اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلٰمِيْنَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ
فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوباتِ شریف کا بے نظیر درس ہوتا ہے۔ کیونکہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ جل شانہ نے حضرت کو جو اونچی نسبت عطا فرمائی تھی، کہ ہزار سال کے لیے مجدد بنا کر اللہ پاک نے بھیج دیا، یہ بڑی بات ہے۔ دوسرے مجددین حضرات بھی تشریف لاتے رہتے ہیں، اور سو سال ان کا اثر رہتا ہے۔ لیکن جو مجدد الف ثانی ہیں، تو ان کا اثر ان شاء اللہ یہ جو ہزار کے بعد جو ہزارسال ہیں، تو اس میں حضرت کا اثر رہے گا۔ اور بالکل ان مکتوبات شریف سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ جو مسائل ہیں تو ان مسائل کا حل حضرت نے پیش کیا ہوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ لوگ ان سے استفادہ نہ کریں، ان کو سمجھیں نہیں، یا ان کو پڑھیں نہیں، وہ ایک علیحدہ بات ہے، وہ اپنی کمزوری ہے۔
یہ ابھی جو موجودہ مکتوبِ شریف ہے، یہ اصل مکتوبِ شریف، یہ عقائد کے بارے میں، یہ مکتوب نمبر 266 ہے۔ چل رہا ہے اور تقریباً آج شاید ختم ہو جائے گا۔ کافی لمبا مکتوب ہے۔ کچھ تقریباً چالیس صفحات سے زیادہ کا مکتوبِ شریف ہے۔ غالباً تمام مکتوبات میں شاید یہ سب سے زیادہ لمبا مکتوب ہو۔ تو اس میں حضرت نے عقائد کے اوپر باتیں کی ہیں کہ عقائد ہمارے کیسے ہونے چاہئیں۔ چونکہ حضرت کے وقت میں بہت سارا بگاڑ آ گیا تھا، بہت سارا مسئلہ بن گیا تھا، جس کو انگریزی میں chunk کہتے ہیں نا، وہ تقریباً chunk والی بات ہو رہی تھی، ساری چیزیں آپس میں mix ہو گئی تھیں۔ تو ان کو علیحدہ علیحدہ کرنا یہ بہت ضروری تھا۔ تو حضرت نے الحمد للہ یہ کام بہت ہی زیادہ حکمت کے ساتھ کیا ہے۔ اور ہر چیز کو اپنے اپنے فکر اور اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔
ابھی جیسے اس مکتوبِ شریف میں اس موقع پر یہ فرما رہے ہیں:
ان اعتقادی اور عملی دو بازوں کے حاصل ہونے کے بعد اگر حق تعالیٰ جل سلطانہٗ کی توفیق رہنمائی فرمائے تو صوفیہ کے عالی طریقے کا سلوک (اختیار) کرے جو اس غرض سے نہیں کہ وہ اعتقاد و عمل کے علاوہ کوئی زائد چیز ہے یا کوئی نئی چیز حاصل کرنا ہے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ معتقدات کی نسبت ایسا یقین و اطمینان حاصل ہو جائے کہ شک ڈالنے والے کی شک اندازی سے زائل نہ ہو، اور شبہ کے پیش آنے سے باطل نہ ہو جائے، کیونکہ بحث و مباحثہ کے پاؤں لکڑی کے ہوتے ہیں، اور دلائل قائم رہنے والے نہیں ہوتے:
مطلب یہ ہے کہ اگر آپ دلیل سے مان جاتے ہیں، تو دلیل سے آپ ہٹ بھی سکتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟ اگر دلیل سے آپ کو کسی نے منوا لیا، تو دلیل سے آپ کو ہٹا بھی سکتے ہیں۔ اور آپ کو تمام چیزوں کا وہ تو ہو گا نہیں ایسا۔ تو نتیجہ کیا ہو گا، کوئی آدمی ذرا زیادہ Genius Type ہو اور ہو فطین، تو کیا ہوگا؟ وہ آپ کو ہٹا دے گا۔ جیسے نہیں ہوتے غامدی type یا اس قسم کے لوگ۔ جو، کھوج لگاتے ہیں، باقاعدہ کہاں کہاں سے لوگوں کو خراب کر سکتے ہیں۔ اور اس قسم کی باتیں کرتے ہیں اور لوگ وہ خراب کر لیتے ہیں۔ تو اس طریقے سے مطلب، یعنی، یہ ہے کہ، کوئی بھی خراب ہو سکتا ہے۔
ان اعتقادی اور عملی دو بازوں کے حاصل ہونے کے بعد اگر حق تعالیٰ جل سلطانہٗ کی توفیق رہنمائی فرمائے تو صوفیہ کے عالی طریقے کا سلوک (اختیار) کرے جو اس غرض سے نہیں کہ وہ اعتقاد و عمل کے علاوہ کوئی زائد چیز ہے
