اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
اے ایمان والو! صبر اختیار کرو، مقابلے کے وقت ثابت قدمی دکھاؤ، اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے جمے رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔ ﴿200﴾
یہاں پر تین باتیں کی گئی ہیں اور تینوں آپس میں متعلقہ ہیں۔ سب سے پہلے صبر کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ صبر، یہ بہت زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ مثلاً شریعت کا کوئی حکم ہے، اور اس پہ نفس تیار نہیں ہے کام کرنے کو، اس وقت اس کام کو کرنا یہ صبر ہے۔ دوسری طرف نفس کوئی خواہش کرتا ہے کہ یہ کام کروں، لیکن شریعت اس کو روکتی ہے تو اس وقت اس کا روکنا صبر ہے۔ اس وجہ سے یہ مختلف مواقع پہ مختلف طریقوں سے اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
تو اس میں ایک قسم جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، اور دوسری قسم گناہوں سے بچنے کے لیے اپنی خواہشات کو دبانا ہے، اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے۔ تو عموماً لوگ اس تیسری قسم کو ہی صبر سمجھتے ہیں، یعنی تکلیف کو برداشت کرنا، لیکن یہ ان میں ایک قسم ہے، سارا کچھ یہاں نہیں ہے۔
تو یہاں پر ان تینوں قسموں کا بیان ہے، ان کا ایک گویا کہ حکم ہے۔ تو یہ مثلاً؛ یہ جو یہاں فرمایا گیا "صبر کرو"تو صبر میں تو صبر کا مفہوم آگیا۔ پھر اس کا مزید extension، مقابلے کے وقت ثابت قدمی دکھاؤ۔ اس وقت مقابلے میں نفس پہ چونکہ بوجھ آتا ہے، تکلیف ہوتی ہے اس کو، اور زخم لگ سکتا ہے، جان جا سکتی ہے۔ تو ایسی صورت میں ثابت قدمی دکھانا یہ صبر کا وہ اعلیٰ مفہوم ہے۔
اور پھر اس کے بعد ان حالات میں جمے رہنا۔ دیکھیں، میں آپ سے ایک بات عرض کرتا ہوں۔ یہ چوکیدار جو ہوتا ہے، بظاہر اس کو کچھ بھی نہیں کرنا ہوتا، بظاہر ہے مطلب ہے کہ نا اگر دیکھا جائے تو ویسے کھڑے رہتے ہیں، کچھ بھی نہیں کرتے۔ لیکن ان کا کام اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی مسئلہ ہو۔ لیکن وہ کب شروع ہوتا ہے یہ معلوم نہیں، کس وقت شروع ہوتا ہے؟ مثلاً کس وقت کوئی چوری کرتا ہے؟ کس وقت کوئی ڈاکہ ڈالتا ہے؟ کس وقت کوئی کسی چیز کو نقصان پہنچاتا ہے؟ اب اس وقت چونکہ اس کا پتہ نہیں ہے، اور وہ دوسری طرف کے جو لوگ ہوتے ہیں جو اس قسم کا کام کرنا چاہتے ہیں وہ چوکیدار کی غفلت کو دیکھتے ہیں، کہ کس وقت یہ غافل ہو تو ہم اپنا کام کریں۔ تو وہ alert رہتے ہیں اپنے طور پر۔
تو چوکیدار کو ہمہ وقت alert رہنا پڑتا ہے کہ کہیں کسی وقت کوئی attempt آجائے، تو اس وقت وہ موجود ہو اور مقابلہ کر سکے، اور اس سے اس چیز کو بچا سکے۔ تو یہ جو alert ہونا ہے، یہ یہاں پر اس کا مفہوم ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کے لیے جمے رہو۔ اس میں کوئی غفلت نہ ہو، کسی قسم کی غفلت نہ ہو، تاکہ عین وقت پر جس مقصد کے لیے وہ کھڑے ہیں اس مقصد کو پورا کر سکیں۔
اور یہ تمام کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، یعنی اللہ پاک سے ڈر کی وجہ سے ہو، تقویٰ کی وجہ سے ہو۔ تو اسی وجہ سے فرمایا:
"اور اللہ سے ڈرتے رہو"
تو اسی پر فلاح ہے، اور
"تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو"۔
تویہ ہمارا جو اجتماعی نظام ہے، وہ سارے کا سارا اس چیز پر مبنی ہے۔ اس میں صرف یہ بات نہیں ہوتی کہ جو مثال کے طور پر کوئی لڑائی ہو تو اس میں یہ چیز پیش آئے گی بلکہ اجتماعی نظام میں جو بھی دخل دینے والے elements ہو سکتے ہیں، مثلاً ہمارے economy نظام کو کوئی تباہ کرنا چاہتا ہے، اس وقت جو ہمارے economy نظام کے لوگ ہیں، حفاظت کرنے والے ہیں، ان کا alert رہنا، وہ اس وقت اس میں آجائے گا۔
اور اس طریقے سے کوئی ہمارے Social نظام کو disturb کرنا چاہتے ہیں تو اس کے بارے میں alert رہنا، کہ کوئی ہمارے Social نظام کو disturb نہ کر سکے۔ یعنی ہر ہر جس کو کہتے ہیں یعنی External attempt جو ہمارے نقصان کے لیے ہو سکتا ہے، اس کے مقابلے میں alert رہنا ضروری ہے۔ اور اس میں اگر کوئی تکلیف وغیرہ آتی ہے تو اس پر صبر کرنا، اور مقابلے کی صورت جب آجاتی ہے تو اس پہ ثابت قدمی، اس پہ ثابت قدمی اختیار کرنا۔
تو یہ تینوں قسم کی چیزیں اس میں آ گئیں: اِصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا تین اس میں آ گئے تھے، اور یہ سب کچھ اللہ پاک سے ڈرنے کی وجہ سے ہو، یہ کوئی دنیاوی ذاتی مفاد یا کوئی اس قسم کی چیز نہ ہو۔ بلکہ اللہ پاک سے ڈرنے کے لیے ہو، ڈرنے کی وجہ سے ہو۔ تو پھر اس پر فلاح کا وعدہ ہے کہ اللہ جل شانہ اللہ اس پر فلاح نصیب فرمائے۔
اور اس کے ساتھ ہی سورۃ آل عمران کا ترجمہ ختم ہو گیا۔ اور ان شاء اللہ، آگے سورۃ نساء شروع کی جائے گی۔ اللہ جل شانہ ہمیں قرآن پاک کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