ماہِ صفر کی شرعی حیثیت، توہمات کی تردید اور توکل کی فضیلت
اشاعت اول: اتوار، 20 ستمبر، 2020 بمطابق 2 صفر 1442 ھ
- ماہِ صفر کے متعلق غلط فہمیوں اور توہمات کی تردید
- بیماریاں، وبا (کرونا) اور اسباب کے مقابلے میں توکل کی حقیقت
- علمِ نجوم، زائچے اور ستاروں کی تاثیر پر یقین کا اسلامی نقطہ نظر
- دجالی نظام، جدید ٹیکنالوجی کے فتنے اور اہلِ حق کی صحبت کی اہمیت
- بچوں کی اسلامی تربیت، مادری زبان کی اہمیت اور مغربی کلچر سے بچاؤ
- خواتین کی بیعت کے کلمات، روزمرہ کے وظائف اور اجتماعی دعا
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
قَالُوا طَائِرُكُم مَّعَكُمْ أَئِن ذُكِّرْتُم بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ۔
حَانَ شَهْرُ صَفَرَ يَتَشَاءَمُ بِهِ بَعْضُ النَّاسِ وَيَتَطَيَّرُ۔ كَمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ مَعَ هَذَا الِاعْتِقَادِ يَبْتَدِئُونَ فِيهِ النَّسِيءَ النُّکَرَ۔ فَأَبْطَلَهُ اللهُ تَعَالَى بِقَوْلِهِ إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ وَكَذَلِكَ نَفَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّؤْمَ وَالطِّيَرَةَ بِهِ خُصُوصًا وَبِكُلِّ شَيْءٍ عُمُومًا۔ وَصَحَّ بِهَذَا النَّفْيِ أَنَّ هُمُومًا وَغُمُومًا فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ يَتَشَاءَمُونَ بِدُخُولِ صَفَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَفَرَ۔ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ قَالَهَا ثَلَاثًا۔ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ مَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ۔ وَعُلِمَ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ وَسْوَسَةَ الطِّيَرَةِ إِذَا لَمْ يَعْتَقِدْهَا بِالْقَلْبِ وَلَمْ يَعْمَلْ بِمُقْتَضَاهَا بِالْجَوَارِحِ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ بِهَا بِاللِّسَانِ لَا يُؤَاخَذُ عَلَيْهَا وَهَذَا هُوَ الْمُرَادُ بِالتَّوَكُّلِ۔
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات۔ صفر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ لیکن صفر کے معاملے میں بہت ساری باتیں لوگوں میں مشہور ہیں۔ جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بعض باتیں چونکہ بعد میں شروع ہو چکی ہوتی ہیں لہٰذا ان کا جواب دینا ذرا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کو دلائل سے سمجھانا ہوتا ہے۔ لیکن یہ جو صفر کا مہینہ ہے چونکہ یہ پہلے بھی آتا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی صفر کا مہینہ آیا ہوا ہے۔ اور صحابہ کرام کا پورا دور۔ اور جتنے بھی اہل اللہ گزرے ہیں۔ ایسے وقتوں میں کیا ہوا تھا؟ تو جو ہوا تھا وہی ہم دیکھیں گے۔ وہی ہمارے لیے معیار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا۔ گزشتہ امتوں میں، یہود میں اکہتر فرقے بن گئے تھے۔ نصاریٰ میں بہتر بن گئے تھے۔ اور میری امت میں عنقریب تہتر بن جائیں گے لیکن ایک حق پر ہوگا۔ تو صحابہ کرام نے پوچھا کہ وہ کون ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي"۔ "جس پر میں ہوں جس پر میرے صحابہ ہیں"۔ اس کا مطلب ہے ہمارے پاس حق کا جو معیار ہے وہ کیا ہے؟ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اگر وہ کام ہو چکا ہو تو کیسے ہوا؟ کیونکہ احادیث شریفہ تین قسم کے ہیں۔ قولی، فعلی اور تقریری۔ قولی احادیث شریف وہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کے بارے میں فرمایا کہ یہ چیز ایسی ہے۔ یا یہ چیز ایسی نہیں ہے۔ یا اس طرح کرنا ہے اس طرح نہیں کرنا۔ یہ قولی ہے۔ یہ تو بالکل واضح ہوتا ہے۔ دوسری طرف کچھ کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے ہیں اور کچھ نہیں کیے ہیں۔ تو جو کیے ہیں وہ بھی سنت ہے اور جو نہیں کیے وہ بھی سنت ہے۔
اس طریقے سے۔ صحابہ کرام نے کچھ کام کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ان کو، کرنے دیا، روکا نہیں۔ یہ بھی سنت ہو گیا۔ اور صحابہ کرام نے کوئی کام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لیا، روک دیا۔ یہ بھی سنت ہو گیا۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کو ہونے دیا، کس چیز کو نہیں ہونے دیا۔ تو اس سے حکم کا پتہ چل جاتا ہے۔ کہ یہ کام کرنا چاہیے نہیں کرنا چاہیے، ایسا ماننا چاہیے ایسا نہیں ماننا چاہیے۔
تو صفر کا مہینہ بھی چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں آیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ صحابہ کرام نے پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لَا صَفَرَ"، (صفر میں کچھ بھی نہیں)۔ یعنی یہ بھی ایک عام مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے۔ اگر کوئی اچھا کام کرے گا تو اس کو اچھا فائدہ ہوگا۔ اگر کوئی برا کام کرے گا تو اس کو نقصان ہوگا۔ خیر و شر اعمال کی بنیاد پر ہے۔ وہ اس مہینے میں بھی ہے باقی مہینوں میں بھی ہے۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ بعض مہینوں میں بعض اعمال کی value بڑھ جاتی ہے مثلاً رمضان شریف کا مہینہ۔ یا حج کے موقع پر۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک علیحدہ خصوصی بات ہے ضرور۔ لیکن اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جس کی وجہ ہم کوئی بڑھوتری بھی دیکھ لیں کہ مطلب کوئی عمل بڑھ گیا ہے اور یا کم ہونے کا بھی دیکھ لیں کہ اس سے کوئی عمل کم ہو گیا ہے۔ نہیں، بس عام مہینہ ہے۔ جیسے جمعہ کا دن خاص دن ہے اور باقی دن عام دن ہیں۔ تو جمعہ کے دن ہرعمل کی قیمت اس کے لحاظ سے ہوتی ہے اور باقی دنوں میں اپنے لحاظ سے ہوتی ہے۔ تو اسی طریقے سے صفر کا مہینہ ایک عام مہینہ ہے۔ اس کے اندر کوئی بات نہیں۔ ایک یہ بات ہو گئی۔
