زندگی کی اہمیت، سنت کی پیروی اور رسومات و بدعات سے اجتناب

10 جولائی، 2025، 20 اگست، 2023، 26 اور 27 جون 2020 کے بیانات سے اقتباسات

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

      وتگی کے موقع پر شریعت کے احکام، میت کی تدفین اور میراث کی تقسیم

لوگوں کی خوشنودی (حبِ جاہ) کے بجائے اللہ کی رضا کی فکر

اصلاحِ نفس کی ضرورت اور کامل شیخ یا مرشد کی علامات

حکمت اور بصیرت کے ساتھ دعوت و تبلیغ اور اکرامِ مسلم کی اہمیت

زندگی کی قدر و قیمت اور وقت کا صحیح استعمال (برف کی مثال)

      دین میں سنتِ رسول ﷺ کی اہمیت اور بدعت کی مذمت

معاشرتی رسومات (شادی اور غمی) اور ان پر سنت کو ترجیح دینے کا طریقہ

فوتگی کی رسومات کا تنقیدی جائزہ (مصنوعی رونا، رسمِ قل، دعوتیں اور قرض)

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ

أَمَّا بَعْدُ!

فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

﴿قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ﴾

وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ، "اَلْوَحْدَةُ خَيْرٌ مِنْ جَلِيْسِ السُّوءِ، وَالْجَلِيْسُ الصَّالِحُ خَيْرٌ مِنَ الْوَحْدَةِ۔"

وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ فِي الْفِتَنِ: "تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِيْنَ وَاِمَامَهُمْ قِیْلَ: فَإِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُمْ جَمَاعَةٌ وَّلَا إِمَامٌ؟ قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْکَ الْفِرَقَ کُلَّھَا" وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ: "يُوشِكُ أَنْ يَّكوْنَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَّتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ القَطْرِ يَفِرُّ بدِيْنِهٖ مِنَ الْفِتَنِ"۔

وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ: "اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ۔"

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ


اس وقت الحمد للہ، اللہ پاک نے جو ہمیں زندگی دی ہے، اس کو ہم گزار رہے ہیں، لیکن یہ جو زندگی ہے، یہ برف کی طرح ہے۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میں نے زندگی کی قدر ایک برف بیچنے والے سے سیکھی ہے۔ تو لوگوں نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ فرمایا: "ایک برف بیچنے والا میرا دوست تھا، ان کی دکان پر میں بیٹھا تھا"۔ ظاہر ہے برف تو گرمیوں کے دن ہی بیچی جاتی ہے، تو گرمی کے دن تھے، اور وقت کے گزرنے کے ساتھ اس پر ٹینشن کے آثار نظر آرہے تھے۔ تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ تو کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ "گاہک نہیں آرہے اور میری برف پگھل رہی ہے، گاہک نہیں آرہے اور میری برف پگھل رہی ہے"۔ بات تو صحیح ہے، اگر برف کو آپ محفوظ رکھنے کے لئے زیادہ انتظامات کریں، مثلاً refrigerator میں رکھیں، تو اس پہ اتنا خرچہ آتا ہے کہ اتنا کمائیں گے نہیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو برف تو پگھلے گی، پگھلے گی تو جب تک برف ہے اس کی قیمت برف کی ہے، اور جب وہ پانی بن گیا، تو پھر پانی کی ہے۔ اس طریقہ سے گویا کہ حضرت نے فرمایا کہ ہماری جو زندگی ہے، برف کی طرح ہے، برف کی طرح ہے۔ اس سے کام لے لو، تو بن جائے گا کام، اور اس کو ضائع کرلو، تو chance miss ہوگیا۔ اس وجہ سے اپنی زندگی کے بارے میں بہت محتاط رہنا چاہیے، اپنے وقت کے بارے میں بہت محتاط رہنا چاہیے۔ ہمارا جو وقت ہے، وہ سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔

اصل میں بات یہ ہے، جیسے فرمایا:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ﴾6

اللہ پاک نے جو فرمایا کہ "نہیں پیدا کیا میں نے جنات کو اور انسانوں کو مگر اپنی عبادت کے لئے"۔ تو اس طرح کائنات کا بھی ایک مقصد ہے، کائنات کا بھی ایک مقصد ہے۔ تو جن کے لئے کائنات بنائی گئی، ان کے احوال پر کائنات منحصر ہے:

﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ﴾7 (الروم: 41)

مطلب فساد ظاہر ہوگیا بر و بحر میں لوگوں کے اعمال کی وجہ سے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کائنات ہے، وہ اس کا اثر لے رہی ہے، اور جو برکت والی چیزیں تھیں، وہ عذابات میں اور مشکلات میں بدل گئیں، وہ کھلے دل اور فراخی والے جو اوقات تھے، وہ تنگ دلی، بزدلی اور اخلاقی برائیوں میں بدل گئے، اور یہ ساتھ ساتھ یہ چیزیں ہورہی ہیں، بڑھ رہی ہیں۔

اب ایک بات یہ یاد رکھنی چاہیے کہ شریعت اس وقت کے لئے نہیں آئی تھی کہ صرف اس وقت اس پر عمل کرنا ہوتا، بلکہ یہ قیامت تک کے لئے آئی ہے، قیامت تک اس پر عمل ہوگا، قیامت تک پھر اس پر عمل ہونا ہوگا، تو ایسی صورت میں جو لوگ اس پر عمل نہیں کرتے، وہ لائقِ سزا ہوسکتے ہیں، اور جو لوگ اس پر عمل کریں گے اور حالات مشکل سے مشکل تر ہوتے جائیں گے، ان کا اجر بڑھتا جائے گا، ان کا اجر بڑھتا جائے گا۔ تو اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک ہے دنیا کے لوازمات، دنیا کی شہوات، دنیا کی خوشیاں، دنیا کی طلب، یہ روز بروز بڑھ رہی ہے، اور دنیا کی چیزوں میں یہ خاصیت ہے کہ یہ جتنی بڑھتی ہیں، طلب مزید بڑھتی ہے، الا یہ کہ اللہ پاک کسی پر رحم فرمائے اور اس کا تعلق اللہ کے ساتھ ہوجائے، ورنہ دنیا کے اندر یہ خاصیت ہے کہ اس پہ انسان سیر نہیں ہوتا۔



دیکھیں، ہم پڑھتے ہیں «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ»۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کا مطلب آپ سب لوگوں کو پتہ ہے، نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ، اس کا مطلب ہے اللہ ہی کے لیے سب کچھ کرنا ہے۔ جو بھی دین کا کام ہے وہ اللہ ہی کے لیے کرنا ہے۔ کسی اور کے لیے کرو گے تو وہ تمہارے فائدے کی نہیں بنے گی وہ، اگر دین کی چیز ہے۔ نماز کسی اور کے لیے پڑھو گے، ختم۔ حج کسی اور کو راضی کرنے کے لیے کرو گے تو ختم۔ اس طرح کوئی اور عمل دین کا، وہ صرف اللہ کو راضی کرنے کے لیے کیا جائے گا، اور پھر اس کے بعد ہم کامیابی کی امید کر سکتے ہیں۔ ورنہ کیا ہوگا؟ ورنہ تباہی ہے۔ تو جب یہ والی بات سمجھ میں آگئی تو پھر ہمیں فکر ہونی چاہیے کہ اب کیسے کریں کہ اللہ پاک کو پسند آ جائے، اللہ پاک اس کو قبول فرمائے۔ تو وہ کیا ہے؟ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر یہ کام کرنا پڑے گا۔ نماز پڑھنا پڑے گی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔ روزہ رکھنا پڑے گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔ حج کرنا پڑے گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔ زکوۃ دینی پڑے گی اور ساری چیزیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہیں اسی طریقے پر۔ معاملات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ صحیح کرنے پڑیں گے۔ معاشرت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ کرنی پڑے گی۔ اور اس طرح اخلاق بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنائیں گے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا سارا کچھ دین کا سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔

اب بتاؤ، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے ہی میں کامیابی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا ہے؟ وہ سنت رسول ہے۔ تو سنت پر چلنے میں کامیابی ہے۔

«أَطِيْعُوا اللّٰهَ وَأَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ»

اگر ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلیں گے، کامیابی ہے۔ تو سنت کی اہمیت تو یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ جو ہے، وہی اللہ نے برقرار رکھا ہے معیار کے طور پر۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ جو کام بھی حضور کے طریقے پر نہیں ہوگا، وہ ہوا میں چلا گیا۔ اس وجہ سے ہمیں اپنے آپ کو اس مضبوط کڑے کے ساتھ، مضبوطی کے ساتھ باندھنا پڑے گا۔ کسی طرح بھی اس طرح بھی ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے ہٹ نہ جائیں۔

