۔ تکمیلِ دین، ماہِ صفر کی حقیقت اور توہم پرستی کا خاتمہ

اشاعت اول: 2 ستمبر 2022 بمطابق 5 صفر 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • دین کی تکمیل اور اس میں کسی بھی نئی چیز (بدعت) کی ممانعت
  • ماہِ صفر سے متعلق توہمات، نحوست، بدفالی اور شرکیہ عقائد کی تردید
  • تقدیر پر ایمان اور بیماریوں کے لگنے (تعدیہ) کی شرعی اور طبعی حقیقت
  • ظنی باتوں، جوتشیوں اور فال نکالنے والوں پر یقین کرنے کا شرعی حکم
  • موجودہ ملکی حالات اور قدرتی آفات: ہمارے اعمال اور گناہوں کا نتیجہ
  • آفات اور عذاب سے بچنے کا واحد راستہ: اجتماعی اور شعوری توبہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔

أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

قَالُوا طَائِرُكُمْ مَعَكُمْ ۚ أَئِنْ ذُكِّرْتُمْ ۚ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ»۔ كَانَ شَهْرُ صَفَرَ يَتَشَاءَمُ بِهِ بَعْضُ النَّاسِ وَيَتَطَيَّرُ، كَمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ مَعَ هَذَا الِاعْتِقَادِ يَبْتَدِعُونَ فِيهِ النَّسِيءَ النُّكْرَ۔ فَأَبْطَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِقَوْلِهِ: «إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ»

وَكَذَلِكَ نَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّؤْمَ وَالطِّيَرَةَ بِهِ خُصُوصًا، وَبِكُلِّ شَيْءٍ عُمُومًا۔ وَأَوْضَحَ بِهَذَا النَّفْيِ أَنَّهُمَا مَوْهُومَانِ، فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ: يَتَشَاءَمُونَ بِدُخُولِ صَفَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَفَرَ»۔ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «الطِّيَرَةُ شِرْكٌ»، قَالَهُ ثَلَاثًا۔ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ

وَعُلِمَ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ وَسْوَسَةَ الطِّيَرَةِ إِذَا لَمْ يَعْتَقِدْهَا بِالْقَلْبِ، وَلَمْ يَعْمَلْ بِمُقْتَضَاهَا بِالْجَوَارِحِ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ بِهَا بِاللِّسَانِ لَا يُؤَاخَذُ عَلَيْهَا، وَهَذَا هُوَ الْمُرَادُ بِالتَّوَكُّلِ۔

وَمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ: «الشُّؤْمُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالْفَرَسِ» فَأُوِّلَ سَبِيلَ الْفَرْضِ لِمَا قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «وَإِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الدَّارِ وَالْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ»۔

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ «قَالُوا طَائِرُكُمْ مَعَكُمْ ۚ أَئِنْ ذُكِّرْتُمْ ۚ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ»

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

معزز خواتین و حضرات! باتیں بہت ہو سکتی ہیں، باتوں کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ لیکن وہ بات جو موقع اور محل کے مطابق ہو، وہ فائدہ زیادہ دیتی ہے۔ اس طرح بعض باتیں مشہور ہو جاتی ہیں لیکن اس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ ثبوت نہیں ہوتا۔ ہمارا جو دین ہے بہت مضبوط بنیادوں پہ قائم ہے۔ یہ ظن و گمان کے اوپر نہیں ہے۔ سنی سنائی باتوں پر نہیں ہے کہ جو بھی چیز کسی کے ذہن میں آ جائے اس کو اس کے ساتھ باندھ لے کہ یہ دین ہے، یہ نہیں ہو سکتا۔ دین اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پہنچایا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر گواہی قائم کی ہے۔