اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَآءً ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَالْاَرْحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا ﴿1﴾ وَاٰتُوا الْيَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيْثَ بِالطَّيِّبِ ۪ وَلَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا ﴿2﴾
وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰى اَلَّا تَعُوْلُوْا ؕ ﴿3﴾
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
معزز خواتین و حضرات! آج نئی سورت، سورۂ نساء جو مدنی سورت ہے، یہ شروع کی جا رہی ہے۔
اللہ جل شانہٗ ارشاد فرماتے ہیں:
اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کی، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیئے۔ اور اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو،
جب دنیا میں لوگ ایک دوسرے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو بکثرت یہ کہتے ہیں کہ "خدا کے واسطے مجھے میرا حق دے دو" آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنے حقوق کے لئے اللہ کا واسطہ دیتے ہو تو دوسروں کا حق ادا کرنے میں بھی اللہ سے ڈرو، اور لوگوں کے حقوق پورے پورے ادا کرو۔
معاملات کی جو صفائی ہے اور معاشرت کا جو حسن ہے، وہ اسی میں ہے کہ جو حقوق اللہ نے قائم کیے ہیں، اللہ پاک نے مقرر فرمائے ہیں، ان حقوق کا خیال رکھا جائے۔ صرف اس لیے نہیں کہ میرا حق جو ہے اس کی حفاظت ہو، بلکہ سب لوگوں کے حقوق کی حفاظت ہو۔ جیسے مثال کے طور پر ایک شخص اگر والد ہے تو اولاد پر اس کا حق ہے اور اولاد کا باپ پر حق ہے۔ بہن بھائیوں کے آپس میں حقوق ہیں، پڑوسیوں کے آپس میں حقوق ہیں۔ آپس میں جو سفر کر رہے ہیں ہم سفروں کے آپس میں حقوق ہیں، مسجد میں جو نماز پڑھتے ہیں ان کے آپس میں حقوق ہیں۔ الغرض یہ ہے کہ جو باہمی حقوق ہیں ان سب کی حفاظت ہو، سب کو صحیح طریقے سے ادا کیا جائے گا تو سب کو اپنا اپنا حق ملے گا اور سب کا فرض ادا ہو جائے گا۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیا ہوگا؟ سب لوگ آپس میں ایک دوسرے سے شاکی ہوں گے، لڑیں گے، پریشان ہوں گے، اور معاشرت کی تباہی ہوگی۔
اور رشتہ داریوں (کی حق تلفی سے) ڈرو۔ یقین رکھو کہ اللہ تمہاری نگرانی کر رہا ہے ﴿1﴾
یعنی تمہارا جو معاملہ ہے وہ بھی اللہ پاک کو پتہ ہے، ان کا معاملہ بھی اللہ پاک کو پتہ ہے۔ چونکہ اللہ پاک تو انصاف فرمائے گا، لہٰذا اس سے ڈرو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے ذمے کسی کا حق رہ جائے۔
"اور یتیموں کو ان کے مال دے دو، اور اچھے مال کو خراب مال سے تبدیل نہ کرو"
یعنی یہ چونکہ سب معاملات کی باتیں ہیں، جو یتیم ہے اس کا جو حق ہے وہ اس کو دے دو۔ بہت سارے لوگ اس طرح کر لیتے ہیں کہ یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں کیونکہ ان کا پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ چاہے وہ چچا ہو، چاہے وہ والدہ ہو، چاہے وہ کوئی اور ہو، دادا ہو۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ یہ ان کا جو حق ہوتا ہے لہٰذا ان کو دورنہیں کر سکتے۔
