ماہِ صفر کی حقیقت اور توہم پرستی کا خاتمہ
احادیث از خطبات الاحکام، خطبہ 40، ماہ صفر کے بیان میں۔ اشاعت اول 25 اگست 2023 بمطابق 7 صفر المظفر 1445 ھ
- ماہِ صفر سے جڑی غلط فہمیاں اور شرعی احکامات
- بدفالی (بدشگونی) کی ممانعت اور شرک سے بچاؤ
- دنیاوی نقصان کا خوف اور غیر مسلموں کے توہمات کے اثرات
- وہم اور باطل خیالات کا بہترین علاج: توکل علی اللہ
- دعوت و اصلاح اور دوسروں کو سمجھانے کا حکمت بھرا طریقہ
- بدعت کی پہچان اور نجات پانے والے حق پرست گروہ کی نشانیاں
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
حَانَ شَهْرُ صَفَرَ، يَتَشَائَمُ بِهٖ بَعْضُ النَّاسِ وَيَتَطَيَّرُ كَمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ مَعَ هٰذَا الْإِعْتِقَادِ يَبْتَدِعُوْنَ فِيْهِ النَّسِيْءَ النُّکْرَ، فَأَبْطَلَهُ اللهُ تَعَالٰی بِقَوْلِهٖ: ﴿اِنَّمَا النَّسِیْءُ زِيَادَةٌ فِی الْكُفْرِ﴾ وَكَذٰلِكَ نَفٰی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الشُّوْمَ وَالطِّيَرَةَ بِهٖ خُصُوْصًا وَّبِكُلِّ شَىْءٍ عُمُوْمًا، وَأَزَاحَ بِهٰذَا النَّفْيِ عَنَّا ھُمُوْمًا وَّغُمُوْمًا، فَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ: ''لَا عَدْوٰى وَلا طِيَرَةَ وَلَا هَامَّةَ وَّلَا صَفَرَ''۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ: ''یَتَشَاءَمُوْنَ بِدُخُوْلِ صَفَرَ''۔ فَقَالَ النَبِیُّ ﷺ: ''لَا صَفَرَ''۔ (ابوداؤد، رقم الحدیث: 3915، بِإِخْتِلَافِ الْأْلْفَاظِ)
وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ: ''الطِّیَرَۃُ شِرْكٌ [قَالَهٗ ثَلٰثاً]، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: مَا مِنَّا إِلَّا وَلٰکِنَّ اللهَ یُذْھِبُهٗ بِالتَّوَکُّلِ''۔ (ابوداؤد، رقم الحدیث: 3910) وَعُلِمَ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ وَسْوَسَةَ الطِّیَرَۃِ إِذَا لَمْ یَعْتَقِدْھَا بِالْقَلْبِ وَلَمْ یَعْمَلْ بِمُقْتَضَاھَا بِالْجَوَارِحِ وَلَمْ یَتَکَلَّمْ بِھَا بِاللِّسَانِ لَا یُؤَاخَذُ عَلَیْھَا، وَھٰذَا ھُوَ الْمُرَادُ بِالتَّوَکُّلِ۔﴿قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ ۚ اَئِنْ ذُكِّرْتُـمْ ۚ بَلْ اَنْتُـمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ﴾ (یس: 19)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْکَرِيْمُ۔
معزز خواتین و حضرات! صفر کا مہینہ شروع ہوچکا ہے اور جس طرح محرم کے ساتھ لوگوں نے بے تکی باتیں باندھی ہوئی ہیں، اپنی طرف سے جس کا کوئی وجود نہیں تھا، اسی طرح صفر کے ساتھ بھی لوگوں نے اپنی طرف سے بہت ساری باتیں مشہور کی ہیں۔ ہمارا جو دین ہے بہت خالص، اس میں بعض چیزوں کا بہت زیادہ خیال رکھا جاتا ہے اور وہ ایک یہ ہے کہ توحید پہ حرف نہ آئے، یعنی شرک کا ارتکاب نہ ہو، کیونکہ اللہ جل شانہ ہر چیز کو معاف کرنا چاہے تو کر سکتے ہیں، لیکن شرک کو معاف نہیں کرتے۔
دوسرا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے طریقے سے کوئی تجاوز نہ ہونے پائے، کیونکہ طریقہ جو ہے اللہ تعالیٰ کا منظور شدہ مقبول طریقہ، صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی تربیت فرمائی، ان کا مزاج ایسا بنایا کہ اس کے بعد پھر وہ اس طریقے سے ذرہ بھر بھی انحراف نہیں کرنا چاہتے تھے اور اسی دین پر ہر حال میں قائم رہے۔ لہٰذا صحابہ کرام کے طریقے کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو سمجھنے کے لئے سمجھنا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سمجھ میں نہیں آسکے گی۔
