اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ۔
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ
یہ ہماری کتاب ہے، بلکہ کتابوں کا سلسلہ ہے "پیغامِ محبت"
تو ساتھیوں کی خواہش تھی کہ ایک دن اس کے لیے مقرر کیا جائے، جس میں اس کا درس ہو، جیسا کہ درسِ مثنوی ہمارا ہوتا ہے، تو ایسے اس کا درس شروع کیا جائے۔
اب جو پیغامِ محبت ہے، عمل میں آئے
کوئی احکامِ محبت، ہمیں بھی سمجھائے
کیسے محبوب کرے بات عمل اس پہ نہ ہو
کیسے ہو یہ اور محبت یہ کیسے کہلائے
جو ہے محبوب کا محبوب ہے ہمارا محبوب
کیسے انکار ہم سے ہو سکے جو فرمائے
جو ہیں محبوب کے محبوب طریقے ان کو
جب ہو موجود کوئی کیسے ان کو ٹھکرائے
بات کریں صاف، عمل چاہیے شبیرؔ بات پر
عشق ترا نعروں میں، تحلیل نہ ہونے پائے
صرف نعروں سے کام نہیں ہوتا۔ کام سے کام ہوتا ہے۔ لہٰذا جو محبت اللہ کی اور اللہ کے رسول کی ہے، وہ نعروں کی نذر نہ ہو۔ بلکہ کام آجائے اس میں۔ ہم لوگ سراپا اللہ تعالیٰ کے لیے کام کریں اور آپ ﷺ کے طریقے پہ کر لیں۔ اللہ کی محبت کے ساتھ، اللہ کے رسول کی محبت کے ساتھ۔ یہ ہماری ہےبنیاد۔ اللہ کی محبت، اللہ کے رسول کی محبت، اللہ کے لیے کام کرنے اور رسول کے طریقے پہ کام کرنے کے لیے جان ہے۔ تو جان کو اگر ہٹا دو گے تو کچھ بھی نہیں رہے گا۔ یہ جو محبت ہے اللہ کی اور اللہ کے رسول کی، یہ جان ہے ان تمام چیزوں کی۔ تو بعض لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ دوسرا حصہ تو کرتے ہیں، یہ پہلا حصہ چھوڑ دیتے ہیں۔ تو ان کے اعمال بے جان ہو جاتے ہیں۔ ان کے اعمال بے جان ہو جاتے ہیں۔ یہ جو "پیغامِ محبت"، اس کا بنیادی جو Text ہے، وہ یہی ہے کہ جو اعمال کے اندر جان لانے والی چیز ہے، اس کی طرف بھی توجہ کی جائے جس سے آج کل غفلت ہے۔ تو اس غفلت کو دور کرنا، کہ ہم لوگ کریں تو کام اللہ کے لیے اور کریں حضور ﷺ کے طریقے پر، تو یہ دین ہے۔ لیکن اس میں جان تب آئے گی جب اللہ کی محبت ہوگی اور اللہ کے رسول کی محبت ہوگی۔
اللہ کی محبت کا تو اللہ نے خود فرمایا: ﴿وَالَّذِيْنَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ﴾۔ "جو مومن ہیں، ان کو اللہ کی شدید محبت حاصل ہوتی ہے"۔ مقصد یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ شدید محبت لازمی ہے۔ ایمان کے ساتھ شدید محبت لازمی ہے۔ لہٰذا یہ شدید محبت حاصل کرنی پڑے گی۔ شدید محبت ہی کو "عشق" کہتے ہیں نا! یا کوئی اور چیز کہتے ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں قرآن میں عشق کا لفظ نہیں ہے، عشق عشق کی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ خدا کے بندو! شدید محبت کو کیا کہیں گے آپ؟ اس سے زیادہ بڑا لفظ کون لائے آپ کے لیے؟ ﴿أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ﴾، اور کیا چیز ہوتی ہے؟ تو کیا خواہ مخواہ عشق کا لفظ ہی لانا تھا؟ یہ تو بالکل ایسے ہے جیسے کہ کوئی کہتا ہے، جب تک اللہ تعالیٰ بادلوں کے اند ر ہمیں نظر نہ آئے جیسے پہلے کہتے تھے۔ اس تک ہم نہیں مانیں گے۔اپنی مرضی کا لفظ بھی چاہتے ہو؟ اللہ کی مانتے ہو یا اپنی بات مانتے ہو؟ تو اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا:شدید محبت، تو شدید محبت اور کس کو کہتے ہیں؟ شدید محبت ہی عشق کو کہتے ہیں۔ جو عشق کا لفظ ہے وہ شدید محبت کے لیے ہے۔تو یہ ہو گیا۔
محبت کی دنیا
اب یہ محبت کی دنیا میں اگر کوئی داخل ہو جائے، تو اس میں ہوتا کیا ہے؟ محبت کی دنیا، یہ بہت بڑی، یہ ایک کلام ہے جو ہم جا رہے تھے لاہور۔ اور پشتو میں لکھ رہا تھا۔ اس وقت باری پشتو کی تھی۔ اور وہ میں لکھ رہا تھا اور اچانک یہ غزل ایسی بلڈوز ہو کے آ گئی۔ کہ اس نے پشتو کو روک کے یہ لکھوایا۔ اور پھر میں نے اسی وقت بھی سنایا۔ تو یہ وہ بلڈوزنگ غزل ہے۔ جو محبت کی دنیا کے نام سے ہے۔