تو اصل میں بات یہ ہے کہ جیسے پہلی آیت میں بتایا گیا نا کہ تم ان کا واسطہ دیتے ہو، تو یہ جو بات ہے کہ حقوق قائم اللہ نے کیے ہیں۔ تو اس وجہ سے اپنی طرف سے کوئی ڈنڈی نہیں مارنی چاہیے کہ اپنی طرف سے اس میں تبدیلی کر لے۔ مثلاً دادا ہے، اس کا بیٹا فوت ہوا اور اس کا بیٹا جو ہے نا باہر کام کرتا تھا، پیسے بھیجتا تھا، وہ پیسے ان کے وہ چل رہے تھے۔ اب والدین کی نظر یہ ہوتی ہے نا کہ ایک کا پیسہ دوسرے پہ لگاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بھائی کما رہا ہے تو اس کا پیسہ جو ہے نا وہ جو نہیں کما رہا اس کو دے رہے ہیں۔ بھئی وہ خود دے دے تو ٹھیک ہے لیکن تم تو اس کے حقدار نہیں ہو نا کہ تم اس کا مال کسی اور کو دے دو۔ تو اس کا یہ ہو جاتا ہے کہ مثال کے طور پر پیسہ وہ اس کا آ رہا ہے، تو درمیان میں ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ فوت ہو جائے۔ اگر فوت ہو جائے تو جتنا مال اس کا ہے وہ اب میراث ہے، ترکہ ہے۔ تو اس کو ترکے کے طور پر تقسیم کیا جائے گا، اس میں تم اپنی طرف سے ڈنڈی نہیں مار سکتے ہو کہ چونکہ میں دادا ہوں اور اس کا باپ ہوں، لہٰذا میں جو کچھ کرنا چاہوں کر سکتا ہوں۔
بہت سارے لوگ تو رسومات میں اڑا دیتے ہیں۔ رسمیں جو ہوتی ہیں وہ پوری کرنا اتنا ضروری ہوتا ہے کہ اس میں یتیموں کا مال بھی کھا جاتے ہیں۔ یتیموں کا مال لوگوں کو دے دیتے ہیں، اس طرح بے آسراؤں کا دے دیتے ہیں۔ اس طرح بیچارے ان لوگوں کی زندگی داؤ پہ لگی ہوتی ہے اور یہ لوگ جو ہے نا اپنی رسمیں پوری کر رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ دوسروں کے مال میں بے جا تصرف کرو۔ جس وقت جو حق جس کا ہے اس کو پورا پورا دے دو۔
حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ ایک مریض کے سرہانے بیٹھے ہوئے تھے، وہ فوت ہو گیا۔ جس وقت وہ فوت ہو گیا، اس کے سرہانے چراغ جل رہا تھا، حضرت نے اس کو فوراً بجھا دیا۔ اور اپنے شاگرد سے کہا کہ جاؤ بازار سے چراغ لے آؤ۔ چراغ لے آئے، اس کو جلا دیا۔ شاگردوں نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: اب یہ مال ترکہ ہے۔ اب یہ چراغ بھی اس کا تھا، لہٰذا اب ترکہ ہے۔ اس میں ہمیں تصرف کا حق نہیں ہے۔ ہاں مجھے اپنے مال میں تصرف کا حق ہے، لہٰذا میں نے اپنے پیسوں سے چراغ منگوا لیا۔ اب سب کا ہے اور سب چونکہ موجود نہیں ہیں، تو ہم ان کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکتے۔
اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ موجود بھی ہوں لیکن نابالغ کی اجازت بھی معتبر نہیں ہوتی۔ لہٰذا آپ اس کے مال میں تصرف کر ہی نہیں سکتے۔ آپ تو صرف ولی بن سکتے ہیں، آپ محافظ بن سکتے ہیں، آپ اس میں تصرف نہیں کر سکتے۔ اب یہ جو ساری باتیں ہیں ، لوگ اول تو جانتے نہیں، اور اگر جانتے ہیں تو مانتے نہیں۔ اس کے لیے باتیں بناتے ہیں، "او جی یہ تو فلاں ہے اور یہ تو فلاں ہے اور یہ تو فلاں ہے" پر یہ ان باتوں پہ کوئی چھوٹنے والا نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ پاک کو ساری چیزوں کا پتہ ہے۔ ایک کا بھی پتہ ہے دوسرے کا بھی پتہ ہے۔ لہٰذا وہی کرو جو اللہ چاہتا ہے۔
اس طرح اچھا مال ہے،اس کو مل گیا تو صرف نمبر برابر کرنے کے لیے جو ہے نا وہ دوسرے اس میں رکھ دیے، نہیں۔ یہ والی بات نہیں ہو سکتی۔
اور ان (یتیموں) کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر مت کھاؤ۔ بیشک یہ بڑا گناہ ہے ﴿2﴾اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو (ان سے نکاح کرنے کے بجائے) دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کر لو جو تمہیں پسند آئیں،
کسی مرنے والے کے بچے جب یتیم ہو جاتے ہیں تو ان کے باپ کی میراث میں ان کا بھی حصہ ہوتا ہے، مگر ان کی کم عمری کی وجہ سے وہ مال ان کے سپرد نہیں کیا جاتا، بلکہ ان کے سرپرست، مثلاً چچا، بھائی وغیرہ اسے بچوں
