الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْد!
أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج منگل کا دن ہے، اور منگل کے دن ہمارے ہاں اب پیغامِ محبت کی کتاب کی تشریح بتائی جاتی ہے۔ آج جو غزل اس سے شروع ہو رہی ہے:
دلِ بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
دلِ بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
کچھ کہا آپ نے پیار سے اس کو
اب کسی اور کی سنتا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
دل میرا ہاتھوں سے گیا ہے نکل
میرے سینے میں اب رہا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
آپ نے کب سے چن لیا اس کو
مجھ گناہ گار کو پتا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
دنیا تو لائے خواہشوں کی طرف
اس سے اس کو مزہ ملتا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
عقل قابو میں ہے اس کے اور یہ
تو شریعت سے نکلتا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
اس پیغامِ محبت میں الحمد للہ ایک چیز آپ لوگوں نے نوٹ کی ہو گی کہ یہ صرف محبت کی بات نہیں کرتا بلکہ عملی محبت کی بات کرتا ہے۔ اور عملی محبت ہم اس کو کہتے ہیں کہ جو اس کے تقاضے ہیں وہ سامنے ہوں۔ ورنہ خالی محبت کی باتیں صرف نعرے بن جاتے۔ اس سے انسان پھر عمل پہ نہیں آتا۔ لیکن یہاں پر الحمد للہ نعروں کی بجائے عمل کی دعوت ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ:
عقل قابو میں ہے اس کے اور یہ
محبت نے عقل پہ قبضہ جما لیا ہے، دل نے۔
عقل قابو میں ہے اس کے اور یہ
تو شریعت سے نکلتا ہی نہیں
یہ شریعت سے نہیں نکلتا کیونکہ اس کو پتا ہے کہ میرے محبوب کا رستہ ہے۔ میں کیوں اس سے نکلوں؟
نفس اس کو دیکھ کے ہاتھ ملتا ہے
طریق جذب
نفس اس کو دیکھ کے ہاتھ ملتا ہے
کہ اس کے ہاتھ کچھ رہا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
مجھ کو ہو یار کی آغوش نصیب
یہی ہے اور تمنا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
صرف اپنے خدا کی رضا چاہیے۔ آغوش سے کیا مراد ہے؟ اس کی رضا۔ اور کوئی تمنا نہیں ہے اس کے علاوہ۔
باتیں شبیر کی دل کی باتیں
اس کو جو اور کچھ آتا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
جیسے میں نے عرض کیا کہ ہمارے اس پیغامِ محبت میں جوش کے ساتھ ہوش، محبت کے ساتھ تقاضائے محبت ہے۔ ساتھ ساتھ یہ چیزیں چل رہی ہیں تاکہ کوئی جمپ لگا کر انسان سب کچھ سے نکل ہی نہ جائے۔ ہر چیز سامنے ٹارگٹ موجود ہے۔ تو یہ اب رباعی ہے:
جوش میں ہوش
ہے زباں چپ مگر ہے دل میں جوش
سر جھکائے ہوئے ہیں یوں مے نوش
جیسے ان پر کوئی اثر ہی نہیں
ان کی مے میں ہے جیسے جوش میں ہوش
ہے زباں چپ مگر ہے دل میں جوش
سر جھکائے ہوئے ہیں یوں مے نوش
یہ اصل میں اس کی بنیادی چیز یہ ہے کہ ایسا جوش نہ ہو جو کہ مطلوبہ ہوش کو ختم کر دے۔ ایسا جوش ہو جو نفس کی خواہشات کو دبا لے۔ اتنا جوش ہو کہ نفس کی خواہشات پر غالب آ جائے۔ تو اب یہ ہے۔
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
راہ کچھ یوں اسے دکھلائی ہے
دل کے خانے میں ہے تصویرِ یار
وہ ملے جو نظر جھکائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
راہ کچھ یوں اسے دکھلائی ہے
مطلب دل کے خانے میں اپنے محبوب کی تصویر ہے۔ وہ جب بھی دل کی طرف دیکھتا ہوں تو وہ نظر آ جاتا ہے۔
ہر طرف نور ہے، سرور ہے بس
میں ہوں اور تو ہے اور تنہائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
