اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے۔ پیر کے دن ہمارے ہاں جو سوال کیے جاتے ہیں، ان کے جوابات دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور جو احوال بتائے جاتے ہیں ان کی بھی تحقیق بتانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سوال 1: ایک شخص نے ایک حدیث شریف بھیجی ہے۔ ارشادِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آخر زمانے میں کچھ لوگ ایسے نکلیں گے جو دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے، وہ لوگوں کو اپنی سادگی اور نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے (بھیڑ کی کھال جس طرح نرم و ملائم لباس)، ان کی زبانیں شکر سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی، جبکہ ان کے دل بھیڑیوں کے دل کی طرح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا مجھ پر جرأت کرتے ہیں، میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ ضرور ان پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا۔" (جامع ترمذی، حدیث نمبر: 2404)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت تشریح کیا ہو گی اس کی، کہ دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے؟ ہم تو دعا کرتے ہیں کہ دنیا بھی بہترین دے اور آخرت بھی، یعنی اس بارے میں سوال کیا ہے کہ اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ دین کو Show کر کے اس میں دنیا کے طالب ہوں گے، وہ اس سے مراد ہیں۔ بظاہر تو دین کا کام کر رہے ہوں گے، لیکن اس میں اصل میں ان کا مطلوب دنیا ہو گی، ان کے لیے یہ بات ہے۔ یہ نہیں کہ انسان دنیا کی جو ضروریات ہیں وہ طلب نہیں کر سکتا۔ آخر دنیا کی مثال کے طور پر، آپ کے پیٹ میں درد ہے تو اللہ تعالیٰ سے آپ دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ! میرے پیٹ کا درد ٹھیک ہو جائے۔ تو یہ آخرت کی بات ہے یا دنیا کی بات ہے؟ دنیا کی بات ہے۔ لیکن جائز ہے یا ناجائز ہے؟ جائز ہے۔ تو اس پہ تو ممانعت نہیں ہے۔ آخر دنیا بھی تو اللہ کی دی ہوئی ہے، ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [البقرة: 201]، یہ تو قرآنی دعا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ پاک سے دنیا کی چیز مانگنا کوئی بری بات نہیں ہے۔
دنیا کی اصل میں دو حیثیتیں ہیں، اس پہ لوگ confuse ہو جاتے ہیں۔ دنیا کی ایک حیثیت یہ ہے کہ یہ ہمارے لیے امتحان گاہ ہے۔ یہاں پر ہم لوگ آئے ہیں آخرت کو بنانے کے لیے، اور آخرت جو ہم بنائیں گے تو ظاہر ہے اس کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے؛ ایک زندگی کی اور ایک صحت کی۔ ان دو چیزوں کی ضرورت ہے، بغیر اس کے تو آخرت نہیں بنا سکتے۔ اگر بیمار ہو گئے تو پھر بھی ہم کام نہیں کر سکیں گے اور اگر دنیا سے چلے جائیں گے تو پھر تو اعمال نامہ ختم ہو جائے گا۔ تو اب اس کا مطلب یہ ہے کہ صحت بھی برقرار رکھنی ہے اور زندگی بھی برقرار رکھنی ہے۔ اپنی مرضی سے کوئی جا نہیں سکتا، جیسے اپنی مرضی سے کوئی آ نہیں سکتا اس طرح اپنی مرضی سے کوئی جا نہیں سکتا۔ تو جب یہ بات سامنے آ گئی، تو اس کا مطلب ہے کہ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اور صحت کو برقرار رکھنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے دنیا میں، وہ تو ذریعہ ہے آخرت کو کمانے کا۔ کیونکہ آخرت کو کمانے کے لیے بھی آپ کو اس کی ضرورت ہو گی۔
