ازدواجی زندگی میں ایثار اور آخرت کی فکر
درس نمبر 206، سورۃ النساء: آیات: 131 تا 134- اشاعتِ اول: 21 جون، 2022، بمطابق 21 ذی قعدہ 1443 ہجری
- کائنات پر اللہ کی مکمل ملکیت اور قدرت
- اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اور انسان کی محتاجی
- دنیا اور آخرت کی بیک وقت بھلائی طلب کرنا
- ازدواجی معاملات میں مفادات کی قربانی اور آخرت کا ثواب
- "ٹٹ فار ٹٹ" کے رویے سے گریز اور رواداری کی ضرورت
- خاندانی جھگڑوں کا نقصان اور اسلامی اصولوں پر چلنے کا فائدہ
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدًا ﴿131﴾ وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا ﴿132﴾ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًا ﴿133﴾مَّن كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِندَ اللَّهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا ﴿134﴾ صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ ہم نے تم سے پہلے اہل کتاب کو بھی اور تمہیں بھی یہی تاکید کی ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اگر تم کفر اپناؤ گے تو (اللہ کا کیا نقصان ہے؟ کیونکہ) آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، اور اللہ ہر ایک سے بے نیاز اور بذاتِ خود لائقِ تعریف ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔
حاشیہ: یہ جملہ کہ ”آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے“ ان آیتوں میں تین بار دہرایا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ اس کا مقصد میاں بیوی کو یہ اطمینان دلانا ہے کہ اللہ کی رحمت کے خزانے بڑے وسیع ہیں وہ دونوں کے لئے کوئی مناسب ذریعہ پیدا کرسکتا ہے، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی بیان کرنا مقصود ہے کہ کسی کے کفر سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے، کیونکہ ساری کائنات اس کے تابع فرمان ہے، اسے کسی کی حاجت نہیں ہے، اور تیسری جگہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کارسازی کا بیان ہے کہ اگر تم تقویٰ اور اطاعت کا راستہ اختیار کرو تو وہ تمہارے سارے کام بنادے گا۔
جس وقت آسمان اور زمین کے بارے میں مل کے آ جاتا ہے قرآن میں تو اس کا مطلب کائنات ہوتا ہے۔ یعنی کائنات میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے۔ تو ظاہر ہے کائنات میں بہت کچھ ہمیں نظر آتا ہے بہت کچھ ہمیں نظر نہیں آتا۔ تو جو کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے وہ بھی اللہ کا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آ رہا وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ تو ایسی صورت میں پہلی دفعہ یہ جو آیا ہے کہ میاں بیوی ان کو یہ تسلی جو دی جا رہی ہے کہ اللہ کی رحمت کے خزانے بڑے وسیع ہیں اور دونوں کے لیے کوئی اور مناسب ذریعہ پیدا کر سکتا ہے تو ظاہر ہے وہ وہی کر سکتا ہے جو سب چیزوں کا مالک ہو۔ اور پھر یہ کہ انسان بعض دفعہ اپنے آپ کو over estimate کر لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں اگر نہیں مانوں گا تو شاید یہ کوئی مسئلہ ہو جائے گا تو اللہ پاک کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔ یعنی دینے کے لیے تو اللہ تیار ہے اپنے قانون کے مطابق۔ اپنی رحمت کے مطابق۔ دینے کے لیے تیار ہے۔ لیکن یہ نہیں کہ -نعوذ باللہ من ذلک- وہ مجبور ہے۔ جیسے یہود نے بنا لیا تھا نا اپنے خیال میں۔ تو مجبور نہیں ہے، مہربان ہے۔ تو اس کی مہربانی کا احساس کرنا اور پھر اس کے مطابق اس کے ساتھ محبت ہونا اور پھر اس کی رضا کے لیے سارے کام کرنا یہ اس کا تقاضا ہے۔ تو جو لوگ ایسا نہیں کرتے تو اللہ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ جو نہیں مانتے تو اپنے لیے نقصان ہے ان کا۔ اور پھر اس کے بعد یہ جو آیا ہے کہ اللہ ہی کا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جو بھی اللہ پاک کی بات مانے گا تو اللہ تعالیٰ کے پاس اس کے لیے بہت کچھ ہے۔ تو ظاہر ہے وہ سارے کام اللہ پاک اس کے بنا سکتا ہے۔
جو شخص (صرف) دُنیا کا ثواب چاہتا ہو (اسے یاد رکھنا چاہئے کہ) اللہ کے پاس دُنیا اور آخرت دونوں کا ثواب موجود ہے۔
حاشیہ: اس آیت میں یہ عمومی ہدایت دی گئی ہے کہ ایک مسلمان کو صرف دُنیوی فائدوں ہی کی فکر میں نہیں پڑا رہنا چاہئے، بلکہ اللہ سے دُنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنی چاہئے۔ اور پچھلی آیتوں سے اس کا تعلق بظاہر یہ ہے کہ میاں بیوی کو مصالحت یا علیحدگی کا فیصلہ کرتے وقت صرف دُنیا کے فائدوں پر نظر نہیں رکھنی چاہئے، بلکہ آخرت کی بھلائی بھی پیش نظر رکھنی چاہئے۔ لہٰذا اگر مرد یا عورت اپنے کچھ دُنیوی مفادات کی قربانی دے کر دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو آخرت میں بڑے ثواب کی امید ہے۔
یہ واقعتاً اگر اس aspect کو دیکھا جائے تو بہت سارے مسائل لوگ خود اپنے حل کر لیں گے۔ کیونکہ دیکھیں جب tit for tat والا معاملہ ہوتا ہے نا تو اس میں چیزیں ٹکراتی ہیں آپس میں۔ اگلا آدمی کہتا ہے بس میں نے یہ کیا تو میرے ساتھ یہ ہونا چاہیے۔ پھر اس میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں طرف سے جب ایثار کا معاملہ ہوتا ہے تو ہمیشہ قربت پیدا ہوتی ہے، محبت پیدا ہوتی ہے۔ اور کام بنتے جاتے ہیں۔ تو اس میں یہ ہے کہ tit for tat والی بات نہیں کرنی چاہیے یہ تو الفت اور محبت کی جگہ ہے۔ اس میں تو انسان accomodate کرے۔ اور خطاؤں کی بات جو ہے وہ ٹھیک ہے وہ انسان اپنے طور پر کہہ سکتا ہے کہ مجھ میں بھی خطائیں ہیں ان میں بھی خطائیں ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ مجھ میں جس قسم کی خطائیں ہیں اسی قسم کی خطائیں ان میں ہوں۔ تو ایسی صورت میں مجھے تو اپنی خطائیں اس لیے نظر نہیں آتیں کہ وہ اس وقت ہیں نہیں جس وقت میں ان کی خطائیں دیکھ رہا ہوں۔ مثلاً ایک خطا اس میں ہے ایک خطا اس میں ہے۔ تو مجھے اگر اس کی خطا نظر آ رہی ہے لیکن دوسری خطا مجھے اپنی نظر نہیں آ رہی تو میں تنقید کروں گا۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ اگر اس میں خطا ہے تو مجھ میں بھی ہے۔ تو اگر میں اس سے expect کر رہا ہوں کہ وہ مجھے accomodate کر لے تو اس کو مجھے accomodate کرنا چاہیے۔ تو اس سے معاملہ کافی سدھر جاتا ہے۔