تو ہمیں ہر چیز کے اندر یہی بتانا ہوتا ہے کہ اللہ نے کیا فرمایا اور رسول نے کیا فرمایا اور صحابہ نے کیا عمل کیا۔ یہ تین باتیں ہمارے دین کے اندر بنیادی ہیں۔ باقی عقل کا استعمال ممنوع نہیں ہے بلکہ مستحسن ہے، اگر اس کو دین کا خادم رکھا جائے، یعنی دین کو سمجھنے کے لئے عقل کو استعمال کیا جائے تو پھر ٹھیک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دین میں بہت ساری چیزوں میں غیب پہ ایمان ہے، اور غیب جو ہے، یہ عقل کی سمجھ سے باہر ہے۔ مثلاً جنت اور دوزخ عقل سے کیسے سمجھ میں آئیں گے؟ قبر کی زندگی عقل سے کیسے سمجھ میں آئے گی؟ یہ عقل کا میدان ہی نہیں ہے۔ لہٰذا اس میں ہم عقل کی بات نہیں مانیں گے، ہم قرآن اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین کریں گے۔ جیسے انہوں نے فرمایا، ہم لوگ اسی طرح کہیں گے اور اسی طریقے سے ہم دوسروں سے بات کریں گے۔
اب صفر کا جو مہینہ ہے، وہ کیا ہے؟ ایک مہینہ ہے جیسے باقی مہینے ہیں۔ اور اس کے ساتھ لوگوں نے کیا کیا سٹوریاں باندھی ہیں؟ وہ یہ ہے کہ اس میں بلائیں اترتی ہیں، اس میں بلائیں اترتی ہیں۔ ان بلاؤں کو دفع کرنے کے لئے باقاعدہ وظیفے بنائے ہوئے ہیں، اخبارات میں آتے ہیں، اور جو لوگ ان پر یقین کرتے ہیں پھر وہ ان کو پڑھتے ہیں۔ اب وظیفہ پڑھنے میں کوئی مسئلہ نہیں، وظیفہ قرآن کا ہو، حدیث کا ہو، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مثلاً میں "لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ" پڑھتا رہوں، مجھے بتاؤ اس میں کیا حرج ہے؟ بالکل نہیں! لیکن آپ کہتے ہیں نہیں، صفر کے مہینے میں اس لئے پڑھنا چاہئے تاکہ بلائیں ہمیں نہ لگیں، یہ زیادتی ہوگی۔ حالانکہ "لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ" پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ میں نے مثال دے دی۔ وجہ یہ ہے کہ ہر چیز اس کی بنیاد پر منحصر ہوتی ہے، تو یہ ہمیں سکھایا گیا ہے: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" (تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے)۔ تو آپ کس نیت سے پڑھ رہے ہیں؟ تو ظاہر ہے اس نیت کا اعتبار ہوگا۔
اصل میں ہوتا کیا ہے؟ وہ ایک بہت logical بات آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ایک مکان بن رہا ہے، معمار جو ہے وہ صحیح ہے، مکان صحیح بنا رہا ہے۔ اگر کوئی دشمن ان میں سے مالکِ مکان کے یا معمار کے، ان دونوں میں لڑائی کروانا چاہتا ہو کہ یہ آپس میں لڑیں، تو یہ کوئی مشکل نہیں ہے۔ کیسے؟ وہ شخص اس مکان کے ساتھ قریب سے گزر کر اس مکان کو ذرا تنقیدی نگاہ سے اس طرح دیکھے، "یار یہ دیوار کچھ ٹیڑھی سی نظر آرہی ہے"۔ بس اتنی بات کہہ کر گزر جائے۔ وہ اگر مضبوط کرنا چاہتا ہو تو ایک دوسرے آدمی سے بھی کہہ دے کہ وہ بھی اس طرح کہہ دے۔ کہہ کر گزر جائے، پھر تیسرا آدمی۔ بس پھر تو لڑائی شروع ہوگی۔ مالکِ مکان کہے آپ نے دیوار ٹیڑھی بنائی، کہتے ہیں کوئی ساہل لے لو اس کے ساتھ ناپو، دیکھو بالکل کچھ نہیں ہے، ٹھیک ہے۔ لیکن اس کے دل میں جو شک پڑ گیا، اس شک کو دور کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ میں آپ کو اس لئے کہتا ہوں کہ انسان اپنی دنیاوی، ملکیتی، ذاتی، شخصی چیزوں کے بارے میں بہت حساس ہوتا ہے، تو جب اس کو کسی دنیاوی نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو معمولی معمولی باتوں پر بھی یقین کرنے لگتا ہے اور اس کو باقاعدہ اپنے لئے مدار بنا لیتا ہے زندگی کا۔
