قرآنی اصولِ عدل، سنت کی حجیت اور گناہ کی نحوست
درس نمبر 201، سورۃ النساء: آیات: 105 تا 112- اشاعتِ اول: 16 جون، 2022، بمطابق 16 ذی قعدہ 1443 ہجری
- سورۃ النساء کی آیات کا شانِ نزول (بنو ابیرق کا چوری کا واقعہ)
- اسلامی نظامِ عدل و انصاف کے تین بنیادی اصول
- قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ سنتِ رسول ﷺ کی شرعی حجیت
- کسی ظالم، خائن یا مجرم کی وکالت کرنے کی سخت ممانعت
- کسی بے گناہ شخص پر جھوٹا الزام لگانے کا وبال
- گناہ کو حقیر سمجھنے اور اس پر اصرار کرنے کا خطرناک انجام (کفر تک پہنچ جانا)
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ (105) وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ (106) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًا (107) یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا (108) هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا (109) وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (110) وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(111) وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓــئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًـا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ (112)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔
ترجمہ: بے شک ہم نے حق پر مشتمل کتاب تم پر اس لیے اتاری ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس طریقے کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تم کو سمجھا دیا ہے، اور تم خیانت کرنے والوں کے طرف دار نہ بنو۔
حاشیہ: یہ آیتیں ہیں، اگرچہ عام ہدایتوں پر مشتمل ہیں، مگر ایک خاص واقعے سے ان کا نزول ہوا ہے۔ خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص بشر نے، جو ظاہری طور پر مسلمان تھا، ایک صحابی حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں نقب لگا کر کچھ غلہ اور کچھ ہتھیار چرا لیے۔ اور لے جاتے وقت ہوشیاری یہ کی کہ غلے کی بوری کا منہ اس طرح کھولا کہ تھوڑا تھوڑا غلہ راستے میں گرتا جائے، یہاں تک کہ ایک یہودی کے گھر کے دروازے پر مار کر بوری کا منہ بند کر دیا۔ اور بعد میں چوری کیے ہوئے ہتھیار اسی یہودی کے پاس رکھوا دیے۔ جب چوری کی تفتیش شروع ہوئی تو ایک طرف غلے کے نشانات یہودی کے گھر تک پائے گئے، تو دوسری طرف ہتھیار اسی کے پاس سے برآمد ہوئے۔ اس لیے شروع میں آپ ﷺ کا خیال یہی ہونا تھا کہ یہ چوری اسی یہودی نے کی ہے۔ یہودی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا: ہتھیار تو میرے پاس بشر نامی شخص نے رکھوائے ہیں۔ مگر چونکہ اس پر کوئی گواہ پیش نہیں کر سکا، اس لیے آپ ﷺ کا رجحان اس طرف ہو گیا کہ وہ جان بچانے کے لیے بشر کا نام لے رہا ہے۔ دوسری طرف بشر کے خاندان بنو ابیرق کے لوگ بھی بشر کی وکالت کرتے ہوئے اس بات پر زور لگا رہے تھے کہ سزا بشر کے بجائے یہودی کو دی جائے۔ ابھی یہ معاملہ چل رہا تھا کہ یہ آیاتِ کریمہ نازل ہو گئیں۔ ان کے ذریعے بشر کی دھوکہ بازی کا پردہ چاک کر دیا گیا اور یہودی کو بے گناہ قرار دے کر بری کر دیا گیا۔ بشر کو جب راز فاش ہونے کا پتہ چلا تو فرار ہو کر مکہ سے جا ملا اور وہاں کفر کی حالت میں بری طرح اس کی موت واقع ہوئی۔ ان آیات کے ذریعے ایک طرف تو معاملے کی اصل حقیقت آپ ﷺ پر کھول دی گئی۔ اس کے علاوہ مقدمات کے فیصلے کرنے کے لیے اہم اصول بتا دیے گئے ہیں۔ پہلا اصول یہ ہے کہ تمام فیصلے کتاب اللہ کے احکام کے مطابق ہونے چاہئیں۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ پر بہت سے امور ایسے کھولتے رہتے تھے جو صراحتاً قرآن میں مذکور نہیں۔ فیصلے ان کی روشنی میں ہونے چاہئیں۔ آیت کے الفاظ ’اس طریقے کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں سمجھا دیا ہے، اس طرف اشارہ کر رہے ہیں اور اس سے قرآنِ کریم کے علاوہ آپ ﷺ کی سنت کی حجیت کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ تیسرا اصول یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جس کسی شخص کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ کسی مقدمے میں غلطی پر ہے، اس کی وکالت کرنا جائز نہیں۔ بنو ابیرق جو بشر کی وکالت کر رہے تھے، ان کو تنبیہ کی گئی کہ اول تو یہ وکالت جائز نہیں، دوسرے اس کا فائدہ ملزم کو زیادہ سے زیادہ دنیا میں پہنچ سکتا ہے۔ آخرت میں تمہاری وکالت اس کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ یعنی اس سے بشر اور ان کی حمایت میں، جو یہ چاہتے تھے کہ یہودی کو بے گناہ سزا دلوائی جائے۔ ترجمہ: اور اللہ سے مغفرت طلب کرو، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ اور کسی تنازعے میں ان لوگوں کی وکالت نہ کرنا جو خود اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہیں۔ اللہ کسی بھی خیانت کرنے والے گناہ گار کو پسند نہیں کرتا۔ یہ لوگوں سے تو شرماتے ہیں اور اللہ سے نہیں شرماتے، حالانکہ وہ اس وقت بھی ان کے پاس ہوتا ہے جب وہ راتوں کو ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں، اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ نے ان سب کا احاطہ کر رکھا ہے۔
ترجمہ: ارے تمہاری بساط یہی تو ہے کہ تم نے دنیاوی زندگی میں مقدموں سے جھگڑ کر ان خیانت کرنے والوں کی حمایت کر لی۔ بھلا اس کے بعد قیامت کے دن اللہ سے جھگڑ کر کون ان کی حمایت کرے گا؟ یا کون ان کا وکیل بنے گا؟ اور جو شخص کوئی برا کام کر گزرے، یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے، پھر اللہ سے معافی مانگ لے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان پائے گا۔ اور جو شخص کوئی گناہ کمائے تو اس کمائی سے وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے، اور اللہ پورا علم بھی رکھتا ہے، حکمت کا بھی مالک ہے۔ اور اگر کوئی شخص کسی غلطی یا گناہ کا مرتکب ہو، پھر اس کا الزام کسی بے گناہ کے ذمے لگائے، تو وہ بڑا بھاری بہتان اور کھلا گناہ اپنے اوپر لاد دیتا ہے۔
اس میں ایک اور بات بھی سامنے آ رہی ہے -واللّٰہ اعلم بالصواب- اور وہ یہ کہ انسان اگر گناہ کرتا ہے تو اس گناہ کا نتیجہ اخیر میں کفر ہو سکتا ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ اگر اس کے اوپر اصرار کرتا ہے اور تو اس کی نحوست کی وجہ سے وہ کفر تک پہنچ سکتا ہے۔ جیسے کہ اس شخص نے دھوکہ کر لیا، گناہ کر لیا، لیکن جس وقت اس کا راز فاش ہو گیا تو پھر اس کے پاس... شیطان نے اس کو یہ راستہ سمجھا دیا، کفار کے ساتھ جا ملا۔ تو کفار کے ساتھ جا ملا اور کفر کی حالت میں اس کی بری طرح موت ہو گئی۔ تو مطلب یہ ہے کہ گناہ کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ چھوٹا گناہ بڑے گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور بڑا گناہ کفر کی طرف لے جاتا ہے، بعض اوقات۔
اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ اور ہر قسم کے گناہوں سے حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