سوال:موجودہ دور میں سنت کے مطابق شادی کیسے کی جا سکتی ہے؟ عموماً ایسا دیکھا گیا ہے کہ شادی کے موقع پر انسان کسی کو سمجھا نہیں سکتا کہ رسومات شیطان کا طریقہ ہیں اور سنت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ لہٰذا ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ہم شادی سے پہلے کیا Planning کریں، تاکہ سنت کے مطابق شادی ہو سکے؟

جواب:

اصل میں جو بھی سنت معاشرت سے تعلق رکھتی ہو، وہ مشکل تر ہوتی ہے، اس پر عمل کرنا مشکل تر ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں دوسرے لوگوں کا جو Response ہوتا ہے، وہ اس میں شامل ہوتا ہے۔ جو سنتیں انسان کی انفرادی ہیں، ان پر انسان آسانی کے ساتھ عمل کر سکتا ہے، کیونکہ اس کے لیے کسی اور سے کچھ نہیں کہنا پڑتا، اپنے آپ ہی کو سمجھانا ہوتا ہے، اپنے نفس ہی کا مقابلہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر انسان خود Convince ہو جائے، تو اپنے نفس کو منوانا پھر اتنا مشکل نہیں رہتا اور انسان اس پر عمل کر سکتا ہے۔ پہلی بات۔

دوسری بات؛ پھر اس کے بعد نسبتاً آسان، اس سے مشکل لیکن معاشرتی سنتوں سے آسان، وہ معاملات کی سنت ہے۔ کیونکہ معاملات میں صرف دو شخصوں کا آپس میں معاملہ ہوتا ہے۔ تو اگر آپ نے اپنے آپ کو بھی سمجھایا اور تھوڑی سی بقول ان کے لفظوں کے Planning کر لیں اور مطلب ظاہر ہے Convince کر لیں تو ایک کو Convince کرنا اتنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا اپنے علاوہ۔ تو لہٰذا معاملات کی سنت کے مطابق نسبتاً جلدی بنائے جا سکتے ہیں۔

لیکن شادی جو ہے، یہ دو آدمیوں کا معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ دو خاندانوں کا معاملہ ہوتا ہے آپس میں۔ اور خاندانوں میں سب کی تربیت کا ہونا، یہ تو بہت زیادہ Rare case ہے کہ سب کی تربیت ہو۔ بالخصوص ایسی حالت میں کہ جو بڑے ہوں، مثال کے طور پر دونوں طرف کے والدین جو ہوں، وہ پرانے اس سے تعلق رکھتے ہوں اور انہوں نے خوب ٹھن کے وہ ساری رسومات ہر چیز میں کی ہوتی ہیں۔ تو ان کو سمجھانا پھر زیادہ مشکل ہوتا ہے اور انسان کی Position بھی وہ نہیں ہوتی ان کو سمجھانے کی۔ اس کے لیے انسان کو کافی لمبی Planning کرنی پڑتی ہے، اور لوگ جو ان کی مانتے ہیں، ان کو منانا پڑتا ہے اور پھر اس کے بعد کوئی مسئلہ حل ہوتا ہے۔ اور دو طرف والا معاملہ ہوتا ہے، کبھی ایک طرف ٹھیک ہوتا ہے تو دوسری طرف نہیں مانتا، کبھی دوسری طرف ٹھیک ہوتا ہے تو پہلی طرف نہیں مانتا، مطلب اس میں آپس میں کافی مسئلہ ہوتا ہے، ہمارے پشتو میں اس کو "لانجہ" کہتے ہیں، لانجہ ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے بھئی؟ لانجہ کا اردو ترجمہ کیا ہوتا ہے؟ یعنی Complications میں اس کو انگریزی میں آسانی سے کہہ سکتا ہوں۔ تو وہ انگریزی کا ترجمہ آسان کر دیا، آسانی کے ساتھ کر دیا پشتو کا نہیں کر سکا۔

یہ جو مسئلہ ہے، کہ دو خاندانوں میں مسئلہ بڑا ہی پیچیدہ ہوتا ہے۔ اور اس میں کافی سنبھل کے چلنا پڑتا ہے۔ کیونکہ تھوڑی سی بھی بے احتیاطی سے سارا معاملہ بگڑ سکتا ہے۔ کیونکہ شیطان پوری تاک میں ہوتا ہے۔ وہ موقعے کی تلاش میں ہوتا ہے۔

میں نے شادی کی رسومات کو کافی غور سے دیکھا ہے۔ بچپن کی بات کر رہا ہوں، ابھی نہیں، ابھی تو الحمد للہ میں ان شادیوں میں شرکت ہی بہت کم کرتا ہوں۔ لیکن بچپن کی بات کرتا ہوں کہ بہت غور سے میں نے دیکھا ہے۔ اس میں یہ صورتِ حال ہوتی ہے کہ عورتوں کا مسئلہ زیادہ Tight ہوتا ہے۔ عورتوں نے اپنی رسمیں پوری کرنی ہوتی ہیں۔ ایک ایک چیز ان کو یاد ہوتی ہے، اور بلکہ اگر ان کو یاد نہ ہو تو ان کی جو سہیلیاں ہوتی ہیں ان کو یاد ہوتی ہیں۔ اور وہ ایک ایک کر کے ان کو پورا کرنا چاہتی ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ تو اس طرح کا کیا ہوتا ہے، مطلب ظاہر ہے وہ خوشی کا دن ہے، خوشی کا موقع ہے اور اس کے بغیر کوئی خوشی کسی کو پسند نہیں آتی ہماری اور یہ اور وہ۔ ایک قسم کا ایک طمار سا مارتا ہوتا ہے۔ایسی صورت میں مطلب ظاہر ہے کہ قدم قدم پہ احتیاط کا دامن۔۔۔ یعنی ان کے اکرام سے بھی نہیں کرنا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ سمجھانا بھی ہوتا ہے۔ تو یہ جو سوال ہے، اس میں بڑی اچھی بات ہے کہ پہلے سے کیسے Planning کی جائے۔ یہ میری والی بات۔

فکر آ گئی تو میرے پاس یہ ہے۔ اس میں اس قسم کی ایک شادی کی مطلب یعنی روداد پہلے سے بنائی گئی ہے۔ اس کتاب میں الحمد للہ ہم نے جو معاشرتی مسائل ہیں، ان کو کافی لیا ہوا ہے۔ کیونکہ وہ معاشرت کی یہ چیزیں بہت مشکل ہیں۔

تو اس میں ایک ہے نظم "شادی، خانہ آبادی"۔ تو ماں بیٹے سے کہتی ہے، دیکھیں نا ابتدا عورتوں سے ہی ہوتی ہے۔

شادی خانہ آبادی

بیٹا دل چاہتا ہے اب تیری شادی کرلوں

میں اپنے سامنے تیری خانہ آبادی کرلوں

میں چاہوں تیری شادی بڑی دھوم دھام سے ہو

تیرا ولیمہ بہت تزک و احتشام سے ہو

تیرا ہر کام اس میں خوب انتظام سے ہو

تزئین و آرائش اس میں خوب اہتمام سے ہو



ایسی شادی ہو کہ اس کی کوئی مثال نہ ہو




یعنی اس پہ کافی زور دیا جاتا ہے کہ بس ہماری طرح کوئی اور نہ کر سکے۔ یہ بڑے بڑے چوہدری اور خان اور یہ سب اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔


ایسی شادی ہو کہ اس کی کوئی مثال نہ ہو

کیوں نہ ہر چیز میں مثالی یہ میرا لال نہ ہو

برادری میں ہر ایک کی دعوت کر لوں

اپنی عزت کے لیے ساروں کی عزت کر لوں

کوئی ناراض نہ ہو سب کی میں خدمت کر لوں

کیا مزہ ہو کہ مبارک اور سلامت کر لوں


اس میں پشتو آئی ہے نا میرے خیال میں! اردو میں بھی اس طرح ہوتا ہے، مبارک سلامت ہوتی ہے۔ یہ پشتو میں زیادہ تر آتا ہے۔


جو مخالف ہے ہمارا، اس کو منانا ہے

تجھ پہ قربان! بس ہر ایک کو گھر میں لانا ہے

بیٹا ماں سے


بیٹا ماں سے کہتا ہے، یہ کوئی پہلے سے Convinced ہے۔


ماں جی یہ ٹھیک ہے، شادی تو ہے سنت کا عمل

سب کچھ سنت کے مطابق ہو تو پھر یہ ہو اصل

آپ نے جو میری شادی کا ہے نقشہ کھینچا

میرے ابا کے شاید بس میں نہیں ہے ایسا

کہ ہر ایک چیز پہ لگتا ہے بہت ہی پیسہ

تو اس صورت میں یہ سب کچھ ہو مگر ہو کیسا؟


اس کے اسباب میسر نہ ہوں تو پھر کیا کریں؟

کیوں یہ بہتر نہیں کہ اپنی ہی اوقات میں رہیں؟


بیٹے نے بڑی احتیاط کے ساتھ، تاک کے تیر مارا ہے۔ بالکل ٹھیک ہے۔


اچھا! ماں کہتی ہے:



بیٹا یہ ٹھیک ہے اسباب میسر تو نہیں


اب ذرا سا ٹال مٹول جس کو کہتے ہیں کسی طریقے سے کام کو نکالنا

بیٹا یہ ٹھیک ہے اسباب میسر تو نہیں

تیرے ابا کے جو ہیں دوست، وہ گئے نہ کہیں؟

ان سے قرض لے کے بھی ہو سکتا ہے سب کچھ اور یہیں

اور مزید بیچ بھی سکتے ہیں یہ تھوڑی سی زمیں



اکثر ایسا ہی ہوتا ہے، موقعوں پہ پھر زمینیں وغیرہ بھی بک جاتی ہیں۔


بیٹا ہمت ہو اور دل میں ہو خدا پہ یقین

بیٹا کیا کام ہے دنیا میں کہ ممکن وہ نہیں؟


اب بیٹا کہتا ہے:


ماں جی! اللہ پہ یقین ہو تو شریعت پہ چلیں

اس نے ادھر سے لے لیا Signal، ٹھیک ہے جی، اللہ کے یقین کا اس نے دیا نا، وہ بھی اس نے اس لیے دیا ہوگا کہ بھئی میرا بیٹا ذرا دیندار ہے تو ان کو وہ بات بتاؤ تاکہ اسی لحاظ سے مان جائے۔ اور یہ بہت زبردست ہوتا ہے، واقعتاً آپ کی باتوں کو، آپ کے لیے بنیاد بنایا جائے ۔





ماں جی! اللہ پہ یقین ہو تو شریعت پہ چلیں

کیوں نہ ہم اس کے ہی محبوب کی سنت پہ چلیں؟

اور رکاوٹ ہو اگر اس میں تو ہمت پہ چلیں

جھوٹ کو چھوڑ کر ہم صرف صداقت پہ چلیں


ہم کو لوگوں کا نہ پھر ڈر ہو، خدا سے ہی ڈریں

جو پسند اس کو ہو، ہر حال میں بس وہ ہی کریں

کیوں نہ شادی میں،علی کی میں پیروی نہ کروں؟

اس میں جو آپ ﷺ نے کیا ہے، کیا وہی نہ کروں؟

کیا ان کی طرح اس عمل میں سادگی نہ کروں؟

کیا اس کے ساتھ اپنے دل کی تسلی نہ کروں؟


اپنے محبوب سے اس عمل میں کیوں وفا نہ کرے؟

دل تو چاہے ہے کہ بس اس ذوق سے ہٹا نہ کرے

مزے چند روز اور لمبی افسردگی اپنی

پریشان زندگی گزرے جو پھر ساری اپنی

کیا ہو اچھا کہ ہو سادہ ہی شادی اپنی

کچھ نہ ہو قرض، مزے سے ہو زندگی اپنی


قرض کا جھنڈا ہے ایک ذلت کا، اس کو کیوں گاڑیں؟

بجائے اس کے، رسومات ہی کا سر پھاڑیں

وقتی بات ہے نا، قرض تو بہت مدت کے لیے ہوتا ہے پھر، اور اس میں صرف یہ ہے کہ اگر ناراض بھی ہو جائیں تو تھوڑے دنوں کے لیے، پھر بعد میں مان جاتے ہیں، ان کو عقل آ جاتی ہے۔ وہ بھی ذرا جوش میں ہوتے ہیں نا برادری والے، لیکن جب وقت گزر جاتا ہے، وہ آہستہ آہستہ ان کو عقل آ جاتی ہے، او یار یہ تو بچہ تو ٹھیک ہے۔ ہاں، ٹھیک ہی کہتا ہے۔

جس میں دنیا کی بھی ذلت ہو، آخرت بھی تباہ

اس قسم کا کام کرے کیوں، ہم میری ماں جی بتا؟

لوگ کسی حال میں بھی خوش نہ ہوں تو ان کا کیا؟

لوگ ہوں خوش اور ناراض رہے میرا خدا؟



اب تو ابا سے ہی پوچھوں گا، کیا ارشاد ہے اب؟

فیصلہ ان سے ہی اس باب میں کروں میں طلب؟


صحیح وقت پہ پوچھا ہے، اگر پہلے پوچھتے تو باپ بھی ماں کے ساتھ ہی ہوتے، لیکن اس کے سامنے نقشہ کھینچا کہ بھگتنا تو اس کو پڑے گا۔ تو اس نے پھر پوچھا کہ آپ بتائیں کیا کریں۔


باپ

بیٹا میرا بھی ارادہ تو تیری ماں کا جو تھا

مگر جو بات کی ہے تو نے تو اب وہ نہ رہا

کیا پیاری بات کی ہے تو نے، ہوں اب اس پہ فدا

لوگ ناراض ہوں کچھ بھی نہیں، راضی ہو خدا



لوگ کس حال میں معلوم ہے، خوش ہوتے نہیں

دل پہ ہم کیوں لیں یہ، مولا پہ ہے اگر ہم کو یقیں

فیصلہ یہ ہے کہ اس میں بھی ہم سنت پہ چلیں

خدائے پاک کی لامحدود اس حکمت پہ چلیں

اپنا نقصان نہ کریں اور ہدایت پہ چلیں

جو نہ مانے تو ہم ان سے معذرت پہ چلیں



معذرت کر لیں۔


میرا بیٹا رسول اللہ ﷺ کا خادم بن جائے

اس طرح نور سے بھرپور ہر مسلم بن جائے


ماں پھر اب کہتی ہے:

اب ماں کو بھی یقیناً آئینہ نظر آ ہی گیا۔




میں کیوں پیچھے رہوں حق کے ماننے سے اب

ساتھ دوں گی میں یقیناً، حق مجھ پہ کھل گیا جب

لازم ہے فکر کریں اس کی مسلمان ہم سب

کہ راضی کر لے خوشی میں بھی غمی میں بھی رب


زندگی اپنی خوشگوار ہی بن جائے گی

ہر گھڑی اجر شبیرؔ سب کے لیے لائے گی

تو یہ Planning بھی اس میں آ گئی۔ اور مطلب یہ ہے کہ اس میں طریقہ کار بھی آ گیا کہ کس طریقے سے بات کرنی ہے۔ اور یہ جو Matters ہیں، یہ بالکل Facts ہیں۔ تو Facts کو ذرا طریقے سے سامنے لانا ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، بالکل واضح کھری اور پکی باتیں ہیں۔ کیونکہ جو لوگ بڑے کچھ پیسے والے ہیں، تو ان کے لیے تو چلو وہ مسائل نہ ہوں، تو ان کو منوانا بھی مشکل ہوتا ہے۔ لیکن بہت سارے لوگ، more than 70, 75%ان کے حالات یہی ہوتے ہیں، جو اس میں بتائے گئے ہیں۔ تو یہ% 70, 75 اگر ٹھیک ہو جائیں، تو باقی 30 percent کو بھی حیا آ ہی جائے گی۔ وہ بھی سمجھ جائیں گے کہ ہمیں یہ کرنا چاہیے۔ اور واقعتاً مجاہدے کے ساتھ کام بنتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب مجاہدہ انسان کرتا ہے، یہ دیکھو اس میں ایک فرد مجاہدہ کرتا ہے، وہ ایک Unit ہوتا ہے۔ تو پھر باقی لوگ جو جسم کی طرح ہوتے ہیں، تو ان کے لیے پھر راستے کھل جاتے ہیں۔

عموماً ہوتا یہ ہے کہ Convince سارے اندر اندر ہوتے ہیں، کون اپنا فائدہ نہیں کرنا چاہتا؟ مسئلہ کیا ہوتا ہے؟ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ Face نہیں کر سکتے، Face نہیں کر سکتے، کہ لوگ کیا کہیں گے؟ لوگ کیا کہیں گے؟ اسی میں پھنسے ہوتے ہیں۔ اب اگر کسی نے ایک دفعہ Step لے لیا، تو ساری چیزیں اس کو سننی پڑتی ہیں، وہ سن لے گا، لیکن دوسروں کے لیے آسانی بن جائے گی۔ ان کے لیے نمونہ بن جائے گا کہ او جی فلاں نے یہ کیا ہے تو کیا ہو گیا؟ بس ٹھیک ہے نا اس طرح ہم بھی کر سکتے ہیں۔ یہ والی بات آ جاتی ہے۔ تو اس وجہ سے جو لوگ Step لے لیتے ہیں، تو پھر وہ سنت زندہ کرنے والی بات کا اجر پھر ان کو ملے گا نا۔ ترک شدہ سنت کو زندہ کرنا کوئی آسان بات تو نہیں ہوتی نا۔ تو پھر اللہ پاک اس کا اجر بھی دیتے ہیں۔