راہ کچھ یوں اسے دکھلائی ہے
مجھے کیا کھینچے رونقِ دنیا
دل کو اک بات جو سمجھائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
میرے دل میں بسا ہے تو جب سے
دل نے دنیا الگ بسائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
جلوت و خلوت کی اب بات کہاں
اب تو تجھ سے ہی شناسائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
راہ کچھ یوں اسے دکھلائی ہے
سامنے تیرے ہیں اعضاء سجدہ ریز
سب کی خواہش یہی جو پائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
اصل میں اعضاء کو ہم لوگ گڑبڑ کر دیتے ہیں۔ ورنہ بنیادی طور پر تو یہ اس کے ہیں نا۔ تبھی تو وہاں پر ہمارے خلاف گواہی دیں گے۔ اصل میں تو اس کے ہیں نا۔ تو ان کی خواہش تو یہی ہے کہ اس طرف لگ جائیں، لیکن ہم لوگ اس کو گڑبڑ میں کر لیتے ہیں نفس کی وجہ سے۔
حیات تھی وگرنہ مر جاتا
اب تو کچھ وار ایسے کھائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
بوجھ دن بھر میرے دل پر تو رہا
رات مستی پہ اتر آئی ہے
دل تو اب تیرا شیدائی ہے
یہ دو شعر، ایک تو گزشتہ غزل میں گزرا ہے اور ایک اس میں آ گیا ہے دن اور رات کا۔ کیونکہ دن میں انسان لوگوں کے ساتھ رہتا ہے تو کام کرتا ہے۔ Battery discharge کرتا ہے۔ جو بیٹری اس کی Charge ہو چکی ہوتی ہے رات کے وقت، وہ Discharge کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا بوجھ کی کیفیت ہوتی ہے۔ رات کے وقت پھر بیٹری Charge ہونا شروع ہو جاتی ہے اگر ایک انسان اللہ کے سامنے کھڑا ہو جائے۔ ذکر اذکار میں لگ جائے۔ تو پھر اس کی بیٹری Charge ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اس کو مستی سے تعبیر کیا ہے اور جو دن بھر کا کام ہے اس کو بوجھ سے تعبیر کیا ہے۔ ٹھیک ہے۔ یہاں پر ہے:
بوجھ دن بھر میرے دل پر تو رہا
رات مستی پہ اتر آئی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
ماشاءاللہ یہ اب حاصل غزل مقطہ ہے
عشقِ نادان1کے اشاروں پہ شبیر
ہیں خموش جن کو سمجھ آئی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے۔ ذرا غور فرمائیں اس میں عجیب بات ہے۔ ایک تو عشق کو ناداں کہا گیا۔ تو یہ ناداں کیوں ہے؟ ناداں اس کو اس لیے کہا گیا کہ لوگ جن چیزوں کو کامیابی سمجھتے ہیں اس کے سامنے وہ کامیابی نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ان چیزوں سے ناواقف، نابلد، ان سے بے پرواہ۔ تو لہٰذا یہ عام لوگوں کی نظر میں نادان ہے۔ یہی نادان سے مراد یہ ہے کہ جانتے نہیں۔ نادان کا مطلب یہی ہوتا ہے نا۔ تو اوروں کو جانتے ہی نہیں سوائے اس کے علاوہ۔ صرف اس کے علاوہ اور کو تو جانتے ہی نہیں۔ لہٰذا نادان تو ہے۔ اس کا اشارہ کس طرف ہے؟ جس کو وہ جانتا ہے۔ اس کا اشارہ اس طرف ہے۔ کہتے ہیں کہ جو سمجھدار ہیں۔ اب دیکھیں عشق کو نادان کہا گیا اور سمجھداروں کی بات کی گئی، کہ سمجھدار ان کے اشاروں پہ خاموش ہیں، جن کو یہ سمجھ آئی ہے۔ تو اس کا پتہ یہ چلا کہ اصل سمجھ یہی ہے۔ وہ خاموش ہیں۔ اب وہ کچھ نہیں کہتے۔ جو بولتے ہیں وہ ناواقف ہیں۔ اشکالات کرتے ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا کرتے ہیں اور یہ اور وہ، فلسفے بگھارتے ہیں، وہ بیچارے ناسمجھ ہیں۔ جو سمجھدار ہیں وہ چپ۔ کیا کہتے ہیں:
The best people act in silence
کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو ڈسکس کرتے ہیں پیپل کو، کچھ لوگ ایونٹس کو... and even the best act in silence. تو جن کو سمجھ آئی وہ خاموش۔ اپنے آپ میں لگے ہوئے ہیں۔ اپنا کام کرتے ہیں۔ تاکہ وہ راضی ہو جائے۔ یہ ماحصل ہے غزل کا، شعر ہے:
عشقِ نادان1کے اشاروں پہ شبیر ؔ
ہیں خموش جن کو سمجھ آئی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
اب مقام شکر ہے:
مقام شکر
"فضلِ خدایا سلسلے پہ ہمارا، تیرا
بہت زیادہ ہے رحمت کی نظر، ہے کیا تیرا
بس ہم تو شکر اب ہر آن کریں میرے خدا
کبھی بھی شکر ہو سکا نہیں ادا تیرا"
یہ جناب ہمارے سلسلے کی جو برکات ہیں الحمد للہ دن بدن ہمیں نظر آ رہی ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر شکر کی توفیق عطا فرمائے۔
یہ اب ذرا۔۔ اس کو میں کیسی غزل کہہ دوں؟ جھلستی ہوئی، تڑپتی ہوئی غزل۔ یہ غزل ہے:
پیاس بجھتی نہیں
پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد
ساقیا ہاتھ نہ روکنا اس پیمانے کے بعد
ہیں یہ مے خانۂ عشاق صبح و شام ملے
صبح کی صبح ملے اور شام آنے کے بعد
پی کے دیوانے بنے ہیں پر اتنے ہوش میں ہیں
جُتے ہیں کام میں اشارہ سا ہی پانے کے بعد
کون پلاتا ہے مجھے گوشۂ تنہائی میں
ڈالتا پانی بھی ہے آگ سلگانے کے بعد
عشق جب اور بڑھے گا تو مزہ آئے گا
دل دکھائے گا میرے دل کے چھپانے کے بعد
یہ محبت ہے یہ ایک آگ ہے کیسے یہ چُھپے
کیا پتہ کیا ہو پیمانہ چھلک جانے کے بعد
کب تلک یوں ہی پیمانوں کی بات چلتی رہے
دور سارے ہوں مگر اس کے پلانے کے بعد
آگ پٹرول کی جب پانی سے بجھتی ہے نہیں
کیا بجھے آگ میری اس کے جلانے کے بعد
اب سمندر بھی نہ کافی ہو بجھانے کے لیے
ہاں بجھے یہ تو بجھے اس کے ہی پانے کے بعد
بے قراری میرے دل کی تجھے معلوم تو ہے
میں سب کا غیر ہوا تیرے اپنانے کے بعد
حد اس کی پیار کی کوئی نہیں ہو سکتی ہے
آگ ہے ایک اور ابھرتی ہے دبانے کے بعد
موت خوش رنگ میرے دل کو نہ ہو کیوں اب شبیر
وعدہ کہ اس کا جو ملنے کا ہے مرنے کے بعد
یہ سلگتی ہوئی غزل ہے۔ اس میں شاعر جو کہتا ہے وہ کیا کہتا ہے؟ سب سے پہلے وہ یہ کہتا ہے کہ جام میں چڑھاتا ہوں اس سے میری پیاس نہیں بجھتی۔ ہے کہ میں جب اس کے قریب ہوتا ہوں، پیاس اور بڑھ جاتی ہے۔ جو چیز مجھے اس کے قریب کرتی ہے مثلاً ذکر اور فکر، وہ مجھے اس کے قریب کر دیتی ہے، میری پیاس اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا اے ساقی یعنی شیخ! اس کو کم نہ کر۔ مطلب اس سے میری پیاس بجھی نہیں۔ اور یہ مے خانہ یعنی خانقاہ جو ہے، یہ مے خانۂ عشاق ہے، صبح و شام اس میں ملتا رہتا ہے۔ صبح کا صبح کو ملتا ہے، شام کو شام کا ملتا ہے۔ اور یہ عشقِ حقیقی کے شرابی ہیں، یہ ایسے مدہوش نہیں ہوتے کہ بالکل ان کا ہوش ختم ہو جاتا ہے۔ اتنے ہوش میں ضرور ہوتے ہیں کہ جس کام کو کرنا ہوتا ہے، تو تھوڑا سا اشارہ پانے کے بعد اس کام میں لگ جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ باقی لوگ تو دلائل مانگتے ہیں، دلائل نہیں مانگتے اشارہ مانگتے ہیں۔ ہاں یہ عجیب شرابی ہیں کہ محبوب کا اشارہ پانے پر ہی بس سب کچھ کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ اور یہ عجیب شراب ہے کہ کون مجھے پلاتا ہے تنہائی میں کہ ساتھ ساتھ آگ بھی جلاتے ہیں، ساتھ ساتھ پانی بھی بجھاتے ہیں۔ ہے کہ میرا عشق بھی بڑھاتے ہیں اور سکینہ کی کیفیت بھی طاری کرتے ہیں۔ تسلی بھی ملتی ہے۔ کیفیتِ سکینہ بھی ہے اور ساتھ ساتھ عشق کی وہ آگے بھی جل رہی ہے۔ اور یہ جو عشق کی آگ ہے، یہ تو جب اور بڑھے گی تو پھر مزا آئے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو میرا دل ہے اس کو چھپاتا ہے کوشش تو یہی کرتا ہے کہ چھپا رہے، اخفا رہے۔ لیکن یہ ایسی چیز ہے کہ یہ اور دکھائے گا اس کو۔ کیونکہ اس کا جب رنگ آتا ہے تو وہ رنگ پھر چھپتا نہیں ہے۔
