قرآن مجید: کلامِ الٰہی کی حقانیت اور انسانی کلام کی خامیاں

درس نمبر 192، سورۃ النساء: آیات: 80 تا 82- اشاعتِ اول: 7 جون، 2022، بمطابق 7 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• اطاعتِ رسول ﷺ اور منافقین کی درپردہ سازشیں۔

• انسانی کلام میں موجود خامیاں: جذبات، نفسانی خواہشات اور علم کی کمی۔

• اللہ تعالیٰ کا کلام ہر قسم کے عیب، نقص اور تضاد سے مکمل طور پر پاک ہونا۔

• سابقہ آسمانی کتب (جیسے بائبل اور تورات) میں انسانی خواہشات کے مطابق تحریفات اور ان کے نتائج۔

• مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی شہرہ آفاق کتاب "اظہار الحق" (بائبل سے قرآن تک) کا حوالہ۔

• قرآن مجید میں ناسخ و منسوخ کا تصور: یہ کوئی تضاد نہیں بلکہ امت کی درجہ بدرجہ (Step by step) تربیت کا الٰہی نظام ہے۔

• کلامِ الٰہی کی فصاحت و بلاغت کے سامنے عربوں کی عاجزی اور بے بسی۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا (80) وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآىٕفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا(81) اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا (82)


جو رسول کی اطاعت کرے، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جو (اطاعت سے) منہ پھیر لے تو (اے پیغمبر!) ہم نے تمہیں ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا (کہ تمہیں ان کے عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے) ﴿80﴾ اور یہ (منافق لوگ سامنے تو) اطاعت کا نام لیتے ہیں، مگر یہ تمہارے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کے وقت تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے، اور یہ رات کے وقت جو مشورے کرتے ہیں، اللہ وہ سب لکھ رہا ہے۔ لہٰذا تم ان کی پروا مت کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اور اللہ تمہاری حمایت کے لئے بالکل کافی ہے ﴿81﴾ کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بکثرت اختلافات پاتے۔ ﴿82﴾


یہاں پر قرآن پاک کی ایک خاص صفت کا ذکر ہو رہا ہے۔ اصل میں بندے کی بات اور اللہ کی بات میں بہت زیادہ فرق ہے۔ بندے کے ساتھ نفس بھی ہے، جذبات بھی ہیں، اور عقل کی کمی بیشی بھی ہوتی ہے۔ جبکہ اللہ پاک تو ساری چیزوں کا مالک ہے۔ وہ تو مطلب ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تو ساری چیزیں کمال کی ہیں۔ کوئی عیب نہیں پایا جاتا، "سبحان" ہے۔ تو ایسی صورت میں اللہ کا جو کلام ہوگا اس میں بھی کوئی عیب نہیں پایا جائے گا۔ وہ بھی ان تمام چیزوں سے پاک ہوگا۔


اب انسان جس وقت بولتا ہے، تو بعض دفعہ جذبات میں آکر ایک رخ پکڑ لیتا ہے اور بس اسی کو بیان کرتا رہتا ہے۔ اب جیسے ابھی یہ والا واقعہ ہے، تو اس میں بھی اگر کوئی جذباتی بن جائے تو بس اس کو لے کے پتہ نہیں کہاں سے کہاں لے جائے گا، اور دوسری صورت کو نہیں دیکھے گا کہ اس میں کیا کیا ہوتی ہیں باتیں۔ وہ سب چیزیں ویسے اس طرح ہوں گی۔ تو مطلب یہ ہے کہ انسان جذبات میں بھول جاتا ہے دوسرا رخ۔ اور اللہ پاک تو ظاہر ہے جذبات میں نہیں ہے۔ وہ تو ہر چیز اپنے ارادے سے کرتے ہیں۔


دوسری بات یہ ہے کہ نفس بھی ہوتا ہے۔ مثلاً کسی کے ساتھ حسد ہے یا کوئی اور بات ہے تو وہ معاملے کا رنگ اور دے گا ہر چیز کو۔ تو وہ بھی کوئی بھی کتاب لکھتا ہے تو اس میں پھر اس قسم کی اوپر نیچے بات آ جاتی ہے۔ اور عقل والی بات کہ اس میں بعض دفعہ کوئی بات معلوم نہیں ہوتی، بعض دفعہ کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی ہوتی۔ تو اس وجہ سے غلطیوں کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے، یا پھر اختلاف کا امکان ہوتا ہے۔ مثلاً ایک جگہ کو سمجھا نہیں، وہاں پر ایک بات کی بجائے دوسری بات کی، تو اس میں جو ہے نا اختلاف آ جاتا ہے۔

