ساتھ ہو رہا ہے۔

تو اللہ پاک نے فرمایا کہ:

(اے پیغمبر!) اہل کتاب تم سے (جو) مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم ان پر آسمان سے کوئی کتاب نازل کرواؤ

تو اللہ پاک فرماتے ہیں:

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی جو تھے، انہوں نے ایسا کیا تھا۔ جیسے ان یہودیوں یا اہل کتاب جو ہیں، یہ موسیٰ علیہ السلام سے بھی، ان سے بھی بڑا مطالبہ کر چکے تھے۔ اور وہ یہ تھا کہ موسیٰ علیہ السلام سے انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اللہ پاک کھلی آنکھوں سے دکھاؤ، یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ نظر آ جائے۔ تو ظاہر ہے یہ بہت بڑی سرکشی کی بات تھی۔ یعنی یہ نہیں کہا تھا، دیکھو ایک ہوتا ہے انسان منت کرتا ہے، اور اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے، وہ علیحدہ چیز ہے۔ اس پہ گرفت نہیں ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا کہ یا اللہ میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں۔ محبت کے ساتھ کہا، تو اللہ پاک نے فرمایا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے، "لَن تَرَانِي"۔

اور پھر اللہ پاک نے یہ تو گویا کہ کلام سے فرمایا۔ دوسرا یہ ہے کہ اللہ پاک نے اس پر حکمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا کہ تم اس پہاڑ کو دیکھو کہ اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اگر ایسا ہے تو پھر بتاؤ۔ تو اللہ پاک نے اپنی تجلی اس پر ظاہر کر دی۔ تو جیسے ہی وہ تجلی ظاہر ہو گئی تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ تو پھر فوراً کہا کہ یا اللہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں اول ماننے والوں میں سے ہوں۔ تو وہ محبت کی وجہ سے تھی، یہ سرکشی کی وجہ سے ہے، کہ ہم ایمان نہیں لائیں گے اس وقت تک، جب تک کہ تم ہمیں دکھاؤ گے نہیں۔ یہ سرکشی تھی۔ اس سرکشی پر اللہ پاک نے ان کو پکڑا۔

اور پھر اس کے بعد بھی اور بڑی بڑی نشانیاں آ گئیں۔ لیکن اس کے باوجود ان لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا۔ حالانکہ دیکھیں نا، میں آپ کو ایک بات بتاؤں، موسیٰ علیہ السلام پہ جو چیزیں ظاہر ہوئیں، وہ لوگ نہیں کر سکتے تھے، یہ معجزہ تھا۔ لیکن بچھڑے کی جو تھی وہ ایک قسم کی یعنی ایسی چیز تھی جو کیا جا سکتا تھا۔ کوئی ایسی بات نہیں تھی، مثال کے طور پر وہ ٹھیک ہے جی وہ بچھڑا بنا دیا، اس میں جو ہوا گزار دیا تو اس سے، خوار کی آواز آئی۔ تو یہ تو ایک scientific قسم کی چیز تھی۔ اس کے باوجود، انہوں نے اس کو معبود بنا لیا۔ تو یہ بہت بڑی سرکشی تھی، لیکن اللہ پاک نے پھر ان کو معاف کر دیا، توبہ کرنے پر۔ اور پھر موسیٰ علیہ السلام کو واضح اقتدار عطا کیا۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب شہر پر پہنچ گئے، تو اللہ پاک نے فرمایا کہ تم اس شہر کے اندر جھکے ہوئے سروں کے ساتھ گزر جاؤ۔ اور ساتھ ہی کہنا کہ ہم نے اطاعت کر لی۔ تو یہ باقاعدہ ایک سرکشی کر کے، وہ اکڑ کے، اندر داخل ہو گئے، اور کہا عَصَيْنَا۔ بجائے اس کے کہ وہ جملہ کہنے کے، دوسرا جملہ بدل دیا۔ اور اس میں انکار کر دیا۔

تو یہ بات ہے کہ چونکہ انہوں نے ایسا کیا، تو پھر اللہ پاک نے بھی یوں کیا۔ ہاں، یہ بات آ گئی کہ

انہوں نے آیتوں کا نہ صرف انکار کیا، اور انبیاء علیہ السلام کو قتل کیا، بلکہ یہ بھی کہا کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھا ہوا ہے۔

یعنی گویا کہ ہمارے اندر کوئی، ہمارے دلوں کے اندر کوئی بات نہیں داخل ہو سکتی۔ اب دیکھیں، اگر کوئی یہ کہہ دے کہ یہ کوئی روشنی اس میں داخل نہیں ہو سکتی، تو یہ کون سا کمال ہے؟ آپ نے پردے اگر ڈال دیے، تو یہ کون سا کمال ہے؟ روشنی سے محروم کر دیا اپنے آپ کو۔ تو ہدایت کی روشنی آ رہی تھی، لیکن ان لوگوں نے کہا ہم ایسے ظلمت کے ساتھ وہ ہیں کہ کوئی روشنی ہمارے دلوں کے اندر نہیں آ سکتی۔ تو یہ اپنے پر ظلم تھا۔

تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جو معاملہ کیا،

﴿بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا﴾۔

فرمایا:

ترجمہ: حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اس لیے وہ تھوڑی سی باتوں کے سوا، کسی بات پر ایمان نہیں لاتے۔

حاشیہ: یہ ان کی ہٹ دھرمی تھی، جس کی وجہ سے اللہ جل شانہٗ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ جس کی وجہ سے کوئی صحیح بات ان کے دلوں میں نہیں اترتی۔

اللہ جل شانہٗ ہماری حفاظت فرمائے۔