ہاں یہ بات ضرور ہے کہ حد سے نہ بڑھیں، جو حد اللہ نے مقرر کی ہے اس سے زیادہ نہ ہوں۔ ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾ [الأعراف: 31]، کھاؤ پیو مگر اس حد سے باہر نہ نکلو۔ مطلب یہ والی بات ہے۔ تو ہر چیز میں حد جو شریعت نے مقرر کی ہے اس پہ رہنا، یہ ضرورت ہے، اس کے بعد کی۔ اگر کوئی شخص حد میں رہتا ہے اور دنیا کو استعمال کرتا ہے اور گناہ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس کو استعمال کرتا ہے تو یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ پیغمبروں پر جو لوگوں نے اعتراض کیے تھے، ان میں سے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ یہ کیسے نبی ہیں کہ بازاروں میں پھرتے ہیں، کھاتے ہیں؟ تو اللہ پاک نے اس کا جواب دیا تھا۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ دین کو دنیا کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ دنیا کو دین کا ذریعہ بنائیں۔ اب مثال کے طور پر میں نماز پڑھتا ہوں، اب نماز میں اس لیے پڑھتا ہوں کہ میری exercise ہو جائے اور اس سے میری صحت اچھی ہو جائے۔ اب صحت بنانا ٹھیک ٹھاک کام ہے لیکن نماز اس کے لیے نہیں ہے۔ نماز میں کیا ہے؟ وہ تو صرف اللہ کے لیے ہے۔ ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ [الفاتحة: 5] ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، ﴿وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [الفاتحة: 5] اور تجھی سے مانگتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے کہ عبادت تو صرف اللہ کے لیے، اللہ کو راضی کرنے کے لیے کی جاتی ہے، دنیا کے لیے نہیں کی جاتی۔ لہٰذا عبادت میں دنیا کی نیت کرنا، اس کو دنیا بنانا ہے۔ ان چیزوں سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
سوال 2: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت جی میں جب مراقبہ سے پہلے ذکر کرتی ہوں ساڑھے چار ہزار، اور پھر 10 منٹ مراقبہ کرتی ہوں تو ذکر کرتے وقت خیالات پر قابو نہیں پاتی اور مسلسل مختلف خیالات آتے ہیں۔ جبکہ مراقبے کے وقت دھیان دل پر ہوتا ہے اور کبھی کبھی میں اپنے جسم کو بھی محسوس نہیں کرتی، بس دل کی دھڑکن محسوس کرتی ہوں اور باقی کچھ بھی محسوس نہیں کرتی، جیسے بالکل فنا ہو جاتی ہوں۔ اپنی برائیاں زیادہ نظر آنے لگی ہیں اور بہت پریشان رہتی ہوں کہ میں کتنی بری ہوں اور عجیب و غریب خیالات آتے ہیں جس کی وجہ سے بہت پریشان ہوتی ہوں۔ پھر معمولات بھی بہت مشکل سے کر پاتی ہوں، یہاں تک کہ پھر رات دیر تک اپنے معمولات جیسے تیسے پورے کر لیتی ہوں۔ ذکر بھی کم ہو جاتا ہے، درود شریف کی تعداد میں بھی کمی ہو جاتی ہے۔ کچھ دن ایسے رہتی ہوں پھر ٹھیک ہو جاتی ہوں، تب تو پھر ذکر بڑھا دیتی ہوں۔ پھر ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتی ہوں اور پھر depression ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے میرے روزانہ کے کاموں کا حرج ہوتا ہے، بہت مشکل سے اپنا کام پورا کر پاتی ہوں، کبھی کبھی رات کو پریشانی کی وجہ سے نیند بھی نہیں آتی۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: سبحان اللہ! یہ جو اصل میں آپ کو مراقبہ نصیب ہوا ہے، یہ بھی ذکر کی برکت سے ہوا ہے۔ اس وجہ سے ذکر میں آپ قصداً توجہ دوسری طرف نہ کریں۔ اگر خود بخود کوئی خیالات آنے لگیں، اس کے ساتھ الجھیں بھی نہیں، بس اس کو ignore کریں، اس کو ایسے سمجھیں جیسے پنکھے کا شور ہوتا ہے۔ تو پنکھے کے شور کی طرف کوئی توجہ کرتا ہے؟ اور شور تو ہوتا ہے اس سے تو انکار نہیں ہے۔ تو جس طرح پنکھے کے شور کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا، اس طرح آپ اپنے خیالات کی طرف بھی توجہ نہ کریں۔ اپنا ذکر کی طرف توجہ رکھیں اور پھر جو مراقبہ ہے اس میں آپ ماشاءاللہ کر لیں۔ مراقبہ ذرا بڑھا لیں اس کو 10 منٹ کی جگہ 15 منٹ کر لیں۔ اور بات یہ ہے کہ حالات اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں اور اسی میں انسان کا امتحان ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ اس کے بارے میں پریشان نہ ہوں، اگر آپ کو ماشاءاللہ دوبارہ اللہ پاک توفیق عطا فرمائے تو اس پہ اللہ کا شکر ادا کریں، اور اگر کسی وقت مشکل ہو جائے تو اس وقت ہمت کر لیا کریں۔