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
جو تنگی نظر کی ہے، اس میں نہیں ہے
ہاں،محبت والوں کو تنگ نظر نہیں دیکھو گے
جو تنگی نظر کی ہے، اس میں نہیں ہے
وفا عفو کی نہر ہے اس میں جاری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
کوئی وسعتیں جانے دل کی ہیں کتنی
کہ انگشت بدنداں ہے یہ عقل ساری
محبت کی دنیا ہے دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
یہ محبت کی دنیا صحابہ کی پوری زندگی پر چھائی ہوئی ہے۔ ان کی باتیں سمجھ میں آتی ہیں؟ نہیں آتیں۔ کیوں؟ ظاہر ہے عقل انگشت بدنداں ہو جاتی ہے۔ آدمی کہتا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اور اس طریقے سے آپ اولیاء اللہ کو دیکھیں گے۔ ان کی زندگی کو دیکھیں گے، کیسے وہ کر لیا؟ شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، بادشاہ اس کا مرید ہے اور گھر میں فاقے ہیں۔ بادشاہ اس کا مرید ہے۔ ذاتی طور پہ۔ اور پورے خاندان کے ساتھ۔ لیکن اس کے گھر میں فاقے ہیں۔ اب بتاؤ کیسے چھپایا؟ یہ سمجھ میں آتا ہے؟ یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ کیونکہ یہاں پر عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ عقل ساری حیران ہو جاتی ہے کہ یہ کیا بات ہے؟ آج کل تھوڑا سا تعلق کسی افسر کے ساتھ ہو جائے تو اپنا بس، ہر چیز پھر Cash کرتے ہیں کہ نہیں کرتے؟ اپنا ہر تعلق کو ہر ایک Cash کرتا ہے۔ اب وہاں پر بادشاہ بالکل مٹھی میں ہے، لیکن نہیں! خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ سے بادشاہ خود درخواست کرتے ہیں، میں آپ کے گھر آنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کے گھر حاضر ہونا چاہتا ہوں۔ یہ نہیں کہا کہ آپ میرے دربار میں آ جائیں۔ نہیں، میں آپ کے گھر آنا چاہتا ہوں۔ حضرت نے فرمایا، میرے گھر کے دو دروازے ہیں۔ ایک دروازے سے آپ داخل ہوں گے، دوسرے دروازے سے میں نکل جاؤں گا۔ مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حرم شریف میں بیٹھے ہوتے تھے۔ کسی نے کہا ضیاء الحق صاحب آپ کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔ ضیاء الحق صاحب آ گئے ادھر، اس دن حضرت تھے ہی نہیں۔ نہیں تھے، بیٹھے ہوئے۔ یہ معاملہ الگ ہے۔ یہ عقل میں نہیں آتا۔ عقل تو کہے نہیں جی، آپ مل لیں، یہ فائدہ ہوگا، یہ فائدہ ہوگا، یہ فائدہ ہوگا، وہ ساری باتیں اپنی جگہ۔ لیکن ان کی بات ادھر اوپر ہوتی ہے۔ جب ادھر سے Approval ہوتی ہے، تو پھر کرتے ہیں۔ وہ اپنے عقل سے کام نہیں کرتے۔
کوئی وسعتیں جانے دل کی ہیں کتنی
کہ انگشت بدنداں ہے یہ عقل ساری
یہاں ہے جلن نفس کی خواہشوں کی1
محبت کے بغیر
یہاں ہے جلن نفس کی خواہشوں کی1
وہاں ٹھنڈی آہوں کی2 بھرمار پیاری
محبت کی دنیا ہے دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
اسے3 اب بٹھا ہی دے دل میں تو اپنے
بِنا اس کے عمر تو نے کیسے گزاری
محبت کی دنیا ہے دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
جو پیارا ہے اس کا، تمہیں بھی ہو پیارا
اگر تم پہ اس کی محبت ہے طاری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
طریقہ اگر اس کا پایا ہے تو نے
بشارت تجھے ہو او محبوب ِ باری4
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
جو مانے نہیں اِس کو5 اُس کو تو چھوڑو
ہے محرومی اس سے سزا اسکی بھاری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
وہ مجھ پر جو ہے مہربان مجھ سے زیادہ
