الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
{فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ}
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات! اس دورِ فتن میں آج کل جو مسائل ہیں، ان میں ایک بہت بڑا مسئلہ دین کی غلط تشریح کا، اپنے نفس کی خواہشوں کا اور اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کی جو مشکل ہے وہ آج کل سامنے ہے۔
Social media پر بھی Information کی یلغار ہے۔ اور جو بات بھی کسی کو ملتی ہے، چاہے وہ اس کو سمجھے یا نہ سمجھے، بس اگر اس کو اچھی لگے تو آگے کر دیتے ہیں۔ اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اس میں بہت بڑی غلطی ہوتی ہے۔ کبھی تحقیقی لحاظ سے غلطی ہوتی ہے، کبھی مقصدی لحاظ سے مسائل ہوتے ہیں، کبھی سازش ہوتی ہے اس میں، کبھی کیا کبھی کیا۔ تو ان چیزوں کو لوگ جانتے نہیں ہیں، لہٰذا جو بھی اس کو ملے تو وہ آگے کر لیتے ہیں۔ کم از کم ہمارا یہ تو ہونا چاہیے، اتنا کام کہ ہم دیکھ لیں کہ کون سی چیز صحیح ہے اور کون سی چیز غلط ہے۔ اتنی تحقیق تو ہم سب کو کرنی چاہیے۔ یہ نہیں کہ انسان کے پاس خود اتنا علم ہوتا ہے کہ وہ ان ساری چیزوں کی تحقیق کر سکے۔ تو جو حضرات کر سکتے ہیں، ان کے ساتھ رابطہ تو ہو سکتا ہے۔ یعنی ان سے پوچھ پوچھ کے کر لیں کہ یہ چیز ہے، میں اس کو آگے کروں، نہ کروں؟ مطلب اس طرح معلومات۔
یہ ساری باتیں میں کیوں کر رہا ہوں؟ ابھی social media پر بھی ہے اور باقی boards بھی یا آویزاں ہیں، یہ عورت مارچ کے بارے میں چیز آ رہی ہے۔ خواتین، یہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں ان کا ایک بہت بڑا حصہ ہے، یعنی 50 فیصد سے تو کم از کم یہ زیادہ ہیں۔ پھر گھر کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ ان کے اوپر ہوتی ہیں۔ بچوں کی تربیت ان کے ذمے ہوتی ہے۔ ان کے اخلاق کا بچوں پہ اثر ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے خواتین کی جو تربیت ہے وہ بہت ضروری ہے۔
لیکن یہ جو social media ہے یا اس قسم کا جو literature ہے، وہ حقوقِ نسواں کے پردے میں یا اس میں، یعنی بعض اس کے جس کو کہتے ہیں لبادے میں، وہ ایسی ایسی چیزیں عورتوں کے سامنے لاتے ہیں جو ان کے لیے بڑی زہریلی ہیں، بہت نقصان دہ ہیں۔ لیکن وہ کچھ باتیں ان کی ایسی ہوتی ہیں خواہشات کے مطابق، انسان کا نفس تو ہے۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان کوئی غلط چیز چاہتا ہے لیکن اس کو دبایا ہوا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر کوئی شخص ایسا آجائے جو ملحد ہو، اور اس کو ملحد یہ ہوتا ہے نا کہ وہ انسان، وہ مطلب اس طرح سامنے نہیں آتا بلکہ وہ چھپ کے وار کرتا ہے۔ تو باتوں باتوں میں اس کی اچھائی بیان کر لے اور اس کے کچھ عقلی دلائل بیان کر لے، تو نفس پہلے سے موجود تو ہے، وہ چاہتا تو ہے، لہٰذا وہ اس کو pick کر لیتا ہے بہت جلدی۔ اور اس کے پاس ایک بات آجاتی ہے، یعنی جس کو کہتے ہیں ثبوت آجاتا ہے کہ دیکھو فلاں نے یہ کہا ہے۔ اپنے آپ کو گویا کہ معذور بھی سمجھنے لگتا ہے۔
تو یہ باتیں چونکہ ہیں، معاشرے کے اندر ہو رہی ہیں، اور عورت کی بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو خاص ہیں، یعنی خاص سے مراد یہ ہے کہ مردوں کے لیے وہ نہیں ہیں۔ تو، اور دوسری بات یہ ہے کہ عورت کے ہاں جو مطلب معلمات ہیں، وہ تھوڑی بھی ہیں اور ان کا اتنا زیادہ access بھی نہیں ہوتا سب تک۔ کیونکہ ظاہر ہے وہ مخفی چیز ہے، تو ایسی صورت میں وہ اپنے معلمات سے بھی اتنا زیادہ ان کا رابطہ نہیں ہوتا۔ اور اگر رابطہ ہوتا ہے تو مرد علماء سے ہوتا ہے۔ اب مرد علماء جو حقیقت بیان کرتے ہیں تو شیطان ان کے ذہن میں بٹھاتا ہے: "یہ تو مرد ہیں، یہ تو اپنی بات کریں گے"۔ اب یہ وسوسہ اگر کسی کے ذہن میں بیٹھ گیا، تو پھر وہ کیسے پوچھیں گی؟ اور اگر پوچھیں گی بھی تو جواب پہ مطمئن نہیں ہوں گی۔ یہ کچھ مسائل ہیں جس کی وجہ سے یہ چیزیں چل رہی ہیں۔
اب میں اپنی طرف سے اگر بات کر لوں تو مجھ پر بھی یہ شک کیا جائے گا۔ تو میں نے دیکھیں قرآن پاک کی ایک آیت پڑھی ہے، اب ظاہر ہے قرآن پاک تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ تو اس میں اللہ پاک ان کی جو تعریف کر رہے ہیں {إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي...} نہیں وہ جو ابھی {فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ}۔ یہ موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَام کا جو واقعہ ہے، اس میں موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَام نے جن کو، یعنی جن کے جانوروں کو پانی پلایا تھا تو وہ گئی ہیں اپنے گھر، وہاں اپنے باپ سے بات کی ہے۔ بوڑھے تھے، انہوں نے کہا کہ ان کو بلا لو۔ اب وہ آئی ہیں۔ اب کیسے آئی ہیں؟ یہ اللہ جَلَّ شَأْنُهُ اس کو بیان فرما رہے ہیں کہ شرماتی ہوئی ان کے پاس آئی ہیں۔
یہ گویا کہ جو عورت کا جو شرم کرنا ہے باہر آنے سے، یہ اصل میں ان کی فطری چیز ہے اور اللہ پاک کو یہ پسند ہے۔ اچھا موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَام نے کیا کیا؟ پیغمبر تھے۔ بعد میں پیغمبر ہوئے۔ موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَام نے ان سے یہ فرمایا کہ اچھا، مجھے... میں آپ سے آگے چلوں گا، آپ میرے پیچھے چلیں اور آپ مجھے راستہ سمجھاتی رہیں۔ اب اگر دیکھو نا، اگر خود مطلب جس کو کہتے ہیں نا اگر وہ آگے جاتیں اور یہ مطلب موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَام پیچھے پیچھے جاتے، تو اس میں نظر کی حفاظت مشکل ہو جاتی ہے۔ تو انہوں نے ان کو پیچھے کر دیا۔ یہ نہیں کہ وہ جس کو کہتے ہیں نا وہ یعنی پیچھے کرنا ان کا اس لیے تھا کہ اس کا مقام یہ نہیں تھا۔ نہیں، اپنی حفاظت کے لیے! اپنی حفاظت کے لیے کیا، تو ان کو پیچھے پیچھے لگا دیا۔
اب یہ تمام چیزیں ان کے سامنے آ گئیں، اور ان کے سامنے بھی آ گئیں تو اللہ جَلَّ شَأْنُهُ نے پھر ان کو ایک گھر میں ایک کر دیا، الحمد للہ۔ اللہ پاک نے نظام بنا لیا۔ تو یہ بات میں آپ سے ایک عرض کروں کہ یہ ایک بہت بڑی بات ہے کہ اس وقت مرد عورتوں کی تلاش میں ہوتے ہیں شادی کے وقت، اور عورتیں مردوں کی تلاش میں ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے مطلب ایک فطری چیز ہے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ اگر مرد حیا دار ہے تو وہ حیا دار گھرانے کو پسند آئے گا۔ اور اگر بے حیا ہے تو بے حیاؤں کو پسند آئے گا۔ اور اگر عورت حیا دار ہے تو حیا داروں کو پسند آئے گی اور اگر بے حیا ہے تو پھر بے حیاؤں کو پسند آئے گی۔ یعنی یہ ایک بالکل فطری بات ہے۔ تو اب اگر دیکھا جائے تو انسان پھر کس، کس طرف جائے؟ ظاہر ہے حیا دار لوگوں کے پیچھے یا ان کے ساتھ چلا جائے یا بے حیا لوگوں کے پاس چلا جائے؟
تو اچھی بات تو یہی ہے کہ اللہ پاک کو جو پسند ہے وہاں جانا چاہیے۔ اب دیکھیں، یہ بات میں کچھ غیر مسلموں سے نہیں کر رہا ہوں کہ اس پر اعتراض ہو کہ مطلب یہ ہے کہ ایسا ہے اور ایسا ہے۔ نہیں، یہ مسلمانوں سے کر رہا ہوں جن کا پہلے سے ایمان ہے کہ اللہ پاک کی بات سب سے اچھی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بات ہی پکی ہے، پوری ہے۔ باقی ہم انسانوں کی کمزوریاں ہیں اور غلط فہمیاں ہیں اور بے علمیاں ہیں، کم فہمیاں ہیں، یہ ساری چیزیں، اس کی وجہ سے ہم جو دیکھ رہے ہیں، پورا نہیں دیکھ سکتے۔ جبکہ اللہ پاک کے سامنے ہمارا ماضی، حال، مستقبل سارا ہے۔ لہٰذا اللہ پاک جو ہمیں بتا رہے ہیں وہ بالکل صحیح بات ہے۔
اس وقت لوگوں نے انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے اس کا، یعنی بعض عورتوں نے۔ ان کو انا کا مسئلہ بنایا، وہ سمجھتی ہیں کہ مرد ہمارے اوپر کیوں حکمرانی کریں؟ یعنی مسئلہ یہ ہے۔ ان کو گویا کہ اس قسم کا present کیا گیا ہے کہ مرد ہمارے اوپر کیوں حکمرانی کریں؟ ہم برابر کے ہیں، لوگ ہیں، برابر کے لوگ ہیں۔ برابری کا مطلب کیا ہے؟ برابری کا مطلب ہے حقوق۔ ان کے بھی اہم ہیں، ان کے بھی اہم ہیں، یہ معاملہ برابر ہے۔ لیکن مثال کے طور پر دیکھیں نا، ایک factory میں کوئی چلا جاتا ہے کوئی کام کرنے والے لوگ۔ اب سب برابر ہیں انسان کے لحاظ سے، لیکن کیا سارے لوگ ایک کام کریں گے factory میں؟ ایک کام کوئی کر سکتا ہے سارے لوگ ایک factory میں؟ ظاہر ہے factory میں سب لوگ اپنا اپنا کام کریں گے۔ کوئی کیا کرے گا، کوئی کیا کرے گا، کوئی کیا کرے گا، کام مختلف کریں گے، لیکن ہوں گے سب برابر انسانیت کے لحاظ سے۔
تو یہ مرد اور عورتیں انسانیت کے لحاظ سے برابر ہیں، لیکن کام مختلف ہے۔ اگر کام ایک ہو تو پھر تو گاڑی چل ہی نہیں سکتی۔ مرد و عورت زندگی کی گاڑی کے پہیے ہیں تو چل نہیں سکتی یہ گاڑی ایک اگر بیکار ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مرد کام نہ کرے اپنا جس کے لیے اللہ نے اس کو بنایا ہے، پھر گاڑی نہیں چلے گی۔ اور عورت اگر وہ کام نہ کرے جس کے لیے اللہ نے اس کو بنایا ہے، پھر کام نہیں چلے گا۔ یہ نہیں کہ عورت مرد کا کام کرے، مرد عورت کا کام کرے۔ نہیں، یہ والی بات نہیں، اپنا اپنا کام۔دیکھیں کپڑے ہیں نا کپڑے، ان کا بنیادی وصف جو ہے نا کپڑوں کا، وہ کپڑوں کا بنیادی وصف کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ انسان کا ستر چھپائے، گرمی سردی سے بچائے، اور زینت کا ذریعہ ہو۔ یہ کپڑوں کا ہے۔ لیکن اللہ جَلَّ شَأْنُهُ نے ہمارے... مطلب جو ہمیں ہماری طرف جو شریعت بھیجی ہے، اس میں یہ حکم ہے کہ مردوں کا لباس عورتیں نہ پہنیں، اور عورتوں کا لباس مرد نہ پہنیں۔
اب اگر عورتوں کا لباس مرد نے پہن لیا، تو کیا یہ تینوں وصف قائم نہیں ہوں گے؟ ہوں گے۔ لیکن نہیں، اگر وہ مرد کا لباس نہیں ہے تو پھر وہ کیا ہے؟ وہ ٹھیک نہیں کر رہا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ اچھا کام نہیں ہے۔ اور اگر عورت مرد کا لباس پہنے بالکل ایسے ہی ٹھیک نہیں ہے۔ دونوں طرح ٹھیک نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ جَلَّ شَأْنُهُ نے شناخت رکھی ہے مرد کی اپنی، اور عورت کی اپنی۔ تو اپنی اپنی شناخت کو پہچاننا یہ بہت ضروری ہے۔ اور اس میں ہمیں کوئی مطلب وہ اس طرح یعنی جس کو کہتے ہیں نا جذباتی پہلو کو نہیں لینا چاہیے۔ بلکہ تحقیقی پہلو کو لینا چاہیے، انتظامی پہلو کو لینا چاہیے۔ پھر بات سمجھ میں آجاتی ہے۔ تو اسی طریقے سے مرد اور عورت کے جو کام مختلف ہیں، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کہ مرد کیا کام کر سکتے ہیں، عورتیں کیا کام کر سکتی ہیں۔ یعنی اس کو خود عقلی طور پر بھی انسان اس کا جائزہ لے سکتا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ عقلی طور پر بہت ساری چیزیں معلوم ہونے کے باوجود انسان کی نفسانی خواہشات اس کو خلافِ عقل باتوں پہ مجبور کرتی ہیں۔ یہ بات ایک اپنی جگہ پر واضح بات ہے۔ جیسے Europe میں ہو رہا ہے۔ کہ کیا وہ ان چیزوں کو جانتے نہیں ہیں؟ بالکل جانتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی خواہشات سے مجبور ہو کر ایسا کرنے پہ انہوں نے عورتوں کو لگایا ہوا ہے۔ کہ اس کے ذریعے سے وہ اپنی خواہشات کو پورا کر رہے ہیں۔ اور عورتیں ان کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں۔
مجھے خود یاد ہے جب میں Germany میں تھا، تو وہاں پر ہمارے گھر والے بھی ساتھ تھے۔ تو ضرورت پڑی مطلب یعنی دانتوں کا علاج کرنے کی۔ اب ظاہر ہے دانتوں کا doctor جو ہوتا ہے وہ تو بالکل ہی قریب ہوتا ہے نا انسان کے، تو ہم lady doctor کی تلاش کر رہے تھے کہ کوئی lady doctor مل جائے۔ اب lady doctor کوئی dentist مل نہیں رہی تھی۔ اور میں نے اپنے office کی جو PA تھی، ان سے بات کی تھی، تو وہ ڈھونڈ رہی تھی۔ ان کو مل نہیں رہی تھی۔ تو میں نے ذرا تھوڑی سی ناراضگی کے انداز میں کہا کہ یہ کیا بات ہے؟ ہمارے ملک کے اندر آپ لوگ کہتے ہیں کہ ایسا ہے اور ایسا ہے، ہمارے ملک کے اندر lady doctor available ہے اور آپ لوگوں کے ہاں lady doctor available نہیں ہے، یہ کیا بات ہے؟ یعنی میں نے ذرا اس انداز میں بات کی نا کہ آپ لوگ تو بڑے developed قسم کے لوگ ہیں نا، تو پھر یہ کیوں نہیں ہے؟
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کہتی ہے دنیا جو سوچ رہی ہے وہ ایسا نہیں ہے۔ دنیا جو سوچ رہی ہے اس طرح نہیں ہے، ہم لوگ اس طرح یہاں پر نہیں ہیں جس طرح لوگ سوچ رہے ہیں کہ ہم بڑے مزے کر رہے ہوں گے۔ یہ اس PA کی بات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مردوں نے ایک تماشہ بنایا ہوتا ہے۔ فطری چیزیں ہوتی ہیں نا، مطلب دیکھیں نا، یعنی ہر شخص کا اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک معیار رکھا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر جو عورتوں کا کام ہے، اس کی اللہ پاک نے وہ صلاحیتیں عورتوں کو ہی دی ہیں۔ وہ بہترین طریقے سے وہی کر سکتی ہیں۔ اور جو مردوں کے کام ہیں، وہ اس کی صلاحیت بہترین طور پر مردوں کو دی ہے۔ یعنی عورتیں بھی وہ کام کر سکتی ہیں، لیکن اس طرح نہیں جس طرح کہ مرد کریں گے۔ اور عورتوں کے کام مرد بھی کر سکتے ہیں، لیکن اس طرح نہیں کہ جس طرح... مثلاً بچوں کو چپ کرنا، مرد چپ کرا سکتے ہیں، عورتیں چپ کرا سکتی ہیں۔ بچوں کے ساتھ پیار کرنا، بچوں سے کام لینا، بچوں کی تربیت کرنا، بچوں کو پڑھانا۔ یہ سارے کام جو ہیں نا، یہ عورت ما شاء اللہ بہترین طریقے سے کرتی ہے۔ ان کے پاس حوصلہ بھی ہوتا ہے اس کا، ان میں برداشت بھی ہوتی ہے۔ ان میں محبت بھی اس level کی ہوتی ہے۔