اعتقاد اور عمل! دیکھیں نا یہ ذرا تھوڑا سا غور فرما لیں۔ تین چیزیں تھیں نا جو حدیثِ جبریل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرائیل علیہ السلام نے پوچھی تھیں۔ مقصد یہ تھا کہ امت کو صحیح دین کی سمجھ آ جائے۔ اس لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یہ جبرائیل تھے، آپ لوگوں کو دین سمجھانے کے لیے آئے تھے۔
تو اس میں پہلا سوال یہ تھا کہ ایمان کیا ہے؟ تو ایمان کی ہے کا جواب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا، وہ عقائد ہیں۔
دوسرا سوال جو کیا تھا اسلام کیا ہے؟ تو اسلام کا جو جواب دیا وہ اسلام کے ارکان تھے، یعنی اعمال۔
اور تیسرا جو سوال کیا تھا، وہ پوچھا تھا احسان کیا ہے؟ فرمایا احسان، أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ۔ تو ایسے عبادت کر جیسے تو خدا کو دیکھ رہا ہے۔ اور اگر یہ چیز تجھے حاصل نہیں ہے، تو بے شک اللہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ اصل میں یوں کہہ سکتے ہیں، درجۂ حال میں اپنے علم کو حاصل کرنا۔ درجۂ حال میں اپنے علم کو حاصل کرنا۔ تو یہ کیفیت ہے۔ اسی کو "کیفیتِ احسان" بھی کہتے ہیں۔ احسان کا لغوی معنی یہ ہے، کسی چیز کو اچھی طرح کر کے دکھانا، احسان، بابِ افعال سے ہے۔ کسی چیز کو اچھی طرح کرنا، یہ احسان کی حالت ہے۔ تو ظاہر ہے جب آپ کوئی کام کرتے ہیں، تو اس کو اگر اچھی طرح کر لیں، تمام پہلوؤں سے، تو یہ احسان ہوگا۔ اس کیفیت جس کے ذریعے سے یہ چیز حاصل ہو سکتی ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا:
أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ
تو یہاں پر یہ فرمایا کہ
ان اعتقادی اور عملی دو بازوں کے حاصل ہونے کے بعد اگر حق تعالیٰ جل سلطانہٗ کی توفیق رہنمائی فرمائے تو صوفیہ کے عالی طریقے کا سلوک (اختیار) کرے جو اس غرض سے نہیں کہ وہ اعتقاد و عمل کے علاوہ کوئی زائد چیز ہے یا کوئی نئی چیز حاصل کرنا ہے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ معتقدات کی نسبت ایسا یقین و اطمینان حاصل ہو جائے ۔
یعنی جو عقیدے ہیں ہمارے، وہ اس طرح رچ بس جائیں، واضح ہو جائیں، جس پر قلب مطمئن ہو جائے۔ جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ اور درجۂ حال میں وہ چیز حاصل ہو جائے، وہ اصل میں یہ بات ہے کہ:
معتقدات کی نسبت ایسا یقین و اطمینان حاصل ہو جائے شک ڈالنے والے کی شک اندازی سے زائل نہ ہو، اور شبہ کے پیش آنے سے باطل نہ ہو جائے، کیونکہ بحث و مباحثہ کے پاؤں لکڑی کے ہوتے ہیں، اور دلائل قائم رہنے والے نہیں ہوتے:
مطلب دلائل میں انسان پھنستا ہے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مناظرہ شروع ہوا، اور جس وقت مناظرہ ختم ہوا تو یہ والا یہ بن گیا، تو یہ والا یہ بن گیا تھا۔ ایسا بھی ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے فرمایا کہ:
پاؤں لکڑی کے ہوتے ہیں، اور دلائل قائم رہنے والے نہیں ہوتے:
﴿أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ (الرعد: 28) "خبردار کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دلوں کا اطمینان حاصل ہوتا ہے"۔
اور اعمال کی بجا آوری کے لئے آسانی اور سہولت حاصل کریں، اور سستی و سر کشی جو نفس امارہ سے پیدا ہوتی ہے اس کو دور کریں، اور اسی طرح طریقہ صوفیہ کے سلوک کا مقصود یہ نہیں ہے کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ اور طرح طرح کے انوار کا معائنہ کریں یہ تو خود لہو و لعب میں داخل ہیں۔
بہت خوبصورت سلسلہ ہے نقشبندی۔ بہت خوبصورت سلسلہ ہے۔ بہت مضبوط بنیادوں پہ قائم سلسلہ ہے۔ لیکن افسوس، دراڑیں پڑ گئیں۔ اور جو چیزیں فائدے کے لیے تھیں ان کو نقصان کے لیے استعمال کیا گیا۔ تو حضرت کے مکتوبات شریف میں یہ چیزیں بکھری ہوئی ملیں گی آپ کو۔ مثلاً دیکھیں نا کیا فرمایا:
کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ اور طرح طرح کے انوار کا معائنہ کریں۔
یہ بات فرمائی نا! تو جو مراقبات میں کشفیات کے رخ پہ نکل جائیں،
تو خطرات شروع ہو جاتے ہیں۔ خطرات شروع ہو جاتے ہیں۔ جب تک انسان کے نفس کے اصلاح نہ ہو چکی ہو۔ ہر وقت وہ خطرے میں ہے۔ ہر وقت وہ خطرے میں ہے۔ کیونکہ نفس کی اصلاح جب ہو جاتی ہے، تو ذوق صحیح ہو جاتا ہے۔ مزاج صحیح ہو جاتا ہے۔ پسند ناپسند صحیح ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ان کشفیات سے خود ہی اعراض ہو جائے گا۔ ان چیزوں کی طرف پھر نہیں جائے گا۔
اور جو صحیح کشف ہو گا، اسی کو ہی صرف لے گا۔ غلط چیزوں کی طرف نہیں، ان کو کوئی جیسے کوئی آدمی دھوکہ نہیں کھا سکے گا غلط بات بتا کے۔ اس طرح کوئی غلط کشف بھی دھوکہ نہیں کر سکے گا۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ اس نے صحیح چیز کو پا لیا ہو گا۔ جب تک ایسا نہیں ہے وہ خطرے میں ہے۔ اس وجہ سے پہلی نیت جو ہے، انسان کی درست ہونی چاہیے۔ کہ میں کس لیے تصوف کو کر رہا ہوں؟ کس لیے میں سلوک کو طے کر رہا ہوں؟ کیا میں بزرگ بننے کے لیے کر رہا ہوں؟ یا اللہ پاک کا فرمانبردار بندہ بننے کے لیے کر رہا ہوں؟ اگر میں اللہ پاک کا فرمانبردار بندہ بننے کے لیے کر رہا ہوں، تو یہ ساری چیزیں مائنس جو اس کے علاوہ ہیں۔ اب ہمارا اس سے کوئی کام نہیں ہو گا۔
تو وہ جو چیز اوّل ہے وہ اوّل ہے نا۔ جو چیز اوّل، اَلْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ۔ جو اصل چیز ہے، جو کہ ہماری اصلاح ہو جائے، وہ بنیادی چیز ہے نا، وہ تو پھر، مزید تو صرف تجاوزات ہیں، اضافے ہیں۔ تو اب یہ جو چیز ہے مطلب، یہ سلوک کا طے کرنا، یہ لازم ہے، اوّل ہے۔ وجہ کیا ہے؟ "قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا" پر عمل کرنا چاہتے ہیں آپ۔ تو "قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا" پر جو عمل ہے وہ نفس کے ساتھ متعلق ہے۔ وہ نفس کے ساتھ متعلق ہے۔ جب تک آپ کا نفس صاف نہیں ہوا، پاک نہیں ہوا، اس وقت تک آپ کی کوئی گفت پاک ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ آپ کی سماعت کے پاک ہونے کی گارنٹی نہیں ہے۔ آپ کی سوچ کے پاک ہونے کی گارنٹی نہیں ہے۔ آپ کے کشف کے صحیح ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ آپ ہر چیز میں خطرے میں ہیں۔ تو پہلے اپنے آپ کو محفوظ تو کرو!
اب صورتحال یہ ہے کہ مراقبہ پر زور ہے۔ حالانکہ مراقبہ محض ایک ذریعہ ہے۔ مفید ذریعہ ہے، یہ نہیں کہ مطلب- نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ- غلط چیز ہے۔ مراقبہ ایک ذریعہ ہے۔ اس کو ذریعہ کی حد تک رکھو، اس کو مقصود نہ بنایا جائے۔ جس وقت آپ کو اتنا جذب حاصل ہو جائے، کہ اب آپ سلوک طے کر سکتے ہیں، تو فوراً سلوک طے کرنا۔ مزید دیر نہیں لگانی چاہیے۔ کیونکہ جو آپ کی اصل چیز ہے وہ آپ کے سامنے آ گئی۔ اس کو طے کر لو، اس کے بعد پھر ما شاء اللہ، پھر الحمد للہ چونکہ حفاظت میں آ جاؤ گے اللہ تعالیٰ کی، اس وجہ سے سلوک، جو سیر فی اللہ ہے، وہ آپ کے لیے سبحان اللہ کافی کھلا راستہ ہے۔ جتنا آگے بڑھ سکتے ہو، بڑھو۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن سب سے پہلے ان چیزوں کو تو درست کرو نا، کہ جو سلوک والی لائن ہے اس کو تو درست کر لو۔ تاکہ گناہ سے محفوظ ہو جاؤ۔ کیفیتِ احسان کو لوگوں نے مراقبہ سمجھا ہےاور نفس کی اصلاح کو بھی مراقبے کے ذریعے سے کرتے ہیں یہ خیالی چیزیں ہیں تصوراتی چیزیں ہیں۔ یہ معاملہ بہت دور تک چلا جاتا ہے۔ ایک دفعہ چیز De-track ہو جائے نا، تو پھر جتنا،جتنا وقت بڑھتا ہے، جو De-traction بڑھتی جاتی ہے۔