کروں زندگی کیوں نہ میں اس پہ واری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
نہ چھیڑو شبیر ؔ دل کے نغمے رکو اب
دبی ہی رہے بہتر6 آواز تمھاری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
جیسے میں نے عرض کیا تھا کہ یہ الہامی غزل ہے۔ اور میرے بس سے باہر والی بات تھی۔ یہ جو طرز جس پر میں نے پڑھا ہے، یہ بھی الہامی ہے۔ بالکل اسی طریقے سے آیا ہے۔ مطلب اس میں، میں نے درمیان میں الحمدللہ کوئی وہ نہیں کی ہے، اس لیے مجھے تو یہی طرز پسند ہے۔ کیونکہ اسی طرز سے آیا ہے ۔ اور یہی طرز میرے خیال میں اس کے لیے سب سے زیادہ مؤثر بھی ہے۔
وجہ یہ ہے کہ جب تک انسان کو محبت کی دنیا کا ادراک نہیں ہوگا، کہ ہے کیا چیز؟ تو اس کے لیے کوشش کیوں کوئی کرے گا؟ تو ایک الگ دنیا ہے۔ جو اس دنیا میں رہتے ہیں، وہ دوسروں سے الگ ہوتے ہیں۔ ان کا معاملہ سارا الگ ہوتا ہے، ان کی سوچ الگ ہوتی ہے، ان کی فکر الگ ہوتی ہے، ان کا کام الگ ہوتا ہے۔ اور اللہ پاک کی نظروں میں بھی الگ ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کا معاملہ سارا کا سارا الگ ہوتا ہے۔ اس دنیا میں داخل ہونے کے لیے کچھ کرنا ہوتا ہے۔ اِسی کو "طریقِ جذب" کہتے ہیں۔ یعنی اس دنیا کے اندر داخل ہونے کے لیے جو راستہ ہے وہ "طریقِ جذب" ہے۔ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیان فرمایا، مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیان کیا، علامہ عراقی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے۔ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو بیان فرمایا۔ جن جن حضرات نے اس کو بیان کیا ہے، وہ اس راستے سے گزر کے انہوں نے بیان کر دیا ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے یہ راستہ بہت ہی سریع الاثر راستہ ہے۔
دل کی دنیا ذکر سے آباد کر
اب کیسے اس کو ہم دل کی دنیا کو آباد کر سکیں؟ یہ ایک چھوٹی سے رباعی ہے اس کے end پر۔
دل کی دنیا ذکر سے آباد کر
دل کو دنیا چھوڑ کر تو شاد کر
جتنی Tensions ہیں، ساری دنیا کی وجہ سے ہیں۔ میری Promotion نہیں ہو رہی ہے، میرے کاروبار میں نقصان ہو گیا ہے، میری بیماری ایسی ہے، میری فلاں چیز ایسی ہے، یہ دنیا کے معاملات ہیں، جو انسان کو Tension میں مبتلا کرتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں دنیا کی ہیں۔ یعنی اگر انسان دل سے دنیا کو نکال دے۔ تو پھر کیا ہوگا؟ پھر یہ ٹینشنیں نہیں ہوں گی۔ ہاں کام کرے گا، لیکن اللہ کے لیے کرے گا۔ دنیا کے لیے نہیں کرے گا۔ معاملہ ہی الگ ہے۔ وہ صحابی کی بات ذرا یاد آجائے، جس نے ایک کافر کو میدانِ جنگ میں بتایا تھا، کہ جتنا تمہیں شراب کا پیالہ عزیز ہے، اس سے زیادہ ہمیں موت عزیز ہے۔ جتنا تمہیں شراب کا پیالہ عزیز ہے، اس سے زیادہ ہمیں موت عزیز ہے۔ اب بتاؤ، کیا چیز ہے وہ؟ تو یہ بات:
دل کی دنیا ذکر سے آباد کر
دل کو دنیا چھوڑ کر تو شاد کر
جب تو چاہے یہ کہ اس کو یاد ہو
تو بھی اس کو دل میں اپنے یاد کر
دل کی دنیا ذکر سے آباد کر
دل کو دنیا چھوڑ کر تو شاد کر
﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ﴾۔ "پس مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا"۔ صاف صاف والی بات ہے، لہٰذا اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، لیکن کیسے مثلاً؟
اب یہ محبت کیسے حاصل ہو ؟
جب محبت سے ہے سب کچھ1 تو کہے اک سائل
یہ محبت پھر ہمیں کیسے ہو سکے حاصل
بولے اک شخص کہ چند باتوں پر گرکر لیں عمل
شاید پھر بابِ محبت میں آپ ہوں داخل
ذکر اللہ کا اگر آپ کو دائماً ہو نصیب
ظاہری باطنی اعمال پہ ہوں آپ عامل
صرف ظاہر ی اعمال نہیں!