اور ایسے ہی جوڑی جو ہوتی ہے وہ کامیاب ہوتی ہے۔ یہ ایک معاشرتی اصول ہے۔ کہ جس خاندان میں ایک دوسرے کے لیے ایثار ہے اور accomodation ہے تو وہ جوڑیاں کامیاب رہتی ہیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہے برابری کا مسئلہ ہے خشک مزاجی کا مسئلہ ہے دونوں طرف سے تو پھر مسئلے بنتے نہیں ہیں پھر تو خراب ہوتے ہیں۔ اور اگر کسی ایک طرف سے ہے تو پھر ظلم ہی ہوتا رہتا ہے۔ پھر ظلم ہی ہوتا رہتا ہے۔ تو بس اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے ایک بہت ہی اہم چیز ہے اپنی زندگی کی یعنی یہاں پر کہ جو ہم لوگ اپنی زندگی کو خوشگوار بناتے ہیں یا ناخوشگوار بناتے ہیں۔
اگر کوئی اللہ جل شانہ کی ترتیب کے مطابق چلتا ہے جیسے اس میں بتایا گیا ہے تو اس کی زندگی خوشگوار ہو جاتی ہے۔ اور اگر نہیں ہوتی تو وہاں اس کا اجر ملتا ہے۔ نقصان کسی بھی صورت میں نہیں ہوتا۔ اور اگر اس کے مطابق نہیں چلتا تو وہ زندگی بھی خراب، یہ زندگی بھی خراب ہو جاتی ہے۔ ہم نے زندگیاں دیکھی ہیں اتنی ٹینشن والی زندگیاں ہوتی ہیں بعض لوگوں کی، بیچاروں کی کہ وہ بالکل نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والی بات ہوتی ہے۔ یعنی آدمی نہ کچھ یہ کر سکتا ہے نہ کچھ یہ کر سکتا ہے، پریشانی ٹینشن۔ اور عدالتوں تک بات چلی جاتی ہے اور اپنے پردہ اٹھ جاتا ہے۔ پردہ کیا ہے چیخ چیخ کر بولتے ہیں پڑوسی سن لیتے ہیں، رشتہ دار سنتے ہیں، ایک عجیب افراتفری والا معاملہ ہوتا ہے۔ تو اس میں انسان کی ساری چیزیں ظاہر ہو جاتی ہیں، تو یہ تباہی والی بات ہے۔
اگر ہم لوگ اس بات کو سمجھیں کہ اس میں ہمارا بھی فائدہ ہے، ان کا بھی فائدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی ہے۔ تو پھر کیوں نہ ہم ایسی چیزوں کو اختیار کر لیں جس میں ہمارے دونوں جہانوں کا فائدہ ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
حصہ دوم: تفصیلی تشریح و علمی نکات
درسِ مذکورہ کی روشنی میں درج ذیل نکات مزید توجہ اور تدبر کا تقاضا کرتے ہیں، جن میں انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے:
حقیقی ملکیتِ الٰہی بمقابلہ انسانی ملکیت کی حقیقت
اس کائنات کی ہر شے کا اصل مالک اور قادرِ مطلق صرف اللہ جل شانہ ہے۔ دنیا میں جب انسان کسی زمین یا شے کی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے، تو علمِ دین کی رو سے یہ ملکیت ہرگز کامل، حقیقی یا مستقل نہیں ہوتی۔ یہ محض ایک عارضی اور مجازی ملکیت ہے جو انسان کو آزمائش کے طور پر دی گئی ہے۔ انسان اس دنیا میں مالک نہیں بلکہ محض ایک امانت دار کی حیثیت سے زندگی بسر کرتا ہے۔ حقیقی ملکیت صرف اور صرف اسی ذاتِ باری تعالیٰ کی ہے جو آسمانوں اور زمین کا تنہا وارث ہے۔
انسانی محتاجی اور بے بسی کا مشاہدہ
انسان چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے، بادشاہ ہو، ارب پتی ہو یا سائنسدان، وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے بنائے گئے نظام کا محتاج ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس عاجزی کو انتہائی واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے: "اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ ہی بے نیاز (غنی) اور سب خوبیوں والا ہے" (سورہ فاطر، آیت 15)۔
انسان کی اس محتاجی کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
