قرآنِ کریم کی روشنی میں جہاد کا حقیقی مفہوم، نفس کی خامیاں اور اللہ کا فضل

درس نمبر 191، سورۃ النساء: آیت: 76 تا 79- اشاعتِ اول: 6 جون، 2022، بمطابق 6 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* مکی اور مدنی زندگی میں جہاد کے احکامات اور ان کی حکمت۔

* جہاد فی سبیل اللہ اور ذاتی انتقام کے جذبے کے درمیان فرق۔

* حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایمان افروز واقعہ (محض اللہ کی رضا کے لیے غصے کو قابو کرنا)۔

* انسان کو ملنے والی ہر اچھائی پر اللہ کا فضل اور برائی پر انسان کے نفس/اعمال کا دخل۔

* منافقین کا طرزِ عمل اور رسول اللہ ﷺ کی ہر قسم کی کوتاہی سے مکمل بریت۔

* قرآنِ پاک کے فہم کے لیے سیاق و سباق، شانِ نزول اور ناسخ و منسوخ کے علم کی اہمیت۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ (76) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةًۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا (77) اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا(78) مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًاؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا(79)


صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔


جو لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ طاغوت کے راستے میں لڑتے ہیں۔ لہٰذا (اے مسلمانو!) تم شیطان کے دوستوں سے لڑو۔ (یاد رکھو کہ) شیطان کی چالیں درحقیقت کمزور ہیں ﴿76﴾ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے (مکی زندگی میں) کہا جاتا تھا کہ اپنے ہاتھ روک کر رکھو، اور نماز قائم کئے جاؤ اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ پھر جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو ان میں سے ایک جماعت (دشمن) لوگوں سے ایسی ڈرنے لگی جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے، یا اس سے بھی زیادہ ڈرنے لگی، اور ایسے لوگ کہنے لگے کہ ’’اے ہمارے پروردگار! آپ نے ہم پر جنگ کیوں فرض کردی، تھوڑی مدت تک ہمیں مہلت کیوں نہیں دی؟‘‘ کہہ دو کہ دُنیا کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے، اور جو شخص تقویٰ اختیار کرے اس کے لئے آخرت کہیں زیادہ بہتر ہے،


مکہ مکرمہ میں جب مسلمان کفار کے سخت ظلم و ستم کا سامنا کر رہے تھے، اس وقت بہت سے حضرات کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ وہ ان کافروں سے انتقام لینے کے لئے جنگ کریں، لیکن اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد کا حکم نہیں آیا تھا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کی مصلحت اس میں تھی کہ وہ صبر و ضبط کی بھٹی سے گزر کر اعلیٰ اخلاق سے آراستہ ہوں، اور پھر جہاد کریں تو وہ محض ذاتی انتقام کے جذبے سے نہ ہو بلکہ اللہ کی رضا کی خاطر ہو۔ لہٰذا اس وقت جب کچھ مسلمان جہاد کی تمنا کرتے تو ان سے یہی کہا جاتا تھا کہ ابھی اپنے ہاتھ روک کر رکھو، اور جہاد کے بجائے نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کے احکام پر عمل کرتے رہو۔ بعد میں جب یہ حضرات ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو جہاد فرض ہوا۔ اُس وقت چونکہ ان کی پرانی تمنا پوری ہوگئی تھی، اس لئے انہیں خوش ہونا چاہئے تھا، لیکن ان میں سے بعض حضرات کے دل میں یہ خیال آیا کہ تقریباً تیرہ سال کی صبر آزما تکلیفوں کے بعد اب ذرا سکون اور عافیت کی زندگی میسر آئی ہے، اس لئے جہاد کا حکم کچھ مزید مؤخر ہو جاتا تو اچھا تھا۔ ان کی یہ خواہش اللہ تعالیٰ کے حکم پر کوئی اعتراض نہیں تھا، بلکہ بشریت کا ایک تقاضا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس پر تنبیہ فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برگزیدہ صحابہ کا مقام اس بات سے بلند ہونا چاہئے کہ وہ کسی وقت دُنیاوی راحت و آرام کو اتنی اہمیت دیں کہ اس کی خاطر آخرت کے فوائد کو کچھ عرصے کے لئے ہی سہی مؤخر کرنے کی آرزو کرنے لگیں۔