ظاہری، باطنی اعمال پہ ہوں آپ عامل
ہو اہل اللہ کی صحبت اور اگر یہ نہ ملے
مطالعے میں کتابیں ہوں پھر ان کی شامل
نقص دنیا کی محبت کا دل سے نکلے جناب
اس وقت حبِ الٰہی میں آپ ہوں کامل
دل میں اللہ کی محبت کا نور پاؤ گے
پھر نہ دنیا کی محبت کی طرف ہو مائل
ہاں مگر جس کا دل بھی حبِ الٰہی پائے
وہ دل میں اس کی محبت کا کیسے ہو قائل
جتنا بھی انسان محبت کو حاصل کرے گا وہ اپنے آپ کو اتنا ہی اس میں کم سمجھے گا۔ کہے گا ابھی نہیں ہے جی۔ چونکہ ساتھ ساتھ محبت کی ایک اہمیت بھی تو سامنے آتی جائے گی نا۔ وہ جتنا جتنا اس کا Demand بڑھتا جائے گا، وہ جو موجود ہوگا اس کے سامنے کم سمجھے گا۔ لہٰذا وہ خود نہیں کہے گا کہ مجھے یہ چیز حاصل ہے۔ دوسرے لوگ کہیں گے، لیکن خود وہ نہیں کہے گا، وہ خود کہے گا میں تو کچھ بھی نہیں۔ یہی بزرگوں کے ساتھ ہوتا ہے Dilemma۔ کہ لوگ کہتے ہیں، کمال ہے خود کہتے ہیں ہم کچھ بھی نہیں، تم کہتے ہو اتنا، ایسے ایسے ۔ یہی تو بات ہوتی ہے۔ وہ خود کہیں گے میں کچھ بھی نہیں، لیکن لوگ کہیں گے، ہاں، یہ تو یہ ہے اور یہ تو ہے۔ اور اللہ بھی کہے گا۔ لیکن خود وہ کہے گا میں کچھ بھی نہیں۔
یہ محبت وہ سمندر ہے جس کی حد ہی نہیں
اس کے ہوتے نظر آئے کسی کو کیا ساحل
بس تڑپنا ہی محبت کا تقاضا ٹھہرا
آگے شبیر کوئی کیسے کہیں ہو نازل
جہاں پر بھی اللہ پہنچانا چاہے وہاں پر پہنچا دے گا، لیکن یہ تو تڑپتا ہی رہے گا۔ آپ ﷺ بھی آخر میں کیا فرما رہے تھے؟ آخری الفاظ آپ ﷺ کے زندگی کے کیا ہیں؟ ﴿بَلِ الرَّفِيقَ الْأَعْلٰی﴾۔ ﴿بَلِ الرَّفِيقَ الْأَعْلٰی﴾۔ "اب تو رفیقِ اعلیٰ ہی درکار ہے"۔ تو یہ ساری چیزیں قرآن اور سنت میں موجود ہیں لیکن افسوس، آج کل اس پہ بات ہی نہیں ہوتی۔ آج کل اس کے بارے میں لوگ بتاتے ہی نہیں۔ تو پھر جب لوگ بتاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں: یہ کیا چیز ہے؟ یہ کہاں سے آ گئی؟ پریشان ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ قرآن و سنت ان چیزوں سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن افسوس، آج کل اس کے بارے میں بات نہیں ہو رہی۔ تو یہ،
بس تڑپنا ہی محبت کا تقاضا ٹھہرا
آگے شبیر کوئی کیسے کہیں ہو نازل
محبت کی پڑیا
یہ اصل میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ملفوظ ہے جس کو رباعی میں قلمبند کیا گیا ہے۔
کہا بتاؤں طریقہ آسان اصلاح کا
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اصلاح کا آسان طریقہ بتاؤں؟
کہا بتاؤں طریقہ آسان اصلاح کا
کہا ضرور، کہا کھائیے حب کی پڑیا
لوگوں نے کہا :ضرور بتا ئیے ۔فرمایا: محبت کی پڑیا کھالو۔
کہا ضرور کہا کھائیے حب کی پڑیا
یہ محبت کی دکانوں سے ہی ملے گی تمہیں
جو پوچھا یہ کہاں سے؟ اس پہ یہ جواب ملا
لوگوں نے کہا حضرت یہ محبت کی پڑیا کہاں سے ملے گی؟ فرمایا: یہ محبت کی دکانوں سے۔ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک دن فرمانے لگے: اپنے شیخ کے بارے میں، سید سیلمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں، فرمایا :بس ویسے بیان کے دوران فرمایا کہ:
جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ تھے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی کرتے تھے۔ حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ اندازہ کر لیں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے تقریباً 70 خلفاء تھے۔ مجازِ بیعت اور مجازِ صحبت بھی تقریباً اتنی تعداد میں تھے۔ لاکھوں مریدین تھے۔ کتابیں ہزار سے زیادہ لکھیں۔ اخیر میں فرمایا: مجھے اپنے بارے میں فکر تھی کہ جاؤں گا تو پیچھے کس کو چھوڑوں گا۔ پریشانی تھی کہ کام کا کیا ہوگا۔ فرمایا: الحمدللہ دو آدمیوں پہ نظر گئی، تو اب اطمینان ہے کہ ان شاءاللہ کام رکے گا نہیں۔ ان دو میں سے نام کون سے لیے؟ ایک حضرت مفتی محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ لاہور کے، جن کے نام سے جامعہ اشرفیہ بنا ہوا ہے۔ ان کا نام لیا، اور دوسرا حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ۔ گویا کہ ایک سالک کا نام لیا، ایک مجذوب کا نام لے لیا۔ گویا کہ حضرت نے جیسے اپنی زندگی میں سلوک کی بھی خدمت کی اور جذب کی بھی خدمت کی، تو خلفاء میں بھی دو ایسے چھوڑ دیے جو حضرت کے ان میدانوں میں نمائندے تھے۔ ایک سالک، خواجہ مفتی محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ، اور ایک خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ۔ ان کا کلام سبحان اللہ! اللہ کا شکر ہے ہمارے پاس ہے، سنتے رہتے ہیں ہم۔ کچھ بزرگوں نے اس کو پڑھا ہے۔ تو اس میں، ایک دفعہ ان کے ہی ایک پیر بھائی، ان کو نصیحت کی کہ حضرت آپ اس طرح بنے ہوئے ہیں، رندانہ طریقے سے رہتے ہیں۔ آپ کم از کم شیخ ہیں، تھوڑا سا اس کا خیال رکھا کریں۔ تھوڑا سا اس کا خیال رکھا کریں، آپ تھوڑا شیخ کی طرح رہا کریں تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو۔ اس نے بڑی نیک نیتی کے ساتھ نصیحت کی۔ حضرت نے شعر میں جواب دیا۔ فرمایا:
تمہیں صوفی صافی یہ وقار مبارک ہو
مجھے اس طرح ہی رہنے دے جس طرح میں ہوں
میرے لیے گناہوں سے توبہ کے ذریعے سے تلافی ہو جائے، یہ بھی بڑی بات ہے۔ آپ ماشاءاللہ شیخ ہیں، آپ شیخ کی طرح رہیں۔ تو یہ ظاہر ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک الگ رنگ دیا تھا۔ اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے ایک شعر پر، فرمایا: اگر میرے پاس ایک لاکھ روپے ہوتے تو میں ان کو انعام دے دیتا۔ ایک لاکھ روپے بھی اگر ہوتے تو میں ان کو انعام میں دے دیتا۔ وہ شعر کون سا ہے؟ وہ پڑھتا ہوں، لیکن یاد رکھیں حضرت نے لاکھ سے زیادہ دے دیے ہیں۔ کیسے؟ کہ حضرت نے بالکل آخری وقت، موت کے وقت آخری یہ شعر پڑھا اور اس پہ فوت ہو گئے۔ بتائیں کتنا انعام دے دیا؟ وہ کیا ہے؟
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آجا، اب تو خلوت ہو گئی
یہ حضرت نے آخری وقت میں پڑھا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ﴿بَلِ الرَّفِيق الْأَعْلٰى﴾ کا ترجمہ ہے۔ سمجھا جائے تو۔ وہی آپ ﷺ نے جو فرمایا تھا آخر میں، یہ اسی کا ترجمہ ہے۔ ﴿بَلِ الرَّفِيق الْأَعْلٰى﴾، اب تو بس اسی کے لیے جگہ ہے، کسی اور کے لیے جگہ نہیں ہے۔ تو یہ ہے۔ تو ہمیں اصل میں بات یہ ہے، افسوس کہ ہمیں یہ چیزیں لوگوں نے بتائی نہیں ہیں، سمجھائی نہیں ہیں۔ اس وجہ سے نقصان ہو رہا ہے، لوگ سمجھ رہے ہیں کہ شاید یہ چیزیں ہیں ہی نہیں۔ آج کل ان چیزوں کے بارے میں اگر بات کیا کرتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں پتہ نہیں یہ دیوانے ہیں یا کیا ہیں۔ ہاں ٹھیک ہے دیوانے ہیں۔ اس کے لیے دیوانہ ہونا بہت بڑی بات ہے۔ وہ بھی آئے گا آگے ان شاءاللہ۔ اس نے یہ ہے کہ اب اس کے بعد ہے:
اتنا حاضر کہ تو گم ہو جائے
ایسا حاضر ان کے دربار میں ہو
کس کے دربار میں؟
اللہ کے دربار میں۔
ایسا حاضر ان کے دربار میں ہو کہ اپنی ذات سے گم ہو جائے
اپنے آپ کو بھول جاؤ اس کے سامنے ایسا ہو جاؤ کہ بس اپنے آپ کو بھول جاؤ صرف وہ ہی یاد ہو۔
