اسلامی تعلیمات میں اعتدال، حقوق العباد اور توبہ کی اہمیت

اشاعت اول: 22 ستمبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اسراف اور تبذیر (فضول خرچی) کی ممانعت
    1. سچی توبہ کی اہمیت اور فضیلت
      1. خواتین (خصوصاً بہنوں) کے وراثتی حقوق کی لازمی ادائیگی
        1. پردے کے شرعی احکام، بد نظری اور بے حیائی سے اجتناب
          1. بسیار خوری (زیادہ کھانے پینے) کے نقصانات اور صحت کے اصول
            1. دینِ اسلام میں اعتدال اور مختلف حقوق (نفس، بیوی اور مہمان) کی ادائیگی

              اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

              وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

              أَمَّا بَعْدُ!

              فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ

              بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

              كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (31)

              وَقَالَ اللهُ تَعَالٰى: اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارً اؕ

              وَقَالَ اللهُ تَعَالٰى: وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا۔

              وَقَالَ اللهُ تَعَالٰى: وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا(32)

              وَقَالَ اللهُ تَعَالٰى: اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ ۙ (165)

              وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَآءِ۔

              وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِعَلِيٍّ: يَا عَلِيُّ! لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْاٰخِرَةُ۔

              وَسَمِعَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ رَجُلًا يَتَجَشَّأُ، فَقَالَ: أَقْصِرْ مِنْ جُشَائِكَ، فَإِنَّ أَطْوَلَ النَّاسِ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَطْوَلُهُمْ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا۔

              وَقَالَ اللهُ تَعَالٰى:وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا(27)


              صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔


              معزز خواتین و حضرات! اللہ جل شانہ نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا، تو ہماری کچھ ضرورتیں ہمارے اندر رکھ لیں۔ جتنے بھی انسان ہیں، سب کو کھانے پینے کی، آرام کی، شادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ قدرتی ضروریات ہیں۔ ان کو حلال طریقے سے پورا کرنا، یہ انسان کے لیے ضروری ہے۔ حرام سے بچنا ہر حال میں لازم ہے، کیونکہ حرام کیا چیز ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں تباہی ہے آخرت کے لحاظ سے، دنیا کے لحاظ سے بھی نقصان ہوتے ہیں لیکن وہ فوری نقصان ہوتے ہیں، تھوڑے نقصان ہوتے ہیں، جبکہ آخرت میں دائمی نقصان ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کبھی کسی حرام میں مبتلا نہ ہو جائیں۔

              اب یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم لوگوں کو اپنی ضرورت کی حدود معلوم ہوں، یعنی کہاں تک یہ جائز ہے، تو اس کو ضرورت میں شمار کیا گیا ہے۔ اور جہاں سے ناجائز شروع ہوتا ہے، یہ غیر ضروری ہے۔ اس سے انسان کو بچنا لازمی ہے۔

              اب جیسے کہ ابھی میں نے آیاتِ کریمہ تلاوت کی ہیں، ذرا تھوڑا سا غور سے آپ اس کو سنیں۔ اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:

              تم کھاؤ اور پیو، اسراف مت کرو۔

              یعنی کھانے پینے کی اجازت مل گئی ہے، حلال اگر ائے تو بالکل کھاؤ پیو لیکن جائز چیز میں بھی اسراف نہ کرو۔ اسراف کا مطلب یہ ہے کہ جتنا ضروری ہے اس سے زیادہ خرچ کرنا۔ میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ مثلاً ایک شخص ہے اس کو دو تین جوڑے کافی ہیں کپڑوں کے، اور وہ بیس پچیس رکھتا ہے، تو ظاہر ہے یہ اسراف ہے۔ اچھا اس کے لیے مثال کے طور پر ایک گاڑی کافی ہے اور وہ چار پانچ گاڑیاں رکھتا ہے، تو ظاہر ہے یہ اسراف ہے۔ انسان کے لیے اپنے جسم کے آرام کے لیے مکان میں چند چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، اب وہ اسی کے پیچھے ہی لگ جائے، وہ چیزیں جمع کرنا شروع کر لے، تو ظاہر ہے یہ اسراف ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے یہاں چیزیں محدود رکھی ہیں۔

              یہاں چیزیں محدود رکھی ہیں۔ اب جب یہ محدود ہیں، تو ظاہر ہے لوگ جتنے بھی ہیں سب اس کے طالب ہیں، تو پھر کیا ہوگا؟ اگر ایک شخص بہت ساری چیزوں پر قابض ہو جائے گا، تو کچھ لوگوں کے حصے میں کچھ بھی نہیں آئے گا۔ تو ظاہر ہے ظلم ہو جائے گا۔ تو اس ظلم سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تقسیم کار ہو، مطلب انسان کو جتنے جتنے کی ضرورت ہے اتنا لے لے، اس سے زیادہ نہ لے۔ بہت سارے لوگ ہیں وہ جتنا کھانا پینا چاہیے اس سے زیادہ خرچ کرتے ہیں اور پھر بعد میں جو ضائع ہوتا ہے اس کو dustbin میں پھینک دیتے ہیں۔ یہ اسراف ہے۔

              سعودی عرب میں کچھ صومالی حضرات تھے، انہوں نے یہ بات کی کہ ایک وقت میں جیسے سعودی عرب میں آج کل مال کی فراوانی ہے، اس طرح ہمارے ہاں مال کی فراوانی تھی، لیکن ہمارے لوگ مال کی قدر نہیں کرتے تھے۔ اس طرح کھانا زیادہ لے لیتے، چار آدمیوں کا کھانا لے لیتے، ایک آدمی کھا لیتا، تین کا ضائع ہو جاتا تھا، اس طرح وہ کرتے تھے۔ کہتے ہیں آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے ہاں قحط ہے، اور ہم کھانے کو ترس رہے ہیں۔ اور یہاں پر آج کل وہی صورتحال ہے۔ تو عین ممکن ہے کہ کسی وقت ان کے ساتھ بھی ایسا ہو جائے اور یہ بات صحیح ہے۔ کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے،

              اب اگر کوئی اس کو نہیں سمجھتا تو ٹھیک ہے ان کی اپنی مرضی، لیکن اللہ پاک نے تو قرآن پاک میں اس کو واضح طور پر فرمایا:

              ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ

              ۔ "فساد برپا ہو گیا تری میں اور خشکی میں لوگوں کے اعمال کی وجہ سے" لوگوں کے اعمال کی وجہ سے۔ یعنی لوگوں کے اعمال جو ہوتے ہیں وہ ایسے ہوتے ہیں کہ جو کہ فساد برپا کر دیتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ جب فساد برپا ہے ہمارے اعمال کی وجہ سے، تو دو کام ہمیں ضرور کرنے چاہئیں۔ ایک کام تو ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو ٹھیک کر لیں، گزشتہ اعمال میں جو گناہ ہم کر چکے ہیں اس پہ توبہ کر لیں۔اللہ جل شانہ نے اپنے فضل و کرم سے ایک بہت بڑا دروازہ کھولا ہے اپنی رحم کا، بہت بڑا دروازہ کھولا ہے کہ جو بھی اس دروازے سے جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو داخل ہو سکتا ہے، کوئی بھی! اور وہ دروازہ کیا ہے؟ وہ "توبہ" کا دروازہ ہے۔ اب مثال کے طور پر ایک شخص ہے، ساٹھ سال گناہ کرتا رہا ہے ساٹھ سال، آج توبہ کر لے بالکل صاف ہو جائے گا۔ گناہ معاف ہو جائیں گے۔ کیونکہ اللہ پاک تو کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ تو اب اگر کوئی توبہ کرنا چاہے تو اللہ پاک اس کو معاف کر دے گا۔ بہت ساری مثالیں ہیں قرآن میں بھی ہے، حدیث شریف میں بھی ہے، روایات میں بھی ہے کہ کیسے کیسے لوگ اللہ پاک نے ان کو معاف کر دیا،جب توبہ کر لی، یہ یونس علیہ السلام کی جو قوم ہے اس کی تو بڑی مثال ہے قرآن پاک میں کہ یونس علیہ السلام کی قوم نے اجتماعی توبہ کر لی تھی۔ یعنی پیغمبر نے ان سے کہا تھا کہ اگر تم یہ ٹھیک نہیں کرو گے، یہ کام ٹھیک نہیں کرو گے تو اللہ پاک کا عذاب تم پر آ سکتا ہے۔ تو یونس علیہ السلام جب وہاں سے چلے گئے تو قوم نے کہا کہ شاید یہ تو عذاب آنے والا ہے، کیونکہ پیغمبر جب اپنی قوم سے چلا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عذاب آ رہا ہے۔ اب وہ جو عذاب کے جیسے سلسلے شروع ہو گئے نا تو ان کو سمجھ آ گئی اور وہ سارے کے سارے باہر نکل آئے اور رونا شروع کر لیا، چیخنا شروع کر لیا، توبہ کرنا شروع کر لیا، ماؤں نے اپنے بچوں کو چھوڑ دیا، لوگوں نے اپنے جانور چھوڑ دیے، اور وہ یہ ہے کہ وہ سب میدان میں جمع ہو گئے اور آہ و زاری کرنی شروع کی، اللہ پاک نے بھیجے ہوئے عذاب کو واپس کر دیا۔

