اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ۔
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
سالکوں کے لئے کہ اس سے احوال اپنے باطن کا معلوم کر کے علاج اس کا کریں اور اسی قیاس پر بعض اربابِ تمکین نے کہا ہے کہ جو کلام آنحضرت ﷺ سے خواب میں سُنے تو اُس کو سُنّتِ قویمہ پر عرض کرے، اگر موافق ہے تو حق ہے اور اگر مخالف ہے تو بسبب خلل سامعہ اُس کی کے ہے۔ پس رؤیائے ذاتِ کریمہ اور اس چیز کا کہ دیکھی یا سُنی جاتی ہے حق ہے اور جو تفاوت اور اختلاف ہے تجھ سے ہے۔
حضرت شیخ علی متقی نقل کرتے تھے کہ ایک فقیر نے فقرائے مغرب سے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ اُس کو شراب پینے کے لئے فرماتے ہیں، اُس نے واسطے رفع اس اشکال کے علماء سے استفسار کیا کہ حقیقتِ حال کیا ہے۔ ہر ایک عالم نے محمل اور تاویل اس کی بیان کی۔ ایک عالم تھے مدینہ میں نہایت متبعِ سُنّت ، ان کا نام شیخ محمد عرات تھا۔ جب وہ استفسار ان کی نظر سے گزرا فرمایا یوں نہیں جس طرح اُس نے سُنا ہے، آنحضرت ﷺ نے اُس کو فرمایا کہ لَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ یعنی شراب نہ پیا کر۔ اُس نے لَا تَشْرَب کو اِشْرَب سُنا۔ حضرت شیخ (عبدالحق) نے اس مقام کو تفصیل سے لکھا ہے اور میں نے مختصراً۔
یہ بات بالکل صحیح ہے، انسان خواب میں غلطی کر سکتا ہے، سماعت غلط ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو شیطان درمیان میں خلل اندازی کر سکتا ہے، یعنی سماعت میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے میں نہیں، سماعت میں، جاگتے میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو یعنی اس میں ہو گئی تھی، غلط فہمی ہو گئی تھی۔ تو یہ سماعت میں مسئلہ پڑ سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے اگر کوئی اس طرح "لا تشرب" کو "اشرب" سمجھے تو یہ ممکن ہے۔ ایک دفعہ میں نے خواب دیکھا تو اس کی تعبیر حضرت حلیمی صاحب رحمۃ اللہ نے دی تھی اور وہ اسی قسم کی بات تھی۔ کہ میں نے تین حضرات کو دیکھا تھا، شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ، اور ایک اور صاحب تھے جو مجھے نظر نہیں آ رہے تھے، لیکن محسوس ہو رہے تھے کہ ہیں لیکن وہ مجھے نہیں پتہ کون تھے۔ تو اس میں کوئی مجھے کہتا ہے، خواب میں کہتا ہے، کہ دونوں حضرات کے بارے میں فرمایا نا، کہ یہ اہل حدیث کے امام ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ دوسرا کون ہے؟ ایک تو شیخ عبدالقادر جیلانی، یہ دوسرا کون ہے؟ کہتا ہے یہ خواجہ شہاب اللہ لودی ہے، اور یہ اہل حدیث کے امام ہیں۔ اب میں جو جاگا میں نے کہا کمال ہے، اہل حدیث کے امام کہاں ہوتے ہیں، اہل حدیث تو بغیر امام کے چل رہے ہوتے ہیں، تو یہ کونسی بات ہے؟ بڑا حیران، بڑا حیران ہو گیا۔ تو میں نے حلیمی صاحب سے پوچھا۔ حلیمی صاحب نے فرمایا، یہ خواجہ شہاب الدین سہروردی ہے۔ آپ نے خواب میں غلط سنا۔ اور اہل حدیث کے امام اس لیے کہا ہے کہ یہ دونوں حنابلہ میں سے ہیں۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ یہ دونوں حنابلہ میں سے ہیں اور حنابلہ کو ہمارے احناف، جو متقدمین ہیں، وہ کتابوں میں "اہل حدیث" لکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ ظاہر حدیث پہ عمل کرتے تھے نا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، وہ ظاہر حدیث پہ عمل کرتے تھے۔ یہ جو، یہاں اس وقت اہل حدیث ہے یہ اہل حدیث نہیں ہے، تو انگریزوں نے ان کا نام اہل حدیث رکھا ہوا ہے، ان سے Request پر۔ تو اہلِ ہوا ہیں۔ یہ اہل حدیث نہیں، اہل حدیث وہ تھے۔ یعنی حنابلہ۔ چونکہ وہ ظاہر حدیث پہ عمل کرتے تھے باقاعدہ، یعنی وہ یہ کہتے تھے کہ حدیث شریف میں بس جو بات ہے بس وہ کافی ہے۔ ہم اس میں ادھر ادھر کی باتیں کیوں کریں؟ تو وہ حضرات ان کا نقطہ نظر یہی تھا، اور اس میں وہ سچے بھی تھے اس میں یہ بات نہیں تھی کہ اپنے نفس کو دخل دیتے تھے۔ وہ اس مسئلے میں سچے تھے۔ تو فرمایا کہ ہمارے حضرات جو ہیں نا ان کو اہل حدیث لکھتے ہیں۔ لہٰذا آپ نے اس طرح بیان کیا، تو اس طرح خواب میں انسان کو غلط فہمی ہو سکتی ہے، سننے میں مسئلہ ہو سکتا ہے۔
جیسا کہ حضرت شیخ نے فرمایا کہ لَا تَشْرَب کو اِشْرَب سُن لیا محتمل ہے لیکن جیسا اس ناکارہ نے اُوپر لکھا اگر اِشْرَبِ الخمر ہی فرمایا ہو، یعنی پی شراب تو یہ دھمکی بھی ہو سکتی ہے، جیسا کہ لہجے کے فرق سے اس قسم کی چیزوں میں فرق ہو جایا کرتا ہے۔ سہارنپور سے دہلی جانے والی لائن پر آٹھواں اسٹیشن کھتولی ہے، مجھے خوب یاد ہے کہ بچپن میں جب مَیں ابتدائی صرف و نحو پڑھتا تھا اور اسٹیشن پر گزر ہوتا تھا تو اس کے مختلف معنی بہت دیر تک دل میں گھوما کرتے تھے۔ یہ مضمون مختصر طور پر رسالہ فضائلِ حج اور شمائلِ ترمذی کے ترجمہ خصائل میں بھی گزر چکا ہے ؎
يَارَبِّ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِمًا اَبَدًا ۞ عَلٰى حَبِيْبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
﴿١٠﴾ حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہٗ نے زاد السعید میں درود و سلام کی ایک چہل حدیث تحریر فرمائی ہے اور اسی سے نشر الطیب میں بھی حوالوں کے حذف کے ساتھ نقل فرمائی ہے، اس کو اس رسالہ میں ترجمہ کے اضافہ کے ساتھ نقل کیا جاتا ہے تاکہ وہ برکت حاصل ہو جو حضرت نے تحریر فرمائی ہے۔
زاد السعید میں حضرت نے تحریر فرمایا ہے کہ یوں تو مشائخ کرام سے صدہا صیغے اس کے منقول ہیں، دلائل الخیرات اس کا ایک نمونہ ہے مگر اس مقام پر صرف جو صیغے صلوٰۃ و سلام کے احادیثِ مرفوعہ حقیقیہ یا حکمیہ میں وارد ہیں ان میں سے چالیس صیغے مرقوم ہوتے ہیں
حکمیہ والی بات، یعنی اس سے یعنی استدلال کیا جا سکتا ہو کہ اس کا مطلب یہی ہو گا۔ جیسے وصَلَّى اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ۔ یہ اسی طرح نہیں موجود لیکن اس کے مختلف حصے جوڑ کر یہ سارے احادیث شریفہ سے ۔ تو یہ حکمیہ جو بات آ گئی نا، تو اس کی طرف اشارہ ہو گیا۔ ٹھیک ہے نا۔ حقیقیہ اور حکمیہ۔