تو الحمد للہ! اللہ کا شکر ہے ہماری جو اپنی شادی تھی، تقریباً ایسی ہی بات ہوئی تھی۔ ہمارے خاندان میں ساری چیزیں رہی تھیں، ساری تھیں جو، ترتیبیں، میں نے بچپن میں یہی تو دیکھا تھا۔ تو پھر اس کے بعد جب اللہ کا شکر ہے ایسا ہی ہوا تو یہ۔۔۔ اس کے لیے واقعی پہلے سے ذہن سازی شروع کر لی تھی۔ اور آہستہ آہستہ ادھر اور جو دوسرا خاندان تھا ان کے وہاں پہ۔۔۔ یہ کہ بات چلا چلا کے، دونوں کو آئینہ نظر آ گیا کہ یہ تو مانے گا نہیں۔ مانے گا تو نہیں تو چلو پھر ہم مان لیتے ہیں۔ یعنی اس قسم کی بات ہو ہی گئی۔ اب طریقہ میں نے یہ اختیار کیا۔۔۔ میں Planning کے لیے بتا رہا ہوں نا کہ Planning کیسے کرنی ہوتی ہے۔

گھر والوں سے میں نے کہا کہ۔۔۔ کہتے ہیں لوگ کیا کہیں گے، میں نے کہا اگر میں لوگوں کو منا لوں تو پھر؟ کہتے ہیں پھر ٹھیک ہے۔ میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ میں مسجد چلا گیا۔ مسجد میں ہمارے ایک بہت پرانے بوڑھے آدمی تھے حاجی آدم خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ، بہت نیک آدمی تھے اور مالدار بھی بہت تھے لیکن ان کی مالداری نیک کاموں کے لیے تھی، مسجد میں پنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے یا کوئی اس طرح، سب سے آگے وہی ہوتے تھے۔ تو سب لوگ ان کے۔۔ یا کبھی قرض ان کو دیا ہے یا کبھی ان کا کوئی بھلا کیا ہے تو ان کے ممنون تھے، لہٰذا ان کے سامنے کوئی نہیں آتا تھا۔ تو میں مسجد میں گیا ان کے پاس ہی۔ میں نے کہا حضرت حاجی صاحب ایک مشورہ آپ سے کرنا ہے۔ کہتے ہیں کیا کرنا ہے، باچا بتاؤ؟ وہ ہم جیسے یہاں شاہ صاحب کہتے ہیں، وہاں باچا کہتے ہیں۔ باچا بتاؤ! تو میں نے کہا کہ میں نے شادی کرنی ہے لیکن اگر شادی رسومات کے مطابق کروں تو دس سال تک تو میں نہیں کر سکتا۔ اور اگر سنت کے مطابق کروں تو آج بھی کر سکتا ہوں۔ تو آپ کیا مشورہ دیں گے؟ حاجی صاحب نے کہا باچا! ہم آپ کے ساتھ ہیں، جیسے بھی کریں نا ہم آپ کے ساتھ ہیں کوئی پروا نہ کریں۔ تو جو بڑے بوڑھے اور مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے بھی کہا جی بالکل ٹھیک ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں کوئی پروا نہ کریں۔ بس میں گھر آ گیا، میں نے کہا بڑوں کو تو میں نے منوا لیا، چھوٹوں کی مجھے پروا نہیں۔ بڑوں کو تو میں نے منوا لیا، اب حیران ہوں گے کہ میں نے اپنے گاؤں میں کسی کو بھی نہیں بلایا تھا۔ تصور کریں! کسی کو بھی نہیں بلایا تھا، کیونکہ میں نے کہا ایک کو بلاؤں گا تو پھر وہ مسئلے شروع ہو جائیں گے، یہ کیوں اور یہ کیوں اور یہ کیوں۔ گاؤں کا اپنا Culture ہوتا ہے۔

پھر آگے دوسرے سسرال والی بات، سسرال والوں کے ساتھ ہم نے یہ کیا مشورہ طے ہو گیا، ایک تو مہر والا مسئلہ سنت کے مطابق والی بات، پھر یہ مشورہ ہوا کہ ہم صرف اپنے چچاؤں کو لائیں گے، عورتوں کو نہیں، صرف مردوں کو۔ اور جو چچا نہ ہو یا فوت ہو چکا ہو یا وقت پہ نہ ہو، اس کے بڑے بیٹے کو لائیں گے بس! عورتوں میں صرف اپنی بہنیں ہوں گی۔ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا، والدہ بیمار تھیں، آپریشن ہو چکا تھا، ان کی جگہ بڑی خالہ۔ والدہ کی جگہ بڑی خالہ۔ بس یہ فارمولا طے ہو گیا۔ اس فارمولے نے بڑا فائدہ پہنچایا، کیونکہ اس میں Calculation پھر نہیں تھی کوئی وہ Claim نہیں کر سکتا تھا نا، بھئی فارمولا ہے بس ہم نے اس پہ کیا ہے، اور فارمولا بھی غلط نہیں تھا۔ یعنی ظاہر ہے چچا والد کی جگہ پہ ہوتے ہیں، والد تھے نہیں۔ والدہ بیمار تھیں تو خالہ، باقی اگر چچا نہیں ہیں تو ان کا Representative ان کا بڑا بیٹا۔ بالکل فارمولا طے تھا۔

تو اللہ کا شکر ہے کہ وہ پہنچ گئے اور میرے چچا جو تھے وہ فاضلِ دیوبند تھے، ما شاء اللہ مولانا انوار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ، تو جس وقت نکاح پڑھوانے کی بات آئی تو جو گاؤں کے بڑے تھے، وہ بھی فاضلِ دیوبند تھے، لیکن ذرا تھوڑے سے رسومات کا خیال وغیرہ رکھتے تھے۔ تو یہ میرے چچا پروا نہیں کرتے تھے، یہ بہت جری آدمی تھے، یہ پروا نہیں کرتے تھے رسومات وغیرہ کی۔ لہٰذا ان کو میں نے Confidence میں لیا ہوا تھا۔ تو میں نے کہا چونکہ میرے چچا نے میرے والد صاحب کا جنازہ بھی پڑھایا تھا حالانکہ انہوں نے مجھے کہا تھا کہ آپ پڑھائیں۔ تو میں نے کہا نہیں آپ موجود ہیں تو پھر میں نہیں پڑھاؤں گا، تو میں نے ان سے پڑھوایا تھا۔ تو میرا خیال ہے کہ نکاح بھی یہ پڑھائیں۔ اس پر جو مولوی صاحب تھے وہ کافی غصے ہو گئے، ظاہر ہے علاقے کے بڑے بھی تھے اور بڑے مولوی صاحب تھے، چھوٹے تو نہیں تھے کہ اس وقت کے جوان اس طرح ہیں اور یہ اور وہ فلانا۔ تو چچا نے ان کو بہت آرام سے سمجھایا کہ حضرت! بات اس نے کوئی اتنی غلط بھی نہیں کی ہے۔ ٹھیک ہے آپ کا ہونا چاہیے تھا، میں بھی یہی کہتا ہوں۔ کیونکہ آپ سب کے نکاح پڑھاتے ہیں، لیکن اس کی ایک خواہش ہے۔ تو یہ خواہش ناجائز بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی ناجائز ہو تو پھر ان کو روکا جائے۔ تو ٹھیک ہے اس میں کوئی مسئلہ نہیں آپ کو ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کے سارے حقوق ادا ہوں گے۔ تو پھر ٹھیک ہے وہ مان گئے، ادھر سے نانا تھے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ الحمد للہ اللہ کا شکر ہے کہ نکاح بھی ہو گیا۔