              تو اس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔ لیکن اصل کیا ہے؟ ہمارا ایک پکا دشمن ہے اور وہ دشمن شیطان ہے۔ وہ شیطان ہمیں اس چیز کی طرف آنے نہیں دیتا۔ وہ ہمیں امید لگائے رکھتا ہے، کوئی بات نہیں پھر بعد میں کر لینا، پھر بعد میں کر لینا، پھر بعد میں کر لینا، اتنے میں موت آ جاتی ہے، معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ بھی اس شخص کے لیے جو توبہ کرنا چاہتا ہو، کچھ لوگوں کو تو ایسا سلایا ہوتا ہے وہ توبہ کرنے کا سوچتے بھی نہیں ہیں۔ بلکہ اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔ تو یہ چیز بہت خطرناک ہوتی ہے۔ تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں کہ اللہ پاک نے بہت بڑا در کھولا ہے اور وہ در کیا ہے؟ وہ ہے توبہ کا۔ جس ذریعے سے جو بھی اللہ پاک کی درِ رحمت میں اور جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو داخل ہو سکتا ہے۔

              تو اللہ پاک فرماتے ہیں: کھاؤ پیو، کھانے پینے پہ پابندی نہیں، اسراف مت کرو۔ اسراف پر پابندی ہے۔ ایک ہوتا ہے اسراف، ایک ہوتا ہے تبذیر۔ اسراف؛ وہ ہوتا ہے جب جائز چیز ہو اس میں آپ اس سے غیر ضروری طور پر کچھ زیادہ کر لیں وہ اسراف ہے۔ اور تبذیر ؛وہ ہے جس کی ضرورت بھی نہ ہو، آپ اس پہ خرچ کریں۔ مثلاً یہ ناچ گانے کے اوپر خرچ کرنا اور چرس، شراب اور ان چیزوں پہ خرچ کرنا، یا اس قسم کے جو لغویات ہیں ان کے اوپر خرچ کرنا، television پہ، سینماؤں پہ، ان چیزوں پہ خرچ کرنا، یہ کیا ہے تبذیر ہے، یہ تبذیر ہے۔

              تبذیر جو ہے، اس کے بارے میں اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں:

              اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ؕ

              " بے شک جو بے جا اڑانے والے ہیں وہ شیطان کے بھائی ہیں"۔

              تو جو بے جا اڑاتے ہیں ان کا تو معاملہ ہی الٹا ہے، وہ تو کام ایسا ہے کہ اس میں تو کوئی جواز کی صورت ہی نہیں پیدا ہو سکتی۔ تو ایسی صورت میں تو مکمل توبہ کرنا پڑے گا، ان تمام چیزوں سے بچنا پڑے گا۔ لیکن شیطان چونکہ ہمارے پیچھے پڑا ہوتا ہے، اس وقت جب یہ کام ہو رہے ہوتے ہیں، کوئی نصیحت کرتا ہے نا، وہ نصیحت کرنے والا دشمن ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ لڑ پڑتے ہیں۔ مجھے خوب یاد ہے، یہاں پر مسجد میں ہم نماز پڑھ رہے تھے عشاء کی نماز تھی، تو شادی کا کوئی تھا وہ ڈھول تماشے، ظاہر ہے ان کے ساتھ وہ کر رہے تھے، اور ادھر نماز، لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ بھئی وہ نماز ہو رہی ہے آپ کیا کر رہے ہیں کم از کم خاموشی کے ساتھ گزاریں، ان کے ساتھ لڑ پڑے جی! بڑی زبردست لڑائی ہوئی۔ اس بات پر کہ آپ لوگوں نے ہمیں کیوں روک دیا؟ تم کون ہو ہمیں روکنے والے؟

              یہ اس قسم کی باتیں ہیں۔ یہ پیغمبروں کے ساتھ ایسا ہوا ہے، ظاہر ہے یہ کوئی ایسی بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ ایسا ہوا ہے، اور بعض پیغمبروں کو تو یعنی ابتدائی دعوت ہی میں شہید کر دیا گیا۔ تو یہ چیزیں انسان میں ہیں، جب انسان شیطان کا پجاری بن جائے، اس کے بعد اس سے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو بہرحال میں عرض کر رہا ہوں کہ ایک تو یہ بات ہے کہ فرمایا اللہ پاک نے:

              تم کھاؤ پیو اور اسراف مت کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

              اور یہ ارشاد فرمایا:

              بے شک جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں۔

              یہ میراث کا جو معاملہ ہے، اور یتیموں کا جو مال ہوتا ہے، یہ بہت خطرناک بات ہے۔ اب دیکھیں نا قرآن پاک ہے، اللہ پاک فرماتے ہیں

              جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں

              یعنی ان کا یہ کھانا مال، یہ اصل میں اپنے لیے آگ کا ایندھن تیار کر نا ہےجہنم کا۔ اور یہی چیز جیسے ہوتا ہے نا حرام مال جو ہوتا ہے، یہ انسان کے لیے سانپ بن جائے گا۔ یعنی وہاں دوزخ میں اور اس کو ڈسے گا اور کہے گا "میں تیرا تمہارا مال ہوں، میں تمہارا مال ہوں، میں تمہارا مال ہوں۔" اس طرح جو مال میں زکوٰۃ نہیں ادا کرتا ان کے ساتھ ایسا ہوگا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھو نا زکوۃ،لوگ سمجھتے ہیں بہت بھاری بات ہے۔ صرف اپنے آپ کو سمجھانے کے لیے میں عرض کرتا ہوں کہ اگر کوئی ہم کو 100 روپے دے دے۔ یہ تمہارے ہو گئے، اور پھر کہتا ہے بھئی اڑھائی روپے اس میں مجھے دے دو، ایک سال کے بعد۔ آپ اس کا شکریہ ادا کریں گے یا اس کے ساتھ لڑ پڑیں گے؟ بھئی 100 روپے آپ کو دے دیے اور آپ سے کیا مانگ رہے ہیں؟ اڑھائی روپے مانگ رہے ہیں، اور وہ بھی سال کے بعد۔ تو یہی زکوٰۃ ہے۔ کس نے مال دیا ہے؟ کون مسلمان ہے جو یہ کہتا ہے کہ یہ مال اللہ نے نہیں دیا ہوا؟ ہر مسلمان کہتا ہے کہ مال اللہ نے دیا ہوا ہے، نہ، اللہ نہ دے تو۔صحیح بات عرض کر، میں کہتا ہوں راستے بند ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمارے پاس، یہ بالکل مری روڈ پر دو مٹھائیوں کی دکانیں ہیں۔ ایک قصرِ شیریں ہے اور ایک fresco جب تک fresco نہیں تھا تو قصرِ شیریں کے اوپر کتنا rush ہوتا تھا؟ fresco بن گیا اور قصرِ شیریں، لو جی ایسے دیکھتے رہتے ہیں۔ اللہ پاک نے دکھا دیا دیکھیں نا وہ، ان کے سامنے سے ہی چیز اٹھا دی۔ وہ کیا کر سکتے ہیں؟ کیا fresco والوں کے ساتھ لڑ سکتے ہیں؟ بھئی ان کا حق ہے، کسی کا بھی حق ہے کوئی بھی بازار میں بیٹھ کے وہ کر سکتا ہے۔ تو یہ ظاہر ہے، اس کا مطلب جب اللہ پاک کسی کا رزق بند کر دے تو کوئی حاصل نہیں کر سکتا، اور جب کھول دے تو کوئی بند نہیں کر سکتا۔

              حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اے معاذ! یاد رکھو اگر اس ساری دنیا کے لوگ جمع ہو جائیں اور اللہ تجھے کوئی چیز دینا چاہتا ہے اور وہ اس سے روکنا چاہیں تو نہیں روک سکتے۔ اور اگر یہ سارے لوگ جمع ہو جائیں اور یہ وہ کوئی چیز تمہیں دینا چاہتے ہیں اور اللہ نہ دینا چاہے تو تمہیں نہیں دے سکتے۔" یہ بات بالکل طے ہے، یعنی اللہ پاک اگر کسی کو کچھ دینا چاہے تو اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اور نہ دینا چاہے پھر کوئی دے نہیں سکتا۔

              میں دیکھو نا یہ چیز ہے، میں اس کو اٹھاتا ہوں۔ میرا ارادہ ہے ابھی، ایک second پہلے کہ میں اس کو اٹھاتا ہوں، اور اللہ کا ارادہ نہ ہو خدا کی قسم اس تک میرا ہاتھ بھی نہیں پہنچے گا۔ ہاتھ بھی نہیں پہنچے گا، وہ اٹھانا تو دور کی بات ہے، ہاتھ بھی نہیں پہنچے گا۔ کچھ بھی انسان نہیں کر سکتا، یہ فالج کیا ہوتا ہے؟ stroke کیا ہوتا ہے؟ یہ تو ہماری زبان کی بات ہے نا، اللہ تعالیٰ کے لیے تو ایک حکم ہے بس۔ اگر اللہ پاک کسی کے لیے حکم دے دے کہ اس کا ہاتھ نہ ہلے، تو ہاتھ نہیں ہل سکتا۔ پاؤں نہ ہلے تو پاؤں نہیں ہل سکتا۔ نظر نہ آئے تو نظر نہیں آئے گا۔

