یتیم بچیوں کے حقوق، ازدواجی زندگی میں عدل اور حسنِ سلوک کے تقاضے
درس نمبر 205، سورۃ النساء: آیات: 127 تا 130- اشاعتِ اول: 20 جون، 2022، بمطابق 20 ذی قعدہ 1443 ہجری
عورتوں اور خاص طور پر یتیم بچیوں کے شرعی حقوق اور وراثت کی اہمیت۔ یتیم بچیوں کے مال پر قبضے کے لیے ان سے زبردستی نکاح یا جائیداد بچانے کے لیے قرآن سے شادی جیسی جاہلانہ رسوم کی مذمت۔ میاں بیوی کے درمیان ناچاقی اور بے رخی کی صورت میں طلاق کے بجائے باہمی صلح (Mutual Concession) اور درگزر کی ترغیب۔ ایک سے زائد بیویوں کے درمیان ظاہری حقوق (وقت اور نفقہ) میں مکمل برابری اور عدل کی فرضیت۔ ناگزیر حالات میں، تمام کوششوں کے باوجود نباہ نہ ہونے پر، خوش اسلوبی کے ساتھ طلاق اور علیحدگی کے احکام اور اللہ کی وسعت و رحمت پر یقین۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَن تَقُومُوا لِلْيَتَامَىٰ بِالْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِهٖ عَلِيمًا. وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۗ وَأُحْضِرَتِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا. وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا. وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں شریعت کا حکم پوچھتے ہیں۔
یہ، بات ہو چکی ہے کہ عورتوں کے بارے میں لوگ پوچھتے تھے۔ کیونکہ، ان کے خیال میں عورتوں کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ تو جب یہ حقوق آ گئے تو ان کے خیال میں شاید، عارضی بات تھی۔ اور، پھر اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتایا کہ عارضی نہیں ہے بلکہ، ایسا ہی ہوگا۔
ترجمہ: کہہ دو کہ اللہ تم کو ان کے بارے میں حکم بتاتا ہے اور اس کتاب (یعنی قرآن) کی جو آیتیں جو تم کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، وہ بھی ان یتیم عورتوں کے بارے میں (شرعی حکم بتاتی ہیں) جن کو تم ان کا مقرر شدہ حق نہیں دیتے اور ان سے نکاح کرنا بھی چاہتے ہو۔
حاشیہ: یہ اس ہدایت کی طرف اشارہ ہے جو سورۃ النساء کی آیت نمبر تین میں گزری ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان آیات کا پس منظر یہ بتایا ہے کہ بعض اوقات ایک یتیم لڑکی اپنے چچا کے بیٹے کی سرپرستی میں ہوتی تھی۔ وہ خوبصورت بھی ہوتی، اس کے باپ کا چھوڑا ہوا مال بھی اچھا خاصا ہوتا تھا۔ اس صورت میں اس کا چچا زاد بھائی یہ چاہتا تھا کہ اس کے بالغ ہونے پر خود اس سے نکاح کر لے تاکہ اس کا مال اسی کے تصرف میں رہے۔ لیکن نکاح میں، اس کو اتنا مہر نہیں دیتا تھا جتنا اس لڑکی کو دینا چاہیے۔ دوسری طرف اگر لڑکی زیادہ خوبصورت نہ ہوتی تو اس کے مال کے لالچ میں اس سے نکاح تو کر لیتا تھا، لیکن اصل میں یہ کہ اس کا مہر کم رکھتا تھا، بلکہ اس کے ساتھ ایک محبوب بیوی جیسا سلوک بھی نہیں کرتا تھا۔
یہ ظلم آج کل، بھی بعض جگہوں پر ہے کہ لوگ اپنی بچیوں کو جو رہ جاتی ہیں، ان کو باہر نہیں جانے دیتے۔ تاکہ ان کی جو جائیداد کا کچھ حصہ وہ باہر نہ چلا جائے۔ حتیٰ کہ بعض کی تو یہ بات بھی ہے کہ وہ قرآن سے ان کا نکاح کر دیتے ہیں۔ یعنی گویا کہ تقدس میں اپنا جو شر ہے اس کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی بات ہے۔ تو یہ ظلم ہے عورتوں کے اوپر اور شریعت نے دیکھو قرآن پاک نے اس کو واضح طور پر بتا دیا ہے۔ تو جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں کہ ان بچاریوں کا اللہ ہے اور ان کا بدلہ اللہ پاک ان سے لیں گے۔ لہٰذا اگر ان سے نکاح یعنی اس لیے کرنا چاہتے ہیں کہ وہ واقعی ان کو بیوی کے طور پر رکھنا چاہتے ہیں تو پھر تو ٹھیک ہے، حق بھی ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے، یا وہ ان سے نہیں چاہتی مثال کے طور پر، بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے۔ تو، ایسی صورت میں زبردستی ان کو رکھنا، کہ مال کہیں باہر نہ چلا جائے، جائیداد کہیں باہر نہ چلی جائے، یہ ان کے اوپر ظلم ہے۔ اور اگر اور کوئی لوگ نہیں جانتے تو اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے۔
ترجمہ: اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بیزاری کا اندیشہ ہو، تو ان میاں بیوی کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ آپس کے اتفاق سے کسی قسم کی صلح کر لیں۔
حاشیہ: بعض اوقات کسی شوہر کا اپنی بیوی سے دل نہیں ملتا، اور وہ اس سے بے رخی اختیار کر کے اسے طلاق دینا چاہتا ہے۔ اس صورت میں اگر بیوی طلاق پر راضی نہ ہو، تو اپنے بعض حقوق سے دستبردار ہو کر شوہر سے صلح کر سکتی ہے۔
یعنی یہ کہہ سکتی ہے کہ میں اپنے فلاں حق کا مطالبہ نہیں کروں گی مگر مجھے اپنے نکاح میں رہنے دو۔
حاشیہ:ایسی صورت میں شوہر کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صلح پر آمادہ ہو جائے اور طلاق پر اصرار نہ کرے، کیونکہ مصالحت کا رویہ بہتر ہے۔ نیز اگلے جملے میں احسان کی صورت فرما کر شوہر کو اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ دل نہ ملنے کے باوجود بیوی سے نباہ کرنے کی کوشش کرے۔ اور اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کے حقوق ادا کرتا رہے، تو یہ اس کے لیے دنیا اور آخرت دونوں کی بہتری کا ذریعہ ہوگا۔ اصل میں، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا کہ کسی اور پر دل آ جاتا ہے۔ یا، ان کے ساتھ مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ خوبصورت نہیں ہوتی یا بعض دفعہ بعض عادتیں ایسی ہوتی ہیں۔ تو ایسی صورت میں خوبصورت نہ ہونا یہ تو انسان کے بس میں نہیں ہے کہ خوبصورت ہو جائے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، ظاہر ہے جیسے جس کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے، اس طریقے سے بنایا ہوتا ہے۔ تو ابتدا میں اگر کوئی شادی کرنا چاہے، اس کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی پسند کی لڑکی کے ساتھ شادی کر لے۔ جیسے بھی ہو، وہ اپنی پسند کے مطابق ہو۔ تاکہ بعد میں نباہ کر سکے۔ لیکن، اگر پہلے کسی بھی وجہ سے نکاح کر لیا، رشتہ داری کی وجہ سے کر لیا، یا خود پہلے چاہتا تھا پھر بعد میں اِس، سمجھا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ تو یہ پھر اس کے اوپر ظلم ہوگا۔ کیونکہ مرد، جو ہے نا وہ تین چار تک شادیاں کر لیتے ہیں اور ان کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں، شریعت بھی اجازت دیتی ہے۔ اور، لوگوں میں بھی اس کو وہ نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن عورت کی ایک شادی ہو جائے نا تو اس کے لیے پھر دوسری شادی کرنا پھر بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ مسائل ہیں۔ اگرچہ شریعت نے اس کی اجازت دی ہے کہ کوئی طلاق دے دے اور عدت گزر جائے تو پھر اس کے بعد کوئی بھی اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے اپنی مرضی کے مطابق۔ لیکن، ہمارے علاقوں میں اس چونکہ اس کا رواج نہیں ہے، بیواؤں کے ساتھ اور مطلقہ عورتوں کے ساتھ شادی کا، اس وجہ سے پھر، مسائل، شروع ہو جاتے ہیں۔