دوسری بات؛ سوء ظن کے لیے دلیل چاہیے؟ حسن ظن کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کسی کے ساتھ اچھا گمان رکھتے ہیں تو اس کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں، وہ آپ کا بس اچھا گمان ہے وہ کافی ہے بہت اچھی بات ہے۔ لیکن اگر آپ کسی کے ساتھ بدگمانی کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے دلیل چاہیے۔ آپ کے پاس ثبوت ہونا چاہیے۔ تو یہاں پر بھی اس مہینے میں ہمارے پاس بدگمانی کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ کوئی دلیل نہیں ہے کہ ہم اس کے اوپر بدگمانی کر لیں کہ یہاں پر کوئی مسئلہ ہے۔
عموماً عام لوگوں نے اس کے ساتھ بہت ساری باتیں باندھ دیں۔ کچھ لوگ اس میں کہتے ہیں کہ اس میں بلائیں اترتی ہیں۔ ان بلاؤں کے لیے باقاعدہ انہوں نے وظیفے بنائے ہوئے ہیں۔ یہ اصل میں دکانداری کی باتیں ہیں۔ جنہوں نے اپنی دکانیں سجانی ہوتی ہیں ان کے لیے کوئی نہ کوئی طریقہ چاہیے ہوتا ہے۔ تو پہلے ڈراتے ہیں۔ پھر اپنا مال بیچتے ہیں۔ تو یہاں پر ڈرانے والی چیز ہی نہیں ہے۔ تو مال بیچنے والی بات کیسے ہوگی؟
دیکھیں کسی بھی برائی کے پھیلنے میں سب سے بڑا کردار اس کا ہوتا ہے کہ آپ اس کو تقدس کا رنگ دے دیں۔ جب آپ تقدس کا رنگ دے دیں گے تو لوگ اس کو ماننے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ مثلاً اگر کوئی آدمی کہتا ہے صفر کا مہینہ بڑا منحوس ہے، اس میں روزانہ ایک سو اکتالیس مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔ اب سورۃ فاتحہ تو مبارک ہے۔ مقدس ہے۔ لہٰذا لوگ کہیں گے ہاں یہ بات صحیح ہے۔ ایک سو اکتالیس مرتبہ سورۃ فاتحہ۔ بھئی ضرور پڑھو لیکن اس نیت سے نہ پڑھو کہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، یہ نہیں ہے، یہ بات اس میں غلط ہے۔ سورۃ فاتحہ مبارک ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہے۔ اس بات کو ذرا اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔
تو لوگوں نے وظیفے اس طرح بنائے ہوتے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ تو واقعی صحیح بات ہوگی یہ تو قرآن ہے نا۔ قرآن پڑھنا ہے نا کوئی، بھئی قرآن پڑھنا ہے لیکن -نعوذ باللہ من ذالک- ٹوائلٹ میں پڑھ سکتے ہو؟ ٹوائلٹ میں پڑھنا تو جائز نہیں ہے نا۔ اسی طریقے سے غلط عقیدے کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں۔ غلط اصول کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں۔ مثلاً کوئی اس کے ساتھ میوزک بجانا شروع کر لے۔ تو جائز نہیں ہوگا۔ مطلب قرآن تو اپنی جگہ پہ صحیح ہے لیکن میوزک صحیح نہیں ہے۔ آپ دو من دودھ میں ایک چمچ پیشاب ڈال لو، کوئی پینے کے لیے تیار ہوگا؟ جس کو پتہ ہوگا۔اسی طریقے سے ہمیں یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ جو چیز ثابت نہ ہو، تو ظاہر ہے اس کے بارے میں بغیر تحقیق کے ہمیں عمل نہیں کرنا چاہیے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر کوئی بات کسی کو پتہ چل جائے اور وہ بغیر تحقیق کے اس کو آگے بڑھائے۔ تو یہ جھوٹ میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ جھوٹ میں شامل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا یہ جو اکثر لوگ کرتے ہیں کہ بس کسی طریقے سے سوشل میڈیا پر کوئی کلپ آگیا اور اس نے آگے جا کے بڑھا دیا۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہیں نہیں فرق پڑتا ہے، آپ کو پہلے تحقیق کرنا ہوگی۔ پھر اس کے بعد آپ اس کو آگے بڑھائیں اگر بڑھانے کے قابل ہو تو۔
تو صفر کا مہینہ بھی الحمد للہ عام مہینہ ہے۔ اس میں کوئی نحوست نہیں ہے۔ اورہمیں اپنے عام طریقے سے جو اعمال کرنے ہیں وہ کرنے چاہیے۔ اس کے ساتھ کوئی خصوصیت بھی نہیں ہے، نہ کوئی بات ہے بعض لوگوں نے اس میں نحوست کا پہلو یہ نکالا ہے کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تھے۔ بھئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ربیع الاول میں فوت ہوئے ہیں۔ تو فوت ہونا زیادہ مسئلہ ہے یا بیمار ہونا زیادہ مسئلہ ہے؟ پھر ربیع الاول میں کیوں جلوس نکالتے ہو؟ بات سمجھ آ رہی ہے نا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ربیع الاول میں فوت ہوئے ہیں۔ دنیا سے تشریف لے گئے۔ تو کیا مطلب ہے ۔۔۔ یہ غلط بات ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي" کو دیکھنا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہمیں فرمایا ہے کہ" جس پر میں چلا ہوں، جس پر میرے صحابہ چلے ہیں"۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے تم زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق نہیں ہو۔ عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق نہیں ہو۔ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ، علی رضی اللہ تعالی عنہ سے تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ عاشق نہیں ہو۔ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو تم کیسے کرتے ہو؟ یہ اصل میں بنیادی بات ہے۔ ہمیں اپنے آپ میں رہنا چاہیے، جتنے ہم ہیں اتنے ہی رکھنا چاہیے ہمیں اپنے آپ کو۔ اس سے زیادہ نہیں اپنے آپ کو بڑھانا چاہیے۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت کا طریقہ یہ ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کر لیں؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس سے خوش ہوتے ہیں۔ جو زیادہ درود شریف پڑھتا ہے اس سے خوش ہوتے ہیں۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ پیروی کرتا ہے اس سے خوش ہوتے ہیں۔ باقی چیزیں لوگوں نے حلوہ مانڈے کے لیے نکالی ہوئی ہیں۔ کوئی نہ کوئی بہانہ چاہیے ان کو۔ تاکہ لوگ جو ہے نا بس کچھ خیر خیرات کر لیں اور ہم تک پہنچ جائیں۔ تو اس قسم کی باتیں لوگوں نے نکالی ہوئی ہیں۔اصل بات یہی ہے کہ ہم کسی کو روکتے نہیں کہ کھانا نہ کھلائیں۔