تو اب صورتحال یہ ہے کہ مراقبے ہال بنے ہوئے ہیں اور اس میں مراقبے کیا کرتے ہیں، خیالات پالتے ہیں۔ اور پھر ان خیالات کی تشریحات کرتے رہتے ہیں۔ فلسفیانہ تصوف بن گیا ہے۔ اسی میں لگے رہتے ہیں۔ اور اتنا زبردست وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ ہمارے دشمنوں کو وہ راس آ جاتے ہیں۔ بات ثبوت سے کروں گا ان شاء اللہ۔ مجھے مفتی نعیم صاحب نے کہا، اس وقت ایک اہم عہدے پہ تھے کوہاٹ یونیورسٹی میں،اسلامیات ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ تھے۔ ان کو باقاعدہ حکومت کی طرف سے Instructions گئیں کہ شمس الدین عظیمی کی کتابیں وہ داخل کر لیں۔ اسلامیات کے نصاب میں تصوف کو داخل کر لیں اور تصوف کو شمس الدین عظیمی کی کتابوں سے لے لیں۔ وہ کیوں پسند آیا ان کو؟ کہ اس میں یہی چیزیں ہیں۔ اصل چیز ختم۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟
روحانی ڈائجسٹ نام سنا ہے کہیں؟ روحانی ڈائجسٹ، عظیمی سلسلہ۔ اس کے پہلے جو بیک لفظ وہ ہے اس پہ ایک ننگ دھڑنگ تصویر ہے۔ ان کا وہ جو ان کے پیر ہیں۔ تاج الدین اولیاء۔ اور اس میں لکھا ہے، کہ وہ ایک کروڑ فائلیں ایک سیکنڈ میں سائن کرتے ہیں۔ خدا کے بندو، کیا کرنا چاہتے ہو؟ کیا کرنا چاہتے ہو؟ -نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ- وہی فلسفیوں والی بات ہے کہ اللہ پاک نے عقلِ اوّل کو پیدا کیا اب نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ اللہ پاک تو اب کچھ نہیں کر رہا، اب عقلِ اوّل نے عقلِ دوم کو پیدا کیا، اب عقلِ اوّل، دوم کر رہا ہے، اور یہ سارا سلسلہ جس طریقے سے، انہوں نے بھی نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ، اللہ پاک نے تاج الدین بابا اولیاء کو پیدا کر لیا، اب سارا کام وہی کر رہے ہیں۔ اب اللہ پاک نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ کچھ نہیں کر رہا۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔
عقیدے سلامت رہ گئے؟ یہ بات یہاں تک چلی جاتی ہے۔ اس وجہ سے ضرورت ہے کہ ہم حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے طریقہ کار کو، نقشبندی سلسلے کے لیے انتہائی مستند سمجھیں۔ اس سے آگے پیچھے نہ ہوں۔ اس سے آگے پیچھے ہوں گے تو دشمنوں کو پسند آئیں گے۔ پھر ہمارا اپنے ساتھ کوئی کام نہیں ہوگا۔ اور یہ حال ہو گا کہ مراقبات کرتے رہیں گے، نفس کی شرارتیں زوروں پر ہوں گی۔ اور اپنے خیال میں کہہ دیں گے کہ سارا کچھ ہو گیا۔ میں آپ کو ایسی کتابیں دکھا سکتا ہوں نقشبندی سلسلے کے بعض حضرات کی جن کا یہ خیال ہے کہ وہ باقاعدہ انہوں نے لکھا ہے باقاعدہ۔ مجھے بلکہ ایک صاحب نے ایک کتاب دے دی، تو میں نے پوچھا کہ کون ہیں، جب پتہ چلا میں نے کہا بس ٹھیک ہے مجھے پتہ ہے کہ اس میں کیا لکھا ہوگا۔ تو کیا ہے؟ وہ میں ڈھونڈ رہا تھا اور مجھے وہ مل گیا۔
تو اس میں یہ ہوتا ہے کہ وہ بزرگوں کی کتابوں سے واقعات لے لے کر، کاٹ کاٹ کر، وہ صحیح باتیں وہ کر کے نا، بتاتے ہیں کہ سب سے اونچا مقام یہ ہے، سب سے اونچا مقام عبدیت ہے اور پھر یہ اور فلاں۔ سارا لکھنے کے بعد اخیر میں کہتے ہیں، مجھے کشف ہو گیا کہ آپ کو یہ مقام حاصل ہو گیا۔
چلو جی! چھٹی ہو گئی۔ کشف سے حاصل ہو گیا۔
اگر غلام احمد قادیانی کہہ دے مجھے کشف ہو گیا کہ تو نبی ہے تو مان لو گے؟
یہ کون سی بات ہے؟ یہ کشفیات سے فیصلے ہوتے ہیں؟ تو یہ اصل میں یہ