              تو یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، بس اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا تو اس کے بعد پھر کچھ نہیں ہے۔ ہاں! ٹھیک ہے اللہ پاک نے اس کے لیے اسباب بنائے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر لوگ تو اسباب کے پیچھے جائیں گے نا، وہ بے شک اسباب تلاش کرتے رہیں ان کو اس پر ثواب بھی ملے گا۔ لیکن، لیکن یہ ہے کہ ہے بات کیا؟ بات تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی ہے۔ یہ سیلاب جو ہے، ٹھیک ہے ہمارے جو موسمی ماہرین ہیں، وہ کہتے جائیں گے اور بے شک کہتے جائیں ان کے اوپر پابندی نہیں ہے۔ لیکن بات تو یہی ہے کہ پیچھے سے تو معاملہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا یہی بارش جو رحمت ہے، زحمت بن گئی۔ ہاں اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ چھپی ہوئی، اللہ تعالیٰ یعنی کچھ بھی کر سکتا ہے، کچھ بھی کر سکتا ہے اور کچھ بھی جو بھی چاہے تو کر سکتا ہے۔ بعض دفعہ اللہ پاک ظاہر بھی فرما دیتے ہیں۔ قدرتی طور پر ظاہر فرما دیتے ہیں تاکہ لوگوں کو ان چیزوں پر یقین آ جائے۔ ورنہ صحیح بات ہے کہ ہوتا تو سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی ہے۔تو اللہ پاک فرماتے ہیں:

              "اور تم لوگ میراث سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔"

              یعنی دوسروں کا حصہ بھی۔ اپنا حصہ نہیں، اپنا حصہ تو آپ کے لیے جائز ہے اور ما شاء اللہ اللہ کی نعمت ہے، لیکن دوسروں کا حصہ، اب دوسروں کا حصہ لوگ کیسے کھاتے ہیں؟ دوسروں کا حصہ ایسے کھاتے ہیں جیسے مثال کے طور پر عمومی طور پر جو نظام ہے، جو چل رہا ہے، جب مال تقسیم ہوتا ہے تو جو بہنیں ہوتی ہیں وہ عموماً محروم کر دی جاتی ہیں، عموماً۔ الا یہ کہ جن پہ اللہ پاک رحم فرما دے۔ اور دلیل کیا دیتے ہیں؟ دلیل یہ دیتے ہیں کہ ان کے اوپر ہم نے خرچ کیا ہے، ان کی شادیاں کی ہیں یا ان کو جہیز دیا ہے۔ بھئی جہیز نہ دو، آپ پہ کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ وہ ایک آپ کا اس کے ساتھ حسنِ سلوک والا معاملہ ہے، تو وہ آپ کے لیے ظاہر ہے بطور یعنی بھائی ،آپ کو چاہیے اس طرح کرنا کہ ان کی مدد کرو۔ لیکن اگر نہیں کرو گے تو وہ آپ کے لیے ایک مستحسن بات تھی جو کہ رہ گئی۔ جبکہ میراث تو اس کا جبری حق ہے۔ جبری حق ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کا وہ حق دیا ہے۔ تم اس کو کون روکنے والے ہو؟


              تو اس وجہ سے اگر آپ جہیز نہ دے اور میراث دے دے یہ اس کے ساتھ انصاف ہے۔ اور میراث بھی دے اور ان کے گھر کے کاموں کا بھی کر لے اور ان کے ساتھ حقوق کی پاسداری کر لے مزید، ان کے ساتھ احسان والا معاملہ کر لے، یہ اس کے ساتھ مزید احسان ہے، آخر بہن، بہن ہے ۔ تو اب لوگوں نے شوشہ کیا چھوڑا ہے؟ شوشہ یہ چھوڑا ہے کہ نہیں بہنیں نہیں لیتیں، وہ وہ لیتی نہیں ہے۔ اب اتنا pressure create کیا ہوتا ہے معاشرے کے اندر، کہ جو بہن لینے کی نیت کر لے نا، بس کوئی صرف بات بھی کر لے، تو بس پھر وہ بعض لوگ تو روٹھ جاتے ہیں صرف ویسے۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں "بھائی لیتی ہو یا میراث لیتی ہو؟" اب اس صورت میں بہن کیا کرے گی؟ ظاہر ہے اس کو پتہ ہے دینا تو ہے نہیں اس نے، تو میں خوامخواہ اپنا منہ خراب کروں گی، تو اس وجہ سے وہ کہتی ہے میں نہیں لیتی۔ لیکن علمائے کرام نے فتویٰ کیا دیا ہے؟ فتویٰ بہت زبردست دیا ہے۔ فتویٰ یہ دیا ہے کہ ان کو ضرور دینا ہے، چاہے وہ انکار بھی کرے۔ ایک سال تک وہ اس کو استعمال کرے۔ جو میراث کا مال ان کو مل جاتا ہے ایک سال تک اس کو استعمال کرے، پھر اپنی مرضی سے واپس کرنا چاہے تو اس کے اختیار ہے دے دے۔ کیونکہ اکثر عورتوں کو ، ان کو اب زمین کا کیا پتہ ہوتا ہے کہ زمین کیا چیز ہوتی ہے، دوسرے ان کو اتنا اس کا fruit کا پتہ نہیں ہوتا کیوں وہ تو مردوں کو پتہ ہوتا ہے مرد ہی اس کو handle کرتے ہیں۔ تو ایک دفعہ آپ ان کو دیں جو اس کا مزہ چکھ لے، پھر اس کے بعد ان سے پوچھیں، اور اب تو ایسی بات بھی نہیں ہے۔ میں medical college میں lecture دے رہا تھا، تو یہاں آج کل medical college میں تقریباً 70 فیصد لڑکیاں ہوتی ہیں۔ تو میں اس اسلامی موضوع پر lecture دے رہا تھا۔ تو میں نے سب سے پوچھا کہ "یہ میراث کی بات کر رہا تھا، میں نے کہا کیا آپ لوگ میراث لیں گی؟" تو سب نے چیخ کر کہا "ہاں ہم لیں گی!" مطلب یہ ہے کہ کسی نے بھی نہیں کہا کہ ہم نہیں لیں گی۔ تو اگر اختیار ہو تو پھر تو ایسا ہوتا ہے۔ لیکن آپ اختیار ہی نہ دے تو پھر کیا ہوگا؟ پھر تو مجبوراً ان کو کہنا پڑے گا کہ ہم نہیں لیتے۔ تو یہ نہیں لیتے والی بات مقبول نہیں ہے۔ یہ صرف pressure کی وجہ سے ہے۔ اس pressure کو ہٹا دو، پھر دیکھو کہ وہ لیتی ہے یا نہیں لیتی۔ یہ اس میں تو یہاں تک ہے بات کہ اگر باپ کوئی کسی کو عاق بھی کر لے، پھر بھی اس کا حق میراث کا بنتا ہے۔ میراث کو ختم نہیں کر سکتا، میراث جبری حق ہے۔ یہ کوئی نہیں ہوسکتا، یہ عورتوں میں بعض دفعہ ہوتے ہیں نا وہ کہتے ہیں میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔ خدا کے بندے دودھ تمہارا ہے؟ وہ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دیا ہوا ہے، ابھی خشک کر دے تو تم کیا کر سکتی ہو؟ وہ تو تمہارا، تمہیں اس کے لیے تو دیا ہے۔ تمہیں دودھ نہیں بخشوں گی، بھئی ہر ایک چیز کو اپنا سمجھتے ہیں۔ یہ چیز نہیں ہے، سب اللہ تعالیٰ کا مال ہے، اور اللہ نے جو حصہ اس میں رکھا ہوتا ہے، وہ تم روک نہیں سکتے، نہ روک سکتی ہو۔


              اللہ اکبر! تو فرمایا:

              "تم لوگ میراث (یعنی دوسروں کا حصہ) بھی سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔"

              اور ارشاد فرمایا کہ:

              "زنا کے قریب مت جاؤ، کیونکہ وہ بے حیائی ہے اور برا طریقہ ہے۔"

              دیکھیں! اللہ پاک نے افزائشِ نسل کے لیے ایک نظام بنایا ہوا ہے۔ یہ اس کا کام ہے۔ جیسے کھانے پینے سے ہماری پرورش ہوتی ہے، اس کو اللہ پاک نے ایک نظام بنایا ہوا ہے اس کے ذریعے سے، ورنہ اللہ تعالیٰ ویسے بھی پرورش کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی ضروری نہیں، جنت میں کیا ہوگا؟ ظاہر ہے وہ ساری چیزیں خود بخود چلتی ہیں۔ لیکن یہ کہ یہاں پر بھی ایسا ہو سکتا ہے، اگر اللہ چاہے تو کسی چیز کی ضرورت نہ پڑے، لیکن نہیں اللہ پاک نے نظام بنایا ہوا ہے۔ نظام یہ بنایا ہے کہ ہم کھاتے ہیں، ہم پیتے ہیں، ہم آرام کرتے ہیں، سب چیزوں کا ہمارے اوپر اثر ہوتا ہے۔ اسی طریقے سے شادی بیاہ کو رکھا ہوا ہے کہ اس کے ذریعے سے اولاد پیدا ہوتی ہے۔ اور اس کو اللہ پاک نے سنت بنایا ہوا ہے آپ ﷺ کی۔ آپ ﷺ کی سنت ہے، اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ "جو میری سنت سے اعراض کرے گا تو وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔" تو اب یہ یہ جو چیز ہے سنت، یہ اس کو پورا کرنا یہ عین اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق ہے آپ ﷺکی جو سنت ہے۔ تو اب بات یہ ہے کہ اس کو تو آپ لوگوں نے مشکل بنا دیا، اتنا مشکل بنا دیا کہ بعض لوگ شادی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ وہ اتنا زیادہ مشکل بنا دیا، اور دوسری طرف یہ جو گندی چیزیں ہیں وہ بہت آسان کر دیں۔ اب لوگ گندی چیزوں کے پیچھے چل پڑے۔