یہ تو باقاعدہ حدیث شریف ہے۔ سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور صلہ رحمی کرو، اور نمازِ تہجد پڑھو۔ اور جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ حدیث شریف ہے۔ لیکن کھانا کھلانے کی نیت کونسی ہے؟ کھانا کھلانے کی نیت خیر خواہی ہے۔ ایک مسلمان کے ساتھ خیر خواہی ہے۔ یہ بات کافی ہے۔ اس سے زیادہ نہیں کہ -نعوذ باللہ من ذالک- میں کھانا اس لیے کھلاتا ہوں کہ اس سے بلائیں ہماری ختم ہو جائیں کیونکہ صفر کا مہینہ منحوس ہے۔ ویسے صدقہ کر لو، اس میں کوئی شک نہیں۔ صدقہ سے ماشاء اللہ بلائیں دور ہوتی ہیں۔ لیکن یہ نیت کرنا کہ صفر میں بلائیں ہوتی ہیں۔ یہ غلط ہے۔ یہ اپنی طرف سے۔ بلائیں کسی وقت بھی ہو سکتی ہیں۔ کوئی وقت ایسا ہو سکتا ہے کہ مطلب جس میں کوئی بلا نازل ہو رہی ہو ہمارے اعمال کی وجہ سے۔ تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے اعمال کی تلافی کر لیں۔ استغفار کر لیں۔ توبہ کر لیں۔ اللہ کی طرف رجوع کر لیں۔ یہی طریقہ ہوگا۔ ہاں اس میں صدقہ بھی کر سکتے ہیں، صدقہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہ معاملہ کہ یہ صفر کے مہینے کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہے۔ یہ بالکل(غلط ہے)۔ یہاں پر ایک اور بات بھی آئی ہے۔ "لَا عَدْوَىٰ"۔ یعنی اس میں یہ والی بات کہ کوئی، جس کو کہتے ہیں چھوت کی بیماری جو ہے نا اس کی بھی نفی کی گئی ہے۔ مطلب یہ فرمایا ہے کہ: لَا عَدْوَىٰ وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ
تو اس میں یہ والی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ نہ مرض کا تعدیہ ہے بلکہ جس طرح اولا حق تعالیٰ کسی کو مریض بناتا ہے اسی طرح دوسرے کو بھی اپنے مستقل تصرف سے مریض کر دیتا ہے۔ میل جول وغیرہ سے مرض کسی کو نہیں لگتا، یہ سب وہم ہے۔ اور نہ جانور کے اڑنے سے بدشگونی لینا کوئی چیز ہے جیسا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ داہنی جانب سے تیتر وغیرہ اڑے تو منحوس جانتے ہیں، یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ اور نہ الو کی نحوست کوئی چیز ہے جیسا کہ عام طور پر لوگ اس کو منحوس خیال کرتے ہیں، یہ بالکل من گھڑت بات ہے۔ اور یہ حدیثِ صریح کے خلاف ہے۔ اور ایک رسم اس ماہ میں آخری چہار شنبہ کی مروج ہے۔ یہ بھی بالکل بے اصل ہے۔ یہ چہار شنبہ کو لوگ کہتے ہیں کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحت ہوئی تھی۔ تو بیبیوں نے چوری وہ تیار کی تھی، وہ تقسیم کیا تھا۔ تو لوگ چوری اس میں کرتے ہیں۔ چوری بہت اچھی چیز ہے، بہت اچھا کھانا ہے اگر کوئی کھانا چاہے۔ تو کسی وقت بھی کھا سکتا ہے کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن خاص اس کے ساتھ اس کو باندھنا۔ یہ ٹھیک نہیں ہے کہ ہم نے انہی دنوں میں کرنا ہے۔ نہیں یہ والی بات نہیں ہے۔ یا ایک بدھ پہلے کر لو یا ایک بدھ بعد میں کر لو، کسی بھی دن کر لو اس پہ کوئی فرق نہیں پڑتا، جتنا بنانا چاہتے ہو بنا لو، کھا لو۔ کسی کو تقسیم کر لو کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن، لیکن اگر آپ نے اسی دن بنائی ہے اور اس نیت سے بنائی ہے۔ تو یہ چونکہ واقعہ کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہ غلط ہوگا۔ یہ غلط ہوگا۔
تو بہرحال یہ ہے کہ یہ بات اس میں ایک اور بات بھی آئی ہےکہ بیماری کا دوسرے کو لگنا: اس میں ذرا تھوڑا سا تفصیل ہے۔ تفصیل اس میں یہ ہے۔ کہ چونکہ دونوں قسم کے احادیث شریف موجود ہیں۔ لگنے والے بھی موجود ہیں، نہ لگنے والے بھی موجود ہیں۔ اس میں تطبیق اس طرح کی جا سکتی ہے کہ "كَلِّمُوا النَّاسَ بِقَدْرِ عُقُولِهِمْ"، (لوگوں کے ساتھ ان کے عقل کے مطابق بات کرو)۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اسی سے لگتا ہے۔ تو یہ تو غلط ہے۔ میں کہتا ہوں اگر زہر بھی کوئی کھا لے نا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس کو نہ مارنا چاہے تو نہیں مر سکتا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ مارنا چاہے تو زہر کی ضرورت ہی نہیں۔ بغیر زہر کے بھی مار سکتا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ چلتے چلتے گر پڑتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ تو کیا انہوں نے زہر کھایا ہوتا ہے؟ یا ان کو گولی لگی ہوتی ہے؟ بس اچانک بس Heart fail ہو جاتا ہے۔ یا فالج ہو جاتا ہے کسی اور وجہ سے، وہ مر جاتے ہیں۔ جب کسی کی آئی ہوتی ہے۔
تو یہ چیزیں اللہ کے حکم سے ہوتی ہیں۔ تو جن کی اللہ کے حکم پر نظر ہے اور صرف اس کو ایک سبب کے طور پر جانتے ہیں کہ اللہ پاک اس کو بھی سبب بنا سکتے ہیں۔ تو پھر ٹھیک ہے پھر کوئی مسئلہ نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادے سے لگنا، پھر ٹھیک ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارادے سے، اور اللہ تعالیٰ کا ارادہ اگر درمیان سے نکال لو، اور خود اس چیز پر، تو یہ اصل میں اسباب کے موثر اور غیر موثر ہونے والے اصول ہیں،کہ کچھ لوگ اسباب کو موثر حقیقی سمجھتے ہیں وہ دہریوں کا قول ہے۔ ہمارا نہیں ہے۔ ہم اسباب کو موثر حقیقی نہیں سمجھتے، اللہ تعالیٰ کے حکم کو موثر حقیقی سمجھتے ہیں۔ اسباب اللہ کے حکم کے محتاج ہیں۔ جب اللہ جل شانہٗ چاہے گا۔ تو وہ کام ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ نہیں چاہے گا۔ نہیں ہوگا۔
یہ ہم نے دیکھا ہے ماشاءاللہ یعنی اس کرونا وغیرہ میں۔ کرونا آیا ہے۔ پورے گھر کے اندر سارے لوگوں کو ہوا ایک آدمی کو نہیں ہوا۔ ہمارے بھائی کے گھر کی بات ہے۔ پورے گھر کو ہوا ایک کو نہیں ہوا۔ اور ایسا بھی ہوا کہ پورے گھر کو نہیں ہوا ایک کو ہوا ہے۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ اگر لگنے والی بات تھی تو وہ بھی تو ان کے ساتھ ہی ہے۔ پھر کیوں نہیں لگا؟ تو اس کا مطلب اللہ کا حکم نہیں تھا اس کے لیے کہ اس کو نہ لگے۔ تو نہ لگا۔ اور جس کے لیے حکم تھا تو اس کے لیے لگ گیا۔ ہمارے رشتہ داروں میں بعض لوگ ایسے تھے جنہوں نے بہت زیادہ احتیاط کی، حد سے زیادہ، ان کو لگ گیا۔ اور بعض لوگ ایسے تھے جو بے پروا قسم کے تھے ان کو نہیں لگا۔ اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ پروا نہیں کرنا چاہیے۔ پروا کرنا چاہیے اسباب کے دائرے میں۔ حکم کے دائرے میں نہیں، اسباب کے دائرے میں؛ کیونکہ اسباب، جیسے میں پانی پیتا ہوں اس سے پیاس بجھتی ہے ،لیکن اگر اللہ نہ چاہے تو استسقاء کی بیماری میں پانی سے پیاس نہیں بجھتی۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ پاک کا حکم جو ہے نا اصل میں موثر ہے۔