آپ حیران ہوں گے کہ ایک ویگن ہم نے کی تھی جس میں دولہا دلہن اور اپنے گھر کے افراد اور راستے میں ہم نے دو چچاؤں کو اتارا بھی۔ اور راولپنڈی ہم آئے اور راولپنڈی والوں کو بھی، یعنی اسلام آباد جو ہماری کالونی ہے ان میں کسی کو پتہ ہی نہیں کہ ہماری شادی ہے۔ کیونکہ اگر بھنک پڑ جاتی تو مصیبت بن جاتی پھر خوامخواہ۔ پتہ ہی نہیں تھا۔ ہم پہنچ گیا لوگ حیران ہیں کہ بھئی یہ کیا کیا ہو رہا ہے گاڑی آ گئی، یہ ہو گیا وہ ہو گیا۔ خیر میں سب سے پہلے پہنچا اپنے ہاسٹل چونکہ میں نے ولیمہ کروانا تھا۔ ولیمہ ہی سادہ طریقے سے کروانا تھا۔ تو میں گیا ہوں تو میں نے اپنے ساتھی صابر حسین صاحب، ان کو کہا صابر مجھے مبارکباد دو۔ کہتا ہے کس چیز کی؟ میں نے کہا میں نے شادی کی ہے۔ تو اچھلا کہتا ہے کیا کہا؟ میں نے کہا بھئی میں آپ کے پاس آیا ہوں ابھی آپ نے انتظام کرنا ہے ولیمے کا۔ تو اس کو ہوش آیا کہ بھئی واقعی بات تو صحیح ہے۔ بات تو صحیح ہے۔ کہتا ہے مولانا یہ کیا کیا؟ میں نے کہا چھوڑو یار یہ بعد میں بتاؤں گا ابھی فی الحال آپ ولیمے کا بندوبست کرنا ہے۔ اچھا ٹھیک ہے جی، ہو جائے گا، بتاؤ کیا کرنا ہے؟ میں نے کہا بھئی ہمارے 20 گھر ہیں Officers کے پڑوس بھی یہی ہے، تو پڑوس والوں کا حق ہے۔ آگے ہم Extend نہیں کریں گے، کیونکہ Extend کریں گے تو پھر پورا کرنا مشکل ہو گا۔ تو لہٰذا صرف ان کو دعوت دیں، ایک ایک فرد کو۔ تو یہ 20 کھانے تو یہ ہو گئے۔ جس میں ہم بھی شامل ہیں، آخر میں بھی تو ان 20 میں ہوں۔ تو یہ 20 کھانے ہو گئے، اور ہمارے گھر کے جو افراد ہیں ان کے لیے آپ کہہ دیں، اور پھر یہ ہے کہ رشتہ داروں میں ادھر اور کوئی رشتہ دار تو ہے نہیں یوسف صاحب ہیں تو وہ شامل ہو جائیں گے۔ بس رشتہ داروں کی طرف سے نمائندگی ان کی ہو جائے گی۔ اور باقی ہم ۔تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے، بس اس نے اب ہاسٹل کو Order دے دیا، وہ Mess کو، اتنے کھانے وقت پہ ہمارے پہنچ گئے۔ اور سب کو ہم نے بلایا تھا اور یہ ولیمہ ہو گیا۔ ولیمہ ہو گیا جی!

اس پر ایسا ہوا کہ ہمارے رشتہ داروں نے کافی کان بھرے سید تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے، کہ دیکھو نا یہ ولیمہ تو رشتہ داروں کا حق ہوتا ہے، اس نے دوسروں کو کھلایا، یہ ہے، وہ ہے، سارا کچھ۔ اب میں ادھر گیا ہوں تو حضرت بھرے ہوئے ہیں۔ مجھے فرمایا یہ کیا کیا تو نے، کہاں سے یہ چیزیں سیکھیں؟ میں نے کہا حضرت غلطی تو یقیناً میں نے کی ہوگی اس میں کوئی شک نہیں، لیکن میں اپنا اگر عذر بتا دوں تو پھر آپ دیکھ لیں۔ کہتے ہیں کیا عذر تھا؟ میں نے کہا حضرت ہماری جو کالونی ہے وہ بند کالونی ہے یعنی کھلی نہیں ہے کہ ہر ایک نہیں آ سکتا۔ بالخصوص وہاں پر Stay نہیں کر سکتا بغیر پوچھے، ظاہر ہے ہماری کالونی تھی نا دفتر کی۔ تو وہاں کوئی Stay نہیں کر سکتا رات کو اگر Permission نہ ہو۔ اب اتنے سارے لوگوں کی Permission میں لے نہیں سکتا۔ تو اب اگر میں کسی کو گاؤں سے ان کو کہہ دوں بھئی عصر سے پہلے پہلے واپس جاؤ، ان کو بھیجوں تو ایک کھانے کے لیے ان کو بلانا یہ مجھے ظلم لگتا ہے ان کے اوپر۔ تو میں نے اس وجہ سے اپنے دور کے رشتہ داروں کو نہیں بلایا۔ ہاں ایک قریبی رشتہ دار میرا تھا یعنی اسلام آباد میں جو ہمارا تھا، ہو سکتا تھا، وہ ان کو میں نے بلایا، آپ ان سے پوچھیں۔ ان کو میں نے بلایا، تو رشتہ داروں کی طرف سے وہ نمائندگی کر رہا تھا۔ باقی پڑوس کا حق ہوتا ہے اور رشتہ داروں کے بعد، تو پڑوسیوں کو میں نے بلایا تھا۔ تو ولیمہ یہی ہوتا ہے۔تو ولیمہ یہی ہوتا ہے میں نے تو اپنے خیال میں ایسا ہی کیا۔ ہاں غلطی میں نے کی ہوگی وہ میں مانتا ہوں، جو بھی آپ فرمائیں۔ حضرت کی طرف فوراً بات کھل گئی، فرمایا نہیں بالکل ٹھیک کیا آپ نے۔ اور اگر غلط بھی کیا ہو تو نیت صحیح تھی۔ تو لہٰذا اللہ پاک معاف کر دیتے ہیں پھر ایسی حالت میں۔ تو بس ٹھیک ہے آپ نے اچھا کیا، کوئی پروا نہیں میں سمجھ گیا۔ چلیں جی وہ معاملہ بھی Clear ہو گیا۔ اب آگے ایک مسئلہ اور آیا۔

چھٹی کے لیے درخواست میں نے دی تھی دو دن کی۔ ڈاکٹر انعام صاحب ہمارے، اس کے پاس چھٹی کی درخواست گئی۔ انہوں نے بڑا موٹا موٹا اس پہ لکھا "نامنظور"۔ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب نے ہماری درخواست کو کیسے نامنظور کیا؟ میں دھڑا دھڑ پہنچ گیا دفتر میں، السلام علیکم سر، وعلیکم۔ سر یہ آپ نے نامنظور لکھا ہے؟ انہوں نے کہا یہ آپ نے کیا لکھا ہے ادھر یہ کیا لکھا ہے؟ میں نے کہا لکھا ہے شادی "Self-marriage"۔ Self-marriage تو دو دن کی چھٹی اس کے لیے تو مہینے کی چھٹی لیتے ہیں! یہ کیا طریقہ ہے؟ میں نے کہا سر مجھے تو دو دن کی چھٹی بھی نہیں چاہیے۔ کیونکہ میں کالونی میں ہی ہوں، کہیں اور تو نہیں گیا ہوں۔ اور رشتہ داروں نے ٹھہرنا نہیں ہے، یہ بھی اپنے گھر والوں کے لیے میں ٹھہرا ہوں، تو مجھے کوئی وہ تو نہیں ہے میں دفتر کے پاس ہی ہوں۔ تو اس وجہ سے کہتا ہے اچھا اچھا مجھے بتاؤ ولیمہ کب کرو گے؟ اب ولیمہ تو ہمارا ہو چکا تھا اگلے دن۔ میں نے کہا سر آپ جیسے چاہتے ہیں بالکل اسی طرح کر لیتے ہیں۔ تو وہ Students ہی نے، ہمارے جو ساتھی تھے انہوں نے اکٹھا کر کے وہ سارا وہ کر لیا، وہ کیا نہیں ہوتا Party! وہ Party انہوں نے کر لی، اور وہ ولیمہ بن گیا، اس کو ہم نے ولیمہ کہہ دیا۔ تو بس اس طریقے سے سارے لوگ خوش ہو گئے۔

اور اس کے بعد الحمد للہ ثم الحمد للہ جب وہ لوگ پھنستے ہیں نا، چیختے ہیں اپنی رسومات سے، کہتے ہیں آئندہ ہم شبیر کی طرح کریں گے۔ تو اسی طریقے سے پھر بعد میں جمعہ کے بیانات میں بھی اس پہ ہماری دونوں گاؤں میں بات ہوتی رہی۔ تو مطلب یہ ہے کہ الحمد للہ اللہ پاک کی مدد ہوتی ہے، ایسا نہیں کہ انسان کر نہیں سکتا، کر سکتا ہے۔ لیکن ابتداء میں بڑی ہی وحشت ناک صورت سامنے ہوتی ہے، آدمی کہتا ہے، اوہ! یہ کیا ہوگا؟ یہ کیا ہوگا؟ یہ کیا ہوگا؟ لیکن جس وقت انسان عمل شروع کر لے،

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا

پھر اللہ پاک راستے بھی کھول لیتے ہیں اور مسائل بھی حل فرما دیتے ہیں۔ کوئی مشکل پھر نہیں رہتی۔

اپنی طرف سے یہ بات ہے۔ Planning اس کے لیے کرنی ہے اور Coordination آپس میں کرنا ہے۔ تاکہ مسئلہ بڑھے نہیں، رکا رہے، Stable ہو جائے آدمی، بس اس کے لیے کیونکہ یہ معاشرتی مسئلہ ہے، ایک دفعہ Flare کر گیا تو پھر Control کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر لوگوں کو بات کرنے کا موقع مل جاتا ہے، سو زبانیں، سو باتیں۔ تو اس میں بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ تو بس یہی طریقہ ہے اللہ جل شانہٗ ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے۔

سوال:

ہمارے علاقوں میں فوتگی کے موقع پر بہت ساری رسومات ہوتی ہیں۔ ان رسومات میں لوگ ثواب بھی سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ بدعات میں بھی شمار ہوتی ہیں چونکہ لوگ اس کو ثواب سمجھتے ہیں، اس لیے رسومات کے خلاف ان فوتگی کے موقع پر بات کرنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں یہ موقع آنے سے پہلے لوگوں کو سمجھانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ اور عین فوتگی کے موقع پر سنت کے مطابق یہ موقع گزارنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟


جواب:

جی ہاں، غم اور خوشی، یہ ایک ہمارے پشتو میں کہتے ہیں بہن بھائی ہیں جیسے خوشی کے موقع پر لوگ خوشی سے پاگل ہو جاتے ہیں۔ اور نہ اپنا فائدہ دیکھتے ہیں، نہ دوسروں کا فائدہ دیکھتے ہیں، اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس طرح یہ جو فوتگی کا ماحول ہے، اس میں غم کے مارے بے حال ہو جاتے ہیں اور جو لوگ کہتے ہیں وہ پھر وہ کرتے جاتے ہیں۔

اب یہ دو وجوہات جو ہیں، خوشی اور غم، اس وقت کیا ہوتا ہے اور اس سے کیا ہوتا ہے اور ہمیں اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے، اصل میں اسی پر غور کرنا ہے۔


تو خوشی کے وقت انسان جوش میں ہوتا ہے، اور اس وقت وہ اس جوش کی وجہ سے ہوش میں نہیں ہوتا، اور اپنے فوری مزے کے لیے بعد کے نقصانات کو برداشت کرتا ہے۔ تو اس چیز کو یا اس موقع کے احساس کو نعمت کے احساس میں بدلنا چاہیے۔ اور اس موقع پر جو شکر کی کیفیت ہونی چاہیے، وہ طاری کرنی چاہیے۔ تو سب چیزیں سنت کے مطابق ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ شکر ایک ایسی چیز ہے جو ایک دینی امر ہے، لہذا اس کا سب سے زیادہ بہتر طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے طریقے پر شکر کرنا ہوگا۔ تو سنت کے مطابق یہ ہو جائے گا خود بخود؛کیونکہ یہ جو رسومات ہیں ان کا تعلق دین کے ساتھ نہیں ہوتا، صرف جذبات کے ساتھ ہوتا ہے۔ لہذا جذبات ہندو میں، اور مسلمان میں، اور کافر میں، مسلمان میں مشترک ہوتے ہیں، مطلب اس میں تو کوئی فرق نہیں ہوتا۔ لہذا ہندو جس طریقے سے خوش ہو رہا ہے، مسلمان بھی اس طریقے سے پھر خوش ہو سکتا ہے۔ ہندو اگر ناچ رہا ہے، تو مسلمان بھی ناچ سکتا ہے۔ ہندو اگر music میں اپنے آپ کو وہ مبتلا کیے ہوئے ہے، تو مسلمان بھی کر سکتا ہے۔ اور پھر پڑوس کا اثر ہوتا ہے۔ تو پڑوسیوں نے جس طریقے سے کیا ہوتا ہے، تو اس کے طریقے سے پھر یہ بھی کر لیتے ہیں۔

تو گویا کہ اگر اس کو ایک دینی امر میں تبدیل کیا جائے پہلے، یعنی پہلے یہ سمجھا جائے کہ اللہ پاک نے نعمت ہمیں دی ہے، اور اس پر ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ شکر کرنے سے نعمت بڑھتی ہے۔ تو پھر شکر ہم کیسے کریں گے، اس کے لیے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ ظاہر ہے مطلب وہ طریقہ تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے سیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر صرف محض جذبات کو دیکھنا ہو تو پھر لوگ ہندوؤں کی طرف بھی دیکھتے ہیں، یہودیوں کی طرف بھی دیکھتے ہیں، عیسائیوں کی طرف بھی دیکھتے ہیں، اس میں پھر کوئی جیسے بعض لوگ ہوتے ہیں نا یہ جو شمعیں روشن کرتے ہیں۔ تو یہ عیسائیوں کا طریقہ ہے۔ تو اب یہ ظاہر ہے مطلب ہے کہ۔۔۔ یا cake کاٹتے ہیں سالگرہ کے موقع پر، تو ظاہر ہے ان کا طریقہ ہے۔


تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب دیکھ لیں، سمجھ میں آجاتی ہے کہ اگر انسان اس نعمت کے احساس سے محروم ہے، عاری ہے۔ تو پھر وہ جذبات میں ہوگا اور جذبات کسی کے بھی ہو سکتے ہیں، لہذا اس میں پھر فرق نہیں کر سکے گا اور پھر وہ ان کے طریقے پہ چلے گا۔

اسی طرح فوتگی ہے۔ تو فوتگی میں بھی جذبات ہیں۔ اس میں خوشی کے جذبات تھے، اس میں غم کے جذبات ہیں۔ تو جو غم کے جذبات ہیں، اس میں بھی صبر کی کیفیت ہونی چاہیے۔ تو اگر صبر کی طرف ہم آتے ہیں تو صبر بھی ہم اس طریقے پہ کریں گے جس طریقے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ تو اگر ہم لوگ اس بات کو سمجھ جائیں، تو پھر میرے خیال میں پریشانی نہیں ہوگی، مشکل نہیں ہوگا۔ اور سمجھانا بھی آسان ہوگا۔

کیونکہ یہ جو تکلیف ہے، تکلیف بے صبری سے ختم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ اور صبر سے کم ہوتی ہے۔ تو جیسے مثال کے طور پر نفس کے خلاف ہے نا صبر، تو نفس کے خلاف مجاہدہ جتنا آپ کریں گے تو اتنا، اتنا نفس برداشت کر سکے گا۔ ہاں البتہ جو فوری تقاضا ہے اس میں شریعت نے اجازت دی ہے۔ جیسے برتن ہے، وہ چھلک جائے، اس سے ہے کہ وہ خود بخود پانی نیچے گرتا ہے۔ تو اس طرح اگر جذبات اتنے ابھر آئیں کہ اس سے آنکھوں سے آنسو نکل آئے یا ویسے زبان سے غیر اختیاری طور پر رونا نکل آئے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ، اس کا جو level ہے وہ full ہو چکا ہے۔ اس پر شریعت اس کو روکتی نہیں ہے۔ اس پر شریعت اس کو روکتی نہیں ہے۔ لیکن یہ ہے کہ خود اپنی طرف سے create کرنا اس کی ممانعت ہے۔

جیسے وسوسہ لانا جرم ہے، وسوسہ آنا جرم نہیں ہے۔ تو اس طریقے سے غم ہونا جرم نہیں، غم کرنا وہ ہے نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ اس کو اختیاری نہیں بنانا، اختیاری نہیں بنانا۔ تو فطری طور پر جو ہے، اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہوئے تھے، ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد۔ تو کسی نے پوچھا کہ حضرت آپ بھی؟ فرمایا: یہ تو رحمت ہے،اور زبان سے ویسے ہم وہی کہیں گے جو اللہ چاہتا ہے۔ اس وجہ سے اگر کوئی اس قسم کی باتیں ہو جائیں تو اس میں فطری بات پہ پابندی نہیں، اور غیر فطری یا مصنوعی طریقے کرنے نہیں چاہییں، کیونکہ اختیاری ہے، اور اختیاری چیز جس طرح اختیاری کوئی کرتا ہے، تو اختیاری روک بھی سکتا ہے۔ بالکل۔


فوتگی کے بارے میں، پھر وہی شاگرد ہے، پوچھ رہا ہے:

شاگرد


میرے استاد میں نے عجیب طریقہ دیکھا

میں نہ سمجھا میں کہوں کیا کہ میں نے کیا دیکھا


میرے ایک دوست کا والد، سنا کہ فوت ہوا

جنازے کے لیے اس گھر کی طرف تیز چلا


جب پہنچا تو اس گھر میں بہت ہی شور تھا

عورتوں کے بین سے سوگوار وہ ماحول دیکھا



عورتیں کیا کہ مرد ان کے روتے جاتے تھے

پوز رونے کے وہ عجیب ایک بناتے تھے

یہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، یعنی بھلے اس میں میں کوئی مبالغہ نہیں کر رہا۔ ہمارے ایک دوست کے والد صاحب فوت ہوئے تھے، ہمیں پتہ تو نہیں تھا جو ہم تو گاڑی میں ان کو لینے کے لیے گئے تھے دفتر لے جا رہے تھے۔ تو ادھر پتہ چلا کہ ان کے والد صاحب فوت ہوئے ہیں، خیر ان سے کچھ غم، وغیرہ تعزیت کی۔ تو پھر وہاں دیکھا کہ ان کے پڑوسی تھے کوئی غالباً یا کوئی دوست ہوں گے۔ تو ذرا تھوڑے سے فاصلے پہ کھڑے تھے اور باقاعدہ وہ، جیسے کوئی اپنے آپ کو کوئی گرم کر رہا ہو نا، ignite، اس طرح کرتے کرتے جب full start ہوا، تو پھر آیا پھر گلے لگا، پھر ان کے ساتھ رونے لگا۔ تو میں نے کہا، بھئی یہ کوئی بات ہے۔