یہ ہندو کیا کرتے ہیں؟ ہندو جو ہے، یعنی میں اس لئے عرض کرتا ہوں کہ یہ چیزیں اس طرف جاتی ہیں۔ پھر یہ ہندو ہر عجیب الخلقت چیز جس میں کوئی عجوبہ ہو اس کو ماننا شروع کر لیتے ہیں، پھر اس کو پوجنا شروع کر لیتے ہیں، اور اس کے بارے میں قصے کہانیاں بنانا شروع کر لیتے ہیں۔ یہ ان کے پنڈت وغیرہ جو ہیں، وہ کرتے ہیں۔ اب مثلاً corona گزرا ہے نا، تو کم از کم ڈاکٹر حضرات آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ بھئی corona کی جو بیماری تھی یہ کیا تھی؟ وہ آپ کو اس کے بارے میں جو findings ہیں وہ بتا دیں گے۔ لیکن ہندوؤں نے کیا توہم پرستی کی؟ انہوں نے باقاعدہ corona ایک دیوی کا بت بنایا، corona نامی، اور باقاعدہ اس کو پوجنے لگے تاکہ ہمیں نقصان نہ پہنچائے۔ مطلب انہوں نے نفع کے اور نقصان سے بچنے کے علیحدہ علیحدہ بت بنائے ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ کالی دیوی، ان کا ایک بت ہے، وہ بہت خونخوار قسم کی دیوی بتائی جاتی ہے ان کے قصے کہانیوں میں۔ ان کے پتا نہیں کتنے ہاتھ ہیں اور اس میں خنجر ہے اور کیا کیا چیزیں انہوں نے بنائی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کی پوجا کرکے سمجھتے ہیں کہ اب یہ ہمیں کالی دیوی کچھ نہیں کہے گی، لہٰذا ہمیں نقصان نہیں ہوگا۔ اس طرح وہ جب جاتے ہیں تو باقاعدہ زائچہ بنواتے ہیں کہ ہم جائیں نہ جائیں، یہ دن نحس ہے، یہ دن فلاں ہے، یہ دن فلاں ہے۔ باقاعدہ ان چیزوں پر وہ یقین رکھتے ہیں اور یہ چیزیں ان میں اتنی پھیلی ہیں کہ ہمارے بعض لوگ، جن میں بڑے بڑے سیاست دان بھی شامل ہیں، وہ زائچے بنواتے ہیں، اپنے سفر سے پہلے، اپنے کسی کام سے پہلے۔ بھئی سنت کا طریقہ کیا ہے؟ استخارہ کرلو، استخارہ کرلو، اللہ پاک سے صلاح کرلو۔ استخارہ کرنا کیا ہے؟ اللہ سے صلاح کرنا۔ وہ کیا کرتے ہیں؟ زائچے بنواتے ہیں تاکہ معلوم کرلیں کہ ہمارا جانا نقصان دہ تو نہیں ہوگا؟ تو اس طرح ان لوگوں نے یہ بنائے ہوئے ہیں۔
اب یہ جو بات ہے کہ چونکہ اس میں بلائیں نہیں اترتیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث شریف میں فرمایا:
لَا صَفَرَ (صفر میں کوئی مسئلہ نہیں ہے)۔
ابھی میں نے آپ کے سامنے یہ حدیث شریفہ چونکہ تلاوت کی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ میں نے اس کو عربی میں تلاوت کی ہے۔ میں ذرا اس کا ترجمہ بھی پڑھ لوں تاکہ اندازہ ہوجائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے۔ اول آیت کریمہ جو تلاوت کی، اس کا فرماتے ہیں:
حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک مہینوں کا ہٹانا کفر میں ترقی کا باعث ہے۔
یہ اس وقت کے مشرکوں میں یہ بات تھی کہ وہ مہینے آگے پیچھے کر لیتے تھے، جو وہ مہینے تھے جن کو برکت والے مہینے کہتے تھے، چار، ان میں سے آگے پیچھے کرلیتے تھے اپنی مرضی سے۔ اس کو نسیء کہتے ہیں۔ تو اللہ پاک نے فرمایا یہ نسیء کا جو عمل ہے، یہ کیا ہے؟ کفر ہے، کفر کا باعث ہے،
من جملہ اور کفریات کے، یہ حرکت بھی کفر ہے جو کفار قریش ماہ محرم وغیرہ کے متعلق کیا کرتے تھے۔ مثلاً اپنی غرض سے محرم کو صفر قرار دے کر اس میں لڑائی کو حلال کر دیتے۔
مطلب اس سے پتا چلا کہ اللہ جل شانہ کی بنائی ہوئی چیزوں میں تغیر نہ کرو۔ مثلاً میں مغرب کی نماز پڑھتا ہوں تو ظہر کے وقت مغرب کی نماز پڑھوں گا تو کیسا ہوگا؟ ظاہر ہے نماز نہیں ہوگی، نہ ظہر کی نماز ہوگی نہ مغرب کی نماز ہوگی۔ نماز پڑھتے ہیں اس میں ہر رکعت کے اندر دو سجدے ہوتے ہیں، اگر اس نے اس میں کہا کہ سجدہ تو بہت زبردست فضیلت کا عمل ہے، چلو ایک رکعت میں تین سجدے کرو، تو تین سجدے کرنے سے نماز کتنی بَڑھیا ہو جائے گی؟ نماز ہی نہیں رہے گی! تو اس کا مطلب ہے ہم اللہ کی بنائی ہوئی چیز میں تغیر نہیں کر سکتے، تبدیلی نہیں کر سکتے۔ یہ اختیار ہمیں حاصل نہیں۔ ہمارا دین اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، اللہ ہی اس میں جو تبدیلی کرنا چاہتا تھا وہ کر دی، اب اس کے بعد وحی کا سلسلہ بند ہے، اب اس میں کوئی بھی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ تو اس وجہ سے یہ جو نسیء کا عمل تھا، یہ بھی چونکہ تبدیلی تھی، اس کو کفر قرار دیا گیا۔