وجود اور سانس کا محتاج: انسان ایک لمحے کے لیے بھی اللہ کی عطا کردہ مفت نعمت یعنی ہوا (آکسیجن) کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ معمول کی صحت ہو یا بیماری، دل کا ایک معمولی سا وائرس یا دھڑکن کا عدم توازن بڑے سے بڑے انسان کی بے بسی کو ظاہر کر دیتا ہے۔ موت پر تو انسان کا کوئی اختیار سرے سے ہے ہی نہیں؛ کوئی شخص اپنے مقررہ وقت کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی مؤخر نہیں کر سکتا۔
رزق اور بقا کے اسباب کا محتاج: بظاہر خود مختار نظر آنے والا انسان اپنا اناج خود نہیں بنا سکتا۔ وہ زمین سے فصل حاصل کرنے کے لیے بارش، دھوپ اور مٹی کی مخصوص تاثیر کا محتاج ہے۔ اسی طرح ایک صاحبِ ثروت شخص بھی اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے معاشرے کے عام افراد، جیسے روٹی پکانے والے، صفائی کرنے والے اور معالجین کا محتاج رہتا ہے۔
نیند کی عظیم نعمت: قدرت اور دولت کا عبرت ناک موازنہ
دنیاوی اسباب انسان کو راحت تو دے سکتے ہیں لیکن سکون صرف اللہ کی عطا سے ملتا ہے۔ اس کی ایک واضح اور چشم کشا مثال نیند ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نیند کی نعمت سلب کر لے، تو دنیا کی مہنگی ترین ادویات اور پرتعیش بستر بھی انسان کی آنکھوں میں نیند نہیں لا سکتے۔
دنیا کے مشہور ترین اور امیر ترین شخص جان ڈی راکفیلر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جب وہ اپنی دولت اور کامیابی کے عروج پر تھا، تو شدید ذہنی تناؤ اور بے خوابی (Insomnia) کا شکار ہو گیا۔ اس کا ہاضمہ اس حد تک تباہ ہو گیا کہ وہ محض بسکٹ اور دودھ پر گزارہ کرنے پر مجبور تھا۔ ایک روز اس نے اپنی ہی کمپنی کے ایک غریب مزدور کو دیکھا جو کڑی دھوپ میں سخت مشقت کرنے کے بعد زمین پر مٹی اور گھاس پر سر رکھے نہایت گہری اور پرسکون نیند سو رہا تھا۔ اسے دیکھ کر راکفیلر حسرت سے رو پڑا اور اس نے یہ تاریخی بات کہی کہ وہ اپنی ساری دولت اور جائیداد دینے کو تیار ہے اگر اسے اس غریب مزدور جیسی پرسکون نیند مل جائے۔
دوسری جانب ہم شاہراہوں پر دیکھتے ہیں کہ بھاری گاڑیوں کے ڈرائیور اور کلینر ٹرک کے نیچے مٹی پر یا کیبن کی چھت پر بلا تکلف سو جاتے ہیں۔ انہیں نیند کے لیے کسی گولی کی حاجت نہیں ہوتی، بلکہ ٹریفک کے شور اور مٹی دھول کے طوفان میں بھی وہ لیٹتے ہی گہری نیند کے آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، حضرت شیخ نے اپنے ایک بھائی (طارق) کے حوالے سے اپنا ذاتی مشاہدہ بیان فرمایا کہ وہ کمرے میں موجود گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز سے بھی بے خوابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ مشاہدات انسان کو اس کی حقیقت یاد دلانے کے لیے کافی ہیں۔
دعاؤں میں ہمارا رویہ اور دنیاوی ترجیحات
آیاتِ مبارکہ میں واضح ہدایت دی گئی ہے کہ انسان کو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھلائی بھی مانگنی چاہیے۔ مگر ہمارا عملی رویہ یہ ہے کہ جب مسجد میں امام صاحب دعا کے دوران دنیاوی حاجات (بیماروں کے لیے شفا، قرضوں کی ادائیگی، کاروبار میں برکت) کا ذکر کرتے ہیں، تو مقتدیوں کی جانب سے "آمین" کی ایک پرجوش اور گونجتی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی دعا کا رخ آخرت، موت کی سختی اور عذابِ قبر سے پناہ کی طرف مڑتا ہے، تو وہ آوازیں اچانک دھیمی اور سرد پڑ جاتی ہیں۔ یہ رویہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہماری نظر دنیاوی مفادات پر زیادہ اور اخروی فکر پر کم ہے۔
