شرک کی حقیقت اور شیطان پرستی کے جدید فتنے

درس نمبر 203، سورۃ النساء: آیات: 116 تا 120- اشاعتِ اول: 18 جون، 2022، بمطابق 18 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

سورۃ النساء کی آیات کی روشنی میں شرک اور جہالت کی مذمت۔ مختلف مذاہب میں عورت کا مقام اور اسلام کی عطا کردہ عزت و تکریم۔ دورِ حاضر میں شیطان پرستی (Satanism)، شیطانی گرجے اور انسانی قربانی کے خوفناک حقائق۔ شیطان کا اللہ کے حضور چیلنج اور انسان کو گمراہ کرنے کی حکمتِ عملی۔ نفسانی خواہشات شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار (Tool) ہیں۔ تزکیہ نفس (قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا) کی اہمیت اور شیطان کے مکر سے بچاؤ کا واحد راستہ۔ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی (جانوروں کے کان چیرنا، جسم گودنا، مصنوعی زیبائش) کی ممانعت۔ روزِ قیامت شیطان کا اپنے پیروکاروں سے براءت کا اعلان

·    نفسانی خواہشات شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار (Tool) ہیں۔

·    تزکیہ نفس (قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا) کی اہمیت اور شیطان کے مکر سے

بچاؤ کا واحد راستہ۔

·    اللہ کی تخلیق میں تبدیلی (جانوروں کے کان چیرنا، جسم گودنا،

مصنوعی زیبائش) کی ممانعت۔

·    روزِ قیامت شیطان کا اپنے پیروکاروں سے براءت کا اعلان۔

·    سورۃ النساء کی آیات کی روشنی میں شرک اور جہالت کی مذمت۔

·    مختلف مذاہب میں عورت کا مقام اور اسلام کی عطا کردہ عزت

و تکریم۔

·    دورِ حاضر میں شیطان پرستی (Satanism)، شیطانی گرجے اور

 انسانی قربانی کے خوفناک حقائق۔

·    شیطان کا اللہ کے حضور چیلنج اور انسان کو گمراہ کرنے کی حکمتِ عملی۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(116) اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا (117) لَّعَنَهُ اللّٰهُۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ (118) وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِؕ وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا (119)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ.

ترجمہ: بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر گناہ کی جس کے لئے چاہتا ہے بخشش کردیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے، وہ راہ راست سے بھٹک کر بہت دور جا گرتا ہے ﴿116﴾ اللہ کو چھوڑ کر جن سے یہ دعائیں مانگ رہے ہیں وہ صرف چند زنانیاں ہیں،

یہ اصل میں

حاشیہ: کفار مکہ جن من گھڑت دیویوں کو پوجتے تھے ان سب کو مؤنث سمجھتے تھے، لات، منات، عزّٰی سب کو مؤنث سمجھا جاتا تھا، نیز فرشتوں کو بھی وہ خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ آیت میں اشارہ یہ ہے کہ ایک طرف تو کفار مکہ عورتوں کو کمتر مخلوق سمجھتے ہیں، اور دوسری طرف جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ ان کے خیال کے مطابق سب مؤنث ہیں۔

یعنی، چونکہ ساری چیزیں ان کی اب محض خیالات پر ہیں، اس میں کوئی بنیادی بات تو ہے ہی نہیں کہ جس کی وجہ سے وہ کچھ سوچ سکیں۔ تو جو بھی شیطان نے ان کو سمجھایا تو اس طریقے سے وہ کرنے لگے۔ اب جیسا کہ یہاں پر بہت بڑا نقطہ ہے کہ خود وہ کفار جو تھے وہ عورتوں کو بہت کم سمجھتے تھے۔ ویسے بھی عورتوں کو عزت اسلام نے ہی دی ہے۔ جتنے بھی مذاہب دوسرے ہیں، ان میں عورتوں کو بہت... ابھی تک یہودیوں میں عورتوں کو بہت کم سمجھا جاتا ہے۔ یعنی ان کے بارے میں آپ سوچ نہیں سکتے کہ عورتوں کو کیا سمجھتے ہیں۔ اس پر جو research ہوئی ہے، جو لوگ وہاں گئے ہیں اور جو لوگ اس طریقے سے انہوں نے ان کے گھروں میں پہنچ کے حالات دیکھے ہیں، وہ ظاہر ہے عجیب حالات ہیں۔ لیکن دنیا کے سامنے بڑے حقوقِ نسواں کے علمبردار ہیں اور ایسے اور ایسے ہیں۔ تو اس طرح جو دوسرے... عیسائیوں کا تو کوئی مذہب ہی نہیں ہے نا، ان کا تو معاملہ بس صرف نفسانیت ہے اور کچھ نہیں ہے۔ اور جو ہندو ہیں، ہندوؤں کے نزدیک عورتوں کی کیا حیثیت ہے۔

