الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ.
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ.
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ. صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
معزز خواتین و حضرات! اللہ جل شانہ نے ہم پر بہت فضل فرمایا ہے کہ ہمیں اللہ پاک نے ایمان کی دولت سے نوازا ہے۔ اس پر ہم جتنا شکر کر لیں کم ہے۔ ہمیں اس کا احساس اس لیے نہیں ہے کہ ہم ماں کی گود میں مسلمان پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن باہر کے لوگوں کو اگر ہم دیکھتے ہیں جو ایمان لاتے ہیں، ان کو کتنی مشکلات ہوتی ہیں ایمان لانے میں، کتنا تردد ہوتا ہے، مشکلات ہوتی ہیں۔ ہمیں اس کا شکر اس طرح کرنا چاہیے کہ ہم اس ایمان کی دولت کی حفاظت کریں۔ کسی طریقے سے بھی ہمارا ایمان ضائع نہ ہو۔ اور آج کل اس کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان کو ضائع کرنے کے جو اسباب ہیں وہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔
میں بات کر رہا ہوں موبائل کی۔ یہ موبائل ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے، اس پر انسان پوری دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے، اس سے باخبر بھی ہوتا ہے اور اس سے اثر بھی لیتا ہے۔ اور آپ دیکھتے ہیں کہ زیادہ تعداد مسلمانوں کی نہیں ہے، زیادہ تعداد کافروں کی ہے۔ اس وجہ سے اس پر جو زیادہ چیزیں آ رہی ہوں گی، وہ کافروں کی طرف سے آ رہی ہوں گی۔ بلکہ یہ بنایا بھی ان لوگوں نے ہے، اور اس میں جو انتظامات ہیں وہ بھی ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ اس وجہ سے وہ ان چیزوں کو بعض دفعہ روک دیتے ہیں جو ایمان کی حفاظت کی ہوتی ہیں، اور ان چیزوں کو فروغ دیتے ہیں جو ایمان کو نقصان پہنچانے والی ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے جو لوگ بھی اس کو اپنی جیب میں رکھتے ہیں، تو اس کے لیے ایک بہت زبردست حفاظتی نظام بنانا پڑے گا۔ وہ کیا ہے؟
اب دیکھیں! اگر یہ ہمارے پاس ہر وقت ہے اور ہر وقت اس سے متأثر ہوتے ہیں، تو پھر کچھ ایسا انتظام ہمیں کرنا پڑے گا جو حق ہو اور زیادہ سے زیادہ وقت اس کے ساتھ رابطہ ہو، تاکہ اس کا توڑ ہو سکے۔ اصل میں اثر دو قسم کا ہوتا ہے۔ یہ اچھی طرح نوٹ کر لیں۔ اثر دو قسم کا ہوتا ہے؛ ایک علمی اثر ہوتا ہے، ایک قلبی اثر ہوتا ہے۔ اس میں دونوں موجود ہیں۔ علمی اثر تو یہ ہے کہ انسان ایمان کے بارے میں شک کی جو باتیں ہیں، ان سے متاثر ہو، تو ایمان میں شک پڑ سکتا ہے۔ اور قلبی اثر اس کا یہ ہے کہ اگر آپ سائنس کی کتاب جو کسی کافر نے لکھی ہے، اور وہ سائنس کی کتاب میں نہ اسلام ہے نہ کفر ہے، وہ ایک Secular چیز ہے، اس میں دین کے بارے میں کوئی بات ہے ہی نہیں، نہ مثبت نہ منفی۔ اس کو بھی اگر کوئی دیکھتا ہے تو کافر کا جو دل ہے اس کا اثر اس کتاب میں آ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہمارا جو سائنسدان طبقہ اور یا باہر ملکوں میں جانے والے لوگ، وہ آہستہ آہستہ ان کے اثر میں آ جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ ان چیزوں کو نہیں دیکھتے، وہ تو صرف Science پڑھتے ہیں، لیکن ان کا اثر ان کے اوپر آ جاتا ہے، ان چیزوں سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔
اس وجہ سے ان چیزوں کو دھونے کے لیے ذکرِ کثیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں اس کی آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ ہمارے حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بہت بلند فرمائے، ان کی برکات ہمیں ابھی تک مل رہی ہیں الحمد للہ۔ وہ فرماتے تھے کہ میں جب دعوت، گشت کے لیے جاتا ہوں۔۔۔ اب گشت کے لیے کوئی کس لیے جاتا ہے؟ دین کے لیے جاتا ہے نا، دنیا کے لیے تو نہیں جاتا۔ اور کون جا رہا ہے؟ مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ، جو عالم بھی ہیں، شیخ بھی ہیں، اور مبلغ بھی ہیں۔ اور آپ حضرات جانتے ہیں کہ جو داعی ہوتا ہے وہ جب تک داعی ہوتا ہے تو وہ کسی اور کی دعوت سے متاثر نہیں ہوتا۔ تو داعی بھی ہیں۔ اس کے باوجود حضرت فرماتے ہیں، حضرت کے الفاظ ہیں، میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ رہا۔ "میرے دل پر پھر بھی اثر آ جاتا ہے۔ میں صلحاء کی جماعت کے ساتھ جاتا ہوں، پھر بھی لوگوں کے ساتھ ملنے کی وجہ سے میرے دل پر اثر آ جاتا ہے۔ اس اثر کو دور کرنے کے لیے، میں یا سہارنپور شریف چلتا ہوں (جو وہاں خانقاہ تھی، حضرت کی اپنی خانقاہ تھی)، یا پھر رائے پور شریف جاتا ہوں (یہ بھی ہمارے بزرگوں کی خانقاہ تھی، شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ)، یا پھر مسجد میں اعتکاف کرتا ہوں۔" اب دیکھو تین چیزیں کون سی بتائیں؟ ایک سہارنپور شریف خانقاہ جاتا ہوں، یا رائے پور شریف خانقاہ جاتا ہوں، یا پھر مسجد میں اعتکاف کرتا ہوں۔
اس سے پتہ چلا کہ جو دین کا کام بھی کر رہا ہے، لیکن اگر ایسے لوگوں میں کر رہا ہے جو دین سے دور ہوں، تو جیسے اچھے کا برے پہ اثر پڑتا ہے، برے کا اچھے پہ اثر پڑتا ہے۔ مثلاً آپ گرم پانی اور ٹھنڈا پانی ملا دیں۔ یا یوں سمجھ لیجیے، ملائیں نہیں، ایک گرم پانی کا Pipe ہے، اس کے اندر سے ٹھنڈے پانی کا Pipe گزار دیں۔ آپس میں مل نہیں رہے۔ گرم پانی کے Pipe میں ٹھنڈے پانی کا Pipe گزار دیں۔ تو ٹھنڈا پانی تھوڑا گرم ہو جائے گا جب اس سے گزرے گا، اور گرم پانی تھوڑا ٹھنڈا ہو جائے گا۔ یعنی گرم پانی نے ٹھنڈے پانی کو تھوڑا گرم کر لیا، اور ٹھنڈے پانی نے گرم پانی کو تھوڑا ٹھنڈا کر لیا۔ پتہ چلا کہ اچھا آدمی، جو نیک آدمی ہے، وہ اگر کسی کو دعوت کی نیت سے بھی ملتا ہے، تو اِس کے دل کا جو اثر اُس پر پڑ رہا ہے، اچھا پڑ رہا ہے، اس کو تو فائدہ ہوگا۔ لیکن اُس شخص کے دل کا بھی اِس کے اوپر اثر پڑے گا، اِس کو نقصان ہوگا۔
یہ میں نہیں کہتا کہ اجر نہیں ملے گا، اجر بہت ملے گا۔ اجر بہت ملے گا، لیکن اثر بھی ہوگا۔ اس اثر کو دور کرنے کے لیے، حفاظتی تدابیر کرنی پڑتی ہیں۔ اور حفاظتی تدابیر کیا ہیں؟ صحبتِ صالحین اور ذکر اللہ کی کثرت۔ صحبتِ صالحین اور ذکر اللہ کی کثرت۔ یہ دو چیزیں ہیں۔ حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے آخری دور کی وصیتیں ہیں۔ صحبتِ صالحین اور ذکر اللہ کی کثرت۔ تاکہ جو اثر غلط آ چکا ہے دل پر، اس کو وہ ذکر اللہ کی کثرت دھو لے اور صحبتِ صالحین کی کثرت دھو لے اس کو۔ یہ بات ہے۔
