صلاۃ الخوف اور قصر کی نماز: شریعت میں ظاہری اسباب اور نماز کی اہمیت

درس نمبر 200، سورۃ النساء: آیات: 101 تا 104- اشاعتِ اول: 15 جون، 2022، بمطابق 15 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• سفر میں قصر نماز کے قرآنی احکام اور اس کی تفصیلات۔

• دورانِ جنگ "صلاۃ الخوف" ادا کرنے کا طریقہ اور حکمت۔

• حالتِ سفر میں سنتوں اور مستحب نمازوں کی ادائیگی کی ترغیب (خاص طور پر امن کی حالت میں)۔

• سورۃ النساء کی آیات کا شانِ نزول (بنو ابیرق کے شخص بشر اور یہودی کا واقعہ)۔

• کسی بھی حال (یہاں تک کہ جنگ) میں نماز کے معاف نہ ہونے کی اہمیت۔

• شریعت میں توکل کے ساتھ ظاہری اسباب اور بہترین حکمتِ عملی (Management) اختیار کرنے کا سبق۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا (101) وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآىٕفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآىٕكُمْ وَ لْتَاْتِ طَآىٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةًؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا(102) فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(103) وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا (104)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ


اور جب تم زمین میں سفر کرو اور تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں پریشان کریں گے، تو تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم نماز میں قصر کر لو۔

اللہ تعالیٰ نے سفر کی حالت میں ظہر، عصر اور عشاء کی نماز آدھی کر دی ہے۔ اسے ”قصر“ کہا جاتا ہے۔ عام سفروں میں قصر ہر حالت میں واجب ہے، چاہے دشمن کا خوف ہو یا نہ ہو، لیکن یہاں ایک خاص قسم کے قصر کا ذکر مقصود ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت ہی ہو سکتا ہے، اس میں یہ چھوٹ بھی ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا لشکر دو حصوں میں تقسیم ہو کر ایک ہی امام کے پیچھے باری باری ایک ایک رکعت پڑھے، اور دوسری رکعت بعد میں تنہا پوری کرے جس کا طریقہ اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ خاص قسم کا قصر، جسے ”صلاة الخوف“ کہتے ہیں، دشمن کے مقابلے کی حالت ہی میں ہو سکتا ہے، اس لئے یہاں قصر کے ساتھ یہ شرط لگائی گئی ہے کہ ”اگر تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں پریشان کریں گے“ (ابن جریر) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر ”صلاة الخوف“ پڑھی ہے۔ اس کا مفصل طریقہ احادیث اور فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔


یقیناً کافر لوگ تمہارے کھلے دشمن ہیں ﴿101﴾ اور (اے پیغمبر!) جب تم ان کے درمیان موجود ہو اور انہیں نماز پڑھاؤ تو (دشمن سے مقابلے کے وقت اس کا طریقہ یہ ہے کہ) مسلمانوں کا ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو جائے، اور اپنے ہتھیار ساتھ لے لے۔ پھر جب یہ لوگ سجدہ کر چکیں تو تمہارے پیچھے ہو جائیں، اور دوسرا گروہ جس نے ابھی تک نماز نہ پڑھی ہو آگے آ جائے، اور وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھے، اور وہ اپنے ساتھ اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لے لے۔کافر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے غافل ہو جاؤ تو وہ ایک دم تم پر ٹوٹ پڑیں۔ اور اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو اس میں بھی تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو، ہاں اپنے بچاؤ کا سامان ساتھ لے لو۔ بیشک اللہ نے کافروں کے لئے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿102﴾ پھر جب تم نماز پوری کر چکوتو اللہ کو (ہر حالت میں) یاد کرتے رہو، کھڑے بھی بیٹھے بھی، اور لیٹے ہوئے بھی ۔

یعنی سفر یا خوف کی حالت میں نماز میں تو قصر ہو سکتا ہے، لیکن اللہ کا ذکر ہر حالت میں جاری رہنا چاہئے، کیونکہ اس کا نہ کوئی خاص وقت مقرر ہے، نہ کوئی خاص ہیئت۔ وہ کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حالت میں ہو سکتا ہے۔

پھر جب تمہیں (دشمن کی طرف سے) اطمینان حاصل ہو جائے تو نماز قاعدے کے مطابق پڑھو۔ بیشک نماز مسلمانوں کے ذمے ایک ایسا فریضہ ہے جو وقت کا پابند ہے ﴿103﴾ اور تم ان لوگوں (یعنی کافر دشمن) کا پیچھا کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ، اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو ان کو بھی اسی طرح تکلیف پہنچی ہے جیسے تمہیں پہنچی ہے،

تو فرمایا کہ:

اگر جنگی مصلحت ہو اور امیر حکم دے تو تعاقب واجب ہے۔ ایسے میں یہ سوچنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ جس طرح ہم تھکے ہوئے ہیں، دشمن بھی تو تھکا ہوا ہے، اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور ثواب کی جو اُمید ہے وہ دشمن کو حاصل نہیں ہے۔