سوال 3: السلام علیکم! میں خیالات کے مزے میں مبتلا ہوتا ہوں، خیال ہی خیال میں حالات کے بدلنے کا سوچنا اور مزے لینا، گھنٹوں اس طرح ضائع کر دیتا ہوں، کیا کروں؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: جو چیز اختیاری ہو اس میں اختیار کو استعمال کرنا مطلوب ہے، اور جو چیز غیر اختیاری ہو، اس پہ پروا نہیں کرنی چاہیے۔ لہٰذا آپ چونکہ اس بات کا جو فرما رہے ہیں کہ اختیاری ہے، یعنی آپ خود اس میں مبتلا ہوتے ہیں، تو اپنے آپ کو نکال لیا کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ جس وقت آپ کو خیالات آنے لگیں تو اپنے آپ کو کسی مفید کام میں مشغول کر لیا کریں۔ جب بھی آپ کو خیالات کا ہجوم ہونے لگے تو اپنے آپ کو کسی مفید کام میں مشغول کر لیا کریں، کیونکہ اختیاری ہے اور اختیاری کو اختیار سے ہی بدلا جا سکتا ہے۔ جیسے ہی آپ کو یاد آ رہا ہے کہ بھئی یہ تو اس سے وقت ضائع ہوتا ہے، تو اپنے وقت کو ضائع نہ کریں، اختیاری طور پر اللہ پاک کا ذکر کریں۔ سب سے آسان کام جو انسان کر سکتا ہے اختیاری طور پر وہ ذکر اللہ ہے۔ اس میں نہ پیٹرول لگتا ہے، نہ پیسے لگتے ہیں، نہ کوئی اور مشکل ہے۔ لہٰذا آپ جیسے ہی سمجھنے لگتے ہیں کہ بھئی یہ تو خیالات شروع ہو گئے، آپ زبانی ذکر کرنا شروع کر لیں، ان شاء اللہ فائدہ ہو گا۔
سوال 4: السلام علیکم! کیا حال ہے حضرت؟ تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار سو سو دفعہ، لا الہ الا اللہ 200 مرتبہ، لا الہ الا ھو 400 مرتبہ، حق 600 مرتبہ، اللہ نو ہزار مرتبہ۔ مہینے سے زیادہ ہوا ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ماشاءاللہ، ماشاءاللہ! اللہ تعالیٰ مزید برکت عطا فرمائے۔ اب اللہ ساڑھے نو ہزار کر لیں اور باقی جو ہے نا یہی رکھیں ان شاء اللہ العزیز۔ اللہ تعالیٰ مزید توفیقات سے نوازے۔
Question 5: Sheikh Assalamualaikum, as per your instruction I was able to do the following hasanat, virtuous deeds in the last one month.
Number one: read two pages of Tafseer daily.
Number two: fast on Monday and Thursday.
Number three: share one to two Hadith Sharifah with others and teach some brothers and sisters recite Quran. I also started teaching Arabic alphabets. After doing the above I have almost same feeling for at least a month, that is I feel peaceful and confident and have more patience, especially have more concentration during prayers and feeling as if I have recently started to know how to pray. Besides, I feel myself as a person who knows nothing[Q&A Session, December 18, 2023, Session No: 652].
Answer: Subhan Allah, it's very good. You should continue this inshaAllah ul Aziz and especially ask help from Allah Subhanahu Wa Ta'ala in these things. And also pray for Palestinians, may Allah Subhanahu Wa Ta'ala grant them Fatah, and may Allah Subhanahu Wa Ta'ala crush Israelis who are doing zulm on them.
