مکتوباتِ امام ربانی: سماع و سرود کی ممانعت اور عقائد کی اصلاح

اشاعتِ اول: 7 فروری، 2018 بمطابق 20 جمادی الاول 1439 ہجری دفتر اول، مکتوب: 266

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. سماع، رقص اور لہو و لعب کی شرعی ممانعت
    1. ائمہ مجتہدین کے فقہی اختلافات میں اعتدال اور احتیاط
      1. غیر مسلموں کے مذہبی شعار کو اچھا جاننے کے نقصانات
        1. دین میں تخصیص (Specialization): صوفی اور فقیہ کا اپنا اپنا دائرہ کار
          1. اصلاح میں للہیت (حدّت) اور نفسانیت (شدّت) کا واضح فرق
            1. احکامِ شریعت پر عمل کے لیے علمِ فقہ سیکھنے کی اہمیت اور فرضیت

              اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔


              آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوبات شریف کا بے نظیر درس ہوتا ہے۔ کیونکہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ جل شانہ نے حضرت کو جو اونچی نسبت عطا فرمائی تھی، کہ ہزار سال کے لیے مجدد بنا کر اللہ پاک نے بھیج دیا، یہ بڑی بات ہے۔ دوسرے مجددین حضرات بھی تشریف لاتے رہتے ہیں، اور سو سال ان کا اثر رہتا ہے۔ لیکن جو مجدد الف ثانی ہیں، تو ان کا اثر ان شاء اللہ یہ جو ہزار سال ہیں، تو اس میں حضرت کا اثر رہے گا۔ اور بالکل ان مکتوبات شریف سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ جو مسائل ہیں تو ان مسائل کا حل حضرت نے پیش کیا ہوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ لوگ ان سے استفادہ نہ کریں، ان کو سمجھیں نہیں، یا ان کو پڑھیں نہیں، وہ ایک علیحدہ بات ہے، وہ اپنی کمزوری ہے۔


              یہ ابھی جو موجودہ مکتوبِ شریف ہے، یہ اصل مکتوبِ شریف، یہ عقائد کے بارے میں، یہ مکتوب نمبر دو سو چھیاسٹھ (266) ہے۔ چل رہا ہے اور تقریباً آج شاید ختم ہو جائے گا۔ کافی لمبا مکتوب ہے۔ کچھ تقریباً چالیس صفحات سے زیادہ کا مکتوبِ شریف ہے۔ غالباً شاید تمام مکتوبات میں شاید یہ سب سے زیادہ لمبا مکتوب ہو۔ تو اس میں حضرت نے عقائد کے اوپر باتیں کی ہیں کہ عقائد ہمارے کیسے ہونے چاہئیں۔ چونکہ حضرت کے وقت میں بہت سارا بگاڑ آ گیا تھا، بہت سارا مسئلہ بن گیا تھا، جس کو انگریزی میں chunk کہتے ہیں نا، وہ تقریباً chunk والی بات ہو رہی تھی، ساری چیزیں آپس میں mix ہو گئی تھیں۔ تو ان کو علیحدہ علیحدہ کرنا یہ بہت ضروری تھا۔ تو حضرت نے الحمد للہ یہ کام بہت ہی زیادہ حکمت کے ساتھ کیا ہے۔ اور ہر چیز کو اپنے اپنے مقام اور اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔


              جاننا چاہیے کہ سماع و رقص در حقیقت لہو و لعب میں داخل ہیں: آیۂ کریمہ: ﴿وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ﴾ "اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی نالائق ہے جو واہیات خرافات قصے کہانیاں مول لیتا ہے"۔ سرود سے منع کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ چنانچہ مجاہد رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے شاگرد اور کبار تابعین میں سے ہیں، فرماتے ہیں: "لھو الحدیث سے مراد سرود ہے" اور تفسیر مدارک میں ہے کہ لھو الحدیث سے مراد (بعد عشاء) بے ہودہ قصے کہانیوں میں وقت گزارنا اور سرود و نغمہ ہے۔ حضرت ابن عباس و ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم قسم کھاتے تھے کہ بے شک وہ غنا و سرود ہے۔ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے قول:

              ﴿وَ الَّذِیْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ﴾ "زور میں حاضر نہیں ہوتے" کی تفسیر میں فرماتے ہیں یعنی سرود و سماع میں حاضر نہیں ہوتے۔ اور امام الہدی ابو منصور ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی گئی ہے کہ جس شخص نے ہمارے زمانے میں کسی قاری کو جو کلماتِ قران میں گانے کے طرز پر پڑھنے کی وجہ سے تغیر پیدا کرتا ہے، قرات کے وقت کہا "تو نے بہت اچھا پڑھا" تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ ماتریدی ہمارے امام ہیں کلام میں۔ اور اس کی عورت کو طلاق ہو جاتی ہے اور اللہ تعالی اس کی تمام نیکیوں کو ضائع کرتا ہے۔


