اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰى خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ
اَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے، پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ احوال جن کے ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی عرض کیا جاتا ہے۔
سوال 8: السلام علیکم حضرت! یہ ہے کہ اسلام میں اخلاص اور حسنِ نیت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ شریعت مسلمانوں کو تمام حالات میں خلوصِ نیت کی ترغیب کے ساتھ اہلِ ایمان کو تمام ظاہری و باطنی اقوال، افعال، اعمال اور احوال میں نیت کو مستحضر رکھنے کا، ٹٹولتے رہنے اور اخلاص کو برقرار رکھنے کا درس دیتی ہے۔ بری نیت سے اچھا عمل بھی خراب ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی آدمی دینی کام بری نیت یعنی نمود و نمائش اور فخر کے لیے کر چکا ہو تو اس کی تلافی کیسے کی جا سکتی ہے؟ عام مسلمان، مبتدی اور منتہی حضرات اپنے اندر مطلوبہ اخلاص کن کن طریقوں سے حاصل کر کے اس پر قائم رہ سکتے ہیں تاکہ عبادات کے ساتھ معاملات، دنیاوی محبت، رزقِ حلال، تجارت وغیرہ بھی ثواب کا ذریعہ بن جائیں؟ جزاک اللہ۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: اچھا سوال ہے ما شاء اللہ! لیکن ہمیں جڑ سے اس کو پکڑنا ہو گا اور جڑ سے پکڑنا یہ ہے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو ہمیں اخلاص پہ نہیں آنے دیتی؟ کوئی وجہ تو ہو گی نا، کوئی reasonہے۔ تو وہ ہمارا نفسِ امارہ ہے اور شیطان ہے۔ شیطان detract کرتا ہے, نفسِ امارہ کی اپنی خواہشات ہیں ان کی priority ہوتی ہے۔ وہ اس کی طرف ذہن کو لے جاتا ہے۔ اب جیسے مثال کے طور پر لوگوں کی تعریف یہ فوری ہے اور اللہ جل شانہ کی قبولیت کا پتہ چلنا یہ بعد میں ہے۔ تو لوگ نفسِ امارہ میں جب ہوتے ہیں تو فوری چیز کی طرف جاتے ہیں۔ جیسے اللہ پاک نے فرمایا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ﴾ ہرگز نہیں بلکہ تم جو فوری چیز ہے اس کو پسند کرتے ہو اور جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو۔ یہ اللہ پاک نے فرمایا ہے۔ تو یہ چیز تو ہے۔ تو جو فوری چیز ہے وہ تو یہی ہے دنیا کی چیزیں ہیں۔ اور اخلاص یہ اس کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے جو بعد میں آنے والی ہے۔ تو لہذا انسان پیچھے رہ جاتا ہے، اخلاص چھوڑ دیتا ہے۔
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے یہی تو فرمایا تھا، ان سے جب پوچھا گیا حضرت! آپ بھی وہی اعمال کر رہے ہیں جو ہم کر رہے ہیں لیکن آپ آپ ہیں اور ہم ہم ہیں، ایسا کیوں؟ تو حضرت نے فرمایا کیونکہ تم جو اعمال کرتے ہو وہ تمہارا نفس کھا جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے نفس ہی بنیادی مسئلہ ہے۔ تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا ہے؟ سلوک طے کرنا ہے۔ اس کے لیے سلوک طے کرنا ہے۔ سبحان اللہ! یہ مقامِ تسلیم اور مقامِ رضا، یہ سب سے اخیر میں حاصل ہوتا ہے، تو جب تک یہ حاصل نہ ہو تو اخلاص کیسے حاصل ہو گا؟ تو اس کے لیے کوشش تو جاری رہے گی۔
البتہ ایک ہوتی ہے عقلی approach جو فوری ہو سکتی ہے اور ایک ہوتی ہے شریعت کا طبیعت بن جانا، یہ بعد میں ہوتا ہے۔ یعنی وہ تو پوری اصلاح کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ تو فوری چیز تو اب بھی ہو سکتی ہے اور وہ کیا ہے؟ انسان اپنے عمل کی ابتدا میں سوچے کہ کہیں اس میں دنیا کی نیت تو نہیں ہے؟ اگر نہیں ہو تو شکر کرے اور اگر ہو تو استغفار کر لے اور توبہ کرے اور اس سے ہٹ جائے۔ پھر درمیان میں عمل کے کر لے۔ پھر ایسا کر لے، پھر اخیر میں کر لے۔ تو اس طرح ہر عمل کے ساتھ کرتے جائیں، تو یہ ایک فوری حل ہے کیونکہ انسان اس کا مکلف ہے۔ البتہ اصل حل یہی ہے کہ انسان کو نفسِ مطمئنہ حاصل ہو جائے۔ تو اس کے لیے پھر کوشش کرنی چاہیے۔ تو آپ بھی یہی کر سکتے ہیں، گزشتہ کی تلافی استغفار اور توبہ سے ہو سکتی ہے اور آنے والے کے لیے دعا کے ذریعے سے اور ہمت کے ذریعے سے، یہ کام ہو سکتا ہے تو اس کے لیے کوشش کریں۔
