تمام انبیاء پر ایمان کی فرضیت اور کفر و ایمان کے درمیان کوئی تیسرا راستہ نہیں

درس نمبر 210، سورۃ النساء: آیات: 149 تا 152- اشاعتِ اول: 25 جون، 2022، بمطابق 25 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • نیک کاموں کو علانیہ یا خفیہ کرنے اور برائی کو معاف کرنے کی تلقین
  • مظلوم ہونے کے باوجود معاف کر دینے اور اچھی بات کہنے کا بڑا ثواب
  • اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنے والوں کی مذمت
  • کسی ایک نبی کا انکار درحقیقت تمام پیغمبروں کا انکار ہے
  • کفر اور ایمان کے درمیان بیچ کی کوئی راہ نکالنا ناممکن ہے
  • پیغمبروں کے درجات میں فرق کے باوجود ان سب کی نبوت پر ایمان لانے کی شرط

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

إِنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا ﴿149﴾ إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا ﴿150﴾ أُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُهِينًا ﴿151﴾ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ أُولَئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ﴿152﴾

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اگر تم کوئی نیک کام علانیہ کرو یا خفیہ طور پر کرو، یا کسی برائی کو معاف کردو، تو (بہتر ہے، کیونکہ) اللہ بہت معاف کرنے والا ہے (اگرچہ سزا دینے پر) پوری قدرت رکھتا ہے۔ ﴿149

حاشیہ: اشارہ یہ کیا جارہا ہے کہ اگرچہ مظلوم کو شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کی حد تک اس کی برائی کرے، لیکن اگر کوئی شخص مظلوم ہونے کے باوجود خفیہ اور علانیہ ہر حالت میں زبان سے ہمیشہ اچھی بات ہی نکالے، اور اپنا حق معاف کردے تو یہ اس کے لئے بڑے ثواب کا کام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ سزا پر قدرت رکھنے کے باوجود کثرت سے لوگوں کو معاف کر دیتا ہے۔

ترجمہ: جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے اور کہتے ہیں کہ کچھ (رسولوں) پر تو ہم ایمان لاتے ہیں اور کچھ کا انکار کرتے ہیں، اور (اس طرح) وہ چاہتے ہیں کہ (کفر اور ایمان کے درمیان) ایک بیچ کی راہ نکال لیں ﴿150﴾ ایسے لوگ صحیح معنی میں کافر ہیں، اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ﴿151﴾

اصل میں یہ بات، سمجھانے کے لیے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جس وقت انسان کسی بھی نبی کا انکار کرتا ہے، تو وہ تمام پیغمبروں کا انکار ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ source ایک ہی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم لوگ خود اپنے طور پر کچھ نہیں جانتے، جو اللہ پاک نے پیغمبروں کے ذریعے سے ہم تک پہنچایا ہے وہی ہے دین۔ تو اگر کسی بھی ایک پیغمبر کا انکار کر دے، تو اس نے اس راستے کا انکار کر دیا جو اللہ جل شانہ نے بنایا ہے۔

تو اللہ جل شانہ کے کسی بھی فعل کا انکار کرنا کہ یہ نہیں ہے، تو یہ اللہ جل شانہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ کیونکہ جو دوسرے نبی ہیں انہوں نے بھی بتایا ہے، مطلب یہ طریقہ بتایا ہے، تو ہر نبی نے چونکہ یہی طریقہ بتایا ہے، تو لہٰذا کسی بھی نبی کا انکار جو ہے وہ تمام پیغمبروں کا انکار ہو گیا، کیونکہ سب نے ایک ہی بات کی ہے اور اس نے اس کو وہ غلط قرار دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے کسی بھی نبی کا اگر کوئی انکار کر لیتا ہے، تو وہ سارے انبیاء کا انکار ہے، اور اللہ جل شانہ کے اوپر جھوٹ باندھنا ہے، تو اس صورت میں اس کے لیے کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

تو یہاں پر بھی مطلب جو فرمایا گیا ہے

ترجمہ: اس طرح وہ چاہتے ہیں کفر اور ایمان کے درمیان ایک بیچ کی راہ نکالیں﴿150﴾

اور ایسا ہو نہیں سکتا۔ اس وجہ سے یہ صورت بنتی ہے۔

ترجمہ: ایسے لوگ صحیح معنی میں کافر ہیں، اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ﴿151﴾ اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں، اور ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہ کریں، تو اللہ ایسے لوگوں کو ان کے اجر عطا کرے گا، اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿152﴾

یعنی جو ان کے درمیان پیغمبری کے لحاظ سے فرق نہیں کرے گا۔ درجے کے لحاظ سے تو اللہ پاک نے خود بھی ﴿تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ﴾ ہے، مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں میں آپس میں درجات کے لحاظ سے فرق تو ہے۔ وہ تو اللہ پاک نے خود بنایا ہے۔ لیکن پیغمبری کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں کرنا کہ مطلب ان کو پیغمبر مانے اس کو پیغمبر نہ مانے، یہ، یہ بات غلط ہے۔

تو ایسی صورت میں اگر کوئی کرتا ہے تو معافی کے قابل نہیں، اور اگر اس طرح کوئی نہیں کرتا، تو اللہ بہت معاف کرنے والا ہے بڑا مہربان ہے اور اس کا اجر بھی ان کو ملے گا۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو قرآن پاک کو صحیح طور پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