              دیکھیں احتیاط تو اچھی بات ہے۔ ٹھیک ہے اختلاف اپنی جگہ پر بعض مسئلوں میں اختلاف بھی ہوتا ہے لیکن جب بزرگوں میں اختلاف ہو کسی چیز کا اور اس سے بچا جا سکے۔ بعض چیزوں سے تو نہیں بچ سکتے نا، جیسے اب فاتحہ خلف الامام ہے۔ وہ امام شافعی رحمۃ اللہ کے نزدیک فرض ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک حرام ہے۔ اس میں ہم دونوں کو جمع نہیں کر سکتے۔ تو اس میں صرف اپنے امام کی بات پہ عمل کرنا ہے اور دوسرے امام کی بات کے بارے میں خاموش رہنا ہے۔ یہی ہم کر سکتے ہیں نا اس میں۔ لیکن کسی وقت جمع کیا جا سکتا ہے، کسی وقت ایسا بھی جمع کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض بزرگوں کا باقاعدہ یہ مسلک ہے، مسلک ہے، مسلک ہے جن میں مجدد صاحب بھی شامل ہیں۔ ان کا بھی مسلک تھا۔ کہ جب اختلاف ہوتا تھا ائمہ میں تو ایسا عمل کرتے کہ کسی امام کے خلاف نہ ہو۔ کسی امام کے خلاف نہ ہو۔ مثلاً مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ خود نماز اس لیے پڑھاتے تھے، فرماتے تھے کہ فاتحہ خلف الامام کے جو دلائل ہیں وہ بھی کافی وزنی ہیں، لہذا مجھ پر وہ بات نہ آئے۔ ایسے ایسے مشائخ ہیں۔ مثال کے طور پر وہ خون آئے تب بھی وضو کرتے ہیں اور مسِ عورت ہو گیا تو تب بھی وضو کرتے ہیں۔ تو اس میں کیا مسئلہ ہے؟ اس میں جمع کیا جا سکتا ہے نا۔ تکلیف البتہ زیادہ ہے۔ یعنی اس میں آپ کو کام زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ مجاہدہ زیادہ ہے لیکن بہرحال آپ بچ تو گئے نا۔ تو اس طریقے سے وہ جو حضرات وہ کر سکتے ہیں۔


              تو اب یہ منصور ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر عمل تو کیا جا سکتا ہے نا۔ یہ کوئی مشکل بات تو نہیں ہے نا۔ مطلب یہ ہے کہ قران کو واقعتاً آج کل تو کچھ... بلکہ مجھے تو بے ادبی لگتی ہے بعض دفعہ قرآن کے ساتھ اس طرح یعنی وہ کھیل کھیلنا گویا ایک قسم کا۔ تو وہ تو مجھے تو بے ادبی لگتی ہے۔ ظاہر ہے کہہ تو کچھ نہیں سکتا کہ میں نہ قاری ہوں نہ عالم ہوں لیکن لگتی تو مجھے بے ادبی ہے کہ بھئی جو ہے نا وہ قرآن کو اس طرح... حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ قرات پڑھتے تھے تو سادہ قرات پڑھتے تھے۔ بس کہ سمجھ آ جائے، بس اس طریقے سے سادہ قرات پڑھتے تھے۔ بہت زیادہ تکلف اس میں نہیں کرتے تھے۔ اور لوگوں کو تو باقاعدہ Addiction ہو گیا ہے کہ اتنا زیادہ جو ہے مختلف طریقوں سے پڑھتے ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ بھئی یہ کرنا کیا چاہتے ہیں۔ تو اس میں جو آوازوں کو آگے پیچھے کرنا، مدوں کو بہت زیادہ بڑھانا، اس کے لیے کوئی تجوید کا قاعدہ سامنے نہیں ہوتا کہ بھئی تجوید... یہ ہمارے مولانا عبدالحق نافع صاحب جو دیوبند میں استاد تھے، یہ قاری عبدالباسط کو گویّا کہتے تھے۔ یہ تو گویا ہے۔ قاری عبدالباسط جو تھے اس طرح کے، اس کو گویّا کہتے تھے کہ یہ گویّا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ واقعتاً بعض لوگ بہت ہی زیادہ تکلف کرتے ہیں۔ تجوید کے قواعد کو بالائے طاق رکھ لیتے ہیں۔ تو ظاہر ہے ایسی صورت میں ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر اگر عمل کر لیں اور کم از کم ان کو داد نہ دیں۔ بہتر تو یہ ہے کہ ایسی مجلس میں شامل نہ ہوا جائے، لیکن اگر شامل ہو تو داد تو نہ دیں نا کم از کم۔ جس چیز میں شک ہو۔ علماء کا اختلاف ہو اور وہ بھی ایسے امام کا، ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ اس پر ہیں نا، مشرب پر ہیں نا ہم۔ یعنی ہمارا مشرب جو ہے نا ماتریدی ہے نا۔ تو پھر ہم لوگ کم از کم اتنا احترام تو کریں نا اپنے امام کا، کہ ایسی چیزوں میں تو نہ پڑیں۔ تو یہ بات ہے کہ احتیاط کرنا چاہیے۔ ٹھیک ہے اماموں میں اختلاف ہوتا ہے اور اپنے امام کو پکڑنا ہے لازماً، باقی اماموں کی باتوں کو نہیں چھیڑنا۔ لیکن اگر ایسی بات ہو جس پہ عمل ہو سکتا ہے تو اس میں کوئی ایسی بات تو نہیں ہے۔ انسان کوشش کر سکتا ہے۔ اور یہ تو مجھے یعنی آج سند مل گئی۔ پہلے میری بات بے سند ہوتی تھی۔ تو طبیعت پہ میرا بوجھ آتا تھا بہت زیادہ۔ لیکن ظاہر ہے میرے پاس سند تو نہیں تھی کہ میں کون سی بات کر لوں۔ تو آج الحمدللہ سند مل گئی۔