ہماری باتیں پھیکی پھیکی ہوتی ہیں نا، بہت زیادہ دلچسپ باتیں نہیں ہوتیں، کیا کریں دین تو سادہ ہے۔ بہت زیادہ مرچ مصالحے کی وہ نہیں ہے۔
سوال 9: السلام علیکم! گروپ ممبر نے سوال کیا ہے کہ فلسطین کا معاملہ چونکہ طول پکڑ رہا ہے، اگر ہم فلسطین کے متعلق ویڈیوز وہاں کے حالات یا لوگوں کے تجزیے والی ویڈیو نہ دیکھیں تو دعا اور بائیکاٹ کی شدت میں کمی آنی شروع ہو جاتی ہے۔ ساتھ یہ بھی احساس ہے کہ ان ویڈیوز سے بدنظری ہوتی ہے تو کیا ہم یہ ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں، اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں؟
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: بھئی بات یہ ہے کہ اس پہ ڈسکشن میں نہیں کروں گا کہ ویڈیو کیا چیز ہے۔ یہ طویل بحث بن جائے گی۔ اتنا میں عرض کروں کہ جو گناہ کی چیز ہے اس کے ذریعے آپ کوئی نیک کام کریں تو اس پہ کوئی ثواب نہیں ہو گا۔ وہ ہمارے پشتو میں بڑے مشکل ضرب الامثال ہیں؛
"په متیازو غول مینځل" یعنی "پیشاب کے ذریعے سےبول و براز کو صاف کرنا"۔ تو یہ بھی ناپاک ہے، یہ بھی ناپاک ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہ کیسے؟ تو اس وجہ سے مطلب اس کے بارے میں میں کہوں گا کہ اگر کسی کا دل واقعی درد کر رہا ہو تو اس کے لیے تو صرف پیغام کافی ہے۔ اس کے لیے ویڈیو کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ جو پرانے دور میں ویڈیوز تھیں؟ وہ جو محمد بن قاسم رحمۃ اللہ علیہ کے وقت میں حجاج بن یوسف نے خط پڑھا تھا اس خاتون کا جس کو راجہ داہر کی فوجوں نے بے عزت کیا تھا۔ تو اس پر اس نے اتنے بڑے جہاد کے لیے لشکر تیار کر لیا اپنے بھتیجے کو بھیجا محمد بن قاسم کو۔ تو کیا خیال ہے ویڈیو دیکھی تھی انہوں نے؟ سلطان صلاح الدین ایوبی ویڈیو دیکھ رہے تھے؟ یہ تو ہماری شیطانی خواہشات ہیں جو ہمیں ان چیزوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ لہذا ہمیں نیک کاموں کو اس کے اوپرdependنہیں کرنا چاہیے۔
حضرت مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے کہا، اس وقت کے بڑوں نے کہا کہ حضرت آپ ٹیلی ویژن پر اسلام کی دعوت دے کر بہت کام کر سکتے ہیں، یہ بہت موثر ذریعہ ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ
:" ہمیں اللہ پاک نے گناہ کے ذریعے سے دین کو پھیلانے کا مکلف نہیں کیا"۔ ناجائز کاموں کے ذریعے سے دین کو پھیلانے کا مکلف نہیں کیا۔ جو جائز طریقے سے ہو سکتا ہے بس وہ ٹھیک ہے کافی ہے۔ جتنا ہو سکتا ہے۔ ضروری تو نہیں ہے نا کہ ہم جو کر رہے ہیں وہ۔۔۔ پیغمبر وں کی لوگ باتیں نہیں مانتے تھے۔ تو کیا خیال ہے پیغمبر -نعوذ باللہ- ان کے لیے پھر غلط کام کر دیتے یا غلط طریقہ استعمال کرتے؟ نہیں مانتے حتیٰ کہ شہید ہو جاتے، اور یا ویسے وہ ان کی باتیں لوگ نہیں مانتے، نوح علیہ السلام کتنا عرصہ تبلیغ کرتے رہے لیکن لوگ نہیں مانے حتیٰ کہ ان کا بیٹا بھی نہیں مان رہا تھا۔ لیکن ان کی پیغمبری تو کہیں نہیں گئی نا، نہ انہوں نے غلط طریقہ اختیار کیا۔ تو ہم صرف صحیح کاموں کے مکلف ہیں، غلط کاموں کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کوئی اس سے متاثر نہیں ہوتا تو اس کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔ کیا سو فیصد یقین ہے کہ اس سے لوگ وہ کریں گے؟ نہیں! تو جب یہ والی بات ہے تو خواہ مخواہ ایک مشکوک کام کے اوپر ہم کیوں اپنا وقت لگائیں؟ تو اس وجہ سے ویڈیوز میں واقعی بدنظری بھی ہو جاتی ہے اور برکت اٹھ جاتی ہے، جو خیر کی جو برکت ہے وہ اٹھ جاتی ہے۔ تو اس وجہ سے ہمیں ایسی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ پیغام دینا چاہیے اور اس کے لیے اچھے ذرائع ڈھونڈنے چاہئیں جس پہ depend کیا جا سکے۔ اب مفتی محمدمختار الدین شاہ صاحب ویڈیوز تو نہیں دیکھتے لیکن انہوں نے بڑا اچھا بیان دیا، وہ جو چیف صاحب نے وہ کہا نا کہ دو ریاستی حل، فرمایا کہ اگر مدد نہیں کر سکتے تو دل تو نہ دکھائیں نا۔ تو ٹھیک ہے مطلب ظاہر ہے انہوں نے ویڈیوز تو نہیں دیکھیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ ہمیں ان ذرائع پہ اتنا زیادہ وہ نہیں کرنا چاہیے۔
سوال 10: السلام علیکم! دو سو بار ﴿لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾، چار سو بار ﴿لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ﴾، چھ سو بار حق، حق سو بار اللہ، پورا ہو گیا ہے۔
[سوال جواب مجلس، 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: ما شاء اللہ ما شاء اللہ! دو سو، چار سو، چھ سو اور تین سو، تین سو مرتبہ اللہ اللہ کر لیا۔ اب دو سو، چار سو، چھ سو اور تین سو، پھر تین سو بار اللہ اللہ کر لیا کریں۔ ایک مہینے کے لیے۔
سوال 11: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی! میں آج کل بہت زیادہ ذہنی انتشار کا شکار ہوں، کچھ قریبی رشتہ دار میرے ہر اس کام میں خامیاں نکالتے ہیں جو کہ میں خالص اللہ کے لیے کر رہی ہوں۔ جو دین کی خدمت میں ہیں وہ دنیا کو دیکھتے ہیں، میں خود کو بہت اکیلا محسوس کرتی ہوں جس کی وجہ سے میں ذہنی انتشار کا شکار ہو گئی ہوں اور خود کو ایک ایسی جگہ پر محسوس کرتی ہوں جہاں میرے لیے آگے بہت رکاوٹیں ہیں، جسے میں ختم نہیں کر سکتی اور نہ میرا دل پیچھے جانے کو چاہتا ہے، کیونکہ جہاں سے میں آئی ہوں میں وہاں دوبارہ جانا نہیں چاہتی۔ حضرت! ایسی مشکلات میں خود کو کیسے نارمل رکھوں؟ آپ اصلاح فرمائیں۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: اللہ اکبر! لوگوں سے توقع کرنا چھوڑ دیں۔ آپ جب کام اللہ کے لیے کر رہے ہیں تو پھر اللہ کے لیے کریں نا۔ مطلب پھر لوگوں کی طرف نظر کیوں ہے؟ یہی تو بات تھی پیغمبروں میں کہ وہ لوگوں پہ نظر نہیں رکھتے تھے۔ ﴿إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ﴾ ہمارا اجر تو اللہ پر ہے۔ تو اس وجہ سے لوگوں سے آپ کسی تعریف کی طلب نہ رکھیں، نہ آپ یہ سوچیں کہ وہ میری مخالفت نہ کریں۔ اگر آپ کی مخالفت ہو رہی ہے تو اس کا مطلب ہے آپ کے کام قبول ہو رہے ہیں ان شاء اللہ کیونکہ اچھے لوگوں کو کاموں میں رکاوٹیں آتی ہیں۔ تو آپ بالکل پروا نہ کریں لوگوں کی۔ جو کام حق ہے اور سچ ہے اس کو کرتی رہیں، اس کی بے شک تعریفیں ہوتی رہیں پھر بھی کرتی رہیں، نہ ہوتی ہوں پھر بھی کرتی رہیں اور مخالفت ہو پھر بھی کرتی رہیں۔ مطلب اس میں ہم کسی اور کے اوپر depend نہیں کر رہے ہیں۔
آپ تو ما شاء اللہ بہت اچھے حال میں ہیں، میں تو جن حالات سے گزرا ہوں وہ تو مجھے پتہ ہے۔ یہ وہ نمازوں کے اوقات کیcalculations وغیرہ پر جو میں کام کر رہا تھا تو ایسے ایسے لوگ مخالفتیں کر رہے تھے میں حیران ہوتا تھا۔ یعنی ایک بہت بڑے مدرسے کا میں وہ نکال رہا تھا وہ احسن الفتاویٰ جلد دوم اس مقصد کے لیے، اشو کر رہا تھا۔ مجھے کہتے ہیں آپ کیوں اس کو اشو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میں نمازوں کے اوقات پہ کام کر رہا ہوں۔ کہتے ہیں کون سے لغو کام کے اوپر آپ نے کام شروع کیا؟ بتاؤ! اتنے بڑے عالم، لائبریری کے انچارج وہ مجھے ایسا کہتے ہیں۔ تو اب ما شاء اللہ وہ ڈیمانڈ پوری نہیں ہو رہیں اتنی جگہوں سے ڈیمانڈیں آ رہی ہیں، ہر جگہ سے الحمد للہ وہ ہے۔ تو ایک وقت تو گزر گیا بس، ہمیں کیا لوگوں سے کیا؟