اسلام میں خواتین کے حقوق اور ان کے معاشرتی تحفظ کا نظام
درس نمبر 204، سورۃ النساء: آیات: 121 تا 126- اشاعتِ اول: 19 جون، 2022، بمطابق 19 ذی قعدہ 1443 ہجری
- شیطان کا فریب اور اللہ کا سچا وعدہ
- نجات کا انحصار تمناؤں پر نہیں بلکہ اعمال پر
- حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی اور ان کا مقام
- اسلام میں عورتوں کے حقوق کی ابدیت
- نام نہاد آزادی بمقابلہ اسلامی تعلیمات
- خواتین کا تحفظ اور محرم کی اہمیت
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔
أُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًا۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا۔ وَعْدَ اللهِ حَقًّا۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا۔ لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ۔ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا۔ وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا۔ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا۔ صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
یہ گزشتہ سے جو بات چلی آ رہی ہے، یہ،
ترجمہ: جو شخص اللہ کی بجائے شیطان کو دوست بنائے، اس نے کھلے کھلے خسارے کا سودا کیا۔ وہ ان سے وعدے کرتا ہے، انہیں آرزوؤں میں مبتلا کرتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شیطان ان سے جو بھی وعدے کرتا ہے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ تو کل اس پر بات ہوئی تھی کہ یہ شیطان نے تو اس کی قسم کھائی ہے کہ میں اس طرح کروں گا۔ اور اللہ پاک نے بھی پھر اس کو بتا دیا ہے کہ جو تیری بات مانیں گے تو تجھ سے اور تیرے جاننے، متبعین سے جہنم کو بھر دوں گا۔ تو فرمایا: ترجمہ: ان سب کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور ان کو اس سے بچنے کے لیے کوئی راہِ فرار نہیں ملے گی۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم ان کو ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ اور اللہ سے زیادہ بات کا سچا کون ہو سکتا ہے؟
تو یہاں وہ بات آ گئی کہ وہ شیطان جو کہتا ہے، قرآن پاک میں جو منظر کشی ہے، جس میں شیطان کہتا ہے کہ میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا تھا اور اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا۔ تم لوگوں نے میرے جھوٹے وعدے پہ یقین کر لیا اور اللہ کے سچے وعدے کو بھلا دیا، تو اب میں بھی بھگت رہا ہوں تم بھی بھگتو۔ نہ میں تم سے کچھ کم کر سکتا ہوں، نہ تم مجھ سے کچھ کم کر سکتے ہو۔ تو یہ دیکھیں نا یہاں پر اللہ پاک نے سچا وعدہ کیا ہوا ہے جنت کے بارے میں، اور اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے، مطلب یہ جو قرآن پاک میں، کہ اللہ جل شانہ اگر جہنم کا ذکر کرتے ہیں تو ساتھ جنت کا بھی کرتے ہیں۔ اچھے لوگوں کا کرتے ہیں تو ساتھ بروں کا بھی کرتے ہیں، بروں کا کرتے ہیں تو ساتھ اچھوں کا کرتے ہیں۔ تو ابھی بروں کا ذکر ہو گیا، تو اس کے بعد سچوں کا ذکر آ گیا۔
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم ان کو ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے، اور اللہ سے زیادہ بات کا سچا کون ہو سکتا ہے۔ نہ تمہاری تمنائیں جنت میں جانے کے لیے کافی ہیں، نہ اہل کتاب کی آرزوئیں۔ جو بھی برا عمل کرے گا، اس کی سزا پائے گا اور اللہ کے سوا اپنا کوئی یار و مددگار نہیں ملے گا۔ اور جو شخص نیک کام کرے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی ان پر ظلم نہیں ہوگا۔