ارشاد فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ مرض کا تعدیہ ہے۔۔۔
اس کے اندر تفصیل بتاؤں گا کہ کیا مطلب ہے، کیونکہ یہ بھی ایک ہمارے عقیدے کا مسئلہ ہے۔
تعدیہ نہیں بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ کسی کو مریض بناتے ہیں اس طرح دوسرے کو اپنے مستقل تصرف سے مریض کر دیتے ہیں۔ میل جول وغیرہ سے مرض کسی کو نہیں لگتا، یہ سب وہم کا حصہ ہے۔ اور نہ جانور کے اڑنے سے بدشگونی لینا کوئی چیز ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں نا جی جانور اڑے گا تو یہ ہوجائے گا یہ ہوجائے گا، اس طرح اڑے گا تو یہ ہوجائے گا، نہیں، اس کا کوئی اصل نہیں ہے۔
اور نہ الو کی نحوست کوئی چیز ہے، جیسے عام طور پر اس کو منحوس کہا جاتا ہے، یہ بالکل من گھڑت بات ہے اور حدیثِ صریح کے خلاف ہے۔ اور اس میں ایک رسم، چار شنبہ۔
یہ صفر کے مہینے میں بعض علاقوں میں (پتا نہیں یہاں ہے یا نہیں ہے، ہمارے علاقوں میں تو ہوا کرتا تھا اب شاید نہیں ہے) وہ یہ ہے کہ چار شنبہ جب آخری چار شنبہ ہوتا ہے نا، آخری بدھ، اس میں وہ چوری پکاتے ہیں۔ وہ ایک خاص قسم کی موٹی روٹی ہوتی ہے گندم کی، اس کو پھر وہ چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں خاص procedure سے۔ اس میں پھر وہ سونف اور گھی اور میٹھا اور یہ ساری چیزیں ڈال کر ( وہ بہت لذیذ چیز ہے کوئی شک نہیں) لیکن اس کا جو سلسلہ جوڑا جاتا ہے نا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے ساتھ، ایسی کوئی بات نہیں جو لوگوں نے مشہور کیا ہے۔ ویسے چوری کھاؤ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر اس نیت سے کھاؤ گے تو ٹھیک نہیں ہے کیونکہ آپ نے اپنی طرف سے ایک چیز suggest کر لی ہے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بدفالی شرک ہے، تین دفعہ ارشاد فرمایا
بدفالی شرک ہے۔ بدفالی کیا ہے؟ آپ باہر آئیں، پتا چلا بلی سامنے سے گزر گئی، "اوہ یہ معاملہ خراب ہوگیا، چلو واپس"۔ نہیں، نہیں بھئی بدفالی نہیں کرنی! یہ شرک ہے۔ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو اللہ نے آپ کے لئے لکھا ہے وہی ہوگا، اس سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتا چاہے آپ کچھ بھی کر لیں۔
لوگ اپنے دنیاوی نقصان کے لئے بڑے sensitive ہوتے ہیں، لہٰذا اگر کوئی ان کو بتا دے کہ آپ یہ کام کریں گے تو آپ کو فلاں دنیا کا نقصان ہو جائے گا، اس سے لوگ بڑے ڈر جاتے ہیں "اوہ کہیں مجھے وہ نقصان نہ ہوجائے" تو اس شرک میں شامل ہوجاتے ہیں۔ کم از کم میری عمر میں کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ایک کاغذ circulate ہو جاتا ہے مختلف طریقوں سے کہ ایک پتا نہیں شیخ احمد صاحب مدینہ منورہ میں، ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ایسا کرو تو یہ ہوجائے گا، ایسا کرو تو یہ ہوجائے گا، اور اگر کسی نے اس پر یقین نہیں کیا تو اس کو نقصان ہو جائے گا، فلاں نقصان ہو جائے گا۔ اور پھر بتاتے ہیں کہ فلاں نے اس کو تقسیم کیا، ایک ہزار کاپیاں اس کی تقسیم کیں، اس کو ایک ہفتے سے پہلے پہلے ان کو فلاں خوشخبری ملی، اور فلاں صاحب نے نہ مانا تو اس کا بیٹا مر گیا یا کوئی یہ ہوگیا۔
اب بتاؤ، جو ضعیف الاعتقاد لوگ ہیں ان کو گھٹی تو مل گئی، اب وہ کیا کرتے ہیں؟ جلدی جلدی دھڑا دھڑ اس کی کاپیاں بنا کر تقسیم کرنا شروع کر لیتے ہیں۔ تو یہ گویا کہ self sustainable ہوتا ہے، بالکل خود بخود یہ چلتا ہے اور یہ معاملہ آگے بڑھتا ہے۔ یہ لوگوں نے design کیے ہوئے ہیں اس قسم کی چیزیں۔