یہ اصل میں واقعۃً بات ایسے ہی ہے۔ جہاد جو ہے، اس میں دو جذبے ہوتے ہیں۔ اگر کسی پر ظلم ہو رہا ہوتا ہے، تو وہ انتقام لینے کے درپے ہوتا ہے، انتقام لینا چاہتا ہے، لڑائی جھگڑا کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت اگر اس کو کوئی روکتا ہے، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ مجھے کیوں روک رہا ہے؟ ظاہر ہے مجھے کھلا چھوڑنا چاہیے تاکہ میں اپنا بدلہ لے لوں۔


دوسری طرف جب لڑائی جھگڑے کی اجازت دی جاتی ہے کہ اب کرو، تو پھر ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہی بات ہے کہ لڑائی جھگڑے میں تو۔۔۔ اب اس میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جس وقت تکلیف کسی کو دی جاتی ہے اس وقت انتقام کا جذبہ ہوتا ہے۔ کہ مطلب یہ ہے کہ میں کہ۔۔۔ جیسے علی کرم اللہ وجہہ نے ایک کافر کو پچھاڑا بڑی مشکل سے، تو نیچے سے اس نے نفرت کی وجہ سے تھوک دیا۔ تو اس وقت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً اٹھے، تو اس کافر نے کہا کمال ہے تو نے مجھے بڑی مشکل سے پچھاڑا ہے اور پھر مجھے چھوڑ دیا، کیوں؟ اس نے کہا میں اس وقت اللہ کے لیے تمہیں مار رہا تھا، اب تو نے میرے اوپر تھوک دیا تو مجھے غصہ آ گیا، اور یہ غصہ میرے نفس کی وجہ سے نہ ہو، تو اس صورت میں میں آپ کو قتل کر دیتا تو میں اپنے انتقام کی وجہ سے تمہیں قتل کر لیتا۔ تو یہ چیز اللہ کو پسند نہیں تو میں نے چھوڑ دیا۔


تو اب یہ بات ہے کہ جس وقت کسی کو تنگ کیا جاتا ہے اس وقت انتقام کا جذبہ ابھرتا ہے۔ بعد میں وہ ظاہر ہے ٹھنڈا بھی ہو سکتا ہے، شریف النفس انسان جو ہوتا ہے اس کا تو غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ تو بعد میں اگر اس کو کہتے ہیں اب بدلہ لے لو۔ وہ پھر معاملہ پھر اور ہوتا ہے پھر وہ اور consequences کو دیکھ رہا ہوتا ہے، یہ سلسلہ۔ تو یہاں پر یہ والی بات تھی کہ اس وقت جو فوری مقابلہ ہوتا، تو وہ انتقام کے جذبے سے ہو سکتا تھا۔ تو وہ تو ایسی چیز نہیں تھی جو اللہ کو راضی کرنے والی تھی۔ تو اب یہ اللہ کے حکم کی وجہ سے۔۔۔ یعنی مثال کے طور پر آپ بالکل صحیح سالم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں اور کوئی problem آپ کو نہیں ہے، اور آپ کو حکم دیا جائے کہ اب نکلو، تو ظاہر ہے مشکل تو ہوگا۔ تو اس مشکل کی وجہ سے انہوں نے ایسی بات کی کہ اگر کچھ آرام کرنے دیا جاتا تو اچھی بات تھی۔