              اور ابو نصیر الدبوسی سے حکایت کی گئی ہے کہ انہوں نے قاضی ظہیر الدین خوارزمی سے نقل کیا ہے کہ جس نے گانے والے یا کسی اور سے سرود سنا یا فعل حرام کو دیکھا اور اس کو اچھا جانا اسی وقت مرتد ہو جاتا ہے خواہ اچھا جاننا اعتقاد کی رو سے ہو یا بغیر اعتقاد کے، کیونکہ اس نے شریعت کے حکم کو باطل کر دیا اور جس نے شریعت کے حکم کو باطل کر دیا وہ کسی مجتہد کے نزدیک مؤمن نہیں رہتا اور اللہ تعالیٰ اس کی عبادت کو قبول نہیں کرتا اور اس کی سب نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اس سے بچائے۔


              یہ میں آپ کو کیا بتاؤں؟ بہت خطرناک باتیں ہیں۔ بہت خطرناک باتیں ہیں ہم لوگ محجوبین ہیں۔ محجوبین یعنی ہمیں بہت ساری چیزوں کا پتہ نہیں ہوتا، نظر نہیں آتیں۔ ایک واقعہ بتایا جاتا ہے کہ مکہ مکرمہ ایک شیخ دفن تھے۔ تو کسی وجہ سے ان کی قبر کھودی گئی۔ تو وہاں دیکھا کہ ایک لڑکی کی لاش ہے، اور وہ لڑکی فرانس کی تھی۔ اتفاق سے دیکھنے والوں میں فرانس کا آدمی بھی موجود تھا۔ اور وہ اس لڑکی کو جانتا تھا۔ بڑا حیران ہوا کہ اس کی لاش ادھر سے کیسے ملی۔ اب چونکہ فرانس کا تھا تو شک تو اس کو پڑ گیا کہ کچھ ہوا ہے۔ کچھ ہوا ہے۔ تو ایسا ہوا کہ وہ جب فرانس اپنی جگہ پہ گیا تو وہاں اس لڑکی کی قبر کو کسی طریقے سے کھدوایا۔ تو دیکھا وہاں وہ شیخ موجود تھے۔ جو مکہ مکرمہ میں دفن تھے۔ اب تو یہ بہت ہی زیادہ پریشان ہو گئے۔ پھر واپس آئے۔ اور لوگوں کو بتایا۔ لوگ بھی حیران کہ کیا صورتحال ہے کیونکہ جن سب لوگوں کے سامنے وہ تو ان کی قبر سے وہ نکلے نہیں، تو یہاں بھی تو شک تو پڑ گیا تھا۔ فیصلہ ہوا کہ ان کی بیوی سے پوچھا جائے۔ کہ کیا مسئلہ ہے اس کے ساتھ، کوئی خاص مسئلہ ہو، اگر اس کو پتہ ہو تو ہمیں بتا دیا جائے۔ تو ان کی بیوی سے پوچھا گیا تو بڑی گھبرا گئی۔ اور ڈرتے ڈرتے کہا کہ باقی تو تمام چیزوں پہ عامل تھے، کبھی کبھی وہ یہ کہہ دیتے تھے کہ عیسائیوں میں یہ طریقہ اچھا ہے کہ جنابت میں غسل نہیں کرنا پڑتا، یہ۔ اور اس لڑکی کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ مسلمان ہو چکی تھی چپکے سے۔ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ وہ مسلمان ہو چکی ہے۔ تو ان کو وہاں کے ظاہر ہے عیسائیوں کے قبرستان میں دفن کیا۔ لیکن اللہ پاک کے ہاں تو مسلمان ہو چکی تھی۔ تو ان کو یہاں پہنچا دیا۔