سوال 6: السلام علیکم! کچھ دن پہلے میرے ساتھ کچھ پیسوں کا بینک کا فراڈ ہوا تھا، جس کی وجہ سے پریشان تھا اور میسج میں بھی تاخیر ہو گئی ہے اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ آپ بھی دعا کیجئے اللہ پاک خیریت سے recovery کرا دے۔ باقی آپ نے جو عیوب کی لسٹ بنانے کے لیے کہا تھا وہ جو مجھے سمجھ میں آئی ہے، ایسے ہیں:
نمبر ایک: غصہ بلاوجہ آتا ہے۔
نمبر دو: mobile کا بے جا استعمال۔
نمبر تین: لوگوں سے بلاوجہ متاثر ہونا ان کی ظاہری حالت دیکھ کر۔
نمبر چار: خود اعتمادی کی کمی جس کی وجہ سے کبھی کوئی اچھا کام کرنے سے بھی ڈر لگتا ہے۔
نمبر پانچ: فجر کی نماز اکثر لیٹ ہو جاتی ہے۔
نمبر چھ: داڑھی بھی نہیں رکھی ہوئی۔ باقی آپ guide کر لیں۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: سبحان اللہ، ماشاءاللہ! اللہ جل شانہ آپ کے جو پیسوں کا مسئلہ ہوا ہے، اللہ پاک اس کو جلد از جلد recover کرا دے، امید ہے ان شاء اللہ recover ہو جائیں گے۔ ٹائم بعض دفعہ لگ جاتا ہے لیکن ہو جاتے ہیں۔ اور جو عیوب کی list آپ نے بتائی ہے تو اس میں سب سے پہلی بات ہے غصہ بلاوجہ آتا ہے۔ "آتا ہے" کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، کرنے کا مسئلہ ہے۔ آ جائے تو سوچیں کہ یہ کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے، اور کرنا چاہیے تو کتنا کرنا چاہیے، وہاں پر اپنے ذہن اور سوچ کو استعمال کرنا چاہیے۔ باقی خود بخود آ جائے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، ایسی چیزیں تو ہوتی رہتی ہیں۔
جہاں تک موبائل کا بے جا استعمال ہے، چونکہ اختیاری چیز ہے، لہٰذا اختیار سے اس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ آپ اس پر کنٹرول کرنا شروع کر لیں۔ لوگوں سے بلاوجہ متاثر ہونا، اس کے بارے میں بعد میں بات کروں گا، پہلے ان دونوں چیزوں کو آپ بہتر کر لیں ان شاء اللہ۔ یہ باقی پھر بعد میں بتاؤں گا، فی الحال ان دونوں پر کنٹرول کریں۔
Question: 7 Assalamualaikum Warahmatullahi Wabarakatuh Hazrat Saheb, hope you are well. I have compiled a few questions below and am eager for your response. Jazakallah khair and thanks in advance for your time and effort.
1۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود میں کوئی فرق نہیں ہے، البتہ مکتوبات میں مجدد صاحب واضح طور پر فرق فرماتے ہیں تو شاہ صاحب یہ دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟
جواب: اصل میں چیزوں کو جس angle سے دیکھنا ہوتا ہے نا، اس سے جواب الگ ہو سکتا ہے۔ یہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ خود فرماتے ہیں کہ معرفت جو ہوتی ہے یہ ایک نقطۂ نظر کی طرح ہوتی ہے۔ یعنی جس چیز کی طرف آپ کی نظر گئی ہے، تو آپ کو وہ چیز اس طرح نظر آئے گی۔ تو اس میں اس وجہ سے فرق ہو سکتا ہے۔ اب اس میں جو حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا نقطہ نظر تھا نا، وہ یہ تھا کہ لوگوں نے وحدت الوجود کو فلسفہ بنایا ہوا تھا، جبکہ یہ ایک حال ہے۔ تو چونکہ اس کو فلسفے کے طور پر نہیں لینا چاہیے تو حضرت نے شد و مد کے ساتھ اس کی مخالفت کی۔ کیونکہ اس وقت اس قسم کی چیزیں ہو رہی تھیں، ورنہ یہ کہ ہمارے پرانے بزرگوں میں اس نام کے ساتھ تو یہ چیز نہیں تھی لیکن یہ چیز موجود تھی۔ یعنی حضرت مجدد صاحب نے نئی چیز دریافت نہیں کی ہے، اس کو نیا نام دیا ہے، آپ کہہ سکتے ہیں سمجھانے کے لیے۔کیونکہ بعض دفعہ نیا نام دینا ضروری ہوتا ہے جیسے ہم نے بھی نیا نام دیا ہے، اللہ پاک معاف فرمائے، "سیر فی اللہ" کو ہم نے نام دیا ہے "طریقِ صحابہ"۔ تو یہ طریقِ صحابہ آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔ سیر الی اللہ سے مراد سلوک ہے۔ سلوک طے کرنے سے مراد یہ ہے کہ اپنے نفس کے خواہشات کو دبانا۔ یہ سلوک ہے۔ تو یہ جب ہو جائے، تو چونکہ یہی تو شرارت کرتا ہے، تو لہٰذا جب یہ دب جائے تو پھر آپ آزاد ہیں، جب آپ آزاد ہیں تو پھر کرنا کیا ہے؟ صحابہ کے طریقے پہ چلنا ہے۔ ﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [البقرة: 137]۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي)، "جس پر میں چلا ہوں اور جس پر میرے صحابہ چلے ہیں"۔
