منافقت کا انجام اور کافروں سے دوستی کی ممانعت

درس نمبر 208، سورۃ النساء: آیات: 139 تا 141- اشاعتِ اول: 23 جون، 2022، بمطابق 23 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • مسلمانوں کے بجائے کافروں کو دوست بنانے والے منافقین
  • حقیقی عزت اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے
  • قرآنی آیات کا مذاق اڑانے والوں کی مجالس سے دور رہنے کا حکم
  • منافقوں کا دہرا معیار: فریقین سے مفادات حاصل کرنے کی کوشش
  • کافروں پر مسلمانوں کی حتمی بالادستی کا الٰہی وعدہ
  • قیامت کے دن منافقین اور کافروں کا مشترکہ انجام (جہنم)

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ۔

أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيعًا ﴿139﴾ وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا ﴿140﴾ الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَلَن يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا ﴿141﴾ صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

ترجمہ: وہ منافق جو مسلمانوں کے بجائے کافروں کو دوست بناتے ہیں۔ کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کر رہے ہیں؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کی ہے ﴿139﴾ اور اس نے کتاب میں تم پر یہ حکم نازل کیا ہے کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو ایسے لوگوں کے ساتھ اس وقت تک مت بیٹھو جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائیں، ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤگے۔ یقین رکھو کہ اللہ تمام منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے ﴿140﴾ (اے مسلمانو!) یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے (انجام کے) انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ چنانچہ اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح ملے تو (تم سے) کہتے ہیں کہ ”کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟“ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ”کیا ہم نے تم پر قابو نہیں پالیا تھا؟ اور کیا (اس کے باوجود) ہم نے تمہیں مسلمانوں سے نہیں بچایا؟“ بس اب تو اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، اور اللہ کافروں کے لئے مسلمانوں پر غالب آنے کا ہرگز کوئی راستہ نہیں رکھے گا ﴿141﴾

حاشیہ: یعنی ان لوگوں کو اصل غرض دُنیوی مفادات سے ہے۔ اگر مسلمانوں کو فتح ہو اور مال غنیمت ہاتھ آئے تو یہ ان کے ساتھی ہونے کا دعویٰ کرکے ان سے مال بٹورنے کی فکر میں رہتے ہیں، اور اگر کبھی کافروں کا داؤ چل جائے تو ان پر یہ احسان جتلاتے ہیں کہ اگر ہماری مدد تمہارے ساتھ نہ ہوتی تو مسلمان تم پر غالب آجاتے۔ لہٰذا ہمیں ہماری ان خدمات کا مالی صلہ دو۔

یعنی یہ صرف گویا کہ اپنے مالی مفادات کے لیے وہ یعنی double role play کر رہے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں سے بھی مفادات اپنے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کافروں سے بھی۔ تو گویا کہ ان کی ساری غرض دنیاوی ہوتی ہے، اور اس کے لیے یہ کھیل رچا رکھے ہوتے ہیں، اور دوسری طرف یہ بات فرمائی کہ وہ عزت چاہتے ہیں کافروں سے، تو عزت تو اللہ پاک کے پاس ہے، یعنی اللہ تعالی ہی عزت دیتا ہے ﴿وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ﴾۔ تو لہٰذا یہ لوگ یہ خوامخواہ ایک فضول حرکت کرتے ہیں، اور پھر اللہ پاک فرماتے ہیں کہ قیامت میں منافقوں اور کافروں کو جمع کیا جائے گا، ان کا انجام یہ ہوگا۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ہر قسم کی منافقت سے اور ہر قسم کے کفر سے اور ہر قسم کی گندگی سے اور غلط راستوں سے محفوظ رکھے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