اب یہ دیکھیں نا، یہ اللہ جل شانہ نے جو یعنی فیصلہ کیا ہے، اور شیطان نے جو ارادہ کیا ہے، وہ بالکل کھلی کھلی بات ہے۔ شیطان نے کہا کہ میں ان کے راستے میں بیٹھ جاؤں گا، آگے سے آؤں گا، پیچھے سے آؤں گا، دائیں سے آؤں گا، بائیں سے آؤں گا، ان کو تجھ تک نہیں پہنچنے دوں گا۔ ہاں مگر وہ تیرے بعض چنے ہوئے لوگ جو مخلص ہیں، ان کے اوپر میرا داؤ نہیں چلے گا۔ اللہ پاک نے فرمایا، جو میرے ہیں ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اور جو تیری بات مانیں گے، تو تجھ سے اور تیرے متبعین سے جہنم کو بھر دوں گا۔ اور ساتھ یہ فرمایا۔ فَالْحَقُّ، جیسے وہ کہتے ہیں done ہو گئی، مطلب بس ہو گئی بات۔ تو فرمایا کہ اچھا ٹھیک ہے، بات ہو گئی۔ تو اللہ پاک نے پھر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ، تو بہرحال یہ یہ اسی طرح بات ہے کہ جو انسان مطلب شیطان کی مانے گا تو شیطان کے راستے پہ جائے گا، جو اللہ کی بات مانے گا تو اللہ اس کو پسندیدہ جگہ جنت میں لائے گا۔ تو یہ باتیں ایسی نہیں ہیں کہ ہم لوگ بس اس کو بھول جائیں۔ تو اس لیے فرمایا تمناؤں سے کام نہیں چلے گا۔ تمناؤں سے کام نہیں چلے گا۔ میں نے خواب دیکھا تھا۔ اور جی مجھے فلاں بزرگ نے کہا تھا۔ اور یہ تو اس طرح بات ہے، اور یہ تو میں نے یہ کام کیا، نہیں بھئی یہ باتیں نہیں چلیں گی، تمناؤں سے کام نہیں چلے گا، دو ٹوک باتیں ہیں۔ وہ کیسے، اللہ پاک نے یہ بھی بتا دیا، یہ بھی بتا دیا۔ اس کے بارے میں بتایا یہ کرو گے تو یہ ہوگا، اس کے بارے میں بتایا یہ کرو گے تو یہ ہوگا۔ اب اختیار ہے کون سا کرنا چاہتے ہو۔ یہ کرنا چاہتے ہو، بےشک کر لو لیکن بھگتو گے۔ اور یہ کرنا چاہتے ہو، تو انعام ملے گا۔ بس یہ بالکل صاف صاف باتیں ہو گئی ہیں۔ اب یہ جب تک یہ صاف صاف باتوں پر لوگوں کا یقین نہیں آئے گا، اس وقت تک مسئلہ بہت خطرناک ہے۔ کیونکہ کسی بھی وقت انسان اپنے آپ کو گڑھے میں گرا سکتا ہے۔ کیونکہ موت کے وقت کا تو پتہ نہیں ہے، اللہ بچائے، ہماری حفاظت فرمائے۔
ترجمہ: اور اس سے بہتر کس کا دین ہوگا جس نے اپنے چہرے سمیت سارے وجود کو اللہ کے آگے جھکا دیا ہو۔ جبکہ وہ نیکوکار بھی ہو، اور جس نے سیدھے سچے ابراہیم علیہ السلام کے دین کی پیروی کی ہو، ملت ابراہیم۔ اور یہ معلوم ہی ہے کہ اللہ نے ابراہیم کو اپنا خاص دوست بنا لیا تھا۔
ابراہیم علیہ السلام کے سامنے جتنی مشکلات تھیں، کیا آج کل کے لوگوں کے سامنے اتنی مشکلات ہیں؟ جس کا والد بھی ان کو مارنے کے درپے ہو۔ اور بادشاہ بھی۔ اور ساتھ آگے پیچھے بھی، یعنی گویا کہ ہر چیز مخالف۔ لیکن ابراہیم علیہ السلام بالکل سچا پیروکار، حنیف۔ اس میں کوئی کھوٹ نہیں۔ تو بس پھر اللہ پاک نے ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا کہ اللہ پاک نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنا لیا، خلیل۔ تو بس اس طرح ہمیں وہ کرنا چاہیے۔
وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطًا۔
ترجمہ: اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اللہ ہی کا ہے۔
جب کبھی آسمانوں اور زمینوں کے بارے میں بات آتی ہے قرآن میں، تو اس سے مراد کائنات ہوتی ہے۔ یعنی کائنات میں جو کچھ ہے، وہ اللہ ہی کا ہے۔
ترجمہ: اور اللہ نے ہر چیز کو اپنی قدرت کے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ یہ بات ہے۔