              تو اس طرح یہ والی باتیں ہیں کہ ہمیں کم از کم یہ باتیں تو اب بہت زیادہ روکنی چاہیے کیونکہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ سوشل میڈیا میں اس قسم کی باتیں آتی ہیں۔ بغیر تحقیق کے بعض دفعہ، بعض دفعہ بغیر کسی سوچ کے کوئی بات ایسی ہو جاتی ہے جس میں دوسرے جو غیر مسلم لوگ ہیں ان کے طریقے کی تعریف ہوتی ہے۔ دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں، طریقے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ غیر مسلموں ہیں اگر ہمارے طریقے پہ چلے گئے ہوں، اس سے ان کو فائدہ ہو رہا ہو، اس کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وہ تو اپنے منہ پہ تھپڑ مارنے والی بات ہے نا کہ ہمیں حاصل نہیں ہے ان کو حاصل ہے۔ وہ تو اپنے منہ پہ تھپڑ مارنے والی بات ہے۔ اس کے بیان کرنے میں تو انسان کو عبرت ہوتی ہے کہ دیکھو ان لوگوں نے حاصل کیا اور ہم لوگوں نے حاصل نہیں کیا۔ لیکن بعض ان کے شعار ہوتے ہیں۔ مذہبی شعار ہوتے ہیں۔ ان کے جو مذہبی شعار ہیں ان کو ان کو اچھا کہنا یہ غلط بات ہے۔ حضرت یہ فرمانا چاہتے ہیں۔ کہ جو ان کے مذہبی شعار کی چیزیں ہیں ان کو اچھا نہ کہو۔ بے شک مجبورا اس کو استعمال بھی کرو۔ بعض دفعہ مجبورا استعمال کرنا پڑتا ہے، بعض دفعہ۔ اگرچہ جو ہوتے ہیں جو عزیمت والے لوگ ہوتے ہیں وہ نہیں کرتے۔ اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں۔ پھر بھی اگر کوئی کمزور ہے اور رخصت کے طور پر اس کو استعمال کر لے، تو استعمال کرنا اور بات ہے لیکن اس کو اچھا اور بات ہے۔ یہ خطرناک بات ہے۔

              تو یہاں پر حضرت نے فرمایا کہ ان کے کسی کام کو، چاہے اعتقاداً ہو یا غیر اعتقاداً ہو۔ اگر کوئی اچھا کہے گا تو یہ مرتد ہو جائے گا۔

              سرود و غنا کی حرمت میں آیات و احادیث اور روایات فقہیہ اس کثرت سے ہیں کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے، اس کے با وجود اگر کوئی شخص منسوخ حدیث یا روایتِ شاذہ (یعنی غیر معتبر) کو سرود کے مباح ہونے میں پیش کرے تو اس کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ کسی فقیہ نے کسی زمانے میں بھی سرود کے مباح ہونے کا فتوی نہیں دیا ہے اور نہ ہی رقص و پا کوبی کو جائز قرار دیا ہے جیسا کہ امام ہمام ضیاء الدین شامی کے رسالے ”ملتقط“ میں مذکور ہے۔ صوفیہ کا عمل حل و حرمت میں سند نہیں ہے۔ کیا ان کے لئے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ ہم ان کو معذور سمجھیں اور ان کو ملامت نہ کریں اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں؟ یہاں تو امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کا قول معتبر ہے، نہ کہ ابو بکر شبلی اور ابو الحسن نوری کا عمل۔


              یہ وہ تاریخی ملفوظ ہے حضرت کا، جو کافی بار حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مواعظ میں لے چکے ہیں۔ کہ حضرت فرماتے تھے کہ یہ وہ بات ہے جہاں پر امام ابو حنیفہ اور امام شافعی اور ان حضرات کا قول مانا جائے گا۔ یہاں پر ابوبکر شبلی اور جنید بغدادی کی بات نہیں مانی جائے گی۔ وجہ کیا ہے؟ domain ہے اپنا اپنا۔ مجھے بتاؤ ڈاکٹری میں انجینئر کی بات مان سکتے ہیں آپ؟ چاہے وہ کتنا عقلمند کیوں نہ ہو۔ آپ نہیں مان سکتے۔ آپ کہیں گے، ”ٹھیک ہے جی آپ بڑے اچھے آدمی ہیں، بڑے اچھے انجینئر ہیں لیکن یہ معاملہ ڈاکٹری کا ہے۔ اور انجینئرنگ کی بات میں ڈاکٹر کی بات نہیں مان سکتے ہو۔“ بے شک کتنا ہی میڈیکل سپیشلسٹ ہو یا جو بھی ہو، سرجیکل سپیشلسٹ ہو، نہیں! ”حضرت آپ کا یہ آپ کا field نہیں ہے، اس میں آپ کی بات نہیں چلے گی۔“ تو بات بالکل صحیح ہے، وہ میرے خیال میں وہ mind بھی نہیں کرتے۔ اگر کسی ڈاکٹر کو کہہ دیں کہ بھئی انجینئرنگ میں بات نہ کرو، اور انجینئر کو کہہ دیں کہ بھئی ڈاکٹری میں بات نہ کرو، تو میرا تو خیال ہے کہ شاید کوئی mind بھی نہیں کرے گا اور کہے گا بات بالکل صحیح ہے۔