وہ جو ہے نا مجھے یاد ہے کہ مجھے پہلی نماز جو پڑھا رہے... پڑھانے والے تھے، نا مطلب جس ہم اس کو پشتو میں کہتے ہیں لمونځ پہ کھڑا کرنا۔ یعنی ابتدا کروانا۔ تو میرے والد صاحب مجھے کروا رہے تھے تو والد صاحب میں جب غلطی کرتا تھا تو اس پہ غصے سے: "یہ کیوں کیا؟ یہ کیوں کیا؟" تو ہماری چچی تھی وہ والد صاحب سے بھی عمر میں زیادہ تھی۔ وہ آگئی، "یہ کیا کر رہے ہو؟ اس طرح کوئی پڑھاتے ہیں؟ پیچھے ہو جاؤ۔" ان کو پیچھے کیا اور میرے ساتھ بیٹھ گئی اور اس نے بڑے پیار سے مجھے ساری چیزیں سمجھا دیں کہ اس طرح ہوتا ہے، اس طرح کرتے ہیں، اس طرح کرتے ہیں، چیز مطلب بار بار سمجھائی۔ اب دیکھو واضح فرق! واضح فرق ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو صلاحیتیں ہوتی ہیں اللہ پاک نے تقسیم کی ہوئی ہیں۔ تو جو چیزیں اللہ پاک نے مردوں کو اچھی دی ہوئی ہیں، وہ ان کاموں کے لیے دی ہوئی ہیں جن کے لیے مرد ہیں۔ اور جو عورتوں کے کام ہیں، وہ ان کو اس لیے دیے گئے ہیں کہ وہ عورتوں کے کام ہیں۔ اب اگر ہم اپنے اپنے کام پر... مثال کے طور پر اللہ پاک نے کسی کو engineering کے لیے پیدا کیا ہے، آپ اس کو زبردستی doctor بنانا چاہیں، تو کیسا doctor بنے گا؟ ایک بس چلتا ہوا ہوگا، مطلب کوئی خاص ذات نہیں ہوگا۔ جبکہ وہ engineering میں آجائے تو بہت آگے چلا جائے گا۔ دوسرا آدمی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹری کے لیے پیدا کیا ہے، اس کو آپ engineer بنانا چاہیں تو نہیں بن سکتا۔ وہ ایک بس ویسے ہی عام قسم کا مطلب ہوگا، لیکن یہ بات ہے کہ جب وہ ڈاکٹری میں آئے گا تو بہت اچھا ہوگا۔ یہ مزاجوں کی باتیں ہم مانتے ہیں۔
تو اسی طریقے سے مرد اور عورتیں، ان کے مزاجوں میں تو بہت زیادہ فرق ہے، یعنی drastic فرق ہے۔ تو ہم کیسے مان لیں کہ جو عورتیں مطلب کام کر سکتی ہیں، وہ مرد کر لیں، اور جو مرد کام کر سکتے ہیں وہ عورتیں کریں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ بالکل قدرتی نظام کے خلاف بات ہے۔ اس کو ہم... اب یہ بات لمبی ہو رہی ہے، لیکن میں صرف عرض کرتا ہوں کہ مردوں کے ذمے ہیں باہر کے کام۔ باہر کے کام۔ کیوں؟ باہر کا جو ماحول ہے ایسا نہیں ہے کہ آپ اپنی حفاظت کر سکیں۔
دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ یہ ہوا یہ کہ میں ایک دن lunch کے لیے جا رہا تھا اپنے دفتر میں۔ اور میں نے قراقلی ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ اور وہ قراقلی ٹوپی جو تھی، اس کا رنگ ایسا تھا جیسے قیمہ ہوتا ہے۔ میں جا رہا تھا، دھوپ تھی۔ تو میں نے دھوپ میں دیکھا کہ ایک پرندہ، چیل جیسا، وہ مجھ، میرے اوپر جھپٹ رہا ہے۔ مطلب یعنی وہ جیسے سایہ میں نے دیکھ لیا۔ تو مجھے فوراً یاد آیا کہ قراقلی پہ تو نہیں آ رہا؟ تو میں نے فوراً قراقلی کو اپنے ہاتھ میں لیا اور وہ جو ہے نا اس طرح dive کر کے اس طرح نکل گیا۔ بالکل وہی چیز تھی۔ اب ذرا دیکھیں میں نے کہا کمال کی بات ہے، چونکہ اس کو قیمہ نظر آیا نا کہ یہ قیمہ ہے، تو اس نے اس پر حملہ کر دیا حالانکہ قیمہ نہیں تھا۔ یہ اس کی فطرت ہے۔
تو ایسی صورت میں میرا ذہن اس طرف چلا گیا کہ جو عورتیں بے پردہ streets میں جا رہی ہوتی ہیں۔ تو ارد گرد سارے لوگ شریف تو نہیں پھر رہے نا؟ ہر قسم کے لوگ ہیں۔ ان کی اپنی اپنی خواہشات ہیں۔ اگر کسی کا بس چلے، تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اب مردوں میں تو پھر کچھ نہ کچھ resistance کا مادہ ہوتا ہے، عورتیں کیا کریں؟ اس وقت بڑے مسائل ہوتے ہیں۔ گاڑی چلا رہی ہے، ٹھیک ہے جی گاڑی چلا لو۔ puncture ہو جائے اور ایسی جگہ ہو جائے جہاں پر مطلب یہ ہے کہ ویرانہ ہو یا کوئی اور۔ اب پھر پریشان۔ یہ ساری باتوں کو ہمیں سوچنا ہے۔
تو جو عورتیں باہر پھر رہی ہوتی ہیں، وہ مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔ تو بہت سارے مسائل کا جو شکار ہوتی ہیں، وہ اپنی شرم کی وجہ سے پھر بتاتی بھی نہیں، لیکن experience ان کو ہوتے رہتے ہیں۔ مطلب مسائل تو ہوتے رہتے ہیں۔ مطلب وہاں Europe میں بھی مجھے ان Europe والوں لوگوں نے کہا کہ بہت ساری چیزیں report نہیں ہوتیں۔ لیکن ہوتی رہتی ہیں اور یہاں پر بھی ہوتی رہتی ہیں۔ کوئی کوئی چیز report ہو جاتی ہے، کوئی چیز report نہیں ہوتی۔ تو یہ مسائل ہیں۔
تو ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک خاتون تھی، مجھ سے بیعت تھی۔ اسلامی یونیورسٹی میں evening classes میں ان کو admission مل گیا۔ مجھ سے phone پر پوچھا…
"شاہ صاحب! مجھے evening class میں admission مل گیا ہے تو میں join کروں؟"
میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ نے مجھ سے نہ پوچھا ہوتا نا، تو پھر تو میں کچھ نہ کہتا کیونکہ ظاہر ہے وہ تو آپ ہی تک بات ہوتی۔ اب مجھ سے پوچھا ہے، مجھ سے بھی اللہ پوچھے گا۔ تو پھر میں آپ کو ان حالات میں جو آج کل ہیں، اس میں تو آپ کو afternoon classes میں جانے کا جس میں مغرب کے بعد آنا ہو، یہ میں مشورہ نہیں دے سکتا۔ وہ رو پڑی۔ "شاہ صاحب! یہ تو بڑی مشکل سے مجھے admission ملا..." میں نے کہا میں اس کو نہیں جانتا۔ یہ صرف آپ نے پوچھا ہے، جو میں نے سمجھا ہے آپ کو جواب دیا۔ اس کے علاوہ کیا کرنا ہے، نہیں کرنا وہ تو آپ فیصلہ کریں گی۔ البتہ یہ ہے کہ مجھے یہ محفوظ نظر نہیں آ رہا۔
خیر بات ہو گئی، چند دنوں کے بعد اس نے خواب دیکھا۔ خواب دیکھتی ہے کہ کہتی ہے مجھے کوئی شخص کہہ رہا ہے کہ آپ مغرب کے بعد اپنے گھر سے بالکل نہ نکلیں۔ بھیڑیے، کتے اور اس طرح مختلف جانوروں کے نام لے لیں، وہ باہر پھر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی جانور آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تو جب اس نے مجھے خواب سنایا میں نے کہا میں نے آپ کو کچھ کہا تھا نا؟ کہتی ہے ہاں، میں نے کہا یہ وہی چیز ہے۔ تو اس نے join نہیں کیا، الحمد للہ۔ وہ join نہیں کیا، اور کچھ ہی دنوں کے بعد ان کی شادی ہو گئی۔ چلی گئی اپنے شوہر کے ساتھ ما شاء اللہ۔ اللہ پاک نے بندوبست کر لیا۔
اب بس یہی بات ہوتی ہے، ہم شریعت کی بات کو مان لیں، اللہ پاک بہت مہربان ہے۔ ہم لوگ اصل میں جلدی مچانا چاہتے ہیں۔ تو جلدی مچانے سے جو مسئلے ہوتے ہیں وہ تو پھر ہوتے ہیں نا۔ تو اس وجہ سے ہمیں شریعت پر پکا یقین رکھنا چاہیے کہ جس نے یہ شریعت بنائی ہے نا، وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اور ہر چیز پر اس کو قدرت ہے۔ اس وجہ سے ہم لوگ جو بالکل تھوڑا جانتے ہیں، اب مثال کے طور پر مجھے اس دیوار کے پیچھے نظر نہیں آ رہا کہ کیا ہے۔ اس چھت کے اوپر نظر نہیں آ رہا کہ کیا ہے۔ اس فرش کے نیچے کیا ہے، مجھے نہیں معلوم۔ اور ساتھ ایک second کے بعد کیا ہونے والا ہے، مجھے نہیں پتا۔ اب میں جو کچھ بھی design کر رہا ہوں، وہ اپنی کم علمی کے ساتھ design کر رہا ہوں۔ جس میں بہت ساری چیزیں مجھے نہیں معلوم۔ اور اللہ تعالیٰ جو حکم دے رہے ہیں، وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے۔ تو وہ چیزیں صحیح، وہ بات صحیح ہوگی یا ہماری بات صحیح ہوگی؟
تو اس لحاظ سے ہم لوگوں کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ پاک نے جو نظام بنایا ہے نا، اس میں بہت حکمتیں ہیں۔ اب دیکھیں میں آپ کو بات بتاؤں، ذرا تھوڑی سی میں کھل کے بات کروں اس کی وجہ یہ ہے کہ مجبوری ہے اب یعنی حالات ایسے ہیں۔ مقناطیس، positive, negative poles ہوتے ہیں، ان میں آپس میں attraction ہوتی ہے۔ آپ ان کو قریب لائیں گے نا، تو یہ ان کی فطرت ہے کہ وہ ملیں گے۔ بجلی کی مثبت اور منفی تار میں ظاہر ہے وہ ہوتی ہے اگر وہ ہو جائے تو دھماکہ ہو جاتا ہے، وہ short circuit ہو جاتا ہے۔ یہ نظام اللہ نے بنائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ان سب میں فائدے ہیں۔ مقناطیس میں اگر یہ چیز نہ ہو تو مقناطیس کیسے استعمال ہو؟ یہی تو اس میں فائدے ہیں۔ اس طریقے سے بجلی کی تاروں میں یہ چیز نہ ہو تو بجلی کی تار، بجلی کیسے استعمال ہو؟ ظاہر ہے وہ چیزیں ہیں، آپ نے صرف اس کو organize کرنا ہے۔ arrange کرنا ہے، گویا کہ پانی ہے، پانی تباہی پھیلاتا ہے اگر خود بخود جائے، لیکن اس کے سامنے بند باندھو تو وہی آپ کے لیے irrigation ہے، وہی آپ کے لیے power generation ہے۔ اچھا یہ ایٹمی طاقت جو ہوتی ہے، یہ اگر out of control ہو تو ایٹم بم ہے۔ اگر control میں ہو جائے تو atomic reactor ہے۔
گویا کہ جو بھی چیز ہے، اللہ نے جو پیدا کی ہے، اس کو اگر آپ organize کر لیں تو اس سے آپ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اب دیکھیں اللہ میاں نے مرد کے اندر بھی خواہشات رکھی ہیں، عورت کے اندر بھی خواہشات رکھی ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتا، تو شادی نہ ہوتی، نسل نہ ہوتی... نسل نہ بڑھتی۔ تو حکمت ہے اس میں۔ اللہ پاک نے اس میں حکمت... اب دیکھو اگر کھانے میں لذت نہ ہو، اگر کھانے میں لذت نہ ہو، تو کھانا کون کھائے؟ وہ تو دوائی بن جائے۔ جیسے زبردستی ہم کڑوی دوائی بھی کھاتے ہیں، تو اس طرح ہر ایک زبردستی کھانا کھاتا، تو کتنا کھاتا؟ ایک مسئلہ ہوتا۔ لیکن اللہ پاک نے کھانے میں لذت رکھی ہے۔ اس لذت کی وجہ سے لوگ کھاتے ہیں۔ تو اسی طریقے سے یہ جو آپس میں مخالف جنس میں جو اللہ پاک نے وہ رکھی ہے مطلب یہ ہے کہ انجذاب والی، تو یہ چیز جو ہے نا کیا ہے، یہی کام آتی ہے۔ لیکن اس کو organize کرنا ہے۔ organize کرنا ہوتا ہے، تاکہ اس سے وہ کام لے لیا جائے جو، جس کے لیے یہ ہے۔ اب وہ organize کا مطلب کیا ہے؟ وہ شادی ہے۔ وہ شادی ہے۔ اب شادی ہو جائے تو بس ٹھیک ہے، مقصد پورا ہو گیا، بس اس کے بعد پھر ہر ایک اپنا اپنا کام کرے گا۔ اور اگر نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ شادی کے بغیر اس کو مطلب وہ رکھے، تو ظاہر ہے کیا ہوگا؟ ایک فتنہ ہی ہے، ایک مصیبت ہی ہے، ایک پریشانی ہے۔ جو short circuit سے ہوتا ہے اور دوسری چیزوں سے ہوتا ہے، وہ ایک مسئلہ ہے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اس حکمت کو سمجھنا چاہیے۔
ایک بات میں بہت عرض کرنا چاہوں گا، ضروری ہے۔ Europe, America یا دوسرے ممالک کے جو لوگ ہیں، ان کے ہاں جو قانون سازی ہے وہ انسان کی اپنی ذہنی ساخت سے ہے۔ انسان نے اپنے ذہن سے جو بنایا، وہ بنا لیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے اپنے جذبات، اپنی خواہشات کے مطابق اس کو رکھا ہے۔ تو وہ کیا کہتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں زبردستی جو ہے وہ تو جرم ہے، اور آپس میں مرضی سے جو کچھ بھی ہو وہ جرم نہیں ہے۔ آپس میں جو مرضی سے ہو، جرم نہیں ہے۔ یہ ان کا قانون ہے۔ اور اس پر وہ پکڑتے بھی ہیں، اس پر سزائیں بھی دیتے ہیں، اس پر یہ سب کچھ کرتے ہیں، اور چھوڑ بھی دیتے ہیں۔ یعنی اگر مرضی سے ہو تو پھر چھوڑ بھی دیتے ہیں۔ جبکہ ہم لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ ہمارا قانون ہم نے نہیں بنایا۔ وہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہے۔ اللہ جَلَّ شَأْنُهُ نے زبردستی کو الگ جرم رکھا ہے، اور رضامندی والی بات اگر اللہ تعالیٰ کی شریعت کے خلاف ہو تو وہ الگ جرم ہے۔ اب اگر غیر شادی شدہ ہے تو کوڑے ہیں۔ اگر شادی شدہ ہے تو سنگساری ہے، اور مطلب وہی والی بات ہے۔ اور اگر زبردستی ہے تو جس پہ زبردستی ہے وہ بچ گیا اور جس کی زبردستی ہے اس کو سزا ہو گی۔ یہ نہیں کہ کوئی رضامندی ہو تو پھر اس کے بعد پھر وہ جرم نہ رہے، نہیں نہیں۔ ہمارے ہاں یہ بات نہیں ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیزیں ہماری نہیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے میرا جسم میرا ہے۔ میرا جسم میرا نہیں ہے، میرا جسم بھی اللہ تعالیٰ کا ہے۔ میرا مال بھی اللہ تعالیٰ کا ہے۔ میری جو مطلب یعنی جو بھی ملکیت ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کی ہے، وہ صرف اللہ پاک نے ہمیں آزمائش کے لیے دی ہے۔ اس میں سے ہمیں صرف، ہمیں آزمایا جا رہا ہے۔ کہ ہم اس کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔ باقی ہے تو سب کچھ اللہ تعالیٰ کا۔ لہٰذا اللہ جَلَّ شَأْنُهُ نے اس میں جو احکامات دیے ہیں، ان احکامات کے مطابق اگر ہم چلیں گے تو پھر تو ہماری بات بنے گی، ورنہ بغاوت ہو گی۔ جرم ہو گا۔
تو یہ جو نعرے لگتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، ہمیں اللہ تعالیٰ ایسے نعرے نہ سننے دے، یہ وہ بہت بیباک نعرے ہیں کہ 'ہمارا جسم ہماری مرضی'۔ {إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ} یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مرضی کی، مرضی اللہ کی ہے۔ شریعت اللہ پاک نے بھیجی ہے، اس کے مطابق سب کچھ ہوگا۔ دیکھیں، یہ جو ہمارا ملک ہے، اس کا آئین اسلامی ہے۔ اس آئین میں یہ لکھا ہوا ہے کہ کوئی بھی چیز، کوئی بھی قانون اسلام کے اصولوں کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ باقاعدہ لکھا ہوا ہے۔ لہٰذا ہم یہاں پر پابند ہیں کہ کوئی ایسا نعرہ نہ مطلب کسی کو لگانے دیں، جو اس اسلامی قانون کے خلاف ہو۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کہ وہ اس چیز کو نافذ کر لے کہ کوئی بھی نعرہ ایسا جو غیر اسلامی ہو، وہ لوگ نہ لگا سکیں۔لیکن اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ تو لوگوں کو اس کے خلاف کام کرنا چاہیے۔ کہ ایسے نعرے نہ لگے۔ یہ ہماری جس کو کہتے ہیں شناخت کے خلاف ہے۔ ہمارا ملک اور اسرائیل، یہ دو ملک نظریے پہ بنے ہیں۔ اس کے علاوہ جتنے ممالک بنے ہیں وہ علاقائی بنیادوں پہ اور زبان پہ اور نسل پہ اور ان چیزوں پہ بنے ہیں۔ یہ دو ملک جو ہیں نا نظریے، نظریے، نظریے پہ بنے ہیں، پاکستان اور اسرائیل۔ اسرائیل یہودی نظریے پہ بنا ہوا ہے، پاکستان اسلامی نظریے پہ ہے۔ باقاعدہ اس کے بنانے میں جو محنت تھی، اس میں نعرہ کیا ہوتا تھا؟ پاکستان کا مطلب کیا، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ۔ پاکستان کا مطلب کیا، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ۔ اس پر ہم لوگوں نے ملک حاصل کیا ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی ایسا کام جو اس نعرے کے خلاف ہو، وہ نہیں ہونا چاہیے۔
