منافقت کا انجام اور حق کی فتح: سچی گواہی کا ایک تاریخی واقعہ

درس نمبر 207، سورۃ النساء: آیات: 135 تا 138- اشاعتِ اول: 22 جون، 2022، بمطابق 22 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

٭ مہر حال میں عدل و انصاف اور حق پر مبنی گواہی کا قرآنی حکم ٭ والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف بھی سچ بولنے کی تاکید ٭ نفسانی خواہشات کی پیروی اور غلط گواہی دینے کی ممانعت ٭ ارکانِ ایمان پر کامل یقین اور منافقین و مرتدین کے لیے انتباہ ٭ آسمان و زمین پر اللہ کی مکمل حاکمیت اور اس کی بے نیازی ٭ حق گوئی کی روشن مثال: متنازعہ زمین پر ایک مسلمان عالم کی سچی گواہی

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ﴿135﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿136﴾ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا ﴿137﴾ بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿138﴾

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اے ایمان والو! انصاف قائم کرنے والے بنو، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے، چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہو، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔ وہ شخص (جس کے خلاف گواہی دینے کا حکم دیا جارہا ہے) چاہے امیر ہو یا غریب، اللہ دونوں قسم کے لوگوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے، لہٰذا ایسی نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلنا جو تمہیں انصاف کرنے سے روکتی ہو۔ اور اگر تم توڑ مروڑ کرو گے (یعنی غلط گواہی دو گے) یا (سچی گواہی دینے سے) پہلو بچاؤ گے تو (یاد رکھنا کہ) اللہ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔ ﴿135﴾ اے ایمان والو! اللہ پر ایمان رکھو، اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر اتاری ہے اور ہر اس کتاب پر جو اس نے پہلے اتاری تھی۔ اور جو شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس کے رسولوں کا اور یومِ آخرت کا انکار کرے وہ بھٹک کر گمراہی میں بہت دُور جاپڑا ہے ﴿136﴾ جو لوگ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے، پھر ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے، پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے، اللہ ان کو بخشنے والا نہیں ہے، اور نہ انہیں راستے پر لانے والا ہے ﴿137﴾ منافقوں کو یہ خوشخبری سنادو کہ ان کے لئے ایک دُکھ دینے والا عذاب تیار ہے ﴿138﴾

یہ جو اس آیت کریمہ میں جن کے بارے میں ذکر ہے،

حاشیہ: اس سے مراد وہ منافق بھی ہوسکتے ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے، کیونکہ وہ مسلمانوں کے پاس آکر مسلمان ہونے کا اعلان کرتے تھے، مگر تنہائی میں کفر اختیار کرلیتے تھے، پھر کبھی مسلمانوں کا سامنا ہوتا تو دوبارہ ایمان لانے کا مظاہرہ کرتے، مگر پھر اپنے لوگوں کو اپنے کفر کا یقین دلاتے، اور اپنے عمل سے کفر ہی میں بڑھتے چلے جاتے۔ نیز بعض روایات میں کچھ ایسے لوگوں کا بھی ذکر آیا ہے جو مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوئے، پھر توبہ کرکے مسلمان ہوئے، مگر بالآخر دوبارہ مرتد ہوکر کفر ہی کی حالت میں مرے۔ آیت کے الفاظ میں دونوں قسم کے لوگوں کی گنجائش ہے۔ اور ان کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ اللہ نہ ان کو بخشے گا، نہ راستے پر لائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے اپنے اختیار سے کفر اور اس کے نتیجے میں دوزخ کی راہ کو چن لیا تو اللہ ان کو زبردستی ایمان اور جنت کے راستے پر نہیں لائے گا، کیونکہ دُنیا دار الامتحان ہے، اور ہر شخص کا انجام اس کے اپنے اختیار سے چنے ہوئے راستے کے مطابق ہوتا ہے۔ اللہ نہ کسی کو زبردستی مسلمان بناتا ہے، نہ کافر۔