اسی وجہ سے دو چیزوں کی بات ہے، اسباب کو اختیار کرو اور اللہ پاک سے مانگو۔ اللہ پاک سے مانگنا ہی اس بات کی علامت ہے کہ سارے کام خود بخود نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی منظوری سے ہوتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں تو ہو جاتا ہے اور جب اللہ پاک نہیں چاہتے تو نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے اس مسئلے میں اب ہمارے بڑے بڑے صحابہ کرام کے اپنی اپنی آراء ہیں۔ مثال کے طور پر عمر رضی اللہ تعالی عنہ، تشریف لے جا رہے تھے، ایک جگہ پر طاعون کی بیماری تھی۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے۔ تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے وہاں جانے کا فیصلہ ترک کر لیا، وہاں نہیں گئے۔ تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح جو بہت بڑے صحابی تھے۔ امینِ امت تھے۔ انہوں نے عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کیا تو تقدیر سے بھاگ رہا ہے؟ کیا تو تقدیر سے بھاگ رہا ہے؟ تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا جواب سنیں۔ عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: "تقدیر سے تقدیر کی طرف جا رہا ہوں"۔ تقدیر سے تقدیر کی طرف جا رہا ہوں، وہاں بھی تو تقدیر ہی ہے۔ وہاں بھی تو اللہ ہی ہے نا۔ ہاں! لیکن میں نے سبب کے طور پر کرنا ہے۔ تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ راشد ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی تھے، انہوں نے بیعت ہونے کا ارادہ کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور سے فرمایا کہ تو بیعت ہے اور واپس چلا جا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جذامی سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی اسباب کے دائرے میں اس کو لانا ٹھیک ہے۔ لیکن مسبب الاسباب کے حکم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس مسئلے میں یہ بات ضرور ہے۔
تو ہم لوگوں کو ہر چیز کا اپنی اپنی جگہ پہ جیسا حکم ہے اس طرح کرنا چاہیے۔ نہ اس کو بڑھانا چاہیے، نہ اس کو کم کرنا چاہیے۔ اللہ جل شانہٗ کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔ اور اللہ پاک کی سنت عادیہ جس کو ہم کہتے ہیں۔ سنت عادیہ بھی اللہ پاک کی ہے، اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ اللہ پاک کی سنت عادیہ ہے کہ آگ میں ہاتھ نہ ڈالو۔ اب اگر آپ آگ میں ہاتھ ڈال لیں تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی سنت عادیہ کی خلاف کر لیا، تو اپنا نقصان کر لیا۔لیکن ابراہیم علیہ السلام کو چونکہ لوگ ڈال رہے تھے۔ تو اللہ پاک نے حکم دیا آگ کو کہ اے آگ! ابراہیم علیہ السلام پر سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو جا۔ سبحان اللہ! آگ ان کے لیے گلزار بن گی۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ جو اصل حکم ہے وہ کیا ہے؟ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔
میں آپ کو ایک بات بتاؤں بہت عجیب بات ہے۔ جراثیم میں جان ہوتی ہے۔ وائرس میں جان نہیں ہوتی۔ یہ وائرس بے جان چیز ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں نا وائرس مر گیا، وائرس مرتا نہیں، وائرس پہلے سے مرا ہوا ہے۔ وائرس میں زندگی ہے ہی نہیں۔ یہ ایسا معمولی، معمولی سا، معمولی سا ذرہ ہے۔ جس کے اندر ایک جینیٹک کوڈ ہوتا ہے، وہ ایک میسج ہے۔ جیسے میسج ہوتا ہے مثال کے طور پر کسی کو آپ دے دیں۔ اس پر صرف یہ لکھا ہو آگے کو بھاگو۔ بس اس پر صرف یہ لکھا ہو آگے کو بھاگو، وہ جس کو آگے کو پہنچ گیا، اس کو لگا تو وہ بھی آگے سے بھاگنا شروع کر لے گا، پھر اس نے دوسرے کو دیا تو وہ بھی آگے سے بھاگنا شروع کر لے گا۔ یہی مطلب، ایک میسج ہے، مختصر سا میسج ہے مثلاً۔ تو اس پر بھی ایک مختصر سا میسج ہوتا ہے۔ اور وہ میسج کیا ہے؟ کہ میری طرح بن جا۔ یہ یعنی جسم کے ہر cell کے لیے اس کے اوپر میسج ہے کہ میری طرح بن جا۔ بس پھر کیا ہوتا ہے؟ یہ جس وقت جسم کے اندر absorb ہو جاتا ہے، کسی خاص حصے میں جس میں absorb ہو سکتا ہے، تو بس پھر اس کا جو cell ہے وہ اس کے اندر یہ شامل ہو کر، اس کے اندر شامل ہو کر، اسی طرح ان کو بنا لیتا ہے۔ اور بہت بڑی تعداد میں بن جاتے ہیں۔ اور پھر اس سے نکلتے ہیں۔ جس کے پاس نہیں پہنچے تو نہیں پہنچے لیکن جس کے پاس پہنچ گئے، تو وہ میسج ان کے ساتھ ہے۔ تو اب یہ جو میسج ہے، وہ جس کو پہنچ گیا تو پھر وہ بھی اس طرح کرے گا۔ اس کو کہتے ہیں وائرس کی بیماری۔
اس وقت صورتحال کیا ہے؟ جب کبھی کوئی بیمار ہوتا ہے۔ تو علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ اگر ٹھیک ہو گیا تو کیا کہتے ہیں؟ ڈاکٹر نے ٹھیک کر لیا۔ اور اگر مر گیا تو کیا کہتے ہیں؟ -نعوذ باللہ من ذالک- اللہ نے۔۔۔ خدا کے بندو صحت بھی اللہ دیتا ہے۔ اور بیماری بھی اللہ دیتا ہے۔ زندگی بھی اللہ دیتا ہے۔ موت بھی اللہ دیتا ہے، یہ ساری چیزیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ یہ کیا بات ہے؟ کہ اچھی باتیں تو اپنے لیے سمجھو۔ اور بری باتوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر لو۔ یہ غلط بات ہے۔ شکر کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احسان اور فضل کو مان لیں۔ اس وقت بالکل کھلی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہمارے ساتھ بہت ہی کرم کا معاملہ ہے۔ بہت ہی احسان کا معاملہ ہے اور اللہ پاک اس۔۔۔ یہ آواز ہماری بڑی مختصر ہے کیونکہ ظاہر ہے پتہ نہیں کہاں کہاں پہنچے گی۔ لیکن کم از کم کوئی آواز تو ایسی ہونی چاہیے نا جو کہ حق بتائے۔ جو کہ لوگوں کے سامنے صحیح بات لے آئے کہ اصل بات کیا ہے۔