              تو اسی طریقے سے صوفی کو تصوف میں بات کرنی چاہیے، اور فقیہ کو فقہ میں بات کرنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء جو تھے، یہ جب صوفی ہوتے تھے تو اپنے شیخ کی ایسے مانتے تھے جیسے عام آدمی مانتے تھے۔ اپنے شیخ کی بات مانتے تھے۔ تصوف میں، شیخ کی بات مانتے تھے۔ جیسے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی بات مانتے تھے۔ اور فرمایا تھا کہ ”لَوْلَا سَنَتَانِ لَهَلَكَ النُعْمَانُ“۔ یہ وہ دو سال میں نے جو امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ گزارے ہیں، اگر وہ نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا۔ تو اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے، تو صوفیائے کرام جو مقلد ہیں کسی فقیہ کے، تو اس مسئلے میں اپنی بات نہیں کرتے۔ وہ اپنے امام کی بات کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ان کی field نہیں ہے۔ یہ ان کی field نہیں ہے۔ اور دوسری طرف جو فقہاء ہیں، وہ جس وقت مرید ہوتے ہیں، تو پھر وہ دوسری بات نہیں کرتے، پھر وہ تصوف میں اپنی بات نہیں چلاتے پھر اپنے شیخ کی بات چلاتے ہیں۔ اور یہی محفوظ طریقہ ہے۔ یہی محفوظ طریقہ ہے۔


              یہی بات حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے کی تھی جس میں بعض لوگوں کو بڑی ناراضگی ہوتی ہے۔ حضرت نے، فرمایا تھا کہ ”بھئی یہ مسئلہ فقہ کا ہے۔ اس میں ہم حاجی صاحب کی نہیں بات مان سکتے، حاجی صاحب کو ہماری بات ماننی پڑے گی۔“ اور حاجی صاحب تک وہ بات پہنچی بھی اور حضرت نے اس کی تائید فرمائی۔ کہ ”ہاں یہ بات تو بالکل اس طرح ہے۔ اس میں تو ہم ان کی بات مانیں گے۔“ یہ ظاہر ہے مطلب ایک چیز ہے نا، ایک طریقہ کار ہے۔ اس میں کیا خوامخواہ مشکل بات ہے؟ جو چیز طے ہے، تو اس کو کیوں disturb کرتے ہو؟ specialization ہے۔ یہ دور specialization کا ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ اس specialization کے دور میں یہ بات کسی کو سمجھ نہ آئے۔ اس وقت تو ہنسی اور مذاق کے طور پر کہا جاتا ہے لطیفے کے طور پر، کہ ایک صاحب ایک dental surgeon کے پاس چلا گیا۔ تو اس سے کہا جی میرے دانت ذرا دیکھیں کدھر ہیں۔ تو اس نے اس پر ہاتھ رکھا تو، ”اوہ sorry! یہ تو آپ کے upper jaw میں ہے۔ میں تو lower jaw کا expert ہوں۔“ اچھا اب upper jaw والے کے پاس بھیج دیا۔ تو اس کے اس نے دیکھا، ”کہتے کدھر ہے؟“ تو اس نے کہا، ”right کو“۔ کہتا ہے، ”اوہ sorry sorry! میں تو left upper jaw کا expert ہوں۔“


              یعنی کمال کی بات ہے۔ اب آج کل تو دور ایسا آ گیا ہے۔ یعنی physics میں کتنی branches کھل گئی ہیں؟ اور chemistry میں کتنی؟ آپ حیران ہو جائیں گے، میں تو بہت حیران ہو گیا۔ کیمیکل فزکس اور فزکل کیمسٹری subjects ہیں آپ دیکھ لیں۔ chemical physics بھی ہے اور physical chemistry بھی ہے۔ چلو فرق بتاؤ!


              تو یہ آج کل دور specialization کا ہے۔ لہٰذا اس specialization کے دور میں اگر کوئی، کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آتی، تو مجھے تو وہ لوگ سمجھ نہیں آتے کہ وہ لوگ کیسے لوگ ہیں۔ ٹھیک ہے نا!