              یہ بہت خطرناک معاملہ ہے، اور شیطان ایسا ہی کرتا ہے۔


              تو فرمایا کہ:

              "زنا کے قریب مت جاؤ کیونکہ بے حیائی ہے اور برا طریقہ ہے۔" اور ارشاد فرمایا کہ:

              "کیا تم جہان والوں میں سے یہ حرکت کرتے ہو کہ مردوں پر گرتے ہو، اور بیویوں کو چھوڑتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے واسطے پیدا کی ہیں؟ بلکہ تم حدِ انسانیت سے گزرنے والی قوم ہو۔"

              یہ لوط علیہ السلام کی جو قوم ہے، ان کے ہاں یہ چیز تھی۔ ایک یاد رکھنا یہ لواطت کا لفظ لوگ کہتے ہیں، گناہ ہے، غلط بات ہے، یہ لوط علیہ السلام کی طرف نسبت نہیں کرنی چاہیے۔ لوط علیہ السلام کی قوم کی طرف نسبت کرنی چاہیے۔ قوم کی طرف، کیونکہ لوط علیہ السلام کی قوم وہ تھا نا، لوط علیہ السلام تو ان کو منع کر رہے تھے۔ تو اس کو لواطت نہیں کہنا چاہیے، یہ تو اس کے اور نام ہیں، ان ناموں سے اس کو پکارنا چاہیے۔ اور وہ، تو یہ بہت گندی حرکت ہے۔ آج کل مسائل lesbians اور یہ جو وہ gays اور پتہ نہیں اس قسم کی بات۔ تو عیسائی مذہب جو ہوتا ہے نا وہ تو ہر ایک چیز کو اپنے اندر ہضم کر لیتا ہے عیسائی مذہب جو ہوتا ہے، وہ تو gays club بھی بنا دیے انہوں نے وہاں پر امریکہ میں بنا دیے، یورپ میں بنا دیے۔ وہ ہمارا دین ایسا نہیں ہے، ہمارا دین کسی گندی چیز کو ہضم نہیں کرتا۔ اس وجہ سے فرماتے ہیں نا کہ کبھی بھی میری امت ساری کی ساری کسی غلط چیز پہ جمع نہیں ہوگی۔ اور جو اہلِ حق ہیں وہ ظاہر ہے بچتے رہیں گے، اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔ تو جب برائی کی طرف وہ لوگ جانے لگے، اور اہلِ حق بے شک چھوٹا گروہ ہو، اس وقت اس چھوٹے گروہ کو چھوڑو نہیں۔ اگر بچنا چاہتے ہو۔ کیونکہ وجہ یہ ہے کہ آخر ایسا ہی ہوگا، دیکھیں بنی اسرائیل کے ساتھ جو ہوا تھا، داؤد علیہ السلام اور، اس میں فرمایا گیا تھا، اللہ پاک نے فرمایا تھا کہ تم جاؤ بس شہر کے اندر داخل ہو جاؤ، تو تم فتح حاصل کر لو گے، وعدہ تھا۔ تو کچھ لوگ کہتے ہیں وہ "قومِ جبارین ہے، اور تم اور تمہارا اللہ جائے، ہم یہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔" تو اس پر کچھ نیک لوگوں نے اس وقت قرآن میں کہا ہے، کچھ نیک لوگوں نے کہا، بسا اوقات چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو شکست دے دیتے ہیں اللہ کے حکم سے۔ تو یہ پھر ہو گیا، ایسا ہو گیا تھا۔ تو اہلِ حق تھوڑے بھی ہوں نا ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اور اہلِ باطل پوری دنیا بھی ہو جائے نا، اس وقت صورتحال بہت آسان ہے،% 84 کافر ہیں، 84 فیصد کافر ہیں اس وقت دنیا میں۔ 16 فیصد نام کے مسلمان ہیں۔ کام کے مسلمان کتنے ہیں وہ اللہ کو پتہ ہے۔ نام کے مسلمان 16 فیصد ہیں۔ تو یہ کوئی جمہوریت پہ فیصلہ نہیں ہے کہ بڑی جماعت صحیح ہے۔ اگر بڑی جماعت صحیح ہے تو پھر تو ساری دنیا میں کفر ہو جائے گا۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں نے یہ نہیں دیکھنا کہ زیادہ کون ہے، ہم نے دیکھنا ہے کہ حق پر کون ہے۔ یہ جب امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے تو حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر برف کے سلوں کے اوپر پھسل کر بھی وہاں تک پہنچ کر ان کی بیعت کر سکتے ہو تو کرنا چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت یعنی ظاہر ہے بہت مشکل حالات ہوں گے، تو کسی نہ کسی طریقے سے وہاں پر پہنچنا پڑے گا، کسی نہ کسی طریقے سے وہاں پہنچنا پڑے گا، اور ان کے ہاتھ پہ بیعت کرنی پڑے گی، اور ان کے ساتھ ہونا پڑے گا۔ کیونکہ وہی بچت کی راہ ہو گی اس وقت، وہی ہو گا۔ اور دجال پوری دنیا کے اندر دندناتا پھرے گا۔ پوری دنیا کے اندر دندناتا پھرے گا۔ اور ہے کہ بڑا چرب زبان اور بہت دجل و فریب والا ہوگا۔ اور لوگ اس کے ماتھے پہ "کافر" لکھا ہو گا پھر بھی اس کی طرف لوگ بھاگے جا رہے ہوں گے۔ یہ خطرناک بات ہے۔


              تو اس وقت صورتحال مجھے تو اس کے قریب قریب ہی لگ رہی ہے کہ آج کل ایسا ہو رہا ہے، بالکل ایک شخص کا کھلم کھلا فسق و فجور واضح ہے، ہر چیز کی گندگی واضح ہے، پھر بھی لوگ ان کو چاہ رہے ہیں۔ ایسا ہے یا نہیں ہے؟ بالکل ہو رہا ہے، سامنے کی بات ہے کوئی دور کی بات نہیں ہے۔ اب تو یقین آنا چاہیے کہ ایسے ہی ہو گا۔ تو یہ ظاہر ہے کہ ہم لوگوں کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ اہلِ حق جو بھی ہیں، ان کے ساتھ ہونا ہے، اور جو اہلِ باطل ہیں اس سے اپنے آپ کو بچنا ہے، بچانا ہے۔


              آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:

              "میں نے اپنے بعد کوئی فتنہ مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ مضر نہیں چھوڑا۔"

              بخاری و مسلم شریف کی روایت ہے۔

              اللہ اکبر!

              اصل بات یہ میں آپ سے عرض کروں، عورت جو ہے نا یہ جذبات کی ملکہ ہے مطلب یہ جذبات اور گھر کی زینت ہے۔ محفل کی زینت نہیں ہے، گھر کی زینت ہے۔ تو شیطان کیا کرتا ہے؟ اس کو گھر سے اٹھا کر محفل کی زینت بنانا چاہتا ہے۔ بس اتنا فرق ہے۔

              حالانکہ گھر کی زینت ہو تو سب لوگ اپنے گھروں میں ہوں اور اطمینان و سکون ہو اور حالات بالکل فطرت کے مطابق ہوں۔ میں آپ کو ایک بات بتاؤں، میں ذرا تھوڑی سی بعض باتیں منہ پھٹ کے لحاظ سے بھی کرتا ہوں، مجبوری ہے کیونکہ بات سمجھ نہیں آتی ویسے۔جس شخص کے دل میں چور ہے اور کسی اور کی عورت کی طرف دیکھ رہا ہے، تو کیا وہ یہ سمجھتا نہیں ہے کہ اس قسم کا چور دوسرے لوگوں کے دل میں بھی ہے؟ تم انسان ہو نا، تمہارے دل کے اندر یہ چیز ہے، دوسری عورت کی طرف تم للچا کے دیکھ رہے ہو، تو کیا دوسروں کے بارے میں تم کیا سوچ رہے ہو کہ ایسا نہیں ہوگا؟ ایسا ہوگا نا؟ تو اپنے گھر کی ماں، بہن، بیٹی، اس کو اگر محفل میں لے جاتے ہو بغیر پردے کے، تو آپ کا کیا خیال ہے وہ سارے لوگوں کو فرشتے سمجھ رہے ہو؟ کیا سمجھ رہے ہو؟ وہ بھی تو انسان ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان خود اپنے نفس کی جو خواہشات ہیں وہ جانتا ہو اور دوسروں کے نفس کی خواہشات کو ignoreکرے؟

              اب دو باتیں ہیں، اگر وہ اس کو جانتا نہیں تو یہ پکا جاہل ہے۔ ہے یا نہیں ہے؟ اس سے زیادہ جہالت اور کیا ہوگی اگر وہ اس چیز کو بھی نہیں جانتا کہ خود اپنے اوپر اس کی گزر رہی ہے لیکن وہ نہیں جانتا، تو اس کا مطلب کیا ہے؟ پکا جاہل ہے۔ جہالت ماننی پڑے گی اس کی۔ اور اگر وہ جانتا ہے اور پھر جان بوجھ کر لاتا ہے، تو پھر پکا دیوث ہے۔ پھر پکا دیوث ہے۔ جو جانتا ہے کہ ایسا ہے اور پھر بھی اپنی ماں، بہن اور بیٹی کو کسی محفل میں لے جاتا ہے، تو وہ پکا دیوث ہے۔ ظاہر ہے دو باتیں ہیں اس میں، تیسری بات درمیان میں ہے ہی نہیں۔ جو جانتا ہو اس چیز کو اور پھر بھی اپنی ماں، بہن اور بیٹی کو ادھر لے جاتا ہوگا تو اس کا مطلب ہے کیا ہے؟ یہ پکا دیوث ہے۔