تو بہرحال سب سے پہلے میں نے یہ بات کی، صفر کے معاملے میں۔ کوئی بھی یہ نہ کہے کہ صفر کا مہینہ منحوس ہے۔ کوئی مہینہ منحوس نہیں ہے۔ کوئی دن منحوس نہیں ہے۔ ہاں! اعمال منحوس اور اچھے ہو سکتے ہیں۔ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ فساد بر و بحر میں، یعنی خشکی میں، تری میں، برپا ہو گیا لوگوں کے اعمال کی وجہ سے۔ تو لوگوں کے اعمال کیا ہیں، وہ انسان کو خراب بھی کرتے ہیں، لوگوں کے اعمال انسان کو اچھا بھی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمیں اپنے اعمال درست کرنے چاہیے۔ ہمیں یہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہم کسی چیز کو منحوس سمجھیں۔ نہیں، یہ ہندوؤں کے عقیدے ہیں۔ ہمارے بڑے بڑے لوگوں کے کچھ اخلاق ہندوؤں کی طرح ہیں۔ مثال کے طور پر جب سفر کرتے ہیں۔ تو زائچہ بنواتے ہیں۔ کہ آج کا سفر کیسا رہے گا؟ آپ لوگوں نے بھی اخباروں میں پڑھا ہو گا "اس دفعہ آپ کا ہفتہ کیسا رہے گا"؟ یہ اس طرح ہوتا ہے نا؟ یہ سب ہندوؤں کی باتیں ہیں۔ مسلمانوں کی باتیں نہیں ہیں۔
ایک دفعہ ایسا ہوا، وزارت مذہبی امور کے پاس ایک چٹھی آ گئی۔ پرویز مشرف کی طرف سے۔ کسی عامل نے (یہاں کوئی عامل تھا مجھے اس کا نام بھول گیا) تو وہ اس نے بھیجا تھا کہ یہ پاکستان کا جو جھنڈا ہے منحوس ہے۔ اس پہ جو چاند ہے نا یہ ڈوبتا چاند ہے۔ یہ چڑھتا ہوا چاند نہیں ہے اس کو تبدیل ہونا چاہیے۔ پرویز مشرف صاحب نے اس کو وزارت مذہبی امور کے پاس بھیجا کہ آپ لوگ اس پہ کمنٹ کریں کہ یہ صحیح کہہ رہا ہے یا غلط کہہ رہا ہے۔ خدا کی شان، سیکرٹری صاحب نے مجھے فائل مارک کر دی کہ آپ اس پہ کمنٹ کر دیں۔ وہ ساری سٹوری لکھی ہوئی تھی اس پر۔
تو میں نے جواب میں تین پوائنٹس لکھے۔ میں نے پہلے یہ پوائنٹ لکھا کہ جس نے ایسا کہا ہے وہ فلکیات سے بالکل ناواقف ہے؛ کیونکہ ڈوبتے چاند اور چڑھتے چاند کی صورت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ بس صرف ایک مشرق کی طرف ہوتا ہے ایک مغرب کی طرف ہوتا ہے۔ بس یہ والی بات ہوتی ہے۔
دوسری بات ؛کہ یہ علامہ اقبال ہمارے شاعر مشرق ہیں۔ اس نے یہ کہا۔
ستارہ کیا تجھے تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود ہی گردشِ افلاک میں ہے خوار و زبوں
تو علامہ اقبال ہمیں کہتا ہے کہ بھئی یہ ستارہ شناسی وغیرہ کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ تو خود اپنی چیز کو نہیں جانتا، مثال کے طور پر وائرس کیا کسی کے ساتھ کر سکتا ہے؟ وہ تو خود بھی کچھ نہیں جانتا۔ وہ زندہ تو نہیں ہے۔ تو ستارہ بھی اس طرح ہے۔ تو اللہ تعالیٰ جس طرف اس کو لے جاتا ہے تو اس طرف چلا جاتا ہے۔ تو وہ تجھے کیا خبر دے گا؟ تو میں نے کہا علامہ اقبال صاحب جو ہمارے شاعر مشرق ہیں انہوں نے یہ بات کی ہے، دو باتیں میں نے یہ کیں۔ اب تیسری بات میں نے حدیث شریف کی کی۔ میں نے پہلی بات کیوں حدیث شریف کی نہیں کی؟ اس لیے نہیں کی کہ اگر اس کے بارے میں ذہن میں کوئی غلط بات آتی تو ان کو نقصان ہوتا۔ تو پہلے ان کا ذہن بنایا، کس طریقے سے؟ logical انداز میں۔ تاکہ ان کا ذہن بن جائے اس کے بعد پھر حدیث شریف، تو فورا accept کر لیں گے۔ تو ایسا ہوا کہ میں نے ان کو اخیر میں حدیث شریف کا بتایا کہ جو ان چیزوں پہ یقین کرے گا، ستارہ شناسی وغیرہ پر، نجومیوں کی باتوں پر، ان کی چالیس دن کی مقبول نمازیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ ان کی چالیس دن کی مقبول نمازیں ضائع ہو جاتی ہیں، اس لیے جو "آپ کا ہفتہ کیسا رہے گا" ان چیزوں پہ یقین کرنے سے نقصان کیا ہو گا؟ بتا دیا نا سنا دیا نا ابھی آپ کو۔ یہ عورتوں میں یہ چیز بہت زیادہ ہے۔ بیان بھی خواتین کے لیے ہو رہا ہے تو میرے خیال میں ان کے لیے مناسب بھی ہے۔
یہ اکثر آج کل جو فیشنی عورتیں ہوتی ہیں نا وہ ایک دوسرے کے ساتھ جو ملاقات کرتی ہیں تو کہتی ہیں: "آپ کا سٹار کونسا ہے"؟ پہلے لوگ پوچھتے تھے نا موسم کیسا ہے؟ یا فلاں چیز کیسی ہے اس طرح، آج کل کیا پوچھتی ہیں؟ آپ کا سٹار کونسا ہے؟ بھئی سٹار سے کیا بنتا ہے؟ پوچھو آپ کے اعمال کیسے ہیں؟ اچھے اعمال ہوں گے تو اچھے نتیجے آئیں گے، برے اعمال ہوں گے تو برے نتیجے آئیں گ بجائے اس کے کہ آپ سٹار پوچھتی ہیں۔
تو یہ سٹار والی باتیں چھوڑو۔ یہ ہندوؤں کی باتیں ہیں۔ ہندوؤں کی باتیں ہیں۔ ہندو کیا کرتے ہیں؟ یہ اصل میں قدرتی چیزوں میں اللہ نے جو کمال ڈالا ہوتا ہے۔ تو یہ ہر کمال کے سامنے جھکتے ہیں۔ مثلاً: سورج میں اللہ نے کمال ڈالا ہوا ہے، سورج سے روشنی سب کو ملتی ہے، گرمی سب کو ملتی ہے، کمال تو ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اس کو سجدہ تو نہیں کر سکتے۔ اس طرح اللہ پاک نے کوئی درخت بہت زبردست بنایا ہو۔ تو ظاہر ہے ہم اس کو سجدہ تو نہیں کر سکتے۔ گائے کو اللہ نے پیدا کیا، وہ دودھ ہمیں دیتی ہے۔ تو اس کو کوئی سجدہ تو نہیں کر سکتا۔ اگر آپ نے کچھ کرنا ہے تو جس نے بنایا ، اس کو سجدہ کرو۔ جس نے یہ ساری چیزیں بنائی ہیں۔ تو یہ ایک ہندو شاعر ہے، ہماری دوسری جماعت اردو کی کتاب میں ایک نظم اس کی تھی۔ پریم چند تھا یا کوئی کون تھا -واللہ اعلم- تو وہ یہ تھا کہ:
اللہ کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہماری گائے بنائی
تو مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ایک نعمت آپ کو دی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ کیا ہے کہ تو ہندو کیا کرتے ہیں؟ ہندو ہر کمال کی طرف جھکتے ہیں جو بھی اللہ پاک نے کسی چیز کو دیا ہے۔ ہم کمال دینے والے کے سامنے جھکتے ہیں۔ جس نے ہر چیز کے اندر کمال پیدا کیا ہے، اور وہ ایک ہے۔ لہٰذا ہم ایک کے سامنے جھکتے ہیں۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
تو کیا مطلب کس کس کے سامنے جھکے گا؟ یہ اللہ تعالیٰ نے سب کام کیے ہیں، اللہ کے سامنے جھک جاؤ اللہ تعالیٰ سے سب کچھ لے لو۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ کہ اللہ جل شانہٗ ساری چیزوں کو پیدا کرنے والے خالق کائنات ہیں۔ سارے لوگوں کا رب ہے، رب العالمین ہے۔ اور سب لوگوں کو زندگی دی ہے "يُحْيِي وَيُمِيتُ" اور سب لوگوں کو پھر دنیا سے لے جائیں گ اور حشر میں "مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ"، مالک وہی ہو گا۔ سب معاملوں کا فیصلہ اللہ پاک ہی کریں گے، تو یہاں کا بھی سب کچھ اللہ کے ساتھ ہے وہاں بھی سب کچھ اللہ کے ساتھ ہے۔ تو پھر اس کے سامنے جھکنا چاہیے نا۔ تو مسلمان کا عقیدہ یہ ہے۔ مسلمان جو ہوتا ہے وہ کمال سے انکار نہیں کرتا، ہم یہ نہیں کہتے کہ سورج کچھ بھی نہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ سورج کچھ بھی نہیں۔ سورج اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس طرح چاند بھی اللہ پاک کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس طرح آسمان بھی ہے، زمین بھی ہے: "تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا" تو اب یہ اللہ پاک نے بنایا ہوا ہے تو اللہ پاک کی بڑائی بیان کرو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکو، اللہ تعالیٰ سے مانگو، اللہ تعالیٰ سے لو۔