تو یہاں پر اصل میں صلاۃ الخوف کی بات کی گئی ہے ایک بات۔ اور دوسری عام قصر کی نماز کی بات۔ عام قصر کی نماز میں اور صلاۃ الخوف میں یہ فرق ہے کہ عام قصر کی نماز میں تو بس ظہر کی ہے، عصر کی ہے اور عشاء کی ہے، یہ آدھی ہو جاتی ہیں، فرض۔ باقی سنتیں، نفل ہو جاتی ہیں۔ اگر کوئی پڑھے گا تو اجر ملے گا اور نہیں پڑھے گا تو گناہ کوئی نہیں ہوگا۔


البتہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر ایسی جگہ سفر ہو جہاں سفر کا حکم تو لگ رہا ہو لیکن امن ہو، یعنی آرام ہو، مطلب اس میں کوئی پریشانی آپ کو نہیں ہو، بالکل گھر جیسا ماحول ہو، جیسے آپ ہوٹل میں رہ رہے ہیں یا کسی کے گھر رہ رہے ہیں، چند دن کے لیے، تین چار دن کے لیے، تو وہ تو ایک تو transit ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ لاہور سے جا رہے ہیں کراچی، تو راستے میں آپ transit میں ہیں۔ لیکن کراچی پہنچ کر آپ وہاں پر جہاں پر رہ رہے ہیں، تو آپ کے لیے تو امن کے حالات ہوں گے۔

تو اس وقت وہ prefer کرتے ہیں مستحباً کہ وہ سنتیں وغیرہ پڑھ لیا کریں۔ ویسے تو نماز آدھی پڑھیں گے یعنی فرض حُکماً۔ لیکن یہ بات ہے کہ باقی جو سنتیں ہیں وہ بھی پڑھ لیا کریں۔ بلکہ جو مستحب نمازیں ہم پڑھتے ہیں، جیسے اشراق ہے، چاشت ہے یا تہجد ہے، وہ بھی پڑھنی چاہئیں تاکہ عادت نہ ٹوٹے۔ لیکن اگر کوئی transit میں ہے تو پھر اس میں ظاہر ہے چونکہ گنجائش ہے، تو اس گنجائش سے فائدہ اٹھانے میں فائدے ہیں۔


دوسری جو صلاۃ الخوف ہے۔ وہ عین لڑائی کے وقت میں ہوتی ہے۔ اس وقت دشمن کی نظریں اس پر ہوتی ہیں کہ کہیں یہ غافل ہو جائیں تو ہم ان کے ہتھیار اٹھا لیں اور یا پھر یہ کہ -نعوذ باللہ من ذلک- ان پر حملہ کر کے ان کو نقصان پہنچائیں۔


تو اس صورت میں اللہ پاک نے چونکہ یہ دنیا دار الاسباب بنائی ہے، تو اس وجہ سے اس میں اسباب اختیار کرائے گئے ہیں۔ یعنی ایسے اسباب جن سے اپنی حفاظت بھی ہو اور اپنی نماز بھی پڑھ لی جائے۔ یعنی اس میں دونوں باتوں پر حکم ہے، اسباب کو اختیار کرنے پر بھی عمل ہو، اور ساتھ ساتھ نماز پڑھنے پر بھی عمل ہو۔ تو اس میں اس طرح کیا گیا کہ وہ جو نماز ہے وہ وہاں تو یہ چند رکعتیں آدھی ہو جاتی ہیں نا عام قصر میں، لیکن یہاں پر امام کے پیچھے نماز کا پڑھنا جو ہے، یہ آدھا ہو جاتا ہے۔ گویا یوں سمجھ لیجیے کہ ابھی ایک رکعت پڑھ لی، تو اس کے ساتھ اسلحہ اپنے ساتھ لیا ہوا ہے اور نماز پڑھ رہے ہیں۔ اور نماز جیسے مطلب ایک رکعت پڑھ لی امام کے پیچھے، تو پھر پیچھے ہو گئے اور دوسری جماعت جو ان کی چوکیداری کر رہی تھی، وہ آ جائے اور یہ پیچھے مطلب چلے جائیں۔


تو گویا کہ اس طریقے سے management اس طرح ہو کہ اپنی حفاظت بھی ہو اور یہ نماز بھی پڑھ سکیں۔ تو اس سے ایک تو نماز کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ کہ نماز کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ عین لڑائی کے وقت میں بھی یہ موقوف نہیں ہوتی، ہاں اس کی صورت حال تبدیل ہو جاتی ہے، یعنی طریقہ کار تبدیل ہو جاتا ہے۔


دوسری اس میں اسباب کی اہمیت ہے۔ مطلب یہ توکل کے خلاف نہیں ہے، بلکہ یہ حال کے مطابق اسباب اختیار کرنا ہے، تو اس میں اسباب کی بھی اہمیت واضح ہو گئی۔ ان دونوں چیزوں کو ہم اپنے ذہن میں رکھ کر شریعت پر چلنے کی جب ہم کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے ساتھ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔



صلاۃ الخوف اور قصر کی نماز: شریعت میں ظاہری اسباب اور نماز کی اہمیت - درسِ قرآن - دوسرا دور