والی بات ہے کہ پھر اس ٹریک پہ لوگ چل پڑتے ہیں۔ اس ٹریک پہ لوگ چل پڑتے ہیں۔ اس وجہ سے صحیح طریقہ کیا ہے؟ جذب کسبی بامرِ مجبوری ہے۔ جذبِ کسبی کیا ہے؟ بامرِ مجبوری ہے۔ کیونکہ لوگ سلوک طے کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اتنا جذب پیدا کر لو کہ سلوک طے کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ جب تیار ہو جاؤ تو سلوک طے کر لو۔ جب سلوک طے ہو جائے گا، دس مقامات تفصیل کے ساتھ طے ہو جائیں گے-سبحان اللہ- سیر الی اللہ مکمل ہو گیا۔ پھر سیر فی اللہ میں جتنا آگے جا سکتے ہو، جاؤ۔ جیسے ابھی میں نے عرض کیا تھا تھوڑی دیر پہلے، فرائض واجبات مکمل کر لو سننِ مؤکدات کے ساتھ، پھر اس کے بعد نوافل میں بہت بڑا میدان ہے آپ کے پاس۔ اس میں پھر آپ کو کوئی روکے گا نہیں۔ نوافل کا بہت بڑا میدان ہے۔ جتنا آگے جا سکتے ہو۔ چاہے نفلی صدقات میں جانا چاہتے ہو، چاہے نفلی رفاہی کام میں جانا چاہتے ہو، چاہے نفلی عبادات میں جانا چاہتے ہو، یہ سارے کے سارے نفلی معاشرت کے، یہ سارے کے سارے راستے آپ کے لیے کھلے ہیں۔ پھر جتنا جا سکتے ہو۔ طریق کیا ہے؟ اس کے ذریعے سے آپ اللہ پاک کا قرب حاصل کر لو، ٹھیک ہے۔ لیکن فرائض واجبات کے بعد۔ فرائض واجبات اور سنن مؤکدہ کے بعد، بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟
بعینہ اس طریقے سے اپنا سلوک طے کر لو۔ جو لازم اور فرض ہے۔ فرض سلوک طے کر لو، پھر اس کے بعد جاؤ نا، سیر فی اللہ کے لیے آپ کے پاس کوئی Limited میدان تو نہیں ہے۔ جتنا ذکر کر سکتے ہو پھر کرو، جتنی تلاوت کر سکتے ہو کر سکتے ہو تو کرو، جتنے لوگوں کی خدمت کر سکتے ہو تو کرو۔ جو جو آپ کے لیے مواقع ہیں وہ سارے کے سارے استعمال کر لو، آگے بڑھتے رہو۔ ان شاء اللہ کبھی کوئی نہیں روکے گا۔ آپ چلتے جائیں، چلتے جائیں، چلتے جائیں۔ اور اگر آپ کے ذمے کوئی خدمت لگ گئی اس کو کرتے رہو۔ لیکن یہ تو نہیں نا کہ- نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ- ابھی وہ فرائض پورے نہیں واجبات پورے نہیں اور آپ، ان چیزوں میں لگ جائیں۔ ٹھیک ہے نا یہ والی بات ہے۔
﴿أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے دلوں کو اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔ خبردار کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور اعمال کی بجا آوری کے لیے آسانی اور سہولت حاصل کر لے۔
واقعتاً یہی بات ہے۔ اعمال انسان ویسے بھی ادا کر سکتے ہیں لیکن سستی کے ساتھ۔ وہ حالت ہوتی ہے کہ بس وہ سر سے گزارنے والی بات۔ لیکن جس وقت انسان کو کیفیتِ احسان حاصل ہو جاتی ہے، تو وہ اعمال اس کی زندگی کا سب سے اہم حصہ بن جاتے ہیں۔ اور پھر اس کے اندر ان اعمال کے اندر اس کو وہ چیز حاصل ہوتی ہے کہ وہ باقی وقت صرف اسی کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ میں دوبارہ وہ کام کر لوں۔ تو یہ بات ہے۔
اور سستی و سر کشی جو نفس امارہ سے پیدا ہوتی ہے اس کو دور کریں، اور اسی طرح طریقہ صوفیہ کے سلوک کا مقصود یہ نہیں ہے کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ اور طرح طرح کے انوار کا معائنہ کریں۔
آج کل بہت زیادہ اس میں بڑا مسئلہ ہوا ہے، بہت زیادہ مسئلہ ہوا ہے۔ اللہ معاف فرمائے، حضرت نے جتنا اس کے لیے درد کا اظہار کیا تھا، آج کل اس سے اتنی زیادہ غفلت ہے اور اپنے آپ کو کہتے ہیں نقشبندی مجددی! نام کیا لیتے ہیں؟ نقشبندی مجددی! اور نقشبندی مجددی، مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وہ فکر کا خیال ہی نہیں کہ حضرت کی فکر کیا تھی۔ حضرت نے اس سلسلے کو کن اصولوں پر استوار کیا تھا؟ اس کی فکر ہی نہیں! آج کل مجھے بتاؤ کہ کون سا نقشبندی ہے، الا ما شاء اللہ، جو ان کشفوں اور انوارات اور اشکالات ان چیزوں