تو اللہ جل شانہٗ نے ہمیں جو فرمایا کیا فرمایا ہے؟ فَادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔ پس مجھ سے مانگو۔ میں پورا کروں گا۔ اتنا بڑا وعدہ ہے۔ فَادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔میں آپ کو کیا بتاؤں۔ جیسے اللہ جل شانہٗ نے بیماریاں رکھی ہیں۔ اس طرح اللہ پاک نے صحت بھی رکھی ہے۔ "لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ"۔ ہر بیماری کے لیے علاج موجود ہے۔ لیکن جس وقت آ جائے کسی کا۔ پھر کوئی دوائی کام نہیں کرتی۔ مطلب اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ بس نہ وہ ذرہ پیچھے ہوتا ہے نہ ذرہ آگے ہوتا ہے۔ بالکل "لَا يَسْتَقْدِمُونَ وَلَا يَسْتَأْخِرُونَ"۔ جو وقت مقرر ہوتا ہے اس کے اوپر وہ چیز آ ہی جاتی ہے، اس کو کوئی change نہیں کر سکتا۔ تو اب یہ ہے کہ اللہ پاک نے جو رکھا ہے وہ اس کے مطابق ہوگا۔ تو اسی کے مطابق مانگو جس طرح اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔ تو علاج کرنا چاہیے بیماریوں کا۔ کیونکہ اللہ پاک نے ہر بیماری کی شفا اتاری ہے۔ اور شفا، شفا کی دکانوں سے ملے گی۔ اللہ پاک نے جہاں جہاں جو چیز رکھی ہے وہاں سے اس کو لو۔ شفا کی دکانوں میں اللہ پاک نے رکھی ہے شفا۔ لیکن شفا کی دکانوں پر انحصار نہ کرو پھر اللہ تعالیٰ سے مانگو کہ "اے اللہ شفا تو دینے والا ہے"۔
یہاں پر ایک ڈاکٹر ہے میجر جرنل اس کا جو پیڈ ہے نا اس کے اوپر لکھا ہے اوپر "ھو الشافی"۔ وہی شفا دیتا ہے۔ تو صحیح بات ہے یہ بالکل صحیح سوچ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شفا تو اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔ ہم لوگ جو علاج کرتے ہیں تو علاج کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسی علاج سے ٹھیک ہو جائے گا۔ جب اللہ جل شانہٗ شفا دینا چاہیں گے تو اس چیز میں شفا آ جائے گی۔ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں۔ بڑھیاں، بعض بڑھیاں کہتی ہیں۔
خدائے دې دَ منګي اوبهٔ دارو کړه
اللہ تعالیٰ تیرے لیے گھڑے کا پانی دوائی بنا دے ۔ اور ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ بنا دیتا ہے، یہ کوئی مشکل نہیں ہے اس کے لیے۔ تو ہمارا کام کیا ہے؟ دوائی بھی کرنی ہے، دعا بھی کرنی ہے۔ دوا کے ساتھ دعا بھی ہے۔ اور دعا کے ساتھ دوا بھی ہے۔ اب ہمارا کام کیا ہے؟ جو ہمارا کام ہے وہ ہم کرتے نہیں۔مثال کے طور پر ایک طالب علم ہے۔ کسی سکول میں داخل ہے یا کالج میں داخل ہے۔ یونیورسٹی میں داخل ہے پڑھتا نہیں ہے۔ اور پھر بزرگوں کے پاس جاتا ہے کہ میرے لیے دعا کرو کہ میں پاس ہو جاؤں۔ یہ کیا ہے؟ یہ اس پورے نظام کی توہین ہے۔ اس پورے نظام کی توہین ہے۔تو اس وجہ سے اس نظام کی توہین نہیں کرنا چاہیے۔ محنت کر لو۔ اور پھر محنت پر بھروسہ نہ کرو، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے اللہ پاک سے مانگو۔ یہ دو طریقے ہیں۔ سبب اختیار کر لو۔ اور مسبب الاسباب پر بھروسہ کر لو۔ یہی بات ہے۔
توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا
پھر انجام اس کی تیزی کا مقدر کے حوالے کر
مطلب یہ ہے کہ جو اللہ پاک اس سے جو کام نکلوانا چاہتا ہے اس کے لیے اس کے سامنے کرلو۔ ہمارے مسلمانوں کا طریقہ یہی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ میں دو زرہیں پہنی ہوئی تھیں۔ دو زرہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ متوکل کوئی ہو گا؟ دو زرہیں پہنی ہوئی تھیں لیکن اس پر بھروسہ نہیں تھا۔ حال یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک پہرہ ہوتا تھا، مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں۔ اگر کوئی جائے تو وہاں پر جو اسطوانہ حرس ہے ریاض الجنۃ میں، اسطوانہ حرس۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں پر پہرہ دار کھڑا ہوتا تھا۔ لیکن جب قرآن پاک میں آیا "وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔" (اللہ تعالیٰ تمہیں لوگوں سے بچائے گا)۔ اس کے بعد انہوں نے پہرہ ہٹا دیا کہ جب اللہ پاک نے فرما دیا تو اب اب مجھے کسی کے پہرے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو اس کا مطلب ہے پہرے پہ پہلے بھی بھروسہ نہیں تھا۔ صرف حکم کے مطابق پہرہ ہوتا تھا۔ لیکن جس وقت کھل کے بات آ گئی کہ اب ضرورت نہیں ہے تو پہرہ اٹھا دیا۔ تو اس طریقے سے ہمارا بھی کام یہی ہے۔
ایک صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ آپﷺ نے بشارت دی تھی کہ آپ فلاں جنگ میں شہید ہوں گے یا کچھ اس طرح بات۔ یا اس میں شرکت کریں گے۔ تو اس پر ان کو پتہ تھا کہ اس سے پہلے میں نہیں مر سکتا۔ تو لوگ کہتے ہیں کہ مجھے منجنیق میں ان کی طرف پھینکو مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں تو اس میں شریک ہوں گا تو جب تک وہ جنگ نہیں آیا تو میں تو مر نہیں سکتا۔ ایسے یقین تھا۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین بھی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت عادیہ کا پاس بھی رکھنا چاہیے یعنی اسباب اختیار کرنے چاہییں۔ اور توہمات سے بچنا چاہیے۔ توہمات وہ لوگ کرتے ہیں جو چیزوں کو موثر جانتے ہیں۔ جو چیزوں کو موثر جانتے ہیں وہ توہمات کرتے ہیں۔ وہ ہر چیز سے ڈرتے ہیں۔ حالانکہ ڈرنے کی بات صرف ، اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔باقی کا معاملہ اسباب کے رخ سے کر لے۔ اسباب کی طرف۔