تو ہمیں اپنے ایمانوں کی حفاظت کرنی پڑے گی۔ یہ بات اس لیے بھی ضروری ہے مثلاً کوئی مسجد میں، مدرسے میں دین پڑھا رہا ہے، اس کو بھی اس کی ضرورت ہے۔ جو دعوت کی نیت سے جماعتوں میں جا رہا ہے، اس کو بھی اس کی ضرورت ہے۔ جو جہاد کر رہا ہے، اس کو بھی اس کی ضرورت ہے۔ جو کوئی بھی دین کا کام کر رہا ہے، سب کو اس کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اثر تو ہر جگہ آتا ہے، ہر جگہ آتا ہے۔ تو ہم لوگوں کو اپنے ایمانوں کی حفاظت کے لیے انتظام کرنا پڑے گا۔ کہ ہم لوگ اپنے اپنے قلوب کی بھی حفاظت کر لیں۔ جتنا ہمارے اوپر ہمارے موبائلوں کا، ہمارے بازاروں کا، ہمارے ساتھیوں کا، ہمارے گھر والوں کے اوپر، ہمارے گھر والوں کا منفی اثر ہمارے اوپر آ رہا ہے، تو اس سے بچنے کے لیے ہمیں کوئی مثبت کام کرنا پڑے گا۔ جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے ملانے والا ہو۔
قرآن پاک میں دو چیزوں کے بارے میں صاف فرمایا گیا ہے۔ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔
قول و فعل کے لحاظ سے سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ یہ بھی فرمایا ہے، اور یہ بھی فرمایا: وَاذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا۔
کثرت کے ساتھ اللہ کو یاد کرو، صبح شام اللہ کی تسبیح کرو۔ اور یہاں تک فرمایا ہے، یہاں تک فرمایا ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے زندہ اور مردہ۔ ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے زندہ اور مردہ۔ یعنی ذکر کرنے والا زندہ ہے، اور ذکر نہ کرنے والا مردہ ہے۔ تو اس وجہ سے ایمانی حیات کو برقرار رکھنے کے لیے ذکر اللہ کی کثرت کی ضرورت ہے۔
تھوڑا سا غور کر لیں، آپ ﷺ خود کتنا ذکر کرتے تھے؟ ہم کہتے ہیں نا کہ آپ ﷺ کے طریقے پہ چلنے میں ہمارا فائدہ ہے۔ تو آپ ﷺ کتنا ذکر کرتے تھے؟ میں تو نہیں کہہ سکتا، آپ نہیں کہہ سکتے، اس وقت کے دور کا کوئی شخص نہیں کہہ سکتا۔ ہماری ماں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ہے کہ آپ ﷺ دائم الذکر تھے۔ ہمیشہ ذکر کرنے والے تھے۔ دائم الذکر، ہمیشہ ذکر کرنے والے۔ ہمیشہ ذکر کرنے والے، اس پر علمائے کرام نے پھر بحثیں کی ہیں کہ ہمیشہ کوئی ذکر کیسے کر سکتا ہے؟ کبھی ایسی حالت بھی ہوتی ہے جس میں ذکر ممنوع ہوتا ہے۔ مثلاً بیت الخلاء میں کوئی جاتا ہے تو وہاں کوئی ذکر نہیں کر سکتا۔ اس کا جواب علمائے کرام نے یہ دیا ہے، زبانی ذکر نہیں کر سکتا، قلبی ذکر ہو سکتا ہے۔ زبانی ذکر نہیں ہو سکتا، قلبی ذکر ہو سکتا ہے۔ پس اگر کوئی قلبی ذکر سیکھ لیتا ہے، اور یہ سیکھنے کی چیز ہے، اگر کوئی قلبی ذکر سیکھ لیتا ہے، وہ دائم الذکر بن سکتا ہے۔
میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ ہمارے ایک بزرگ گزرے ہیں، ان کا نام تھا مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ یہ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے لاڈلے مرید تھے۔ اور حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کی نواسی کے ساتھ ان کی شادی بھی ہو چکی تھی۔ ان سے ان کا ایک بیٹا تھا، ان کا نام تھا مولانا عبدالرؤف۔ ہم نے حضرت کی زیارت کی ہے الحمد للہ۔ مولانا عبدالرؤف صاحب۔ مولانا عبدالرؤف صاحب کی والدہ جب فوت ہو گئیں، تو حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شادی ایک نو مسلم انگریز عورت سے کی، جو مسلمان ہو چکی تھی، شاہی خاندان سے تھی۔ ان کے ساتھ ان کی شادی کی۔ ہمارے خاندان والی عورتیں جو ہیں ان کو Mother، Mother کہتی تھیں۔ تو Mother مرحومہ، بڑی نیک خاتون تھیں۔ تو وہ اپنے اس سوتیلے بیٹے کو، جو اس وقت دس سال کی عمر کے تھے، ان کو اپنے سامنے چارپائی پر لٹا کر پاس انفاس کا ذکر سکھاتی تھیں۔ پاس انفاس کا ذکر یہ ہوتا ہے، سانس کے ذریعے سے ذکر۔ یعنی ہر سانس کے ساتھ ذکر، خود بخود جو ہو رہا ہو۔ کوئی کہتا ہے "اللہ ھُو"، اس طرح سے اس کا ذکر ہو رہا ہو، جتنی سانسیں وہ لے رہا ہوتا ہے، اتنی دفعہ وہ ذکر کر رہا ہوتا ہے۔ تو جب وہ ذکر سکھا رہی ہوتی تھیں تو فرماتی تھیں ان سے، بیٹا! سیکھ لو اس کو۔ کیا اتنی عمر سانسیں لو گے اور بغیر ذکر کے لو گے؟ کیا اتنی عمر سانسیں لو گے اور بغیر ذکر کے لو گے؟ وہ ذکر ان کو دس سال کی عمر میں ان کو سکھایا۔ ان کی وفات ستر سال کی عمر میں ہوئی۔ تو ساٹھ سال اس نے سانسیں ذکر کے ساتھ لیں۔ یہ اس Mother مرحومہ، جو اس کی سوتیلی ماں تھی اور نو مسلمہ تھی، ان کا ان کے اوپر احسان تھا کہ انہوں نے ما شاء اللہ ان کو ایسا ذکر سکھایا۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دائم الذکر اب بھی لوگ ہیں، آج کل بھی لوگ ہیں۔ اور خواتین میں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ کیونکہ خواتین کو یکسوئی حاصل ہوتی ہے، وہ بہت جلدی یہ ذکر حاصل کر لیتی ہیں۔ ایک خاتون تھیں، مجھ سے بیعت ہوئی تھیں، اس وقت ان کی عمر 65 سال تھی۔ اور لاہور کے بڑے Modern گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ اُس وقت ان کے گھر میں تقریباً 24 گھنٹے Television چلتا تھا۔ تقریباً۔ دیکھتے تھوڑے ہی تھے، اکثر اپنے کاموں میں لگے ہوتے تھے لیکن TV چل رہا ہوتا تھا۔ کوئی بند کر لیتا، کوئی اور کھول لیتا تھا۔ تو یہ ان کے معاملات تھے۔ مجھ سے جب بیعت ہو گئیں، تو مجھ سے پوچھا، شاہ صاحب! Television کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا کہ یہ سوال تو میں نے اپنے شیخ سے بھی کیا تھا، اور میں نے حضرت سے پوچھا تھا، حضرت! TV کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو حضرت نے مجھے فرمایا تھا، بیٹا میں تو نہیں دیکھتا، بیٹا میں تو نہیں دیکھتا۔ بس اشارہ ہی کافی ہوتا ہے عقلمند کے لیے۔ میں نے کہا بس حضرت نے فرما دیا کہ نہیں دیکھتا تو اس کا مطلب ہے نہیں دیکھنا چاہیے۔ تو میں نے کہا پھر میں نہیں دیکھتا۔ وہ بات ان کو پہنچ گئی، بڑی ذہین عورت تھیں، ان کو فوراً پتہ چل گیا کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ تو اس نے مجھ سے کہا، شاہ صاحب! لیکن پھر ہم کیا کریں گے؟ چونکہ عادی تھیں، ہر وقت Television دیکھنے کی عادی تھیں، پھر ہم کیا کریں گے؟ میں نے کہا ذکر کریں گی۔ ذکر کریں گی؟ اس نے کہا کیا ہر وقت ہم ذکر کر سکیں گے؟ میں نے کہا ان شاء اللہ۔ بس بات ختم ہو گئی۔