ایسا حاضر ان کے دربار میں ہو کہ اپنی ذات سے گم ہوجائے
تو اسکا ہو وہ تیرا بن جائے پھر ابدی زندگی تو یوں پائے
عشق منزل کو جانتا ہی نہیں، منزلیں کیوں تجھے مطلوبہ ہوں پھر
لوگ منزلیں تلاش کرتے، مرتبے تلاش کرتے ہیں۔
خدا کے بندو! کن چیزوں میں پڑے ہو؟
عشق منزل کو جانتا ہی نہیں، منزلیں کیوں تجھے مطلوب ہوں پھر
تو تو مٹ مٹ کے بنے گا باقی، مٹنے دو مٹتے رہیں گے سائے
تو تو اس چیز کے لیے بنا ہے، اللہ کے راستے میں مٹ جاؤ۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہی نصیحت کی تھی سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کو۔سید صاحب نے ان سے نصیحت کی درخواست کی، حضرت نے فرمایا: "میں اتنے بڑے علامہ کو کیا نصیحت کروں گا؟فرمایا: ہاں وہ نصیحت جو میں اپنے آپ کو کرتا رہتا ہوں، میں دوسروں کو بھی کر سکتا ہوں۔"
فرمایا: "ہم یہاں پر مٹنے کے لیے آئے ہیں، جتنا اپنے آپ کو مٹا سکیں، اتنا اپنے آپ کو مٹائیں۔"
اس کو سن کر حضرت پر گریہ طاری ہو گیا، سارے راستے روتے رہے۔ اور یہی ان کی زندگی میں انقلاب کا باعث بن گیا۔ تو مطلب یہ ہے :
عشق منزل کو جانتا ہی نہیں، منزلیں کیوں تجھے مطلوب ہوں پھر
یہ بزرگی بزرگی کی جو باتیں کرتے ہیں نا، یہ سب منزلیں،
یہ نہیں بھئی، یہ ہمارا مقصد نہیں ہے
عشق منزل کو جانتا ہی نہیں، منزلیں کیوں تجھے مطلوب ہوں پھر
تو تو مٹ مٹ کے بنے گا باقی، مٹنے دو مٹتے رہیں گے سائے
دل سے دو دل کہ دل قبول بھی ہو،اس کے دربار میں وہ پیش بھی ہو
اب کہ جب پاس کچھ رہا ہی نہیں، کیسا شکوہ زبان پر آئے
جب پاس تیرے کچھ بھی نہیں رہا، تو نے دل اس کو دے دیا،
اب تیرے پاس کیا رہ گیا؟
دل سے دو دل کہ دل قبول بھی ہواس کے دربار میں وہ پیش بھی ہو
اب کہ جب پاس کچھ رہا ہی نہیں کیسا شکوہ زبان پر آئے
اپنی چاہت کو اس کی چاہت پر کردو قربان کہ تجھ کو وہ چاہے
سر تسلیم کر دو خم اپنا یہ مرا ہی ہے وہ یہ فرمائے
قدر کرنا کوئی اس سے سیکھے پھو ل دے کر کوئی گلزار لے لے
فانی چیز کو آپ اس کے راستے میں دے دیں گے وہ تمہیں پتہ نہیں کتنا دے دے گا یہ بہت بڑھیا سودا ہے۔
قدر کرنا کوئی اس سے سیکھے پھو ل دے کر کوئی گلزار لےلے
ہاں مگر تنگ دل شبیر نہ ہو تجھ کو دشمن کہیں نہ بہکائے
تھوڑی سی دیر ہو جائے، حکمتاً دیر ہو جائے، آپ کہتے ہیں، اوہو! یہ سب لوگوں کو مل گیا مجھے تو نہیں ملا۔ اور بدگمانی شروع کر لی۔ معاملہ خراب ہو گیا۔ شیطان تو یہی دھوکہ دیتا ہے نا؟ شیطان یہی تو کرتا ہے۔ کہ وہ انسان کو بدگمانی میں مبتلا کرتا ہے، شیخ پر بدگمان ہو جاتا ہے، پھر آگے اللہ تعالیٰ تک یہ بات چلی جاتی ہے اور کام خراب ہو جاتا ہے۔ اس لیے، بھئی! وہ تو ہمیشہ اپنا ہاتھ اوپر رکھتا ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ان کے الطاف شہیدی ؔ تو ہیں مائل سب پر
تجھ سے کیا بیر تھا، گر تو کسی قابل ہوتا؟
قدر کرنا کوئی اس سے سیکھے پھو ل دے کر کوئی گلزارلےلے
ہاں مگر تنگ دل شبیر نہ ہو تجھ کو دشمن کہیں نہ بہکائے
یہ تین غزلیں ہیں، ان میں سے ایک پڑھ لیں گےاور ایسا تھا کہ یہ میں lunchکے لیے اٹھ رہا تھا، تو تین شعر، تین مختلف غزلوں کے اللہ تعالیٰ نے دل پہ وارد کر دیے۔ اور میرے پاس نہ کاغذ تھا نہ قلم۔ اور میرا حال آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں جب آگے پڑھ رہا ہوں تو پیچھے بھول جاتا ہوں۔ پیچھے دیکھتا ہوں، پھر مجھے یاد آتا ہے۔ یہ حال ہے میرا، میں اشعار کو بہت جلدی بھولتا ہوں۔ میرے ساتھ یہ فکر تھی کہ میں کہیں بھول نہ جاؤں۔ بہت Tension میں، وہاں جایا گیا، lunch کیا، lunch کے دوران بھی اس کو بار بار پڑھتا رہا تاکہ میں بھول نہ جاؤں۔ پھر جس وقت lunch کر کے آیا تو وضو کرنے سے پہلے پہلے جلدی وہ تین اشعار لکھ دیے، پھر میں نے وضو کیا پھر نماز کے لیے گیا۔ یہ وہ تین اشعار تھے۔ تو اس سے پھر تین غزلیں بن گئیں۔