لہٰذا صحابہ کا طریق ہمارے لیے مطلوب ہے اور اس میں جو رکاوٹ ہے وہ نفس ہے۔ سو نفس کے اوپر پیر رکھ کر آپ نے صحابہ کے طریقے پر چلنا ہے تو یہ ہم نے اس کو طریقِ صحابہ بتایا۔ اب ممکن ہے کچھ ہمارے خلاف بھی بات کریں کہ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ تو کرنے دیں ہمارا نقطۂ نظر یہی ہے ہم نے اس نقطۂ نظر سے کیا ہے۔ اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو ہم اس کے ساتھ الجھیں گے نہیں۔
تو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس وجہ سے یہ چیز اس طرح discuss کی کیونکہ لوگ گمراہ ہو رہے تھے۔ جبکہ ہمارے پرانے بزرگوں میں یہ چیز موجود تھی، اس کا نام تھا "وحدت الوجود بالسکر" اور "وحدت الوجود بدون سکر"۔ یعنی سکر میں مدہوشی کی حالت ہوتی ہے، مدہوشی کی حالت میں وحدت الوجود اور ہوش کی حالت میں وحدت الوجود۔ تو ہوش کی حالت میں وحدت الوجود یہ ہوتا ہے کہ انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل کام تو اللہ پاک ہی کرتا ہے باقی چیزیں اس کے ذہن سے فنا ہو جاتی ہیں۔ تو اس کو ایک کام کرتا ہوا نظر آتا ہے اس کو تجلیاتِ افعالیہ بھی کہتے ہیں، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہوش میں انسان جب رہے گا تو وحدت الوجود ہی ہو گا یعنی ایک کام کرتا ہوا نظر آئے گا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو لہذا یہ وحدت الشہود ہوگیا جیسے ایک آپ کو نظر آرہا ہے۔ تو اس کا نام حضرت نے وحدت الشہود رکھا لیکن بہرحال یہ وہی وحدت الوجود ہی ہے جو کہ سکر کے بغیر ہے۔ لہٰذا شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حوالے سے بات کی ہے تو دونوں کی باتیں ٹھیک ہیں۔
میری سمجھ میں یہ تھا کہ وحدت الوجود کی ایک تفسیر ہے جو کفر ہے اور ایک تفسیر ہے جو صحیح ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: بھئی کفر والی بات فلسفے کی ہے نا۔ اگر آپ نے (نعوذ باللہ من ذالک) یہ کہا کہ واقعی اللہ کے علاوہ کوئی نہیں، تو یہ قرآن پھر کس پہ اترا ہے؟ عمل کا حکم کس کو ہے؟ ظاہر ہے کہ مخلوق کو اللہ پاک سے آپ جدا تو مانیں گے نا۔ اور دیکھو نا ﴿مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا﴾ [آل عمران: 191]، قرآن میں ہے ﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا﴾ [آل عمران: 191]، یہ صاف فرمایا گیا ہے۔ تو اب ظاہر ہے کہ اس کا انکار تو ہم نہیں کر سکتے۔ جو انکار کرے گا وہ تو کفر کی طرف جائے گا، قرآن کا انکار کرے گا۔
لیکن یہ والی بات ہے کہ اگر یہ فلسفہ نہیں حال ہے، تو حال پہ کوئی گرفت نہیں ہے کیونکہ اس میں انسان معذور ہوتا ہے۔ تو حال کی حالت میں ٹھیک ہے لیکن فلسفے کی حالت میں ٹھیک نہیں ہے، اس میں گمراہی ہے، زندیقی ہے، حضرت بھی فرماتے ہیں۔ حضرت مجدد صاحب فرماتے ہیں زندیقی ہے، اگر کوئی اس کو فلسفے کے طور پہ سمجھے گا۔ یعنی وجود کو ہم جو کہتے ہیں "فنا فی اللہ" تو فنا فی اللہ میں ہمارا وجود ختم نہیں ہوتا، وجود تو موجود ہوتا ہے، ہاں البتہ یہ کہ اس کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ ابھی دیکھو نا خاتون نے بتایا تھا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے جیسے میرا وجود بھی نہیں ہے۔ یہ تو آج کل کی بات ہے نا، دور کی بات تو نہیں ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے۔