              اس وجہ سے ہم لوگوں کو اس بات کو محسوس کرنا چاہیے کہ ہمارے گھر کی عورتوں کی اصل جگہ گھر ہے۔ محفل نہیں، میدان نہیں ہے۔ ان کو زینت گھر میں کرنا چاہیے، باہر نہیں۔ باہر کا یہ حال ہے کہ اگر کسی نے خوشبو لگائی مفتی صاحب کیا ہوگا اس کا؟ کسی عورت نے خوشبو لگائی؟ )جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گی( جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گی یا اگر کسی عورت نے خوشبو لگائی اور باہر چلی گئی۔ اب مجھے بتاؤ آج کل کس قسم کی خوشبوئیں ہوتی ہیں؟ وہ لگا کے باہر آتی ہیں۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ اصل میں، میں حیران ہوں، بس وہی والی بات ہے، مجھے وہ دو باتیں یاد رکھیں جو میں نے کی ہیں۔ کہ یہ facts ہیں، مطلب اس میں کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ کرے تو پھر کر کے، انکار کر کے دیکھے، بات کر لے۔

              تو یہ چیز ہے مطلب جو عورت گھر سے سنگار کر کے چلے، وہ بے شک کہے میں بڑی پاک عورت ہوں، لیکن اس کا ظاہر پاک نہیں ہے۔ اور شریعت ظاہر کو دیکھتی ہے۔ شریعت ظاہر کو دیکھتی ہے۔ اس لیے حکم ظاہر پہ لگتا ہے۔ بے شک کسی پاک عورت نے بھی خوشبو لگا دی اور باہر چلی گئی تو حکم بدل جائے گا؟ مفتی صاحب؟ حکم وہی ہوگا۔ کیوں؟ اس نے اپنی بات کو شریعت کی بات پر فوقیت دی۔ شریعت جس نے بھیجی، پہلے والوں کو بھی جانتا ہے، بعد والوں کو بھی جانتا ہے، موجودہ کو بھی جانتا ہے، ہر ایک کو جانتا ہے۔ جو اس نے حکم دیا وہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ میں اپنے خیالات اگر تبدیل کرنا چاہوں تو بے شک تبدیل کر لوں، لیکن اس کے ذریعے سے حکم نہیں بدلے گا۔ حکم نہیں بدلے گا، حکم وہی ہوگا۔

              لہٰذا کبھی بھی کسی عورت کو نہیں چاہیے کہ بغیر ضرورت کے گھر سے باہر نکلے۔ بغیر ضرورت کے۔ ضرورت سے نکلے تو پھر اپنے آپ کو بچا کے۔ یعنی کپڑے ایسے پہنے جس کی طرف لوگ والہانہ طور پر نہ دیکھیں، اور چال ڈھال ایسا ہو کہ وہ جو ہے نا۔۔۔


              اب دیکھو، حج پہ جو جاتی ہیں تو سر کے بال کو چھپاتی ہیں۔ تو حج پہ کون سے لوگ جاتے ہیں؟ فاسق فاجر جاتے ہیں یا اچھے لوگ جاتے ہیں؟ اچھے لوگ جاتے ہیں۔ تو وہاں سر کا چھپانا لازم، اور ویسے بازار میں جائیں گی تو سر کے بال کھلے رکھ کے جائیں گی۔ مجھے بتاؤ یہ کون سا logicہے؟ مطلب سمجھ میں نہیں آتی۔ تو یہ چیز بنیادی بات کہ عورت جب بھی باہر جائے تو اس کا پورا جسم کیا ہے؟


              دو چیزیں ہیں اصل میں لوگ پردے میں بھی وہ کرتے ہیں۔ ایک ہوتا ہے پردہ ہوتا ہے، ایک ستر ہوتا ہے۔ جس کو حجاب کہتے ہیں نا، پردہ تو حجاب کو کہتے ہیں۔ تو حجاب وہ چیز ہے جو غیر محرم سے کیا جاتا ہے۔ غیر محرم سے جو کیا جاتا ہے وہ کیا ہے؟ وہ حجاب ہے۔ تو وہ تو پورے جسم کو چھپانا ہے۔ سوائے یہ ہاتھوں کے اور وہ پاؤں کے جو ٹخنوں سے نیچے والی جگہ ہے۔ باقی یہ کہ پورے اس جسم کو چھپانا ہے۔ اور بعض حضرات تو کہتے ہیں کہ ان کو بھی دستانے وستانے پہننے چاہیے، جرابیں پہننی چاہیے۔ لیکن بہرحال ٹھیک ہے علماء کی باتیں ہیں، اس میں ہم تفصیلات میں نہیں جاتے۔ تو یہ بات۔

              جہاں تک جس کو ہم "ستر" کہتے ہیں، وہ ستر محرم کے لیے ہے۔ سوائے شوہر کے۔ شوہر کے علاوہ باقی جتنے محرم ہیں، جیسے باپ ہے، بیٹا ہے، بھائی ہے، بھانجا ہے، بھتیجا ہے، یہ سب محرم ہیں۔ تو ان محرموں کے سامنے جس لباس میں آنا چاہیے وہ ستر والی بات ہے۔ وہ ستر والی بات ہے۔ تو اس میں یہ باتیں، چہرہ نہیں چھپایا جاتا کیونکہ ظاہر ہے محرم ہے۔ اب اس وقت کچھ لوگوں نے سمجھا کہ یہ جو ستر ہے یہی حجاب ہے۔ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ ستر ستر ہے، حجاب حجاب ہے۔ سب سے بڑی جگہ فتنے کی تو چہرہ ہے، غیر محرم کے لیے۔ تو چہرہ اگر آپ نے کھلا کر دیا تو مجھے بتاؤ پھر چھپا کیا دیا؟ یہ اصل میں، یہ عقل کو بھی استعمال کرنا چاہیے۔


              تو بہرحال میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ جب عورت باہر جائے تو کیسے کرے؟ کیسے جائے؟ با پردہ۔ اور محرموں میں جائے تو ستر کے ساتھ۔ مطلب یہ کہ سترِ عورت کو چھپا کے مطلب وہ جائے۔

              اس وقت صورتحال بہت خطرناک ہے۔ شریعت کہتی ہے کہ مردوں کو پاجامہ ٹخنوں سے اوپر رکھنا چاہیے۔ نصف ساق تک بہتر ہے ورنہ ٹخنوں سے تو اوپر ہونا چاہیے۔ اس سے نیچے کیا ہوگا؟ یہ تکبر کی علامت ہے۔ عورتوں کو حکم ہے کہ ٹخنوں سے نیچے پاجامہ ہو۔ سر کے بال بھی چھپے ہوں، سارا پورا جسم۔۔۔

              اب الٹا چکر ہے۔ عورتیں اس کو اوپر چڑھا رہی ہیں اور مرد نیچے کر رہے ہیں۔ اب مجھے بتاؤ یہ آخر شیطان کی بات نہیں ہے تو اور کس کی ہے؟ بھئی اگر سردی کی وجہ ہے تو دونوں کو سردی لگے گی نا؟ گرمی کی وجہ ہے تو دونوں کو گرمی لگے گی۔ تو نہ گرمی کی وجہ ہے، نہ سردی کی وجہ ہے، تو پھر کس چیز کی وجہ سے ہے؟ شیطانیت ہے اور کچھ نہیں ہے۔ تو ہمیں اپنے آپ کو بچانا چاہیے شیطان سے۔

              تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:

              میں نے اپنے بعد کوئی فتنہ مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ مضر نہیں چھوڑا۔