اب جیسے army والے اس طرح کرتے ہیں نا کہ یہ training کے point of view سے، کبھی رات کے دو بجے whistle بجا دیں گے اپنی بیرکوں میں۔ whistle کا مطلب فورا کھڑے ہو جاؤ، اور وہ ان کے چند منٹ ہوتے ہیں، چند منٹ میں تیار ہونا ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں ہوتا کہ اب time دے دیں کہ میں باتھ روم جاتا ہوں یہ کرتا ہوں وہ کرتا ہوں، یہ والی بات نہیں ہوتی بس وہ فوراً stand to ہونا پڑتا ہے، چاہے کیسے بھی ہو۔ اب اس وقت طبیعت پر تو بڑا بوجھ آتا ہے کہ یہ کیا ہو گیا مطلب ظاہر ہے یہ کوئی طریقہ ہے! لیکن وہ کام ہی ان کا یہ ہے۔ مثال (کے طور پر) چوکیدار ہے۔ اب چوکیدار کا اور کوئی کام نہیں ہوتا وہ صرف کھڑا ہوتا ہے اور دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اب جس وقت کوئی دشمن آ رہا ہے نقصان پہنچانے کے لیے آ رہا ہے، اس وقت اس کو rest کا تقاضا ہو کہ بس ٹھیک ہے جی اتنا وقت تو میں کھڑا رہا تو اب تھوڑا سا rest بھی کرنا چاہیے نا۔ تو اس وقت ہی لوگ اس سے کہیں گے تمہیں رکھا کس لیے گیا تھا؟ تمہیں تو اسی وقت کے لیے رکھا گیا تھا۔ تمہیں تو یہی تو کام کرنا تھا۔ تو مطلب اس وقت پھر اس کی کوئی excuse جو ہے نا وہ مانی نہیں جاتی۔ تو اس طریقے سے جہاد تو کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ آخر دشمن تو آپ کو سوچ کر تو نہیں کہ آپ جب جاگ جائیں گے تیاری کر لیں گے تو پھر میں حملہ کروں گا۔ وہ تو اپنے حساب سے دیکھتا ہے۔ تو اس وقت اس کے حساب سے تیاری کرنی ہوتی ہے۔


تو اب یہ بات ہے کہ صحابہ کرام کی شان کے مطابق یہ نہیں تھا۔ تو اللہ جل شانہٗ نے اس پر تنبیہ فرمائی کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ چیز وہ تو اللہ کی طرف سے ساری چیزیں ہیں۔ "كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللهِ"۔ مطلب سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔

تمہیں جو کوئی اچھائی پہنچتی ہے تو وہ محض اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، اور جو کوئی بُرائی پہنچتی ہے، وہ تو تمہارے اپنے سبب سے ہوتی ہے،۔

اور (اے پیغمبر!) ہم نے تمہیں لوگوں کے پاس رسول بنا کر بھیجا ہے، اور اللہ (اس بات کی) گواہی دینے کے لئے کافی ہے۔ ﴿79﴾


ان آیتوں میں دو حقیقتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے حکم ہی سے ہوتا ہے۔ کسی کو کوئی فائدہ پہنچے تو وہ بھی اللہ کے حکم سے پہنچتا ہے، اور نقصان پہنچے تو وہ بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے۔

دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا حکم اللہ تعالیٰ کب اور کس بنا پر دیتے ہیں۔ اس کے بارے میں آیت 79 نے یہ بتایا ہے کہ جہاں تک کسی کو فائدہ پہنچنے کا تعلق ہے اس کا حقیقی سبب صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے،

کیونکہ انسان کا عمل اس کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ یہ بات ہے۔

کیونکہ کسی بھی مخلوق کا اللہ تعالیٰ پر کوئی اجارہ نہیں آتا کہ وہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے، اور اگر اس فائدے کا کوئی ظاہری سبب اس شخص کا کوئی عمل نظر آتا بھی ہو تو اس عمل کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی فضل ہے، اور اس شخص کا کوئی ذاتی استحقاق نہیں ہے۔ دوسری طرف اگر انسان کو کوئی نقصان پہنچے۔۔۔

