طریقِ جذب: حبِ دنیا کا خاتمہ اور محبتِ الٰہی کا حصول

کتاب: پیغام محبت، درس 8، اشاعت اول: 27 اگست، 3 اور 10 ستمبر 2013 بمطابق 19 اور 26 شوال اور 3 ذو القعدہ 1434 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

۔ دنیا کی محبت کا علاج اور محبتِ الٰہی کا حصول

اصلاحِ قلب کے لیے 'طریقِ جذب' اور بامقصد شاعری کا کردار3۔

نفسانی خواہشات کی مزاحمت اور اصلاح کے لیے شیخِ کامل کی ضرورت

کائنات کے مظاہر اور انسانی وجود میں معرفتِ الٰہی کا مشاہدہ

عقل اور نفس کی حقیقت، اور ذکر کے ذریعے دل کی بیداری

۔عقل اور نفس کی حقیقت، اور ذکر کے ذریعے دل کی بیداری

مخلوق کو راضی کرنے کی بجائے خالق کی رضا کی فکر اور سچے عشق کی پہچان

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن جیسے کہ آپ لوگ جانتے ہیں اب پیغامِ محبت کتاب کی تشریح کی جاتی ہے۔ اصل میں دنیا کی محبت یہ تمام خطاؤں کی جڑ ہے جیسے کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے۔ تو دنیا کی محبت کو نکالنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ جیسے ہوا کو کسی بھی چیز سے نکالنا آسان بات نہیں ہے، وہ اپنا راستہ بنا لیتی ہے، کسی نہ کسی طریقے سے اندر آ جاتی ہے۔ تو ہوا کو نکالنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس چیز میں پانی ڈالو، ہوا نکل جائے گی۔ تو اسی طریقے سے اللہ کی محبت جس دل میں آ جائے گی تو دنیا کی محبت پھر نہیں رہے گی۔ اس وجہ سے صوفیائے کرام اللہ تعالیٰ کی محبت کو پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں سارے جتن ہوتے ہیں۔ اور طریقِ جذب جو ہے، یہ سارا کا سارا یہی ہوتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کیا جاتا ہے۔

تو اس کے ذریعے سے تھوڑی دیر میں اصلاح کا امکان ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ کی محبت دل میں آ جائے گی اور دنیا کی محبت نہیں رہے گی، تو پھر ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے ساری نیکیاں آسان ہو جائیں گی اور دنیا کی محبت نہ ہونے کی وجہ سے وہ خطائیں ختم ہو جائیں گی۔ تو اس وجہ سے یہ آسان طریقہ ہے۔ طریقِ جذب میں شعر و شاعری کا بڑا دخل ہے۔ اس وجہ سے طریقِ جذب میں اس کو لایا جاتا ہے۔ تو یہ اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ تو یہ کتاب بھی اسی کی ایک کاوش ہے، طریقِ جذب کی، کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو پیدا کیا جائے اور دنیا کی محبت سے چھٹکارا پا لیا جائے۔ تو اس کو شاید ایسا نہ ہو کہ کچھ لوگ اس کو صرف ایک عام شاعری سمجھیں کہ جیسے کوئی شغل میلہ ہے، تو ایسی بات نہیں ہے۔ اس کا اپنا ایک فائدہ ہے اور وہ فائدہ یہی ہے۔ اگر کسی کو آسانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت نصیب ہو جائے اور دنیا کی محبت سے انسان کو چھٹکارا مل جائے تو پھر اس پر ظاہر ہے انسان کو خوش ہونا چاہیے یا پریشان ہونا چاہیے۔ ہاں البتہ اگر کوئی مزے کے لیے اس کو سنتا ہو، تو وہ ہمارے مخاطب بھی نہیں ہیں اور نہ وہ ہماری بات سنیں گے، نہ ہماری بات مانیں گے۔ تو اس لحاظ سے ہم لوگوں کو سب سے اول اپنی نیتوں کو درست کرنا چاہیے کہ کس نیت سے ہم اس کو سنیں گے۔ اگر ہماری نیت یہی ہو کہ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہو جائے تو یقیناً اس سے فائدہ ہو گا اِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔


میرے دل کو کیسے سکون ہو


میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے

میری آہ گرم سی لگی مجھے کوئی بوٹی جیسے جلی سی ہے


میری آنکھ برسے نہ کھل کے کیوں اسے روک کون سکے گا اب

جسے آنکھ دیکھ سکے نہیں وہی ذات دل میں بسی سی ہے

میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے

میری آہ گرم سی لگی مجھے کوئی بوٹی جیسے جلی سی ہے


دورِ دنیا مجھ سے تو دور ہو میرے دل میں کوئی جگہ نہیں

مجھے تجھ سے واسطہ ہے اب کہاں تیری چاہ بڑی بری سی ہے


میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے


کروں یاد اس کو زباں سے اب کروں اس کو یاد سے تر بتر

میرا دل تو اس کا مکان ہے تبھی ہوک اس سے اٹھی سی ہے


میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے


میرے دل سے غیر نکل تو جا کبھی بھول کے بھی نہ آنا اب

میرے دل میں آئے وہ آئے اب دھوم اس کی جیسے مچی سی ہے


میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں جیسے لگی سی ہے


میرے لب سے اب یہ اٹھے صدا میں رہوں نہ اس سے کبھی جدا

میرے دل میں وہ ہے شبیر اب یہ زباں پہ بات چلی سی ہے


میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے

میری آہ گرم سی لگی مجھے کوئی بوٹی جیسے جلی سی ہے


میرے خیال میں تو Explanatory ہے۔ اس میں کوئی مشکل بات نہیں ہے۔

البتہ یہ بہت پیاری غزل آ رہی ہے۔


یہ ایسی غزل ہے جس کا انداز جو ہے وہ بھی ذرا اترتا ہے۔ مطلب وہ الفاظ کے ساتھ۔


دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے

میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے


اس زیست کا ہر لمحہ امانت ہے اس کی جب

یہ اس کے لیے صرف ہو اس پہ آؤں میں کیسے


دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے

میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے



ہر دم وہ چاہے میری نظر اس کی طرف ہو

اغیار کے اشاروں سے دل بچاؤں میں کیسے


دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے

میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے


دل مطمئن تو اس پہ ہے کہ اس کا ہی رہے

پر نفس کو اس پہ مطمئن کراؤں میں کیسے



دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے

میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے



آنکھوں کے سامنے شر ہے جس میں خیر ہے مخفی

اس خیر میں شر سے آنکھیں اب ہٹاؤں میں کیسے



دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے

میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے


اب یہ پوری غزل کا جواب موجود ہے۔



جو شیخ کی دہلیز ہے پکڑو اسے شبیر

بہتر ہو اس سے بھی وہ گُر بتاؤں میں کیسے



دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے

میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے


یہ اس شخص کی بات ہے جس کی طلب بن جاتی ہے۔ دیکھیں پہلے خواہشات ہیں نفس کی۔ اس کی طلب ان خواہشات کی ہے۔ طریقۂ جذب سے اس کو ایک داعیہ مل گیا کہ اب اس کی طلب وہ نہیں ہے۔ اب اس کی طلب اللہ ہے۔ دل اس میں مبتلا ہے، وہ چاہتا یہ ہے۔ لیکن اس کے سامنے مشکلات ہیں۔ وہ مشکلات اس غزل میں وہ بیان کر رہا ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ کہ "میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے"۔ چاہت تو ہے، طلب تو ہے، لیکن حاصل کیسے ہو؟ پھر، "اس زندگی کا ہر لمحہ جب اس کی امانت ہے، تب یہ سارا اس کے لیے صرف ہو اس پر میں کیسے آؤں؟" مشکل ہے۔ ہر دم وہ چاہتا ہے کہ میری نظر صرف اس پر ہو۔ لیکن اغیار کے اشارے بھی میرے دل کو مبتلا کر رہے ہیں۔ وہ میرے دل کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ ان کے اشاروں سے اپنے آپ کو کیسے بچاؤں؟ مشکل ہے۔ پھر یہ ہے کہ میرا دل تو مطمئن ہے کہ اس کا ہی رہوں۔ لیکن نفس کو اس پر کیسے مطمئن کروں؟ یہ مشکل ہے۔ پھر میری آنکھوں کے سامنے شر آتا ہے، جس میں خیر مخفی ہوتا ہے۔ مثلاً غیر محرم نظر آ گئے۔ تو شر ہے۔ لیکن اس کے اندر خیر یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنی آنکھیں اس سے ہٹائیں تو آپ کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قرب نصیب ہو گا۔ اب اس شر کے اندر وہ جو خیر ہے اس کو کیسے حاصل کروں؟ یا اس خیر کے اندر جو شر ہے، اس سے اپنی نظریں کیسے ہٹاؤں؟ مشکل ہے۔ پریکٹیکل ساری چیزیں ہیں۔ طلب تو ہے، میں چاہتا تو ہوں، لیکن حاصل کیسے ہو؟