اب ہم ذکر دیتے ہیں، چالیس دن کا ذکر دیتے ہیں پہلے ابتداء میں۔ وہ تین سو دفعہ سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ۔ اور دو سو دفعہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ کا ذکر دیتے ہیں۔ تو وہ میں نے دے دیا، میں نے کہا یہ شروع فرما لیں۔ اس نے وہ ذکر شروع کر لیا۔ جب 40 دن اس نے مکمل کر لیے، تو اس کے بعد میں عورتوں کو فوراً وہ قلبی ذکر دیتا ہوں یعنی دل والا ذکر۔ مردوں کو ذرا مشکل ہوتا ہے، ان کو بعد میں دیتا ہوں، بعض کو دو دو سال، تین تین سال لگ جاتے ہیں۔ لیکن عورتوں کو جلدی ہوتی ہے، آسانی سے ہو جاتا ہے۔ تو میں نے ان کو ذکر دے دیا۔ اور ما شاء اللہ اس کا اسی وقت جاری ہو گیا۔ الحمد للہ ایسا جاری ہو گیا کہ پھر اس کے بعد وہ تھی اور ذکر، مسلسل ذکر۔ الحمد للہ بڑی اچھی حالت میں پھر بعد میں فوت ہو گئیں۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کل بھی ہو سکتا ہے، یہ ناممکن نہیں ہے۔ اب میں آپ سب حضرات سے میں عرض کرتا ہوں۔ ما شاء اللہ آپ کے گھر میں بھی عورتیں، بیویاں بھی ہیں، بہنیں بھی ہیں، مائیں بھی ہیں، بیٹیاں بھی ہیں۔ کیا آپ کا دل نہیں چاہتا کہ وہ ذاکرہ بن جائیں؟ کیا آپ کا دل نہیں چاہتا کہ وہ اللہ کے ساتھ تعلق والی بن جائیں؟ اب دیکھو عورتوں میں خوبی یہ ہے کہ بہت جلدی چیزوں کو حاصل کر لیتی ہیں، چاہے اچھائی ہو، چاہے برائی ہو۔ بہت جلدی اچھی بھی ہو جاتی ہیں، بہت جلدی بری بھی ہو جاتی ہیں۔ اچھے ماحول میں بہت جلدی اچھی ہو جاتی ہیں، برے ماحول میں بہت جلدی بری ہو جاتی ہیں۔ تو اگر آپ نے ان کو ذکر کے ساتھ عادی کرا دیا، تو کتنا اچھا ہوگا؟ آپ کے گھر میں مسلسل ذکر ہو رہا ہوگا۔ وہ کھانا پکا رہی ہوگی تو ذکر والی پکا رہی ہوگی۔ ذکر کے ساتھ، ذکر کر کر کے پکا رہی ہوگی۔ بچوں کی خدمت کر رہی ہوگی تو ذکر کے ساتھ کر رہی ہوگی۔ گویا آپ کا گھر ما شاء اللہ ذکر کا ایک ذریعہ بن جائے گا۔
تو اس وجہ سے ان کی فکر کرنی چاہیے یا نہیں کرنی چاہیے؟ اب میں آپ حضرات سے عرض کرتا ہوں، کمال کی بات یہ ہے، شیطانی اثر ہے اور کچھ نہیں ہے۔ بیوی Shopping کے لیے جائے بازار، مرد کو فکر نہیں ہوتا کہ بازار جا رہی ہے۔ جب کسی اللہ والے کی مجلس میں بیان سننے کے لیے جاتی ہے تو کہتے ہیں، یہ کیوں؟ باہر نکلنا جائز ہے؟ اس وقت ان کو غیرت آ جاتی ہے۔ بھئی غیرت تو برائی کی طرف آنی چاہیے، کہ برائی اگر ہو تو اس سے منع کرنا چاہیے۔ اچھائی سے منع کرنا یہ کونسی غیرت کی بات ہے؟ یہ میں تجربے کی بات کر رہا ہوں، ویسے نہیں کہہ رہا ہوں۔ آج کل یہ حالت ہے کہ شاپنگ کے لیے جا رہی ہوگی، تو اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ شادیوں کے لیے جا رہی ہوگی، کوئی مسئلہ نہیں۔ جب اللہ والوں کی مجلس میں جائے گی اس وقت ان کو غیرت آ جاتی ہے۔ یہ صرف اور صرف اپنے ساتھ دشمنی ہے۔ پھر ان سے جو کچھ ہوتا ہے پھر اس کے ذمہ دار تم ہو۔
ایک عورت کی وجہ سے چار آدمی جہنم جائیں گے۔ علماء بیٹھے ہوئے ہیں، پوچھ لو ان سے۔ باپ جا سکتا ہے، بیٹا جا سکتا ہے، شوہر جا سکتا ہے، بھائی جا سکتا ہے۔ تو اگر کسی عورت کی کوئی غلطی ہو، اس کی وجہ سے تم پھنس گئے، پھر کیا کرو گے؟ تو ان کے لیے کچھ سوچا ہے یا نہیں سوچا؟ تو ان کے لیے سوچنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت کچھ دیا ہوا ہے۔ تین باتیں ایسی ہیں جو عورتوں کی ما شاء اللہ Special ہیں۔ مردوں میں بہت کم ہیں۔ پہلی بات میں نے بتا دی، اثر بہت جلدی لیتی ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ انفعالیت۔ یہ ان میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔
دوسری بات یکسوئی۔ ان میں اتنی یکسوئی ہوتی ہے کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں تو بیان سن رہے ہیں نا؟ رائیونڈ میں ہم جاتے تھے نا تو جو لوگ Stage کے قریب ہوتے تھے، وہ تو بیان سنتے تھے۔ جو Stage سے دور ہوتے تھے، جن کو Stage نظر نہیں آتا تھا وہ کیا کرتے ہوتے تھے؟ ادھر ادھر باتیں واتیں کر رہے ہوتے تھے، یہی بات ہے نا؟ یہ مردوں کی فطرت ہے۔ اگر یہ دیکھ نہیں رہے ہوں تو پھر ان میں یکسوئی نہیں ہوتی۔ تو عورتوں میں یہ بات نہیں ہے۔ یہ اگر سامنے بھی بیٹھی ہوں گی، تو نیچے دیکھ رہی ہوں گی اور بیان سن رہی ہوں گی۔ اس وقت یہ بیان جو جا رہا ہے، اس کو زیادہ تر عورتیں سن رہی ہوں گی آن لائین۔ انہوں نے لگایا ہوگا۔ وہ سن رہی ہوں گی۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا، ان کے اندر یہ صلاحیت اللہ نے رکھی ہے۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے، یکسوئی ہو چاہے پاس ایک سوئی بھی نہ ہو۔ یکسوئی ہو، چاہے پاس ایک سوئی بھی نہ ہو۔ اتنی بڑی نعمت ہے یہ۔ یہ عورتوں کو اللہ نے دیا ہوا ہے۔
اور تیسری بات؛ ان میں جو مردوں میں بہت بڑا مسئلہ ہے جس کو نکالنا بڑا مشکل ہوتا ہے، اور وہ کیا ہوتا ہے کہ مرد جو ہیں چونکہ خلیفہ بن سکتے ہیں، تو اول تو آتے نہیں اس طرف۔ لیکن جب آتے ہیں تو پہلا شوق ان کے دل میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں خلیفہ بن جاؤں۔ اور خلیفہ بننا، یہ شرک فی الطریقت ہے۔ اس کا خیال کیا ہے؟ خلیفہ بننے کا خیال کیا ہے؟ یہ شرک فی الطریقت ہے۔ شرک فی الطریقت کا مطلب کیا ہے؟ یعنی طریقت سے جو مطلوب ہے، اس کے ساتھ کوئی اور چیز آپ شریک کر رہے ہیں۔ طریقت سے کیا مطلوب ہے؟ اللہ کا بننا۔ سب کچھ اللہ کے لیے کرنا، کسی اور کے لیے نہیں کرنا، اپنے لیے بھی نہیں اللہ کے لیے کرنا۔ جس سے اللہ خوش ہو جائے۔ اب یہ ہے طریقت کی اصل بات۔ تو اگر آپ نے طریقت میں اور بنا لیا یعنی خلیفہ بننا تو آپ نے اللہ کے ساتھ اس کو شریک کر دیا۔ تو یہ شرک فی الطریقت ہے، اور مرد (کے لئے) اس سے بچنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ جبکہ عورتوں کو چونکہ خلیفہ بننا نہیں ہوتا لہذا ان کا معاملہ اس وقت ختم۔ ان کو کوئی فکر نہیں ہوتی۔ لہذا یہ تین باتیں جو ان کی ہیں ان کی وجہ سے ان کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
اس وجہ سے الحمد للہ ہمارے سلسلے کے اندر خواتین کے لیے بہت، بہت بڑا میدان ہے۔ اللہ کا شکر ہے الحمد للہ ہر اتوار کو 11 بجے سے لے کے 12 بجے تک خواتین کے لیے بیان ہوتا ہے۔ اس کے لیے Special ہم نے جگہ بنائی ہوئی ہے، Basement۔ اس میں تشریف لاتی ہیں، پردے میں بیٹھی ہوتی ہیں، اور بیان اوپر سے ہو جاتا ہے Loudspeaker کے ذریعے سے۔ تو ما شاء اللہ ان کو فائدہ ہوتا ہے۔ دوسری بات، ہر مہینے ہمارا ایک جوڑ ہوتا ہے، خواتین کے لیے۔ نو بجے سے لے کے بارہ بجے تک اتوار کے دن۔ لہذا جو بھی اپنی خواتین کے لیے فکر مند ہیں کہ وہ دین پر آ جائیں، تو ان سے میں عرض کرتا ہوں کہ ان کے لیے ضرور کچھ انتظام کر لیں ادھر لانے کا۔ اور ان شاء اللہ آپ خود دیکھ لیں گے کہ کتنا فائدہ ان کو ہوتا ہے۔ اور پھر کتنا آپ کا گھر بدلتا ہے۔ آپ کو گھر میں خود پتہ چل جائے گا کہ کیا کیا چیزیں بدل رہی ہیں۔ پہلے آپ دیکھ رہے ہوتے ہیں، بھئی کیا کیا سوچ ہے، مجھے یہ چاہیے، مجھے یہ چاہیے، مجھے یہ چاہیے، پھر اس کے بعد کیا سوچ بن جاتا ہے۔ تو یہ تبدیلی آ جاتی ہے نا۔ تبدیلی یہی بات ہے۔ اپنے بچوں کے لیے فکر کہ وہ دین پر آ جائیں، اس طریقے سے ماحول کو دیندار بنانا، اس طرح اپنے کپڑوں (پردے) کا خیال، اپنے رشتہ داروں کا خیال، ان تمام چیزوں کا ان میں فکر آ جائے گی۔ اور یہ ہم سب چاہتے ہیں۔ تو اس کے لیے آپ اگر چاہیں تو ذرا ان کا بندوبست کر لیجیے گا۔
میں آپ سے کیا عرض کروں! اس وقت، اس معاملے پہ کافی... یعنی اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں فکر نہیں کی جا رہی ہے۔ اور اس وقت میں آپ کو ایک اور بھی بات بتا دوں کہ جو دور آ رہا ہے نا، وہ بڑا خطرناک ہے۔ آپ تھوڑا سا 10 سال پہلے کی زندگی پہ نظر دوڑائیں اور آج 10 سال کے بعد، تبدیلی کچھ آئی ہے؟ خیر آیا ہے یا شر آیا ہے؟ شر آیا ہے نا؟ تو یہ شر اور بھی زیادہ آ سکتا ہے۔ اگر اس کو روکنے کی کوشش نہ کی گئی، تو یہ اور بھی آ سکتا ہے۔ کیونکہ جو چیزیں پہلے تھیں، اس سے زیادہ برائی کی چیزیں آ گئیں۔ اور گھر گھر اب اس کا گند پہنچ رہا ہے۔ لہذا اگر اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی تو بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آخری دور کی باتیں نظر آ رہی ہیں۔ جیسے احادیث شریف میں اشارے ہیں دجال کے آنے کے، اور پھر اس سے پہلے پہلے جو واقعات ہوں گے، وہ واقعات بہت تیزی کے ساتھ ہونے لگے ہیں۔ اگر کوئی سو رہا ہو تو اس کے بارے میں تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن جو جاگ رہا ہے ان کو نظر آ رہا ہے کہ کچھ تبدیلیاں آ رہی ہیں، بہت تیزی کے ساتھ آ رہی ہیں۔
تو اگر ہمارے دور میں دجال آتا ہے، تو اس سے بچنے کا کیا ذریعہ ہے؟ اس سے بچنے کا سب سے بڑا ذریعہ بتا دوں، وہ کیا ہے؟ ایک تو سورہ کہف پڑھنا جمعے کے دن۔ یہ تو باقاعدگی کے ساتھ، الحمد للہ ہمارے ساتھی پڑھتے ہیں، سورہ کہف کی تلاوت۔ یہ پڑھنا چاہیے۔ یہ اس کا روحانی طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے، جن چیزوں سے دجال کی طرف لوگ کھنچتے جائیں گے، ان چیزوں کی رغبت کم کرنا۔ جن چیزوں کی وجہ سے دجال کی طرف لوگ لپکے جا رہے ہوں گے، ان چیزوں کی طلب کم کرنا، رغبت کم کرنا۔ وہ کونسی چیزیں ہیں؟ عورت، دوسری بات اچھے اچھے کھانے، تیسری بات Music۔ یہ بتائیں آج کل یہ چیزیں کم ہو رہی ہیں یا زیادہ ہو رہی ہیں؟ بہت زیادہ ہو رہی ہیں۔ ہر چیز کے اندر Music آیا ہے یا نہیں آیا؟ ابھی بھی میں نے کچھ آوازیں سنیں۔ ٹھیک ہے نا؟ مسجد بھی اس سے فارغ نہیں ہے، خانہ کعبہ بھی اس سے فارغ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ روضہ اقدس کا بالکل وہ پاس جگہ ہے جہاں پر لوگ بہت خاموشی سے بات کرتے ہیں، وہ جگہ بھی اس سے فارغ نہیں ہے۔ یہ دور آ گیا ہے۔ تو Music اتنا عام ہو گیا ہے۔