مثال کے طور پر آپ کوئی چیز خرید رہے ہیں وہ 45 ہزار روپے کی ہے اور آپ کے پاس 20 ہزار روپے ہیں۔ اب وہ آپ سے کہتا ہے جی 20 ہزار دیں۔ تو آپ ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں کہیں کوئی ہے مطلب ان سے پیسے لے لوں۔ تو دوسرا آدمی جو ہے نا وہ کہے گا میں نے پیسے دے دیے جاؤ، جاؤ لے لو۔ تو بس وہ آپ کتنے خوش ہو جائیں گے۔ اب کیا کہہ سکتے ہیں کہ یہ صرف میں نے ہی لیا ہے؟ کیونکہ آپ کے پیسے اس کے لیے کافی نہیں تھے۔ وہ جو دوسرے نے دے دیے وہ تو اس پر آپ کا کونسا حق تھا؟ تو ظاہر ہے مطلب یہ اس کا احسان ہی ہے۔ تو اس طرح ہمارا جو عمل ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے۔ لیکن وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ اپنا فضل شامل کر لیتے ہیں۔


گویا کہ اس آیت کو اگر ہم دیکھیں تو اس کا بھی کچھ اشارہ ملتا ہے۔ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔ یعنی جو میرے راستے مجھ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہم ضرور بضرور ہدایت کے راستے ان کو سجھاتے ہیں۔ اب دیکھیں جیسے ہی کوئی آدمی نیک کام کرتا ہے تو یہ کوشش ہوتی ہے۔ تو پھر اس کو صحیح ڈھنگ سے کرنے کی اور تمام چیزیں وہ اللہ پاک پھر موقع دیتے ہیں اور طریقہ سکھاتے ہیں۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے اللہ معاف فرمائے یہ بہت خطرناک بات ہے۔ کہ انسان سمجھے کہ یہ میں نے کیا ہے۔ اور جس وقت کسی نے کہا یہ میں نے کیا ہے نا بس وہ گڑبڑا گیا۔ اب اللہ بچائے وہ پتہ نہیں کتنے اونچے مقام سے کوئی گر سکتا ہے۔ تہس نہس ہو جاتا ہے۔ تو یہ بات خطرناک ہے۔


وہ اس طرح کوئی بہت خیر خواہی کرنے والا آدمی تھا، بہت خیر خواہی کرنے والا بھلے اچھے اچھے کام کرتا تھا۔ تو اس کے اوپر کچھ مصائب و تکالیف بیماری آ گئی، بیماری تو ہر ایک کی پہ آ سکتی ہے کسی پہ بھی آ سکتی ہے۔ تو اس نے گویا کہ ایک شکوہ کیا کہ مطلب یہ کیوں؟ میں نے تو یہ کیا، میں نے تو یہ کیا، میں نے تو یہ کیا۔ تو شکوہ سا ہو گیا تھا۔ تو پھر ان کو بتایا گیا کہ تو نے نہیں کیا تھا۔ تو نے نہیں کیا تھا۔ یہ تو اللہ نے توفیق دی تھی۔ تو ایسی بات ہے کہ یہ جو ہے نا یہ چیزیں ہوتی ہیں اس طرح۔ اور یہ انسانی فطرت کا تقاضا بھی ہے، نفس اور کس کو کہتے ہیں؟ نفس انہی چیزوں کو تو کہتے ہیں، نفس انہی چیزوں کی طرف تو ابھارتا ہے۔ تو وہ پھر یہ ہے کہ حق قانون قانون ہوتا ہے، حق حق ہوتا ہے۔ اس سے کوئی روگردانی نہیں کر سکتا۔

اور اگر اس فائدے کا کوئی ظاہری سبب اس شخص کا کوئی عمل نظر آتا بھی ہو تو اس عمل کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی فضل ہے، اور اس شخص کا کوئی ذاتی استحقاق نہیں ہے۔ دوسری طرف اگر انسان کو کوئی نقصان پہنچے تو اگرچہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ یہ حکم اسی وقت فرماتے ہیں جب اس شخص نے اپنے اختیاری عمل سے کوئی غلطی کی ہو۔