اَلْحَمْدُ للہ ثم اَلْحَمْدُ للہ ہم نے ہر دفعہ اس سے انکار کیا اور ہمیں کوئی نقصان نہیں ہوا، اَلْحَمْدُ للہ ہر دفعہ دھڑلے سے اس کا انکار، اور اب بھی کرتے ہیں، انکار کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ دھڑلے سے اس کا انکار کیا اور ہمیں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ آپ بھی سب انکار کرلیں، میرے سامنے آپ کہیں ہم انکار کرتے ہیں، ایسی چیزیں نہیں ہیں۔ بس مقصد کیا ہے ہم خواہ مخواہ کیوں ضعیف الاعتقادی میں پھنس جائیں، ہماری کیا ضرورت ہے؟ اپنے آپ کو کیوں پریشان کریں؟ دین سے کیوں اپنے آپ کو دور کریں؟ دیکھو میں حدیث شریف سنا رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدفالی شرک ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بہت بڑے صحابی ہیں، یہ وہ صحابی ہیں جن کو "صاحبِ لوٹا اور مسواک" کہتے تھے، لیکن ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوٹا اور مسواک حضرت کے ساتھ ہوتا تھا، اور اتنا زیادہ حضرت کے ساتھ ملنا جلنا تھا کہ لوگ ان کو حضرت کا گھر والا سمجھتے تھے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بہت بڑے عالم صحابی تھے، تو انہوں نے فرمایا:
ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کو خیال نہ آتا ہو لیکن اس کو توکل کے ذریعے سے بھگا دیتے ہیں۔
خیال آنا یہ کوئی برا نہیں ہے، مثلاً انسان کو خیال آجائے کہیں ایسا نہ ہو، ٹھیک ہے آجائے خیال کوئی مسئلہ نہیں، لیکن آپ فوراً کہہ دیں "نہیں، ایسا کوئی نہیں"، بس یہ توکل ہے۔ نہیں، ایسا کوئی نہیں"۔ جب اللہ نہیں چاہے گا تو کیا ہوگا؟ خدا چاہے گا تو بے شک ہم نہ بھی چاہیں پھر بھی ہوجائے گا، اور خدا نہیں چاہے گا تو بے شک ہزار دفعہ لوگ کہیں تو پھر بھی کچھ نہیں ہوگا۔ بس یہی بات۔
تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
ہم میں سے اکثر کو یہ خیال آتا تھا (کیونکہ مشہور تو تھا نا، اس کا مطلب ہے صفر کی بات آج کی بات نہیں ہے، یہ بہت پہلے سے چلی آرہی ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ فرمایا: لَا صَفَرَ یعنی صفر میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
تو بس ٹھیک ہے ہم لوگ بھی کہیں گے صفر میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس وقت بھی یہ بات تھی، پھر یہ فائدے میں لکھتے ہیں
جو بات مشہور ہو اس کا خیال وقت پر آ ہی جاتا ہے۔ (لوگوں کی باتوں سے انسان اثر لیتا ہے) لیکن اس خیال پر عمل کرنا، اس کو دل میں جمانا جائز نہیں ہوگا بلکہ توکل کے خیال سے اس باطل خیال کو رفع کر دیا جائے، آدمی کہہ دے کہ اللہ نہیں چاہے گا۔
ایک اور بات بھی ہوتی ہے، جیسے بعض لوگ کہتے ہیں فلاں مہینے میں شادی نہیں کرنی، اتوار کے دن یہ کام نہیں کرنا۔ یہ عورتوں میں زیادہ مشہور ہے۔ فلاں جگہ مہمان گئے تو اس کے پیچھے جھاڑو نہ ماریں، یعنی گھر سے کوئی باہر جائے نا تو اس کے پیچھے جھاڑو نہ ماریں۔ ہمارے گاؤں میں ایک عورت تھی، تو اس کا ظاہر ہے بیٹا باہر جارہا تھا تو اس کی بہو کو خیال نہیں ہوا تو اس نے جھاڑو مارا، جھاڑو ماری نا گھر میں، تو اس پر اس نے گرم پانی اس کے سر کے اوپر ڈال دیا۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ! ایسے ظالم لوگ ہیں کیونکہ آپ نے میرے بیٹے کے پیچھے جھاڑو ماری اس کا مطلب ہے اس کو نقصان ہو جائے گا۔ اول ایک غلط خیال اور اس کا نتیجہ کیا؟ اتنا بڑا ظلم کیا! تو یہ چیزیں عورتوں میں مشہور ہوتی ہیں، اور یہ بیان عورتوں کی طرف بھی جارہا ہے، مطلب ایسا نہیں کہ میں آپ سے کہہ رہا ہوں، یہ بیان بہت دور جارہا ہے تو لوگ جو سنتے ہیں وہ ما شاء اللہ اس کا ظاہر ہے جان لیں گے۔ تو یہ بات ہے کہ کبھی بھی ایسے شرکیہ خیالات جو آتے ہیں اس کی پروا نہیں کرنا چاہئے، بس صرف اتنا کام ہے پرواہ نہیں کرنا چاہئے۔