اور مجدد صاحب پہلے اس کی صحیح سمجھ پر تھے، پھر توحید شہودی میں نہیں۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
بات وہی ہے جو میں نے ابھی عرض کی۔
توحید وجودی کہتے ہیں کہ مخلوق موجود نہیں صرف حق ہے، اور توحید شہودی کہتی ہے کہ مخلوق موجود ہے لیکن میری توجہ حق کی طرف ہے، لہٰذا یہ مختلف ہیں نہیں۔
جواب: بات یہ ہے کہ نقطہ نظر مختلف ہے، چیز مختلف نہیں ہے۔ میرا angle of vision جس کو ہم کہتے ہیں وہ مختلف ہے۔ تو مجدد صاحب خود فرماتے ہیں کہ مختلف ہو سکتا ہے۔ آپ کسی بھی چیز کو دیکھیں، وہ ہاتھی تھا نا ہاتھی۔ تو جو اندھے تھے نا تو کسی کا ہاتھی کے پیٹ پہ ہاتھ پڑا تو اس نے کہا ہاتھی flat چیز ہوتی ہے۔ کسی کا پیر پہ ہاتھ پڑ گیا تو اس نے کہا ہاتھی ستون کی طرح ہوتا ہے۔ کسی کا دانتوں پہ ہاتھ پڑ گیا، اس نے کہا یہ چھری کی طرح ہوتا ہے۔ اب ان کو جو محسوس ہوا، انہوں نے وہ بتا دیا، جھوٹے کوئی بھی نہیں تھے، لیکن احساس ان کو اس طرح ہو رہا تھا۔ لہٰذا اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔
میں نے ڈاکٹر اسرار صاحب کی وحدت الوجود کی وضاحت کرتے ہوئے سنا کہ دنیا الگ چیز۔۔۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ڈاکٹر اسرار صاحب ایک مقرر تھے، خطیب تھے اور scholar تھے۔ scholar میں ان کو کہہ سکتا ہوں، لیکن صوفی بھی نہیں تھے۔ وہ صوفی اپنے آپ کو خود بھی نہیں کہتے تھے۔ تصوف کے قائل ہیں، منکر نہیں ہیں، کیونکہ میں نے حضرت کی زیارت خود کی ہے، وہ تشریف لائے تھے مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں۔ لیکن وہ صوفی اپنے آپ کو کہتے بھی نہیں ہیں، اس تصوف سے گزرے ہی نہیں ہیں۔ جب گزرے نہیں ہیں تو ان کے خیالات اس کے بارے میں کیسے ہوں گے؟
یہ باتیں تو صوفیوں کے کرنی کی ہیں۔ بھئی جو ڈاکٹری کی بات ہو تو ڈاکٹر ہی جانے گا نا۔ اس میں انجینئر بات کر سکے گا؟ کیا میں انجینئر کو بیوقوف کہوں گا جو ڈاکٹری نہیں جانتا ہو گا؟ بھئی وہ ڈاکٹر ہے ہی نہیں، جب ڈاکٹر ہے نہیں تو بے وقوف بھی اس کو نہیں کہوں گا اگر وہ ڈاکٹری نہیں جانتا، ہاں البتہ میں اس کو ڈاکٹر نہیں کہوں گا۔ تو اس طرح ڈاکٹر اسرار خود تصوف سے گزرے نہیں، لہٰذا میرے خیال میں ان کی ان باتوں پر آپ کچھ بات نہ کریں۔ خواہ مخواہ ان بیچارے کو درمیان میں کیوں لاتے ہیں۔ اس کے لیے بزرگ موجود ہیں نا، اگر آپ نے بات سننی ہے تو اس میں آپ حضرت مجدد صاحب کی سنیں، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی سنیں، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی سنیں، جو تصوف سے گزرے ہیں۔ لہٰذا وہ جو بات کریں گے تو وہ ماشاءاللہ مستند بات ہو گی۔ باقی جو باتیں ہوں گی وہ ظاہر ہے ان کے اپنے خیالات ہوں گے۔ یہ معرفت کی بات نہیں ہو گی، وہ صرف ان کے خیالات کی بات ہو گی یا کسی اور کی معرفت کو وہ understand یا misunderstand کر رہے ہوں گے۔ لہٰذا ہم اس کے بارے میں ان پر کوئی گرفت بھی نہیں کرتے اور ان کی بات کو ہم اس مسئلے میں authentic بھی نہیں مانتے۔
سوال 8: نقشبندیہ مجددیہ میں ذکر خاموش ذکر ہے اور بلند آواز میں ذکر مکتوبات کے مطابق بدعت ہے۔ کیا تمام نقشبندیہ ذکر سے وہ ہیں؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: دیکھو نا، وہ ذکر جو علاجی ہے، اس پر تو کوئی پابندی نہیں ہے۔ جو علاجی ذکر ہے، کوئی زور سے کرے گا، کوئی خاموشی سے کرے گا، کوئی لطائف کا کرے گا، کوئی خیال سے کرے گا، مختلف طریقے ہیں ذکر کے۔ اس سے مقصود صرف دل کی صفائی ہے۔ باقی یہ ہے کہ اس سے خاص مقصود طریقہ نہیں ہوتا بلکہ مقصود۔۔۔بلکہ یہاں تک کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کسی کو جواب دے رہے تھے، تو فرمایا کہ وہ جو "لا الہ الا اللہ" کا ذکر کر رہے تھے، اس میں تجوید کے قواعد کا خیال نہیں رکھ رہے تھے۔ فرمایا کہ: اس میں تجوید مطلوب نہیں ہے، اس میں کیفیت مطلوب ہے۔ مطلب یہ تو کیفیت ہے، تو کیفیت کا خیال رکھنا چاہیے۔