              اس زمانے کے خام صوفیوں نے اپنے پیروں کے عمل کا بہانہ بنا کر سرود و رقص کو اپنا دین و ملت بنا لیا ہے اور اسی کو طاعت و عبادت سمجھ لیا ہے ﴿اَلَّـذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَـهُـمْ لَـهْوًا وَّ لَعِبًا﴾ (الأعراف: 51)

              سابقہ روایت سے معلوم ہو چکا ہے کہ جو شخص فعلِ حرام کو مستحسن اور اچھا جانے وہ اسلام کے گروہ سے نکل جاتا اور مرتد ہو جاتا ہے تو پھر خیال کرنا چاہیے کہ سماع و رقص کی مجلس کی تعظیم کرنا بلکہ اس کو طاعت و عبادت سمجھنا کس قدر برا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا احسان ہے کہ ہمارے پیر اس مرض میں مبتلا نہ ہوئے اور ہم متبعین کو اس قسم کے امور کی تقلید سے چھڑا دیا۔

              سبحان اللہ!

              سننے میں آیا ہے کہ مخدوم زادے سرود کی طرف رغبت رکھتے ہیں اور جمعہ کی راتوں میں سرود اور قصیدہ خوانی کی مجالس منعقد کرتے ہیں

              دیکھو حضرت نے یہ باتیں کیوں کی ہیں؟ آخر ضرورت تھی نا، ویسے تو نہیں کی۔


              اور اکثر احباب اس امر میں موافقت کرتے ہیں۔ نہایت تعجب کی بات ہے کہ دوسرے سلسلوں کے مرید تو اپنے پیروں کے عمل کا بہانہ بنا کر اس امر کے مرتکب ہوتے ہیں اور شرعی حرمت کو اپنے پیروں کے عمل سے دفع کرتے ہیں اگرچہ فی الحقیقت وہ اس امر میں حق پر نہیں ہیں۔ بھلا اس سلسلے کے احباب اس ارتکاب میں کون سا عذر پیش کریں گے؟

              کیونکہ ان کے پیر تو اس طرف نہیں ہیں۔

              ایک طرف حرمتِ شرعی اور دوسری طرف اپنے پیروں کی مخالفت ہوئی، نہ اہل شریعت اس فعل سے راضی اور نہ اہل طریقت۔ اگر حرمت شرعی نہ بھی ہوتی تو بھی طریقت میں کسی نئے امر کا پیدا کرنا برا ہوتا، پھر ایسا امر کس طرح برا نہ ہو جب کہ حرمت شرعی بھی اس کے ساتھ جمع ہو جائے۔ مجھے یقین ہے کہ جناب مرزا جیو (یعنی خواجہ حسام الدین صاحب) اس امر سے راضی نہ ہوں گے لیکن آپ کے آداب کو مد نظر رکھ کر صریح طور پر منع بھی نہ کرتے ہوں گے اور دوستوں کو اس اجتماع سے نہ روکتے ہوں گے۔ اس فقیر نے چونکہ اپنے آنے میں کچھ توقف دیکھا اس لئے چند فقرے جمع کر کے لکھ کر بھیج دیئے ہیں۔ اس سبق کو مرزا جیو کی خدمت میں پیش کر دیں، اور اول سے آخر تک ان کے سامنے پڑھیں۔

              و السلام


              اصل میں یہی بات ہے کہ حضرت نے بات بڑی پکی کی ہے "قولوا قولا سدیدا" قرآن پاک کے حکم پر عمل فرمایا، کہ بات بالکل پکے طور پر صحیح طور پر کرو۔ نفس کی طرف سے تشدد نہ ہو۔ نفس کی طرف سے تشدد نہ ہو اور بات اللہ تعالی کے لیے صحیح طریقے سے کی جائے تو -سبحان اللہ- اس میں تو رحمت ہی اترتی ہے۔