یہ اصل میں دیکھا جائے تو اس میں گواہی کا بھی چونکہ پہلے ذکر ہے۔ تو سچی گواہی دینا ایک مسلمان کی شایانِ شان ہے۔ اس میں یہ بھی نہیں دیکھا کون میرا قریب ہے، کون مجھ سے دور ہے۔ کون مسلمان ہے، کون مسلمان نہیں ہے، اس چیز کو بھی نہیں دیکھا۔ جو حق ہے وہ بتائے گا، جو سچ ہے وہ بتائے گا۔

یہ انڈیا میں جو اکٹھے ہم دونوں ممالک تھے، انگریزوں کا دور تھا۔ تو مسلمانوں اور ہندوؤں میں ایک زمین پر تنازعہ ہوا۔ مسلمان کہتے تھے اس علاقے کے کہ یہ ہماری زمین ہے، اور ہندو کہتے تھے کہ ہماری زمین ہے۔ ظاہر ہے معاملہ عدالت میں پہنچا۔ عدالت میں انگریز جج تھا۔ ہندوؤں نے جا کر ان سے کہا کہ مسلمانوں کا ایک بڑا ہے، اس کا نام یہ ہے مولوی صاحب ہیں۔ اگر وہ ہی گواہی دے دے کہ ہندوؤں کی نہیں مسلمانوں کی ہے تو ہم چھوڑ دیں گے۔ اب یہ بات ظاہر ہے انگریز جج کو بڑی اپیل کر گئی کہ یہ تو بات بڑی آسان ہو گئی۔ تو اس نے مسلمانوں کے جو رہنما تھے، جو وفد تھا، ان کو بلایا اور ان سے کہا کہ یہ جو مسلمان مولوی ہے، تو ان کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ کہتے ہیں بہت بڑا اچھا ہے۔ تو کوئی دشمنی تو نہیں تمہاری؟ کہتے ہیں نہیں۔ تو پھر ان کو بلایا سمن کے ذریعے سے۔ اس نے کہا میں کسی انگریز سے نہیں ملتا، میں کسی انگریز کے چہرے کو نہیں دیکھنا چاہتا۔ سچا آدمی تھا۔ تو اس تو انگریز جج نے کہا کہ ہم درمیان میں پردہ لٹکا دیں گے، آپ میرے چہرے کو نہ دیکھیں، صرف میرے سوالوں کے جواب دیں۔ اب ظاہر ہے پھر اس پہ وہ کیا کرتا؟ تشریف لے آئے۔ تشریف لائے تو انگریز جج نے پوچھا کہ یہ زمین جو فلاں جگہ پر ہے، تم جانتے ہو؟ کہتے ہیں انگریز کے بچے میں جانتا ہوں۔ یہی الفاظ تھے۔ تو اس نے کہا یہ زمین مسلمانوں کی ہے یا ہندوؤں کی ہے؟ اس نے کہا انگریز کے بچے یہ ہندوؤں کی ہے۔ تو فیصلہ اس نے ہندوؤں کے حق میں کر دیا۔ لیکن وہاں کھڑے کھڑے کئی ہندو مسلمان ہو گئے۔ تو مؤرخ نے لکھا، مسلمان ہار گیا، اسلام جیت گیا۔ مسلمان ہار گیا، اسلام جیت گیا۔ سارے مسلمان بھی نہیں ہارے تھے، آخر وہ مولوی صاحب تو جیت گئے تھے۔ لیکن بہرحال لوگوں نے اس طرح یہ بنا دیا کہ مسلمان ہار گیا، اسلام جیت گیا۔ اصل میں اسلام بھی جیت گیا اور اصل مسلمان بھی جیت گیا۔

تو بہرحال یہ ہے کہ حکم کیا ہے اللہ تعالیٰ کا؟ حکم اللہ کا یہی ہے کہ چاہے کسی کے بارے میں بھی ہو تو سچ بولنا، جو سچی گواہی ہے اس کو چھوڑنا بھی نہیں ہے اور دینا بھی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو شریعت مطہرہ کے مطابق پوری زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک اسے ہمارے مقدر فرمائے۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔


حصہ دوم: تفصیلی تشریح و نوٹس

اصل درس میں بیان کیے گئے عدل اور حق گوئی کے موضوع پر درج ذیل تفصیلی نکات، واقعات اور مشاہدات ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے مشعلِ راہ ہیں:

عدالت کا حقیقی مفہوم اور عصرِ حاضر کا المیہ

لفظ "عدالت" عربی زبان کے مادہ "عدل" سے ماخوذ ہے جس کا مطلب انصاف اور برابری ہے۔ لیکن عصرِ حاضر کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ جن اداروں کو عدل فراہم کرنا چاہیے، وہاں بعض اوقات مظلوم کو اس کا حق نہیں ملتا۔ ظالم اور صاحبِ رسوخ افراد جھوٹے گواہوں کو خرید کر حقائق کو مسخ کر دیتے ہیں۔ ایک ایسا ادارہ جس کے نام میں تو "عدل" شامل ہو لیکن اس کے فیصلوں میں انصاف کا فقدان ہو، وہ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جاتا ہے۔ حقیقی عدالت وہی ہے جہاں شرعی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق حق دار کو اس کا حق ملے۔

عہدہِ قضاء کی حساسیت: سیدنا امام اعظم ابوحنیفہؒ کا قابلِ تقلید اسوہ

اسلامی تاریخ میں منصبِ قضاء (جج کا عہدہ) کو ہمیشہ ایک بھاری اور کڑی آزمائش سمجھا گیا ہے۔ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہؒ کا اسوہ ہمارے لیے ایک عظیم مثال ہے، جنہوں نے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کا عہدہ قبول کرنے سے اس لیے انکار کر دیا تھا کہ وہ عدالتی فیصلوں میں حکومتی مداخلت سے آزاد رہنا چاہتے تھے۔ اموی دور میں گورنر یزید بن عمر اور پھر عباسی دور میں خلیفہ ابوجعفر منصور نے انہیں یہ منصب پیش کیا۔ امام صاحبؒ نے کوڑے کھانا اور قید و بند کی صعوبتیں تو برداشت کر لیں، مگر یہ عہدہ قبول نہ کیا۔ اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں:

  1. حکومتی دباؤ سے اجتناب: اس دور میں سلاطین بسا اوقات عدالتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے۔ امام صاحبؒ اس بات پر گہری نظر رکھتے تھے کہ قاضی بننے کے بعد شاہی دباؤ کے تحت آزادانہ اور منصفانہ فیصلے کرنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔

  2. خوفِ خدا اور آخرت کی فکر: امام صاحبؒ نبی کریم ﷺ کی اس حدیث مبارکہ سے شدت سے خائف رہتے تھے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ "جس شخص کو لوگوں کا قاضی بنایا گیا، تو گویا اسے بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا" (سنن ابن ماجہ)۔

جب خلیفہ منصور نے اصرار کیا اور کہا کہ "آپ جھوٹ بولتے ہیں، آپ اس عہدے کے قابل ہیں"، تو امام صاحبؒ نے کمالِ حکمت سے جواب دیا: "اگر میں جھوٹا ہوں، تو ایک جھوٹا شخص قاضی بننے کا اہل نہیں ہوتا، اور اگر میں سچا ہوں تو میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ میں اس کے قابل نہیں ہوں۔"

معاشرتی عدل: روزمرہ زندگی میں سچائی کے تقاضے

قیامِ عدل صرف عدالتوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسان کے ہر شعبہِ زندگی، دکانداری اور ملازمت کا لازمی جزو ہے۔ معاشرے میں ناانصافی کی ابتداء بظاہر چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر گھر کا سربراہ دروازے پر آنے والے شخص سے بچنے کے لیے اپنے معصوم بچے سے کہلواتا ہے کہ "ابو کہہ رہے ہیں کہ وہ گھر پر نہیں ہیں"، تو وہ دراصل اپنی نسل کی بنیادوں میں جھوٹ کا بیج بو رہا ہوتا ہے۔