تو بہرحال جب یہ ہے، تو ظاہر ہے کہ اس میں جو ذکر چاہے زبان سے ہو، چاہے دل سے ہو، چاہے لطائف سے ہو، چاہے خیالات سے ہو، چاہے سانس سے ہو۔ یہ ساری صورتیں ذکر کی ہیں اور اس کو بدعت نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ بدعت اس چیز کو کہتے ہیں جب وہ دین سمجھا جائے اور دین نہ ہو۔ کوئی چیز دین نہ ہو اور اس کو دین سمجھا جائے تو وہ بدعت کہلاتی ہے۔ اب اس کو تو دین نہیں سمجھا جاتا، اس کو دین پر آنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تو ذریعہ تو تبدیل ہو سکتا ہے نا، ذریعہ تو غیر منصوص بھی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
سوال 9: السلام علیکم حضرت! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میری ایک request ہے سر آپ سے، میری sister کا ہم نے رشتہ کیا تھا تقریباً 8 months ago۔ اس نے ہنسی خوشی قبول کر لیا لیکن اب وہ بالکل انکار کر گئی ہے کہ میں نے نہیں کرنا، ہم نے حساب کروایا…
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: یہ دیکھو، نہ میں عامل ہوں نہ میں عملیات جانتا ہوں، لہٰذا میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یعنی عملیات کے بارے میں نہ مجھ سے پوچھنا چاہیے اور نہ میری کسی بات پہ عمل کرنا چاہیے، کیونکہ میں عامل ہوں نہیں۔ جیسے میں ڈاکٹر نہیں ہوں، اس طرح عامل بھی نہیں ہوں۔ مجھ سے بعض خواتین telephone پہ بات کرتی ہیں کہ میرا فلاں نام ہے اور میری ماں کا نام فلاں ہے، میں کہتا ہوں نہ تمہارے نام کی ضرورت ہے نہ تمہاری ماں کے نام کی ضرورت ہے، کیونکہ میں ان چیزوں کو جانتا ہی نہیں ہوں۔ لہٰذا اس مسئلے میں اگر آپ کسی مستند اور صحیح عامل کے پاس جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔
میرے پاس آئیں گے تو میں عملیات کی باتیں نہیں بتاؤں گا، میں تو وہ بتاؤں گا جو صحابہ بتاتے رہے ہیں۔ میں صحابی نہیں ہوں لیکن صحابی کے پیچھے چل تو سکتا ہوں نا۔ تو عامل تو میں ہوں نہیں، عامل کے پیچھے میں چلتا نہیں ہوں، لیکن صحابہ کے پیچھے چلنے کا حکم ہے۔ عامل کے پیچھے چلنے کا حکم تو نہیں ہے نا۔ میں صھابہ کے پیچھے چلتا ہوں تو میرے پاس کوئی آئے گا تو میں صحابہ کا طریقہ بتاؤں گا اور وہ کیا ہے؟ تہجد کے وقت اللہ سے مانگنا۔ تہجد کے وقت اللہ تعالیٰ سے مانگنا۔ ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [غافر: 60] قرآن پاک میں صاف حکم ہے۔ اور اللہ پاک کی طرف سے باقاعدہ اعلان ہوتا ہے کہ ہے کوئی پریشانی میں مبتلا؟ تو آپ پریشانی میں مبتلا ہیں نا، تو اس وقت پھر آپ لبیک کہیں اور اللہ پاک سے مانگیں۔
یہ اصل میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے خیال میں یہ ہوتا ہے کہ عملیات تو certain ہوتے ہیں بس وہ یقیناً ہو جائیں گے، اور دعا کا پتا نہیں قبول ہو گی یا نہیں۔ تو کیا عملیات certain ہوتے ہیں؟ اس کا کیا پتا؟ اللہ چاہے گا تو ہو گا، اللہ نہیں چاہے گا تو نہیں ہو گا۔ دعا میں بھی یہی بات ہے اور دعا میں کوئی خطرہ بھی نہیں ہے، نہ آپ کے کوئی پیسے لگیں گے۔ تو دعا کریں، میں بھی دعا کرتا ہوں، اللہ جل شانہ آپ کے حالات کو آپ کے لیے بہتر بنا دے اور جو آپ کے حق میں بہتر ہو وہی اللہ تعالیٰ کر دے۔
سوال 10: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی!