              ہمارے حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ، ان کے ایک خلیفہ، حضرت مولانا عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کو ایک دفعہ فرمایا، ”میاں عبدالحی! کبھی اگر مجھ سے کوئی سنت کے خلاف کام ہو جائے تو مجھے بتا دیا کرو۔“ اپنے خلیفہ کو، چونکہ عالم تھے۔ فرمایا: اگر مجھ سے کوئی سنت کی مخالفت ہو جائے، تو مجھے بتا دیا کرو۔ تو حضرت مولانا عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”حضرت! عبدالحی آپ کے پاس اس وقت ہوگا کب، جب آپ سنت کے خلاف کریں گے؟ عبدالحی آپ کے پاس اس وقت ہوگا کب، جب آپ سنت کے خلاف کریں گے؟“ اور پھر یہ ہے کہ مولانا عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب غصہ ہو جاتے نا، جلال میں آ جاتے۔ کسی غیر شرعی بات پر۔ تو وہ بہت جلالی بیان کرتے تھے۔ تو حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا گیا کہ اس دوران حضرت کے پیچھے کھڑے ہو جاتے۔ مولانا عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پیچھے کھڑے ہو جاتے۔ خاموشی کے ساتھ بس کھڑے ہو جاتے۔ تو لوگوں نے بعد میں پوچھا، ”حضرت ہم نے بارہا آپ کو دیکھا ہے کہ جب مولانا عبدالحی صاحب بڑے جلال میں ہوتے ہیں تو آپ ان کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں، کیا کرتے ہیں آپ؟“ فرمایا: ”اس وقت چونکہ ان کا غصہ اللہ کے لیے ہوتا ہے، تو ان پر اللہ کی خصوصی رحمت اتر رہی ہوتی ہے۔ تو میں بھی ساتھ کھڑا ہو جاتا ہوں کہ مجھے بھی اس رحمت سے حصہ مل جائے۔“ اگر نفس کی وجہ سے نہ ہو نا، نفس کی وجہ سے نہ ہو، اور اللہ کے لیے ہو، تو اس پر تو رحمت ہی رحمت ہے۔ اس پر تو رحمت ہی رحمت ہے۔


              یہ بہت اہم بات ہے، وہ کہتے ہیں نا، گھوڑوں گدھوں کو ملا کر رکھتے ہیں۔ نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ نفس کی وجہ سے تشدد سے فتنہ پھیلتا ہے۔ نفس کی وجہ سے تشدد سے فتنہ پھیلتا ہے، ضد میں لوگ آتے ہیں۔ اور اللہ جل شانہ کے لیے جو ہوتا ہے، اس سے رحمت آتی ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی اس طرح مزاج تھا، جب تغیر آ جاتا۔ تو حضرت نے فرمایا میرے مزاج میں شدت نہیں ہے، جیسے لوگوں نے مشہور کیا، اس میں حدّت ہے۔ اس میں شدت نہیں ہے، اس میں حدّت ہے۔ تو اصل بات یہ ہے کہ واقعتاً اگر دیکھا جائے، اللہ کے لیے ہو تو حِدّت ہوتی ہے۔ اور نفس کے لیے ہو تو وہ شدت ہوتی ہے۔ تو تشدد نفس کی وجہ سے نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، دیکھو عمر رضی اللہ عنہ میں حدّت تھی یا نہیں تھی؟ اب دیکھیں ایک صاحب کو کھانا کھاتے دیکھا۔ بائیں ہاتھ سے۔ نصیحت کی، بائیں ہاتھ سے کھانا نہیں کھانا چاہیے۔ پھر دوبارہ آئے تو پھر بائیں ہاتھ سے کھا رہے تھے۔ پھر فرمایا: میں نے آپ کو کہا نہیں تھا کہ بائیں ہاتھ سے نہیں کھانا چاہیے۔ تو وہ پھر بھی خاموش رہے۔ تیسری بات جب دیکھا، تو کوڑا نکالا۔ میں بار بار تجھے کہتا ہوں کہ بائیں ہاتھ سے نہیں کھانا چاہیے۔ اس نے کہا، ”حضرت میرا دایاں ہاتھ ہے نہیں، شہید ہو چکا ہے۔ جہاد میں شہید ہو چکا ہے۔“ تو بس اس کو سن کر حضرت رونے لگ گئے اور اس سے معافیاں مانگنے لگے۔ نفس کے لیے نہیں تھا نا! اللہ کے لیے تھا نا! اس سے معافیاں مانگنے لگے، خدا کے لیے مجھے معاف کر دو، پتہ نہیں دیکھو آپ ناڑا کیسے باندھتے ہوں گے، آپ یہ کام کیسے کرتے ہوں گے، یہ کام کیسے کرتے ہوں گے، آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ یہ ہوتا ہے۔