حاشیہ: اسلام سے پہلے عورتوں کو معاشرے میں کمتر مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ ان کے معاشرتی اور معاشی حقوق نہ ہونے کے برابر تھے۔ جب اسلام نے عورتوں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی اور عورتوں کو بھی میراث میں حصہ دار مقرر کیا، تو یہ بات عربوں کے معاشرے میں اتنی اجنبی تھی کہ بعض لوگ یہ سمجھتے تھے کہ عورتوں کو جو حقوق دیے گئے ہیں، وہ شاید عارضی نوعیت کے ہیں، اور کسی بھی وقت منسوخ ہو جائیں گے۔ جب ان کی منسوخی کا حکم نہیں آیا، تو ایسے حضرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس میں یہ واضح کر دیا گیا کہ احکام عارضی نہیں، ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔ اور قرآن کریم کی جو آیات پہلے نازل ہوئی ہیں، ان میں بہت سے احکام آ چکے ہیں، ان کے ساتھ مردوں اور عورتوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں کچھ مزید احکام بھی بیان کر دیے گئے۔
ترجمہ: اور اے پیغمبر، لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں شریعت کا حکم پوچھتے ہیں۔
تو اس کا مطلب ہے کہ اصل میں یہ بات ہے کہ اللہ پاک ہر چیز پر وہ قادر ہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ یہ کر سکتا ہے، یہ نہیں کر سکتا۔ ہر چیز کر سکتا ہے، سب چیزوں کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ تو اس کے بارے پھر پوچھا ہے عورتوں کے بارے میں، کہ یعنی یہ عارضی احکامات ہیں یا for ever ہیں؟ تو اللہ پاک نے پھر فرمایا کہ یہ بالکل ہمیشہ کے لیے ہیں اور اس پر اس طرح عمل کرنا پڑے گا۔ تو اصل میں واقعتاً، یعنی عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں نا لوگ آج کل، تو اُس وقت یہ حالت تھی کہ لوگ عورتوں کے حقوق کے بارے میں اتنے ignorent تھے کہ جب احکامات آ گئے پھر بھی سوچ رہے تھے کہ واپس ہو جائیں گے۔ مطلب گویا کہ ان کو un natural سمجھ رہے تھے۔ لیکن اللہ پاک نے فرمایا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، اللہ پاک نے تو جانوروں کے حقوق کا بھی فرمایا ہے۔ تو یہ ظاہر ہے عورتیں تو ماشاءاللہ ایک اہم رول play کرتی ہیں یعنی معاشرے کے اندر۔ لہٰذا یہ اس قسم کی باتیں جو ہیں، یہ آج کل کے پروپیگنڈے کے زور سے لوگ کر رہے ہیں۔
عورتوں کی آزادی، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عورتوں کے حقوق کی پاسداری ہے۔ حالانکہ عورتوں کی آزادی ان کے لیے خود نقصان دہ ہے۔ ان کے لیے خود نقصان دہ ہے۔ یہ ظاہر ہے احکامات جو ہوتے ہیں ہر قسم کے حالات کے مطابق دیکھتے ہیں۔ اب ایک عورت ہے، وہ اکیلے ڈرائیو کر رہی ہے۔ اب اس کو روکتے ہیں، نہیں اکیلے نہ جاؤ، محرم کے ساتھ جاؤ، تو کہتی ہیں مجھ پر ظلم ہو رہا ہے۔ پھر بعد میں جب اس کے ساتھ کچھ ہوتا ہے، تو پھر روتی ہے، پھر کہتی ہے جی وہ ایسا ہو گیا، ایسا ہو گیا، ایسا ہو گیا۔ بھئی یہ تو اللہ پاک نے نظام بنائے ہوئے ہیں، کشش تو موجود ہے۔ اب خدانخواستہ اگر آپ کی حفاظت نہیں ہے، تو باہر تو بھیڑیے پھر رہے ہیں۔ کسی وقت بھی کوئی بھی مسئلہ ہو سکتا ہے۔
وہ ایک خاتون تھی نا، تو وہ evening کلاسز میں ایڈمیشن لے رہی تھی۔ تو مجھ سے بیعت تھی تو مجھ سے پوچھا کہ میں evening کلاسز میں ایڈمیشن لوں اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی میں؟ میں نے کہا بیٹی مجھ سے اگر نہ پوچھا ہوتا تو آپ کا اپنا کام ہوتا، لیکن اگر مجھ سے پوچھ لیا تو میں تمہیں اپنے ہاتھ سے ذبح تو نہیں کر سکتا۔ میں نے کہا: اس کی اجازت تو میں نہیں دے سکتا، خطرناک بات ہے۔ عام کلاسز اور ہیں، evening کلاسز اور ہیں۔ ظاہر ہے جس وقت آپ آئیں گی تو اس وقت اندھیرا ہوگا۔ وہ رو پڑی، کیونکہ ظاہر ہے اس کو بڑا شوق تھا پڑھنے کا۔ رو پڑی لیکن مانا اس نے، بات مان لی۔ ایڈمیشن نہیں لیا۔