احوال: حضرت جی معمولات الحمد للہ معمول کے مطابق ہو رہے ہیں۔ ذکر حضرت جی میرا ذکر ایک مہینے کے لیے 200 مرتبہ لا الہ الا اللہ، 400 مرتبہ لا الہ الا ھو، 600 مرتبہ حق اور 16 ہزار مرتبہ اللہ ہے۔ اللہ کے فضل اور آپ کی دعاؤں کی برکت سے مکمل ہو گیا حضرت جی۔ کیفیت میں کچھ خاص تبدیلی محسوس نہیں ہو رہی، دورانِ ذکر جہری خیالات کا غلبہ رہتا ہے۔ کوشش ہوتی ہے، تعوذ بھی پڑھتا ہوں لیکن پھر بھی خیالات غالب آ جاتے ہیں۔ نمازیوں کے جوتے سیدھے کرنے کا مجاہدہ بھی جاری ہے الحمد للہ۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: آپ بالکل جو خیالات آئیں ان کو دفع کرنے کی بھی کوشش نہ کریں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: وساوس جو آ رہے ہوں تو یہ بجلی کے تار کی طرح ہیں، اگر ان کو دور کرنے کی نیت سے بھی ہٹانے کی کوشش کرو گے تو پکڑیں گے۔ لہٰذا وساوس کی طرف توجہ نہ کریں، جو خود سے آئیں پروا نہ کریں، بس اپنے ذکر کی طرف متوجہ رہیں بس کافی ہے۔ اور اب جو ہے نا ساڑھے 16 ہزار مرتبہ کریں، باقی سب کچھ وہی۔
سوال 11: السلام علیکم! 100 دفعہ تیسرا کلمہ، 100 دفعہ درود شریف، 100 دفعہ استغفار تھا۔ اب میں نے آپ کو کال کی تھی confirm کرنا تھا کہ تسبیح بھول نہ جاؤں، آپ مجھے WhatsApp کر دیں پلیز، مجھے فون پر ٹھیک سنائی نہیں دیا آج۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ٹھیک ہے جی ماشاءاللہ! آپ اس طرح کر لیں کہ 100 دفعہ تیسرا کلمہ، 100 دفعہ درود شریف، 100 دفعہ استغفار، یہ تو عمر بھر کے لیے ہے۔ نماز کے بعد والا جو بتایا تھا وہ بھی عمر بھر کے لیے ہو گا۔ اور اس کے علاوہ 10 منٹ کے لیے آنکھیں بند کر کے زبان بند، قبلہ رخ بیٹھ کر آپ نے یہ تصور کرنا ہے کہ میرا دل اللہ اللہ کر رہا ہے۔ تصور خالص آپ نے کرنا ہے، آپ نے اس کو کروانا نہیں ہے کیونکہ دل کو کوئی کچھ نہیں کروا سکتا۔ لیکن جس وقت دل بولنا شروع کر دے (یعنی اللہ اللہ کرنا شروع کر دے) تو کم از کم آپ کو پتا چل جائے۔ تو پھر آپ اس کی طرف متوجہ رہیں، تو یہی آپ کا کام ہو گا۔ روزانہ 10 منٹ کوئی وقت مقرر کر کے آپ اس کو کریں۔ ایک مہینہ کریں، پھر ان شاء اللہ مجھے بتائیں گے، اور جب تک رابطہ نہ ہو تو جاری رکھیں۔