اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
آج جمعرات ہے تو سیرت النبی ﷺ کی تعلیم ہوتی ہے۔ اور اس میں نماز کے بارے میں الحمدلله تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔
گزشتہ سے پیوستہ
عرب کی روحانی کایا پلٹ
وہ عرب جو خدا کی عبادت سے بیگانہ تھا، وہ جس کی پیشانی خدا کے سامنے کبھی جھکی نہ تھی، وہ جس کا دل خدا کی پرستش سے لذت آشنا نہ تھا، وہ جس کی زبان خدا کی تسبیح و تحمید کے ذائقہ سے واقف نہ تھی، وہ جس کی آنکھوں نے شب بیداری کا اضطراب انگیز منظر نہیں دیکھا تھا، وہ جس کی روح ربانی تسکین و تسلی کے احساس سے خالی تھی، محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے دفعتاً کیا ہو گیا؟ اب عبادتِ الٰہی اس کے ہر کام کا مقصد بن گئی۔ اب اس کو اپنے ہر کام میں اخلاص کے سوا اور کوئی چیز مطلوب نہ تھی۔ اس کی پیشانی خدا کے سامنے جھک کر پھر اٹھنا نہیں چاہتی تھی، اس کے دل کو اس لذت کے سوا دنیا کی کوئی لذت پسند نہیں آتی تھی۔ اس کی زبان کو اس مزہ کے سوا اور کوئی مزہ اچھا نہ معلوم ہوتا تھا۔ اس کی آنکھیں اس منظر کے سوا اور کسی منظر کی طالب نہ تھیں۔ اس کی روح یادِ الٰہی کی تڑپ اور ذکرِ الٰہی کی بے قراری کے سوا کسی اور چیز سے تسلی نہ پاتی تھی۔
دل را کہ مردہ بود حیاتِ نو رسید
تابوئے از نسیم میش در مشام رفت
وہ عرب جن کی حالت یہ تھی کہ﴿ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا ﴾ (سورۃ النساء: 142) "اور جو خدا کو بہت کم یاد کرتے ہیں"
دعوتِ حق اور فیضِ نبوت کے اثر وبرکت نے ان کی یہ شان نمایاں کی کہ دنیا کی کاروباری مشغولیتیں بھی ان کو ذکرِ الٰہی سے غافل نہ کرسکیں۔﴿ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللهِ ﴾ (سورۃ النور: 37)"ایسے لوگ جن کو کاروبار اور خرید و فروخت کا شغل خدا کی یاد سے غافل نہیں کرتا"
اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے غرض ہر حال میں ان کے اندر خدا کی یاد کے لئے بے قراری تھی﴿ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ ﴾ (سورۃ آل عمران: 191)
"جو خدا کو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے یاد کرتے ہیں۔"
راتوں کو جب غافل دنیا نیند کے خمار میں ہوتی وہ بستروں سے اٹھ کر خدا کے سامنے سربسجود اور راز و نیاز میں مصروف ہوتے تھے۔
﴿ تَتَجَافٰى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا ﴾ (سورۃ السجدہ: 16)"جن کے پہلو (رات کو) خواب گاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں، وہ خوف اور امید کے ساتھ اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں"۔
وہ جن کا یہ حال تھا کہ؛
﴿ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ ﴾ (سورۃ المرسلات: 48)
"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدا کے آگے جھکو تو نہیں جھکتے"
اب ان کی یہ صورت ہوگئی کہ﴿ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ﴾ (سورۃ الفتح: 29)
"تم ان کو دیکھو گے کہ رکوع میں جھکے ہوئے اور سجدہ میں پڑے ہوئے خدا کے فضل اور خوشنودی کو تلاش کرتے ہیں"
وہ جن کے دلوں کی یہ کیفیت تھی کہ
﴿ وَإِذَا ذُكِرَ اللهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ﴾ (سورۃ الزمر: 45)
"اور جب تنہا خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے مکدر ہو جاتے ہیں"۔
آفتابِ نبوت کے پرتو نے ان مکدر آیتوں میں خشیتِ الٰہی کا جوہر پیدا کر دیا۔