اب دیکھیں ہماری اس وزارت مذہبی امور کے وزیر نے کہہ دیا کہ بجائے اس کے کہ ہم عورت مارچ، وہ کر لیں، ہمیں حجاب مارچ... بالکل صحیح بات کی ہے۔ حجاب ہمارے اسلام میں حکم ہے۔ لہٰذا اس کا مارچ ہم نکالیں اور اس پر ظاہر ہے وہ بالکل ٹھیک ہے، صحیح ہے، اسلام کے مطابق ہے۔ تو ہماری وزیر صاحبہ یہ کہہ رہی ہیں جس کی مرضی حجاب مارچ نکالے، جس کی مرضی عورت مارچ نکالے۔ ارے معاملہ تو خراب ہو گیا پھر۔ اجازت ہی نہیں دینی چاہیے عورت مارچ کی۔ چونکہ ہمارے ملک کے آئین کے خلاف ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کوئی شیطانی کر لے تو وہ بھی ٹھیک ہے اور کوئی اللہ کی طرف جائے تو وہ بھی ٹھیک ہے۔ یہ باتیں دونوں تو ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔ اللہ کی بات ٹھیک ہے اور شیطان کی بات غلط ہے۔ اس کو ہمیں سمجھنا چاہیے۔
باقی یہ ہے کہ دوسروں سے تو ہمیں کوئی، مطلب وہ نہیں ہے کیونکہ ظاہر ہے پتا نہیں وہ کب ہماری بات سنتے ہیں اور کب نہیں سنتے، وہ تو ان کی بات ہے۔ لیکن جو اپنے ہیں، کم از کم وہ سوچ لیں اس کو۔ اور جتنی حکمت کے ساتھ ہو سکتی ہے، باقی عورتوں کو سمجھائیں۔ کہ آپ اپنے پاؤں پہ خود کلہاڑی مار رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کی حفاظت کے لیے جو بندوبست فرمایا ہے، اس کے خلاف بول کر تم اپنا نقصان خود کر رہی ہو۔
ابھی ابھی ایک عورت کے قتل پر سزا ہوئی ہے۔ سزائے موت ہوئی ہے۔ اب میں یہ نہیں کہتا ہوں جو فوت ہو گیا، وہ فوت ہو گیا، اس کی باتوں کو دوبارہ نہیں سامنے لانا چاہیے۔ لیکن صرف اس بات کو سمجھانے کے لیے میں عرض کرتا ہوں، یہ بھی ان عورتوں میں تھی جو عورت مارچ والی تھیں، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ یہی نعرے اس نے لگائے تھے جو جس طرح، جو "ہمارا جسم ہماری مرضی"، یہ نعرے اس نے لگائے ہوتے تھے، تو اب دیکھو نا نتیجہ کیا ہوا؟ کدھر گئی؟ ٹھیک ہے اس کے ساتھ ظلم ہوا، یہ نہیں کہ مطلب عورت نے، سزا جو اس کو ہوئی بالکل صحیح ہوئی ہے۔ لیکن اس نے خود اپنے لیے ہونے دیا یہ۔ دو دن گھر سے غائب رہی، گھر والوں کو کچھ بتایا، ہوتا کچھ تھا۔ تو پھر مطلب میں نے اس لیے یہی تو کہتا ہوں کہ وہی بھیڑیے اور گدھ اور وہ یہ جو کتے اور یہ چیزیں تو معاشرے میں ہیں نا۔ تو آپ گھر سے باہر ہیں اور مطلب آپ کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہے اور پھر آپ ان سے گلہ کریں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
تو یہ سب کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے کہ یہ چیزیں ہوتی ہیں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ لوگ اخبار پڑھتے ہیں، اخبار میں بہت ساری چیزیں آتی ہیں اور یہ جو میں باتیں عرض کر رہا ہوں بالکل اس قسم کی ساری باتیں ہو رہی ہیں۔ لیکن پھر وہی ہماری نفسانی خواہشات درمیان میں آ جاتی ہیں اور ہم وہ چیزیں بھول جاتے ہیں۔ اور اکثر لوگ کہتے ہیں ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔ ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔ یہ کیسے نہیں ہو گا؟ کیا پتا؟ ہمارے سرخاب کے پر تو نہیں لگے ہوئے؟ مطلب ظاہر ہے کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ میں نہیں کہتا ہوں کہ اب دیکھو نا ایک بچہ ہے یہاں سے جا رہا ہے بازار، عین ممکن ہے کہ بالکل صحیح سلامت پہنچ جائے، واپس بھی آ جائے۔ لیکن کیا ماں باپ اس کو اس طرح کھلا چھوڑ دیں گے چار پانچ سال کے بچے کو؟ کہ چلو ٹھیک ہے تم بازار جاؤ پھر واپس آ جاؤ، چھوڑ دیں گے؟ نہیں چھوڑ سکتے۔ ان کو خیال ہے کہ بھئی موٹرسائیکل چلا رہے ہیں آج کل، یہ بچے چلا رہے ہوتے ہیں۔ بچے کیا کرتے ہیں ان کو تو اس کی پروا ہی نہیں ہوتی۔ وہ تو صرف موٹرسائیکل کی race میں، جو آواز آتی ہے، اس کے اوپر مست ہوتے ہیں۔ اب اس کے بعد جو اس کا نتیجہ کچھ بھی ہوتا ہے، اس سے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح کر لو کہ اس کو بند کر لو۔
یہاں پر لگایا ہوا بھی ہے ہم نے کہ اس کو silent mode میں کر لو۔ silent mode میں جو ہم نے باقاعدہ لگایا ہوا ہے سامنے۔ (موبائل بند کرنے کا وقفہ)
تو بہرحال میں یہ عرض کرتا ہوں کہ یہ، یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں کہ جس طرح ہم بچے کو نہیں چھوڑ سکتے، تو ہمارا جو نفس ہے نا نفس، یہ بچے سے بھی زیادہ نادان ہے۔ بچہ پھر بھی کچھ نہ کچھ سمجھدار ہوتا ہے۔ کسی نہ کسی درجے میں وہ سمجھتا ہے۔ کیونکہ وہ learning کرتا ہے ساتھ ساتھ۔ لیکن جو نفس ہے نا، یہ اس کی خواہشات ہر وقت اس کے سامنے ہوتی ہیں، وہ کسی اور چیز کو نہیں دیکھتا۔ وہ نہ آپ کے قانون کو دیکھتا ہے، نہ آپ کے جذبات کو دیکھتا ہے، نہ آپ کے احساسات کو دیکھتا ہے، وہ صرف اپنی خواہش کو دیکھتا ہے، بس وہ تمام چیزیں اس... اب جب ایسی بات ہے تو اپنے نفس کو لگام دینا ضروری ہوتا ہے۔ اس کو control کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اب میں کیسے control کروں؟ اس کا کیا control کروں، کیا نہ control کروں؟ اس میں guidance کی ضرورت ہے نا۔ وہ guidance کون دے گا؟ ظاہر ہے اگر guidance اللہ پاک نے دی ہے تو پھر اس guidance کو لو۔ تو کیسے دی ہے، وہ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے۔ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے باتیں فرمائی ہیں، آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی جو تین باتیں، قولی، فعلی اور تقریری۔ ان کو ظاہر ہے ما شاء اللہ محدثین نے note کر لیا، پھر اس کے بعد فقہاء کرام نے اس سے مسئلے نکالے۔ اور وہ ہمارے سامنے پوری چیزیں آگئیں کہ کیا کرنا چاہیے، کیا نہیں کرنا چاہیے۔
مثال کے طور پر ایک عورت کو گھر سے باہر نکلنا چاہیے، نہیں نکلنا چاہیے؟ تو لکھا ہے، بغیر ضرورت کے بالکل نہیں نکلنا چاہیے۔ بغیر ضرورت کے بالکل نہیں نکلنا چاہیے۔ اچھا، ضرورت سے باہر نکلیں تو کیسے نکلیں؟ تو ایک تو خوشبو نہ لگائیں، ہے نا مفتی صاحب؟ تیز خوشبو نہ لگائیں۔ دوسری بات حجاب میں ہوں۔ تیسری بات یہ ہے کہ راستے کی بالکل مطلب side side پہ جائیں، بالکل درمیان میں نہ جائیں۔ پھر یہ کہ مطلب جو کام ہے اس کا، وہ ہو جائے فورا فورا واپس۔
یہ مطلب پابندیاں، اور گھونگھٹ نکالنا، اور پتا نہیں اس کی اور بہت ساری تفصیلات ہیں۔ وہ تفصیلات اپنی آرائش کو چھپانا، کہ شکر الحمد للہ اللہ کا شکر ہے کہ نظر لگتی ہے۔ آپ کہیں گے بھئی کس پہ شکر نکال رہے ہو؟ شکر ہے کہ نظر لگتی ہے ورنہ پتا نہیں مالدار لوگ غریبوں کا جینا دوبھر کر دیتے۔ یعنی وہ اپنی مطلب آسائش کو، تمام چیزوں کو ظاہر کرتے تو ظاہر ہے ان کے دل پہ کیا گزرتی؟ ان کے پاس وہ چیزیں نہیں تھیں۔ اب کم از کم نظر کے ڈر سے تو چھپاتے ہیں نا۔ تو اسی طریقے سے یہ جو آرائش ہے خواتین کی، زیور ہے یا جو مطلب آرائش کی چیزیں ہیں یا جگہیں ہیں، ان کو چھپانا ہی خیر ہے۔ ان کو چھپانا ہی خیر ہے۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ جتنا exposure ہو گا اتنا نقصان، اس کی وجہ سے تکالیف ہو سکتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے اور ہمیں اس چیز کو دل سے ماننا ہے۔ ورنہ پھر کیا ہو گا؟ پھر اس کے جو نتائج ہیں، بعض دفعہ بڑے سنگین نتائج آتے ہیں۔
ایک شریف زادی اپنے گھر میں ہوتی ہے، لیکن کہیں بے احتیاطی ہو چکی ہوتی ہے۔ بدمعاشوں کو پتا چل جاتا ہے۔ پھر وہ ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔ وہ ٹوہ میں جو لگے رہتے ہیں، اس وقت ان کو کبھی موقع مل جاتا ہے، کسی وجہ سے موقع مل جاتا ہے۔ پھر حادثات ہو جاتے ہیں۔ پھر روتے رہتے ہیں، پھر کہتے ہیں ایسا کیوں ہوا؟ اگر بے احتیاطی نہ ہو، تو ان چیزوں تک بات ہی نہ پہنچے، اور یہ مطلب انسان محفوظ رہے۔ اس وجہ سے ہر طرح سے اپنے آپ کو حفاظت میں رکھنا چاہیے۔ یہ شادی بیاہ کے موقع پہ نہیں عورتیں احتیاط کرتیں، اکثر عورتوں کا پتا اس وقت چلتا ہے۔ نہیں احتیاط کرتیں۔ پردے کا اہتمام نہیں ہوتا۔ تو ایسی صورت میں پھر مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، بعد کے لیے۔ تو ہمیں اپنے بچوں بچیوں کو بہت سکھانا چاہیے یہ چیزیں، کہ یہ ہماری ضرورت ہے اور ہمیں اس پر عمل کرنا چاہیے، ورنہ اس کا نقصان ہم سب کو بھگتنا پڑے گا۔
خیر، شرم و حیا، اس پر میں بات کر رہا تھا، بات بڑی لمبی ہو گئی۔ حضرت سید سلیمان ندوی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ نے، سیرت النبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یہ جو کتاب ہے، اس میں بہت عمدہ اس پر لکھا ہے، ما شاء اللہ اس موضوع پر۔ تو اب میں تو نہیں آپ کو پڑھ کے سنا سکا، time تھوڑا ہے، لیکن اس کو خود پڑھ لیجیے گا۔ بہت عمدہ ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ اس کا جو photo ہے، یہ میں اپنے group کے اوپر لگا دوں۔ تو پھر یہ ہے کہ ان شاء اللہ اس کو خود پڑھ لیجیے گا کہ شرم و حیا ہے کیا چیز اور یہ کتنی ضروری ہے۔ تھوڑا سا سنا دیتا ہوں، تاکہ برکت بھی ہو جائے اور آپ کو پتا بھی چل جائے کہ کس انداز میں لکھا ہے۔
"انسان کا یہ وہ فطری وصف ہے جس سے اس کی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی پرورش ہوتی ہے۔ عفت اور پاکبازی کا دامن اسی کی بدولت ہر داغ سے پاک رہتا ہے۔ درخواست کرنے والوں کو محروم نہ پھیرنا اسی وصف کا خاصہ ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مروت اور چشم پوشی اسی کا اثر ہے، اور بہت سے گناہوں سے پرہیز اسی وصف کی برکت ہے۔ اس وصف سے متصف سب سے پہلے خود اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس کے معنی یہاں وہی ہوں گے جو اس کی ذاتِ اقدس کے لائق ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ اپنے بدکار بندوں کو برائی کرتے دیکھتا ہے، لیکن ان کو اس وقت پکڑتا نہیں ہے۔ اس کے آگے جو بھی ہاتھ پھیلاتا ہے، اس کو نامراد نہیں لوٹاتا۔ حدیث میں آتا ہے کہ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: عزت اور جلال والے اللہ کے آگے جب کوئی بندہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر کچھ بھلائی مانگتا ہے، تو اس کو نامراد لوٹاتے ہوئے شرماتا ہے۔"
"ایک دفعہ تین صاحب مسجدِ نبوی میں آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد صحابہ کا حلقہ تھا۔ ایک صاحب کو وہاں ذرا سی جگہ ملی، وہ اس میں بیٹھ گئے۔ دوسرے صاحب شرما کر پیچھے بیٹھ گئے۔ تیسرے صاحب چلے گئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں ان صاحبوں کی خبر نہ دوں؟ جو حلقہ کی ذرا سی جگہ میں آکر بیٹھا، وہ اللہ کی پناہ میں آیا، تو اللہ نے اسے پناہ کی جگہ دی۔ اور جو پیچھے جا کر بیٹھا وہ شرمایا، تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی (یعنی معاف کیا)۔ اور جو چلا گیا اس نے اللہ سے منہ پھیرا، تو اللہ نے بھی اس سے منہ پھیرا۔“
مطلب یہ والی بات۔ سورہ بقرہ میں ہے:
{إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً}۔
اللہ کوئی مثال بیان کرنے سے شرماتا نہیں، یعنی کسی حق بات کے ظاہر کرنے میں وہ شرماتا نہیں۔ جیسے قرآن پاک میں دوسری جگہ ہے:
{وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ}
اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔ حدیث میں بھی ہے:
{إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ}
اللہ تعالیٰ حق کے اظہار سے شرماتا نہیں۔ قرآن اور حدیث کے اس طرزِ ادا سے ظاہر ہے کہ جو بات حق کے خلاف ہے، اس کی نسبت اللہ کی طرف، اللہ کی غیرت و حیا کے خلاف ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے، "اللہ سب سے زیادہ غیرت مند ہے، اس لیے اس نے بدکاریوں کو حرام کیا ہے۔" اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیرت مند ہے، اس لیے اس نے بدکاریوں کو حرام کیا ہے۔ موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَام کو مدین کے سفر میں جن دو لڑکیوں سے سابقہ پڑا تھا، وہ اگرچہ بدویانہ زندگی بسر کرنے کی عادی تھیں، تاہم یہ وصف ان میں ایسا نمایاں تھا کہ اللہ نے بھی اس کا ذکر کیا۔ ان کی عادت تھی کہ جب تک تمام لوگ اپنے اپنے مویشیوں کو پانی پلا کر پلٹ نہ جاتے، تو اپنے مویشیوں کو پانی نہیں پلاتی تھیں، تاکہ مردوں کی کشمکش سے الگ رہیں۔"
"جب ان کے باپ نے ان میں سے ایک کو حضرت موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَام کے بلانے کے لیے بھیجا، {فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ} تو ان دو لڑکیوں میں سے ایک شرماتی ان کے پاس آئی۔ اس آیت میں واقعہ کے اظہار کے ساتھ اس حیا والی لڑکی کی مدح و ستائش بھی مقصود ہے۔"
یہ وصف انسان میں بچپن سے فطری ہوتا ہے۔ اور اس کی مناسب تربیت کی جائے تو قائم رہتا ہے۔ بلکہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور اگر بری صحبت لگ جائے اور اچھے لوگوں کے ساتھ نہ رہے تو جاتا بھی رہتا ہے۔ اس لیے اسلام نے اس کی مناسب نگہداشت کرنے کا حکم دیا، سترِ عورت کا خیال، نگاہیں نیچے رکھنا، بے حیائی کی باتوں کو بولنے اور دیکھنے سے روکنا، برہنگی کو منع کرنا، یہاں تک کہ غسل خانوں اور خلوت میں بھی اس کی اجازت نہ دینا، اس لیے کہ آنکھیں شرم کے منظر سے جھپکتی رہیں۔ اگر تھوڑی تھوڑی بے حیائی کی جرات بڑھتی جائے گی تو رفتہ رفتہ انسان پکا بے حیا بن سکتا ہے۔
آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جب بچے تھے تو خانہ کعبہ کی تعمیر کا کام ہو رہا تھا۔ آپ اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔ آپ کے چچا عباس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے کہا، تم تہبند کھول کر کندھے پر رکھ لو کہ اینٹ کی رگڑ نہ لگے۔ آپ نے ایسا کیا۔ آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ ہوش آیا تو زبانِ مبارک پہ تھا، میرا تہبند، میرا تہبند۔
