اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ۔
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
ہمارے حضرت شیخ المشائخ قطب الارشاد شاہ ولی اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے اپنی کتاب "نوادر" میں بہت سے مشائخِ تصوف اور ابدال کے ذریعے سے خضر علیہ السلام سے متعدد اعمال نقل کیے ہیں۔ اگرچہ محدثانہ حیثیت سے ان پر کلام ہے، لیکن یہ کوئی فقہی مسئلہ ہے نہیں جس میں دلیل اور حجت کی ضرورت ہو، مبشرات اور منامات ہیں۔ منجملہ ان کے لکھا ہے کہ ابدال میں سے ایک بزرگ نے حضرت خضر علیہ السلام سے درخواست کی کہ مجھے کوئی عمل بتائیں جو میں رات میں کیا کروں۔ انہوں نے فرمایا کہ مغرب سے عشاء تک نفلوں میں مشغول رہ کر کسی شخص سے بات نہ کر، نفلوں کی دو دو رکعت پر سلام پھیرتا رہ اور ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اور تین مرتبہ قل ھو اللّٰہ پڑھتا رہ۔ عشاء کے بعد بھی بغیر بات کیے اپنے گھر چلا جا، وہاں جا کر دو رکعت نفل پڑھ، ہر رکعت میں ایک دفعہ سورہ فاتحہ اور سات مرتبہ "قل ھو اللّٰہ"۔ نماز کا سلام پھیرنے کے بعد ایک سجدہ کر جس میں سات دفعہ استغفار، سات مرتبہ درود شریف اور سات مرتبہ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھا کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا اور یہ دعا پڑھ: يَا حَىُّ يَا قَيُّوْمُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا إِلٰهَ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ يَا رَحْمٰنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيْمَهُمَا يَا رَبِّ يَا رَبِّ يَا رَبِّ يَا اَللّٰهُ يَا اَللّٰهُ يَا اَللّٰهُ۔ پھر اس حال میں ہاتھ اٹھائے ہوئے کھڑا ہو اور کھڑے ہو کر پھر یہی دعا پڑھ، پھر سجدہ میں جا، یہی دعا پڑھ، پھر دائیں کروٹ پر قبلہ کی طرف منہ کر کے لیٹ جا اور سونے تک درود شریف پڑھتا رہ۔ جو شخص یقین اور نیک نیتی کے ساتھ اس عمل پر مداومت کرے گا، مرنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور خواب میں دیکھے گا۔ بعض لوگوں نے اس کا تجربہ کیا، انہوں نے دیکھا کہ وہ جنت میں گئے، وہاں انبیاء کرام اور سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، ان سے بات کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس عمل کے بہت سے فضائل ہیں جن کو ہم نے اختصاراً چھوڑ دیا اور بھی متعدد اعمال اس نوع کے حضرت پیرانِ پیر رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیے ہیں۔ علامہ دمیری رحمۃ اللہ علیہ "حیاۃ الحیوان" میں لکھا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن، جمعہ کی نماز کے بعد باوضو ایک پرچہ پر مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ أَحْمَدُ رَسُوْلُ اللّٰهِ 35 مرتبہ لکھے، اس کو اپنے ساتھ رکھے، اللہ جل شانہ اس کو طاعت پر قوت عطا فرماتے ہیں، اس کی برکت سے مدد فرماتے ہیں اور شیاطین کے وساوس سے حفاظت فرماتے ہیں، اگرچہ اس پرچہ کو روزانہ طلوع آفتاب کے وقت درود شریف پڑھتے ہوئے غور سے دیکھتا رہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت خواب میں کثرت سے ہوا کرے۔