ان میں سے 40 صیغے مرقوم ہوتے ہیں، جن میں سے 25 صلاۃ اور 15 سلام کے۔ گویا یہ مجموعہ درود شریف کی چہل حدیث ہے، جس کے باب میں بشارت آئی ہے کہ جو شخص امرِ دین کے متعلق 40 حدیثیں میری امت کو پہنچا دے، اس کو اللہ تعالیٰ زمرۂ علماء میں محشور فرمائیں گے۔ اور میں اس کا شفیع ہوں گا۔ درود شریف کا امرِ دین سے ہونا بوجہ اس کا مامور بہِ ہونے کے ظاہر ہے۔ تو ان احادیث شریفہ کے جمع کرنے سے مضاعف ثواب، اجرِ درود اور اجرِ تبلیغِ چہل حدیث کی توقع ہے۔
یہ دیکھ حضرت سے، یہ بات ثابت ہو گئی۔ حضرت نے کیا فرمایا؟
یعنی ان احادیث شریفہ کے جمع کرنے سے مضاعف ثواب، یعنی زیادہ، کئی گنا ثواب۔ اجرِ درود، اور اجرِ تبلیغِ چہل حدیث۔ یہ دونوں کے، یعنی درود پاک کا بھی اجر ملتا ہے اس میں اور جو چہل حدیث کا جو ہے وہ بھی اجر ملتا ہے۔
ان احادیث سے قبل دو صیغے قرآن مجید سے تبرّکاً لکھے جاتے ہیں جو اپنے عمومِ لفظی سے صلوٰۃ نبویہ کو بھی شامل ہیں۔ اگر کوئی شخص ان سب صیغوں کو روزانہ پڑھ لیا کرے تو تمام فضائل و برکات جو جدا جدا ہر صیغے کے متعلق ہیں بتمامہا اُس شخص کو حاصل ہو جائیں گے۔
تو اللہ کا شکر ہے الحمد للہ کہ ہمارا یہ معمول ہے، کہ ہم یہ چہل حدیث شریف پڑھتے ہیں۔ اور جن کا بھی معمول ہے، بڑا مبارک معمول ہے۔ کیونکہ 40، 25 صیغے صحیح احادیث، حکمیہ اور مطلب جو حقیقیہ ہیں، وہ موجود ہیں۔ اس وجہ سے اس کو پڑھنے سے اس حدیث شریف کے پڑھنے کا ثواب بھی ملے گا، اور ساتھ یہ ہے کہ آپ کو ما شاء اللہ، یہ درود پاک اس کے پڑھنے کا ثواب بھی ملے گا۔ تو دونوں طرح، ما شاء اللہ۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مستند احادیث شریفہ ہیں۔ یعنی میں ایک دفعہ حضرت تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جا رہا تھا۔ تو میں نے ویسے پوچھا میں نے کہا حضرت میرا ذوق ہے کہ میں کبھی کبھی پڑھتا ہوں:
بلغ العلی بِكَمَالِهِ كَشَفَ الدُّجٰى بِجَمَالِهِ
حَسُنَتْ جَمِيْعُ خِصَالِهِ صَلُّوْا عَلَيْهِ وَآلِهِ
تو یہ مجھے بڑا پسند ہے۔ فرمایا ما شاء اللہ بہت اچھا، بہت اچھا، مبارک ذوق ہے۔ لیکن اس سے بھی اچھا ذوق بتا دوں؟ میں نے کہا جی ضرور بتا دیں۔ فرمایا ایک افسر کے ساتھ آپ کا کوئی کام پڑا۔ آپ اس کے پاس گئے۔ آپ نے کام کے بارے میں کہا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس طرح الفاظ میں، الفاظ بھی بتا دئیے۔ درخواست لکھ دو میں منظور کر لوں گا۔ اب جو الفاظ انہوں نے بتائے ہیں اس پہ تو پکا وعدہ ہے، منظور ہو جائے گی۔ آپ نے اپنے طور سے بڑے خوشنما الفاظ میں درخواست لکھی۔ لیکن وہ الفاظ نہیں تھے۔ عین ممکن ہے کہ انعام دے دے کہ آپ نے بڑی کوشش کی ہے۔ عین ممکن ہے کہہ دے کیا ان الفاظ میں کوئی کمی تھی، جو آپ نے ان الفاظ میں نہیں لکھا؟ تو پھر کیا کرو گے؟ فرمایا کہ بس جن الفاظ میں حدیث شریفہ میں درود پاک آیا ہے، ان الفاظ میں پڑھ لیا کرو۔ اس میں بڑا فائدہ ہے۔ اور واقعتاً محتاط لوگوں کا ذوق تو یہی ہے۔ کہ وہ اپنے اوپر کوئی Risk والی بات نہیں کرتے۔ کہ جس سے دوسری طرف بھی انسان جا سکتا ہو۔ تو جو پکی بات ہے، اس کو کیوں نہ حاصل کیا جائے؟ اللہ پاک ہم سب کو زیادہ سے زیادہ بہترین یعنی صحیح احادیث شریف کے مطابق درود شریف پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