عباس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے تہبند باندھ دیا۔ نبوت کے بعد بھی آپ کا یہ حال تھا کہ صحابہ کہتے تھے:
{كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا}
رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے۔ بعض موقعوں پر آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی مگر شرم کے مارے زبان سے نہیں کہتے تھے۔ جیسے کہ سورہ احزاب میں مذکور ہے:
{إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ}
تمہاری اس بات سے رسول کو ایذا پہنچتی تھی تو تم سے وہ شرماتا تھا۔
خیر یہ تو پورا مضمون ہے، آپ اس کو مطلب یعنی اس کو پڑھ لیں۔ لیکن یہ ہے کہ اس کے ساتھ بہت ساری اچھی صفات attach ہوتی ہیں۔ اگر ہم میں حیا آ جائے... تو حیا اصل میں دیکھیں ایک بات سن لیں کہ جہاں شرمانا ہے وہاں تو شرمانا ہے، اور جہاں نہیں شرمانا وہیں نہیں شرمانا۔ یہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں۔ مثلاً علم کے حاصل کرنے میں شرمانا نہیں ہے۔ حق بات کہنے میں شرمانا نہیں ہے۔ ابھی بات گزری ہے۔ اور ایسے جس سے یعنی شرمانے کا مطلب وہ ہے، تو وہاں شرمانا چاہیے۔
مثال کے طور پر دیکھیں نا، یعنی عورت، مستورات، دیکھو دو نام ہیں۔ دونوں میں کون سی چیز مشترک ہے؟ عورت اور مستورات میں کون سی چیز مشترک ہے؟ چھپانے والی بات مشترک ہے۔ تو اس کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر اس قسم کی چیزیں ہیں کہ وہ، وہ مطلب چھپانے... جو بھی قیمتی چیز ہوتی ہے اس کو انسان چھپاتا ہے۔ یا یوں سمجھ لیجیے قیمتی چیز میں ذرا میرے خیال میں confusion ہو جائے گی۔ میں کہوں گا جس چیز کی تلاش میں بہت سارے لوگ ہوں۔ مطلب جو بہت سارے لوگ حاصل کرنا چاہتے ہوں، ان کو چھپایا جاتا ہے۔ بس جس چیز کو نظر لگتی ہو، تو اس کو بھی چھپایا جاتا ہے۔ تو کیوں؟ مطلب ظاہر ہے اپنے آپ کو نقصان سے بچایا جاتا ہے نا۔
اس طریقے سے کسی کی، ڈاکو کی نظر، کسی کی وہ اس کی نظر، وہ اگر لگ جائے تو پھر تو مطلب ہو جاتا ہے۔ تو اس طرح یعنی یہ جو چیزیں ہوتی ہیں، انسان کو چھپانی ہوتی ہیں مجبوراً۔ کیونکہ اگر نہ چھپائے، تو باقی لوگ تو پروا نہیں کرتے۔ وہ تو آپ کی طرح شریف نہیں ہوں گے، وہ تو موقع ڈھونڈ کر جو بھی کام کرنا چاہتے ہیں وہ تو کر لیں گے۔ تو ایسی صورت میں یہ چھپایا جاتا ہے۔
اب اس میں جو عورت ذات ہے اس کو اللہ پاک نے جو مطلب وہ دی ہیں، صفات دی ہوئی ہیں، اس کے لحاظ سے اللہ پاک نے اس کو اپنے گھر میں، اس کے گھر میں رہنے کا اور گھر ہی کے اندر سارے کام کرنے کا وہ انتظام دیا ہوا ہے تاکہ وہ باہر اس کو نہ جانا پڑے۔ اور باہر کی کدورتوں سے مطلب وہ محفوظ رہے۔ اور اگر جائیں تو پھر اپنے آپ کو چھپا کے جائیں۔ اپنے آپ کو protect کر کے جائیں۔ اول تو دیکھیں یہ ہوتا ہے کہ یعنی مردوں کے ساتھ جیسے محرم، سفر کے تو سفر کے لیے بھی حکم دیا ہے کہ محرم کے ساتھ جائیں۔ کیوں وجہ کیا ہے؟ دور کا جو سفر ہوتا ہے اس میں انسان اگر اکیلے ہو تو کچھ بھی پیش آسکتا ہے۔ تو ایسی صورت میں اس کے لیے فرمایا کہ نہیں محرم کے ساتھ ہو۔
اور یہ جو مطلب جو تھوڑا سا فاصلہ ہے، اس میں یہ بات ہے کہ غیر ضروری طور پہ جائیں نہیں، اور اگر جائے تو محفوظ طریقے سے جائے۔ ایسے طریقے سے نہ جائے جس سے مطلب لوگوں... پھر یہ دیکھا نا، یعنی اس وقت عربوں کے اندر یہ دستور تھا کہ جو آزاد عورتیں تھیں ان کا لباس الگ جیسا ہوتا تھا، اور جو باندیاں ہوتی تھیں ان کا لباس الگ ہوتا تھا۔ تو باندیاں تو مطلب اس طرح ہوتی تھیں کہ وہ public type چیز ہوتی تھیں تو اس وجہ سے لوگ جرات کر لیتے تھے ان پر۔ تو اس طرح ہے کہ جو عورتیں ہوتی تھیں، باقاعدہ کسی کی منکوحہ اور کسی کی بہن، ماں، جو، تو وہ ان کا لباس ایسا ہوتا تھا کہ لوگ جرات نہیں کرتے تھے۔ تو اس طرح اس وجہ سے مطلب یعنی باقاعدہ اس کا یعنی انتظام کیا گیا کہ آپ لوگوں کو ایسے کپڑے نہیں پہننے جس پہ لوگوں کو جرات ہو۔ مطلب خیال رکھنا چاہیے۔
پھر دیکھیں نا، کچھ چیزیں انسان کے جسم کی ایسی ساخت ہے، مطلب مردوں کا جو ہے نا جو عورت کا، سترِ عورت کا نظام بنایا ہوا ہے، اس کے حساب سے بنایا ہوا ہے۔ لیکن عورت کا پورا جسم ستر ہے۔ پورا جسم ستر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ جَلَّ شَأْنُهُ نے ان کو جو صفات دی ہیں، وہ اس کے لحاظ سے اس کو پورا مستور رکھا ہوا ہے۔ اب ایسی صورت میں اگر انسان جسم کے ان اعضاء کو، محرم کے سامنے بھی اگر وہ مطلب وہ کر لے، اس میں بھی پھر فتنہ ہوتا ہے۔ تو اللہ پاک نے محرم کے سامنے بھی جو عام محرم ہیں شوہر کے علاوہ، باقی مطلب اس کو بھی اجازت نہیں دی ہے۔ ہاں البتہ جو مطلب حصے اس کے علاوہ ہیں، تو وہ پھر غیر محرم کے سامنے انسان نہیں کھول سکتا۔ آج کل یہ بھی بڑا مسئلہ ہے کہ پردے اور حجاب میں اور ستر میں فرق نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ حجاب اور ستر میں فرق ہے۔ حجاب کیا چیز ہے؟ وہ جو دوسرے غیر محرموں سے محفوظ رکھنے کے لیے ہے۔ وہ حجاب ہے۔ اور جو ستر ہے وہ محرم سے بھی، جو عام محرم ہیں، جو شوہر کے علاوہ محرم ہیں، ان سے بھی مستور رکھنے کے لیے جو حکم ہے، وہ، وہ ستر ہے۔ تو ان میں لوگ فرق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں چہرے میں...
Germany میں تھا تو مجھے پاکستانی حضرات نے کہا، آپ نے اپنے گھر والوں کو جو Burqa پہنایا ہوا ہے نا، تو اس سے پھر خواہ مخواہ لوگ ان کو دیکھتے ہیں۔ تو آپ یہ Turkish عورتوں کی طرح یہ کریں کہ وہ چہرہ ان کا نظر آئے، تو پھر کوئی نہیں دیکھے گا۔ یہ باقاعدہ مجھے انہوں نے instruction دی۔ تو میں نے انہیں کہا، میں نے کہا اگر یہ برقعے میں ہیں نا، تو پورا Germany اس کو دیکھے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اگر یہ برقعے میں ہے۔ اور اگر یہ چہرہ اس کا کھلا ہے نا تو میں ایک آدمی کو بھی اجازت نہیں دے سکتا ہوں کہ وہ اس کو دیکھے۔
تو ظاہر ہے جو حکم اللہ تعالیٰ کا ہے اس سے زیادہ تو میں نہیں جانتا ہوں۔ تو اللہ کا شکر ہے الحمد للہ، اب اس کا فائدہ کیا ہوا؟ اللہ پاک دیتا ہے جی، صحیح بات میں عرض کرتا ہوں، اللہ پاک دیتا ہے۔ اور نقد بھی دیتا ہے۔ بعد میں تو دیتا ہی ہے الحمد للہ، نقد بھی دیتا ہے۔
اس نقد میں یہ بات تھی کہ مجھ مطلب میں نے اپنے گھر والوں سے پوچھا، میں نے کہا دیکھو، یہ پاکستانی تو اپنے بھائی ہیں۔ عرب ہم، مسلمان بھائی ہیں ہمارے آپس میں، ترکوں کے ساتھ ہمیں محبت ہے ان کو ہمارے ساتھ محبت ہے۔ لیکن یہ بتائیے یہ German لوگ ہمارے ساتھ اتنا کیوں بہت پیار سے پیش آتے ہیں؟ کوئی اس طرح سلام کرتے ہیں، کوئی اس طرح سلام کرتے ہیں، کوئی اس طرح سلام کرتے ہیں، یہ کیا ہے؟ یہ کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا پتا نہیں، میں نے کہا دیکھو یہ اللہ کی تائید ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تائید ہے۔
ہماری چھوٹی سی بچی ہمارے ساتھ تھی، ساڑھے تین سال کی، جو ہمارے landlord تھے نا وہ کبھی اس کے لیے مٹھائی کا ڈبہ لٹکا دیتے، کبھی hat لٹکا دیتے، کبھی بستہ لٹکا دیتے، کبھی کیا، کبھی کیا۔ ہم حیران تھے ہم نے کہا بھئی اس کو کیسے سمجھائیں... کہتے ہیں جی بس ویسے ہم، ہمارا شوق ہے ہم اس طرح کرتے ہیں۔ خیر پھر ہم نے اس طرح کیا ہم نے کہا کہ چلو اس طرح کرتے ہیں کہ ان کی بھی کچھ خدمت کرتے ہیں، آخر مسلمان ہو کر ہمیں یہ حق ہے، ہمارا ہونا چاہیے کہ ان کی خدمت کریں، تاکہ اسلام کی طرف آجائیں، بجائے اس کے کہ وہ ہماری خدمت کریں۔
تو میں نے ان سے کہا، میں نے کہا کہ اون کا کام آپ کر سکتی ہیں، تو آپ ان کے لیے ایک اونی sweater بن لیں۔ تو یہ کم از کم یہ پسند کرتے ہیں Handicrafts کو، تو یہ اچھا ہو گا۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں کر لیتی ہوں۔ تو میں نے، اون میں اون لے آیا اور اس نے وہ sweater بہت جلدی بن لیا، ان کو طریقہ آتا تھا۔ تو یہ پھر میں اپنی بچی کو لے گیا، اور اس کو جو ہے نا میں نے اس سے کہا کہ جب گھنٹی مارو تو اس کو کہو Geschenk. Geschenk تحفے کو کہتے ہیں۔ تو اس نے اس طرح کیا۔ تو وہ جب باہر آیا کہتا ہے، یہ آپ نے ان کو کہا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ کہتا ہے تو پھر آپ آ کر بیٹھ جائیں۔ میں نے کہا بیٹھنا تو نہیں ہے۔ تو آپ نے کیوں کیا؟ میں نے کہا ہماری مرضی۔
خیر بہرحال ہم تو نیچے آگئے۔ نیچے آگئے، ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ پھر گھنٹی ہوئی۔ دیکھا cycle اٹھا کے ہاتھ میں لا رہے ہیں۔ میں نے کہا یہ کیا چیز ہے؟ کہتا ہے میں آپ کے لیے لایا ہوں۔ میں نے کہا میرے پاس cycle ہے آپ نے دیکھا نہیں ہے؟ کہتا ہے وہ چھوٹا cycle ہے، میں کہتا ہوں آپ بڑے cycle پہ جائیں۔ آپ university بڑے cycle پہ جائیں۔
مقصد یہ ہے کہ ہم نے بہت کوشش کی کہ ان کی خدمت کریں لیکن وہ ہی ہماری خدمت... وہ کرتے تھے۔ کیوں؟ اللہ کی طرف سے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات۔ تو آپ اللہ تعالیٰ کے لیے وہ کر لیں نا، جو اللہ چاہتا ہے۔ آپ یقین کیجیے مخلوق اس کے ہاتھ میں ہے۔ وہ کہ وہ، وہ ان کا دل اس کے، ان کے قبضے میں ہے۔ وہ جیسے... وہ ہم جب آ رہے تھے تو وہاں پر ایک عورت تھی، وہ پڑوسی تھی۔ مطلب تین apartments تھے ایک ہمارے ساتھی کا تھا جس نے ہمارے لیے arrangement کی تھی وہ عرب تھے، اور ایک میں تھا، اور دوسرا جو ہے نا وہ ایک عورت تھی۔
تو مجھے اس ساتھی نے کہا کہ یار یہ ایک شیطان عورت ہے، وہ آپ کو تنگ کرے گی۔ میں نے کہا ان شاء اللہ مجھے تنگ نہیں کرے گی۔ اس نے کہا کیسے؟ میں نے کہا بس چھوڑو۔ خیر ایسا ہوا کہ پہنچ گئے، چار پانچ دن تو ہمیں پتا ہی نہیں چلا ایک دوسرے کا، کیونکہ وہ اپنے وقت پہ آتی تھی، ہم اپنے وقت پہ آتے تھے۔ ایک دن... مطلب دیکھ لیا تو مطلب اس نے ہمیں اور صرف خیر، تو وہ میں نے پھر اپنی گھر والی سے کہا کہ یہ بچی ہے نا، تو اس کے، اس کے ہاتھ میں جو ہے نا مطلب ہے کہ کوئی چیز، مطلب کھانے کی، کیک بنا لیا، تو ہم نے کہا یہ ان کو دلوا دیتے ہیں۔
تو بچی کو بھیج دیا اور خود ہم دونوں کھڑے ہو گئے دروازے میں۔ اب وہ جب بچی پہنچ گئی تو اس نے بالکل اسی طریقے سے گشینک (Geschenk - جرمن زبان میں تحفہ) والی بات وہ کر لی۔ وہ تو بالکل ایسے مزے میں آ گئی، جیسے جھومنا شروع کر لیا۔ ہاں جی، اور اس کو اٹھا لیا اور کہتی ہے کہ 'میں ضرور کھاتی، میرا معدہ خراب ہے' لیکن پھر سامنے دیکھا، 'اچھا جی آپ کی بچی ہے جی؟ یہ مجھے کھیلنے کے لیے کچھ وقت کے لیے دے سکتے ہیں؟' میں نے کہا، 'ٹھیک ہے، صحیح ہے۔'
تو ایک گھنٹے کے لیے وہ لے گئی اور جو ان کے پاس کھلونے ولونے تھے وہ سارے ان کے سامنے رکھ دیے اور پھر کبھی کبھی ہم سے مانگتی تھی۔ اور پھر ظاہر ہے ہمارے ساتھ تو بہت اچھا تعلق ہو گیا۔ تو مجھے وہ عرب کہتا ہے، 'یار تمہاری بات... پتہ نہیں یہ کیا بات ہے؟' میں نے کہا، 'یہ ایسا... ایسا ہوتا ہے۔'
تو اس لیے میں عرض کرتا ہوں کہ دیکھو، آپ جب بھی جائیں تو سفیر بن کر جائیں۔ کس چیز کے سفیر؟ اسلام کے سفیر۔ آپ اسلام کے سفیر بن کے جائیں، پھر اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ جو معاملہ کرتا ہے، آپ کو خود نظر آجائے گا۔"
اپنے آپ کا سفیر نہ ہو، یعنی اپنی مرضی کا مالک نہ ہو۔ بلکہ جو ہو اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ ٹھیک ہے ہم ناقص ہیں، کمزور ہیں، ساری چیزیں صحیح طریقے سے نہیں کر سکتے، لیکن نیت کا بھی اعتبار ہوتا ہے۔
{إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ}
تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ نیت جب اچھی ہو تو بعض دفعہ کمزوریاں بھی... وہ مطلب یعنی کہ ignore کر دی جاتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں ایک مسلمان کے طور پر رہنا ہے۔
بالخصوص میں جو جن سے میں مخاطب ہوں، یعنی جو ہماری خواتین ساتھی ہیں، ان سے میں عرض کروں گا، کہ وہ ان تمام چیزوں کو انتہائی محبت کے ساتھ، اچھے طریقے کے ساتھ، دوسری خواتین تک پہنچا دیں۔ اور ان کو یہ بات سمجھا دیں، کہ یہ ہمارے اپنے فائدے کی بات ہے۔ اس میں ہماری اپنی ہی خیر ہے۔ اس میں ہم دوسروں کے اوپر احسان نہیں کر رہے، اپنے اوپر احسان کر رہے ہیں۔ کیوں، وجہ کیا ہے کہ اللہ جَلَّ شَأْنُهُ ہماری ساری ضرورتوں کو بھی جانتا ہے، ساری کمزوریوں کو بھی جانتا ہے، سارے احوال کو بھی جانتا ہے، اور وہ ہی سارے ہمارے مسائل کو حل کر سکتا ہے۔
باقی یہ ہے کہ، جو دوسرے لوگ ہیں ہمارے، جو NGOs وغیرہ ہیں، وہ تو آئی ہی اس لیے ہیں، کہ ہمارے اندر کچھ اس قسم کی چیزیں پیدا کر لیں، جو وہ چاہتے ہیں۔ عموماً وہ، یعنی وہ عورتوں کی صورت میں آتے ہیں، مطلب NGOs جو ہوتے ہیں، وہ ان ایسی باتیں پھیلاتے ہیں۔ یہ ہمارے بنوں میں بتاتے ہیں کہ پہلے، بہت پردہ مطلب ہوتا تھا، اور لوگ عورتیں باہر اس طرح نہیں بغیر بے پردہ نہیں... جو اپنے ساتھیوں نے بتایا۔ لیکن پھر کچھ عورتیں انہوں نے دوسری جگہوں سے بلوا کے، وہ جو ہے نا اس طرح صرف پھرتی تھیں۔ مطلب کچھ چہرہ کھولے رکھتیں بس وہ بازار میں ایک سرے سے شروع کر کے دوسرے سرے پہ پہنچ جاتی تھیں۔ کچھ لینا وینا نہیں ہوتا تھا بس صرف وہ ایک مطلب round لگا لیتی تھیں۔ اس طرح یہ کر کر کے کر کر کے اس وقت پھر انہوں نے لینا دینا بھی شروع کر لیا پھر آہستہ آہستہ عوام میں بے پردگی عام ہو گئی۔ یعنی کیسے طریقے چلاتے ہیں۔ یہ باقاعدہ وہ organize طریقے سے وہ کرتے ہیں سارا کچھ، ان کے باقاعدہ procedures ہیں، ان کی training ہوتی ہے۔ ہمیں ان چیزوں پہ نظر رکھنی ہے۔ اپنے آپ کو بچانے کے لیے۔ کہ ایسا نہ ہونے دیں۔ کیوں کہ وجہ کیا ہے کہ، عورتیں جذباتی مخلوق ہیں، اگر ان کو وہ دے دیں نا، وہ...