اسی طرح، اگر کسی مقتول کے قاتل کو سزا نہ ملے، تو یہ مقتول کے خاندان کے ساتھ دہری زیادتی ہے۔ دینی معاملات میں بھی عدل بے حد ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص علم نہ ہونے کے باوجود یا بغیر تحقیق کے غلط فتویٰ دیتا ہے، تو وہ شریعت کے اصولوں کو پامال کرتا ہے۔ البتہ، اگر ایک مستند عالمِ دین مکمل تحقیق اور اجتہاد کے بعد کوئی فتویٰ دے اور اس سے نادانستہ خطاء ہو جائے، تو شریعتِ مطہرہ کی رو سے وہ معذور ہے اور اسے اس کی نیت اور کوشش پر اجر ملتا ہے، گو کہ عوام پر اس غلطی کی پیروی لازم نہیں ہوتی۔

یہاں حضرت شیخ دامت برکاتہم کے بیان کردہ اس چشم دید واقعے اور ذاتی مشاہدے کی تفصیلی، باوقار اور علمی تشریح پیش کی جا رہی ہے، جو روزمرہ معاملات میں امانت، دیانت اور رضائے الٰہی کی ترجیح کا ایک بہترین نمونہ ہے:

امانت و دیانت اور رضائے الٰہی کی ترجیح: حضرت شیخ کا اپنا مشاہدہ

قیامِ عدل اور حق دار کو اس کا حق پہنچانے کے حوالے سے حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے اپنا ایک ذاتی مشاہدہ بیان فرمایا، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایک سچے مسلمان کو ذاتی تعلقات اور دوستی پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو کس طرح ترجیح دینی چاہیے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک تعلیمی ادارے میں خواتین اساتذہ کی تقرریوں کے لیے انٹرویوز اور ٹیسٹ کا سلسلہ جاری تھا اور میرٹ پر فیصلہ کرنے کی یہ تمام تر ذمہ داری حضرت شیخ کے سپرد تھی۔ اسی دوران آپ کے ایک قریبی جاننے والے تشریف لائے۔ انہیں کسی نے یہ کہہ کر بھیجا تھا کہ تقرریوں کا سارا معاملہ شبیر صاحب کے پاس ہے، لہٰذا ان سے سفارش کی جائے۔ ان صاحب کا بھی یہی گمان تھا کہ "شبیر صاحب ہمارے یار دوست ہیں، میں انہیں کہوں گا تو وہ میرا لحاظ کرتے ہوئے یہ نوکری دے دیں گے۔"

جب انہوں نے اپنی بات رکھی تو حضرت شیخ نے کمالِ متانت اور سنجیدگی سے ان سے دریافت کیا: "کیا آپ کو مجھ پر یہ اعتماد ہے کہ میں صرف حق کا ساتھ دوں گا اور کوئی ناحق کام نہیں کروں گا؟" انہوں نے فوراً اثبات میں جواب دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: "اگر ایسا ہے تو پھر جس کا حق بنتا ہوگا، اسے وہ ضرور مل جائے گا۔ ہم نے باقاعدہ ٹیسٹ لیے ہیں اور ہم کسی صورت یہ ناجائز کام نہیں کریں گے کہ ناحق کو کسی حق دار کا حق دے دیں۔ آپ بے فکر رہیں، جو حق دار ہوگا، اس کا کام آپ کے پوچھے بغیر ہی ہو جائے گا۔"