یہ جو رونا تھا، مصنوعی سا نظر آتا تھا

بعد میں اس کا اثر مفقود میں تو پاتا تھا




یعنی اس کے بعد پھر کوئی اثر نہیں تھا



ہر مرد رونے کی ایک شکل جب بناتا تھا

اس طرح ان سے محبت وہ ایک جتاتا تھا



اٹھی چارپائی، جب میت کو لے جانے لگے

کلمہ وہ سارے پھر زور سے دہرانے لگے


جب جنازہ پڑھا گیا تو لوگ آنے لگے

لوگ چہرہ انہیں میت کا پھر دکھانے لگے


اور کچھ لوگ گلے لگ کے گھر کو جانے لگے

وہ جنازے میں حاضری کو یوں جتانے لگے




دفن کے واسطے چارپائی اٹھی بالآخر تب

جو باقی رہ گئے تھے، قبر پہ آئے وہ سب


قبر میں پھر میت نیچے اتاری جانے لگی

دفن کے بعد مٹی بھی پھر ڈالی جانے لگی


مٹی قبر کی بھی پھر درست کرائی جانے لگی

اور اس کے بعد تلاوت کرائی جانے لگی




دعا کے بعد رسم قل کا بھی اعلان ہوا



اس کو باقاعدہ "رسم قل" کہتے ہیں

دعا کے بعد رسمِ قل کا بھی اعلان ہوا

رسم کا نام تو سن کر ہی میں حیران ہوا


تین دن گھر میں دعوتوں کی فراوانی تھی

میرے نصیب میں دیکھ کر اس کو حیرانی تھی


دیکھی جاتی نہیں اس دوست کی پریشانی تھی

رشتہ داروں اور دوستوں کی تو مہمانی تھی



میں تو حیران اور حیران ہوا جاتا تھا

اور ان حالات میں پریشان ہوا جاتا تھا


رسم قل میں تو پڑھنا برائے نام سا تھا

لوگوں کا مطلب اس میں آنے میں ایک کام سے تھا


ملنے جلنے سے اور گپ شپ، دعا سلام سے تھا

اسی میت کے وسیلے سے فیضِ عام سے تھا



یعنی انداز ضیافت بڑا شاندار رہا

مجھ پہ تو دیکھ یہ غم بڑا سوار رہا


اور چہلم میں انتظام اور عجیب ہوا

کارڈ بھیجے گئے چہلم جو کچھ قریب ہوا


دوسرا شاندار ایک طعام پھر نصیب ہوا

کھایا مالداروں نے محروم تو غریب ہوا



قرض پہ قرض میرے دوست پہ چڑھتا ہی رہا

یہ وہ خدمت اپنے والد کی سمجھتا ہی رہا



دیکھو نا غم کی وجہ سے وہ لوگ اس کو بس وہ پھر دیتے ہیں، تو بس وہ ان کے اوپر سوار ہوتا ہے۔


میرے مشفق یہ جو دیکھا، یہ طریقہ کیا ہے؟

میری آیا نہ سمجھ میں، یہ ماجرا کیا ہے؟


خرچ کرنے کا اس انداز میں سلسلہ کیا ہے؟

اس کے بارے میں اکابر کا بھی فتویٰ کیا ہے؟


اصل میں یہ ساری چیزیں بالکل practical ہیں، کوئی بھی اس کو دیکھ سکتا ہے کہ یعنی، جس وقت یہ رسمِ قل پہ آتے ہیں تو کوئی غم سا محسوس ہوتا ہے؟ محسوس ہی نہیں ہوتا، بالکل ایسا ہے جیسے کہ کوئی دعوت میں جا رہے ہیں، شادی بیاہ کی دعوت۔ بالکل ایسا ہی ہے، وہ ہوتا ہے۔ یعنی جنازے کے وقت تو پھر بھی وہی مصنوعی غم ہوتا ہے، لیکن یہاں تو مصنوعی غم بھی نہیں ہوتا۔ تو یہ ساری چیزیں کہ مطلب یہ ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں نے اپنی بنائی ہوئی ہیں۔

استاد کا جواب


میرے بیٹے ان طریقوں سے ہم انجان نہیں

اس لیے اس طرح کاموں پہ ہم حیران نہیں


لوگ رسومات میں اپنی عقل کو چھوڑتے ہیں

مذہبی بات بھی کلچر کی طرف موڑتے ہیں

اس طرح نفس کے چکر سے رشتہ جوڑتے ہیں

اور سنت کے طریقوں سے رشتہ توڑتے ہیں



ہر جگہ، ہر طرح لوگوں کی خوشنودی، مطلوب

واہ کیا کام ہوا، یہ سنے، یہی مطلوب

آپ نے جذبات کا بے شک ہے احترام کیا


جو ہر اک کر سکے، تو اس طرح ہر کام کیا

دور تکلف کو کیا، سادگی کو عام کیا

شرکیہ کاموں اور ٹوٹکوں کا اختتام کیا


یہ سادگی ہمیں پھر راس کیوں نہیں آتی؟


تکلفات کی جو عادت ہے، وہ نہیں جاتی

رونا غالب ہو تو رونے میں قباحت بھی نہیں


عورتیں بین کریں، اس کی اجازت بھی نہیں

اور رونے کو محض پوز کی حاجت بھی نہیں


غم مزید اور بڑھانے کی ضرورت بھی نہیں




مرد قوام ہیں، عورتوں کو تسلی دے دیں


رو کے خود ان کو رونے کی شہہ نہیں دے دیں



میت ہو مرد، تو عورتوں کے درمیان نہ ہو

تاکہ پھر چہرہ دکھائی کا بھی سامان نہ ہو



بھئی پہلے سے پڑھا ہوگا تو پھر دوبارہ کیا دکھائیں گے؟



نیز غیر محرم عورتوں کا امتحان نہ ہو

غسل کے واسطے کوئی بھی پریشان نہ ہو




عورتیں چارپائی اٹھانے میں مزاحم بھی نہ ہوں

یہ عورتیں باقاعدہ وہ وہ آتی ہیں، نہ لے جانا، نہ لے جانا، نہ لے جانا۔ تو ہمارے کچھ رشتہ داروں کے ہاں اس طرح ہوا تھا، تو وہ کوئی ذرا تھوڑا سا یعنی منہ پھٹ قسم کا رشتہ دار تھا ہمارا۔ تو وہ مطلب یہ ہے کہ جب اٹھایا، کہتی ہیں نا لےجانا۔ تو اس نے رکھ دی، اچھا نہیں لے جاتے! بس وہ پھر بھی پیچھے ہو گئی۔ ایسے ہی ہوتا ہے بس، سارا مصنوعی ہے۔