ایک دفعہ ایک عورت نے مجھ سے، ضیاء الحق کے دور میں وہ شہادتوں کی بات تھی۔ تو عورت کی شہادت آدھی ہے کچھ اس طرح مطلب بات چل رہی تھی۔ تو ایک عورت نے مجھ سے بڑے سخت لہجے میں سوال کیا۔ شاہ صاحب یہ عورت کی شہادت کیوں آدھی ہے؟ میں نے کہا مردوں کی پوری ہے؟ کہتی ہیں ہاں۔ تو میں نے کہا کیا وہ شہادت دیتے ہیں؟ شہادت دینے کے لیے خوشی سے جاتے ہیں؟ کہتی ہیں نہیں۔ میں نے کہا پھر تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟ جب تمہیں اللہ نے معاف کیا ہوا ہے، اور اپنے گھر بٹھایا ہوا ہے، اور آپ کو شہادتوں کی صورت میں نہیں بلایا جا رہا، تو جہاں آپ کی شہادت مطلوب ہے وہاں پوری شہادت ہے آپ کی۔ لیکن جہاں آپ کی ضرورت نہیں ہے تو آپ آرام سے بیٹھ جاؤ۔ اللہ پاک نے آپ کو آرام سے بٹھایا ہوا ہے تو بس آرام سے بیٹھ جاؤ۔ یہ کام مردوں کے ہیں بس ٹھیک ہے وہ کرتے رہیں۔
تو پھر وہ سمجھ گئی۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ جو، یہ جو باتیں ہیں، اس قسم کے شیطانی خیالات، کہ یہ کیوں ہے، اور یہ کیوں ہے، اور یہ کیوں ہے، یہ کیوں ہے، یہ ساری چیزیں میں آپ کو بتاؤں، اپنی اپنی حیثیت کو ہمیں جاننا چاہیے۔ دیکھو،
{لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا}
اللہ پاک کا قانون ہے، کہ اللہ پاک کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں دیتے۔ اچھا، جب یہ والی بات ہے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو ذمہ داریاں دی ہیں آپ کی طاقت کے مطابق دی ہیں۔ مردوں کو ان کی طاقت کے مطابق دی ہیں۔ یا اس طریقے سے مطلب جو معاشرے کے اندر ایک خاص مقام رکھنے والے ہیں، ان کو پھر ان کی حیثیت کے مطابق ذمہ داریاں دی ہوتی ہیں۔ اب یہ اگر ہم مان لیں ہر ایک، کہ اچھا ہوا کہ مجھے ان جیسی ذمہ داری نہیں دی گئی ورنہ پھر میں پوری نہ کر سکتا۔ ہاں؟ تو اسی طریقے سے عورتوں کو جب اللہ پاک نے وہ ذمہ داریاں نہیں دیں جو مردوں کی ہیں، اس پہ خوش ہونا چاہیے۔ اس پہ، مطلب allergic نہیں ہونا چاہیے، بلکہ خوش ہونا چاہیے کہ اللہ پاک نے ہمیں ان چیزوں کا مکلف نہیں کیا۔ یہ کام مردوں کے ذمے ہیں وہ کرتے رہیں۔
باقی یہ ہے کہ، جہاں تک قربِ الٰہی کا تعلق ہے، ولایت کا تعلق ہے، ان چیزوں پر دارومدار نہیں ہے۔ دیکھو، فرعون کی بیوی آسیہ کن حالات میں تھی؟ وہ ولیہ تھی۔ اس طریقے سے وہ، یعنی ہر جگہ پر، عورت نے اپنے آپ کو اگر maintain رکھا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ درست رکھا ہے، تو اللہ پاک نے اس کو بلند کر دیا ہے۔ یہ حضرت فاطمہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ان کی حیا بے مثل تھی۔ بہت زیادہ۔ یعنی باقاعدہ ایک سوال اس طرح تھا تو اس پر جو ہے نا وہ، آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے پھر خوش ہو کے فرمایا کہ میری بیٹی ہے نا۔ بہت خوش ہوئے،
تو انہوں نے حیا کے بارے میں کہا کہ اصل جو عورتوں کی جو ہے، زینت کیا چیز ہے؟ وہ حیا ہے، کہ اس کو کوئی نہ دیکھے۔ تو آپ نے فرمایا: میری بیٹی ہے نا۔ بہت خوش ہوئے،اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
"فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ"
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
معزز خواتین و حضرات! اس دورِ فتن میں آج کل جو مسائل ہیں، ان میں ایک بہت بڑا مسئلہ دین کی غلط تشریح کا، اپنے نفس کی خواہشوں کا اور اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کی جو مشکل ہے وہ آج کل سامنے ہے۔
Social media پر بھی یلغار ہے Information کی۔ اور جو بات بھی کسی کو ملتی ہے، چاہے وہ اس کو سمجھے یا نہ سمجھے، بس اگر اس کو اچھی لگے تو آگے کر دیتے ہیں۔ اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اس میں بہت بڑی غلطی ہوتی ہے، کبھی تحقیقی لحاظ سے غلطی ہوتی ہے، کبھی مقصدی لحاظ سے مسائل ہوتے ہیں، کبھی سازش ہوتی ہے اس میں، کبھی کیا کبھی کیا۔ تو ان چیزوں کو لوگ جانتے نہیں ہیں، لہٰذا جو بھی اس کو ملے تو وہ آگے کر لیتے ہیں۔ کم از کم ہمارا یہ تو ہونا چاہیے، اتنا کام کہ ہم دیکھ لیں کہ کون سی چیز صحیح ہے اور کون سی چیز غلط ہے۔ اتنی تحقیق تو ہم سب کو کرنی چاہیے۔ یہ نہیں کہ انسان کے پاس خود اتنا علم ہوتا ہے کہ وہ ان ساری چیزوں کی تحقیق کر سکے۔ تو جو حضرات کر سکتے ہیں، ان کے ساتھ رابطہ تو ہو سکتا ہے۔ یعنی ان سے پوچھ پوچھ کے کر لیں کہ یہ چیز ہے، میں اس کو آگے کروں، نہ کروں؟ مطلب اس طرح معلومات۔
یہ ساری باتیں میں کیوں کر رہا ہوں؟ ابھی social media پر بھی ہے اور باقی boards بھی آویزاں ہیں، یہ عورت مارچ کے بارے میں چیز آ رہی ہے ۔ خواتین، یہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں ان کا ایک بہت بڑا حصہ ہے، یعنی 50 فیصد سے تو کم از کم یہ زیادہ ہیں۔ پھر گھر کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ ان کے اوپر ہوتی ہیں۔ بچوں کی تربیت ان کے ذمے ہوتی ہے۔ ان کے اخلاق کا بچوں پہ اثر ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے خواتین کی جو تربیت ہے وہ بہت ضروری ہے۔
لیکن یہ جو سوشل میڈیا ہے یا اس قسم کا جو literature ہے، وہ حقوقِ نسواں کے پردے میں یا اس کے لبادے میں، وہ ایسی ایسی چیزیں عورتوں کے سامنے لاتے ہیں جو ان کے لیے بڑی زہریلی ہیں، بہت نقصان دہ ہیں۔ لیکن وہ کچھ باتیں ان کی ایسی ہوتی ہیں خواہشات کے مطابق، انسان کا نفس تو ہے۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان کوئی غلط چیز چاہتا ہے لیکن اس کو دبایا ہوا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر کوئی شخص ایسا آجائے جو ملحد ہو، اور اس کو -ملحد یہ ہوتا ہے نا کہ وہ انسان، وہ مطلب اس طرح سامنے نہیں آتا بلکہ وہ چھپ کے وار کرتا ہے- تو باتوں باتوں میں اس کی اچھائی بیان کر لے اور اس کے کچھ عقلی دلائل بیان کر لے، تو نفس پہلے سے موجود تو ہے، وہ چاہتا تو ہے، لہٰذا وہ اس کو pick کر لیتا ہے بہت جلدی۔ اور اس کے پاس ایک بات آجاتی ہے، یعنی جس کو کہتے ہیں ثبوت آجاتا ہے کہ دیکھو فلاں نے یہ کہا ہے۔ اپنے آپ کو گویا کہ معذور بھی سمجھنے لگتا ہے۔
تو یہ باتیں چونکہ ہیں، معاشرے کے اندر ہو رہی ہیں، اور عورت کی بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو خاص ہیں، یعنی خاص سے مراد یہ ہے کہ مردوں کے لیے وہ نہیں ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ عورت کے ہاں جو معلمات ہیں، وہ تھوڑی بھی ہیں اور ان کا اتنا زیادہ access بھی نہیں ہوتا سب تک۔ کیونکہ ظاہر ہے وہ مخفی چیز ہے، تو ایسی صورت میں وہ اپنی معلمات سے بھی اتنا زیادہ ان کا رابطہ نہیں ہوتا۔ اور اگر رابطہ ہوتا ہے تو مرد علماء سے ہوتا ہے۔ اب مرد علماء جو حقیقت بیان کرتے ہیں تو شیطان ان کے ذہن میں بٹھاتا ہے: "یہ تو مرد ہیں، یہ تو اپنی بات کریں گے"۔ اب یہ وسوسہ اگر کسی کے ذہن میں بیٹھ گیا، تو پھر وہ کیسے پوچھیں گی؟ اور اگر پوچھیں گی بھی تو جواب پہ مطمئن نہیں ہوں گی۔ یہ کچھ مسائل ہیں جس کی وجہ سے یہ چیزیں چل رہی ہیں۔
اب میں اپنی طرف سے اگر بات کر لوں تو مجھ پر بھی یہ شک کیا جائے گا۔ تو میں نے دیکھیں قرآن پاک کی ایک آیت پڑھی ہے، اب ظاہر ہے قرآن پاک تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ تو اس میں اللہ پاک ان کی جو تعریف کر رہے ہیں "فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ"۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کا جو واقعہ ہے، اس میں موسیٰ علیہ السلام نے جن کے جانوروں کو پانی پلایا تھا تو وہ گئی ہیں اپنے گھر، وہاں اپنے باپ سے بات کی ہے۔ بوڑھے تھے، انہوں نے کہا کہ ان کو بلا لو۔ اب وہ آئی ہیں۔ اب کیسے آئی ہیں؟ یہ اللہ جل شانہ اس کو بیان فرما رہے ہیں کہ شرماتی ہوئی ان کے پاس آئی ہیں۔
یہ گویا کہ جو عورت کا جو شرم کرنا ہے باہر آنے سے، یہ اصل میں ان کی فطری چیز ہے اور اللہ پاک کو یہ پسند ہے۔ اچھا موسیٰ علیہ السلام نے کیا کیا؟ وہ پیغمبر تھے۔ بعد میں پیغمبر ہوئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے یہ فرمایا کہ اچھا میں آپ سے آگے چلوں گا، آپ میرے پیچھے چلیں اور آپ مجھے راستہ سمجھاتی رہیں۔ اب اگر دیکھو نا، اگر وہ آگے جاتیں اور موسیٰ علیہ السلام پیچھے پیچھے جاتے، تو اس میں نظر کی حفاظت مشکل ہو جاتی ہے۔ تو انہوں نے ان کو پیچھے کر دیا۔ یہ نہیں کہ وہ جس کو کہتے ہیں نا وہ یعنی پیچھے کرنا ان کا اس لیے تھا کہ اس کا مقام یہ نہیں تھا۔ نہیں، اپنی حفاظت کے لیے! اپنی حفاظت کے لیے کیا، تو ان کو پیچھے پیچھے لگا دیا۔
اب یہ تمام چیزیں ان کے سامنے آ گئیں، اور ان کے سامنے بھی آ گئیں تو اللہ جل شانہ نے پھر ان کو ایک گھر میں ایک کر دیا، الحمد للہ۔ اللہ پاک نے نظام بنا لیا۔ تو یہ بات میں آپ سے ایک عرض کروں کہ یہ ایک بہت بڑی بات ہے کہ مرد عورتوں کی تلاش میں ہوتے ہیں شادی کے وقت، اور عورتیں مردوں کی تلاش میں ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے ایک فطری چیز ہے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ اگر مرد حیا دار ہے تو وہ حیا دار گھرانے کو پسند آئے گا۔ اور اگر بے حیا ہے تو بے حیاؤں کو پسند آئے گا۔ اور اگر عورت حیا دار ہے تو حیا داروں کو پسند آئے گی اور اگر بے حیا ہے تو پھر بے حیاؤں کو پسند آئے گی۔ یعنی یہ ایک بالکل فطری بات ہے۔ تو اب اگر دیکھا جائے تو انسان پھر کس طرف جائے؟ ظاہر ہے حیا دار لوگوں کے پیچھے یا ان کے ساتھ چلا جائے یا بے حیا لوگوں کے پاس چلا جائے؟
تو اچھی بات تو یہی ہے کہ اللہ پاک کو جو پسند ہے وہاں جانا چاہیے۔ اب دیکھیں، یہ بات میں کچھ غیر مسلموں سے نہیں کر رہا ہوں کہ اس پر اعتراض ہو کہ مطلب یہ ہے کہ ایسا ہے اور ایسا ہے۔ نہیں، یہ مسلمانوں سے کر رہا ہوں جن کا پہلے سے ایمان ہے کہ اللہ پاک کی بات سب سے اچھی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بات ہی پکی ہے، پوری ہے۔ باقی ہم انسانوں کی کمزوریاں ہیں اور غلط فہمیاں ہیں اور بے علمیاں ہیں، کم فہمیاں ہیں، یہ ساری چیزیں، اس کی وجہ سے ہم جو دیکھ رہے ہیں، پورا نہیں دیکھ سکتے۔ جبکہ اللہ پاک کے سامنے ہمارا ماضی، حال، مستقبل سارا ہے۔ لہٰذا اللہ پاک جو ہمیں بتا رہے ہیں وہ بالکل صحیح بات ہے۔
اس وقت لوگوں نے انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے اس کا، یعنی بعض عورتوں نے۔ ان کو انا کا مسئلہ بنایا، وہ سمجھتی ہیں کہ مرد ہمارے اوپر کیوں حکمرانی کریں؟ بنیادی مسئلہ یہ ہے۔ ان کو گویا کہ اس قسم کا present کیا گیا ہے کہ مرد ہمارے اوپر کیوں حکمرانی کریں؟ ہم برابر کے لوگ ہیں، برابر کے لوگ ہیں۔ برابری کا مطلب کیا ہے؟ برابری کا مطلب ہے حقوق ان کے بھی اہم ہیں، ان کے بھی اہم ہیں، یہ معاملہ برابر ہے۔ لیکن مثال کے طور پر دیکھیں نا، ایک factory میں کوئی چلا جاتا ہے کوئی کام کرنے والے لوگ۔ اب سب برابر ہیں انسان کے لحاظ سے، لیکن کیا سارے لوگ ایک کام کریں گے factory میں؟ ایک کام کوئی کر سکتا ہے سارے لوگ ایک factory میں؟ ظاہر ہے factory میں سب لوگ اپنا اپنا کام کریں گے۔ کوئی کیا کرے گا، کوئی کیا کرے گا، کوئی کیا کرے گا، کام مختلف کریں گے، لیکن ہوں گے سب برابر انسانیت کے لحاظ سے۔تو یہ مرد اور عورتیں انسانیت کے لحاظ سے برابر ہیں، لیکن کام مختلف ہے۔ اگر کام ایک ہو تو پھر تو گاڑی چل ہی نہیں سکتی۔
مرد و عورت زندگی کی گاڑی کے پہیے ہیں دو
چل نہیں سکتی یہ گاڑی ایک اگر بیکار ہو
مطلب یہ ہے کہ اگر مرد کام نہ کرے اپنا ،جس کے لیے اللہ نے اس کو بنایا ہے، پھر گاڑی نہیں چلے گی۔ اور عورت اگر وہ کام نہ کرے جس کے لیے اللہ نے اس کو بنایا ہے، پھر کام نہیں چلے گا۔ یہ نہیں کہ عورت مرد کا کام کرے، مرد عورت کا کام کرے۔ نہیں، یہ والی بات نہیں، اپنا اپنا کام۔دیکھیں کپڑے ہیں نا کپڑے، ان کا بنیادی وصف جو ہے نا کپڑوں کا، وہ کپڑوں کا بنیادی وصف کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ انسان کا ستر چھپائے، گرمی سردی سے بچائے، اور زینت کا ذریعہ ہو۔ یہ کپڑوں کا ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ نے ہماری طرف جو شریعت بھیجی ہے، اس میں یہ حکم ہے کہ مردوں کا لباس عورتیں نہ پہنیں، اور عورتوں کا لباس مرد نہ پہنیں۔