کے بالغ ہونے تک اپنے پاس امانت کے طور پر رکھتے ہیں۔ اس آیت میں ایسے سر پرستوں کو تین ہدایتیں دی گئی ہیں: ایک یہ کہ جب بچے بالغ اور سمجھ دار ہو جائیں تو ان کی امانت دیانت داری سے ان کے حوالے کر دو۔ دوسرے یہ کہ یہ بد دیانتی نہ کرو کہ ان کو ان کے باپ کی طرف سے تو میراث میں اچھی قسم کا مال ملا تھا، مگرتم وہ مال خود کھ کر گھٹیا قسم کی چیز اس کے بدلے میں دے دو۔
اور تیسرے ایسا نہ کرو کہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ گڈمڈ کر کے اس کا کچھ حصہ جان بوجھ کر یا بے پروائی سے خود استعمال کر بیٹھو۔
یہ بہت اہم باتیں ہیں اور تفصیلات میرے خیال میں شاید اس کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسا کیا کیسا ہوتا ہے۔ اور اس کو اس طرح کرنا نہیں چاہیے۔ بلکہ اس طرح کرنا چاہیے جس طریقے سے اللہ پاک نے فرمایا ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے۔
صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ نے اس ہدایت کا پس منظر یہ بتایا ہے کہ بعض اوقات ایک یتیم لڑکی اپنے چا کے بیٹے کی سرپرستی میں ہوتی تھی، وہ خوبصورت بھی ہوتی اور اس کے باپ کا چھوڑا ہوا مال بھی اچھا خاصا ہوتا تھا۔ اس صورت میں اس کا چچا زاد یہ چاہتا تھا کہ اس کے بالغ ہونے پر وہ خود اس سے نکاح کرلے، تاکہ اس کا مال اس کے تصرف میں رہے، لیکن نکاح میں وہ اس کو اتنا مہر نہیں دیتا تھا جتنا اس جیسی لڑکی کو دینا چاہئے۔ دوسری طرف اگر لڑ کی زیادہ خوبصورت نہ ہوتی تو اس کے مال کی لالچ میں اس سے نکاح تو کر لیتا تھا، لیکن نہ صرف یہ کہ اس کا مر کم رکھتا تھا، بلکہ اس کے ساتھ ایک محبوب بیوی جیسا سلوک بھی نہیں کرتا تھا۔ اس آیت نے ایسے لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ اگر تمہیں یتیم لڑکیوں کے ساتھ اس قسم کی بے انصافی کا اندیشہ ہو تو ان سے نکاح مت کرو، بلکہ دوسری عورتوں سے نکاح کرو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ مال کو بنیاد نہ بناؤ، انسان کو بنیاد بناؤ۔ اور انسان کے حقوق کا خیال رکھو۔ اور یہ بات تو بہت زیادہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ ایسے ہوتے ہیں کہ والدین زبردستی کسی کا نکاح ایک کے ساتھ کر لیتے ہیں، وہ پھر اس کا حق ادا نہیں کرتے۔ یہ غلط بات ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ مثال کے طور پر یتیم لڑکی ہے۔ اب یتیم ہے تو ظالم مطلب ہے خوبصورت نہیں ہے لیکن مال اس کا زیادہ ہے۔ تو اس کی وجہ سے وہ لوگ اس کے ساتھ شادی کر لیتے ہیں، لیکن چونکہ یتیم ہے تو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا تو اس پہ ظلم کرتے ہیں، ان کا سارا مال چھین لیتے ہیں۔ اور اس کا حق ادا نہیں کرتے۔
تو اصل بات تو یہی ہے کہ اللہ پاک تو ساری چیزیں جانتا ہے۔ ساری چیزیں جانتا ہے۔ مال بعض دفعہ فتنہ ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ کسی کے ساتھ مال کا ہونا فتنہ ہو جاتا ہے، بالخصوص بچیوں کے ساتھ۔ کیونکہ لوگ مال کی وجہ سے شادی تو کر لیتے ہیں، لیکن وہ پھر حقوق ادا نہیں کرتے۔ مثلاً خوبصورتی نہ ہو۔ تو پھر وہ دوسری شادی کر لیتے ہیں اور پھر اس کا بھی حق ادا نہیں کرتے۔ تو یہ ظلم ہے۔ اگر تمہیں پسند نہیں ہے تو دوسری عورتوں میں سے نکاح کر لو کیوں کرنے دو؟ جو اس کا حق ادا کر سکے۔ لیکن ساتھ چونکہ اس کا مال بھی جائے گا، تو اس کے لیے وہ تیار نہیں ہوتے۔ تو دونوں ظلم ہی ظلم ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے کہتے ہیں عبادات کے لیے تو کم ایمان بھی کافی ہو جاتا ہے۔ معاملات کے لیے زیادہ ایمان کی ضرورت ہے۔ زیادہ یقین کی ضرورت ہے آخرت پر۔ ورنہ پھر یہ ہوتا ہے کہ معاملات صاف نہیں ہوتے۔
یا اللہ!
