نیکی کے راستوں کی کثرت اور ایمان کی اہمیت

بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 175، اشاعتِ اول: 12 جنوری، 2023 بمطابق 19 جمادی الثانی 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث: جس حالت پر موت، اسی پر اٹھایا جانا
  • اعمال کا دارومدار خاتمے پر: (إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ)
  • نیک کاموں میں مسلسل مشغول رہنے کی ترغیب
  • برے اعمال اور نافرمانی کا بھیانک انجام
  • بڑھاپے اور بیماری میں گناہوں سے بچنے کی خاص تاکید
  • حسنِ خاتمہ کے لیے فکر اور دعا کی اہمیت

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

آدمی جس حالت میں مرتا ہے، اسی حالت میں اٹھایا جائے گا۔

(116) اَلْخَامِسُ: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلٰى مَا مَاتَ عَلَيْهِ“ (رواه مسلم)

ترجمہ: ”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس حالت پر کوئی آدمی فوت ہوا اسی حالت پر اٹھایا جائے گا۔“

حاشیہ: اسی کے ہم معنی یہ حدیث ”إِنَّمَا الاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ“ بھی ہے مفہوم یہ ہے کہ ان احادیث میں ترغیب دی جارہی ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ نیک کاموں میں لگا رہے، اگر اسی میں موت آئی تو نیک لوگوں کے ساتھ ہی ان کا حشر ہوگا، اس کے برعکس اگر وہ برے کاموں میں مشغول رہے تو اسی میں موت آئے گی اور ان ہی لوگوں کے ساتھ اس کا حشر ہوگا۔ خاص کر کے بڑھاپے اور مرض میں نافرمانی سے زیادہ بچنا چاہئے کہ موت کا پتہ نہیں کہ کس وقت موت آجائے ہو رہی ہے عمر مثلِ برف کم چپکے چپکے رفتہ رفتہ دم بدم

مصنف رحمہ اللہ نے اس باب کو یعنی باب ”الحثّ علی الازدیاد من الخیر فی اواخر العمر“ کو ”یبعث کل عبدٍ علی ما مات علیہ“ والی حدیث پر ختم فرمایا۔ اس سے یہ ترغیب دینی مقصود ہے کہ اگر یہ آخری حدیث کو سامنے رکھا جائے تو آدمی کا حسنِ خاتمہ ہونا آسان ہوجائے گا۔ ”نسئال اللّٰه تعالیٰ ان یرزقنا حسن الخاتمۃ“ تخریج حدیث: صحیح مسلم، کتاب الجنۃ، (باب اثبات الحساب)، و ابن ماجۃ.

آمِين۔

صحیح، صحیح مسلم، كِتَابُ الْجَنَّةِ، بَابُ إِثْبَاتِ الْحِسَابِ، وَابْنُ مَاجَهْ۔ صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ۔