تو ایسی صورت میں پھر ان کو صحیح بیوی کی طرح ان کے ساتھ سلوک کرنا چاہیے کیونکہ وہ اللہ پاک کی بندی ہے۔ اور تکبر کی وجہ سے یا کسی ایسی وجہ سے جس میں اس کی اپنی غلطی نہ ہو، تو اس کے ساتھ برا سلوک نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں اس سے بچائے۔
ترجمہ: اور صلح کر لینا بہتر ہے، اور انسان کے دل میں (کچھ نہ کچھ) لالچ کا مادہ تو رکھ، ہی دیا گیا ہے۔
یعنی مطلب بظاہر یہ ہے کہ:
حاشیہ: انسان کی طبیعت میں دنیاوی فائدوں کا کچھ نہ کچھ لالچ ہوتا ہے۔ اس لیے اگر عورت اپنے کچھ دنیاوی مفادات چھوڑ رہی ہے، تو شوہر کو یہ سوچنا چاہیے کہ اسے طلاق کی صورت میں کچھ تکلیف پیش آنے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے وہ اپنے مفادات چھوڑنے پر آمادہ ہوئی ہے۔ ایسی صورت میں صلح کر لینا بہتر ہے۔
دوسری طرف بیوی کو یہ سوچنا چاہیے کہ شوہر نے کچھ دنیاوی فائدوں کے لیے نکاح کیا تھا۔ جو اس کو میری زوجیت میں حاصل نہیں ہو رہے ہیں۔ لہٰذا وہ میری جگہ کسی اور سے نکاح کر وہ فائدے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اب اگر میں اپنے بعض حقوق سے دستبردار ہو کر ایسے کچھ دوسرے فوائد مہیا کر دوں، تو اس ارادے سے باز آ سکتا ہے۔
یعنی Mutual concession
ترجمہ: اور عورتوں کے درمیان مکمل برابری رکھنا تو تمہارے بس میں نہیں، چاہے تو، تم ایسا چاہتے بھی ہو۔
حاشیہ: یعنی یہ بات انسان کے اختیار سے باہر ہے کہ وہ قلبی محبت اور لگاؤ میں، بیویوں کے درمیان پوری پوری برابری کرے۔ کیونکہ دل کا جھکاؤ انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ لہٰذا اگر ایک بیوی سے دلی محبت دوسری کے مقابلے میں زیادہ ہو، تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکڑ نہیں ہے۔ البتہ عملی سلوک میں برابری کرنا ضروری ہے۔ یعنی جتنی راتیں ایک کے، پاس گزارے اتنی دوسری کے پاس گزارے۔ جتنا خرچہ ایک کو دے، اتنا ہی دوسری کو دے۔ نیز ظاہری توجہ میں بھی ایسا نہ کرے جس سے کسی بیوی کے دل شکنی ہو، اور یہ محسوس کرنے لگے کہ وہ بیچ میں لٹکی ہوئی ہے۔
ترجمہ: البتہ، کسی ایک کی طرف پورے کے پورے نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ایسا بنا کر چھوڑو جیسے کوئی بیچ میں لٹکی ہوئی چیز ہو۔ اور اگر تم اصلاح اور تقویٰ سے کام لو گے تو، یقین رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ اور اگر، دونوں جدا ہو ہی جائیں، تو اللہ اپنی (قدرت اور رحمت کی) وسعت سے دونوں کو (ایک دوسرے کی حاجت سے) بے نیاز کر دے گا۔
حاشیہ: مصالحت کی تمام کوششوں کے باوجود ایک، مرحلہ ایسا بھی آ سکتا ہے کہ اس کے بعد نکاح کا رشتہ میاں بیوی، پر تھوپے رکھنا دونوں کی زندگی کو اجیرن بنا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں طلاق اور علیحدگی کا راستہ اختیار کرنا بھی جائز ہے۔ اور یہ آیت اطمینان دلا رہی ہے کہ جب خوش اسلوبی سے جدائی کا عمل میں آ جائے، تو اللہ تعالیٰ دونوں کے لیے ایسے راستے پیدا کر لیتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔
ترجمہ: اللہ بڑی وسعتوں والا بڑی حکمت والا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو شریعتِ حقہ پر پورے کا پورا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور یہ جو مشکل مسئلے ہیں، یہ میراث اور طلاق اور نکاح کے مسائل، اس میں تو بہت زیادہ خصوصی طور پر احتیاط چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کسی پر بھی ظلم کرنے سے بچائے۔ کیونکہ وہ اپنے اوپر ہی ظلم ہوتا ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔
حصہ دوم: تفصیلی تشریح و علمی نوٹس
سورۃ النساء کی وجہِ تسمیہ اور اسلام میں صنفِ نازک کا مقام
انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مرد اور عورت دونوں کا کردار نہایت کلیدی اور ناگزیر ہے۔ تاہم، تاریخِ انسانی میں جن طبقات کے حقوق کو سب سے زیادہ پامال کیا گیا، ان میں عورت سرفہرست ہے۔ اسلام وہ واحد دین ہے جس نے نہ صرف عورت کے حقوق کو تسلیم کیا بلکہ ان کی ادائیگی کو ایمانی فریضہ قرار دیا۔ قرآن کریم کی ایک طویل سورت کا نام ہی "سورۃ النساء" (عورتوں کی سورت) رکھا گیا ہے، کیونکہ اس میں کثرت کے ساتھ ان احکامات کا بیان ہے جن کا تعلق براہِ راست خواتین کے عائلی، معاشرتی اور معاشی حقوق سے ہے۔
قرآن سے شادی اور حق بخشوانا: ایک خبیث اور غیر شرعی رسم
دورِ حاضر میں، بالخصوص جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں آج بھی یہ ظلم دیکھنے میں آتا ہے کہ جائیداد کو خاندان سے باہر جانے سے روکنے کے لیے بچیوں کی شادیاں نہیں کی جاتیں۔ بعض اوقات بچی کے بالغ ہونے سے قبل ہی اسے دلہن کے کپڑے پہنا کر، تقدس کے جھوٹے غلاف میں ایک جاہلانہ رسم ادا کی جاتی ہے جسے "قرآن سے شادی" یا "حق بخشوانا" کہا جاتا ہے۔ لڑکی کا باپ یا خاندان کا بڑا فرد اسے کہتا ہے کہ "بیٹی آج سے تم ستی ہو"۔ اس رسم کے نتیجے میں اس بچی کو عمر بھر کے لیے وراثت کے حق اور ازدواجی زندگی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
یہ سراسر ایک غیر شرعی، جاہلانہ اور شیطانی عمل ہے۔ محض نفسانی لالچ، زمینوں اور جاگیروں کی ہوس کی خاطر اللہ کی کتاب کا نام استعمال کرنا بدترین ظلم ہے۔ شریعتِ مطہرہ میں اس رسم کی کوئی گنجائش نہیں، یہ خالصتاً انسان کے نفسِ امارہ کی خباثت ہے۔
عورت کی آزادی اور دیگر مذاہب کی باطل رسوم سے موازنہ عورت خواہ بیٹی ہو، بہن ہو یا بیوی، وہ کسی کی باندی نہیں بلکہ ایک آزاد انسان ہے۔ اسلام نے انسانوں کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کیا ہے۔ اسی تناظر میں سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وہ تاریخی اور بصیرت افروز قول یاد رکھنا چاہیے:
"مَتَى اسْتَعْبَدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْهُمْ أُمَّهَاتُهُمْ أَحْرَارًا"
(تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا ہے، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟)
اگر ہم دیگر معاشروں اور مذاہب پر علمی نگاہ ڈالیں، تو وہاں عورت کے استحصال کی مختلف صورتیں نظر آتی ہیں۔ ہندو معاشرے کے مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family System) میں سب سے بڑے مرد کو "کرتا" کہا جاتا ہے، جو خاندان اور جائیداد کے تمام فیصلوں پر قابض ہوتا ہے اور خواتین کو ان کے جائز مالی حقوق سے محروم کر دیتا ہے۔ اسی طرح مذہبی تقدس کی آڑ میں عورت کو شادی کے فطری حق سے محروم کرنے کی روایات بھی عام ہیں۔ عیسائیت میں "کنواری مریم" کے نام پر "نن" (Nun) بننے کا رواج، اور ہندو مت میں مندروں کے لیے مختص کی جانے والی "دیو داسیاں" اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اسی ہندو معاشرے میں "ستی" کی جاہلانہ رسم پائی جاتی تھی، جس میں بیوہ کو اپنے شوہر کی چتا میں زندہ جلنا پڑتا تھا۔ مسلمانوں میں "قرآن سے شادی" یا "حق بخشوانے" کی رسم دراصل انہی غیر مسلم رسومات کا ایک تسلسل ہے جس کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔
خاندانی نظام کا تحفظ اور طلاق کا مسنون طریقہ
اسلامی شریعت خاندانی نظام کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے ہر ممکن تدبیر کرتی ہے۔ قرآن مجید میں طلاق کو انتہائی ناگزیر حالات کے لیے ایک آخری چارہ کار کے طور پر رکھا گیا ہے۔ غصے اور جذبات میں آکر گھر اجاڑنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے، اسی لیے طلاق کا ایک باقاعدہ اور مسنون طریقہ مقرر کیا گیا ہے:
-
پہلی طلاق اور رجوع کا حق: طلاقِ مسنون کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اگر علیحدگی بالکل ناگزیر ہو جائے، تو شوہر صرف ایک طلاق دے، اور وہ بھی بیوی کی پاکی کی حالت (طُہر) میں، جس میں اس نے بیوی سے قربت (ہمبستری) نہ کی ہو۔ اس ایک طلاق کے بعد بیوی اپنے شوہر کے گھر ہی عدت گزارے گی۔ اس دوران شوہر کو حق حاصل ہے کہ وہ بغیر کسی نئے نکاح کے زبانی یا عملی طور پر "رجوع" کر لے۔ اگر عدت گزر جائے اور شوہر رجوع نہ کرے، تو یہ ایک طلاق "بائن" ہو جاتی ہے اور نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ تاہم اگر اس کے بعد دونوں دوبارہ گھر بسانا چاہیں، تو باہمی رضامندی سے نئے مہر اور نئے نکاح کے ساتھ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔
-
دوسری طلاق: اگر کسی نے ایک طلاق کے بعد رجوع کر لیا ہو اور کچھ عرصے بعد پھر شدید نوبت آجائے تو وہ دوسری طلاق دے سکتا ہے۔ اس دوسری طلاق کے بعد بھی عدت کے اندر رجوع کا حق باقی رہتا ہے، یا عدت گزرنے پر دوبارہ نئے نکاح کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔
-
تیسری اور آخری طلاق: ان دو طلاقوں کے استعمال کے بعد شوہر کے پاس صرف ایک آخری حق بچتا ہے۔ اگر وہ تیسری طلاق بھی دے دے، تو رشتہ مکمل اور حتمی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ اب یہ عورت اس مرد پر حرام ہو جاتی ہے اور رجوع یا براہِ راست نئے نکاح کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
طلاق کی نوبت آنے سے قبل قرآن باہمی صلح پر حد درجہ زور دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر بیویاں فرمانبردار ہو جائیں تو ان پر زیادتی کے بہانے تلاش نہ کرو۔ اگر حالات انتہائی کشیدہ ہو جائیں، تو شریعت کا حکم ہے کہ ایک ثالث (فیصلہ کرنے والا) شوہر کے خاندان سے اور ایک بیوی کے خاندان سے مقرر کیا جائے، اگر ان کی نیت اصلاح کی ہوگی تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا۔
عائلی تنازعات میں سسرالی رشتہ داروں کا منفی کردار اور شوہر کی ذمہ داری
عملی مشاہدے میں یہ بات کثرت سے آتی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی میں مرد سے زیادہ سسرال کی خواتین (ساس یا نندوں) کا منفی کردار ہوتا ہے۔ بسا اوقات ساس اپنے بیٹے کو جذباتی بلیک میل کرتے ہوئے کہتی ہے کہ "اپنی بیوی کو طلاق دو ورنہ میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی"۔
شرعی اور عقلی لحاظ سے یہ سراسر ناجائز، غلط اور گناہ کا باعث ہے۔ اسلام میں ماں کا مقام بلاشبہ نہایت بلند ہے، لیکن ماں کو یہ قطعی حق حاصل نہیں کہ وہ ضد یا حسد کی بنیاد پر کسی کا بسا بسایا گھر اجاڑ دے۔ دودھ پلانا ماں کا ایک قدرتی فریضہ اور اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے، اسے کسی پر ظلم کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام کا ایک بنیادی اور مستحکم اصول ہے کہ "خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں"۔ چونکہ بے قصور بیوی کو بلاوجہ طلاق دینا اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے، اس لیے ماں کا یہ غیر شرعی حکم ماننا بیٹے پر واجب نہیں۔
ایسے حالات میں شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمال حکمت، صبر اور اعتدال سے کام لے۔ وہ ماں کی بات کو خاموشی اور ادب سے سنے، بے ادبی نہ کرے اور نرمی سے سمجھانے کی کوشش کرے۔ دوسری طرف، وہ اپنی بیوی پر بھی ظلم نہ ہونے دے۔ اگر ماں اور بیوی کا ایک ساتھ رہنا ناممکن ہو جائے، تو شریعت شوہر کو یہ اختیار اور اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بیوی کو الگ رہائش فراہم کرے تاکہ ہر ایک کے حقوق ادا ہو سکیں اور روز مرہ کی تلخیوں سے بچا جا سکے۔
باہمی مصالحت (Mutual Concession) اور انسانی فطرت
قرآن مجید نے عائلی مسائل کے حل کے لیے جو ہدایات دی ہیں، وہ انسانی نفسیات کے عین مطابق ہیں۔ انسان کی فطرت میں مال اور دنیاوی مفادات کی حرص موجود ہے۔ اگر میاں بیوی کے تعلقات میں بدمزگی ہو جائے اور شوہر کسی دنیاوی غرض کی بنا پر علیحدگی چاہتا ہو، تو بیوی اپنے بعض حقوق (جیسے خرچہ یا باری) سے دستبردار ہو کر شوہر کو صلح پر آمادہ کر سکتی ہے۔ اس موقع پر شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ بیوی کی اس قربانی کی قدر کرے اور محض اپنے مفادات کے حصول کے لیے طلاق کی طرف جلد بازی نہ کرے۔ یہ باہمی صلح اور درگزر کا رویہ دنیا اور آخرت دونوں میں خیر کا باعث ہے۔
ایک سے زائد شادیاں: عدل کی کڑی شرط اور عصرِ حاضر کا المیہ
آج کل سوشل میڈیا پر بعض مفتیان اور واعظین کی جانب سے یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ معاشرے میں بیواؤں اور مطلقہ خواتین کی کفالت کے لیے صاحبِ استطاعت مردوں کو ایک سے زائد شادیاں کرنی چاہئیں۔ یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے لیکن شریعت کی رو سے یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ اس ترغیب کے ساتھ قرآنی آیت کے اس حصے کو فراموش کر دیا جاتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر عدل کی کڑی شرط عائد کی ہے:
"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً" (پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ تم عدل و انصاف نہیں کر سکو گے، تو صرف ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو)۔
عصرِ حاضر میں، جہاں مہنگائی، عدمِ برداشت اور اخلاقی گراوٹ عروج پر ہے، ایک مرد کے لیے دو یا تین بیویوں کے درمیان وقت، نفقہ، راتوں کی باری، مہر کی ادائیگی اور بچوں کی پرورش میں انصاف کرنا ناممکن حد تک مشکل ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا کے ان بیانات سے متاثر ہو کر اکثر وہ لوگ آگے بڑھتے ہیں جو درحقیقت محض اپنے نفسِ امارہ کی تسکین چاہتے ہیں۔ وہ سنت پر عمل اور بیواؤں کی کفالت کا لبادہ تو اوڑھتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے حقوق غصب کر لیتے ہیں اور ان کی زندگیاں اجیرن کر دیتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ میں یہ رویہ قطعی طور پر ناجائز اور بہت بڑا ظلم ہے۔ کسی کا مفتی ہونا یا دینی منصب پر فائز ہونا اسے نفسانی خواہشات سے پاک نہیں کر دیتا، اس لیے شریعت کے احکامات کو ان کی مکمل شرائط اور روح کے ساتھ بیان کرنا اور سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دینِ حق کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہر قسم کے ظلم اور حق تلفی سے محفوظ رکھے۔ (آمین)