تو مسلمان ہیں وہ جو، جنہوں نے عورتوں کو واقعی عزت دی ہے۔ ماں کی عزت دی ہے، بہن کی عزت دی ہے، بیٹی کی عزت دی ہے، بیوی کی عزت دی ہے۔ اور اس کے حقوق باقاعدہ رکھے ہیں، ہر چیز کو بالکل well define کیا ہے۔ جبکہ ان لوگوں نے ایسا کیا تو اب ایک طرف تو ان کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور دوسری طرف ان کو خدا سمجھ لیا۔ ان کو سجدے کرتے تھے۔ أَسْتَغْفِرُ اللهَ۔

ترجمہ: اور جس کو یہ پکار رہے ہیں وہ اس سرکش شیطان کے سوا کوئی نہیں ﴿117﴾ جس پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے، اور اس نے (اللہ سے) یہ کہہ رکھا ہے کہ "میں تیرے بندوں سے ایک طے شدہ حصہ لے کر رہوں گا ﴿118﴾

حاشیہ: یعنی بہت سے بندوں کو گمراہ کر کے انہیں اپنا بنا لوں گا، اور بہت سوں سے اپنی مرضی کے کام کرواؤں گا۔

اس کی خطرناک صورت آج کل ہے۔ پہلے تو ظاہر ہے مطلب یعنی کہ چاہے جیسے بتوں کو پوج رہے تھے تو شیطان کی مان رہے تھے۔ تو شیطان کی مان تو رہے ہوتے لیکن شیطان کو پوج تو نہیں رہے تھے نا۔ یعنی شیطان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ اس دور میں، جو جس کو ترقی یافتہ دور کہتے ہیں، اس ترقی یافتہ دور میں شیطان کو باقاعدہ پوجنے والے ہیں۔ اپنے آپ کو عبادُ الشَّيْطَانِ" کہتے ہیں۔ جو عربوں میں ہیں وہ اپنے آپ کو عبادُ الشَّيْطَانِ کہتے ہیں، اور جو دوسرے ملکوں میں ہیں امریکہ اور یورپ وغیرہ میں ہیں، ان کو Satanic کہتے ہیں۔ Satanic۔ اور یہ Satanic جو ہیں، باقاعدہ ان کی اپنی کتاب ہے Satanic Bible. اور یہ Satanic Churches ہیں۔ اور اس طریقے سے ہے کہ ان لوگوں نے یعنی شیطان کے لیے باقاعدہ قربانیاں دیتے ہیں۔ اور قربانی کس چیز کی دیتے ہیں؟ یا عورتوں کی دیتے ہیں یا بچوں کی دیتے ہیں، چھوٹے infants، دودھ پیتے بچے جو ہیں ان کی۔ اور جو ان کی قربانی دیتے وقت باقاعدہ نعرہ لگاتے ہیں، "Oh my Lord"۔ اور باقاعدہ وہ یعنی چاقو سے ان کے پیٹ میں... حتیٰ کہ اپنے بچوں کو۔ یعنی ایسا جس کو کہتے ہیں نا شیطان دندنا کیا آج کل چل رہا ہے یعنی بالکل ہر چیز سامنے آ رہی ہے۔ اور یہی دجال، دجالیت کی صورت میں وہ آئے گی۔ تو وہ، وہ یہی بات ہے کہ اب یہ چیزیں کھل کے آ رہی ہیں اور وہ Satanic اپنے آپ کو اس لیے کہتے ہیں کہ ایک تو ان کو شیطان نے یہ سمجھایا ہوا ہے نا کہ اگر تم لوگ یہ کرو گے تو جادو واجدو نہیں ہوتے، جادو بڑے strong ہو جاتے ہیں۔ یہ ناجائز کام جو کرتے ہیں، غلط کام جتنے غلط کام زیادہ سے زیادہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں جادو strong ہو جاتا ہے۔ اور اس طریقے سے کہ ہم ان کے شر سے بچ جائیں گے۔ بالکل وہی ہندو والا پرانا نظریہ، کہ جن سے ان کو دنیاوی کوئی فائدہ بظاہر نظر آتا ہے ان کو بھی سجدے کرتے ہیں، اور جن سے ان کو تکلیف کا خطرہ ہوتا ہے تو ان کو بھی۔