آخری حاصلِ غزل شعر جو ہے وہ ہے


جو شیخ کی دہلیز ہے پکڑو اسے شبیر

بہتر ہو اس سے بھی وہ گُر بتاؤں میں کیسے


دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے


مطلب یہ ہے کہ شیخ اسی لیے پکڑا جاتا ہے، ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے کہ اس کی دہلیز کو لازمی پکڑو، وہ جو کہے اس طرح کرتے جاؤ۔ اپنی سوچ کو آگے نہ آنے دو۔ پھر تو ان تمام مشکلات کو عبور کر سکتا ہے، ورنہ پھر یہ ہے کہ واقعی مشکلات حل ہونے کو نہیں ہیں۔

شیخ کے ساتھ اگر محبت ہو جائے، فنا فی الشیخ ہو جائے، پھر تو Will power کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ ورنہ اتنا Will power ہونا چاہیے کہ شیخ کی بات مان سکے۔ پھر اس کے بعد پھر چلتا رہے گا ان شاء اللہ۔ تو یہ مطلب گویا کہ جذبی اصلاح کی یہ ایک رہنما غزل ہے۔


یہ اللہ جل شانہ کے بارے میں ہے، خیالوں میں وہ موجود۔


دل عشق سے لبریز خیالوں میں وہ موجود

سورج کی روشنی میں ہواؤں میں وہ موجود


اس کے ہی ارادے سے ہر اک چیز ہے قائم

ہے چاند میں موجود ستاروں میں وہ موجود


دل عشق سے لبریز خیالوں میں وہ موجود

سورج کی روشنی میں ہواؤں میں وہ موجود


جس دل میں بصیرت ہو وہ دیکھے اسے ہر وقت

ہر آن ہر جگہ مشاہدوں میں وہ موجود


دل عشق سے لبریز خیالوں میں وہ موجود

    

کیا فعل ہے ممکن اگر اس کا نہ ہو فاعل

ایسے ہی سوالوں کے جوابوں میں وہ موجود


دل عشق سے لبریز خیالوں میں وہ موجود

سورج کی روشنی میں ہواؤں میں وہ موجود


فطرت کے مطابق ہے رخ بگاڑ کی طرف

جزائے منتشر سے تعمیروں میں وہ موجود


دل عشق سے لبریز خیالوں میں وہ موجود

سورج کی روشنی میں ہواؤں میں وہ موجود


تھوڑی سی اپنے آپ کی تخلیق ہو سامنے

انسان میں موجود نظاموں میں وہ موجود


گر عقل نفس ذدہ نہ ہو اور حق کی طلب ہو

سربستہ کائنات کے رازوں میں وہ موجود


شبیر تم طلب دلِ بیدار تو کر لو

سچی طلب کے ساتھ دعاؤں میں وہ موجود


دل عشق سے لبریز خیالوں میں وہ موجود

    

اللہ جل شانہ کے بارے میں ہے کہ جو عشق سے لبریز خیالات سے دل پُر ہے، اس میں اللہ موجود ہے۔ سورج کی روشنی سے بھی اللہ کا پتا چلتا ہے، ہواؤں کے چلنے سے بھی۔ اور اس کے ارادے سے ہر چیز قائم ہے۔ چاند میں بھی نظر آ رہے ہیں، ستاروں میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ جس دل میں بھی بصیرت ہو، اسے وہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے تو ہر آن، ہر مشاہدے میں وہ ہے۔

کیا کبھی کوئی چیز بغیر کسی فاعل کے ہو سکتی ہے؟ تو اگر یہ بات ہے تو پھر ایسے سوالوں کے جواب میں وہ موجود ہے۔ Entropy جس کو کہتے ہیں کہ چیزیں خود بخود بگاڑ کی طرف بڑھتی ہیں، تو پھر یہ جو اجزائے منتشر تھے، اس سے جو چیزیں تعمیر ہو رہی ہیں، کیا اس سے وہ پتا نہیں چلتا اس کا؟ اور اگر تھوڑا سا ہم اپنے اندر کا جائزہ لیں کہ ہمارے اندر کیا ہو رہا ہے، تو سارے نظام جو ہمارے اندر ہیں، کیا اس سے وہ نظر نہیں آ رہے؟ اور عقل نفس زدہ نہ ہو اور حق کی طلب موجود ہو، تو پھر جو کائنات کے سربستہ راز ہیں، ہر ایک میں وہ موجود ہے۔ اس وجہ سے شبیر تم دلِ بیدار طلب کر لو، پھر اس کے بعد جو طلب کے ساتھ دعائیں ہیں اس کے جواب میں وہ موجود ہوں گے۔


دل بیدار کیا ہے؟


دلِ بیدار ہی قرآں سے ہدایت لے لے

دلِ ذاکر ہی تو اللہ سے حکمت لے لے

ہاں جو اردگرد ہمارے ہیں یہاں چیزیں سب

وہ رکاوٹ نہ بنے دل ہر سعادت لے لے


مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں ہمارے اردگرد موجود ہیں اگر وہ رکاوٹ نہ بنیں تو پھر دل ہر سعادت حاصل کر سکتا ہے۔ قرآن سے بھی اور کائنات سے بھی۔