یوں تو انسان کی کوئی کاوش کمزوریوں سے پاک نہیں ہوتی، لہٰذا انسان کی کتابوں میں تضاد اور اختلافات پائے جاتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص اپنی کسی کتاب کے بارے میں یہ جھوٹا دعویٰ کرے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے تو اس میں یقیناً تضادات اور اختلافات ہوں گے۔ جن لوگوں نے پچھلے انبیائے کرام کی کتابوں میں تحریفات کی ہیں، ان کی وجہ سے ان کتابوں میں جو تضادات پیدا ہوئے ہیں، وہ اس بات کی واضح دلیل ہیں۔ ان کی تفصیل دیکھنی ہو تو حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی کتاب ’’اظہار الحق‘‘ کا مطالعہ کیا جائے۔ اس کا اُردو ترجمہ ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔


مطلب یہ ہے کہ اس میں وہ تمام باتیں bible کے بارے میں یا تورات کے بارے میں جو تحریفات ہوئی ہیں۔ تو تحریفات تو لوگوں کی اپنی مرضی کے مطابق ہوتی ہیں، اور مرضی انسان کی ہوتی ہے، انسان کی مرضی میں علم کامل نہیں ہوتا۔ اس میں یہ مسائل ہوتے ہیں کہ وقتی چیز کو لیتے ہیں کہ مجھے اس چیز میں فائدہ ہے تو وہ بتا دیتے ہیں۔ اور دوسرے کو دوسرے وقت میں دوسری چیز میں فائدہ ہے تو اس کو دوسرا رنگ دیتا ہے۔ تو لہٰذا وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے، مطلب ایک ٹکڑا ایک بتا رہا ہے، دوسرا ٹکڑا دوسرا بتا رہا ہے۔ تو اس سے پھر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تو یہ جو ہے، مطلب یہاں پر یہ بات ہے کہ یہاں پر اللہ کا کلام چونکہ پورے کا پورا اترا ہے، کسی اور کا اس میں کوئی ذرہ برابر بھی دخل نہیں ہے اور نہ دخل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اللہ پاک کی کتاب میں کوئی تضاد، کوئی اختلاف یا کوئی اس قسم کی بات نہیں آتی۔


البتہ اس میں ایک بات ہے جس کی ظاہر ہے یعنی باقاعدہ تشریحات میں اس کا ذکر کیا جاتا ہے، ناسخ و منسوخ کی بات۔ تو ناسخ و منسوخ میں اس کو دیکھا جاتا ہے کہ پہلے کیا تھا، اب کیا ہے۔ اور حکم کیا ہے، اس وقت کیا حکم تھا۔ تو وہ ساری باتیں سامنے آتی ہیں تو اس سے پھر ان کا ریکارڈ معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک بات اللہ تعالیٰ نے جیسے امت کی تربیت فرمانی تھی۔ تو امت کی is a whole تربیت ہوتی ہے تو اس میں یہ ہے کہ ایک چیز جیسے شراب کا حکم ہے تو پہلے فرمایا کہ: {لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَىٰ} نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم نشے میں ہو۔ اس وقت یہی بات ان کے لیے کافی تھی۔ پھر اس کے بعد اور بات آئی، پھر اس کے بعد آخری مرتبہ میں اللہ پاک نے شراب کے بارے میں فرمایا کہ حرام ہے اور نجس ہے۔ تو یہ مطلب امت کی تربیت کے لیے step by step والی بات ہے۔ یہ نہیں کہ، گویا کہ کہ پہلے یہ کہا گیا، بعد میں دوسرا کہا گیا، وہ صرف step by step والی بات ہوتی ہے۔


بہرحال یہ ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو حفاظت میں رکھے۔ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اور اللہ کے کلام کی بات اور ہوتی ہے۔ اور اسی وجہ سے جو عرب تھے، وہ اس بات سے عاجز آ گئے تھے کہ اس کی طرح کوئی مثال بنا کر پیش کر لیں۔ کوئی سورت، وہ نہیں کر پا رہے تھے۔ چونکہ جانتے تھے اپنی باتوں کی کمزوریوں کو۔ تو لہٰذا نہیں کر سکے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد ِللہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔



قرآن مجید: کلامِ الٰہی کی حقانیت اور انسانی کلام کی خامیاں - درسِ قرآن - دوسرا دور