میں نے دنیا کا یہاں خوب تماشا دیکھا
ہر طرف میں نے تو بس اس کا ہی چرچا دیکھا
اس نے کس پیار سے دروازے کئے بند سارے
ایک دروازہ کھلا اس کا تو بس کیا دیکھا
یہ شعر تھا
اس نے کس پیار سے دروازے کئے بند سارے
ایک دروازہ کھلا اس کا تو بس کیا دیکھا
عشق کی آنکھ ہر اک غیر سے کیوں اندھی ہے
اب نظر آئے کیا اس کا جو جلوہ دیکھا
ہم جہاں گرتے ہیں وہ پھر سے اٹھادیتے ہیں
ہے اٹھایا ہمیں جب بھی ہمیں گرتا دیکھا
میں نے جانا کہ ہے مطلوب اس کا پانا ہی
کس نے پایا ہے اسے اس کو نہ پیدا دیکھا
یہاں پر ایک عجیب باریک نکتہ ہے۔
مطلب یہ ہےکہ ہے تو یہی، destination تو یہی ہے، target یہی ہے، راستہ یہی ہے، اسی پہ چلنا ہے۔
میں نے جانا کہ ہے مطلوب اس کا پانا ہی
راستہ ہے۔۔
کس نے پایا ہے اسے اس کو نہ پیدا دیکھا
اس تک حقیقت میں کون پہنچ سکتا ہے not possible کوئی تو ایسا نہیں ہے جو اس تک حقیقی طور پر پہنچ ہاں البتہ وہ اس کی کوشش قبول کر کے وہ اس کہے دے کہ اچھا تم پہنچ گے ہو۔ وہ مان لیتا ہے پہنچ گیا۔ جب وہ مان جاتا ہے تو یہ بس کافی ہے۔ یہ نہ کرو کہ بھئی میں ادھر جا رہا ہوں۔ بھئی وہ والی بات نہیں ہے وہ تو کوئی بھی نہیں کرسکتا اللہ، اللہ ہے مخلوق، مخلوق ہے۔ کون مخلوق اللہ کو پاسکتی ہے؟ ایک مجذوب کا قول ہے۔
کہتا ہے:
ہوشیار وہ ہے جو اس کو پاوے
اور وہ وہ ہے جو کسی کی سمجھ میں نہ آوے
تو مطلب یہ ہے کہ یہ چیز ہے کہ یہ کوشش پر ہے سارا کچھ۔ اگر تیری کوشش وہ قبول کر لے بس کافی ہے۔ اتنی ہی بات ہے۔ بس اپنے آپ کو اس سے قبول کرواؤ۔ جہاں پر بھی قبول ہو گیا کام ہو گیا۔
اب دیکھ لو، ایک آدمی بڑے اخلاص کے ساتھ دور سے آ رہا ہے، دوسرا کوئی دنیاوی مقصد کے لیے قریب کھڑا ہے۔ اس کو کہتے ہیں یہ میرا نہیں ہے، وہ جو آ رہا ہے وہ میرا ہے، اب بتاؤ کون قریب ہے؟ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ بس یہی اصل میں بات ہے کہ اس سے اپنے آپ کو قبول کروانا ہے، باقی اور کچھ نہیں۔
میں نے جانا کہ ہے مطلوب اس کا پانا ہی
کس نے پایا ہے اسے اس کو نہ پیدا دیکھا
میں نے مخلوق کو دیکھا ہے ہر اک رخ سے شبیرؔ
میں نے دیکھا تو یہ دیکھا کہ بس خدا دیکھا
کام تو ہمارے اللہ ہی کرتے ہیں۔ سب چیزیں تو اس کے پاس ہیں۔ مخلوق کیا کر سکتی ہے؟
میں نے مخلوق کو دیکھا ہے ہر اک رخ سے شبیرؔ
میں نے دیکھا تو یہ دیکھا کہ بس خدا دیکھا
میں نے دنیا کا یہاں خوب تماشا دیکھا
ہر طرف میں نے تو بس اس کا ہی چرچا دیکھا
تو یہ اصل میں یہ جو شعر ہے،
”اس نے کس پیار سے دروازے کیے بند سارے“
اصل میں اللہ تعالیٰ بعض محبوبوں کے ساتھ یہ معاملہ کرتے ہیں کہ اس کے اوپر دنیا کے سارے دروازے بند کرتے جاتے ہیں۔ یہ بھی بند، یہ بھی بند، یہ بھی بند، یہ بھی بند، یہ بھی بند۔ وہ چیخ اٹھتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے؟ جہاں جاتا ہوں ناکامی، جہاں جاتا ہوں ناکامی۔ وہ اس کو اپنے لیے لاتا ہے نا۔ کہتا ہے، تو میرا ہے، کسی اور کا نہیں۔ کسی اور طرف کیوں جا رہا ہے؟کہتے ہیں:
اس نے کس پیار سے دروازے کئے بند سارے
ایک دروازہ کھلا اس کا تو بس کیا دیکھا