دیکھو موسیٰ علیہ السلام کو اللہ پاک نے حکم دیا کہ عصا کو ڈالو۔ موسیٰ علیہ السلام نے عصا کو زمین پر ڈال دیا اژدہا بن گیا۔ تو موسیٰ علیہ السلام ڈر گئے۔ کیونکہ بالکل اژدہا کی طرح تھا نا، قدرتی اژدہا جیسے ہوتا ہے اس کی طرح تھا، تو موسیٰ علیہ السلام ڈر کے بھاگنے لگے۔ تو اللہ پاک نے فرمایا: لَا تَخَفْ۔ ڈرو نہیں۔ رک گئے موسیٰ علیہ السلام۔ پھر فرمایا اس کو پکڑو۔ حکم تھا اللہ کا، لہٰذا جا کر منہ میں ہاتھ ڈال کے پکڑا اس کو۔ اژدہا کے منہ میں ہاتھ ڈالا۔ اور وہ پھر دوبارہ عصا بن گیا۔ تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اژدہا بنا تھا، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھر عصا بن گیا۔ اور اس سے طبعی طور پر ڈرنا یہ کوئی غلط بات نہیں تھی۔ انسان ایسے ہی کرے گا۔ مثال کے طور پر جیسے آگ سے انسان ڈرتا ہے، اس طرح اژدہا سے بھی ڈرے گا۔ اس طرح شیر سے بھی انسان ڈرے گا۔ لیکن وہ ڈرنا ایسا ہوگا اسباب کے رخ سے ہوگا۔ اسباب کے رخ سے ہوگا۔ وہ یقین کے رخ سے نہیں ہوگا۔ یقین اللہ تعالیٰ کی بات پر ہوگا، تبھی چونکہ موسیٰ علیہ السلام کو یقین کس پر تھا؟ اللہ کے حکم پر تھا، لہٰذا وہی اژدہا تھا نا جس سے بھاگ رہے تھے، فوراً لوٹ کے اس کے منہ میں ہاتھ ڈال دیا۔ تو یہی اصل میں ہمارا طریقہ ہونا چاہیے، پیغمبروں کا طریقہ یہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز کے بارے میں بتا دیں۔ پھر اس کے بعد ہمیں کوئی شک نہیں کرنا چاہیے۔
ایک دفعہ ایک صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی تھا، بیمار ہو گیا، پیٹ خراب ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"اس کو شہد پلائیں"۔ شہد پلایا تو اس کو وہ پیٹ اور زیادہ چلتا ہوا گیا۔ تو اس نے شکایت کی، یا رسول اللہ وہ تو اور بڑھ گیا۔ فرمایا: "شہد پلاؤ"۔ تو مزید بڑھ گیا۔ پھر اس کے بعد اس نے شکایت کی، فرمایا:" پھر شہد پلاؤ"۔ تو انہوں نے کہا کہ حضرت ایسی حالت ہے اس کی، فرمایا تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہو سکتا ہے اللہ کا حکم جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ جاؤ تم اس کو شہد پلاؤ۔ شہد پلایا تو وہ ٹھیک بھی ہو گیا اور کمزوری جو اس کی آنی ہوتی ہے وہ بیماری سے، وہ کمزوری بھی نہیں تھی۔
مجھے جرمنی میں -الحمد للہ -اس کا تجربہ ہوا ہے۔ مجھے معدے کو صاف کرنا تھا۔ تو اس کی وجہ سے وہ جلاب ٹائپ چیز دیتے ہیں۔ تو وہ مجھے دیا تھا اور مجھے فاقہ کرنا تھا۔ تو انہوں نے مجھے کہا کہ آپ قہوہ پی سکتے ہیں۔ میں نے کہا قہوہ میں شہد ڈال سکتا ہوں؟ کہتے ہیں ہاں ڈال لیں۔ میں نے کہا بس پھر کوئی پروا نہیں۔ بس میں قہوہ میں شہد ڈالتا تھا اور پیتا تھا اور کھانا وانا کچھ نہیں تھا۔ اور باقاعدہ میں گیا ہوں وہاں پر کئی منزلہ ہسپتال تھا۔ اس میں اوپر جا رہا ہوں نیچے آ رہا ہوں، اوپر جا رہا ہوں نیچے جیسے وہ کام شام اس میں تھے نا۔ چوبیس گھنٹے، اور ماشاءاللہ یعنی ذرہ بھر کمزوری بھی نہیں ہوئی تھی۔ ذرہ بھر جس کو ہم کمزوری کہتے ہیں، وہ کمزوری بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ کا جو حکم ہے نا، اس کو مانو نا۔ پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کا یقین چیزوں پر ہوگا۔ اس وقت پھر مسئلہ ہوگا۔ تو ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کو دیکھتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کا حکم بھاگنے کا ہوتا ہے تو ہم بھاگیں گے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کا حکم رکنے کا ہو گا تو ہم رک جائیں گے۔
اب دجال کے بارے میں ہے کہ دجال سے بھاگو۔ تو ہم دجال سے بھاگیں گے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ ایمان بچانا ہے۔ ایمان بچانا ہے۔ ایمان بہت عزیز ہے۔ اس کا risk ہم نہیں لے سکتے۔ کیونکہ وہ ظالم اس کے پاس ایسے زبردست چیزیں ہوں گی، نفس کی خواہشات کو پورا کرنے کی کہ بڑے سے بڑے پہلوان بھی پھسل سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں نا آبشار کے سامنے ہاتھی بھی نہیں ٹھہرتا۔ وہ تنکا تو چُلو پانی میں بہہ جاتا ہے نا۔ لیکن آبشار کے سامنے ہاتھی بھی نہیں ٹھہرتا۔ اس کی جو سفلی طاقتیں اتنی زیادہ ہوں گی کہ اس کے سامنے ٹھہرنا بڑا مشکل ہے، تو فرماتے ہیں بس اس سے بھاگو۔ ایک دفعہ ہمارے استاد تھے۔ تو اس نے ہم سے پوچھا کہ 100 Curie کا اگر source ہے -یہ ریڈی ایشن کا ایک source ہوتا ہے- تو تم کیا کرو گے؟ تو ہم نے کہا کہ Shielding کریں گے، یہ کریں گے، وہ کریں گے اپنے طریقے جو ہم نے سیکھے تھے بتا دیے۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ تو جس وقت سب نے اس قسم کی باتیں کیں تو فرمایا : Gentlemen, you will run away from there کہتے ہیں آپ کو ادھر سے بھاگنا ہوگا۔ اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ 100 Curie بہت بڑی چیز ہوتی ہے۔ تباہی ہے۔ سونامی اگر آ جائے مجھے بتاؤ کیا کرو گے؟ مقابلہ کرو گے بیلچہ اور کدال لے کر؟ بھاگیں گے نا، بھاگو گے نہیں تو اور پھر کیا کرو گے؟ تو دجال بھی سونامی کی طرح ہے نا خبیث۔ اس وجہ سے بھاگنا ہے اس سے۔ لیکن بھاگنے کے لیے جائے پناہ تو ہونی چاہیے نا؟ کہاں بھاگو گے؟ کوئی پناہ کی جگہ تو ہونی چاہیے۔ پناہ کی جگہ امام مہدی علیہ السلام کا ساتھ ہے۔ فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ بھاگو دجال سے لیکن کس طرف؟ اللہ کی طرف۔ اللہ کی طرف بھاگو۔
تو اللہ کی طرف بھاگنے کا مطلب ہے امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ ہو جاؤ۔ تو امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ ہونے کا سلسلہ ہوگا۔ اس وقت ان کی بیعت اتنی زیادہ اہم ہوگی کہ فرمایا کہ بے شک برف کے اوپر پھسل کے بھی جانا پڑے تو پھر بھی جاؤ لیکن ان سے بیعت کر لو۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو اچھی طرح تیاری کرنی ہوگی۔ اور وہ تیاری کیا ہے؟