یہ سن کر سفارش کرنے والے صاحب نے زاویہ بدلا اور ہمدردی کا پہلو اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امیدوار بہت غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے گھریلو مسائل بہت زیادہ ہیں۔ اس پر حضرت شیخ نے ایک انتہائی اہم معاشرتی اور شرعی حقیقت بیان فرمائی کہ "دیکھیں، جن خواتین نے بھی یہ ٹیسٹ دیا ہے، وہ سب ہی غریب اور ضرورت مند ہیں۔ عام طور پر خوشحال اور مالدار گھرانوں کی خواتین کے لیے گھر سے نکل کر اس طرح ملازمت کے میدان میں آنا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ یقین رکھیں کہ اگر کسی غریب سے غریب امیدوار کا بھی حق ہوا، تو ہم ان شاء اللہ اسے ہرگز ضائع نہیں ہونے دیں گے اور اسے اس کا حق ضرور دلا کر رہیں گے۔"

جب وہ صاحب مسلسل اصرار کرتے رہے اور مختلف انداز سے اپنی بات منوانے کی کوشش جاری رکھی، تو تقریباً ایک گھنٹے کی طویل گفتگو کے بعد حضرت شیخ نے ایک حتمی اور ایمانی اصول ان کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا: "میں آپ کا کام کر دیتا ہوں، کوئی مشکل نہیں، بس آپ مجھے ایک بات کی ضمانت (Surety) دے دیں۔ میری پوری کوشش ہوگی کہ میں جو بھی فیصلہ کروں، اس سے آپ بھی راضی ہوں اور اللہ رب العزت بھی راضی ہو۔ لیکن اگر خدانخواستہ کوئی ایسا موقع آیا جہاں اللہ ناراض ہو رہا ہو اور آپ راضی ہو رہے ہوں، تو یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ میں آپ کو راضی کرنے کے لیے اپنے پروردگار کو ناراض نہیں کر سکتا۔"

یہ دو ٹوک اور ایمانی بات سن کر سفارش کرنے والے صاحب بالکل خاموش ہو گئے اور ان کا سارا اصرار ختم ہو گیا۔ چونکہ وہ جاننے والے دوست تھے، اس لیے دینی اصولوں پر سختی کے ساتھ ساتھ حضرت شیخ نے حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں چائے پلائی تاکہ ان کی طبعی خفگی دور ہو جائے اور پھر انہیں رخصت کیا۔

یہ واقعہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ معاشرے میں عدل اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب انسان دوستی، رشتے داری اور ہمدردی کے نام پر شریعت کے اصولوں اور میرٹ کو پامال نہ کرے، اور ہر حال میں اللہ کی خوشنودی کو مخلوق کی خوشنودی پر مقدم رکھے۔

دینی مدارس میں دیانت داری اور اہلِ حق کا تناسب قیامِ عدل کی اس تربیت کا سب سے اہم مرکز دینی مدارس ہیں۔ اگر مدارس کے امتحانات میں نقل جیسی برائی در آئے، تو جو طالبِ علم اس بے ایمانی کے ذریعے کامیاب ہوگا، اس سے مستقبل میں دین کی سچی خدمت اور عدل کے تقاضے پورے کرنے کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

آج دنیا کی آبادی کے تناسب پر غور کیا جائے تو ایک واضح اکثریت غیر مسلموں کی ہے۔ جو تھوڑے بہت مسلمان ہیں، ان میں سے سچے اہلِ حق کی تعداد اور بھی کم ہے، اور پھر ان اہلِ حق میں سے صاحبانِ تقویٰ و ولایت کو تلاش کیا جائے تو ان کا تناسب آٹے میں نمک کے برابر رہ جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں سچائی کو لازم پکڑیں۔

جھوٹی گواہی کی سنگینی: جعلی سرٹیفکیٹ کا روحانی وبال

طبی اور دفتری معاملات میں سچی گواہی کی اہمیت کو ڈاکٹر فدا محمد صاحب کے ایک واقعے سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ جب وہ میڈیکل کالج میں پروفیسر تھے، تو ایک شخص نے ان سے چھٹی حاصل کرنے کے لیے جھوٹا میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے کی درخواست کی۔ معاشرے میں اسے ایک معمولی سفارش سمجھا جاتا ہے، لیکن ڈاکٹر صاحب نے اسے دینی اور روحانی نقطہ نظر سے پرکھتے ہوئے فرمایا:

"خدا کی قسم! میرے نزدیک ایک جھوٹا میڈیکل سرٹیفکیٹ لکھ کر دینا، دو مرتبہ زنا کرنے سے بھی بڑا اور سخت گناہ ہے۔"

اس کی علمی اور روحانی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ زنا ایک انتہائی قبیح گناہ ہے، مگر وہ ایک وقتی فعل ہے۔ انسان سچے دل سے توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ لیکن جھوٹا سرٹیفکیٹ دراصل ایک مستقل 'جھوٹی گواہی' ہے۔ جب تک وہ کاغذ محکمے میں رہے گا، اس کی بنیاد پر ناجائز مراعات لی جاتی رہیں گی، اور اس جھوٹ کی بنیاد پر حاصل ہونے والی حرام تنخواہ متعلقہ شخص کے گھر جائے گی، تب تک اس گناہ کا سلسلہ جاری رہے گا اور دستخط کرنے والے کے نامہِ اعمال میں بھی یہ گناہ مسلسل لکھا جاتا رہے گا۔

وکالت اور دیانت: سچائی پر مبنی پیشے میں اللہ کی برکت

مولانا محمد عمر پالن پوریؒ ایک ایسے وکیل کا واقعہ بیان فرماتے ہیں جو دینداری کی طرف مائل ہوئے، مگر اپنے پیشے میں بولے جانے والے جھوٹ کی وجہ سے شدید پریشان تھے۔ انہوں نے مولانا سے عرض کیا کہ اگر وہ جھوٹے مقدمات لینا چھوڑ دیں تو ان کی روزی روٹی بند ہو جائے گی۔

مولانا نے کمالِ بصیرت سے جواب دیا: "تم پیشہ مت چھوڑو، اپنا طریقہ کار بدل لو۔ صرف سچے لوگوں کے مقدمات لڑو اور سچی گواہی پیش کرو۔ رزق کا وعدہ اللہ نے کر رکھا ہے، وہ تمہیں ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔"

وکیل نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس پر عمل شروع کر دیا۔ ابتدا میں کچھ تنگی محسوس ہوئی، لیکن جلد ہی عدالت کے ججوں پر اس وکیل کی سچائی واضح ہو گئی۔ ججوں کے حلقے میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ یہ وکیل کبھی جھوٹا مقدمہ نہیں لاتا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب وہ عدالت میں پیش ہوتے، تو جج طویل جرح کے بجائے صرف ان کے سچے ہونے کی بنیاد پر فیصلہ سنا دیتے۔ اس نیک نامی کی وجہ سے مظلوم اور سچے لوگ دور دور سے ان کے پاس آنے لگے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے رزق اور عزت میں بے پناہ برکت عطا فرمائی۔

تجارت میں سچائی اور دیرپا کامیابی یہ اصول صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ بازار اور تجارت کے لیے بھی یکساں ہے۔ جو تاجر دیانت داری سے کام لیتا ہے، ملاوٹ سے بچتا ہے اور جھوٹی قسمیں کھا کر مال نہیں بیچتا، اس کا کاروبار ابتدا میں بظاہر سست رفتاری کا شکار ہو سکتا ہے۔ لیکن سچائی کی برکت سے وقت کے ساتھ ساتھ گاہکوں کا اس پر مستقل اور غیر متزلزل اعتماد (Customer Loyalty) قائم ہو جاتا ہے۔ جب مارکیٹ میں اس کی سچائی کی مثبت اور مستند ساکھ بنتی ہے، تو خریدار خود بخود دوسروں کو اس کے پاس لاتے ہیں۔ جھوٹ اور دھوکے سے پاک اس رزقِ حلال میں اللہ تعالیٰ وہ برکت شامل فرماتا ہے جو عارضی منافع کے بجائے کاروبار کو ایک دیرپا، مستحکم اور عظیم کامیابی میں بدل دیتی ہے۔