تو یہ ساری چیزیں شیطان نے چونکہ اس طرح کر لیا تھا، اور اس کی بالکل ایک آسان سی صورت ہمیں جو سمجھ میں آتی ہے، وہ اگر اس منظر کشی کو اگر ہم یاد کریں قرآن پاک میں جو ہے کہ اللہ پاک نے جب اس کو راندۂ درگاہ کر دیا تواس سے پوچھا کہ تو نے ایسی حرکت کیوں کی جس کو میں نے ایک شان سے پیدا کیا تھا، خاص طریقے سے، تو اس کو جب میں نے سجدہ کرنے کو کہا تو کیوں نہیں کیا؟ تو اس نے کہا کہ اللہ میں کیسے اس کو سجدہ کرتا حالانکہ مجھے اب تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔

اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ تو رجیم ہے۔ تو پھر جب اس کو پتہ چل گیا کہ میں لعنتی ہو گیا، تو پھر اس نے مہلت مانگی۔ جب مہلت مل گئی تو پھر اس نے کہا کہ اے اللہ میں جن کی وجہ سے میرے ساتھ ہوا ہے نا، تو میں ان کے سیدھے راستے میں بیٹھ جاؤں گا، دائیں سے آؤں گا، بائیں سے آؤں گا، آگے سے آؤں گا، پیچھے سے آؤں گا، ان کو تیرا نہیں بننے دوں گا۔ اور تجھ تک یعنی نہیں پہنچیں گے۔ اور وہ تو ان میں سے بہت کم کو شکر گزار پائے گا۔ ہاں مگر بعض تیرے خاص چنے ہوئے لوگ جو ہیں نا وہ مجھ سے بچیں گے۔ تو اللہ پاک نے فرمایا: ہو گئی بات۔ جو میرے ہیں ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا اور جو تیرے بنیں گے تو تیری اتباع کریں گے، تو تجھ سے اور تیرے متبعین سے جہنم کو بھر دوں گا۔

اب یہ بات طے ہو گئی نا اب اللہ تعالیٰ اور شیطان کے درمیان یہ بات طے ہو گئی۔ تو اب شیطان اپنا پورا حصہ لے رہا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے اس وقت کہ 84% کم از کم یہ کافر ہیں، declared کافر ہیں، 84% percent۔ صرف 16% مسلمان کہلائے جاتے ہیں۔ اب ان میں کتنے مسلمان ہیں صحیح، یہ ایک الگ بات ہے -وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ- یعنی جن کو ہم مسلمان سمجھتے ہیں، لیکن پتہ نہیں کہ وہ ہیں یا نہیں ہیں، -وَاللهُ أَعْلَمُ- مطلب اس میں اللہ کو پتہ ہے۔ مثلاً قادیانیوں کو بھی لوگوں نے مسلمانوں میں ڈال دیا ہے، اس طرح اور حالانکہ مسلمان تو نہیں ہیں، اور کچھ اور لوگ ہیں جن کو مسلمان لوگ سمجھتے ہیں، ان کے مسائل ہیں۔ تو یہ اس وجہ سے میں کہتا ہوں کہ اللہ ہمیں معاف فرمائے اور روز بروز معاملہ کشیدہ ہوتا جا رہا ہے، یعنی شیطان کا جو جال ہے وہ جال لے جا رہا ہے ۔

تو اللہ جل شانہ بہت زیادہ بخشش والا ہے۔ یعنی جب بھی توبہ کوئی کرے گا تو اللہ پاک توبہ قبول فرماتا ہے۔ جس وقت بھی ایمان کوئی قبول کرے گا اللہ پاک اس کے ایمان کو قبول فرما لیتا ہے، سب مان لیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود شیطان اس پہ full وہ کرتا ہے، لیکن کس ذریعے سے کرتا ہے؟ وہ ہمارے نفس کے ذریعے سے کرتا ہے۔ Tool اس کا نفس ہے۔ لہٰذا اگر کسی کے نفس کی اصلاح ہو جائے تو پھر شیطان کچھ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ شیطان کے مکر کو ضعیف کہا گیا ہے۔ تو شیطان پھر کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ شیطان کے ہاتھ سے اس طاقت کو چھیننے کے لیے اپنے نفس کی اصلاح ضروری ہے۔ تو جب انسان اپنے نفس کی اصلاح کر لیتا ہے، تو نفس کی اصلاح ہو جاتی ہے تو شیطان کے مکر سے نکل جاتا ہے۔ اور پھر وہ لوگ بن جاتے ہیں جن کے بارے میں شیطان نے بھی کہا تھا کہ جو تیرے بعض چنے ہوئے لوگ ہیں ان پر میرا بس نہیں چلے گا۔ اور دوسری طرف اللہ پاک نے بھی فرمایا، جو میرے ہیں ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ دونوں باتوں کی وہ بن جائے گی۔ کیونکہ وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ پھر ان کے اوپر شیطان کا بس ہی نہیں چلتا۔ اللہ پاک نے ان کو بہت بڑی سند دی ہوتی ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا۔ تو اس کے بعد تو پھر کوئی کچھ نہیں کر سکتا اس کے ساتھ۔ جب اللہ پاک نے فرما دیا قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا تو اس کے بعد تو پھر کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کے لیے سارے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، پوری محنت کرنی پڑتی ہے اپنے آپ کی اصلاح کرنے کے لیے۔ جو ذرائع ہیں، ان ذرائع کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ تو اس وجہ سے ہماری اصل کوشش یہی ہونی چاہیے کہ ہمارے نفس کی اصلاح ہو جائے۔ یعنی ایک طرف تو یہ فرمایا: قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا اور ایک طرف فرمایا: يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي

تو اگر ہم لوگ اس میں کامیاب ہو گئے تو پھر ان شاء اللہ شیطان ہمارا کچھ نہیں سکتا۔

ترجمہ: اور میں انہیں راہ راست سے بھٹکا کر رہوں گا، اور انہیں خوب آرزوئیں دلاؤں گا، اور انہیں حکم دوں گا تو وہ چوپایوں کے کان چیر ڈالیں گے ، اور انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کریں گے"۔ اور جو شخص اللہ کے بجائے شیطان کو دوست بنائے اس نے کھلے کھلے خسارے کا سودا کیا۔ ﴿119﴾ یہ جو حاشیہ: کفار عرب بعض چوپایوں کے کان چیر کر بتوں کے نام پر وقف کر دیتے تھے، اور ایسے جانور سے کوئی فائدہ اٹھانے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اس باطل رسم کی طرف اشارہ ہے کہ اس پر شیطان عمل کرا رہا ہے۔ اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی سے مراد خود یہی عمل بھی ہو سکتا ہے کہ جانور کے کان خواہ مخواہ چیر دیئے جائیں، اس کے علاوہ ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض ان کاموں کو بھی "تخلیق میں تبدیلی" قرار دے کر منع فرمایا ہے جو عورتیں اپنے حسن میں اضافہ کرنے کی غرض سے کیا کرتی تھیں، مثلاً جسم کے کسی حصے کو سوئیوں وغیرہ سے گود کر نشانات بنوانا، چہرے کے قدرتی روؤں کو (جو عیب کی حد تک بڑھا ہوا نہ ہو) صاف کرنا اور دانتوں کے درمیان مصنوعی فاصلہ کروانا۔ (تفصیل کے لئے اس آیت کے تحت "معارف القرآن" کی طرف رجوع فرمائیے)۔

ترجمہ: وہ تو ان سے وعدے کرتا ہے اور انہیں آرزوؤں میں مبتلا کرتا ہے، جبکہ (حقیقت یہ ہے کہ) شیطان ان سے جو بھی وعدے کرتا ہے، وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ ﴿120﴾

اللہ جل شانہ ہماری حفاظت فرمائے۔ شیطان کے دھوکوں کے بارے میں خود شیطان نے جو قرآن پاک میں ہے، اس کی طرف اشارہ ہے وہ یہ ہے کہ لوگ شیطان کو دیکھیں گے تو برس پڑیں گے اس کے اوپر کہ تمہاری وجہ سے یہ ہو گیا، یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ پھر شیطان کہے گا، "تم مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ کو ملامت کرو۔ میں نے تمہارے ساتھ جھوٹا وعدہ کیا تھا، اللہ نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا۔ تم لوگوں نے اللہ کے سچے وعدے کو چھوڑ دیا، میرے جھوٹے وعدے کو لے لیا۔ اب بھگتو میں بھی بھگت رہا ہوں۔ نہ تم مجھ سے کچھ کم کر سکتے ہو نہ میں تم سے کچھ کم کر سکتا ہوں۔"

اور یہ بات بالکل سو فیصد ہے کیونکہ وہاں پر کوئی کسی کی بھی مدد نہیں کر سکے گا۔ اور دوسری جگہوں پر یہ بڑوں کے بارے میں بھی آئی ہے یہ، بڑے ہوتے ہیں مطلب جن کی وجہ سے لوگ دین سے برگشتہ ہو جاتے ہیں، وہ بھی جب ان کو دیکھیں گے تو کہیں گے، "یا اللہ ان کو دگنا عذاب دے دو۔" لیکن پھر کیا ہو سکتا ہے؟ وہ صرف اپنے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اگر کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو کریں۔ لیکن اس سے کچھ ہو گا تو نہیں۔ اس وجہ سے حفاظت اسی وقت ہے۔