عورتیں چارپائی اٹھانے میں مزاحم بھی نہ ہوں

سامنے اضطراری اس میں، غیر محرم بھی نہ ہوں


چاہیے لے جانے میں میت کو ہم عزت دے دیں

اس کی چارپائی کو کندھے سے رفاقت دے دیں

اور گھر والوں کو حوصلہ دیں اور ہمت دے دیں

ان کو اس وقت پہ جس چیز کی ہو، حاجت دے دیں



ہم خاموشی سے چلیں ساتھ، اور عبرت پکڑیں

اور کرائے کے ذاکرین کی نہ حاجت پکڑیں


حق میں میت کے جنازہ ہی تو بڑی ہے دعا

تو اس کے بعد بھی دعا ہی ہو تو یہ ہے کیا؟

ضروری کام ہے میت کو اب دفن کرنا

تو اس کے واسطے فوراً ہے قبر پر جانا




یہی سنت ہے کہ فوراً ہو اب تدفین کا عمل

کوئی اچھا یا برا کام نہ ہو اس میں مخل


بڑی عزت سے اس میت کی ہو تدفین ابھی

مٹی ڈالنے میں بھی شریک قبر پہ ہوں سبھی

دیکھ لیں سب کہ جو آنا ہے، وہ جگہ ہے یہی

پس یہی روز بھلائے، ہمیں دشمن نہ کبھی




قبر پہ وعظ یہی ہو کہ یہاں آنا ہے

جو بھی دنیا میں ہو موجود، سب کو جانا ہے

اصل میں قبر پہ دو چیزیں اہم ہیں۔ ایک موت کی یاد، یہ سمجھانا۔ اور دوسرا یہ؛ اس کے لیے تیاری کا طریقہ بتانا کہ اس کے لیے تیاری۔ اور تیسرا میراث کا مسئلہ سمجھانا۔ یہ تین کام قبر پہ یعنی جو بیان ہوتا ہے یہ ضروری ہے۔ کم از کم آج کل۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں چیزوں سے غفلت ہے۔ جو سیاسی مولوی صاحب ہوگا، اس وقت سیاست بیان کرے گا۔ ہاں جو تبلیغ والا ہوگا وہ تبلیغ بیان کرے گا۔ جو کوئی اور ہوگا تو وہ بھئی اور ہوگا۔ مطلب وہ گویا اپنے اپنے شعبے کی، بھئی وہ تو منبر پہ کرو! جمعہ کے خطبے میں منبر پہ کرو نا، کس نے آپ کو روکا ہے؟ یہاں کیا کرنا ہے؟ یہاں جو اصل بات ہے وہ ہے نہیں۔ وہ میراث پر ہم نے ایک course کا اہتمام کیا تھا مری میں۔ واپس جب آ رہے تھے تو ایک مفتی صاحب مفتی تھے یا نہیں -واللہ اعلم- مہتمم تو کم از کم تھے۔ تو مدرسے کے بھارہ کہو میں۔ تو مجھے کہتے ہیں جی میں آپ کو بھارہ کہو تک لے جاتا ہوں۔میں نے کہا: ٹھیک۔ راستے میں بات چیت ہو رہی، مجھے کہتے ہیں شاہ صاحب آپ جو کام کر رہے ہیں بہت اہم ہے، بہت ضروری ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ لوگ اس کو مانتے نہیں اس پر چلتے نہیں۔ میں نے کہا حضرت بوجوہ مجھے آپ کے ساتھ اختلاف ہے۔ کہتے ہیں کیا؟ میں نے کہا آپ ما شاء اللہ ایک دینی ادارے کے سربراہ ہیں۔ اور میں ایک دنیا دار ادارے کا ملازم ہوں۔ لیکن میں نے اپنے دنیا دار ادارے میں الحمد للہ روزانہ 15، 15 منٹ کے درس میں 15 دن میں میراث سکھا دی۔ اور لوگوں نے اب مجھ سے میرے ہاتھ پر میراث تقسیم کروائی۔ یعنی اس سے اتنا فائدہ ہوا کہ لوگوں نے 15 دن کی بات ہے نا، تو 15 دن میں لوگوں کے اتنے جذبات بن گئے کہ مجھ سے اپنی میراث تقسیم کروائی۔ آپ نے کبھی جمعہ کے منبر پر بیٹھ کر میراث کی بات کی ہے؟ کبھی قبر کے اوپر کھڑے ہو کر میراث کی بات کی ہے؟ پھر کیسے لوگ کہیں گے کریں گے؟ جب اس کی دعوت ہی نہیں ہوگی۔ کبھی ہوتی ہے میراث کی دعوت؟ کبھی سنا آپ نے۔ نہیں۔ تو پھر لوگ کیسے کریں گے؟ بتانا تو ہم نے ہے نا۔ تو یہ اصل میں بنیادی بات ہے کہ قبر پہ چونکہ دل نرم ہوتے ہیں، اور بات سن سکتے ہیں۔ تو یہ بات سنانی چاہیے۔


تین دن تک ہوگی تعزیت، اس کے گھر والوں سے

کہ ہم قریب رہیں، غم میں سوگواروں سے

ساتھ ہونے کا ہو اظہار، ان کے پیاروں سے

چاہیں مہمانی نہیں، ایسے غم کے ماروں سے



بلکہ تین دن تک ان کے گھر میں آگ جلے ہی نہیں

ہم کھلائیں انہیں، کچھ بھی وہاں پکے ہی نہیں


ہو جو میت کے لیے کوئی بھی ایصالِ ثواب

نہ بنا دیں اسے رسم و رواج، اور یوں اک عذاب

ان کو آزاد رکھیں، جس طرح بھی چاہیں ثواب

ورنہ ان کی کہیں ہو جائے نہ نیت ہی خراب




کیونکہ لوگوں کے لیے جو بھی کریں گے وہ عمل

بنے ریا، خدا کے ہاں نہ وہ رہا یہ اصل


اس میں تخصیصِ رواجی کا احتمال نہ ہو

اور غیر شرعی طریقوں کا استعمال نہ ہو

اور لوگوں کی خوشی کا بھی اس میں خیال نہ ہو

کسی مالِک کے بھی ترکے سے یہ فی الحال نہ ہو


یہ بہت عام بات ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ ایک بیمار کی بیمارپرسی کے لیے گئے تھے تو ان کے سامنے ان کی روح نکل گئی۔ تو ان کے سرہانے ایک دیا جل رہا تھا، چراغ۔ حضرت نے فوراً اس کو بجھا دیا، اور اپنے خادم سے کہا جاؤ بازار سے چراغ لے آؤ۔ تو بازار سے چراغ لے آیا، اس کو جلا دیا۔ شاگردوں نے کہا حضرت یہ کیا کیا آپ نے؟ فرمایا یہ اب ترکہ ہے۔ اور جب تک سب کی اجازت نہ ہو تو اب ہم اس کو نہیں استعمال کر سکتے۔ ورثاء اور ان کو جمع کرنا مشکل ہے، لہذا میں نے کہا کہ فی الحال یہی کرو، فی الحال میں نے اپنا دیا استعمال کیا۔ تو اب یہ کہ وہ جو ترکہ سے یہ ساری رسومات کرتے ہیں، کھانے پینے کی، تو کہاں جائز ہوا؟ اس میں نابالغ بھی ہوتے ہیں۔ نابالغ کی اجازت ہی معتبر نہیں ہے۔



تو بڑا complicated مسئلہ ہوتا ہے۔



ترکہ میت کا، ورثاء میں ہو تقسیم فوراً

اس کی تقسیم کی دی جائے بھی تعلیم فوراً


فرض و واجب کے مقابل، مستحب کچھ بھی نہیں

جب خدا راضی نہ ہو پھر، تو یہ سب کچھ بھی نہیں

حق میت کے سب شور و شغب کچھ بھی نہیں

بس محض ضد ہو تو پھر اس سے عجب کچھ بھی نہیں




ضد میں شیطان نے شبیر تیر کیا مارا ہے؟

سوچ لیں ہم، اگر ارادہ یوں ہمارا ہے

مطلب ضد، اور یہ جو اس قسم کے دوسرے اثر لینا ہے، یہی سارا کام خراب کر لیتا ہے۔ لہذا ہم لوگوں سے اثر نہ لیں، ہم سنت سے اثر لیں۔ رواج نہ لائیں، سنت طریقے پہ آئیں۔ اور اپنے آپ کو نرم رکھیں اللہ کے حکم کے سامنے۔ اللہ کے حکم کے سامنے ضد میں نہ آئیں۔ کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ نصیحت جب کی جاتی ہے ایسے موقع پر، تو ضد میں آکر انکار کر کے کفر تک چلے جاتے ہیں۔ ایسے زبان سے الفاظ نکل آتے ہیں۔ وہ ایک دفعہ ہمارے گاؤں میں، جمعہ کی نماز کا وقت تھا۔ اور پاس ہی پڑوس، پیچھے گھر جو تھا، ان کے ہاں ختنے کی۔۔ ختنہ ہوتا ہے نا ختنہ بھی لوگوں نے شادی بنائی ہوتی ہے بچوں کا جو ختنہ ہوتا ہے۔ تو وہ function تھا، تو وہ بڑے تیز deck لگایا ہوا تھا۔ تو لوگوں نے اسے کہا، خدا کی بندی، اس کی ماں کو کہا بچے کی، خدا کی بندی کیا کر رہی ہو؟ مسجد میں نماز ہو رہی ہے جمعہ کی، کہیں ہمارے ہاں یہ باتیں الٹے ہاتھ اگر اٹھا دیں، الٹے ہاتھ سے مراد یہ کہ بددعا کریں۔ اس طرح الٹے ہاتھ، تو الٹے ہاتھ تمہارے پیچھے اٹھا دیں گے۔ تو اس بدبخت نے کہا کہ جمعہ کی نماز ہر ہفتے آتی ہےمیرے بچے کا ختنہ تو پھر نہیں آئے گا۔اس طرح بات کی۔ پتا نہیں اس کے ساتھ کیا ہوا وہ تو اللہ کو پتا ہے۔لیکن اس کو سزا دنیا میں ملی ۔ کچھ ہی دنوں کے بعد پتا نہیں کیا ہوا کہ اس نے Pistol اس کے پاس تھا اور Pistol جو چلا دیا تو وہ گولی اس کو ہی لگی اور ایسی جگہ لگی جو بہت خطرناک جگہ تھی تو وہ یہ کہ مطلب بالکل شل ہو گئی۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اس سے بدلہ لے لیا، چونکہ اس نے ایسی حرکت کی تھی۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ بہت ڈرنا چاہیے، ضد نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔



وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


زندگی کی اہمیت، سنت کی پیروی اور رسومات و بدعات سے اجتناب - اصلاحی جوڑ