﴿ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ ﴾ (سورۃ الانفال: 2)
"وہ لوگ کہ جب خدا کا نام لیا جائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں"
یہ خود قرآن پاک کی شہادتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے عمل اور تعلیم نے عرب کی روحانی کائنات میں کتنا عظیم الشان انقلاب پیدا کر دیا تھا۔
وہ تمام لوگ جو حلقہ بگوشِ اسلام ہو چکے تھے خواہ وہ کھیتی کرتے ہوں یا تجارت یا محنت مزدوری مگر ان میں سے کوئی چیز ان کو خدا کی یاد سے غافل نہیں کرتی تھی۔ قتادہؒ کہتے ہیں کہ یہ لوگ (صحابہؓ) خرید و فروخت اور تجارت کرتے تھے لیکن جب خدا کا کوئی معاملہ پیش آتا تھا تو یہ شغل و عمل ان کو یادِ الٰہی سے غافل نہیں کرتا تھا بلکہ وہ اس کو پوری طرح ادا کرتے تھے۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ بازار میں تھے، نماز کی تکبیر ہوئی دیکھا کہ صحابہؓ نے فوراً دکانیں بند کر دیں اور مسجد میں داخل ہوگئے۔صحابہؓ تمام تر راتیں خدا کی یاد میں جاگ جاگ کر بسر کرتے تھے یہاں تک کہ مکہ معظمہ کی غیر مطمئن راتوں میں بھی وہ عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتے تھے۔ خدا نے گواہی دی۔﴿ إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنٰى مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ ﴾ (سورۃ المزمل: 20)
"بے شک تیرا رب جانتا ہے کہ تو دو تہائی رات کے قریب اور آدھی رات اور تہائی رات کے بعد اٹھتا ہے اور تیرے ساتھ ایک جماعت بھی اٹھ کر نماز پڑھتی ہے"
اس زمانہ میں صحابہؓ کو راتوں کے سوا خدا کے یاد کرنے کا موقع کہاں ملتا تھا۔ جلوۂ دیدار کے مشتاق دن بھر کے انتظار کے بعد رات کو کسی مخفی گوشہ میں جمع ہوتے تھے۔ ذوق و شوق سے اپنی پیشانی خدا کے سامنے زمین پر رکھ دیتے تھے۔ دیر تک سجدہ میں پڑے رہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس والہانہ اندازِ عبادت کو دیکھتے پھرتے تھے۔ قرآن پاک نے اس نظارہ کی کیفیت اپنے الفاظ میں اس طرح ادا کی ہے۔
﴿ وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ۞ الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ ۞ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ ﴾ (سورۃ الشعراء: 217-219)
"اور اس غالب رحم والے پر بھروسہ کر جو رات کو جب تو نماز کے لئے اٹھتا ہے اور سجدہ میں پڑے رہنے والوں کے درمیان آنا جانا تیرا دیکھتا ہے"
مدینہ منورہ میں آ کر سب سے پہلا فقرہ جو آپﷺ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا۔﴿ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ﴾ (ترمذی)
"اے لوگو! غریبوں کو کھانا کھلاؤ اور سلام کو پھیلاؤ اور نماز پڑھو جب لوگ سوتے ہوں"
بعض صحابہؓ نے اس حکم پر اس شدت سے عمل کیا کہ انہوں نے راتوں کا سونا چھوڑ دیا۔ آخر آنحضرت ﷺ کو ان لوگوں کو اعتدال اور میانہ روی کا حکم دینا پڑا۔ چنانچہ حضرت عثمان بن مظعونؓ رات بھر نماز میں مصروف رہتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ: "عثمان! تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی"۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ صحابہؓ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتے تھے اور بہت کم سوتے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے رات کے تین حصے کر دیئے تھے ایک میں خود نماز پڑھتے تھے دوسرے میں ان کی بیوی اور تیسرے میں ان کا غلام اور باری باری سے ایک دوسرے کو جگایا جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ساری رات نماز پڑھا کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوا تو ان کو جا کر نصیحت فرمائی۔ حضرت ابودرداءؓ صحابی کا بھی یہی حال تھا کہ وہ رات بھر نماز میں گزار دیتے تھے۔ حضرت سلمان فارسیؓ ان کے اسلامی بھائی تھے ایک شب وہ ان کے ہاں جاکر مہمان ہوئے۔ جب رات کو حضرت ابودرداءؓ عبادت کے لئے اٹھنے لگے تو حضرت سلمانؓ نے منع کیا۔ پچھلے پہر جب سناٹا چھایا ہوا تھا حضرت سلمانؓ نے ان کو جگایا کہ اب نماز کا وقت ہے۔ کوئی صحابی ایسا نہ تھا جس نے اسلام لانے کے بعد پھر ایک وقت کی بھی نماز عمداً قضا کی ہو یہاں تک کہ لڑائی اور خطرہ کی حالت میں بھی وہ اس فرض سے غافل نہیں رہتے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو آنحضرت ﷺ نے ایک پرخطر کام کے لئے کہیں بھیجا تھا۔ جب وہ منزل مقصود کے قریب پہنچے تو عصر کا وقت ہو چکا تھا۔ ان کو خوف تھا کہ اگر کہیں ٹھہر کر عصر پڑھنے کا اہتمام کیا جائے گا تو وقت نکل جائے گا اور اگر عصر میں تاخیر کی جائے تو حکمِ الٰہی کی تعمیل میں دیر ہو جائے گی اس مشکل کا حل انہوں نے اس طرح کیا کہ وہ اشاروں میں نماز پڑھتے جاتے اور چلتے جاتے تھے۔ سخت سے سخت مجبوری کی حالت میں بھی نماز ان سے ترک نہیں ہوتی تھی۔ چنانچہ بیماری کی حالت میں وہ دوسروں کا سہارا لے کر مسجد میں حاضر ہوتے تھے۔ پھر وہ جو خضوع و خشوع و محویت اور استغراق کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے اس کا نظارہ بڑا پر اثر ہوتا تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تو ان پر اس شدت سے رقت طاری ہوتی کہ کافر عورتوں اور بچوں تک پر بھی اس کا اثر ہوتا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نماز میں اس زور سے روتے تھے کہ ان کے رونے کی آواز پچھلی صف تک جاتی تھی حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ ایک رات تہجد کے لئے کھڑے ہوئے تو صرف ایک آیت کی تلاوت میں صبح کر دی۔ بار بار اس کو دہراتے تھے اور مزے لیتے تھے۔
ع:
شب شود صبح و ہماں محو تماشا باشم
حضرت انس رضی اللہ عنہ قیام اور سجدہ میں اتنی دیر لگاتے تھے کہ لوگ سمجھتے کہ کچھ بھول گئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جب نماز میں کھڑے ہوتے تھے تو کئی کئی سورتیں پڑھ ڈالتے تھے اور اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی ستون کھڑا ہے اور جب سجدہ میں جاتے تو اتنی دیر تک سجدہ کرتے تھے کہ حرم محترم کے کبوتر ایک سطح جامد سمجھ کر ان کی پیٹھ پر آ کر بیٹھ جاتے تھے۔
ایک رات میدانِ جنگ میں ایک پہاڑی پر دو صحابی رضی اللہ عنہما پہرہ دینے کے لئے متعین ہوتے ہیں۔ ایک صاحب سو جاتے ہیں اور دوسرے نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دشمن ان کو تاک کر تیر مارتا ہے جو بدن میں ترازو ہو جاتا کپڑے خون سے تر بتر ہو جاتے ہیں مگر نماز کا استغراق اسی طرح قائم رہتا ہے۔ نماز تمام کر کے اپنے رفیق کو بیدار کرتے اور واقعہ سناتے ہیں۔ ساتھی کہتے ہیں کہ تم نے اس وقت مجھے کیوں نہ جگایا۔ جواب ملتا ہے میں نے ایک پیاری سورہ شروع کی تھی پسند نہ آیا کہ اس کو ختم کئے بغیر نماز توڑ دوں۔