تبلیغ ہر ایک کا کام نہیں ہے، وہ ہر ایک نہیں کر سکتا، اس کے لئے کچھ طریقۂ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ بعض لوگ جھگڑے شروع کر لیتے ہیں، لڑائیاں شروع کرتے ہیں، تو یہ لڑائیوں کی چیز تو ہے نہیں، سمجھانے کی چیز ہے اور پیار سے سمجھانے کی چیز ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ پاک نے جب پیغمبری عطا فرمائی تو فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے نرم زبان میں بات کرنا، نرمی سے بات کرنا۔ اب فرعون سے برا آدمی کوئی ہوگا؟ اس وقت فرعون سے برا تو کوئی نہیں ہو سکتا آج کل اور موسیٰ علیہ السلام سے بڑا آدمی کوئی ہوگا؟ وہ بھی نہیں ہو سکتا۔ تو موسیٰ علیہ السلام جیسے اولو العزم پیغمبر کو اللہ پاک فرماتے ہیں کہ فرعون سے نرم زبان میں بات کرنا، تو ہم اپنے بھائی سے سخت زبان میں بات کریں گے تو کام ہوجائے گا؟ نہیں ایسا نہیں ہے، پیار سے سمجھانا چاہئے، طریقۂ کار ہے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ، یہ اس وقت بچے تھے اور ایک بڑی عمر کے صاحب ان کے قریب بیٹھ کر وضو کر رہے تھے، تو وضو ٹھیک نہیں کر رہے تھے۔ ظاہر ہے نیا نیا دین آیا تھا تو بہت سارے لوگوں کو پتا بھی نہیں تھا تو وضو صحیح نہیں کر رہا تھا۔ اب امام حسن رضی اللہ عنہ اس کو فوری کہہ دیتے کہ آپ غلط وضو کر رہے ہیں، اس کا نتیجہ کچھ اور ہو سکتا تھا۔ تو انہوں نے کیا کیا؟ فرمایا چچا جان! ذرا آپ مجھے دیکھیں، میں کبھی کبھی وضو میں غلطی کر سکتا ہوں تو آپ مجھے ذرا دیکھیں کہ میں وضو کیسے کرتا ہوں، کوئی غلطی ہو تو مجھے بتا دیں۔ انہوں نے کہا بیٹا کرلو۔ تو انہوں نے ان کے سامنے پورا وضو کر لیا۔ وہ صاحب آخر مخلص تو تھے، انہوں نے کہا بیٹا آپ کا وضو صحیح ہے، میرے وضو میں مسئلہ ہے، ان شاء اللہ میں پھر ٹھیک کرلوں گا، پھر میں ٹھیک کرلوں گا۔ یہ طریقہ ہے! اب یہ بھی ایک طریقہ تھا سمجھانے کا، اور وہ بھی طریقہ جیسے ہمارے آج کل کوئی نیا آدمی بے شک آجائے نماز کے لئے، مثلاً اتنا زیادہ نہ آتا ہو مسجد میں اور وہ وضو کر رہا ہو، مثلا وضو میں کوئی مسئلہ ہو، اس کی سمجھ نہ ہو یا بھول جاتا ہو (بھول جانا بھی ہوتا ہے) تو کیسے سمجھاتے ہیں؟ "یہ ابھی تک یہ طریقہ نہیں آیا، یہ کس طرح وضو کرتے ہو؟" لڑائی، خواہ مخواہ مصیبت! تو اس طرح نہیں ہے، پیار سے طریقے سے سمجھانا چاہئے۔
تو اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں کہ یہ جو توہمات ہیں، توہمات سے بہت کچھ بگڑتا ہے۔ ہمارا دین بہت خالص ہے جیسے میں نے پہلے عرض کیا، یہ اس کا یعنی سارا دار و مدار جو ہے وہ یا تو قرآن پر ہے یا پھر سنتِ رسول پر ہے۔ لہٰذا جب کبھی اختلاف ہو، کوئی نہ سمجھتا ہو، تو لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چلو دیکھ لیتے ہیں، دیکھ لیتے ہیں، قرآن کیا کہتا ہے، سنتِ رسول کیا کہتی ہے، بڑوں سے پوچھ لیتے ہیں۔ اس طریقے سے،
میں وہاں تھا جرمنی میں، تو عرب حضرات ہمارے ساتھ ما شاء اللہ بہت زیادہ ہوتے تھے۔ علمی اختلاف بھی ہوتا ہے، ہوتا ہے، اور یہ علماء میں بھی ہوتا ہے کوئی ایسا مسئلہ نہیں، صحابہ کرام میں بھی علمی اختلاف ہوا کرتا تھا، اجتہادی اختلاف۔ تو کبھی بات میں اختلاف ہو جاتا تو عرض کرلیتے ما شاء اللہ "ھذا رایک وھذا رایی ممکن انت صحیح ممکن انا صحیح، نتکلم علی ھذا الامر" اچھا ما شاء اللہ، یہ آپ کی رائے ہے اور یہ میری رائے ہے، ممکن ہے آپ صحیح ہوں ممکن ہے میں صحیح ہوں، چلو اس پر بات کرلیتے ہیں، سبحان اللہ! کوئی لڑائی نہیں۔