دو دو سے، تین تین سے، اور چار چار سے۔ ہاں! اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ تم (ان بیویوں) کے درمیان انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو، یا ان کنیزوں پر جو تمہاری ملکیت میں ہیں۔ اس طریقے میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ تم بے انصافی میں مبتلا نہیں ہو گے ﴿3﴾
جاہلیت کے زمانے میں بیویوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں تھی۔ ایک شخص بیک وقت دس دس بیس بیس عورتوں کو نکاح میں رکھ لیتا تھا۔ اس آیت نے اس کی زیادہ سے زیادہ حد چار تک مقررفرمادی، اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ انسان تمام بیویوں کے درمیان برابری کا سلوک کرے۔ اور اگر بے انصافی کا اندیشہ ہو تو ایک ہی بیوی پراکتفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں ایک سے زیادہ نکاح کرنے کو منع فرما دیا گیا ہے۔
آج کل ماڈرن (Modern) مطلب ظاہر ہے کہ وہ چیزیں ہو رہی ہیں ساری چیزیں۔ تو ہمارے جو بعض حضرات ہیں، جو علم حاصل کر لیتے ہیں لیکن ابھی تربیت ان کی نہیں ہو چکی ہوتی۔ تو آزاد گفتار ہوتے ہیں۔ پروا نہیں کرتے کہ میں جو بات کر رہا ہوں یہ شریعت کے مطابق ہے یا مناسب ہے یا نہیں ہے۔ ان کو کوئی بات چاہیے ہوتی ہے کرنے کی۔ یہ اکثر یہ گروپوں میں اس قسم کی بات ہوتی ہے۔
تو ایک گروپ میں میں بھی شامل تھا، تو ایک صاحب نے آرٹیکل دیا کہ فلاں وقت میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جس کی ایک بیوی ہوتی تھی تو اس کو بیوقوف سمجھا جاتا تھا اور ہے فلاں کی تین بیویاں تھیں، فلاں کی چار تھیں، فلاں کی دو تھیں، فلاں کی کہتے ہیں کسی ایک کی ایک ہوتی تھی ورنہ یہ ہے کہ دو یا دو سے زیادہ ہوتی تھیں۔ مطلب یہ تھا کہ ہمیں بھی اس طرح کرنا چاہیے۔ تو میں نے پھر جواب دیا، میں نے کہا دیکھو! ایک طرف آپ کی تاریخ کا مطالعہ ہے۔ دوسری طرف یہ قرآن پاک کی آیت ہے۔ تو قرآن پاک کیا کہتا ہے؟ قرآن پاک یہ کہتا ہے کہ چار تک کر سکتے ہو، لیکن شرط یہ ہے کہ انصاف کرو۔ اور اگر انصاف نہیں کر سکو تو پھر ایک ہی کافی ہے۔ ایک پر اکتفا کرو۔ میں نے کہا مجھے آج کل ایسا گھر بتا دیں جس میں کسی نے دو شادیاں کی ہوں اور اس نے انصاف کیا ہو۔ کوئی بتا دو مثال کے طور پر۔ کم از کم مجھے تو معلوم نہیں ہے، کہ جس نے دو شادیاں کی ہوں اور پھر اس نے انصاف بھی کیا ہو۔ مجھے تو ظلم ہی ظلم لگتا ہے جو نظر آتا ہے۔ تو ایسی صورت میں پھر خوامخواہ اپنے آپ کو گناہ گار کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر قرآن پاک کے حکم پر عمل کر لو کہ اگر انصاف نہیں کر سکتے تو پھر ایک کافی ہے۔