اس سے بھی زیادہ پر اثر منظر یہ ہے کہ دشمنوں کی فوجیں مقابل کھڑی ہیں تیروں کا مینہ برس رہا ہے نیزوں اور تلواروں کی بجلیاں ہر طرف کوند رہی ہیں، سر و گردن دست و بازو کٹ کٹ کر گر رہے ہیں کہ دفعتاً نماز کا وقت آ جاتا ہے فوراً جنگ کی صفیں نماز کی صفیں بن جاتی ہیں اور ایک اللہ اکبر کی آواز کے ساتھ موت و حیات سے بے پرواہ ہو کر گردنیں جھکنے اور اٹھنے لگتی ہیں۔
نور کا تڑکا ہے اسلام کے دائرہ کا مرکز فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ امامِ نماز ہے۔ پیچھے صحابہ کی صفیں قائم ہیں۔ دفعتاً ایک شقی خنجر بکف آگے بڑھتا ہے اور خلیفہ پر حملہ آور ہو کر شکمِ مبارک کو چاک چاک کر دیتا ہے۔ آپ غش کھا کر گر پڑتے ہیں خون کا فوارہ جاری ہو جاتا ہے یہ سب کچھ ہو رہا ہے مگر نماز کی صفیں اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کو آگے بڑھتے ہیں۔ پہلے صبح کا دوگانہ ادا ہوتا ہے تب خلیفہ وقت کو اٹھایا جاتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جس صبح کی نماز میں زخم لگا اس کے بعد کی صبح کو لوگوں نے ان کو نماز کے لئے جگایا تو بولے ہاں جو شخص نماز چھوڑ دے اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ چنانچہ اسی حالت میں کہ زخم سے خون جاری تھا آپ نے نماز پڑھی۔
حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لئے مسجد میں داخل ہوتے ہیں یا صبح کی نماز میں ہوتے ہیں کہ ابن ملجم کی تلوار ان کو گھائل کر دیتی ہے اور کچھ دیر کے بعد وہ داعیِ اجل کو لبیک کہتے ہیں۔ امام مظلوم حسین رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ کربلا کے میدان میں رونق افروز ہوتے ہیں۔ عزیزوں اور دوستوں کی لاشیں میدانِ جنگ میں نظر کے سامنے پڑی ہوتی ہیں ہزاروں اشقیاء آپ کو نرغہ میں لئے ہوتے ہیں اتنے میں ظہر کا وقت آ جاتا ہے۔ آپ دشمنوں سے اجازت چاہتے ہیں کہ وہ اتنا موقع دیں کہ آپ ظہر کی نماز ادا کر سکیں۔
نماز میں جس خضوع اور خشوع کا حکم ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے یہ نمونے پیش کئے کہ عزیز سے عزیز چیز بھی اگر ان کے اس روحانی ذوق و شوق میں خلل انداز ہوئی تو انہوں نے اس کو اس ذوق پر نثار کر دیا۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ انصاری اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے تھے ایک خوشنما چڑیا نے سامنے آ کر چہچہانا شروع کیا۔ حضرت ابوطلحہؓ دیر تک ادھر ادھر دیکھتے رہے پھر جب نماز کا خیال آیا تو رکعت یاد نہ رہی۔ دل میں کہا اس باغ نے یہ فتنہ برپا کیا۔ یہ کہہ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور واقعہ بیان کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ باغ راہِ خدا میں نذر ہے۔
اسی طرح ایک اور صحابی رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں نماز میں مشغول تھے۔ باغ اس وقت نہایت سرسبز و شاداب اور پھلوں سے لدا ہوا تھا، پھلوں کی طرف نظر اٹھ گئی تو نماز یاد نہ رہی۔ جب اس کا خیال آیا تو دل میں نادم ہوئے کہ دنیا کے مال و دولت نے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور تھا، ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یہ باغ جس نے مجھے فتنہ میں مبتلا کر دیا، راہِ خدا میں دیتا ہوں؛ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کو بیت المال کی طرف سے 50 ہزار میں فروخت کیا۔