اب اگر عورتوں کا لباس مرد نے پہن لیا، تو کیا یہ تینوں وصف قائم نہیں ہوں گے؟ ہوں گے۔ لیکن نہیں، اگر وہ مرد کا لباس نہیں ہے تو پھر وہ کیا ہے؟ وہ ٹھیک نہیں کر رہا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ اچھا کام نہیں ہے۔ اور اگر عورت مرد کا لباس پہنے بالکل ایسے ہی ٹھیک نہیں ہے۔ دونوں طرح ٹھیک نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے شناخت رکھی ہے مرد کی اپنی، اور عورت کی اپنی۔ تو اپنی اپنی شناخت کو پہچاننا یہ بہت ضروری ہے۔ اور اس میں ہمیں کوئی جذباتی پہلو کو نہیں لینا چاہیے۔ بلکہ تحقیقی پہلو کو لینا چاہیے، انتظامی پہلو کو لینا چاہیے۔ پھر بات سمجھ میں آجاتی ہے۔ تو اسی طریقے سے مرد اور عورت کے جو کام مختلف ہیں، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کہ مرد کیا کام کر سکتے ہیں، عورتیں کیا کام کر سکتی ہیں۔ یعنی اس کو خود عقلی طور پر بھی انسان اس کا جائزہ لے سکتا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ عقلی طور پر بہت ساری چیزیں معلوم ہونے کے باوجود انسان کی نفسانی خواہشات اس کو خلافِ عقل باتوں پہ مجبور کرتی ہیں۔ یہ بات ایک اپنی جگہ پر واضح بات ہے۔ جیسے Europe میں ہو رہا ہے۔ کہ کیا وہ ان چیزوں کو جانتے نہیں ہیں؟ بالکل جانتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی خواہشات سے مجبور ہو کر ایسا کرنے پہ انہوں نے عورتوں کو لگایا ہوا ہے۔ کہ اس کے ذریعے سے وہ اپنی خواہشات کو پورا کر رہے ہیں۔ اور عورتیں ان کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں۔
مجھے خود یاد ہے جب میں جرمنی میں تھا، تو وہاں پر ہمارے گھر والے بھی ساتھ تھے۔ تو ضرورت پڑی یعنی دانتوں کا علاج کرنے کی۔ اب ظاہر ہے دانتوں کا ڈاکٹر جو ہوتا ہے وہ تو بالکل ہی قریب ہوتا ہے نا انسان کے، تو ہم لیڈی ڈاکٹر کی تلاش کر رہے تھے کہ کوئی لیڈی ڈاکٹر مل جائے۔ اب لیڈی ڈاکٹر کوئی dentist مل نہیں رہی تھی۔ اور میں نے اپنے office کی جو PA تھی، ان سے بات کی تھی، تو وہ ڈھونڈ رہی تھی۔ ان کو مل نہیں رہی تھی۔ تو میں نے ذرا تھوڑی سی ناراضگی کے انداز میں کہا کہ یہ کیا بات ہے؟ ہمارے ملک کے اندر آپ لوگ کہتے ہیں کہ ایسا ہے اور ایسا ہے، ہمارے ملک کے اندر لیڈی ڈاکٹر available ہے اور آپ لوگوں کے ہاں لیڈی ڈاکٹر available نہیں ہے، یہ کیا بات ہے؟ یعنی میں نے ذرا اس انداز میں بات کی نا کہ آپ لوگ تو بڑے developed قسم کے لوگ ہیں نا، تو پھر یہ کیوں نہیں ہے؟
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کہتی ہے دنیا جو سوچ رہی ہے وہ ایسا نہیں ہے۔ دنیا جو سوچ رہی ہے اس طرح نہیں ہے، ہم لوگ اس طرح یہاں پر نہیں ہیں جس طرح لوگ سوچ رہے ہیں کہ ہم بڑے مزے کر رہے ہوں گے۔ یہ اس PA کی بات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مردوں نے ایک تماشہ بنایا ہوتا ہے۔ فطری چیزیں ہوتی ہیں نا، دیکھیں نا، یعنی ہر شخص کا اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک معیار رکھا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر جو عورتوں کا کام ہے، اس کی اللہ پاک نے وہ صلاحیتیں عورتوں کو ہی دی ہیں۔ وہ بہترین طریقے سے وہی کر سکتی ہیں۔ اور جو مردوں کے کام ہیں، اس کی صلاحیت بہترین طور پر مردوں کو دی ہے۔ یعنی عورتیں بھی وہ کام کر سکتی ہیں، لیکن اس طرح نہیں جس طرح کہ مرد کریں گے۔ اور عورتوں کے کام مرد بھی کر سکتے ہیں، لیکن اس طرح نہیں کہ جس طرح مثلاً بچوں کو چپ کرانا، مرد چپ کرا سکتے ہیں، عورتیں چپ کرا سکتی ہیں۔ بچوں کے ساتھ پیار کرنا، بچوں سے کام لینا، بچوں کی تربیت کرنا، بچوں کو پڑھانا۔ یہ سارے کام جو ہیں نا، یہ عورت ما شاء اللہ بہترین طریقے سے کرتی ہے۔ ان کے پاس حوصلہ بھی ہوتا ہے اس کا، ان میں برداشت بھی ہوتی ہے۔ ان میں محبت بھی اس level کی ہوتی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ مجھے پہلی نماز جو پڑھانے والے تھے جس ہم اس کو پشتو میں کہتے ہیں "نماز پہ کھڑا کرنا"۔ یعنی ابتدا کروانا۔ تو میرے والد صاحب مجھے کروا رہے تھے تو والد صاحب میں جب غلطی کرتا تھا تو اس پہ غصے سے: "یہ کیوں کیا؟ یہ کیوں کیا؟" تو ہماری چچی تھی وہ والد صاحب سے بھی عمر میں زیادہ تھی۔ وہ آگئی، "یہ کیا کر رہے ہو؟ اس طرح کوئی پڑھاتے ہیں؟ پیچھے ہو جاؤ۔" ان کو پیچھے کیا اور میرے ساتھ بیٹھ گئی اور اس نے بڑے پیار سے مجھے ساری چیزیں سمجھا دیں کہ اس طرح ہوتا ہے، اس طرح کرتے ہیں، اس طرح کرتے ہیں، بار بار سمجھائی۔ اب دیکھو واضح فرق! واضح فرق ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو صلاحیتیں ہوتی ہیں اللہ پاک نے تقسیم کی ہوئی ہیں۔ تو جو چیزیں اللہ پاک نے مردوں کو اچھی دی ہوئی ہیں، وہ ان کاموں کے لیے دی ہوئی ہیں جن کے لیے مرد ہیں۔ اور جو عورتوں کے کام ہیں، وہ ان کو اس لیے دیے گئے ہیں کہ وہ عورتوں کے کام ہیں۔ اب اگر ہم اپنے اپنے کام پر مثال کے طور پر اللہ پاک نے کسی کو انجینئرنگ کے لیے پیدا کیا ہے، آپ اس کو زبردستی ڈاکٹر بنانا چاہیں، تو کیسا ڈاکٹر بنے گا؟ ایک بس چلتا ہوا ہوگا، کوئی خاص ذات نہیں ہوگا۔ جبکہ وہ اگر انجینئرنگ میں آجائے تو بہت آگے چلا جائے گا۔ دوسرا آدمی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹری کے لیے پیدا کیا ہے، اس کو آپ انجینئر بنانا چاہیں تو نہیں بن سکتا۔ وہ ایک بس ویسے ہی عام قسم کا ہوگا، لیکن یہ بات ہے کہ جب وہ ڈاکٹری میں آئے گا تو بہت اچھا ہوگا۔ یہ مزاجوں کی باتیں ہم مانتے ہیں۔
تو اسی طریقے سے مرد اور عورتیں، ان کے مزاجوں میں تو بہت زیادہ فرق ہے، drastic فرق ہے۔ تو ہم کیسے مان لیں کہ جو عورتیں کام کر سکتی ہیں، وہ مرد کر لیں، اور جو مرد کام کر سکتے ہیں وہ عورتیں کریں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ بالکل قدرتی نظام کے خلاف بات ہے۔ اس کو ہم اب یہ بات لمبی ہو رہی ہے، لیکن میں صرف عرض کرتا ہوں کہ مردوں کے ذمے ہیں باہر کے کام۔ باہر کے کام۔ کیوں؟ باہر کا جو ماحول ہے ایسا نہیں ہے کہ آپ اپنی حفاظت کر سکیں۔
دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ ہوا یہ کہ میں ایک دن lunch کے لیے جا رہا تھا اپنے دفتر میں۔ اور میں نے قراقلی ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ اور وہ قراقلی ٹوپی جو تھی، اس کا رنگ ایسا تھا جیسے قیمہ ہوتا ہے۔ میں جا رہا تھا، دھوپ تھی۔ تو میں نے دھوپ میں دیکھا کہ ایک پرندہ، چیل جیسا میرے اوپر جھپٹ رہا ہے۔ سایہ میں نے دیکھ لیا۔ تو مجھے فوراً یاد آیا کہ قراقلی پہ تو نہیں آ رہا؟ تو میں نے فوراً قراقلی کو اپنے ہاتھ میں لیا اور وہ جو ہے نا اس طرح dive کر کے اس طرح نکل گیا۔ بالکل وہی چیز تھی۔ اب ذرا دیکھیں میں نے کہا کمال کی بات ہے، چونکہ اس کو قیمہ نظر آیا نا کہ یہ قیمہ ہے، تو اس نے اس پر حملہ کر دیا حالانکہ قیمہ نہیں تھا۔ یہ اس کی فطرت ہے۔تو ایسی صورت میں میرا ذہن اس طرف چلا گیا کہ جو عورتیں بے پردہ streets میں جا رہی ہوتی ہیں۔ تو ارد گرد سارے لوگ شریف تو نہیں پھر رہے نا؟ ہر قسم کے لوگ ہیں۔ ان کی اپنی اپنی خواہشات ہیں۔ اگر کسی کا بس چلے، تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اب مردوں میں تو پھر کچھ نہ کچھ resistance کا مادہ ہوتا ہے، عورتیں کیا کریں؟ اس وقت بڑے مسائل ہوتے ہیں۔ گاڑی چلا رہی ہے، ٹھیک ہے جی گاڑی چلا لو۔ puncture ہو جائے اور ایسی جگہ ہو جائے جہاں پر ویرانہ ہو یا کوئی اور۔ اب پھر پریشان۔ یہ ساری باتوں کو ہمیں سوچنا ہے۔
تو جو عورتیں باہر پھر رہی ہوتی ہیں، وہ مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔ تو بہت سارے مسائل کا جو شکار ہوتی ہیں، وہ اپنی شرم کی وجہ سے پھر بتاتی بھی نہیں، لیکن experience ان کو ہوتے رہتے ہیں۔ مطلب مسائل تو ہوتے رہتے ہیں۔ وہاں Europe میں بھی مجھے ان Europe والوں لوگوں نے کہا کہ بہت ساری چیزیں report نہیں ہوتیں۔ لیکن ہوتی رہتی ہیں اور یہاں پر بھی ہوتی رہتی ہیں۔ کوئی کوئی چیز report ہو جاتی ہے، کوئی چیز report نہیں ہوتی۔ تو یہ مسائل ہیں۔
تو ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک خاتون تھی، مجھ سے بیعت تھی۔ اسلامی یونیورسٹی میں evening classes میں ان کو admission مل گیا۔ مجھ سے phone پر پوچھا۔۔۔
"شاہ صاحب! مجھے evening class میں admission مل گیا ہے تو میں join کروں؟"
میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ نے مجھ سے نہ پوچھا ہوتا نا، تو پھر تو میں کچھ نہ کہتا کیونکہ ظاہر ہے وہ تو آپ ہی تک بات ہوتی۔ اب مجھ سے پوچھا ہے، مجھ سے بھی اللہ پوچھے گا۔ تو پھر میں آپ کو ان حالات میں جو آج کل ہیں، اس میں تو آپ کو afternoon classes میں جانے کا جس میں مغرب کے بعد آنا ہو، یہ میں مشورہ نہیں دے سکتا۔ وہ رو پڑی۔ "شاہ صاحب! یہ تو بڑی مشکل سے مجھے admission ملا" میں نے کہا میں اس کو نہیں جانتا۔ یہ صرف آپ نے پوچھا ہے، جو میں نے سمجھا ہے آپ کو جواب دیا۔ اس کے علاوہ کیا کرنا ہے، نہیں کرنا وہ تو آپ فیصلہ کریں گی۔ البتہ یہ ہے کہ مجھے یہ محفوظ نظر نہیں آ رہا۔
خیر بات ہو گئی، چند دنوں کے بعد اس نے خواب دیکھا۔ خواب دیکھتی ہے کہ کہتی ہے مجھے کوئی شخص کہہ رہا ہے کہ آپ مغرب کے بعد اپنے گھر سے بالکل نہ نکلیں۔ بھیڑیے، کتے اور اس طرح مختلف جانوروں کے نام لے لیے، وہ باہر پھر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی جانور آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تو جب اس نے مجھے خواب سنایا میں نے کہا میں نے آپ کو کچھ کہا تھا نا؟ کہتی ہے :"ہاں"، میں نے کہا یہ وہی چیز ہے۔ تو اس نے join نہیں کیا، الحمد للہ۔ وہ join نہیں کیا، اور کچھ ہی دنوں کے بعد ان کی شادی ہو گئی۔ چلی گئی اپنے شوہر کے ساتھ ما شاء اللہ۔ اللہ پاک نے بندوبست کر لیا۔
اب بس یہی بات ہوتی ہے، ہم شریعت کی بات کو مان لیں، اللہ پاک بہت مہربان ہے۔ ہم لوگ اصل میں جلدی مچانا چاہتے ہیں۔ تو جلدی مچانے سے جو مسئلے ہوتے ہیں وہ تو پھر ہوتے ہیں نا۔ تو اس وجہ سے ہمیں شریعت پر پکا یقین رکھنا چاہیے کہ جس نے یہ شریعت بنائی ہے نا، وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اور ہر چیز پر اس کو قدرت ہے۔ اس وجہ سے ہم لوگ جو بالکل تھوڑا جانتے ہیں۔ اب مثال کے طور پر مجھے اس دیوار کے پیچھے نظر نہیں آ رہا کہ کیا ہے۔ اس چھت کے اوپر نظر نہیں آ رہا کہ کیا ہے۔ اس فرش کے نیچے کیا ہے، مجھے نہیں معلوم۔ اور ساتھ ایک second کے بعد کیا ہونے والا ہے، مجھے نہیں پتا۔ اب میں جو کچھ بھی ڈیزائن کر رہا ہوں، وہ اپنی کم علمی کے ساتھ ڈیزائن کر رہا ہوں۔ جس میں بہت ساری چیزیں مجھے نہیں معلوم۔ اور اللہ تعالیٰ جو حکم دے رہے ہیں، وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے۔ تو وہ بات صحیح ہوگی یا ہماری بات صحیح ہوگی؟
تو اس لحاظ سے ہم لوگوں کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ پاک نے جو نظام بنایا ہے نا، اس میں بہت حکمتیں ہیں۔
اب دیکھیں میں آپ کو بات بتاؤں، ذرا تھوڑی سی میں کھل کے بات کروں اس کی وجہ یہ ہے کہ مجبوری ہے اب یعنی حالات ایسے ہیں۔ مقناطیس، positive, negative poles ہوتے ہیں، ان میں آپس میں attraction ہوتی ہے۔ آپ ان کو قریب لائیں گے نا، تو یہ ان کی فطرت ہے کہ وہ ملیں گے۔ بجلی کی مثبت اور منفی تار میں ظاہر ہے وہ ہوتی ہے اگر وہ ہو جائے تو short circuit ہو جاتا ہے۔ یہ نظام اللہ نے بنائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ان سب میں فائدے ہیں۔ مقناطیس میں اگر یہ چیز نہ ہو تو مقناطیس کیسے استعمال ہوتا؟ یہی تو اس میں فائدے ہیں۔ اس طریقے سے بجلی کی تاروں میں یہ چیز نہ ہو تو بجلی کی تار، بجلی کیسے استعمال ہو؟ ظاہر ہے وہ چیزیں ہیں، آپ نے صرف اس کو organize کرنا ہے۔ arrange کرنا ہے، پانی ہے، پانی تباہی پھیلاتا ہے اگر خود بخود جائے، لیکن اس کے سامنے بند باندھو تو وہی آپ کے لیے irrigation ہے، وہی آپ کے لیے power generation ہے۔ اچھا یہ ایٹمی طاقت جو ہوتی ہے، یہ اگر out of control ہو تو ایٹم بم ہے۔ اگر control میں ہو جائے تو atomic reactor ہے۔
گویا کہ جو بھی چیز ہے، اللہ نے جو پیدا کی ہے، اس کو اگر آپ organize کر لیں تو اس سے آپ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اب دیکھیں اللہ میاں نے مرد کے اندر بھی خواہشات رکھی ہیں، عورت کے اندر بھی خواہشات رکھی ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتا، تو شادی نہ ہوتی، نسل نہ بڑھتی۔ تو حکمت ہے اس میں۔ اللہ پاک نے اس میں حکمت اب دیکھو اگر کھانے میں لذت نہ ہو، اگر کھانے میں لذت نہ ہو، تو کھانا کون کھائے؟ وہ تو دوائی بن جائے۔ جیسے زبردستی ہم کڑوی دوائی بھی کھاتے ہیں، تو اس طرح ہر ایک زبردستی کھانا کھاتا، تو کتنا کھاتا؟ ایک مسئلہ ہوتا۔ لیکن اللہ پاک نے کھانے میں لذت رکھی ہے۔ اس لذت کی وجہ سے لوگ کھاتے ہیں۔ تو اسی طریقے سے یہ جو آپس میں مخالف جنس میں جو اللہ پاک نے وہ رکھی ہے انجذاب والی، تو یہ چیز جو ہے نا کیا ہے، یہی کام آتی ہے۔ لیکن اس کو organize کرنا ہے۔ organize کرنا ہوتا ہے، تاکہ اس سے وہ کام لے لیا جائے جس کے لیے یہ ہے۔ اب وہ organize کا مطلب کیا ہے؟ وہ شادی ہے۔ وہ شادی ہے۔ اب شادی ہو جائے تو بس ٹھیک ہے، مقصد پورا ہو گیا، بس اس کے بعد پھر ہر ایک اپنا اپنا کام کرے گا۔ اور اگر- نعوذ باللہ من ذالک- شادی کے بغیر اس کو وہ رکھے، تو ظاہر ہے کیا ہوگا؟ ایک فتنہ ہی ہے، ایک مصیبت ہی ہے، ایک پریشانی ہے۔ جیسے short circuit سے ہوتا ہے اور دوسری چیزوں سے ہوتا ہے، وہ ایک مسئلہ ہے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اس حکمت کو سمجھنا چاہیے۔
