الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا (113)
لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا(114) وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِـعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا (115)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
اور (اے پیغمبر!) اگر اللہ کا فضل اور رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو تم کو سیدھی راہ سے بھٹکانے کا ارادہ کر ہی لیا تھا۔
یعنی اس سے بشر اور اس کے حمایتی مراد ہیں، جو یہ چاہتے تھے کہ یہودی کو بے گناہ سزا دلوا دیں۔
اصل میں معاملات کی جو بات ہوتی ہے نا، اس میں یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ اس میں انسان کو وہ جو چیزوں کے ساتھ یعنی محبت ہوتی ہے، دوسری دنیاوی چیزوں کے ساتھ، تو وقتی طور پر وہ دین کی بڑی اہم اہم چیزوں کو نظر سے ہٹا دیتی ہیں، اور اس کی اہمیت وہ فوری طور پر محسوس نہیں کرتے۔
بے شک بعد میں ان کو احساس ہو جائے، لیکن پھر بھی توبہ کی توفیق بڑی مشکل ہوتی ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی جو محبت ہے جن کی وجہ سے وہ ایسا کر رہے ہیں، وہ ان کو پھر بھی اپنی اس چیز کے ساتھ لگائے رکھتی ہے۔ اور وہ جو guilty conscience ہے، وہ بھی ساتھ ساتھ ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ یہ تو ٹھیک نہیں کر رہے، لیکن وہ اس کو اس سے مطلب اپنے آپ سے چھڑا نہیں سکتے۔ اس چیز کو بعض دفعہ شیطان، وہ سختی سے استعمال کر لیتے ہیں یعنی ان کو ایمان سے بھی فارغ کر لیتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسی حالت ہو جاتی ہے چونکہ مسلسل وہ چیز آ رہی ہوتی ہے، اِدھر اللہ تعالیٰ کی بات اُدھر، تو یہ پھر جس کو کہتے ہیں نا وہ جھوٹی تسلی کے لیے بالکل ہی نکل جاتے ہیں۔
تو یہ مطلب، یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یعنی فرمایا جا رہا ہے کہ ان لوگوں نے تو یعنی اسی وجہ سے گویا کہ آپ کو صحیح راستے سے گویا ہٹانے کا ارادہ کر ہی لیا تھا۔ اللہ پاک نے اپنے فضل و کرم سے یہ ساری چیزیں ٹھیک کر دیں۔ تو اس سے مطلب اُس طرف اشارہ ہے۔
اور (در حقیقت) یہ اپنے سوا کسی کو نہیں بھٹکا رہے ہیں، اور یہ تم کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو ان باتوں کا علم دیا ہے جو تم نہیں جانتے تھے، اور تم پر اللہ کا فضل ہمیشہ بہت زیادہ رہا ہے ﴿113﴾
لوگوں کی بہت سی خفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہوتی، الا یہ کہ کوئی شخص صدقے یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے۔
سرگوشی کس چیز کو کہتے ہیں؟ سرگوشی اس کو کہتے ہیں کہ انسان یہ ارادہ کر لے کہ یہ شخص سنے جس کو میں سُنانا چاہتا ہوں، باقی لوگ نہ سنیں۔ سرگوشی ہوتی ہے۔
تو اس میں ارادہ عموماً بعض لوگ اپنی باتوں کو چھپاتے ہیں نا، تو زیادہ تر خیر کی نہیں ہوتی۔ مطلب اپنی کمزوریوں کو چھپاتے ہیں یا کوئی اس قسم کی بات ہوتی ہے۔ لیکن ایک positive aspect بھی اس کا ہے، کہ صدقہ اگر کوئی دیتا ہے تو وہ بھی سرگوشی کر سکتا ہے یعنی اس کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ یا کسی ایسے نیک کام کا جس کو لوگ ظاہر نہیں کرنا چاہتے، تو اس کے لیے بھی سرگوشی ہوتی ہے۔
اور یا پھر یہ ہے کہ لوگوں میں جو اصلاح کا کام ہے، یہ بھی ایک مشکل کام ہے، اور اس میں لوگوں کے بارے میں یہی ہوتا ہے کہ فلاں سنے فلاں نہ سنے۔ کیونکہ بعض دفعہ جو دوسرے لوگ سنتے ہیں اس سے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ تو اصلاح کے کام میں بھی بہت انسان کو alert رہنا پڑتا ہے، نمبر ایک۔ نمبر دو، محتاط کہ انسان اپنی بات کو زیادہ پھیلانا نہیں چاہتے، صرف concerned لوگوں سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اور دوسری طرف یہ ہے کہ جو کوئی نیک کام کوئی کر رہا ہو، وہ اپنی نیکی کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ اور صدقہ بھی اس قسم کی بات ہے، وہ بھی ایک نیکی کا کام ہے۔