              فتنہ کیا ہوتا ہے؟ فتنہ یہ ہوتا ہے کہ جس میں انسان کو پتہ نہیں چل رہا ہوتا کہ میں خراب ہو رہا ہوں، اور خراب ہو رہا ہو۔ وہ فتنہ ہے۔ یہ اس مسئلے میں اس حد تک احتیاط کا پہلو رکھا جاتا ہے فتنے سے بچنے کے لیے، کہ اگر باہر سے کوئی مرد غیر محرم آواز دے، ظاہر ہے ان کے کسی مرد کے لیے آواز دے گا، تو آواز دے تو گھر میں اگر وہ مرد نہیں ہے، تو چاہے اس کی بیوی یا بیٹی ہے یا ماں ہے جو بھی ہے، وہ اندر سے آواز دے گی تو آواز نرمی سے نہیں دے گی، کرخت لہجے میں "کون ہو؟ کس سے کام ہے؟ نہیں ہے گھر پر!" یہ با عفت عورت ہے، عفت والی عورت ہے۔ اور جو نرم آواز سے کہے گی، یہ عفت والی نہیں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ دل کا چور ہوتا ہے، میں نے آپ سے کہا نا مرد مرد ہی ہوتے ہیں ان میں اپنے خواہشات ہوں گے، عورتیں عورتیں ہوں گی ان کی اپنی خواہشات ہوتی ہیں۔ اب مرد کے دل میں اگر چور ہے اور اس عورت نے بے شک سادگی میں نرم آواز میں بات کی، تو اس کے چور کو قوت ملے گی، اور اس سے نقصان ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ اس وقت صورتحال کیا ہے، آپ یقین کیجئے ہمارے جو یہ internet والا مسئلہ ہے نا اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ اب بہت سارے فتنے اسی internet کی وجہ سے آ رہے ہیں، کہ وہ آپس میں chatting وغیرہ شروع ہو جاتی ہے اور معاملہ پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے، اور پھر نقصانات شروع ہو جاتے ہیں۔ تو یہ اس وقت چونکہ احتیاط نہ کرنا، بے شک ایک اچھا لڑکا کیوں نہ ہو یا اچھی لڑکی کیوں نہ ہو، اور اس نے اچھے جذبات کے ساتھ، بلکہ ابتدا کیسے ہوتا ہے؟ میرے پاس تو cases آتے ہیں نا تو مجھے تو first-hand information ہے۔ تو ابتدا اس طرح ہوتی ہے کہ اچھے جذبات کے ساتھ، مثلاً ایک لڑکا کہتا ہے اس لڑکی کو میں دین کی بات بتانا چاہتا ہوں کہ دیکھو پردہ کرنا چاہیے، یہ کرنا چاہیے، وہ کرنا چاہیے، ابتدا میں اچھے سے شروع ہوتی ہے اور انتہا پتہ نہیں کیا ہو جاتی ہے۔ اور اس طرح لڑکی بھی کرتی ہے۔ یہ میں ویسے نہیں کہہ رہا ہوں، یعنی میرے پاس first-hand information ہے کہ بعض لڑکیوں نے لوگوں کو تبلیغ کرنے کے لیے سلسلے شروع کیے، ان سے بات چیت شروع کی اور معاملہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا؟ یہاں پر میرے پاس آئے تھے ایک ساتھی فیصل آباد کے، وہ چرس پیتا تھا کسی زمانے میں۔ ہوتے ہیں مزاج ظاہر ہے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں چرس پیتا تھا۔ تو ایک دن مجھے کہنے لگا "شاہ صاحب! اور تو ٹھیک ہے لیکن کبھی کبھی میں تبلیغ کی دعوت کے لیے جاتا ہوں نا تبلیغ میں، تو دعوت کے لیے جاتا ہوں تو وہ جو پرانے چرسی دوست ہیں نا ان کو دعوت دینے جاتا ہوں، تو وہاں میں ان کے ساتھ چرس پی لیتا ہوں۔" تو میں نے ان سے کہا: "دیکھو دعوت تو ضروری ہے ان کو دینا، لیکن کیا خیال ہے صرف آپ کا ہی دینا ضروری ہے؟ کوئی اور بھی دے سکتا ہے؟" کہنے لگا کوئی اور بھی دے سکتا ہے۔ تو میں نے کہا: "آپ خود نہ جایا کریں کسی اور کو تیار کر کے ان کے پاس بھیج دیا کریں، خود وہاں نہ جایا کریں کیونکہ تمہاری ان کے ساتھ شناسائی ہے چرس کی۔ تو وہاں پر وہ لوگ آپ سے چاہیں گے، بلکہ جب آپ ان کو دعوت دیں گے تو وہ بھی آپ کو دعوت دیں گے۔ دعوت کا جواب تو دعوت ہی ہوتا ہے نا! تو پھر آپ ان کے دعوت وہ آپ کے ساتھ آئیں یا نہ آئیں لیکن آپ تو ان کے شکار ہو ہی جائیں گے۔" کہتے ہیں "ہاں شاہ صاحب بات تو ٹھیک ہے۔" اچھا تو اب یہ یہ صورتحال، تو اسی طریقے سے یہ دعوت سے معاملہ شروع ہوتا ہے۔ لیکن یہ دعوت اگر شریعت کے مطابق نہ ہو تو پھر معاملہ خراب ہو جاتا ہے۔ ہر چیز کے لیے اپنا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ اپنا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔

              آپ ﷺ کے لیے ساری بیٹیوں کی مانند تھیں، لیکن آپ ﷺ نے بیعت کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا کہ کسی عورت کو ہاتھ میں ہاتھ لے کر بیعت نہیں فرمایا۔ بلکہ کپڑا آگے کر دیتے تھے، پردے کے ساتھ، اور وہ ہے کہ وہ کپڑا پکڑ لیتی تھی اور وہ بیعت ہو جاتی تھی۔ تو یہ بات ہے کہ ہمیں بھی یعنی ان چیزوں کا خیال رکھنا ہے کیوں کہ وجہ کیا ہے؟ ایک دفعہ ایسا ہوا آپ ﷺ تشریف فرما تھے، اور اپنے ساتھ ایک زوجہ مطہرہ تھی، بیٹھے ہوئی، تو دو صحابہ آگے سے گزر گئے۔ تو جب آگے گزر گئے تو آپ ﷺ نے پیچھے سے آواز دی کہ "فلاں فلاں یہ آپ کی فلاں ماں ہے میرے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔" وہ کٹ گئے، انہوں نے کہا "یا رسول اللہ! کیا ہم آپ پر بدگمانی کر سکتے تھے؟" فرمایا "نہیں! شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔" یہ ہے کہ کوئی بھی وسوسہ دل میں ڈال سکتے ہیں جس کی وجہ سے بعد میں نقصان اٹھا لیتا ہے آدمی۔ تو جو مقتدیٰ لوگ ہیں ان کو تو اتنا احتیاط کرنا چاہیے۔ تاکہ کسی کو شک نہ ہو کہ یہ کیا ہے۔ ان کو بتانا چاہیے کہ اس طرح بات ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو پھر موقع مل جاتا ہے نا کہ یہ تو ظاہر ہے اس طرح یا جائز ہے یا اس کے اوپر بدگمانی ہو جاتی ہے، دونوں صورتیں خطرناک ہیں۔

              تو بہرحال، آپ ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ارشاد فرمایا کہ:

              "دوبارہ نظر نہ کرو۔ کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر (یعنی جو اچانک پڑ جائے) وہ تو جائز ہے۔ اور دوسری بد نظر کرنا، یا پہلی نظر کو برقرار رکھنا جائز نہیں ہے۔"

              جائز نہیں ہے۔ دیکھو میں جا رہا ہوں راستے پہ، اب بعض دفعہ کسی کام کے لیے انسان سامنے دیکھ رہا ہے جیسے گاڑی آ رہی ہو یا کوئی راستہ دیکھنا چاہتا ہو، تو ایسی صورت میں کیا ہوتا ہے، اچانک نظر پڑ سکتی ہے۔ اب اچانک نظر پڑ گئی، اور پتہ چلا کہ غیر محرم سامنے ہے، تو بس فوراً اپنی نظر ہٹانا چاہیے۔ اب یہ تو حکم ہے اللہ کا، کرنا پڑے گا۔ لیکن اس پر ملے گا کیا؟ زبردست چیز! اس پر ملے گا یہ، کہ اگر کسی غیر محرم کو، کسی غیر محرم پر کسی کی نظر پڑ گئی، اور اس نے اللہ کے لیے کہ اللہ کا حکم ہے، اللہ سے ڈر کر اپنی نظر کو فوراً موڑ دیا، فوراً موڑ دیا، تو فرماتے ہیں اللہ جل شانہ ما شاء اللہ اس کو ایسی حالت نصیب فرما دیں گے، موت سے پہلے پہلے، کہ وہ اپنے ایمان کی حلاوت کو خود محسوس کر لیں گے۔ یہ اتنی زبردست چیز ہے کہ اپنے ایمان کی حلاوت کو محسوس کر لیں گے۔ بس یہی بات ہے کہ اگر ہمارے سامنے کوئی آ رہا ہو تو اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ فوراً اپنی نظر ہٹا دو۔ موقع ہے کمانے کا۔ اس کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ اگر پوچھ بھی رہی ہے، تو آنکھیں نیچے کر کے، بس اس کو جو مطلوبہ جواب ہے وہ دے کر بس اپنا راستہ لینا چاہیے۔ اور کسی بات میں نہیں پڑھنا چاہیے۔


              آپ ﷺ نے ایک شخص کو ڈکار لیتے سنا۔ فرمایا:

              "کم کر اپنی ڈکار کو (یعنی کم کھایا کرو)، کیونکہ قیامت کے دن زیادہ بھوکے وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں زیادہ سیر ہوں گے۔"

              اصل میں دیکھیں میں آپ کو بتاؤں جنت اور یہ دنیا کے جو مزے ہیں ان دونوں کے اندر competition ہے۔ یہاں جس نے جو چیز شریعت کی وجہ سے چھوڑ دی، اس چیز کی بہترین صورت اس کو جنت میں دے دی جائے گی۔ اس کی جو بہترین شکل ہے وہ جنت میں دے دی۔ جیسے اگر کسی نے شراب چھوڑ دی تو وہاں شراباً طہوراً مل جائے گا۔ کسی نے مثال کے طور پر غیر محرم سے نظر ہٹایا تو وہاں پر اللہ پاک بے انتہا وہ دے دیں گے، اس کا بدلہ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں پر، تو اب یہاں پر بھی فرمایا، بالکل ضد والی بات کہ جس نے یہاں سیر ہو کر کھایا یعنی اتنا سیر ہو کے کھایا کہ وہ ڈکار بن گیا، ایک بیماری کا ڈکار ہوتا ہے وہ نہیں۔ بیماری، بعض لوگوں کو acidity ہوتی ہے، کوئی مسئلہ ہوتا ہے، تو بیچاروں کا پیٹ بھوکا بھی ہوتا ہے تو پھر بھی ڈکار لیتے ہیں۔ روزے میں نہیں لیتے بعض لوگ؟ روزہ ہوتا ہے لیکن وہ لیتے ہیں، وہ ان کی ان کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ جو اس شکم سیری اور یا جو بسیار خوری ہے، بسیار خوری کی وجہ سے جو ڈکار آتا ہے، اس کے بارے میں فرمایا، تو اس سے پتہ چلا کہ کم کھانا چاہیے۔


              بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ ہم کم کھائیں گے تو کمزور ہو جائیں گے۔ یہ بات عرض کرتا ہوں۔ میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا کیونکہ یہ میری field نہیں ہے، لیکن جو doctor لوگ ہیں ان سے پوچھو۔ جن کا یہ field ہے بالکل خصوصاً وہ doctor جو اس field کے specialist ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ وہ یہ کہتے ہیں کہ جتنی ضرورت ہمیں ہوتی ہے calories کی، اگر ان سے زیادہ ہم نے calories لے لیں، تو وہ بن جائیں گے fats۔ وہ ہمارے جسم کے اندر وہ جمع ہو جائیں گے۔ اگر liver کے اوپر fat بن گیا، تو یہ بیماری fatty liver بن جائے گا۔ اگر آپ کے کسی اور جسم کے organ پر fat بن گیا، تو وہ بیماری ہے، حتیٰ کہ پیٹ بڑا ہو جائے گا، وہ بھی fat والا مسئلہ ہوتا ہے۔ تو یہ کیا ہے؟ یہ ساری بیماریاں ہیں۔ یہ بیماری کس چیز سے آ گئی؟ بسیار خوری سے آ گئی۔ تو اب جتنا آپ کی requirement ہے اتنا لے لو۔ اتنا کھا لو اس میں کوئی شک نہیں۔ میں آپ کو بتاؤں کہ اس وقت اس صورتحال کی بات جو doctor حضرات ہیں نا وہ جو بتا رہے ہیں، میں تو نہیں کچھ کہہ سکتا اس میں۔ وہ doctor حضرات کہتے ہیں بعض دفعہ جو موٹے لوگ ہوتے ہیں ان کو صرف پانی، اس کو water fasting کہتے ہیں، چھ چھ، سات دن صرف پانی پیتے ہیں ۔ مرتے نہیں ہیں! بلکہ صحت مند ہوتے ہیں۔ ان کا جو fats ہے نا وہ گل گل کے وہ جسم کا حصہ بن رہا ہوتا ہے۔ اب آپ باہر سے food دیں گے تو اس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، وہ جیسے مثال کے طور پر کوئی کسی کے گودام میں پڑے ہوئے ہیں بہت ساری چیزیں پڑی ہوئی ہیں نا۔ اب جب اس کو ضرورت پڑتی ہے، باہر سے آ گیا تو گودام سے لینے کی ضرورت ہے؟ گودام سے لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ لیکن باہر سے آنا بند ہو گیا۔ تو پھر کیا ہوگا، پھر آپ گودام سے لینا شروع کر لیں۔ تو ایک وقت میں گودام ختم ہو جائے گا۔ جب گودام ختم ہو جائے نا تو پھر جو باہر سے آتا ہے وہ اتنا لو جتنا کھا سکتے ہو اتنا لو، اور جمع نہ کرو۔ جمع نہ کرو تو بس کام بن جائے گا۔ تو اسی طریقے سے ہمارا جو صحت کا معاملہ ہے، کہ ہم لوگ گودام، بھرتے رہتے ہیں، تو یہ گودام بھرنے سے انسان کو اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔

              باقی معاملہ ٹھیک ہے کھانے پینے پہ پابندی نہیں ہے۔ کھانا جو جائز کھانا ہے بالکل کھاؤ، جو پینا ہے وہ بالکل پیو۔ لیکن پینے میں یہ احتیاط کر لو کہ میں کون سی چیز پی رہا ہوں؟ وہ شراب کی بات نہیں کرتا، وہ تو حرام ہے نا، وہ تو میں اس کی بات ہی نہیں کر رہا۔ ایسی چیز جو حلال ہے لیکن آپ کے جسم کے لیے زہر ہے۔ ایک ہوتا ہے واقعی زہر جس کو لوگ زہر مانتے ہیں، ایک ہوتا ہے واقعی زہر جس کو لوگ زہر مانتے ہیں، وہ تو ہے اس سے تو ہر ایک بچنے کی کوشش کرتا ہے کوئی بھی زہر نہیں کھاتا، نہیں پیتا۔ ایک ایسی چیز ہے جو آپ سمجھتے ہیں میرے لیے تو زبردست چیز ہے، آپ اس پر فدا ہیں، لیکن وہ آپ کے لیے زہر ہے۔ وہ کیا ہے؟ یہ cold drinks۔ یہ cold drinks کیا ہیں؟ یہ زہر ہیں۔ میٹھا زہر۔ کیسے؟ کہ اس کے ایک گلاس کے اندر، یہ Coca-Cola ہے، Pepsi Cola ہے، یا Sprite ہے، یہ چیزیں، 7 چمچ چینی ہوتی ہے۔ 7 چمچ چینی ہوتی ہے۔ یہ سات چمچ چینی جیسے آپ نے ایک گلاس لے لی، آپ نے پورے جسم کی requirement پورے دن کی پوری کر لی۔ اب اس کے بعد مزید کھاؤ گے تو گودام میں جائے گا۔ اس کے بعد جتنا بھی آپ کھاؤ گے پیو گے تو کیا ہے وہ گودام میں جائے گا۔ نتیجہ کیا ہوا آپ کے سر کے اوپر بوجھ ہوگا۔


              بھئی ایک شخص ہے اس کا natural وزن 70 کلو گرام ہونا چاہیے، جو doctor حضرات بتاتے ہیں نا بھئی اس کا متوازن وزن اتنا ہے کہ وہ اس کے لیے، 70 کلو گرام۔ اور اس کا وزن ہو 120 کلو گرام۔ تو یہ 50 کلو گرام اس کے اوپر زائد ہے۔ اب یہ 50 کلو گرام جس وقت وہ جائے گا، سر پہ، کیونکہ 50 کلو گرام رکھ لے، تو جائے گا تو تھکے گا یا نہیں تھکے گا؟ یہ شخص جو چلے گا پھرے گا تو تھکے گا یا نہیں تھکے گا؟ تھکے گا۔ ہانپے گا۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ اس نے اتنا بوجھ اپنے سر کے اوپر رکھا ہوا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات تو نہیں ہے۔گھٹنے بیٹھ جائیں گے، گھٹنے بیٹھ جائیں گے۔ اب لوگ آج کل یہ مسائل ہیں یا نہیں ہیں؟ بھئی آپ اپنا وزن ٹھیک کر لو، دیکھو گھٹنے آپ کے ٹھیک ہو جائیں گے۔ اپنا وزن ٹھیک تو کر لو۔ آپ کے گھٹنے ٹھیک ہو جائیں گے۔ اور ہوئے ہیں! یعنی کئی خواتین جو ہمارے ایک doctor ساتھی ہے doctor، وہ اپنے experience بتاتا ہے کہ وہ کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتی تھی۔ جب ان کا اس طریقے سے علاج ہوا fasting کے ذریعے سے علاج کر دیا تو اللہ کا شکر ہے کہتے ہیں اب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتی ہیں، سارے کام کرتی ہیں اور مجھے مسلسل دعائیں دیتی ہیں۔ ان کی اطلاعات آتی ہیں کہ مسلسل دعائیں دیتی ہے۔ اب یہی بات ہے، تو اب دیکھو نا، یہی تو جاننے والے کی بات ہے، کہتے ہیں اگر تم نہیں جانتے تو جاننے والے سے پوچھو۔

              (فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ)

              تو جاننے والے سے پوچھو۔ تو اب یہی والی بات ہے کہ اب لوگ اس کو، اب اگر دیکھو میں آپ کو بتاؤں، doctor مجاہدہ بتاتا ہے تو سمجھ میں آتا ہے۔ اب شیخ مجاہدہ بتاتا ہے، وہ سمجھ میں نہیں آتا۔ کیونکہ اس طرح جو یہ جو چیزیں زائد ہیں اگر اس کا آپ کے جسم پہ اثر ہے تو آپ کی روح پہ اثر نہیں ہوگا؟ تو جو آپ کی روح کے اوپر اثر ہے وہ تو شیخ آپ کو بتائے گا نا، اور جو آپ کے جسم پہ اثر ہے وہ آپ کو doctor بتائے گا۔ تو معاملہ تو دونوں کی بات ٹھیک ہو گی، تو دونوں کی ماننی چاہیے۔


              تو آپ ﷺ نے کیا فرمایا یہاں پر؟ آپ ﷺ چونکہ سب کے بڑے ہیں نا! لہٰذا سب کے لیے بات فرما دی اور یہ فرمایا کہ ایک شخص کو ڈکار لیتے سنا، فرمایا:

              "کم کر اپنی ڈکار کو، کیونکہ قیامت کے دن زیادہ بھوکے لوگ وہ ہوں گے جو دنیا میں زیادہ سیر ہوں گے۔"

              ارشاد فرمایا رسولِ کریم ﷺ نے کہ:

              "تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے، اور تیرے پاس آنے والے کا بھی تیرے ذمے حق ہے، اور تیرے بدن کا بھی تیرے اوپر حق ہے۔"

              (وَلِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ، وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ)

              یہ بات فرمائی گئی ہے۔ یہ ہے کہ آپ تمام چیزوں کا خیال رکھیں گے۔ یعنی آپ کے نفس کی جتنی requirement ہے، وہ پورا کریں گے آپ۔ نہیں پورا کریں گے مر جائیں گے تو خودکشی کی سزا مل جائے گی۔ تو اتنا کھانا، اتنا پینا کہ آپ کے اپنے جسم برقرار رہے، تو یہ آپ کے اوپر حق ہے، بیوی کا آپ کے اوپر حق ہے۔ اس کو time دینا، ضروری ہے۔ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: "جس بیچاری نے پوری دنیا کو تمہارے لیے چھوڑا ہے، تو کیا اس کا تمہارے اوپر حق نہیں ہے؟ کہ اس کو time دے دو۔" اور یہ بات بالکل fact ہے یہ ساری باتیں ہمیں سمجھ میں آ سکتی ہیں تھوڑا سا ہم غور کر لیں۔ بھئی آپ کہتے ہیں آپ گھر سے باہر نہ جائیں، اور اس نے وہ بات مان لی، اور تم بھی گھر میں نہ جاؤ، تو پھر وہ کیا کرے؟ اس کو time دینا پڑے گا نا! تو یہ فرمایا:

              "وَلِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ"


              وہ حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے نا بھئی وہ، شادی کی ہوئی تھی، وہ پھر یہ ہے کہ، ان کی بیوی سے آپ ﷺ نے پوچھا "کیا حال ہے؟ کیسے ابو درداء؟" فرمایا: "اتنے اچھے ہیں، اتنے عبادت میں مصروف ہوتے ہیں کہ میرے ساتھ ابھی تک بات بھی نہیں کی۔" تو ان سے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ

              "وَلِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ"۔

              اور تین، تین صحابہ تھے جن جنہوں نے آپ ﷺ کے بارے میں کہا کہ "یہ تو پہلے سے ہی سب بخشے بخشائے ہیں، ہم تو ظاہر ہے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں گے"، تو ایک نے کہا کہ میں سوؤں گا نہیں، دوسرے نے کہا کہ میں شادی نہیں کروں گا، تیسرے نے کہا کہ میں روزے رکھوں گا، مسلسل۔ آپ ﷺ کو پتہ چل گیا۔ آپ ﷺ نے تینوں کو بلایا، فرمایا: "میں تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں۔ تم لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں، لیکن میں نے شادی بھی کی ہے، اور میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں، اور میں کھانا بھی کھاتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں۔" تو اس کا مطلب balance! نہ اس طرف جاؤ کہ رہبانیت مبتلا ہو جاؤ، اور نہ اس طرف جاؤ کہ شکم سیری میں اور ان کے پیچھے چلنے میں مبتلا ہو جاؤ۔ دونوں کے درمیان درمیان۔ ہمارا پورا دین اصل میں اعتدال والا دین ہے۔ اس میں نفس کا بھی حق ہے، اس میں روح کا بھی حق ہے۔ جو عیسائی راہب ہوتے ہیں وہ نفس کے حق کو مارتے ہیں، اور جو فاسق و فاجر لوگ ہوتے ہیں وہ روح کے حق کو مار لیتے ہیں۔ تو مسلمان جو ہوتے ہیں، جو صحیح مسلمان ہوتے ہیں وہ دونوں کے درمیان رکھتے ہیں۔ نفس کا بھی حق ادا کرتے ہیں اور روح کا بھی حق ادا کرتے ہیں۔ تو بس ہمیں بھی اس طرح کرنا چاہیے کہ ہم درمیان درمیان میں رہیں۔


              اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:

              "اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کر لے۔ اور جو لوگ شہوتوں کا اتباع کرتے ہیں، وہ ارادہ کرتے ہیں کہ تم بڑی بھاری کجی میں پڑ جاؤ۔"

              یہ ہے کہ اللہ تو تمہیں توبہ کی طرف بلاتا ہے، اور تمہارے جو شہوات ہیں، وہ کیا کرتی ہیں؟ وہ تمہیں بغاوت کی طرف لے جاتی ہیں، کجی کی طرف لے جاتی ہیں۔ تو لہٰذا اس سے بچنا چاہیے، اور جو گناہ ہو چکا ہو اس پر فوراً توبہ کرنا چاہیے، اور آئندہ اس سے بچنے کی نیت کرنی چاہیے، عزم کرنا چاہیے۔


              ارشاد فرمایا کہ:

              "خدا آنکھوں کی چوری کو جانتا ہے، اور اس کو بھی جس کو وہ دل میں چھپاتے ہیں"۔

              پس آنکھ اور دل کو بھی گناہ سے بچانا لازم ہے۔ یہی اصل میں آج کل اس کی بڑی ضرورت ہے سمجھانے کی کہ تم پورے لوگوں سے چھپ کر کوئی غلطی کرو نا، تو اللہ سے تو نہیں چھپا سکتے۔ اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ بات اپنے ذہن میں پکی کرنی چاہیے کہ اللہ ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔ اور ہم جو بھی غلطی کریں گے، چاہے ظاہری کرتے ہیں چاہے باطنی کرتے ہیں، وہ اللہ کے سامنے ہے۔ اب جب اللہ پاک سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور ہم کر رہے ہیں گناہ، کر رہے ہیں ہم سے ہوئے ہیں، تو اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم اللہ سے ڈر کر توبہ کر لیں۔ اور ایسے کاموں سے بچیں جس سے اللہ پاک نے بچنے کا حکم دیا ہے۔ ہمارے پاس یہی طریقہ ہے، اور یہ زندگی تو بہت تھوڑی سی ہے۔ اگر آپ دیکھیں پہلے دن کی زندگی جو حشر کی ہے وہ 50 ہزار سال کی بتائی جاتی ہے۔ 50 ہزار سال کو اگر 24 گھنٹے مان لیا جائے اور اس زندگی پورے ہم کو سو سو سال ہمیں مل جائیں، سو سال، تو سو سال کتنے time ہو جائے گا اس دن کے لحاظ سے؟ وہ تین منٹ بن جاتے ہیں۔ اب اگر کوئی آپ کو کہہ دے تین منٹ تو آپ ہماری مانو، پھر جو مرضی کہو گے ہم کر لیں گے وہ۔ یا پھر یہ کہ تین منٹ اپنے آپ کی مانو، پھر جو ہم چاہیں گے وہ تمہارے ساتھ کریں گے۔ اب بتاؤ آپ، جو ہوشیار آدمی ہے وہ کیا کرے گا؟ یہ میں نے صرف ایک دن کا حساب بتایا ہے، اصل کام کیا ہے؟ اصل تو وہ زندگی جب شروع ہو جائے گی پھر ختم ہی نہیں ہوگی۔ never ending life! وہ life جب شروع ہو گیا پھر اس کے بعد ختم نہیں ہوگا۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو ڈر کر اپنے آپ کو سیدھا کرنا چاہیے، توبہ کرنا چاہیے۔ ابتدا توبہ سے ہوتا ہے۔ اور اس کے لیے پھر یہ ہے کہ مقامِ توبہ، پھر اس کے بعد اچھے کاموں کی نیت اور اس کے لیے تیاری جس کو مقامِ انابت کہتے ہیں۔ پھر اس تیاری میں ریاضت بھی آتا ہے، مقامِ ریاضت، سستی کو دور کرنے کے لیے، مقامِ قناعت حرص کو دور کرنے کے لیے ، فجور کو دور کرنے کے لیے تقویٰ، بے صبری کو دور کرنے کے لیے مقامِ صبر، اور زیادہ سے کم کی طرف آنے کے لیے مقامِ زہد، اور پھر اللہ پہ بھروسے کے لیے مقامِ توکل، اور پھر اللہ پاک کی ہر بات کو دل سے تسلیم کرنا مقامِ تسلیم ہے، اور پھر اس کے بعد مقامِ رضا کہ اللہ پاک کی ہر چیز پہ راضی ہونا۔ یہی اصل میں تکمیل کی طرف راستہ ہے۔ اس کو سیر الی اللہ کہتے ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم جلد سے جلد اس راستے کی طرف لوٹ آئیں۔ اور جس نے بھی اس راستے کو پکڑا یعنی کسی شیخ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے وہ اپنے آپ کو اس کے لیے پیش کر لے۔ شیخ اگر آپ کے اندر تغیر کرنا بھی چاہتا ہے تو لیکن آپ تیار نہ ہوں تو شیخ پھر نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ کیا کرے گا؟ اگر doctor آپ کو دوائی دے دے اور آپ دوائی استعمال ہی نہ کریں تو doctor کیا کر لے گا؟ کچھ نہیں کر سکتا۔ تو جس نے بھی اپنے شیخ سے بیعت کی ہے وہ جب اس کو کسی چیز سے روکے تو رک جائے اور جس چیز کی اجازت دے تو اس کو استعمال کر سکتا ہے، لیکن بہرحال اپنا احوال پیش کرنا چاہیے ان کے اوپر، اور جو وہ پھر بتائے اس پر عمل کرنا چاہیے۔


              اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرما دے۔

              وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ


              اسلامی تعلیمات میں اعتدال، حقوق العباد اور توبہ کی اہمیت - خواتین کے لیے اصلاحی بیان - اشاعت دوم