ایک بات میں بہت عرض کرنا چاہوں گا، ضروری ہے۔ یورپ، امریکہ یا دوسرے ممالک کے جو لوگ ہیں، ان کے ہاں جو قانون سازی ہے وہ انسان کی اپنی ذہنی ساخت سے ہے۔ انسان نے اپنے ذہن سے جو بنایا، وہ بنا لیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے اپنے جذبات، اپنی خواہشات کے مطابق اس کو رکھا ہے۔ تو وہ کیا کہتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں زبردستی جو ہے وہ تو جرم ہے، اور آپس میں مرضی سے جو کچھ بھی ہو وہ جرم نہیں ہے۔ آپس میں جو مرضی سے ہو، جرم نہیں ہے۔ یہ ان کا قانون ہے۔ اور اس پر وہ پکڑتے بھی ہیں، اس پر سزائیں بھی دیتے ہیں، اس پر یہ سب کچھ کرتے ہیں، اور چھوڑ بھی دیتے ہیں۔ یعنی اگر مرضی سے ہو تو پھر چھوڑ بھی دیتے ہیں۔ جبکہ ہم لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ ہمارا قانون ہم نے نہیں بنایا۔ وہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہے۔ اللہ جل شانہ نے زبردستی کو الگ جرم رکھا ہے، اور رضامندی والی بات اگر اللہ تعالیٰ کی شریعت کے خلاف ہو تو وہ الگ جرم ہے۔ اب اگر غیر شادی شدہ ہے تو کوڑے ہیں۔ اگر شادی شدہ ہے تو سنگساری ہے، اور وہی والی بات ہے۔ اور اگر زبردستی ہے تو جس پہ زبردستی ہے وہ بچ گیا اور جس کی زبردستی ہے اس کو سزا ہو گی۔ یہ نہیں کہ کوئی رضامندی ہو تو پھر اس کے بعد پھر وہ جرم نہ رہے، نہیں نہیں۔ ہمارے ہاں یہ بات نہیں ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیزیں ہماری نہیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے میرا جسم میرا ہے۔ میرا جسم میرا نہیں ہے، میرا جسم بھی اللہ تعالیٰ کا ہے۔ میرا مال بھی اللہ تعالیٰ کا ہے۔ میری جو بھی ملکیت ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کی ہے، وہ صرف اللہ پاک نے ہمیں آزمائش کے لیے دی ہے۔ اس میں سے ہمیں صرف آزمایا جا رہا ہے۔ کہ ہم اس کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔ باقی ہے تو سب کچھ اللہ تعالیٰ کا۔ لہٰذا اللہ جل شانہ نے اس میں جو احکامات دیے ہیں، ان احکامات کے مطابق اگر ہم چلیں گے تو پھر تو ہماری بات بنے گی، ورنہ بغاوت ہو گی۔ جرم ہو گا۔
تو یہ جو نعرے لگتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، ہمیں اللہ تعالیٰ ایسے نعرے نہ سننے دے، یہ وہ بہت بے باک نعرے ہیں کہ "ہمارا جسم ہماری مرضی"۔- إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ- یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مرضی اللہ کی ہے۔ شریعت اللہ پاک نے بھیجی ہے، اس کے مطابق سب کچھ ہوگا۔ دیکھیں، یہ جو ہمارا ملک ہے، اس کا آئین اسلامی ہے۔ اس آئین میں یہ لکھا ہوا ہے کہ کوئی بھی چیز، کوئی بھی قانون اسلام کے اصولوں کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ باقاعدہ لکھا ہوا ہے۔ لہٰذا ہم یہاں پر پابند ہیں کہ کوئی ایسا نعرہ نہ کسی کو لگانے دیں، جو اس اسلامی قانون کے خلاف ہو۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کہ وہ اس چیز کو نافذ کر لے کہ کوئی بھی نعرہ ایسا جو غیر اسلامی ہو، وہ لوگ نہ لگا سکیں۔لیکن اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ تو لوگوں کو اس کے خلاف کام کرنا چاہیے۔ کہ ایسے نعرے نہ لگیں۔ یہ ہماری جس کو کہتے ہیں شناخت کے خلاف ہے۔ ہمارا ملک اور اسرائیل، یہ دو ملک نظریے پہ بنے ہیں۔ اس کے علاوہ جتنے ممالک بنے ہیں وہ علاقائی بنیادوں پہ اور زبان پہ اور نسل پہ اور ان چیزوں پہ بنے ہیں۔ یہ دو ملک جو ہیں نا نظریے، پہ بنے ہیں، پاکستان اور اسرائیل۔ اسرائیل یہودی نظریے پہ بنا ہوا ہے، پاکستان اسلامی نظریے پہ ہے۔ باقاعدہ اس کے بنانے میں جو محنت تھی، اس میں نعرہ کیا ہوتا تھا؟ پاکستان کا مطلب کیا، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ۔ پاکستان کا مطلب کیا، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ۔ اس پر ہم لوگوں نے ملک حاصل کیا ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی ایسا کام جو اس نعرے کے خلاف ہو، وہ نہیں ہونا چاہیے۔
اب دیکھیں ہماری اس وزارت مذہبی امور کے وزیر نے کہہ دیا کہ بجائے اس کے کہ ہم عورت مارچ، وہ کر لیں، ہمیں حجاب مارچ بالکل صحیح بات کی ہے۔ حجاب ہمارے اسلام میں حکم ہے۔ لہٰذا اس کا مارچ ہم نکالیں اور اس پر ظاہر ہے وہ بالکل ٹھیک ہے، صحیح ہے، اسلام کے مطابق ہے۔ یہ کہہ رہی ہیں جس کی مرضی حجاب مارچ نکالے، جس کی مرضی عورت مارچ نکالے۔ معاملہ تو خراب ہو گیا پھر۔ اجازت ہی نہیں دینی چاہیے عورت مارچ کی۔ چونکہ ہمارے ملک کے آئین کے خلاف ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کوئی شیطانی کر لے تو وہ بھی ٹھیک ہے اور کوئی اللہ کی طرف جائے تو وہ بھی ٹھیک ہے۔ یہ باتیں دونوں تو ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔ اللہ کی بات ٹھیک ہے اور شیطان کی بات غلط ہے۔ اس کو ہمیں سمجھنا چاہیے۔
باقی یہ ہے کہ دوسروں سے تو ہمیں کوئی وہ نہیں ہے کیونکہ ظاہر ہے پتا نہیں وہ کب ہماری بات سنتے ہیں اور کب نہیں سنتے، وہ تو ان کی بات ہے۔ لیکن جو اپنے ہیں، کم از کم وہ سوچ لیں اس کو۔ اور جتنی حکمت کے ساتھ ہو سکتی ہے، باقی عورتوں کو سمجھائیں۔ کہ آپ اپنے پاؤں پہ خود کلہاڑی مار رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کی حفاظت کے لیے جو بندوبست فرمایا ہے، اس کے خلاف بول کر تم اپنا نقصان خود کر رہی ہو۔
ابھی ابھی ایک عورت کے قتل پر سزا ہوئی ہے ۔ سزائے موت ہوئی ہے۔ اب میں یہ نہیں کہتا ہوں جو فوت ہو گیا، وہ فوت ہو گیا، اس کی باتوں کو دوبارہ نہیں سامنے لانا چاہیے۔ لیکن صرف اس بات کو سمجھانے کے لیے میں عرض کرتا ہوں، یہ بھی ان عورتوں میں تھی جو عورت مارچ والی تھیں، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ یہی نعرے اس نے لگائے تھے جو جس طرح، جو "ہمارا جسم ہماری مرضی"، یہ نعرے اس نے لگائے ہوتے تھے، تو اب دیکھو نا نتیجہ کیا ہوا؟ کدھر گئی؟ ٹھیک ہے اس کے ساتھ ظلم ہوا، یہ نہیں کہ سزا جو اس کو ہوئی بالکل صحیح ہوئی ہے۔ لیکن اس نے خود اپنے لیے ہونے دیا یہ۔ دو دن گھر سے غائب رہی، گھر والوں کو کچھ بتایا، ہوتا کچھ تھا۔ یہی تو کہتا ہوں کہ وہی بھیڑیے اور گدھ اور وہ یہ جو کتے اور یہ چیزیں تو معاشرے میں ہیں نا۔ تو آپ گھر سے باہر ہیں اور آپ کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہے اور پھر آپ ان سے گلہ کریں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
تو یہ سب کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے کہ یہ چیزیں ہوتی ہیں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ لوگ اخبار پڑھتے ہیں، اخبار میں بہت ساری چیزیں آتی ہیں اور یہ جو میں باتیں عرض کر رہا ہوں بالکل اس قسم کی ساری باتیں ہو رہی ہیں۔ لیکن پھر وہی ہماری نفسانی خواہشات درمیان میں آ جاتی ہیں اور ہم وہ چیزیں بھول جاتے ہیں۔ اور اکثر لوگ کہتے ہیں ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔ ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔ یہ کیسے نہیں ہو گا؟ کیا پتا؟ ہمارے سرخاب کے پر تو نہیں لگے ہوئے؟ مطلب ظاہر ہے کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ میں نہیں کہتا ہوں کہ اب دیکھو نا ایک بچہ ہے یہاں سے جا رہا ہے بازار، عین ممکن ہے کہ بالکل صحیح سلامت پہنچ جائے، واپس بھی آ جائے۔ لیکن کیا ماں باپ اس کو اس طرح کھلا چھوڑ دیں گے چار پانچ سال کے بچے کو؟ کہ چلو ٹھیک ہے تم بازار جاؤ پھر واپس آ جاؤ، چھوڑ دیں گے؟ نہیں چھوڑ سکتے۔ ان کو خیال ہے کہ بھئی موٹرسائیکل چلا رہے ہیں آج کل، یہ بچے چلا رہے ہوتے ہیں۔ بچے کیا کرتے ہیں ان کو تو پروا ہی نہیں ہوتی۔ وہ تو صرف موٹرسائیکل کی race میں، جو آواز آتی ہے، اس کے اوپر مست ہوتے ہیں۔ اب اس کے بعد جو اس کا نتیجہ کچھ بھی ہوتا ہے، اس سے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
تو بہرحال میں یہ عرض کرتا ہوں کہ یہ، یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں کہ جس طرح ہم بچے کو نہیں چھوڑ سکتے، تو ہمارا جو نفس ہے نا نفس، یہ بچے سے بھی زیادہ نادان ہے۔ بچہ پھر بھی کچھ نہ کچھ سمجھدار ہوتا ہے۔ کسی نہ کسی درجے میں وہ سمجھتا ہے۔ کیونکہ وہ learning کرتا ہے ساتھ ساتھ۔ لیکن جو نفس ہے نا، اس کی خواہشات ہر وقت اس کے سامنے ہوتی ہیں، وہ کسی اور چیز کو نہیں دیکھتا۔ وہ نہ آپ کے قانون کو دیکھتا ہے، نہ آپ کے جذبات کو دیکھتا ہے، نہ آپ کے احساسات کو دیکھتا ہے، وہ صرف اپنی خواہش کو دیکھتا ہے، بس وہ تمام چیزیں ۔ جب ایسی بات ہے تو اپنے نفس کو لگام دینا ضروری ہوتا ہے۔ اس کو control کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اب میں کیسے control کروں؟ اس کا کیا control کروں، کیا نہ control کروں؟ اس میں guidance کی ضرورت ہے نا۔ وہ guidance کون دے گا؟ ظاہر ہے اگر guidance اللہ پاک نے دی ہے تو پھر اس guidance کو لو۔ تو کیسے دی ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باتیں فرمائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تین باتیں؛ قولی، فعلی اور تقریری۔ ان کو ظاہر ہے ما شاء اللہ محدثین نے نوٹ کر لیا، پھر اس کے بعد فقہائے کرام نے اس سے مسئلے نکالے۔ اور وہ ہمارے سامنے پوری چیزیں آگئیں کہ کیا کرنا چاہیے، کیا نہیں کرنا چاہیے۔
مثال کے طور پر ایک عورت کو گھر سے باہر نکلنا چاہیے، نہیں نکلنا چاہیے؟ تو لکھا ہے، بغیر ضرورت کے بالکل نہیں نکلنا چاہیے۔ بغیر ضرورت کے بالکل نہیں نکلنا چاہیے۔ اچھا، ضرورت سے باہر نکلیں تو کیسے نکلیں؟ تو ایک تو خوشبو نہ لگائیں، تیز خوشبو نہ لگائیں۔ دوسری بات حجاب میں ہوں۔ تیسری بات یہ ہے کہ راستے کی بالکل side side پہ جائیں، بالکل درمیان میں نہ جائیں۔ پھر یہ کہ جو کام ہے اس کا، وہ ہو جائے فوراً فوراً واپس۔
یہ مطلب پابندیاں، اور گھونگھٹ نکالنا، اور پتا نہیں اس کی اور بہت ساری تفصیلات ہیں۔ وہ تفصیلات اپنی آرائش کو چھپانا، کہ شکر الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے کہ نظر لگتی ہے۔ آپ کہیں گے بھئی کس پہ شکر نکال رہے ہو؟ شکر ہے کہ نظر لگتی ہے ورنہ پتا نہیں مالدار لوگ غریبوں کی زندگی اجیرن کردیتے یعنی وہ اپنی آسائش کو، تمام چیزوں کو ظاہر کرتے تو ظاہر ہے ان کے دل پہ کیا گزرتی؟ ان کے پاس وہ چیزیں نہیں تھیں۔ اب کم از کم نظر کے ڈر سے تو چھپاتے ہیں نا۔ تو اسی طریقے سے یہ جو آرائش ہے خواتین کی، زیور ہے یا جو آرائش کی چیزیں ہیں یا جگہیں ہیں، ان کو چھپانا ہی خیر ہے۔ ان کو چھپانا ہی خیر ہے۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ جتنا exposure ہو گا اتنا نقصان، اس کی وجہ سے تکالیف ہو سکتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے اور ہمیں اس چیز کو دل سے ماننا ہے۔ ورنہ پھر کیا ہو گا؟ پھر اس کے جو نتائج ہیں، بعض دفعہ بڑے سنگین نتائج آتے ہیں۔
ایک شریف زادی اپنے گھر میں ہوتی ہے، لیکن کہیں بے احتیاطی ہو چکی ہوتی ہے۔ بدمعاشوں کو پتا چل جاتا ہے۔ پھر وہ ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔ وہ ٹوہ میں جو لگے رہتے ہیں ان کو کبھی موقع مل جاتا ہے، کسی وجہ سے موقع مل جاتا ہے۔ پھر حادثات ہو جاتے ہیں۔ پھر روتے رہتے ہیں، پھر کہتے ہیں ایسا کیوں ہوا؟ اگر بے احتیاطی نہ ہو، تو ان چیزوں تک بات ہی نہ پہنچے، اور یہ انسان محفوظ رہے۔ اس وجہ سے ہر طرح سے اپنے آپ کو حفاظت میں رکھنا چاہیے۔ یہ شادی بیاہ کے موقع پہ نہیں عورتیں احتیاط کرتیں، اکثر عورتوں کا پتا اس وقت چلتا ہے۔ نہیں احتیاط کرتیں۔ پردے کا اہتمام نہیں ہوتا۔ تو ایسی صورت میں پھر مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، بعد کے لیے۔ تو ہمیں اپنی بچیوں کو بہت سکھانا چاہیے یہ چیزیں، کہ یہ ہماری ضرورت ہے اور ہمیں اس پر عمل کرنا چاہیے، ورنہ اس کا نقصان ہم سب کو بھگتنا پڑے گا۔
خیر، شرم و حیا، اس پر میں بات کر رہا تھا، بات بڑی لمبی ہو گئی۔ حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کتاب ہے، اس میں بہت عمدہ اس پر لکھا ہے، ما شاء اللہ اس موضوع پر۔ تو اب میں تو نہیں آپ کو پڑھ کے سنا سکا، ٹائم تھوڑا ہے، لیکن اس کو خود پڑھ لیجیے گا۔ بہت عمدہ ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ اس کا جو photo ہے، یہ میں اپنے group کے اوپر لگا دوں۔ تو پھر یہ ہے کہ ان شاء اللہ اس کو خود پڑھ لیجیے گا کہ شرم و حیا ہے کیا چیز ؟اور یہ کتنی ضروری ہے۔ تھوڑا سا سنا دیتا ہوں، تاکہ برکت بھی ہو جائے اور آپ کو پتا بھی چل جائے کہ کس انداز میں لکھا ہے۔