اب تنبیہ بتائی جا رہی ہے۔ خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہو جانا بڑی سعادت ہے لیکن دو امر قابلِ لحاظ ہیں۔ اول وہ جس کو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے "نشر الطیب" میں تحریر فرمایا، حضرت فرماتے ہیں جاننا چاہیے کہ جس کو بیداری میں شرف نصیب نہیں ہوا، اس کے لیے بجائے اس کے، خواب میں زیارت سے مشرف ہو جانا سرمایۂ تسلی و فی نفسہ ایک نعمتِ عظمیٰ اور دولتِ کبریٰ ہے۔ اور سعادت میں اکتساب کو اصلاً دخل نہیں۔
محض موہوب ہے۔
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
کسی نے کیا ہی اچھا کہا، "یہ سعادت قوتِ بازو سے حاصل نہیں ہوتی جب تک اللہ جل شانہ کی طرف سے عطا اور بخشش نہ ہو"۔ ہزاروں کی عمریں اس حسرت میں ختم ہو گئیں، البتہ غالب یہ ہے کہ کثرتِ درود شریف اور کمالِ اتباعِ سنت، اور غلبۂ محبت پر اس کا ترتب ہو جاتا ہے، لیکن چونکہ لازمی اور کلی نہیں، اس لیے اس کے نہ ہونے سے مغموم اور محزون نہیں ہونا چاہیے۔ کہ بعض کے لیے اسی میں حکمت اور رحمت ہوتی ہے۔ عاشق کو رضائے محبوب سے کام، خواہ وصل ہو یا ہجر ہو۔
أُرِيْدُ وِصَالَهُ وَيُرِيْدُ هِجْرِيْ
فَأَتْرُكُ مَا أُرِيْدُ لِمَا يُرِيْدُ
اور اللہ ہی کے لیے خوبی ہے، اس کہنے والے کی، جس نے کہا کہ میں اس کا وصال چاہتا ہوں، اور وہ مجھ سے فراق چاہتا ہے، میں اپنی خوشی کو اس کی خوشی کے مقابلے میں چھوڑتا ہوں۔
قال العارف شیرازی:
فراقِ وصلش بَاشَد رضائے دوست طلب
کہ حیف بَاشَد ازو غیر او تمنّائی
فراقِ وصل کیا ہوتا ہے؟ محبوب کی رضا ڈھونڈ کہ محبوب سے اس کی رضا کے سوا تمنا کرنا ظلم ہے۔
اسی سے یہ بھی سمجھیں کہ اگر زیارت ہو گئی، مگر طاعت سے رضا حاصل نہیں کی تو وہ کافی نہیں ہو گی۔ کیا خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں بہت سے صورتاً زائر، معناً مہجور، اور بعضے صورتاً مہجور، جیسے اویس قرنی، معناً قرب سے مسرور تھے؟ یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک زمانے میں کتنے لوگ ایسے تھے کہ جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر وقت کی زیارت ہوتی تھی لیکن اپنے کفر و نفاق کی وجہ سے جہنمی رہے، اور اویس قرنی رضی اللہ عنہ، مشہور تابعی، اکابر صوفیاء میں ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان ہو چکے تھے، لیکن اپنی والدہ کی خدمت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکے۔ لیکن اس کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے ان کا ذکر فرمایا اور یہ بھی ارشاد فرمایا جو تم میں سے ان سے ملے وہ ان سے اپنے لیے دعا مغفرت کرائے۔
ایک روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اویس کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ کسی بات پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ اس کو ضرور پورا کرے، تم ان سے دعا مغفرت کرانا۔
وہ تھے اویس، دور مگر ہو گئے قریب
ابو جہل تھا قریب مگر دور ہو گیا
دوسرا امر قابلِ تنبیہ یہ ہے کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، اس نے یقیناً اور قطعاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زیارت کی، روایت صحیحہ سے ثابت ہے اور محقق ہے کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے یہ قدرت عطا نہیں فرمائی کہ وہ خواب میں آ کر کسی طرح اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہونا ظاہر کرے۔ مثلاً یہ کہے کہ میں نبی ہوں یا خواب دیکھنے والا شیطان کو -نعوذ باللہ- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ بیٹھے، اس طرح تو ہو نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اصلی ہیئت میں نہ دیکھے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی ہیئت اور حلیہ میں دیکھے جو شانِ اقدس کے مناسب نہ ہو تو وہ دیکھنے والے کا قصور ہو گا۔ جیسے کسی شخص کی آنکھ پر سرخ یا سبز یا سیاہ عینک لگا دی جائے، تو جس رنگ کی عینک آنکھ پر ہوگی، اس رنگ کی سب چیزیں نظر آئیں گی۔ اس طرح بھینگے کو ایک کے دو نظر آتے ہیں۔ اگر نئے Time piece کی لمبائی میں کوئی شخص اپنا چہرہ دیکھے تو اتنا لمبا نظر آئے گا کہ حد نہیں۔ اور اس کی چوڑائی میں اپنا چہرہ دیکھے تو ایسے چوڑا نظر آئے گا کہ خود دیکھنے والے کو اپنے چہرے پر ہنسی آ جائے گی۔ اس طرح سے اگر خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد شریعتِ مطہرہ کے خلاف سنے، تو وہ محتاجِ تعبیر ہے۔ شریعت کے خلاف اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ چاہے وہ کتنے بڑے شیخ اور مقتدیٰ کا خواب ہو۔ مثلاً کوئی شخص دیکھے کہ اس کو خواب میں -نعوذ باللہ- حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ناجائز کلام کے کرنے کی اجازت یا حکم دیا، تو وہ درحقیقت حکم نہیں بلکہ ڈانٹ ہے۔ جیسے کوئی شخص اپنی اولاد کو کسی برے کام سے روکے اور وہ مانتا ہی نہ ہو، اس کی تنبیہ کے طور پہ کہے اچھا کر، کر، کر، یعنی اس کا مزہ میں چکھاؤں گا۔ اس طرح سے کلام کے مطلب کا سمجھنا جس کو تعبیر کہا جاتا ہے یہ بھی ایک دقیق فن ہے۔
"تعطیر الانام فی تعبیر المنام" میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے خواب دیکھا کہ اس سے ایک فرشتہ نے کہا کہ تیری بیوی تیرے فلاں دوست کے ذریعے تجھے زہر پلانا چاہتی ہے۔ ایک صاحب نے اس کی تعبیر دی کہ وہ صحیح تھی کہ تیری بیوی اس میں فلاں سے زنا کرتی ہے۔ اس طرح اور بہت سے واقعات اس قسم کے فنِ تعبیر کی کتابوں میں لکھے ہیں۔ مظاہرِ حق میں لکھا ہے کہ امام نووی نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، اس نے حضرت ہی کو دیکھا، خواب کی صفت معروفہ پر دیکھا ہو، یا اس کے علاوہ اور اختلاف اور تفاوت صورتوں کے اعتبار، کمال و نقصان دیکھنے والے کی، جس نے حضرت رحمۃ اللہ کو اچھی صورت میں دیکھا بوجہ کمالِ دین کے اپنے دیکھا، اور جس نے برخلاف اس کے دیکھا، بوجہ نقصان اپنے دین کے دیکھا۔ اس طرح ایک نے بڈھا دیکھا، ایک نے جوان، اور ایک نے راضی، اور ایک نے خفا، یہ تمام مبنی ہیں اختلافِ حال دیکھنے والے کی ہیں۔ پس دیکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گویا کہ کسوٹی ہے، معرفت احوال دیکھنے والے کی، اور اس میں ضابطہ مفید ہے سالکوں کے لیے۔
اس کے لیے میں ایک عرض کرنا چاہوں گا کہ بزرگوں نے فرمایا کہ شیخ جو ہوتا ہے یہ آئینہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی خواب میں آئینہ دیکھے تو اس کا مطلب ہے شیخ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیخ سے انسان کو اپنے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ میں کیسے ہوں۔ وہ آئینہ ہوتا ہے۔ تو اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے تو سب کو دین نصیب ہوا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سب سے زیادہ اس مسئلے میں آگے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں جس طرح انسان دیکھے گا تو گویا کہ وہ اس کا آئینہ ہے۔ اچھی حالت میں دیکھا تو اچھی حالت ہے، اگر اچھی حالت میں نہیں دیکھا تو اپنی اچھی حالت نہیں ہے۔ یعنی آئینے کے طور پر ہو جائے گا۔