دل دکھائے گا میرے دل کے چھپانے کے بعد اور یہ محبت ایک ایسی آگ ہے کہ یہ چھپ نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کو چھپاؤ گے تو ممکن ہے پیمانہ جب چھلک جائے تو پتا نہیں کیا کیا کچھ کر لے۔ تو اس لیے کہتے ہیں اتنا اس کو نہ دباؤ کہ Pressure cooker بن جائے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ Limit سے Exceed کر جائے۔ تو تھوڑا تھوڑا Relief اس کو ملنا چاہیے۔ ان سے پوچھا تھا کسی نے، میں نے کہا کہ نعروں کو دباؤ نہیں۔ اس سے پھر تکلیف ہوتی ہے۔ اگر روک دیا تو یہ اور بڑھ جائیں گے۔ اور یہ جو ہم کہتے ہیں تھوڑا تھوڑا دینے کا، یہ کب تک چلتا رہے گا؟ ہاں البتہ وہ جب پلائے گا، وہ خاص تجلی کر لے گا پھر کسی اور کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور یہ جو آگ ہے عشق کی، یہ پٹرول کی آگ جب پانی سے نہیں بجھتی تو پھر یہ اس کو پانی کیسے بجھا سکتا ہے؟ اب تو اس کے لیے سمندر بھی ناکافی ہے۔ ہاں اگر وہ مل گئے تو پھر بات پوری ہو جائے گی۔ اور میرے دل کی بے قراری تو تھجے معلوم ہے کہ میں تیرے اپنانے کے بعد سب کا غیر ہو گیا، سب نے مجھے Disown کر دیا۔ کہ ہمارا نہیں ہے۔ اور اس کے پیار کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ ایک آگ ہے جتنا دباؤ گے یہ بڑھے گی۔ اور موت میرے نزدیک کیوں زیادہ خوش رنگ نہیں ہو گی کیونکہ اس کے ملنے کا وعدہ مرنے کے بعد ہے۔
میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے
میری آہ گرم سی لگی مجھے کوئی بوٹی جیسے جلی سی ہے
میری آنکھ برسے نہ کھل کے کیوں اسے روک کون سکے گا اب
جسے آنکھ دیکھ سکی نہیں وہی ذات دل میں بسی سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے
میری آہ گرم سی لگی مجھے کوئی بوٹی جیسے جلی سی ہے
دورِ دنیا مجھ سے تو دور ہو میرے دل میں کوئی جگہ نہیں
مجھے تجھ سے واسطہ ہے اب کہاں تیری چاہ بڑی بری سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے
کروں یاد اس کو زباں سے اب کروں اس کو یاد سے تر بتر
میرا دل تو اس کا مکان ہے تبھی ہوک اس سے اٹھی سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے
میرے دل سے غیر نکل تو جا کبھی بھول کے بھی نہ آنا اب
میرے دل میں آئے وہ آئے اب دھوم اس کی جیسے مچی سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں جیسے لگی سی ہے
آگ اس میں ایک لگی سی ہے
میرے لب سے اب یہ اٹھے صدا میں رہوں نہ اس سے کبھی جدا
میرے دل میں وہ ہے شبیر اب یہ زباں پہ بات چلی سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے
میری آہ گرم سی لگی مجھے کوئی بوٹی جیسے جلی سی ہے
میرے خیال میں تو Explanatory ہے۔ اس میں کوئی مشکل بات نہیں ہے۔
البتہ یہ بہت پیاری غزل آ رہی ہے۔
یہ ایسی غزل ہے جس کا انداز جو ہے وہ بھی ذرا اترتا ہے۔ مطلب وہ الفاظ کے ساتھ۔
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
اس زیست کا ہر لمحہ امانت ہے اس کی جب
یہ اس کے لیے صرف ہو اس پہ آؤں میں کیسے
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
ہر دم وہ چاہے میری نظر اس کی طرف ہو
اغیار کے اشاروں سے دل بچاؤں میں کیسے