پھر سب سے بڑی بات یہ کہ اس وقت جو بڑے بڑے اولیاء اللہ ہیں، اس وقت اس دور کے یا قریبی دور کے۔ انہوں نے کیا کیا؟ دو دو تین تین کی ہیں شادیاں؟ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے کی تھیں تو انہوں نے کیسے انصاف کیا تھا؟ تو کسی نے ان سے پوچھا کہ حضرت آپ نے تو زیادہ شادیوں کی مثال قائم فرمائی۔ نہیں! میں نے یہ مثال قائم کی کہ زیادہ اگر کرو گے تو انصاف کرو گے، تو میں نے انصاف کی مثال قائم کی۔ انصاف کو دیکھنا چاہیے۔
تو وہ ایک دفعہ کوئی شخص جو ہے نا وہ تربوز لے آیا جی ہدیہ کے طور پہ حضرت کے پاس۔ حضرت نے کہا آپ کو پتہ ہے نا کہ میرےدو گھر ہیں۔ ہاں جی! حضرت میں دو لایا ہوں۔ میں دو لایا ہوں۔ تو حضرت نے پوچھا کہ اگر ایک بڑا ہو اور ایک چھوٹا ہو پھر؟ تو اس نے کہا میں تول کے لایا ہوں، ایک جیسے ہیں۔ مطلب وہ حضرت کو جانتے تھے۔ انہوں نے کہا اگر ایک میٹھا ہو اور ایک پھیکا ہو؟ تو اس پر جو ہے نا اس صاحب نے زچ ہو کے کہا کہ حضرت میں اس کے اندر تو نہیں گھس گیا تھا وہ تو اس کی ہر ایک کی اپنی قسمت ہے۔ انہوں نے کہا نہیں اس کا حل بھی ہے۔ اس کا حل کیسے ہے؟ انہوں نے کہا دونوں برابر برابر آدھا آدھا کر لو۔ اور پھر اگر دونوں مختلف ہیں تو ایک کا آدھا اور دوسرے کا آدھا ایک کو دے دو اور اس طرح دوسرے کو بھی۔ اس طرح کر لو۔ تو کہتے ہیں: ہاں ٹھیک ہے بالکل صحیح ہے۔ تو اتنا خیال رکھتے تھے۔ اور حضرت فرماتے ہیں کہ میں جب ایک گھر میں ہوتا ہوں تو دوسرے گھر میں جو ہوتا ہے، اس کے بارے میں خیال بھی نہیں لاتا۔ کہ اس کے ساتھ خیانت ہے پہلی کے ساتھ۔
اب کوئی اس طرح کرتا ہے؟ اس طرح تو کوئی نہیں کرتا۔ تو پھر مجھے بتاؤ آپ اس طرح آزادمہار اس طرح باتیں کر رہے ہو، پرانوں کی مثال دے کر آپ جو ہے نا ابھی آج کل کے دور میں اس کو apply کر رہے ہیں، تو بتاؤ پھر پرانے کی طرح ہو جاؤ نا۔ تو یہ ناانصافی کی باتیں ہیں۔
اور اکثر یہ شادیوں میں ناانصافی ہوتی ہے۔ مہر رکھنے میں بھی ہو جاتا ہے نا مطلب مثلاً مہر مثل مثال کے طور پر بہت زیادہ ہوتا ہے بعض دفعہ، بعض گھرانوں میں۔ تو مہر مثل لازمی ہوتا ہے پھر۔ تو ایک شخص نے کہا جی میں مہر فاطمی رکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا پھر تمہیں اس کے لیے علی بننا پڑے گا۔ تمہیں اس کے لیے پھر علی بننا پڑے گا۔ مطلب یہ نہیں کہ بس میٹھا میٹھا کھا اور کڑوا کڑوا تھو۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ ساری باتوں کو ہم لوگ دیکھیں ورنہ پھر یہ ہوتا ہے اور یہ بہت اہم چیپٹر ہے یہ "سورۂ نساء"۔ بہت اہم علوم ہیں اس میں، معاملات کے اور معاشرت کے۔ اس کو بہت ہی شوق سے سننا چاہیے اور اس پر عمل کرنے کی نیت کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے معاملات کو درست فرما دے اور ہماری معاشرت کو اچھی کر دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