میں گم نہیں ہے؟ ہر وقت باتیں ہی یہی کرتے ہیں۔ جب بھی ان کے ساتھ کوئی بیٹھتا ہے تو باتیں کیا ہوتی ہیں؟ ”میری توجہ اتنی دور تک جاتی ہے“۔ اے خدا کے بندو! توجہ کو کیا کرو گے؟ توجہ پھینکنے کی بات ہے؟ کہ آپ خوامخواہ توجہ بس جس کو کہتے ہیں نا۔۔۔ یہ تو کمال کی بات ہے۔ بھئی اس کے اندر محبت کی آگ لگا دو۔ اور پھر نفس کی اس کام کے اوپر اس کو اتنی training کر دو، کہ وہ نفس اس کو مان جائے۔ یہ تربیت ہے۔ یہ نہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے توجہ مار کر اس کو hypnotize کر دو، وہ عمل کر لے، پھر بعد میں جا کر نفس اپنی من مانی شروع کر دے۔ آج کل تو یہی جو نقشبندیت ہے۔ اسی کو نقشبندیت لوگوں نے مانا ہوا ہے۔ جس کی توجہ زیادہ چلتی ہے سمجھتے ہیں یہ شاید بڑا شیخ ہے۔ بھئی تو کافروں کی بھی توجہ چلتی ہے۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے، میں نے وعظ میں پڑھا ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ: ایک صوفی وہ جا رہا تھا، تو ایک گرو اپنے چیلوں کو توجہ دے رہا تھا۔ یعنی ظاہر ہے ہندو جو لوگ جو ہوتے ہیں یہ جوگی type لوگ جو ہوتے ہیں نا۔ ایک گرو اپنے چیلوں کو توجہ دے رہا تھا۔ یہ صرف اس وجہ سے کھڑا ہو گیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ کیا کرتا ہے۔ گویا کہ ایک نظارے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ تو اس نے دیکھا کہ ایک سیاہ، جیسے دھواں type چیز ہے، وہ اس کی طرف آئی اور اس کے دل میں گھس گئی۔ جب اس کے دل میں گھس گئی تو ساری چیزوں سے تعلق اس کا چھوٹ گیا۔ کسی عبادت میں اس کا جی نہیں لگتا۔ اور اپنے ایمان پر بھی شک ہونے لگا۔ بہت پریشان ہو گیا۔ اور جانتا تو تھا، کیونکہ ظاہر ہے ان چیزوں سے واقف تھا۔ لیکن اب نکالے تو کیسے نکالے؟ بہت پریشان ہو گیا۔ جتنی کوششیں تھیں کر سکتے تھے، بزرگوں کے پاس چلا گیا، یہ ہو گیا وہ ہو گیا، سارا کچھ کرنے سے مایوس ہو گیا، ظاہر ہے کوئی راستہ نہیں بن رہا تھا۔ تو ایک دفعہ خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اس کو ڈانٹا کہ تجھے ضرورت ہی کیا تھی ادھر جا کر کھڑے ہونے کی؟ تجھے کیا ضرورت تھی؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا، اور اس طریقے سے وہ ساری چیز زائل ہو گئی۔
تو یہ تو جوگی لوگ بھی کرتے ہیں، اور ہم سے زیادہ بہتر کر سکتے ہیں۔ یعنی گویا influential ہوتے ہے۔ ہمارے مولانا عزیر گُل صاحب رحمۃ اللہ علیہ، اور ان کے بیٹے تھے عبدالرؤف صاحب۔ یہ وہ صاحب تھے جن کو ان کی والدہ، جو انگریز خاتون تھی، مسلمان ہو گئی تھیں تو اس نے پاسِ انفاس سکھایا تھا۔ دس سال کی عمر میں۔ دس سال کی عمر میں پاسِ انفاس سکھایا تھا۔ اور یہ فرماتی تھی کہ ”بیٹا سیکھو، یہ اتنے عرصہ تم سانس بغیر ذکر کے لیا کرو گے؟ اس کو سیکھو۔“ تو ذکر ان کو سکھایا تھا، یعنی سانس کے ذریعے۔ وہ عبدالرؤف صاحب ایک جلسے میں شامل تھے، ظاہر ہے وہ کانگریس کے جلسے ہوتے تھے، شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے جلسے ہوتے تھے۔ تو حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ ادھر بیٹھے ہوئے تھے، تو دیکھا کہ عبدالرؤف صاحب تھوڑا تھوڑا ایک وہ جو پنڈت تھا اس کے خیمے کی طرف جا رہے ہیں۔ تو حضرت مدنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جب ان کو دیکھا، تو چیخ لگائی، ”او عبدالرؤف!“ بس اس سے ان کی توجہ زائل ہو گئی۔ اور جیسے break اس کو لگ گیا اور پھر واپس آ گیا۔ تو ظاہر ہے ان کی توجہات تو ہوتی ہیں۔ یہ کوئی بڑی بات تو نہیں ہے۔ یہ تو انسان کے ساتھ یہ چیزیں ہوتی ہیں، صرف اس کو جس کو کہتے ہیں نا stream line کرنا ہوتا ہے۔ alignment اس کی ہوتی ہے۔ جیسے مقناطیس لوہے میں مقناطیس بننے کی صلاحیت ہوتی ہے، آپ اس کی alignment کر لیں، مقناطیس بن جائے گا۔ تو جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان چیزوں کے اوپر تو نہیں ہونی چاہیے۔ اور پھر یہ انوارات اور یہ، شیطان کو اتنی شکلیں آتی ہیں، میں آپ کو کیا بتاؤں؟ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، ان سے بڑے تو یہ نہیں ہوں گے نا جو آج کل کے لوگ ہیں۔ حضرت کے صاحبزادے ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے والد صاحب وہ ایک جگہ پر مراقبے کے لیے تشریف فرما تھے، مراقبہ میں۔ ایک نور سا ان کی طرف آیا۔ اور اس سے ایک آواز آئی: ”اے عبدالقادر! ہم نے تیری عبادت قبول کر لی۔ اس کے بعد تو جو کچھ کرے گا اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، شوق سے عبادت کرو تو کر لو، آپ کے اوپر ذمہ داری کوئی نہیں ہے، یعنی ہم نے آپ کو بس اب قبول کر لیا، بے شک اب تم عبادت کرو، نہ کرو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔“ تو حضرت مراقب ہو گئے، جیسے مراقبے میں ہوئے، تو اپنا سر مبارک اٹھایا، کہتے ہیں ”کم بخت! ذلیل! کمینے! شیطان! تو مجھے گمراہ کرنا چاہتا ہے؟“ تو وہ روشنی جو تھی، وہ نور جو تھا وہ اندھیرے میں بدل گیا۔ اور جیسے بھاگتے ہوئے کوئی بات کرتا ہے، کہ ”عبدالقادر! تو مجھ سے اپنے علم کی وجہ سے بچ گیا، ورنہ تیرے اس مقام پر میں نے اتنے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔“ جو تیرے اس مقام پر تھے، اتنے لوگوں کو میں نے گمراہ کیا ہوا ہے اسی طریقے سے۔ بس تو اپنے علم کی وجہ سے بچ گیا ب۔ تو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”بدبخت! جاتے جاتے بھی وار کر جاتا ہے، میں اللہ کے فضل سے بچ گیا ہوں!“
تو یہ شیطان ہے، یہ بھئی خدا کے بندے، اپنے آپ کو کن چیزوں کے حوالے کرتے ہو؟ اس میں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس میں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ پتہ نہیں آپ کو کون سے چکروں میں ڈال کر شیطان تجھے کہاں سے کہاں پہنچائے۔
ہمارے حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے واقعہ خود سنایا ہے، درمیان میں کوئی اور راوی نہیں ہے۔ فرمایا، مجھے کشفِ قبور ہوتا تھا۔ تو کہتے ہیں کہ میں جہاں بھی جاؤں، تو بس بہت سارے لوگ کھڑے ہو جائیں، اور مجھے سلام کریں اور یہ ہے کہ خیر خیریت پوچھیں، جیسے بزرگ اٹھتے ہیں قبر سے۔ کہتے ہیں میں نے کسی سے اس کا ذکر کیا کہ اتنے سارے بزرگ ہوتے ہیں مطلب ظاہر ہے ہر جگہ۔ تو کہتے ہیں اصل میں تو یوں کر کہ جب کبھی تجھے کوئی اس طرح اٹھے نا قبر سے، سلام کرے، تو ان سے کہہ، ”حضرت! تھوڑا سا قرآن مجھے سنا دیں۔ تھوڑا سا مجھے قرآن سنا دیں۔“ پھر دیکھنا۔ تو کہتے ہیں کہ اس کے بعد میرا یہ طریقہ ہو گیا کہ میں درخواست کرتا تھا کہ حضرت تھوڑا سا قرآن سنا دیں، میں آپ کے ساتھ قرآن سننا چاہتا ہوں۔ بس غائب! کہتے ہیں پھر کبھی خال خال کوئی ملا تو ملا، انہوں نے قرآن بھی سنایا اور یہ، لیکن ویسے نہیں، بس غائب! تو میں نے ان سے پوچھا، میں نے کہا حضرت، کیا وجہ تھی؟ آپ کو کس وجہ سے یہ ہوتا تھا، مطلب ان کو فائدہ کیا تھا؟ فرمایا، ”مجھ میں شیطان تکبر ڈالنا چاہتا تھا کہ تو اتنا بڑا بزرگ ہے کہ ہر جگہ تیرا اس طرح استقبال ہوتا ہے۔“ اس لیے کہتے ہیں، جن کو کشف نہیں ہوتا، وہ محفوظ ہیں۔ جن کو کشف ہوتا ہے ہر وقت خطرے میں ہیں۔
تو ایک دفعہ میں نے کچھ ایسی باتیں حضرت کے سامنے عرض کیں، حضرت نے فوراً فرمایا: ”دور کرو دور کرو! یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں۔“ کہ ان چیزوں میں نہ پڑو! اور واقعتاً جو اس میں پڑ جاتے ہیں ان چیزوں میں، تو پھر کوئی station، ان کا کچھ پتہ نہیں کہ کہاں پر...