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
دل مطمئن تو اس پہ ہے کہ اس کا ہی رہے
پر نفس کو اس پہ مطمئن کراؤں میں کیسے
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
آنکھوں کے سامنے شر ہے جس میں خیر ہے مخفی
اس خیر میں شر سے آنکھیں اب ہٹاؤں میں کیسے
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
اب یہ پوری غزل کا جواب موجود ہے۔
جو شیخ کی دہلیز ہے پکڑو اسے شبیر
بہتر ہو اس سے بھی وہ گُر بتاؤں میں کیسے
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
یہ اس شخص کی بات ہے جس کی طلب بن جاتی ہے۔ دیکھیں پہلے خواہشات ہیں نفس کی۔ اس کی طلب ان خواہشات کی ہے۔ طریقۂ جذب سے اس کو ایک داعیہ مل گیا کہ اب اس کی طلب وہ نہیں ہے۔ اب اس کی طلب اللہ ہے۔ دل اس میں مبتلا ہے، وہ چاہتا یہ ہے۔ لیکن اس کے سامنے مشکلات ہیں۔ وہ مشکلات اس غزل میں وہ بیان کر رہا ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ کہ "میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے"۔ چاہت تو ہے، طلب تو ہے، لیکن حاصل کیسے ہو؟ پھر، "اس زندگی کا ہر لمحہ جب اس کی امانت ہے، تب یہ سارا اس کے لیے صرف ہو اس پر میں کیسے آؤں؟" مشکل ہے۔ ہر دم وہ چاہتا ہے کہ میری نظر صرف اس پر ہو۔ لیکن اغیار کے اشارے بھی میرے دل کو مبتلا کر رہے ہیں۔ وہ میرے دل کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ ان کے اشاروں سے اپنے آپ کو کیسے بچاؤں؟ مشکل ہے۔ پھر یہ ہے کہ میرا دل تو مطمئن ہے کہ اس کا ہی رہوں۔ لیکن نفس کو اس پر کیسے مطمئن کروں؟ یہ مشکل ہے۔ پھر میری آنکھوں کے سامنے شر آتا ہے، جس میں خیر مخفی ہوتا ہے۔ مثلاً غیر محرم نظر آ گئے۔ تو شر ہے۔ لیکن اس کے اندر خیر یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنی آنکھیں اس سے ہٹائیں تو آپ کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قرب نصیب ہو گا۔ اب اس شر کے اندر وہ جو خیر ہے اس کو کیسے حاصل کروں؟ یا اس خیر کے اندر جو شر ہے، اس سے اپنی نظریں کیسے ہٹاؤں؟ مشکل ہے۔ پریکٹیکل ساری چیزیں ہیں۔ طلب تو ہے، میں چاہتا تو ہوں، لیکن حاصل کیسے ہو؟
آخری حاصلِ غزل شعر جو ہے وہ ہے
جو شیخ کی دہلیز ہے پکڑو اسے شبیر
بہتر ہو اس سے بھی وہ گُر بتاؤں میں کیسے
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
مطلب یہ ہے کہ شیخ اسی لیے پکڑا جاتا ہے، ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے کہ اس کی دہلیز کو لازمی پکڑو، وہ جو کہے اس طرح کرتے جاؤ۔ اپنی سوچ کو آگے نہ آنے دو۔ پھر تو ان تمام مشکلات کو عبور کر سکتا ہے، ورنہ پھر یہ ہے کہ واقعی مشکلات حل ہونے کو نہیں ہیں۔
شیخ کے ساتھ اگر محبت ہو جائے، فنا فی الشیخ ہو جائے، پھر تو Will power کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ ورنہ اتنا Will power ہونا چاہیے کہ شیخ کی بات مان سکے۔ پھر اس کے بعد پھر چلتا رہے گا ان شاء اللہ۔ تو یہ مطلب گویا کہ جذبی اصلاح کی یہ ایک رہنما غزل ہے۔
عشقِ الٰہی، دل کی کیفیات اور جذبی اصلاح کا راستہ
محبت کے تقاضے: نفسانی خواہشات سے دستبرداری اور اطاعتِ شیخ کی اہمیت
2۔ اس درس کے چھ اہم موضوعات:
جذبی اصلاح اور عملی محبت کے تقاضے
نفسانی خواہشات پر ایمانی جوش کا غلبہ
دل کی دنیا اور اللہ سے شناسائی
عشقِ حقیقی کی پیاس اور اس کی کیفیات
وصلِ یار کے راستے میں نفسانی رکاوٹیں
اصلاحِ قلب کے لیے فنا فی الشیخ اور اطاعت کی ضرورت