معرفتِ الٰہی۔


دل اگر اللہ کو جانے نہیں

نفس آسانی سے پھر مانے نہیں


دل اگر اللہ سے مانوس ہو

پھر ملے اس نفس کو بہانے نہیں


مطلب یہ رباعی…


اب یہ غزل ہے،

جان لو یہ فقط اشعار نہیں،


مطلب یہ صرف شعر و شاعری نہیں ہے، اس کے اندر کچھ ہے۔


میرا دل عقل سے بیزار نہیں

ہاں مگر اس کا تابعدار نہیں


(یہ میرا جو دل ہے عقل سے بیزار نہیں ہے، عقل کو مانتا ہے، لیکن اس کا تابعدار بھی نہیں ہے۔ تابعدار کس کا ہے؟ اللہ کا، شریعت کا۔)


نفس کو عقل سے دبا لینا

کیسے ہو دل اگر بیدار نہیں؟


میرا دل عقل سے بیزار نہیں


جذبہ خالص تو ایک نعمت ہے

کہ اس کا نفس پہ مدار نہیں


میرا دل عقل سے بیزار نہیں


باقی چیزوں کا تو نفس پہ مدار ہے نا، تو وہ گڑبڑ کر سکتی ہیں، لیکن جذب کا نفس کے اوپر مدار نہیں ہے۔ لہٰذا وہ... اس کے لیے معاملہ الگ ہوتا ہے۔


جان لے گا تو فرقِ عشق و ہوس


ہوس جو ہے نا اس کا خواہشات پر مدار ہے، عشق کا نہیں۔


جان لے گا تو فرقِ عشق و ہوس

ہوس تجھ پر اگر سوار نہیں


میرا دل عقل سے بیزار نہیں


نفس کو قابو مجاہدے سے کر

کیونکہ اس پر تو اعتبار نہیں


میرا دل عقل سے بیزار نہیں


دل کو اذکار سے مانوس کر لے

لے کے پھرنا دلِ بیمار نہیں


میرا دل عقل سے بیزار نہیں


دل کی اصلاح تو اس کی یاد میں ہے

ورنہ اس پر تو اختیار نہیں


مطلب دیکھو، جب اللہ کو یاد کرو گے تو اللہ کے ساتھ تعلق بنے گا تو دل بنے گا۔ ٹھیک ہے نا؟ ویسے اس پر اختیار تو نہیں ہے، اب کیا کریں گے دل کے ساتھ؟ تو یہ اللہ ہی کرواتا ہے، تو اللہ کو یاد کرو گے تو اللہ کرائے گا۔ اس وجہ سے دل کی اصلاح اللہ کی یاد سے ہو جاتی ہے، باقی چیزوں سے نہیں ہوتی۔


دل کی اصلاح تو اس کی یاد میں ہے

ورنہ اس پر تو اختیار نہیں


یہ تو الہامِ ربانی ہے شبیر

جان لو یہ فقط اشعار نہیں


میرا دل عقل سے بیزار نہیں

ہاں مگر اس کا تابعدار نہیں


اب قال اور حال کے بارے میں ہے:


قال سے حال کا سفر کرنا

دل کو اللہ سے باخبر کرنا


نفس کو احکام کا پابند کر کے

اپنے اعمال کو بہتر کرنا


اب ایک رباعی ہے میرے خیال میں، اس پہ بات ختم کرتے ہیں۔ یہ ہے


"فکر کی فکر"۔


تعلق سب سے کرنا ٹھیک تو منظور

فکر اس کی نہیں اللہ سے ہوں دور


خرابی ساری دل کی ہے یہ شبیرؔ

مگر آنکھوں سے رہتی ہے یہ مستور


تعلق سب سے کرنا ٹھیک تو منظور


یہ ہماری شادیوں میں، سب کو خوش کیا جاتا ہے، سب کو راضی کیا جاتا ہے، جو ناراض ہوتے ہیں ان کو بھی ان دنوں راضی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن ایک اللہ کو اس میں راضی کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، اللہ کے رسول کو اس میں خوش کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، باقی سب کو راضی کیا جاتا ہے۔ تو یہ ہے۔


تعلق سب سے کرنا ٹھیک تو منظور

فکر اس کی نہیں اللہ سے ہوں دور


خرابی ساری دل کی ہے یہ شبیرؔ

مگر آنکھوں سے رہتی ہے یہ مستور



طریقِ جذب: حبِ دنیا کا خاتمہ اور محبتِ الٰہی کا حصول - عارفانہ کلام مجلس - اشاعت دوم