سب سے پہلی بات میں بتاتا ہوں۔ دجال کے ساتھ جو چیزیں ہیں۔ ان سے اپنے آپ کو چھڑا دو۔ دجالی چیزیں۔ ان کے اوپر depend نہ کرو۔ دجال کے پاس کیا چیزیں ہیں؟ اچھے اچھے کھانے، تعیش کے سامان،میوزک۔ اس قسم کے ناچ گانے کی چیزیں، یہ ہوں گی۔ تو جو لوگ ان چیزوں کے رسیا ہیں، وہ ان کی وجہ سے گرفتار ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ان چیزوں سے اپنے دل کو کاٹو۔ یہ وقت آیا ہے۔ ان چیزوں میں نہ پڑو۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہمارا یہ جو موبائل ہے، یہ تقریباً دجال کا ایک نمونہ بن گیا ہے۔ اس پہ جو اچھی چیزیں بھی ہیں اس کے ساتھ بھی خطرات ہیں۔ اس میں بھی خطرات ہیں۔
میں خود ایک دفعہ تفسیر عثمانی ڈھونڈ رہا تھا browsing کر کے۔ تو تفسیر عثمانی مل گئی لیکن ساتھ ہی دائیں بائیں بہت غلط چیزیں تھیں۔ آدمی دیکھے کہاں تفسیر عثمانی کہاں وہ چیزیں۔ آدمی کیا کر سکتا ہے؟ کچھ لوگ میرے جو بیانات ہوتے ہیں ان کے کلپس بناتے تھے، تو کلپس بنا لیے تھے۔ اب بھی آپ سرچ کریں تو میرے کلپس نکل آئیں گے۔ تو وہ کلپس چار پانچ کے بعد، کچھ اور چیزیں بھی ساتھ آنی شروع ہو جاتی ہیں، غلط غلط۔ تو میں نے ان بنانے والوں سے شکایت کی کہ آپ کم از کم اس کو اچھی جگہ پہ ڈال لیں۔ یہ کیا ہے آپ نے ایسی جگہ پہ ڈال دیا اس کے، نظر غلط چیز کی طرف جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے تو اچھی جگہ پہ ڈالی ہےلیکن یہ ظالم یہی کرتے ہیں کہ باقاعدہ جو پروگرام زیادہ چلتا ہے، لوگ اس کو زیادہ pick کرتے ہیں تو وہیں وہ چیزیں پہنچا دیتے ہیں۔ ان کا طریقہ کار یہی ہے۔ بات صحیح ہے۔ بالکل بات صحیح ہے، ایسے ہی کرتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دجالی دور ہے۔ جیسے انسان موبائل میں آج کل پھنسا ہوا ہے۔ اور موبائل سے اپنے آپ کو چھڑانا مشکل ہے۔ اسی طریقے سے دجال سے اپنے آپ کو چھڑانا مشکل ہوگا۔ یہ ایک مثال ہے ہمارے پاس۔ تو اس کے لیے ہمارے پاس بہت روحانی طاقت چاہیے۔ تو روحانی طاقت کے لیے میں آپ کو بتا دوں کہ الحمد للہ ہم لوگوں نے جو "المنزل الجدید" اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے، اس کو چھاپا ہے۔ تو اس کو باقاعدہ مغرب کے بعد پڑھو۔ باقاعدہ مغرب کے بعد۔ اس میں جادو ٹونے، دجال سے بچنے کا اور برے اثرات کے، نظر بد وغیرہ سے بچنے کا سامان ہے ،الحمد للہ۔ اس کو پڑھ لیا کرو۔ مغرب کے بعد نہ ہو سکے تو عشاء کے بعد پڑھ لیا کرو لیکن بہرحال رات کے اندر پڑھ لیا کرو۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائیں گے ان شاء اللہ۔ تو ایک تو یہ کرو۔
دوسرا یہ کہ جہاں پر بھی ہو، کراچی میں ہو تو کراچی کے اہل حق کے ساتھ جڑے رہو۔ لاہور میں ہو تو لاہور کے اہل حق کے ساتھ جڑے رہو۔ امریکہ میں ہو تو امریکہ کے اہل حق کے ساتھ جڑے رہو لیکن کہیں پر بھی ہو اہل حق کے ساتھ جڑے رہو۔ اپنا اٹھنا بیٹھنا اہل حق کے ساتھ کرو۔ یہ اس وقت کی بہت اہم ضرورت ہے۔ اپنے بچوں کی حفاظت کرو۔ اپنے بچوں کی حفاظت کرو۔ اپنے بچوں کو اس کلچر میں نہ لے جانا، جو خطرناک ہے۔ اس وقت، ہم لوگ خوش ہوتے ہیں۔ بچے انگریزی میں بات کرتے ہیں تو ہم خوش ہوتے ہیں لیکن صحیح بات ہے ہم ان کو کون سے کلچر میں پھینک رہے ہیں؟ ہمیں احساس ہونا چاہیے۔ بھئی قابلیت انگریزی میں نہیں ہے۔ انگریزی ایک زبان ہے۔ اچھی زبان ہے بری زبان بھی نہیں ہے، لیکن انگریزیت بہت فضول چیز ہے۔ اب مجھے بتاؤ جو آدمی انگریزی جانتا ہوگا اور اردو نہیں جانتا ہوگا۔ تو پھر انگریزی پڑھے گا نا۔ تو انگریزی میں لکھنے والے کتنے ہیں اچھے۔ تو اس کے پاس علم کون سا آئے گا؟ بہت سارے لوگ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، اس طرح جو ہمارے اکابر بڑے بڑے ہیں ان کی تحریروں سے محروم ہیں۔ موجود ہیں، وہ ساری چیزیں موجود ہیں لیکن محروم ہیں، پڑھ نہیں سکتے کہتے ہیں جی مشکل ہے۔ اور انگریزی کے اخبار پڑھتے ہیں ڈان پڑھتے ہیں اور پاکستان ٹائمز پڑھتے ہیں اور news weak پڑھتے ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا پڑھتے ہیں۔ تو وہ جو زہر سارا ہو گا وہ سارا وہ لے رہے ہوں گے۔ تو اگر آپ نے اپنے بچوں کو وہ کلچر دے دیا۔ جس میں وہی ہماری وہ کریں گے تیاری ، تو پھر ہم کیسے اپنے بچوں کو بچائیں گے؟ وہ نظام ہی ان کا الگ ہو جائے گا۔
میں نے اپنے بچوں کو کہا تھا، یہ باہر پنجابی بھی بولتے تھے، اردو بھی بولتے تھے۔ تو گھر میں جب بولتے ہیں میں نے کہا نہیں، گھر میں آپ کو پشتو بولنا پڑے گا۔ بے شک باہر جو بھی زبان بولو لیکن گھر میں پشتو بولنا پڑے گا۔ کیونکہ وہ اگر پشتو انہوں نے نہیں سیکھی تو اپنے علاقے میں جائیں گے تو پھر کیا کریں گے؟ مطلب یہ ہے کہ اپنی مادری زبان سکھاؤ ان کو۔ اپنی اردو ان کو سکھاؤ، اگر ہمت ہو تو عربی ان کو سکھاؤ۔ یہ چیزیں ان کو سکھاؤ تاکہ ان کو کم از کم اپنا علم تو ہو نا، اپنی چیزوں کا علم تو ان کو ہو۔ اس کے بعد پھر حوالہ دینے کی ضرورت ہوگی باقی چیزیں خود ہی کر لیں گے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آپ ان کو سمجھائیں گے وہ آپ کو سمجھائیں گے۔ وہ کہیں گے جی فلاں تو یہ ہے فلاں تو یہ ہے۔
اب وہاں صورتحال یہ ہے کہ ہم جب پڑھتے تھے تو کہتے تھے الف اللہ ب بسم اللہ۔ ایک وقت یہ تھا۔ اب جو ہے نا، الف انار اور ب بوتل۔ اس کے بعد پھر یہ دور آ گیا۔ اب اس کے کہتے ہیں: mummy dancing, father singing اب یہ چیز آ گئی ہے۔ اب مجھے بتاؤ آج کے بچے کیسے سیکھیں گے؟ تو یہ ذرا بچوں کے اوپر بھی محنت کر لو، بچے بھی تھوڑے سے آپ کے اسلام کے قریب آ جائیں۔ اپنے دین کے قریب آ جائیں اس کے لیے کچھ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم بچوں کی تربیت کیسے کریں؟ تو میں ان سے کہتا ہوں بچوں کی تربیت کے لیے بڑوں کی تربیت پہلے ضروری ہے۔ جب تک بڑوں کی تربیت نہیں ہو چکی ہے تو بچوں کی تربیت کیسے کریں گے؟ اب مجھے بتاؤ یہ لوگ جو اپنے بچوں کو انگریزی سکھانے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور انگریزی کلچر میں ان کو ڈالتے ہیں۔ تو پھر جب بعد میں گلہ کرتے ہیں تو گلہ کیوں کرتے ہیں، خود ہی تو اس آگ میں ڈالا ہے۔ خود ہی تو اس آگ میں ڈالا ہے۔ تو یہ ساری باتیں ہمیں سیکھنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