اب عورتوں کی یہ صورتحال ہے میں آپ کو کیا بتاؤں؟ بچنا ہو تو بس آنکھیں نیچے رکھو۔ ورنہ بچنا ممکن نہیں ہے۔ بہت مشکل صورتحال ہے۔ اور گھر گھر یہ صورتحال ہے۔ اس طریقے سے کھانوں کی جو لذت ہے، وہ یہ حالت ہے کہ لوگ Burger کھانے کے لیے، اور savour food کھانے کے لیے، اور گانے سننے کے لیے، دھرنوں میں جاتے تھے یا نہیں جاتے تھے؟ جاتے تھے یا نہیں جاتے تھے؟ جاتے تھے نا۔ بھئی سچ سچ بتاؤ، جاتے تھے یا نہیں جاتے تھے؟ ہاں! تو یہ دجال کی باتیں تو آ گئیں نا۔ یہی تو دجال کی باتیں ہیں۔ اسی سے ہمیں عبرت لینی چاہیے۔ اگر آج ان چیزوں کے پیچھے کوئی جا رہا ہے، تو کل کیسے بچیں گے؟ ان کے پاس تو اس سے زیادہ کی چیزیں ہوں گی۔ یہ ان کے سامنے کیا چیزیں ہیں؟ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ اس وقت پتہ چل جائے گا کہ کیا چیزیں ہوں گی۔ اگر آپ نے ان چیزوں کی رغبت ختم نہیں کی، بچنا مشکل ہے۔ اگر میں "ناممکن" نہیں کہتا ہوں، تو مشکل بہت زیادہ ہے۔
اس وجہ سے ان چیزوں کی رغبت کم کرو۔ ذکر کے ساتھ اپنا تعلق بڑھا دو۔ صحبتِ صالحین کو حاصل کرنے کی کوشش زیادہ کر لو۔ اور ان چیزوں کی طلب کم کرو۔ کم سے کم پر گزارہ کرنا سیکھو۔ جس کو "زہد" کہتے ہیں۔ کم سے کم پر گزارہ کرنا سیکھو۔ اس کو "زہد" کہتے ہیں۔
تو اللہ جل شانہ ہماری حفاظت فرمائے۔ اس وقت لوگوں کو مہنگائی کا طوفان زیادہ خطرناک نظر آ رہا ہے۔ یقیناً یہ بہت پریشانی کی بات ہے، کوئی آسان بات نہیں ہے۔ لیکن مجھے اس سے زیادہ یہ چیز نظر آ رہی ہے۔ مہنگائی سے زیادہ خطرناک چیز یہ ہے۔ دیکھو مہنگائی آپ کو صرف کچھ چیزوں کی کمی کا باعث بن جائے گی، لیکن یہ جو چیز ہے، یہ ایمان کو ضائع کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ اور ایمان ختم ہو گیا تو پھر بے شک آپ بادشاہ بھی بن جائیں تو کچھ بھی نہیں۔ لہذا اپنے ایمانوں کی فکر کرنی چاہیے۔ اس کے لیے میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ذرا تعلق اس کے ساتھ قائم رکھیں۔ تو جو حضرات ذکر شروع کرنا چاہتے ہیں جیسے میں نے ابھی عرض کیا، تو:
300 دفعہ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، 200 دفعہ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ
اس کو 40 دن تک بغیر ناغہ کے مکمل کر لیں۔ بغیر ناغہ کے۔ ناغہ نہیں ہوگا کیونکہ ناغہ اگر ہو گیا پھر دوبارہ شروع کرنا پڑتا ہے۔ یہ 40 دن کا پورا سبق ہے، اس کو پورا کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد ان شاء اللہ آپ بتا دیں۔ مجھے نہیں بتاتے تو مولانا صاحب کو بتا دیں۔ مولانا صاحب تو ادھر ہی ہوتے ہیں۔ تو پھر ان شاء اللہ اس کا انتظام ہو جائے گا۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ اس کو شروع فرما لیں۔ اگر کوئی کرنا چاہتے ہیں، میں زبردستی نہیں کروا رہا ہوں، صرف آپ لوگوں کو ترغیب دے رہا ہوں۔ کہ جو کرنا چاہے تو ان کو میری طرف سے اجازت ہے، وہ کر سکتے ہیں۔ 40 دن کے بعد پھر وہ رابطہ کر لیں۔ ہمارے مولانا صاحب کے پاس کارڈ ہیں، کارڈ کے اوپر ٹیلی فون نمبر ہے۔ PTCL نمبر ہے (0515193010)، اس پہ ٹیلی فون کرنا ہوتا ہے۔ ان شاء اللہ اگلا سبق بھی اس پر مل جائے گا۔ لیکن پہلے اس کو مکمل کر لیں۔ اللہ جل شانہ ہمارا تعلق اپنے ساتھ بنا دے اور دنیا کی وہ چیزیں جو ہمیں نقصان پہنچانے والی ہیں، اس سے ہمارے دلوں کو موڑ دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.