ازدواجی زندگی کا تحفظ اور ایثار کے ثمرات
میاں بیوی کے رشتے کا استحکام ایثار اور قربانی کا متقاضی ہے۔ اگر دونوں فریق یہ اصول اپنا لیں کہ "اگر میرے شریکِ حیات میں کوئی خامی ہے، تو مجھ میں بھی یقیناً خامیاں ہیں، اور مجھے بھی اس کی پردہ پوشی کرنی چاہیے"، تو گھر کا ماحول جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔ کوئی فریق محض گھر کو بچانے کے لیے اگر اپنے کسی دنیاوی مفاد کی قربانی دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کو یہ صلح اس قدر پسند ہے کہ آخرت میں اس کا عظیم ثواب مقرر فرمایا ہے۔ ایثار سے دلوں میں محبت اور عزت پروان چڑھتی ہے، جبکہ انا اور ضد سے رشتوں میں دراڑیں پڑتی ہیں۔
مزید برآں، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ گھر کے امور کو سنبھالنے میں بیوی کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ وہ گھر کو اپنا سمجھ کر (Own کرکے) محبت کے جذبے سے اس کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ بھاری تنخواہیں لے کر کام کرنے والی ملازمائیں وہ خلوص اور اپنائیت کبھی نہیں دے سکتیں جو ایک شریکِ حیات کے مزاج میں شامل ہے۔
خاندانی نظم و ضبط اور حسنِ سلوک (حضرت شیخ کا ذاتی مشاہدہ)
خاندانی زندگی میں ایک دوسرے کی خوبیوں کا اعتراف اور شکر گزاری بہت اہم ہے۔ حضرت شیخ نے اپنے گھرانے کا ایک مشاہدہ بیان فرمایا کہ ان کی ایک ہمشیرہ (جہانگیرہ) گھر کی صفائی ستھرائی کا بے حد خیال رکھتی تھیں۔ بسا اوقات دیگر بھائی اس کی اتنی پرواہ نہیں کرتے تھے، جس پر وہ انہیں تنبیہ کرتیں۔ بھائیوں کو یہ بات گراں گزرتی کہ یہ ہر وقت صفائی میں لگی رہتی ہیں۔ اس موقع پر حضرت شیخ نے بھائیوں کی اصلاح فرمائی اور سمجھایا کہ وہ گھر کے لیے ایک مثبت اور اچھا کام کر رہی ہے، لہٰذا تنقید کے بجائے اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے، لیکن خاندانوں میں محبت برقرار رکھنے کا یہی بنیادی اصول ہے۔
روحانی وابستگی اور خاندانی تنازعات کا حل
خاندانی تنازعات سے بچنے کا ایک بہترین اور مجرب روحانی حل یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں کا روحانی تعلق اور بیعت کسی ایک ہی مستند شیخ کے ساتھ ہو۔ جب میاں بیوی دونوں ایک ہی شیخ کی تربیت میں ہوتے ہیں، تو اختلافات کی صورت میں معاملہ سنبھالنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ مربی و شیخ کبھی شوہر کی اصلاح کرتا ہے اور کبھی بیوی کو ان کی خامی پر تنبیہ کرتا ہے، یوں گھر ٹوٹنے سے بچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جہاں یہ روحانی رہنمائی اور تربیت کا فقدان ہو، وہاں بات معمولی جھگڑوں سے شروع ہو کر انا کی جنگ بن جاتی ہے، مصالحت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور نوبت عدالتوں تک پہنچ کر دونوں خاندانوں کی رسوائی کا سبب بنتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان علمی اور ایمانی حقائق کو سمجھنے، اپنی عاجزی کا اعتراف کرنے اور باہمی رشتوں میں ایثار و درگزر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)