              جس وقت اللہ کے لیے ہوتا ہے، پھر اس میں یہ بات بھی ہوتی ہے۔ جب اپنی غلطی معلوم ہو جاتی ہے فوراً اس طریقے سے کرتے ہیں اور جس وقت نفس کے لیے ہوتی ہے، تو بات بے شک معلوم بھی ہو جائے، لیکن وہ چونکہ بات ہی اور ہوتی ہے۔ جس وجہ سے ہوتی ہے وہ چیز تو ختم نہیں ہو چکی ہوتی، لہٰذا وہ چیز بدستور ہوتی ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ کا حکم نہ ٹوٹے۔ کسی حال میں بھی اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ٹوٹے۔ ہمارے سامنے تین چیزیں ہیں؛ عقیدہ سلامت ہو۔ (اللہ تعالیٰ نصیب فرما دے)۔ اعمال فقہ کے مطابق صحیح ہوں۔ اکثر میں ایک بات عرض کرتا رہتا ہوں جو مجھے مجبوراً کہنا پڑتا ہے، اور ڈر ڈر کر کہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے ڈر ڈر کر کہتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ دیکھو! قرآن کا پڑھنا مستحب، اور قرآن کا ترجمہ پڑھنا بھی فرضِ کفایہ ہے۔ لیکن شریعت پر عمل کرنا، فرائض پر عمل کرنا فرض ہے۔ اس کا ترک حرام ہے۔ اور واجبات! اس کو ادا کرنا، یہ واجب ہے۔ اس کا ترک مکروہ تحریمی ہے۔ تو اس کا علم بھی اسی درجے میں ہے۔ فرض کا علم فرض، واجب کا علم واجب۔ جب یہ والی بات ہے، تو وہ کہاں سے معلوم ہوگا؟ وہ آپ کو قرآن اور حدیث سے معلوم ہوگا؟ یہ فرض اور واجب کہاں سے معلوم ہوگا؟ فقہ سے! فقہ سے معلوم ہوگا۔ کیونکہ قرآن اور سنت سے، اس سے ہر ایک تو نہیں نکال سکتا نا۔ یہ تو فقہاء کا کام ہے۔ آپ سارا قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھ لیں، کیا آپ نماز کا طریقہ نکال سکتے ہیں اس سے؟ نکال کر دکھا دیں۔ نہیں نکال سکتے۔ تو فقہاء کا کام ہے۔ بہت ساری احادیث، قرآن کی آیتیں ان کے سامنے ہوتی ہیں، پھر تشریحات ہوتی ہیں ان کی، اور سب سے وہ نتیجہ جو نکلتا ہے وہ فقہ ہوتا ہے۔ تو فقہ ہمارے سامنے ایک تیار چیز ہے۔ تیار چیز ہے۔ بس اس کو استعمال کرنے کی دیر ہے۔ تو فقہ کے بغیر آپ کو ان چیزوں کا پتہ نہیں چلتا۔


              تو آج کل فقہ کا درس دینے کے لیے کوئی عالم تیار نہیں ہے۔ فقہ کا درس دینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔ قرآن کا درس دینے کے لیے تیار ہیں، حدیث کا درس دینے کے لیے تیار ہیں، فقہ کا درس دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تو میں بھی اس کو اس دور کا المیہ کہتا ہوں۔ کیونکہ اس دور کے اندر جو لازمی چیزیں ہیں، ان سے غفلت ہے۔ حد تو یہ ہے کہ نماز! جو دو دن میں تفصیل کے ساتھ سیکھی جا سکتی ہے۔ دو دن میں۔ اگر آپ دو دن دے دیں، چھ چھ گھنٹے روزانہ، تو دو دن میں آپ نماز کے مسائل تفصیل کے ساتھ سیکھ سکتے ہیں۔ کسی کے پاس یہ دو دن ہیں؟ یہ دو دن کسی کے پاس نہیں ہیں۔ اور courses کے لیے پانچ پانچ، چھ چھ مہینے ہیں۔ باقی چیزوں کے لیے۔ اسی طرح زکوۃ کے بارے میں ہے، اسی طرح معاملات کے بارے میں ہے۔ یہ فرضِ عین علم ہے۔ بہت لازم ہے، فرضِ عین علم۔ تو "طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ"۔ علم کا حاصل کرنا فرض ہے، کون سا علم جو فرضِ عین علم ہے۔ وہ ہر مسلمان کے اوپر فرض ہے۔ تو اس کو حاصل کرنا چاہیے۔ اللہ کا شکر ہے، الحمد للہ! اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس میں ہمارا کوئی استحقاق نہیں ہے کہ اپنی website پر، ہم نے تین چیزیں دی ہوئی ہیں۔ پہلی چیز ہے عقائد، الحمد للہ! ما شاء اللہ بہت زبردست، ابھی یہ بھی دیں گے ان شاء اللہ یہ جو یہاں ہوا ہے نا یہ بھی دیں گے ان شاء اللہ۔ لیکن عقائد، جو بہشتی زیور میں عقائد لکھے ہیں، وہ سارے کے سارے دیے ہوئے ہیں۔ اور عربی میں عقیدۃ الطحاویہ دیا ہوا ہے۔

              اب ہم ذکر کرتے ہیں۔ اور اسی طریقے کے مطابق تین دفعہ جہری کریں گے اور ایک خفی کریں گے ان شاء اللہ۔





              مکتوباتِ امام ربانی: سماع و سرود کی ممانعت اور عقائد کی اصلاح - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور