منافقین کی صفات، ان کا انجام اور اللہ کا عذاب
درس نمبر 209، سورۃ النساء: آیات: 142 تا 148- اشاعتِ اول: 24 جون، 2022، بمطابق 24 ذی قعدہ 1443 ہجری
- منافقین کا اللہ کے ساتھ دھوکہ اور درحقیقت خود کو دھوکے میں ڈالنا
- دنیاوی ظلم کی حقیقت: اصل میں اپنے ہی نفس پر ظلم کرنا
- منافقین کی علامات: نماز میں سستی، دکھاوا اور اللہ کا کم ذکر
- کفر اور ایمان کے درمیان منافقین کی ڈانواڈول کیفیت اور ان کی گمراہی
- کافروں سے دوستی کی ممانعت اور منافقین کے لیے جہنم کا سب سے نچلا طبقہ
- سچی توبہ، اصلاح، اور شکر گزاری کی فضیلت اور اللہ کے ہاں اس کا اجر
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿142﴾ مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا ﴿143﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا ﴿144﴾ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا ﴿145﴾ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿146﴾ مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا ﴿147﴾ ۞ لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا ﴿148﴾
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکا بازی کرتے ہیں، حالانکہ اللہ نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے ﴿142﴾ ۔ حاشیہ: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جو سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے اللہ کو دھوکا دے دیا، تو درحقیقت یہ خود ہی دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، ۔
اگر دیکھا جائے تو یہ دنیا چونکہ عکس ہے، لہذا بعض چیزیں انسان کے اوپر واپس آتی ہیں۔ مثلاً ظلم، جب انسان کسی کے اوپر ظلم کرتا ہے تو اصل میں وہ اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے یہاں تو کسی محدود عرصے کے لیے، وقت کے لیے، تھوڑی دیر کے لیے کسی کے اوپر ظلم کیا، اور اس کا وقت گزر جائے گا، ختم ہو جائے گا۔ لیکن اس کے بدلے میں جو اس کو سزا ملے گی آخرت میں، یا ادھر جو ملتی ہے، وہ کافی زیادہ ہوتی ہے۔ اور اگر کفر ہے اور نفاق ہے، تو پھر تو نہ ختم ہونے والی زندگی کے لیے، تو اب یہ جو ظلم یہ کر رہے ہیں، یہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کسی کے اوپر ظلم کر رہے ہیں لیکن حقیقتاً وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔
اسی طریقے سے جو دھوکہ دے رہا ہے، تو اللہ تعالیٰ کو تو کوئی دھوکہ دے نہیں سکتا۔ کیونکہ اللہ پاک تو انسان کے ظاہر، باطن، ماضی، حال، مستقبل کو، سب کو ایک ہی وقت میں دیکھ رہا ہے۔ اس وجہ سے اللہ کو تو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا۔ لیکن جب یہ انسان سمجھتا ہے کہ میں نے گویا کہ مومنین کو دھوکہ دیا تو یہ اصل میں اس نے اپنے آپ کو دھوکہ دیا، کیونکہ اس نے اپنے آپ کے ساتھ گویا ظلم کیا۔ تو اس نے اپنے آپ کو دھوکہ دیا اور نفس کی وجہ سے گویا کہ دھوکہ کھا گیا۔ نفس کی خواہش اور شیطان کے اغواء نے اس کو دھوکے میں ڈالا، تو یہ دھوکہ کھا گیا۔ یہ بنیادی بات ہے۔
تو جس وقت ہم یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کو، جس طرح قرآن شریف میں آتا ہے:
حاشیہ: اور اللہ تعالیٰ ان کو اس دھوکے میں پڑا رہنے دیتا ہے جو انہوں نے خود اپنے آپ کو اپنے اختیار سے دے رکھا ہے۔ اور اس جملے کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”اللہ ان کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے“ اس ترجمے کی بنیاد پر اس کا ایک مطلب بعض مفسرین (مثلاً حضرت حسن بصریؒ) نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان کو اس دھوکے کی سزا آخرت میں اللہ تعالیٰ اس طرح دے گا کہ شروع میں ان کو بھی مسلمانوں کے ساتھ کچھ دُور تک لے جایا جائے گا، اور مسلمانوں کو جو نور عطا ہوگا، اسی کی روشنی میں کچھ دُور تک یہ بھی مسلمانوں کے ساتھ چلیں گے، اور یہ سمجھنے لگیں گے کہ ان کا انجام بھی مسلمانوں کے ساتھ ہوگا، مگر آگے جاکر ان سے روشنی چھین لی جائے گی، اور یہ بھٹکتے رہ جائیں گے، اور بالآخر دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے، جیسا کہ سورۂ حدید (۱۲:۵۷-۱۳) میں اس کا بیان آیا ہے
ترجمہ: اور جب یہ لوگ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کسمساتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کے سامنے دکھاوا کرتے ہیں، اور اللہ کو تھوڑا ہی یاد کرتے ہیں ﴿142﴾
یہ منافقین کی کھلی نشانی ہے۔
ترجمہ: یہ کفر و ایمان کے درمیان ڈانواڈول ہیں۔ نہ پورے طور پر ان (مسلمانوں) کی طرف ہیں، نہ اُن (کافروں) کی طرف۔ اور جسے اللہ گمراہی میں ڈال دے، تمہیں اس کے لئے ہدایت پر آنے کا کوئی راستہ ہرگز نہیں مل سکتا ﴿143﴾
ترجمہ: اے ایمان والو! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بناؤ۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ کے پاس اپنے خلاف (یعنی اپنے مستحقِ عذاب ہونے کی) ایک کھلی کھلی وجہ پیدا کردو؟ ﴿144﴾ یقین جانو کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے، اور ان کے لئے تم کوئی مددگار نہیں پاؤگے ﴿145﴾ البتہ جو لوگ توبہ کرلیں گے، اپنی اصلاح کرلیں گے، اللہ کا سہارا مضبوطی سے تھام لیں گے اور اپنے دین کو خالص اللہ کے لئے بنالیں گے تو ایسے لوگ مؤمنوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے، اور اللہ مؤمنوں کو ضرور اجرِ عظیم عطا کرے گا ﴿146﴾ اگر تم شکرگزار بنو اور (صحیح معنی میں) ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر آخر کیا کرے گا؟ اللہ بڑا قدردان ہے، (اور) سب کے حالات کا پوری طرح علم رکھتا ہے ﴿147﴾ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کسی کی برائی علانیہ زبان پر لائی جائے، الا یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو﴿148﴾
حاشیہ: یعنی کسی کی برائی بیان کرنا عام حالات میں جائز نہیں، البتہ اگر کسی پر ظلم ہوا ہو تو وہ اس ظلم کا تذکرہ لوگوں سے کرسکتا ہے، اس تذکرے میں ظالم کی جو برائی ہوگی وہ معاف ہے۔
ترجمہ: اور اللہ سب کچھ سنتا، ہر بات جانتا ہے۔﴿148﴾
اللہ جل شانہ ہم سب کو شریعتِ مقدسہ کو سمجھنے کی، اور اس کے مطابق چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اس پر اللہ پاک ہم سے راضی ہو جائے، اس طرح کہ پھر ناراض نہ ہو۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