کیونکہ اللہ پاک کسی پر ظلم نہیں کرتے، یہ بات طے ہے۔ اللہ تعالیٰ فضل فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتے، ان دو باتوں کو اپنے ذہن میں رکھو۔ تو پھر بہت ساری باتیں سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ اب اگر ایک انسان ہے کسی کو تکلیف پہنچے، وہ کہے کہ اللہ پاک نے پہنچائی ہے، یعنی میرا اس میں کوئی عمل شامل نہیں، تو یہ -نعوذ باللہ من ذالک- ظلم کی طرف وہ اشارہ کر رہا ہے۔ تو اللہ پاک تو ظلم نہیں کرتے۔ اور اللہ پاک فضل فرماتے ہیں تو جو بھی نیک کام ہم کرتے ہیں تو اس میں اللہ پاک کا فضل شامل حال ہوتا ہے۔


تو یہ بات ہے کہ: اب منافقین کا معاملہ یہ تھا کہ جب انہیں کوئی فائدہ پہنچتا تو اس کو تو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے، لیکن کوئی نقصان ہو جاتا تو اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لگا دیتے تھے۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جو نقصان کی ذمہ داری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر عائد کر رہے ہیں، اگر اس سے مراد یہ ہے کہ یہ نقصان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہوا ہے، تو یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ اس کائنات میں تمام کام اللہ ہی کے حکم سے ہوتے ہیں، کسی اور کے حکم سے نہیں، اور اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ (معاذ اللہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی غلطی اس کا سبب بنی ہے تو یہ بات بھی غلط ہے، ہر انسان کو خود اس کے اپنے کسی عمل کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے،

اب دیکھو اس آیت کا connection اب مل رہا ہے۔


اور اسی اسی کے لیے تو تفسیروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ظاہری طور پر مطلب یہ ہے کہ وہ انسان ایک سمجھتا ہے اور حقیقت میں... تو اب یہ جو لوگ نسبت کر رہے تھے آپ ﷺ کی طرف۔ تو آپ ﷺ کی طرف نسبت کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: نہیں۔ حکم تو میں دیتا ہوں۔ اور قصور تمہارا ہے۔ حکم میں دیتا ہوں، قصور تمہارا ہے۔ اس میں آپ ﷺ ایک طرف بھی نہیں، دوسری طرف بھی نہیںلہٰذا اس پہ جو ہے تو فرمایا کیا بات ہے جی آخر میں فرمایا کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، لہٰذا نہ تو کائنات میں واقع ہونے والے کسی تکوینی واقعے کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے، اور نہ آپ فرائض رسالت میں کسی کوتاہی کے مرتکب ہو سکتے ہیں جس کا خمیازہ آپ کی اُمت کو بھگتنا پڑے۔

یہ بات ہے۔ تو ما شاء اللہ یہ بات ہے، اعتقادی کر رہے ہیں۔ قرآن پاک کا محض ترجمہ اگر کوئی پڑھے، تو اس سے پوری صورتحال واضح نہیں ہوتی، جب تک اس کے باقی آیات کے سیاق و سباق کے ساتھ اس کا connection اور جوڑ سامنے نہ آئے۔ اس وقت پھر صحیح معنوں میں... اس میں پھر شانِ نزول بھی بہت important ہوتا ہے۔ شانِ نزول کا سمجھنا، کیونکہ شانِ نزول کے ذریعے سے ہی احکامات سمجھے جاتے ہیں کہ یہ کس وجہ سے آیت اتری ہے؟ کس موقع پر اتری ہے؟ پہلے اتری ہے، بعد میں اتری ہے؟ ناسخ منسوخ کا پتہ کیسے چلائیں گے؟ ظاہر ہے مطلب ہے پتہ اس وقت چلے گا کہ اگر کوئی آیت ناسخ ہے تو بعد میں اترنی چاہیے۔ اور پہلے اگر اترے تو ناسخ تو نہیں ہو سکتا۔ تو یہ مطلب ہے کہ ساری چیزوں کو ان تمام چیزوں کو آپس میں دیکھنا پڑتا ہے، ان کا تقابل کرنا پڑتا ہے کہ کیا کون سی چیز کیا ہے؟ اللہ پاک ہم سب کو قرآن پاک صحیح طور سے پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس پر عمل کرنے کی بھی۔


قرآنِ کریم کی روشنی میں جہاد کا حقیقی مفہوم، نفس کی خامیاں اور اللہ کا فضل - درسِ قرآن - دوسرا دور