تو یہ ہے نماز کا معاملہ جو صحابہ رضی اللہ اجمعین نماز کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ تو اس کا مطلب ہے نماز ہماری بہت بڑی دولت ہے، بہت بڑی دولت ہے۔ اور اس کو سیکھنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جس طریقے سے نماز میں اللہ جل شانہ کا تعلق حاصل ہوتا ہے، حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک بڑی عجیب بات فرمائی ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ: جن لوگوں کو سماع میں اور اس قسم کی دوسری چیزوں میں مزہ ملتا ہے۔ تو ان کے مزے سے انکار نہیں ہے لیکن جن کو نماز میں مزہ ملتا ہے، پھر ان کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جن کو نماز میں مزہ ملتا ہے یعنی نماز کے اندر گم ہو سکیں، پھر ان کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اور یہ بات بالکل صحیح ہے کہ نماز نماز ہے۔ تو نماز کو صحیح معنوں میں اس کو سمجھنا اور اس کے اوپر محنت کرنا اور اس کے اندر جو چیزیں اللہ نے داخل کی ہے، جو اس میں رکھی ہے ہمارے لیے، اس کو حاصل کرنا۔ یہ ہمارے لیے سب سے بڑا قیمتی سرمایہ ہے، اس کو حاصل کریں۔
اس وجہ سے اگر دیکھا جائے، تو قرآن کے اندر جب ایمان کا تعارف ہوا ہے، شاندار طریقے سے، "اَلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ"۔ تو اس میں دو باتوں کا، اعمال کے لحاظ سے ذکر ہے۔ باقی ایمان کا ہے اور یقین کا ہے۔ باقی ایمان و یقین ہے۔ تو جو اعمال کے لحاظ سے ذکر ہے، وہ کیا ہے؟ "وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ"۔ مطلب یہ ہے کہ ایک جلبی عبادت ہے اور دوسری سلبی عبادت ہے۔ جلبی عبادت اس طرح ہے کہ انسان نماز میں اللہ پاک کی طرف بڑھتا ہے اور سلبی یہ ہے کہ مال کی وجہ سے چونکہ رکاوٹ ہوتی ہے اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ تو یہ دو چیزیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر جو ہے نا رکھی ہیں۔ اور اس وجہ سے نماز اور زکوٰۃ کا ساتھ ساتھ حکم ہے، "أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ"، "أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ"، "أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ"۔ تو یہ دو چیزیں ہمیں بہت کچھ دے سکتی ہیں۔
تو بہرحال، حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے جس انداز میں نماز کا تعارف کیا ہے، واقعتاً اس کا حق ہے کہ اس کو پوری امت تک پہنچایا جائے۔ اور نماز کے ساتھ پوری امت کا ایک قلبی تعلق پیدا کیا جائے۔ اس وقت عادت کے طور پر تو الحمدللہ موجود ہے۔ لیکن عادت سے بڑھ کر قلب کی صورت بن جائے۔ مجھے کل ہی ایک صاحب نے بڑا اچھا Comment بھیجا ہے ایک بیان پر۔ اس میں انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ اجمعین جو ہوتے تھے، وہ جو کام قلب کے ہوتے تھے تو اس وقت ان کا نفس بھی متاثر ہوتا تھا اس سے، اور عقل بھی متاثر ہوتی تھی۔ اور جو عقل کا ہوتا تھا اس میں ان کا قلب بھی متاثر ہوتا تھا، اس کا نفس بھی متاثر ہوتا تھا۔ اور جو نفس کا ہوتا تھا اس سے قلب بھی متاثر ہوتا تھا، عقل بھی ہوتی تھی۔ تو وہ ساری چیزیں باہم مربوط تھیں۔ اس وقت ہم لوگوں نے علیحدہ علیحدہ کر دی ہیں۔ نفس پہ محنت ہے تو اس میں یہ چیزیں نہیں ہیں۔ اور اگر قلبی چیزیں ہیں تو اس میں پھر وہ چیزیں نہیں ہیں۔ ہم نے جدا جدا کر دیا، شیرازہ بندی ہو گئی۔ تو اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم دوبارہ پھر اس چیز پر آ جائیں۔ اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کے اندر رکھی ہیں ان کو سمجھیں بھی اور اس کے مطابق اعمال بھی کر لیں۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