تو چند دنوں کے بعد اس نے مجھے اپنا خواب سنایا۔ خواب اس نے سنایا کہ کوئی اس کو کہتا ہے کہ خبردار آپ مغرب کے بعد اپنے گھر سے نہ نکلیں، باہر بہت بھیڑیے اور پتا نہیں کیا کیا چیزیں پھر رہی ہیں، وہ کوئی بھی چیز آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ تو مجھے جب اس نے کہا، میں نے کہا دیکھو نا میں نے منع کیا تھا نا۔ تو بات تو ایسی ہے۔ کہتے ہیں، کاڼی ہرہ ورځ نہ پریوزی، یعنی پتھر ہر وقت نہیں گرتا۔ کسی وقت گرے گا تو پھر کیا کرو گے؟ تو حفاظت کا نظام پورا ہونا چاہیے۔ اور تمناؤں پہ نہیں رہنا چاہیے۔ کہ میرے پاس ideal conditions ہوں گی ہر وقت۔ لوگ موجود ہوں گے اور میں ڈرائیو کروں گی اور یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا، میری protection ہوگی۔ بھئی protection کی کیا بات ہے؟ اب تو اپنے رشتہ داروں سے بچنا بڑا مشکل ہے تو دوسروں سے بچنا کیا بات ہے، یہ تو آج کل دور ہی عجیب ہے۔ اس وقت تو محرمات (محرم رشتہ داروں) کا مسئلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
تو بس اس سے ہمیں وہ لینا چاہیے، تمناؤں پہ نہیں رہنا چاہیے، جو حقائق ہیں ان کو سامنے رکھنا چاہیے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
حصہ دوم: تفصیلی تشریح، گہرے علمی نکات اور تاریخی شواہد
علمائے ربانیین کا منہجِ استنباط اور فہمِ دین
دینِ اسلام کے احکام کو سمجھنے کے لیے محض ظاہری الفاظ کا مطالعہ کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے گہرے تفکر اور تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ علمائے کرام کا بنیادی کام یہی ہے کہ وہ قرآن و سنت کے نصوص پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کسی ایک آیت یا حدیث کو سامنے رکھ کر فوری حتمی فیصلہ صادر نہیں کرتے، بلکہ شریعت کے مزاج کو سمجھتے ہوئے مختلف مقامات پر موجود احکامات کو باہم ملاتے ہیں، ان کے مابین تطبیق دیتے ہیں، اور پھر ان سے استنباط کر کے عوام الناس کو ایسا نتیجہ سمجھاتے ہیں جو صراطِ مستقیم کے عین مطابق ہو۔
شیطان کے عملی فریب اور انسان کی غفلت
قرآنِ کریم میں شیطان نے اللہ تعالیٰ کے حضور جو چیلنج کیا تھا کہ وہ انسانوں پر چاروں اطراف (آگے، پیچھے، دائیں، بائیں) سے حملہ آور ہوگا، یہ کوئی فرضی داستان نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کی حقیقت ہے۔ شیطان کی مکاری کی عملی صورتیں انتہائی باریک ہیں۔
مثال کے طور پر، حضرت شیخ نے اپنا مشاہدہ بیان فرمایا کہ خانقاہ میں جمعہ کی شب تہجد کے لیے الارم بھی لگایا جاتا ہے اور ایک ساتھی کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے کہ وہ گھنٹی بجا کر بیدار کرے۔ لیکن کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ عین وقت پر الارم میں بھی کوئی مسئلہ ہو جاتا ہے اور وہ ساتھی بھی گھنٹی بجانا بھول جاتا ہے۔ بظاہر یہ محض ایک اتفاق لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ شیطان کے وہی ہتھکنڈے ہیں جو انسان کو اللہ کی طاعت اور ذکر سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔
اسی طرح، اگر ایک شخص راولپنڈی سے لاہور کا سفر کر رہا ہو جو کہ چار پانچ گھنٹے پر محیط ہے، اور وہ اپنے ہاتھ میں تسبیح لے کر 'لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ' کا ذکر شروع کرے، تو وہ باآسانی اس ایک سفر میں تیس پینتیس ہزار مرتبہ کلمہ طیبہ کا ورد کر سکتا ہے۔ لیکن شیطان انسان کو ذکر سے غافل کرنے کے لیے اس کے دل میں بیرونی مناظر دیکھنے کی کشش پیدا کر دیتا ہے یا اسے کسی ہم سفر کے ساتھ غیر ضروری گفتگو میں الجھا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ سفر ختم ہو جاتا ہے اور انسان کو احساس ہوتا ہے کہ ذکر تو کیا ہی نہیں۔
اسباب، اختیار اور انجام کا توازن
جب شیطان نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی اور کہا کہ "میں تیرے مخلص بندوں کے سوا سب کو گمراہ کروں گا"، تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنا حتمی فیصلہ (فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ) سنا دیا کہ جو لوگ شیطان کی پیروی کریں گے، ان سے اور شیطان سے جہنم کو بھر دیا جائے گا۔
یہاں ایک انتہائی اہم اور گہرا ایمانی نکتہ ہے کہ اللہ پاک نے انسان کو بے بس نہیں کیا، بلکہ اسے مکمل اختیار دیا ہے اور دونوں راستوں کے انجام سے واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ شیطانی راہ کا انجام جہنم، اور ایمان و عملِ صالح کا انجام جنت کی ابدی نعمتیں ہیں۔ اس اختیار اور انتخاب کی واضح مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ جب حق سامنے آیا تو ایک شخص نے اپنے اختیار کا درست استعمال کیا، حق کو تسلیم کیا اور وہ مرادِ رسول، سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اعلیٰ و ارفع مقام تک پہنچ گئے۔ جبکہ دوسرے نے ضد اور تکبر کا راستہ چنا، کفر پر اڑا رہا اور تاریخ میں 'ابوجہل' کے نام سے ذلیل و خوار ہوا۔
مقبولیت کا الٰہی معیار: دنیاوی جاہ و جلال نہیں، اعمالِ صالحہ
نجات اور اللہ کے ہاں قرب کا انحصار دنیاوی مناصب، پروٹوکول یا محض تمناؤں پر نہیں ہے۔ اس کی ایک واضح اور روزمرہ کی مثال یہ ہے کہ جب کوئی بادشاہ، صدر یا وزیر مسجد الحرام میں جاتا ہے، تو اس کے دنیاوی منصب کی وجہ سے اسے خاص پروٹوکول دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ بھی کھول دیا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس شخص کی انفرادی زندگی اور اعمال اللہ کے ہاں پسندیدہ نہ ہوں۔ اس کے مقابلے میں، حرم کے کسی دور دراز کونے میں کھڑا ایک عام آدمی، جو حسرت بھری نگاہوں سے بیت اللہ کو دیکھ رہا ہے اور اس کے اعمال صالح ہیں، تو اللہ تعالیٰ کی نگاہِ کرم میں وہ عام انسان اس جاہ و حشم والے وزیر سے کہیں زیادہ مقرب اور محبوب ہے۔ آخرت کی کامیابی اسی اخلاص اور اعمالِ صالحہ سے مشروط ہے۔
ملتِ ابراہیمی اور استقامت کی کٹھن منزل
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی استقامت کو پوری انسانیت کے لیے نمونہ قرار دیا ہے۔ اگر ہم آج کے دور کی مشکلات کا موازنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائشوں سے کریں تو آج کی تکالیف ان کے سامنے ہیچ ہیں۔ ان کی مخالفت میں کوئی اور نہیں، بلکہ ان کا اپنا سگا باپ جان کا دشمن تھا، وقت کا جابر بادشاہ درپے آزار تھا، اور ہر چیز مخالف تھی۔ ہر طرف سے مخالفتوں کے باوجود، ان کے عقیدہِ توحید میں کوئی کھوٹ نہ آیا۔ وہ ایک سچے پیروکار (حنیف) بن کر ڈٹے رہے، اور اسی بے مثال استقامت اور اخلاص کی بدولت اللہ رب العزت نے انہیں اپنا "خلیل" (دوست) بنا لیا۔
عورتوں کے حقوق: اسلامی تعلیمات بمقابلہ نام نہاد آزادی کا سراب
تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کو جو عزت، تحفظ اور حقوق دیے، وہ گزشتہ مذاہب اور تہذیبوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ تاہم، آج کے دور میں مردوں کے ایک مخصوص طبقے نے "عورتوں کی آزادی" کے نام پر عورت کو محض ایک کھلونا اور اپنی سفلی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ وہ عورت کے منہ میں ایسے نعرے ڈالتے ہیں جن سے وہ ان کے مقاصد کے لیے استعمال ہو سکے۔
جب کوئی ناسمجھ عورت اس گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار ہو کر دین کا درد رکھنے والے علمائے کرام کی نصیحتوں سے کٹ جاتی ہے، تو وہ آہستہ آہستہ دین سے اور پھر اللہ سے دور ہونے لگتی ہے۔ شیطان کا وار یہیں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ اس بغاوت کو پروان چڑھا کر بسا اوقات اس کا ایمان تک ضائع کروا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی ایسی گمراہی سے حفاظت فرمائے۔
خواتین کے لیے اجرِ عظیم کی بشارت
اسلام نے عورت کی فطرت اور اس کے معاشرتی فرائض کے عین مطابق اس کے لیے اجر و ثواب کے نہایت آسان اور شاندار راستے رکھے ہیں۔ اس حوالے سے علامہ ابن عبد البرؒ نے 'الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب' میں ایک نہایت خوبصورت واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! مرد حضرات جمعہ پڑھنے، جنازوں میں شرکت کرنے اور جہاد میں جانے کی وجہ سے ہم سے زیادہ اجر کما رہے ہیں، جبکہ ہم عورتیں گھروں میں رہ کر ان کے مال کی حفاظت کرتی ہیں اور ان کی اولاد کی پرورش کرتی ہیں، تو کیا ہم اس اجر میں ان کے برابر شریک ہیں؟"
رسول اللہ ﷺ نے ان کے اس شاندار اور دین کی فکر پر مبنی سوال پر خوشی کا اظہار فرمایا اور جواب دیا:
"اے اسماء! واپس جاؤ اور عورتوں کو بتا دو کہ تم میں سے کسی عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا، اس کی رضا تلاش کرنا، اور اس کی موافقت کرنا، ان تمام اعمال کے برابر ہے جو تم نے مردوں کے لیے ذکر کیے ہیں۔"
یہ عظیم بشارت سن کر حضرت اسماء رضی اللہ عنہا خوشی کے مارے 'اللہ اکبر' کہتی ہوئی واپس لوٹیں۔
خواتین کا شرعی تحفظ اور محرم کی ناگزیر ضرورت
اسلام نے عورت کے سفر اور گھر سے باہر نکلنے کے لیے 'محرم' کی جو شرط رکھی ہے، وہ اس کے مکمل تحفظ کی ضمانت ہے۔ آج کے دور میں بغیر محرم کے ڈرائیونگ کرتے ہوئے اگر کسی خاتون کی گاڑی کسی ویران جگہ پر خراب ہو جائے، تو اسے کن سنگین خطرات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یہ بات کسی باشعور انسان سے پوشیدہ نہیں۔ شرعی احکامات زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر دیے گئے ہیں۔
عورتوں کے بہترین جہاد اور فرائض کے حوالے سے صحیح بخاری (حدیث نمبر 1861) میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں:
"میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم (عورتیں) آپ کے ساتھ جہاد اور لڑائی میں شریک نہ ہوں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: 'نہیں، البتہ (تمہارے لیے) بہترین اور خوبصورت جہاد مبرور (مقبول) حج ہے۔' حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: چنانچہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی، میں نے حج کرنا نہیں چھوڑا۔"
حاصلِ کلام یہ ہے کہ انسان کو شیطان کے فریب اور تمناؤں کی دنیا سے نکل کر، حقائق کا سامنا کرتے ہوئے شریعت کے محفوظ راستے کو اپنانا چاہیے۔ دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی اسی میں پنہاں ہے۔