بلکہ ایک دفعہ ایسا ہوا بالکل میرے واپس آنے کے دن تھے، بیٹھا ہوا تھا تو میں نے اچانک کہا: "یا اخوان العرب! نحن نحبکم" وہ متوجہ ہوگئے کہ کیا کہنا چاہتے ہیں، میں نے کہا، "آپ کے ساتھ ہم محبت کرتے ہیں اے عرب بھائیو! کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے عربوں کے ساتھ محبت کرو، کیونکہ میں عرب ہوں، قرآن کی زبان عربی ہے اور اہل جنت کی زبان عربی ہوگی۔ تو آپ کے ساتھ ہم محبت کرتے ہیں۔" کہتے ہیں: ما شاء اللہ بہت اچھا ہے۔ لیکن فوراً میں نے کہا، "لیکن اگر ایک طرف آپ ہوں اور ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں گے، تمہارے ساتھ نہیں ہوں گے"۔ اب وہ بڑے حیران ہوگئے کہ یہ کیا بات ہے؟ یعنی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیسے نہیں ہوں گے؟ میں نے کہا، "آپ کا جو یہ لباس ہے، کہو کیا یہ مسنون لباس ہے؟" وہ پہنتے ہیں ناں یہاں تک جو ہوتا ہے۔ میں نے کہا: آپ کا یہ جو لباس ہے "توب" "کیا یہ مسنون لباس ہے؟" وہ پہنتے ہیں نا یہاں تک جو ہوتا ہے میں نے کہا: "کیا یہ مسنون لباس ہے"؟ بس فوراً سمجھ گئے، کہتے ہیں، "شیخ بس ہم آپ سے یہی باتیں چاہتے ہیں آپ اس طرح ہی باتیں کرلیا کریں"۔ فوراً انہوں نے اپنی غلطی مان لی۔ مطلب یہ ہے کہ محبت کے ساتھ بات کرو تو محبت کے ساتھ بات کا اثر ہوتا ہے۔
تو یہ جو توہمات ہیں ان کو بھی دور کرنے کا طریقہ ہمارے پاس کیا ہے؟ محبت کے ساتھ سمجھانا۔ مثلاً ہمارے گھروں میں یہ مسئلہ تھا کہ کوا جب بولتا ہے تو مہمان آتے ہیں۔ ٹھیک ہے، بہت عرصے سے چلا آرہا تھا۔ تو میں نے کہا اس کا ٹیسٹ تو بہت آسان ہے، آپ ایک نوٹ بک ایک شخص کو دیں جو صرف یہ نوٹ کرے کہ کوا کب کب بولا ہے، تاریخ اور وقت نوٹ کرلیں، اور دوسرا آدمی جب جب مہمان آئے تو اس کو نوٹ کرے کہ فلاں تاریخ کو فلاں وقت پہ مہمان آئے، اور ایک مہینے کے بعد کھول کے آپس میں مقابلہ کرلیں کہ مہمان کب آیا تھا اور کوا کب بولا تھا، پتا چل جائے گا۔ اس سے وہ چیز بہت جلدی رخصت ہوگئی، ختم ہوگئی، اب کوئی بھی اس پر یقین نہیں کرتا۔ اس طرح بہت ساری باتیں جو ہمارے ہاں مشہور ہیں اور وہ غلط ہیں تو ایسی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں صاف ستھرے دین پر چلنا چاہئے اور صاف ستھرا دین اللہ نے جو بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعلیمات صحابہ کرام تک منتقل کی ہیں اور انہوں نے اس پر جیسے عمل کیا، بس ہم بھی اس طرح عمل کریں۔
ایک صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی دور جگہ تشریف لے گئے تھے، مہمان تھے، اور اور کھانے کا وقت تھا، کھانا آگیا۔ تو نوالہ گر گیا اس صحابی نے یہ چاہا کہ سنت کے مطابق اس کو صاف کرکے کھا لیں۔ کسی نے کان میں کہا حضرت یہ لوگ اس چیز کو اچھا نہیں سمجھتے، یعنی یہ جو لوگ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ تو صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا تو خفیہ طور پہ چھپ کے کھا جاتے عادت کے مطابق، لیکن حضرت نے کیا کیا؟ اس کو اس طرح لہرا کے کہ، "ان بیوقوفوں کے لئے ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑیں گے؟" اور پھر اس کے بعد اس کو کھا لیا۔
مقصد یہ تھا کہ ان صحابہ کرام نے ایک ایک چیز کی حفاظت کی، ایک ایک چیز کی حفاظت کی، اور ہر اس چیز کو منع فرما دیا جو دین میں نہیں تھی، اور دین کے طور پہ مشہور، جو دین کے طور پہ مشہور ہو اور دین نہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ بدعت۔ اس پہ بعض لوگ لڑتے ہیں "بھئی بدعتی"، خدا کے بندے لڑو نہیں، سمجھو کہ بدعت ہے کیا چیز؟ ہر نئی چیز بدعت نہیں ہے۔ مثلاً آج کل ہم سب لوگ جہاز میں سفر کرتے ہیں، یہ بدعت ہے؟ یہ بدعت نہیں ہے، کیونکہ جہاز میں جانا عبادت تو نہیں ہے نا، نہ دین کی کوئی بات ہے، کافر بھی جہاز میں جاتے ہیں، مسلمان بھی جہاز میں جاتا ہے، لہٰذا وہ کوئی بدعت کی بات نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ نے کوئی دین کے اندر کوئی نئی بات نکالی جو دین میں نہ ہو اور آپ اس کو دین سمجھ رہے ہوں تو پھر وہ بدعت ہوگی۔ تو ایسی چیزوں سے بچنا چاہئے۔
صحابہ کرام باقاعدہ دیکھیں نا، ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جن کا میں نے ذکر کیا بڑی عجیب بات فرمائی، فرمایا، "امام جس وقت نماز ہو جائے وہ دائیں طرف سے بھی پھر کر، یعنی نمازی ہیں، ان کی طرف رخ کر سکتے ہیں اور بائیں طرف سے بھی پھر کر، دونوں طرف سے اجازت ہے۔ لیکن اگر اس نے دائیں طرف پھرنا اپنے لئے لازم کر دیا کہ صرف دائیں طرف پھرتا ہے، بائیں طرف نہیں پھرتا، اس نے اپنی نماز میں شیطان کا حصہ بنا لیا"۔
اب سنو کیا مطلب! چونکہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض دفعہ بائیں طرف بھی پھرتے ہوئے دیکھا ہے، یعنی بائیں طرف بھی پھرتے دیکھا ہے، تو جو کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو آپ اس کو غلط تو نہیں قرار دے سکتے، ہاں ٹھیک ہے آپ ساری عمر بے شک دائیں طرف، لیکن آپ لازم نہ کریں، کیونکہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے صرف دائیں طرف ہی اور بعض لوگ صرف بائیں طرف ہی عادت ہوتی ہے، تو عادت کا مسئلہ کوئی نہیں کیونکہ اس میں عقیدہ شامل نہیں ہے وہ صرف انسان کی طبیعت ہے۔ لیکن اگر عقیدہ شامل ہوجائے کہ "نہیں، یہ اس طرح ہے"، اس کو دین سمجھا جائے تو پھر دیکھنا پڑے گا کہ آیا وہ دین ہے یا نہیں ہے۔
تفصیلات بہت ہیں لیکن اصول سمجھنا چاہئے۔ وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، گزشتہ امتوں میں یہود میں اکہتر فرقے بن گئے تھے، نصاریٰ میں بہتر ہوگئے تھے، میری امت میں عنقریب تہتر ہو جائیں گے لیکن صرف ایک نجات پائے گا۔ صحابہ کرام نے پوچھا یارسول اللہ! وہ کون نجات پائیں گے؟ فرمایا: مَا اَنَا عَلَيْهِ وَ اَصْحَابِيْ (جس پر میں چلا ہوں اور جس پر میرے صحابہ چلے ہیں)۔ یعنی میرا طریقہ اور میرے صحابہ کا طریقہ، یہ صحیح ہے۔ اس کے علاوہ باقی کسی کا کوئی طریقہ جو ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو اب دیکھ لیں ہمارے پاس اصول آگیا کہ ہم لوگ اللہ کی بات کو حضور سے سیکھیں اور حضور کی بات کو صحابہ کرام سے سیکھیں، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کس سنت کو صحابہ کرام نے کیسے اس پر عمل کر لیا۔ اگر یہ اصول ہمارا زندہ ہے تو ہمیں کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور اگر اس اصول میں ہماری گڑبڑ ہوگئی تو پھر مسائل بہت زیادہ ہیں۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو ہمیشہ حق پر قائم رکھے اور جو سچ ہے اور حق ہے ہمیں اس کے ساتھ کر دے، اور جو باطل ہے اس سے ہمیں ہر صورت میں بچائے۔ ایک دعا ہے، میں بھی کرتا ہوں آپ لوگ بھی اس کو سیکھیں، کہ آج کل اس کی بڑی ضرورت ہے: اَللّٰهُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ وَ اَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ (اے اللہ مجھے حق، حق دکھا دے اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما، اور باطل، باطل دکھا دے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما)
وَ مَا عَلَيْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ۔