اب میں سیکرٹری کے پیچھے بھی جا رہا ہوں، وزیر کے پیچھے بھی جا رہا ہوں، فلاں کے پیچھے بھی جا رہا ہوں، فلاں کے پیچھے بھی جا رہا ہوں، سارے دروازے بند مل رہے ہیں۔ دیکھیں، اوہو! Chief Executive وہ آرہا ہے:بھئی! تم میرے پاس آؤ، چھوڑو ان سب کو! یہ کیا کر رہے ہو؟ پھر کیا ہوگا؟ جیتے ؟یا ہارے؟ ٹھیک ہے نا؟ بس یہی بات ہے۔ تو یہ مخلوق کے سارے دروازے آپ کے اوپر بند کر دیں گے۔ اور آپ کہیں گے، یہ کیا ہو گیا، میرا تو کام بالکل نہیں ہو رہا، یہ ہو گیا، وہ ہو گیا، یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ اور وہاں پر جب اخیر میں ادھر سے تجلی آتی ہے، پھر آدمی کہتا ہے، اوہو! یہ بات تھی۔ تو یہ وہ چیز ہے۔
اس نے کس پیار سے دروازے کئے بند سارے
ایک دروازہ کھلا اس کا تو بس کیا دیکھا
زباں میٹھی سی ہوتی ہے جو اس کا نام لیتا ہوں
مئے عشقِ حقیقی کا میں روز اک جام لیتا ہوں
یہ جو ذکر ہم کر رہے ہوتے ہیں، روزانہ کا معمول ہمارا، یہ کیا چیز ہے؟ یہ عشقِ حقیقی کی شراب ہے۔ ٹھیک ہے نا؟
جو غیر اللہ ہے میں لا الہ سے دور اب پھینکوں
میں الا اللہ سے پھر اس کے در کو تھام لیتا ہوں
لا الہ سے دنیا سے بھاگنا اور الا اللہ سے اللہ کی طرف آنا
پھر اس کا رنگ میں اللہ ُ اللہ کہہ کے اپناؤں
پکڑوا کر میں خود کو سانس زیِر دام لیتا ہوں
اللہُ اللہ سے اللہ کا رنگ پکڑتا ہوں، "صبغۃ اللہ"۔ اور پھر میں شریعت کے مطابق کام کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہوں، میں اپنے آپ کو اس کی پکڑائی میں دے دیتا ہوں۔
میں اس کی یاد میں مست ہو کے جب اس کو پکارتا ہوں
کرم کی اک نظر کے پیار کا انعام لیتا ہوں
یہ جو ہم ذکر کر رہے ہوتے ہیں، آپ کو کیا پتہ کہ کیا ہو رہا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ محبت کے ساتھ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ جو محبت کے ساتھ اللہ کو یاد کر رہا ہوتا ہے، "فَاذْكُرُوْنِي أَذْكُرْكُمْ" کو دیکھ لو۔ تو اللہ بھی اس کو یاد کر رہے ہوتے ہیں، تو اگر محبت کے ساتھ کوئی یاد کرے تو اللہ بھی محبت کے ساتھ اس کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
میں اس کی یاد میں مست ہو کے جب اس کو پکارتا ہوں
کرم کی اک نظر کے پیار کا انعام لیتا ہوں
مجھے پھر وہ محبت سے جو دیکھے کیا ہے بات اس کی
میں تیرا ہوں تو میرا ہے میں یہ پیغام لیتا ہوں
"مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللَّهُ لَهُ"
جب اسمِ ذات اللہ کا زباں پر طاری ہوتا ہے
تو دل پھر جاری ہوتا ہے میں اس سے کام لیتا ہوں8
میں ہاں بیکار ہوں بیکار ہوں کچھ بھی نہیں ہوں میں
میں اپنے سر پہ دنیا کا ہراک الزام لیتا ہوں9
یہ حدیث شریف پر عمل ہے۔ حدیث شریف میں ہے، اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں پاگل کہیں۔ اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں ریاکار کہیں۔ تو اپنے ہر الزام کے لئے تیار ہو جاؤ۔ خود ہی فرمائش ہے۔ لہٰذا ہم کیوں نہ کریں؟ لوگ پاگل کہیں، لوگ ہمیں بے وقوف کہیں، لوگ ہمیں ریاکار کہیں، جو کہیں وہ کہیں۔ ہمارا معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہے۔
مرا دل کیا ہے سمجھونا شبیر ؔ یہ عرشِ اصغر ہے
یہ صوفیا کا مقولہ ہے کہ انسان کا دل عرشِ اصغر ہے
مرا دل کیا ہے سمجھو نا شبیر ؔ یہ عرشِ اصغر ہے
تجلی گاہِ حق میں اس سے کچھ احکام لیتا ہوں10
ہاں مطلب یہ ہے کہ اس مقام پہ جا کر اللہ پاک میرا جو شرح صدر فرماتے ہیں، جو الہام فرماتے ہیں، وہ مجھے نصیب ہو جاتے ہیں۔ اللہ جل شانہٗ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔
وما علینا الا البلاغ