عرفات کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی: «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا»۔ "آج کے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر لیا۔ تم پر اپنی نعمت تمام کر لی۔ اور اسلام کو بطور دین تمہارے لیے پسند کر لیا" یہ بات سن کر ایک یہودی نے کہا اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ تک جب یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا ہماری تو اس دن دو عیدیں تھیں، جمعے کا دن بھی تھا اور حج کا دن بھی تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ دین مکمل ہو گیا ہے۔ اب اس دین کے اندر کوئی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ جو بھی تبدیلی لائے گا اور دین سمجھے گا اس کو تو بدعتی ہوگا۔ اور بدعت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: «كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»، ساری بدعتیں گمراہی ہیں۔ اور ضلالت جو ہے گمراہی، وہ دوزخ کی طرف لے جانے والی ہے۔ لہٰذا ہم سب کو اس بات سے بچنا چاہیے کہ کسی بھی بات کو ہم دین سمجھیں تو اس کا ہمارے پاس پورا ثبوت ہو۔ یقین کے ساتھ ہم کہہ سکیں، سنی سنائی باتوں پر ہم لوگ نہ چلیں، یہ بات بہت اہم ہے۔ اور دوسری بات ماشاءاللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن تمام صحابہ کرام سے پوچھا کہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے میرے پاس بھیجا تھا میں نے تم تک پہنچا دیا ہے؟ تمام صحابہ کرام نے کہا یا رسول اللہ! نہ صرف پہنچایا ہے بلکہ حق ادا کیا ہے اس کا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی اٹھائی آسمان کی طرف، یا اللہ تو گواہ رہنا، یا اللہ تو گواہ رہنا، یا اللہ تو گواہ رہنا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دین وہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی بات ہوگی دنیا کے لحاظ سے ہم مان سکتے ہیں، دنیا میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا: «أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأُمُورِ دُنْيَاكُمْ»۔ تم اپنی دنیاوی چیزوں کو بہت اچھی طرح جانتے ہو۔ پس میڈیکل ریسرچ اگر ہو جائے، کوئی پابندی نہیں۔ سائنس میں ریسرچ ہو جائے کوئی پابندی نہیں، ایگریکلچر میں ریسرچ ہو جائے کوئی پابندی نہی انجینئرنگ میں ترقی کر لے، کوئی پابندی نہیں۔ یہ سارے دنیا کے امور ہیں۔ دنیا کے امور میں تبدیلی پر کوئی پابندی نہیں کیونکہ سائنس ترقی پذیر ہے، سائنس ترقی پذیر ہے۔ یہ وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کر رہی ہے۔ یہ سکریچ سے شروع ہوئی ہے، زیرو سے شروع ہوئی ہے اور جا رہی ہے اور زیادہ ہو رہی ہے۔ جبکہ دین اس دن مکمل ہوا تھا۔ جس دن یہ فرمایا گیا نا: «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا»، تو دین اس وقت مکمل ہ و گیا تھا۔ اب اس کے اندر کوئی بھی اضافہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دین ہم خود develop نہیں کر رہے۔ بہت سارے کفار یہ کہتے ہیں کہ قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔ کیا مسلمان مانتے ہیں اس کو؟ نہیں، مسلمان نہیں مانتے۔ بلکہ مسلمان کہتے ہیں نہیں، اللہ پاک کی بھیجی ہوئی کتاب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہم تک پہنچایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ کتاب اللہ۔ رسول اللہ۔ تو یہ بات ہے کہ رسول اللہ نے کتاب اللہ ہم تک پہنچائی ہے۔ تو جب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خود لکھی ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے اندر کوئی اپنی طرف سے بات نہیں کی۔ قرآن اس پر گواہ ہے کہ جو بات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی گئی۔ تو پھر کسی اور کو کیسے موقع دیا جا سکتا ہے کہ اس کے اندر چیزیں شامل کریں؟ نہیں ہو سکتا۔ یہ اصولی باتیں ہیں، ان کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔ ہمارے دین کی جو مضبوط بنیاد ہے وہ ان چیزوں پر ہے۔ تو یہ صفر کا مہینہ جو ہے، اس کے بارے میں لوگوں نے کئی قسم کی باتیں بنائی ہیں۔ کئی قسم کی۔ اور وہ محض ظن اور تخمین پر ہے۔ اس کی کوئی اصل بنیاد نہیں ہے۔ فرمایا کہ جو رسول اصحاب قریہ کی طرف بھیجے گئے تھے، انہوں نے کفار سے فرمایا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ کیا نحوست اس کو سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جاتی ہے؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔ یہ سورہ یاسین میں ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ "نحوست" کس کو کہتے ہیں؟ اس کے بارے میں یہ بات بتائی گئی۔ کہ تم لوگوں نے جو اپنی بات کو صحیح سمجھا، یہی نحوست ہے تمہارے ساتھ۔ پیغمبر تو تمہیں صحیح چیز دے رہا ہے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں چیز دے رہا ہے۔

اور ارشاد فرمایا حق تعالیٰ نے کہ بے شک مہینوں کا ہٹانا کفر میں ترقی کا باعث ہے۔ یعنی منجملہ کفریات کے یہ حرکت بھی کفر ہے جو کفار قریش ماہ محرم وغیرہ کے متعلق کیا کرتے تھے۔ مثلاً اپنی غرض سے محرم کو صفر قرار دے کر اس میں لڑائی کو حلال کہہ دیتے تھے۔ یعنی گویا کہ یوں سمجھ لیں، اپنی طرف سے مہینوں کو آگے پیچھے کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے جیسے جو مہینے پیدا کیے ہیں، ان مہینوں کو اسی طریقے سے سامنے سمجھنا چاہیے، محرم ہے، اس کے بعد صفر ہے، اس کے بعد ربیع الاول ہے، اس طرح سارے مہینے جس ترتیب سے اللہ نے بنائے ہیں اس ترتیب سے رکھنے چاہئیں۔ اس میں تبدیلی نہیں ہے؛ کیونکہ اللہ پاک نے جو حرام کیا ہے وہ ایک خاص وقت کے لئے، جیسے عرفات کا ہے۔ جو نو ذوالحج کو عرفات کا دن ہوتا ہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ آج اس دفعہ گیارہ ذوالحج کو ہو جائے؟ نہیں کہہ سکتے۔ یا کوئی کہہ دے کہ چلو اس دفعہ یکم ذوالحج کو کر لو۔نہیں ہو سکتا۔ رمضان شریف کو آگے پیچھے کوئی کر لے۔ اس دفعہ گرمی ہے چلو جی تھوڑا سا، نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ جو اللہ پاک نے مہینے بنائے ہیں ان مہینوں کو کوئی آگے پیچھے نہیں کر سکتا۔ ارشاد فرمایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ مرض کا تعدیہ ہے بلکہ جس طرح اولاً حق تعالیٰ کسی کو مریض بناتے ہیں، اسی طرح دوسرے کو اپنے مستقل تصرف سے مریض کر دیتے ہیں۔ میل جول وغیرہ سے مرض کسی کو نہیں لگتا، یہ سب وہم ہے۔ اور نہ جانور کے اڑنے سے بدشگونی لینا کوئی چیز ہے، جیسے کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ داہنی جانب سے تیتر وغیرہ اڑے تو مسعود اور منحوس جانتے ہیں، یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ اور نہ الو کی نحوست کوئی چیز ہے۔ جیسے کہ عام طور پر لوگ اس کو منحوس خیال کرتے ہیں اور یہ بالکل من گھڑت بات ہے۔ اور حدیث صحیح کے خلاف ہے۔ اور ایک رسم اس ماہ کے آخری چار شنبہ کی مروج ہے، یہ بھی بالکل بے اصل ہے۔ اب یہاں پر کچھ چیزوں کی تشریح ضروری ہے۔ میں نے ابھی پہلے عرض کیا نا کہ اپنی طرف سے ہم نے کوئی بات نہیں کرنی۔ جو کہنا ہے اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے کہنا ہے۔ کیونکہ دین کی بنیاد ان چیزوں پر ہے، دو، قرآن اور سنت پر۔ تو اس سلسلے میں جو احادیث شریفہ ہیں تعدیہ کے بارے میں، پہلے میں عرض کرتا ہوں۔ ایک حدیث شریف یہ بھی ہے کہ جذامی سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جذامی کو ہاتھ میں ہاتھ دے کر نہیں بیعت فرمایا بلکہ فرمایا تم بیعت ہو چکے ہو۔اس سے لوگوں کو خیال ہوتا ہے کہ شاید تعدیہ ایک اصل چیز ہے۔ لیکن یہ بھی حدیث شریف جو ابھی میں نے بیان کی، کہ یہ کوئی چیز نہیں ہے۔ تو اصل بات کیا ہے؟ یہ مسئلہ تقدیر کا ہے۔ یہ مسئلہ تقدیر کا ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے۔ مجھے بتاؤ کیا ساری چیزیں پہلے سے لکھی ہوئی ہیں یا نہیں لکھی ہوئی ہیں؟ لکھی ہوئی ہیں نا۔ تو جس کو مرض لگنا ہوگا اس کو لگے گا۔ جس کو نہیں لگنا ہوگا اس کو نہیں لگے گا۔ حکم اللہ کا چلتا ہے۔ جب لگتا ہے تو لگتا ہے، جب نہیں لگتا تو نہیں لگتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ طاعون جہاں پر تھا، وہاں ان کو اطلاع ہوئی کہ وہاں طاعون ہے تو راستہ بدل لیا، اس طرف نہیں گئے۔ وہاں پر ایک بہت بڑے صحابی تھے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہ۔ انہوں نے ان سے کہا تقدیر سے کس طرف بھاگتے ہو؟ یعنی یہاں تو تقدیر ہے جو، اس سے کیسے بھاگتے ہو؟ انہوں نے فرمایا: "میں تقدیر سے تقدیر کی طرف جا رہا ہوں"۔ یعنی جہاں جا رہا ہوں وہاں بھی تقدیر ہے۔ مطلب کوئی ایسی بات نہیں۔ اب یہ درمیانی راستہ ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا۔ عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کون سا کام کیا؟ درمیانی راستہ اختیار کیا۔ اور ہمیں بھی درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہیے، کہ ان چیزوں میں اصل نہیں سمجھنا چاہیے، اصل تو اللہ کا حکم ہے۔ جب اللہ چاہے گا تو لگے گا، جب اللہ نہیں چاہے گا تو نہیں لگے گا، اسباب کے دائرے میں ہم اپنے آپ کی حفاظت کر لیں۔ ہم لوگ بلاوجہ خوامخواہ "آ بیل مجھے مار" نہ کریں۔ کیونکہ وہم سے انسان کا کیا ہوتا ہے؟ وہم سے، انسان کی immunity گر جاتی ہے۔ آج کل کی modern ریسرچ ہے۔ بھئی ڈاکٹر حضرات تو ادھر بیٹھے ہوں گے نا، کوئی نہ کوئی تو ڈاکٹر ہوگا، نہیں ہو تو بتا دیں ان کو۔ کہ جس وقت انسان کو کوئی خوف لاحق ہوتا ہے، کوئی مطلب خطرہ ہوتا ہے، وہم ہوتا ہے، اس سے immunity گر جاتی ہے۔ اب مثال کے طور پر پہلے اس کی مدافعت قوت 100 تھی۔ اب 50 رہ گیا مثلاً۔ تو جو بیماری اس پہ حملہ کرنا چاہتی ہے کر سکے گی۔ اس کے خلاف resistance اس میں نہیں ہوگا۔ تو یہ دلیل ہمیں immunity کو برقرار رکھنے کے لیے کہ بھئی پرواہ نہ کرو۔ پرواہ نہ کرو۔ لیکن دوسری طرف اسباب کے دائرے میں عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جیسے کیا اس طرح عمل کر سکتے ہو۔ ٹھیک ہے نا۔ اسباب کے درجے میں آپ اپنے آپ کو بچائیں۔ لیکن اب دیکھو میں جو دوائی کھاتا ہوں۔ یہ ہسپتال میں بیٹھا ہوں، کہیں مجھ پر کوئی فتویٰ نہ لگا دے۔ میں اگر دوائی کھاتا ہوں تو کیا اس سے sure ہے کہ میں ٹھیک ہو جاؤں گا؟ کوئی surety دلائے مجھے۔ کوئی ڈاکٹر surety دلائے۔ دلا سکتے ہیں؟ ڈاکٹر حضرات بھی جس وقت بیمار لاعلاج ہوتے ہیں، یعنی ان کے بس سے باہر ہو جاتے ہیں پھر کہتے ہیں دعا کرو۔ بھئی یہ پہلے کہنا چاہیے۔ یہ پہلے سے کہنا چاہیے۔ مطلب یہ ہے دعا کی ضرورت ہر وقت ہے۔ پہلے آپ سمجھتے ہیں میں کرتا ہوں، پھر کہتے ہیں اب اللہ کرے گا۔ بھئی خدا کے بندے کہاں سے تو آ گیا؟ پہلے بھی اللہ ہی کرتا ہے۔ بعد میں بھی اللہ کرتا ہے۔ ہاں یہ بات ہے کہ پہلے تم اسباب اختیار کر رہے ہو۔ تو دوسرے اسباب موجود ہیں۔ اب دوسرے اسباب فیل ہو گئے اب صرف مسبب الاسباب کی طرف سے حکم موجود ہے۔ تو ٹھیک ہے اس طرح کر سکتے ہو۔ اس طرح پابندی نہیں ہے۔ لیکن پہلے اپنی طرف سے نہ سمجھو کہ میں کرتا ہوں۔ وہ بھی اللہ ہی کرتا ہے۔ یہ میجر جنرل عجب خان صاحب ہیں میرے دوست ہیں۔ تو وہ جب بھی نسخہ لکھتا ہے تو اس کے اوپر لکھتا ہے شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہی بات صحیح ہے۔ شفا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اللہ پاک دے گا تو دے گا۔ آپ یقین کیجئے بڑھیاں یہ گاؤں کی دعائیں دیتی ہیں، ایک دعا دیتی ہیں وہ مجھے یاد ہے، ہمارے گاؤں میں کم از کم۔ کہتی ہے اللہ تیرے لیے گھڑے کا پانی دارو بنا دے۔ پشتو میں کہتے ہیں خدائے تعالی دے منگی اوبہ دارو کڑہ۔ اللہ تعالیٰ تیرے لئے گھڑے کا پانی دوائی بنا دے۔ یہ دعا دیتی ہے۔ یہ میرے لیے ثابت ہو چکا ہے۔ میرے ساتھ یہ ہو چکا ہے۔ لہٰذا میں تو گواہ ہوں کہ یہ بات بالکل صحیح ہے، جب اللہ چاہے گا تو گھڑے کا پانی دوائی بن سکتا ہے۔ ہاسٹل میں میں بیمار ہو گیا۔ اور شدید بیمار ہو گیا۔اتنا بیمار ہو گیا کہ چارپائی سے نہیں اٹھ سکتا تھا۔ اب میرا ایک تیمار دار میرے ساتھ بیٹھا ہوا ہے، اور ہنس رہا ہے۔ مطلب وہ ذرا گپ شپی آدمی تھا، وہ آ کر مجھ سے کہتا ہے شبیر صاحب تم نے بڑے گناہ کیے ہیں، اللہ تعالیٰ تیرا گناہ معاف کرنا چاہتے ہیں ورنہ تم ٹھیک ہی ہو۔ تیرے گناہ اللہ معاف کرے، میں نے کہا اللہ کرے میرے گناہ معاف ہو جائیں۔ اب صبح سویرے میں اٹھا ہوں۔ بہت مشکل اٹھنا۔ لیکن نماز میں پڑھاتا تھا۔ اب اتنا مشکل سے اٹھا کہ کسی ایک آدمی کو جگا دیا، اس کو کہا باقیوں کو تم جگا دو۔ باقیوں کو اس نے جگا دیا۔ مسجد بڑی مشکل سے پہنچے۔ نماز پہلی دفعہ پڑھائی تو سہو ہو گیا۔ دوسری دفعہ شروع کیا سہو ہو گیا۔ تیسری دفعہ بھی۔۔۔ میں نے کہا یہ تو مجھ سے نہیں پڑھائی جاتی میں نے کہا بس خود اپنی اپنی نماز پڑھو میں نے بھی اپنی نماز پڑھی۔ ایسی حالت۔ اب نماز جب پڑھی اس کے بعد دل نے چاہا کہ ذرا پانی پی لوں۔ تو گلاس لے کے میں بڑی مشکل سے ٹیپ واٹر تک پہنچا مطلب ٹونٹی تک پہنچا۔ ایک گلاس پانی پیا۔ وہ پانی ایسا تھا جیسے جسم کے اندر بالکل جیسے صحت چل رہی ہے۔ بالکل محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے گرمی کے روزوں میں نہیں محسوس ہوتا؟ ایسا، اور دوسرا گلاس پینے سے بالکل ٹھیک، ذرہ بھر بھی بیماری نہیں تھی۔ یعنی اب میں اس بات پہ حیران ہوا کہ کیسی بیماری تھی؟ دوسرا گلاس پینے سے ذرہ بھر بھی بیماری نہیں تھی۔ اور میں خود ماشاءاللہ اسی طریقے سے چلا ڈائننگ ہال، مطلب ناشتہ کرنے کے لیے، خوب ناشتہ کیا، پریزنٹیشن تھی اس دن پریزنٹیشن دی، کسی کو پتہ بھی نہیں چلا کہ میں بیمار تھا۔ سوائے اس تیمار دار کے یا ان نمازیوں کے۔ کسی کو پتہ بھی نہیں چلا۔ اب یہ کیا چیز ہے؟ بھئی کون سی اینٹی بائیوٹک میں نے لی تھی؟ کون سی Anti-inflammatory میں نے لی تھی؟ کیا چیز میں نے لیا تھا؟ بس اللہ پاک۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ پاک دکھاتا ہے بعض دفعہ۔ کہ میں کرتا ہوں۔ پہلے بھی یہی بات ہوتی ہے بعد میں بھی یہی بات ہوتی ہے۔ ہاں اسباب کے دائرے میں جیسے تم کھانا کھاتے ہو، ضرور دوائی کرو۔ جیسے گرمی سردی سے بچنے کے لیے کپڑے پہنتے ہو، ضرور دوائی کرو۔ کچھ اور چیزیں جو ہم کرتے ہیں اسباب کے دائرے میں ٹھیک ہے جی اجازت ہے، اسی طریقے سے تکوینی چیزیں چلتی ہیں، لیکن ساری چیزوں کے اوپر جو فوق ہے وہ کیا چیز ہے؟ وہ اللہ کا حکم ہے۔ بس اس کو سمجھنا ہے، تو یہ بات یہاں پر اس طرح فرمایا گیا ہے۔ کہ تعدیہ بھی نہیں ہے۔ نہ جانور کے اڑنے سے بدشگونی لینا کوئی چیز ہے۔ اور نہ الو کی نحوست کوئی چیز ہے۔ جیسے کہ عام طور پر لوگ اس کو خیال کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو ان چیزوں سے بچنا ہوگا۔ اور یہ آخری چار شنبہ جو اس کا ہوتا ہے، پتہ نہیں آپ لوگوں کے علاقوں میں ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، ہمارے علاقوں میں تو ہوتا ہے، چوری بنائی جاتی ہے۔ چوری آپ لوگوں کے ہاں ہوتی ہے؟ وہ آخری بدھ کو اس مہینے کے۔ وہ کہتے ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امہات المومنین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحت یاب ہونے کی وجہ سے وہ یہ کیا تھا، ہم بھی کرتے ہیں۔ تو عورتیں بناتی ہیں روٹیاں بناتی ہیں اس کو پھر وہ یعنی ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس میں میٹھی چیزیں ڈال کے وہ لوگوں کو تقسیم کرتی ہیں، یہ اس طرح ہوتا ہے۔ تو یہ چیز بھی کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدفالی شرک ہے۔ تین مرتبہ ایسا فرمایا۔ بدفالی شرک ہے۔ مثلاً یہ میں باہر گیا اور کوئی بلی آ گئی او ہو یار یہ تو بلی آ گئی بس یہ تو بس واپس یہ سفر ٹھیک نہیں ہے۔ یہ ہندوؤں کی باتیں ہیں۔ ہندوؤں کی باتیں ہیں۔ ہندوؤں کے ہاں تو باقاعدہ یہ بڑے بڑے جو ان کے سیاسی لیڈر ہیں نا، وزیراعظم ہو، صدر ہو جو بھی ہو، وہ جوتشی سے باقاعدہ زائچہ بنواتے ہیں۔ کہ میں سفر کروں یا نہ کروں۔ میں یہ کام کروں یا نہ کروں۔ ہر چیز میں اس کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کا اثر ہمارے اوپر بھی آ گیا ہے۔ آج کل یہ اخباروں میں آتا ہے نا، آپ کا یہ ہفتہ کیسے رہے گا؟ خدا کے بندے کیا کہتے ہو؟ یہ چیزیں تمہیں معلوم ہیں؟ یہ تو اللہ پاک کے علم میں ہیں۔ یہ ایک دفعہ شیر شاہ سوری رحمۃ اللہ علیہ، ان کے بارے میں بابر سے کسی نے کہا کہ یہ تمہارے خاندان کو ختم کرے گا۔ تو شیر شاہ سوری کو انہوں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں ان کے بڑے معتمد آدمی تھے۔ کہا حضرت مجھے جواب دینے کی اجازت ہے؟ کہا: "جی بالکل"۔ تو انہوں نے اس جوتشی سے پوچھا، پنڈت سے، کہ تیری کتنی عمر ہے؟ کتنی عمر باقی ہے؟ اس نے کہا چھ سال۔ اس نے ٹخ سے تلوار سے اس کا سر اڑا دیا۔ جواب بادشاہ سلامت جواب حاضر ہے۔ بادشاہ سلامت جواب حاضر ہے۔ اس نے کہا چھ سال میری عمر باقی تو اگر یہ اپنے بارے میں نہیں جانتا تو دوسرے کے بارے میں کیا جان سکتا ہے؟ تو مقصد یہ ہے کہ یہ کوئی بات نہیں ہوتی۔ لوگوں نے اپنی طرف سے یہ فال نکالنے والے بیٹھے ہوتے ہیں نا طوطا فال، یہ سٹریٹ میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایک آدمی نے بڑا اچھا سوال کیا۔ کہتا ہے کیا ہوتا ہے اس میں؟ کہتا ہے ہم ذرا آپ کو بتائیں گے آپ کیسے اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا پہلے اپنے لیے بھی نکالو نا۔ آپ بیچارے اس طرح بیٹھے ہوئے ہیں لوگوں سے ایک ایک روپیہ مانگ رہے ہیں، تو کوئی اپنے لیے بھی کوئی نظام بنا لو۔ تاکہ اچھی خوشحال زندگی گزاریں۔ تو یہ بالکل اس طرح ہے یہ لوگوں نے باتیں بنائی ہوئی ہیں، مشہور ہو گئی ہیں، اور لوگوں کو دنیا کے ساتھ بہت لگاؤ ہے۔ اب اگر کسی کو بتا دیں نا کہ اس طرح کرنے سے آپ کی دنیا اچھی رہے گی۔ اوہو بطور تجربہ آپ کہہ سکتے ہیں۔ اپنے اپنے دفتر میں بیٹھ جائیں بڑے بڑے افسر بیٹھے ہوں۔ کہتے ہیں ہاں یار آپ کے ہاتھ میں تو بہت زبردست لکیر ہے۔ اوہو آپ کو تو یہ ملے گا آپ کو، پھر دیکھیں وہ کتنی توجہ کے ساتھ سنتے ہیں۔ حالانکہ بھئی یہ کیا چیز ہے بھئی؟ اول تو جو کہنے والا ہے اس کو اپنا پتہ نہیں ہے۔ تو یہ فال نکالنے والی کیا بات ہے، ساری کی ساری فضولیات ہیں۔ اور ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہم میں کوئی ایسا نہیں جن کو خیال نہ آتا ہ لیکن اس کو توکل کے ذریعے سے ختم کر دیتے ہیں۔ ٹھیک ہے خیال آ سکتا ہے، دنیا میں ہر قسم کا خیال آ سکتا ہے۔ مثلاً بیمار نہ ہو جاؤں۔ بھئی ہر ایک بیمار ہوتا ہے۔ لیکن وقت سے پہلے کیوں مرتے ہو؟ جب آئے گا تو پھر دیکھیں گے نا۔ یہ کیا بات ہے وہم شروع کر لو، پتہ نہیں مجھے کیا نہ ہو جائے، پتہ نہیں کیا نہ ہو جائے۔ نہیں بھئی، ان چیزوں کے پیچھے نہ پڑو۔ توکل کرو: «وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ»۔ جس نے اللہ پر بھروسہ کیا اللہ اس کے لئے کافی ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتے ہیں، ان کو پسند فرماتے ہیں۔ جو بات مشہور ہو اس کا خیال وقت پر آ ہی جاتا ہے لیکن اس خیال پر عمل کرنا یا اس کو دل میں جمانا جائز نہیں، بلکہ توکل کے خیال کو غالب کر لے تو وہ خیال باطل فوراً دفع ہو جائے گا۔ تو یہ تو ہو گئی صفر کے بارے میں بات۔ اب ذرا تھوڑا سا آپ سے ایک اور بات عرض کرتا ہوں۔ اس وقت پورے ملک کے اوپر بہت زیادہ مشکل حالات ہیں۔ اگرآپ سب جانتے ہیں۔ جو ملکی سیاسی حالات ہیں وہ بھی آپ کے سامنے ہیں۔ ایک ہوتا ہے میں خبروں پہ بیٹھ جاؤں فلاں ہو گیا، فلاں ہو گیا، فلاں ہو گیا، فلاں ہو گیا، اور بس اس پر میں بحثیں شروع کر لوں۔ یہ کوئی چیز نہیں ہے۔ اس وقت دو باتیں ہونی چاہئیں جو اس سے متعلق ہیں۔ وہ ہمارے ذمے ہیں، ہر ایک شخص کے ذمے ہیں جس کو بھی پتہ چلے اس کے ذمے ہے۔ وہ یہ ہے کہ آیا اس حالت میں ہم کچھ کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟ اگر کچھ کر سکتے ہیں تو بیٹھے کیوں ہیں؟ کرنا چاہیے۔ اور اگر نہیں کر سکتے تو پھر باتیں کیوں کرتے ہیں؟ خوامخواہ۔ جو کر سکتے ہیں وہ بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ تو ایک تو اس میں یہ بات ہے۔ دوسری بات ہے یہ چیزیں آئی کیوں ہیں؟ یہ بہت اہم نقطہ ہے۔ یہ حالات ہمارے ایسے ہیں کیوں؟ یہ حالات ہمارے ایسے ہیں کیوں؟ یہ بہت اہم بات ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ احادیث شریفہ مشکوۃ شریف آپ اٹھا لیں۔ احادیث شریفہ آپ سن لیں اس کے متعلق، کہ کون سا گناہ کرنے سے کیا ہوتا ہے؟ پھر کون سا گناہ کرنے سے کیا ہوتا ہے؟ کون سے گناہ کرنے سے کیا ہوتا ہے؟ باقاعدہ لکھی ہوئی احادیث شریف موجود ہیں۔ اب وہ احادیث شریفہ صرف علم کے لیے تو نہیں ہے نا؟ کہ بس آپ نے جان لیا تو بس بات ختم ہو گئی۔ نہیں، اس کو ماننا پڑتا ہے۔ اس کے مطابق ہمیں زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ تین باتیں ہیں۔ پہلی بات؛یہ جھوٹ ہے، جھوٹ بہت پھیل گیا ہے۔ اتنا پھیل گیا ہے کہ اس کو سچ مانا جا رہا ہے۔ اور سچ کو جھوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ جھوٹ بہت پھیل گیا ہے۔ اور جھوٹ ہر چیز کے اندر شامل ہو گیا ہے۔ یعنی ہر صورت میں جھوٹ ہے سود بہت عام ہو گیا ہے۔ Government point of view سے بھی private point of view سے بھی، سود بہت زیادہ عام ہو گیا ہے۔ سود بہت بڑا ظلم ہے، اللہ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ قرآن بتاتا ہےکہ اللہ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ تو سود بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ تیسری بات رشوت بہت عام ہو گئی ہے۔ اس وجہ سے ہمیں اس سے اپنے آپ کو بچانا ہوگا، توبہ کرنی ہوگی۔ اور توبہ بھی اجتماعی، شعوری توبہ۔ ہم استغفار کر لیتے ہیں، استغفار کرنا چاہیے: «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ٹھیک ہے «مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» یہ شعوری توبہ اس وقت بنتی ہے جب مجھے پتہ ہو کہ میں کس چیز سے توبہ کر رہا ہوں۔ کیونکہ توبہ میں تین شرطیں ہیں۔ پہلی ندامت ہے، دوسرا رک جانا ہے، تیسرا آئندہ نہ کرنے کا عزم ہے۔ تو آپ کس گناہ سے توبہ کر رہے ہیں؟ کس گناہ سے عزم کر رہے ہیں کہ میں آئندہ یہ نہیں کروں گا؟ اگر آپ کو یہ معلوم نہ ہو تو پھر کیسے کریں گے توبہ؟ تو توبہ کرنی پڑے گی۔ توبہ کرنی پڑے گی۔ اور اجتماعی توبہ کرنی پڑے گی۔ یہ بہت زیادہ اہم بات۔ واقعہ ہے، دیوبند کا نام آپ لوگوں نے سنا ہوگا۔ اس میں مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ایک بزرگ تھے جو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے استاد تھے۔ یہ حضرت بتا رہے ہیں۔ میری بات نہیں ہے، حضرت کے مواعظ میں ہے۔ فرمایا: مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بہت صاحب کشف تھے۔ بہت بڑے صاحب کشف تھے۔انہوں نے ایک دفعہ کہہ دیا کہ عذاب آنے والا ہے اگر لوگ صدقہ کر لیں شاید بچت ہو جائے۔ شاید بچت ہو جائے۔ یہ فرمایا۔ وہ بات دیوبند کے قصبے میں پھیل گئی۔ کچھ لوگوں نے کہا شاید مولویوں کو کچھ چیزوں کی ضرورت پڑ گئی ہے اس لیے یہ بات کر رہے ہیں۔ شاید مولویوں کو کچھ ضرورت پڑ گئی ہے اس لیے یہ بات کر رہے ہیں۔ یہ بات حضرت تک پہنچ گئی۔ اب حضرت تو عالم جذب میں تھے۔ تو فوراً ان کی زبان پہ جاری ہو گیا، یعقوب، یعقوب کی اولاد اور سارا دیوبند، یعقوب، یعقوب کی اولاد اور سارا دیوبند، یعقوب، یعقوب کی اولاد اور سارا دیوبند۔ جو جاننے والے تھے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا، حضرت کیا فرما رہے ہو؟ انہوں نے کہا جو ہونا تھا ہو گیا۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا فیصلہ ہو گیا اب میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد وہ طاعون کی وبا آئی وہاں پر کہ ایک ایک گھر سے تین تین چار چار جنازے اٹھنے لگے۔ خود یعقوب رحمتہ اللہ علیہ بھی اس میں شہید ہو گئے۔ ان کے بیٹے بھی شہید ہو گئے۔ خود فرمایا تھا نا یعقوب اور یعقوب کی اولاد اور سارا دیوبند۔ اس وقت بہت زیادہ اہم بات جو ہے وہ یہ ہے دل سے توبہ کرنی چاہیے۔ تو میں الفاظ دہراتا ہوں تو آپ میرے ساتھ الفاظ بولیں لیکن اس میں یقین ہو کہ آئندہ ہم واقعی گناہ نہیں کریں گے۔ بالخصوص جن گناہوں کا ذکر اس میں آیا ہے۔ ان سے تو ہم بالکل ہی توبہ کر لیں۔ اے اللہ! ہم توبہ کرتے ہیں۔ تمام گناہوں سے۔ بالخصوص جھوٹ سے، سود سے، رشوت سے، ہر قسم کی فحاشی سے۔ اے اللہ ہم توبہ کرتے ہیں۔ اے اللہ ہماری توبہ قبول فرما لے۔ آئندے کے لیے ان شاء اللہ ہم گناہ نہیں کریں گے۔ اگر غلطی سے ہوا فوراً توبہ کریں گے۔ اے اللہ ہمیں اپنی توبہ پر استقامت نصیب فرما دے۔ اے اللہ ہمارے ایمانوں کی حفاظت فرما دے۔ اے اللہ ہماری جانوں کی حفاظت فرما دے۔ اے اللہ ہمارے مالوں کی حفاظت فرما دے۔ ہماری اولادوں کی حفاظت فرما دے۔ کسی طریقے سے بھی ہم شیطان کے لیے آلہ کار نہ بن جائیں۔ اور اپنے نفس کے لیے ہم آلہ کار نہ بن جائیں۔ یا اللہ افراط تفریط سے ہمیں بچا دینا۔

«رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ»۔ «سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»۔