ہمارے ایک ساتھی ہیں، اچھے ساتھی ہیں۔ کشفیات میں پڑ گئے۔
اور بہت زیادہ پڑ گئے۔ اور پتہ نہیں اس کو کیا کیا نظر آتا تھا۔ عجیب و غریب باتیں ان میں نظر آتیں۔ میں ان کو کچی حالت میں نہیں روکنا چاہتا تھا کیونکہ اس حالت میں ممکن ہے کہ شیطان اس کو مجھ سے کاٹ دیتا۔ یہ بھی ہو سکتا تھا نا کہ میں اگر…
اللہ پاک نے ایک دن موقع دے دیا۔ اس نے مجھے اپنا کشف سنایا۔ اور سنایا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار کے ساتھ شیطان کو ختم کر دیا۔ میں نے کہا، ”اب رک جاؤ، بس اب میری باری ۔“ میں نے کہا، ”دیکھو سنو! قرآن ہے، ایک طرف قرآن ہے، دوسری طرف تیرا کشف ہے۔ قرآن میں تو یہ ہے کہ اللہ پاک سے اس نے ایک مہلت مانگی۔ اللہ پاک نے فرمایا کہ تجھے قیامت تک کے لیے مہلت ہے۔ اب اللہ پاک تو اس کو مہلت دے چکے ہیں، تو کیا تیرا کشف صحیح ہو سکتا ہے اس کے مقابلے میں؟ یہ قیامت تک تو جائے گا۔“ اور میں نے کہا اس کی دلیل یہ ہے کہ دجال کی طرح شکل کا کوئی شخص تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں۔ صحابہ کرام میں سے کسی صحابی نے پوچھا کہ کیا میں اس کو مار دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”اگر وہ دجال نہیں ہے تو اس کو مارنا جرم ہے، بغیر جنگ کے۔ اور اگر وہ دجال ہے تو تُو اس کے مارنے والا نہیں ہے۔ تُو اس کا مارنے والا نہیں ہے، وہ کوئی اور مارے گا اس کو، جس کا پتا ہے عیسیٰ علیہ السلام ماریں گے اس کو۔ تو تُو اس کا مارنے والا نہیں ہے۔“ تو یہ مطلب گویا ہے کہ بالکل طے شدہ والی بات تھی۔ تو میں نے کہا، طے شدہ بات تو یہ ہے کہ قیامت سے پہلے شیطان ختم نہیں ہوگا۔تو لہٰذا تیرا کشف غلط، اور تیرے سارے کشف صفر! اور اپنے کشف کی بات بالکل نہیں ماننی۔ تیرا کشف غلط ثابت ہو گیا بالیقین اب اس کے بعد آگے نہیں چلے گی۔ ایسے ہی ہو گیا، الحمدللہ بچ گیا، اللہ کا شکر ہے۔
ایک اور صاحب تھے، ان کو بھی کشف ہوتا تھا اس کو میں نے ایک وظیفہ دیا تھا۔ اس وظیفے میں اس کو کچھ نظر آنے لگا، کچھ چیزیں نظر آنے لگیں، کچھ بزرگوں کی (شکلیں) آئیں۔ تو انہوں نے کہا جی فلاں بزرگ ہے، اور اس طرح کہتا ہے، اس طرح کہتا ہے، اس طرح کہتا ہے۔
میں نے کہا: "ان سے کہو سورہ اخلاص مجھے سنا دیں آپ، سورہ اخلاص سنائیں۔"
تو کہتے ہیں پہلی دفعہ جب میں نے کہا تو اتنا غصہ ہو گیا کہ "یہ کیا بات ہے؟ فوراً اس طرح کہہ دیا کہ قرآن سنا دو، یہ کوئی طریقہ ہے؟"
تو مجھے کہا کہ ایسا ہے۔ میں نے کہا: "اس کو کہو جب تک قرآن نہیں سناؤ گے، اس وقت تک میں آپ کی کوئی بات نہیں سننا چاہتا، بس صاف بات ہے۔ قرآن سناؤ گے تو پھر میں آپ کی باقی باتیں سنوں گا ورنہ نہیں سنوں گا۔"
تو میرے خیال میں اگلے دن تک اس کا یہ مسئلہ تھا کہ پھر اس کے بعد اس نے کہا "قل ھو اللہ…" اس طرح مطلب، میں نے کہا دیکھو نا بگاڑ کے (پڑھ رہا ہے)، صحیح نہیں پڑھ رہا، صحیح نہیں پڑھ سکتا۔
لہٰذا تیرا کشف صفر! اب اس کے بعد اس کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ تیرا کشف محفوظ نہیں ہے۔
اگر ایک دفعہ بھی غلطی کا امکان ثابت ہو جائے تو شک تو پڑ گیا نا؟ تو مشکوک چیز پر عمل کرنے جائز ہے؟ شک تو پڑ گیا، لیکن تیرا کشف محفوظ نہیں ہے۔ لہٰذا اب اس اپنے کشف پر عمل نہ کرو۔ اور اس کے لیے وظیفہ میں نے disconnect کر دیا، میں نے کہا نہیں، اب تمہارے لیے نہیں ہے۔
تو مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں ہمیں بزرگوں سے پہنچی ہیں، الحمد للہ! اللہ کا شکر ہے، اللہ کا شکر ہے! اور حضرت بزرگوں نے اس کے بارے میں باتیں بھی فرمائی ہیں۔ اور حضرت نے بھی بالکل وضاحت کے ساتھ یہ بات لکھ لی ہے۔ تو اس کے بعد اگر کوئی اپنی طرف سے کرتا ہے تو ان کی اپنی مرضی ہے۔ لیکن ہم لوگوں کو تو ان دھوکوں میں نہیں پڑنا چاہیے۔
جاری ہے، ان شاء اللہ