اور جو شخص اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایسا کرے گا، ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے ﴿114﴾ اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ ﴿115﴾
اس آیت سے علمائے کرام، بالخصوص امام شافعیؒ نے اجماع کی حجیت پر استدلال کیا ہے، یعنی جس مسئلے پر پوری امتِ مسلمہ متفق رہی ہو وہ یقینی طور پر برحق ہوتا ہے اور اس کی مخالفت جائز نہیں۔
اور اس سے ایک اور بات بھی واضح ہوتی ہے، وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ، یعنی وہ، اور وہ یہ ہے کہ وہ جو جبر و قدر والی بات ہے، کہ اس میں گویا کہ انسان جس چیز کو کرنا چاہتا ہے، تو اللہ پاک پھر اس کے لیے وہ کر لیتا ہے۔ یعنی کرتا تو اللہ ہی ہے، لیکن یہ ہے کہ ارادہ اس کا ہوتا ہے۔ تو جب اس کا ارادہ ہوتا ہے، تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اپنا ارادہ شامل فرما لیتے ہیں، اس کو کر لیتے ہیں۔ تو یہ بات اس طرح ہے۔
تو یہاں پر بھی ہے کہ جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے، تو اس نے ایک بُرا ارادہ کر لیا۔ اور مومنوں کے راستے پر کسی اور راستے کی پیروی کرے، تو بُرے راستے پر چلنا چاہا، اور اس کے لیے جو اسباب تھے وہ اختیار کرنے شروع کر لیے۔ اس کو ہم اُسی راہ کے حوالے کر دیں گے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے ارادے کو بھی اس کے ساتھ شامل کر لیں گے، کہ جو اس نے خود اپنائی ہے۔ اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اس پر پھر نتیجہ بھی ہے۔ اور اس سے میرے خیال میں وہ بات بہت واضح طور پر ثابت ہو جاتی ہے۔ اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔
بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر گناہ کی جس کے لئے چاہتا ہے بخشش کردیتا ہے۔
شریک ٹھہرانا ایک بہت خطرناک بات ہے کیونکہ ایسا گناہ ہے جس کو اللہ معاف نہیں کرتے۔ اور اس سے کم گناہ جو ہے، وہ پھر اللہ پاک کی مرضی ہے، اگر کسی کو معاف کرنا چاہے تو کر لیتا ہے۔ بالخصوص جو لوگ توبہ کرتے ہیں اور معافی چاہتے ہیں تو اس کا تو خیر ہے ہی۔ لیکن باقی جو گناہ ہیں، وہ شرک کا جو گناہ ہے، تو شرک کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر وہ، اس کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کر کے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کرے اور توحید پر ایمان لے آئے۔ یہی مضمون پیچھے آیت نمبر 48 میں بھی گزر چکا ہے۔
اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے، وہ راہ راست سے بھٹک کر بہت دور جا گرتا ہے ﴿116﴾
واقعی یہ ہے، اگر انسان دیکھے نا تو، اللہ بس ہماری حفاظت فرمائے، کہ مشرکوں کے جو راستے ہیں اور مشرکوں کے جو طریقے ہیں، اس کو دیکھ کر انسان حیران ہوتا ہے کہ ایک باشعور انسان کس طرح ایک پتھر، جو اپنے ہاتھ سے، پتھر سے بنائی ہوئی چیز ہے، اس کو سجدہ کر سکتا ہے۔ یا اس قسم کی چیز جو اللہ نے بنائی ہے تو اس کے سامنے ماتھا ٹیکتا ہے۔ پھر وہ اس طرح ہو جاتے ہیں کہ ابھی دیکھیں نا india میں corona کی وجہ سے لوگوں نے corona کا بت بنا کر اس کو پوجنا شروع کر دیا۔ یعنی ان لوگوں کے لیے ایسی بات ہے کہ جس چیز سے ان کو کوئی دنیاوی فائدہ مل رہا ہو اس کے سامنے بھی جھکتے ہیں، اور جو مطلب جس سے وہ ڈر رہے ہوں کہ مطلب ہمیں نقصان نہ پہنچائے، کالی دیوی، اس طرح، تو اس کے سامنے بھی سجدہ کرتے ہیں۔ یعنی ڈرنے کی وجہ سے بھی اور لالچ کی وجہ سے بھی۔ گویا کہ ان کا اصل معبود جو ہوتا ہے وہ ان کا لالچ اور خوف ہوتا ہے۔ اس کو کہیں بھی لے جا سکتے ہیں ان کا جو لالچ اور خوف۔
اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ تو فرمایا بہت دور جا گرتا ہے۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