"انسان کا یہ وہ فطری وصف ہے جس سے اس کی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی پرورش ہوتی ہے۔ عفت اور پاکبازی کا دامن اسی کی بدولت ہر داغ سے پاک رہتا ہے۔ درخواست کرنے والوں کو محروم نہ پھیرنا اسی وصف کا خاصہ ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مروت اور چشم پوشی اسی کا اثر ہے، اور بہت سے گناہوں سے پرہیز اسی وصف کی برکت ہے۔ اس وصف سے متصف سب سے پہلے خود اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس کے معنی یہاں وہی ہوں گے جو اس کی ذاتِ اقدس کے لائق ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ اپنے بدکار بندوں کو برائی کرتے دیکھتا ہے، لیکن ان کو اس وقت پکڑتا نہیں ہے۔ اس کے آگے جو بھی ہاتھ پھیلاتا ہے، اس کو نامراد نہیں لوٹاتا۔ حدیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عزت اور جلال والے اللہ کے آگے جب کوئی بندہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر کچھ بھلائی مانگتا ہے، تو اس کو نامراد لوٹاتے ہوئے شرماتا ہے۔"ایک دفعہ تین صاحب مسجدِ نبوی میں آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد صحابہ کا حلقہ تھا۔ ایک صاحب کو وہاں ذرا سی جگہ ملی، وہ اس میں بیٹھ گئے۔ دوسرے صاحب شرما کر پیچھے بیٹھ گئے۔ تیسرے صاحب چلے گئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں ان صاحبوں کی خبر نہ دوں؟ جو حلقہ کی ذرا سی جگہ میں آکر بیٹھا، وہ اللہ کی پناہ میں آیا، تو اللہ نے اسے پناہ کی جگہ دی۔ اور جو پیچھے جا کر بیٹھا وہ شرمایا، تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی (یعنی معاف کیا)۔ اور جو چلا گیا اس نے اللہ سے منہ پھیرا، تو اللہ نے بھی اس سے منہ پھیرا۔“
مطلب یہ والی بات۔ سورہ بقرہ میں ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً۔
اللہ کوئی مثال بیان کرنے سے شرماتا نہیں، یعنی کسی حق بات کے ظاہر کرنے میں وہ شرماتا نہیں۔ جیسے قرآن پاک میں دوسری جگہ ہے:
وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ
اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔ حدیث میں بھی ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ
اللہ تعالیٰ حق کے اظہار سے شرماتا نہیں۔ قرآن اور حدیث کے اس طرزِ ادا سے ظاہر ہے کہ جو بات حق کے خلاف ہے، اس کی نسبت اللہ کی طرف، اللہ کی غیرت و حیا کے خلاف ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے، "اللہ سب سے زیادہ غیرت مند ہے، اس لیے اس نے بدکاریوں کو حرام کیا ہے۔" اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیرت مند ہے، اس لیے اس نے بدکاریوں کو حرام کیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو مدین کے سفر میں جن دو لڑکیوں سے سابقہ پڑا تھا، وہ اگرچہ بدویانہ زندگی بسر کرنے کی عادی تھیں، تاہم یہ وصف ان میں ایسا نمایاں تھا کہ اللہ نے بھی اس کا ذکر کیا۔ ان کی عادت تھی کہ جب تک تمام لوگ اپنے اپنے مویشیوں کو پانی پلا کر پلٹ نہ جاتے، تو اپنے مویشیوں کو پانی نہیں پلاتی تھیں، تاکہ مردوں کی کشمکش سے الگ رہیں۔جب ان کے باپ نے ان میں سے ایک کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بلانے کے لیے بھیجا، فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاء تو ان دو لڑکیوں میں سے ایک شرماتی ان کے پاس آئی۔ اس آیت میں واقعہ کے اظہار کے ساتھ اس حیا والی لڑکی کی مدح و ستائش بھی مقصود ہے۔"
یہ وصف انسان میں بچپن سے فطری ہوتا ہے۔ اور اس کی مناسب تربیت کی جائے تو قائم رہتا ہے۔ بلکہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور اگر بری صحبت لگ جائے اور اچھے لوگوں کے ساتھ نہ رہے تو جاتا بھی رہتا ہے۔ اس لیے اسلام نے اس کی مناسب نگہداشت کرنے کا حکم دیا، سترِِعورت کا خیال، نگاہیں نیچے رکھنا، بے حیائی کی باتوں کو بولنے اور دیکھنے سے روکنا، برہنگی کو منع کرنا، یہاں تک کہ غسل خانوں اور خلوت میں بھی اس کی اجازت نہ دینا، اس لیے کہ آنکھیں شرم کے منظر سے جھپکتی رہیں۔ اگر تھوڑی تھوڑی بے حیائی کی جرات بڑھتی جائے گی تو رفتہ رفتہ انسان پکا بے حیا بن سکتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بچے تھے تو خانہ کعبہ کی تعمیر کا کام ہو رہا تھا۔ آپ اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔ آپ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا، تم تہبند کھول کر کندھے پر رکھ لو کہ اینٹ کی رگڑ نہ لگے۔ آپ نے ایسا کیا۔ آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ ہوش آیا تو زبانِ مبارک پہ تھا، میرا تہبند، میرا تہبند۔
عباس رضی اللہ عنہ نے تہبند باندھ دیا۔ نبوت کے بعد بھی آپ کا یہ حال تھا کہ صحابہ کہتے تھے:
كَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے۔ بعض موقعوں پر آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی مگر شرم کے مارے زبان سے نہیں کہتے تھے۔ جیسے کہ سورہ احزاب میں مذکور ہے:
إِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ
تمہاری اس بات سے رسول کو ایذا پہنچتی تھی تو تم سے وہ شرماتا تھا۔
خیر یہ تو پورا مضمون ہے، آپ اس کو مطلب یعنی اس کو پڑھ لیں۔ لیکن یہ ہے کہ اس کے ساتھ بہت ساری اچھی صفات attach ہوتی ہیں۔ اگر ہم میں حیا آ جائے تو حیا ۔۔۔اصل میں دیکھیں ایک بات سن لیں کہ جہاں شرمانا ہے وہاں تو شرمانا ہے، اور جہاں نہیں شرمانا وہیں نہیں شرمانا۔ یہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں۔ مثلاً علم کے حاصل کرنے میں شرمانا نہیں ہے۔ حق بات کہنے میں شرمانا نہیں ہے۔ ابھی بات گزری ہے۔ اور ایسے جس سے شرمانے کای اجازت بھی ہے ، حکم بھی ہے تو وہاں شرمانا چاہیے ۔
مثال کے طور پر دیکھیں نا، یعنی عورت، مستورات، دیکھو دو نام ہیں۔ دونوں میں کون سی چیز مشترک ہے؟ عورت اور مستورات میں کون سی چیز مشترک ہے؟ چھپانے والی بات مشترک ہے۔ تو اس کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر اس قسم کی چیزیں ہیں کہ وہ چھپانے جو بھی قیمتی چیز ہوتی ہے اس کو انسان چھپاتا ہے۔ یا یوں سمجھ لیجیے قیمتی چیز میں ذرا میرے خیال میں confusion ہو جائے گی۔ میں کہوں گا جس چیز کی تلاش میں بہت سارے لوگ ہوں۔ جو بہت سارے لوگ حاصل کرنا چاہتے ہوں، ان کو چھپایا جاتا ہے۔ بس جس چیز کو نظر لگتی ہو، تو اس کو بھی چھپایا جاتا ہے۔ تو کیوں؟ مطلب ظاہر ہے اپنے آپ کو نقصان سے بچایا جاتا ہے نا۔اس طریقے سے کسی کی، ڈاکو کی نظر، کسی کی وہ اس کی نظر، وہ اگر لگ جائے تو پھر تو ہو جاتا ہے۔ تو اس طرح یعنی یہ جو چیزیں ہوتی ہیں، انسان کو چھپانی ہوتی ہیں مجبوراً۔ کیونکہ اگر نہ چھپائے، تو باقی لوگ تو پروا نہیں کرتے۔ وہ تو آپ کی طرح شریف نہیں ہوں گے، وہ تو موقع ڈھونڈ کر جو بھی کام کرنا چاہتے ہیں وہ تو کر لیں گے۔ تو ایسی صورت میں یہ چھپایا جاتا ہے۔
اب اس میں جو عورت ذات ہے اس کو اللہ پاک نے جو صفات دی ہوئی ہیں، اس کے لحاظ سے اللہ پاک نے اس کو اپنےگھر میں رہنے کا اور گھر ہی کے اندر سارے کام کرنے کا وہ انتظام دیا ہوا ہے تاکہ وہ باہر اس کو نہ جانا پڑے۔ اور باہر کی کدورتوں سے وہ محفوظ رہے۔ اور اگر جائیں تو پھر اپنے آپ کو چھپا کے جائیں۔ اپنے آپ کو protect کر کے جائیں۔ اول تو دیکھیں یہ ہوتا ہے کہ یعنی مردوں کے ساتھ جیسے محرم، سفر کے تو سفر کے لیے بھی حکم دیا ہے کہ محرم کے ساتھ جائیں۔ کیوں وجہ کیا ہے؟ دور کا جو سفر ہوتا ہے اس میں انسان اگر اکیلے ہو تو کچھ بھی پیش آسکتا ہے۔ تو ایسی صورت میں اس کے لیے فرمایا کہ :نہیں محرم کے ساتھ ہو۔
اور یہ جو تھوڑا سا فاصلہ ہے، اس میں یہ بات ہے کہ غیر ضروری طور پہ جائیں نہیں، اور اگر جائے تو محفوظ طریقے سے جائے۔ پھر یہ دیکھیں نا، یعنی اس وقت عربوں کے اندر یہ دستور تھا کہ جو آزاد عورتیں تھیں ان کا لباس الگ جیسا ہوتا تھا، اور جو باندیاں ہوتی تھیں ان کا لباس الگ ہوتا تھا۔ تو باندیاں تو اس طرح ہوتی تھیں کہ وہ public type چیز ہوتی تھیں تو اس وجہ سے لوگ جرأت کر لیتے تھے ان پر۔ تو اس طرح ہے کہ جو عورتیں ہوتی تھیں، باقاعدہ کسی کی منکوحہ اور کسی کی بہن، ماں، جو، تو وہ ان کا لباس ایسا ہوتا تھا کہ لوگ جرات نہیں کرتے تھے۔ تو اس طرح اس وجہ سے باقاعدہ اس کا یعنی انتظام کیا گیا کہ آپ لوگوں کو ایسے کپڑے نہیں پہننے جس پہ لوگوں کو جرات ہو۔ مطلب خیال رکھنا چاہیے۔
پھر دیکھیں نا، کچھ چیزیں انسان کے جسم کی ایسی ساخت ہے، مردوں کا جو ہے نا جو سترِ ِِعورت کا نظام بنایا ہوا ہے، اُن کے حساب سے بنایا ہوا ہے۔ لیکن عورت کا پورا جسم ستر ہے۔ پورا جسم ستر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے ان کو جو صفات دی ہیں، وہ اس کے لحاظ سے اس کو پورا مستور رکھا ہوا ہے۔ اب ایسی صورت میں اگر انسان جسم کے ان اعضاء کو، محرم کے سامنے بھی اگر وہ کر لے، اس میں بھی پھر فتنہ ہوتا ہے۔ تو اللہ پاک نے محرم کے سامنے بھی جو عام محرم ہیں شوہر کے علاوہ، باقی اس کو بھی اجازت نہیں دی ہے۔ ہاں البتہ جو حصے اس کے علاوہ ہیں، تو وہ پھر غیر محرم کے سامنے انسان نہیں کھول سکتا۔ آج کل یہ بھی بڑا مسئلہ ہے کہ حجا ب میں اور ستر میں فرق نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ حجاب اور ستر میں فرق ہے۔ حجاب کیا چیز ہے؟ وہ جو دوسرے غیر محرموں سے محفوظ رکھنے کے لیے ہے۔ وہ حجاب ہے۔ اور جو ستر ہے وہ محرم سے بھی، جو عام محرم ہیں، جو شوہر کے علاوہ محرم ہیں، ان سے بھی مستور رکھنے کے لیے جو حکم ہے، وہ ستر ہے۔ تو ان میں لوگ فرق نہیں کرتے۔
Germany میں تھا تو مجھے پاکستانی حضرات نے کہا، آپ نے اپنے گھر والوں کو جو برقعہ پہنایا ہوا ہے نا، تو اس سے پھر خواہ مخواہ لوگ ان کو دیکھتے ہیں۔ تو آپ یہ Turkish عورتوں کی طرح یہ کریں کہ وہ چہرہ ان کا نظر آئے، تو پھر کوئی نہیں دیکھے گا۔ یہ باقاعدہ مجھے انہوں نے instruction دی۔ تو میں نے انہیں کہا، میں نے کہا اگر یہ برقعے میں ہیں نا، تو پورا Germany اس کو دیکھے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اگر یہ برقعے میں ہے۔ اور اگر یہ چہرہ اس کا کھلا ہے نا تو میں ایک آدمی کو بھی اجازت نہیں دے سکتا ہوں کہ وہ اس کو دیکھے۔
تو ظاہر ہے جو حکم اللہ تعالیٰ کا ہے اس سے زیادہ تو میں نہیں جانتا ہوں۔ تو اللہ کا شکر ہے الحمد للہ، اب اس کا فائدہ کیا ہوا؟ اللہ پاک دیتا ہے جی، صحیح بات میں عرض کرتا ہوں، اللہ پاک دیتا ہے۔ اور نقد بھی دیتا ہے۔ بعد میں تو دیتا ہی ہے الحمد للہ، نقد بھی دیتا ہے۔
اس نقد میں یہ بات تھی کہ میں نے اپنے گھر والوں سے پوچھا، میں نے کہا دیکھو، یہ پاکستانی تو اپنے بھائی ہیں۔ عرب مسلمان بھائی ہیں ہمارے آپس میں، ترکوں کے ساتھ ہمیں محبت ہے ان کو ہمارے ساتھ محبت ہے۔ لیکن یہ بتائیے یہ German لوگ ہمارے ساتھ اتنا کیوں بہت پیار سے پیش آتے ہیں؟ کوئی اس طرح سلام کرتے ہیں، کوئی اس طرح سلام کرتے ہیں، کوئی اس طرح سلام کرتے ہیں، یہ کیا ہے؟ یہ کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا پتا نہیں، میں نے کہا دیکھو یہ اللہ کی تائید ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تائید ہے۔
ہماری چھوٹی سی بچی ہمارے ساتھ تھی، ساڑھے تین سال کی، جو ہمارے landlord تھے نا وہ کبھی اس کے لیے مٹھائی کا ڈبہ لٹکا دیتے، کبھی hat لٹکا دیتے، کبھی بستہ لٹکا دیتے، کبھی کیا، کبھی کیا۔ ہم حیران تھے ہم نے کہا بھئی اس کو کیسے سمجھائیں کہتے ہیں: "جی بس ویسے ہم، ہمارا شوق ہے ہم اس طرح کرتے ہیں" خیر پھر ہم نے اس طرح کیا ہم نے کہا کہ چلو اس طرح کرتے ہیں کہ ان کی بھی کچھ خدمت کرتے ہیں، آخر مسلمان ہو کر ہمیں یہ حق ہے، ہمارا ہونا چاہیے کہ ان کی خدمت کریں، تاکہ اسلام کی طرف آجائیں، بجائے اس کے کہ وہ ہماری خدمت کریں۔
تو میں نے ان سے کہا، میں نے کہا کہ اون کا کام آپ کر سکتی ہیں، تو آپ اُن کے لیے ایک اونی sweater بن لیں۔ تو یہ کم از کم یہ پسند کرتے ہیں Handicrafts کو، تو یہ اچھا ہو گا۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں کر لیتی ہوں۔ تو میں اون لے آیا اور اس نے وہ sweater بہت جلدی بن لیا، ان کو طریقہ آتا تھا۔ تو یہ پھر میں اپنی بچی کو لے گیا، اور اس کو جو ہے نا میں نے اس سے کہا کہ جب گھنٹی مارو تو اس کو کہو Geschenk. Geschenk تحفے کو کہتے ہیں۔ تو اس نے اس طرح کیا۔ تو وہ جب باہر آیا کہتا ہے، یہ آپ نے ان کو کہا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ کہتا ہے تو پھر آپ آ کر بیٹھ جائیں۔ میں نے کہا بیٹھنا تو نہیں ہے۔ تو آپ نے کیوں کیا؟ میں نے کہا ہماری مرضی۔
خیر بہرحال ہم تو نیچے آگئے۔ نیچے آگئے، ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ پھر گھنٹی ہوئی۔ دیکھا cycle اٹھا کے ہاتھ میں لا رہے ہیں۔ میں نے کہا یہ کیا چیز ہے؟ کہتا ہے میں آپ کے لیے لایا ہوں۔ میں نے کہا میرے پاس cycle ہے آپ نے دیکھا نہیں ہے؟ کہتا ہے وہ چھوٹا cycle ہے، میں کہتا ہوں آپ بڑے cycle پہ جائیں۔ آپ university بڑے cycle پہ جائیں۔
مقصد یہ ہے کہ ہم نے بہت کوشش کی کہ ان کی خدمت کریں لیکن وہ ہی ہماری خدمت کرتے تھے۔ کیوں؟ اللہ کی طرف سے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟۔ تو آپ اللہ تعالیٰ کے لیے وہ کر لیں نا، جو اللہ چاہتا ہے۔ آپ یقین کیجیے مخلوق اس کے ہاتھ میں ہے۔ ان کا دل اس کے، ان کے قبضے میں ہے۔ ہم جب آ رہے تھے تو وہاں پر ایک عورت تھی، وہ پڑوسی تھی۔ مطلب تین apartments تھے ایک ہمارے ساتھی کا تھا جس نے ہمارے لیے arrangement کیا تھا وہ عرب تھے، اور ایک میں تھا، اور دوسرا جو ہے نا وہ ایک عورت تھی۔
تو مجھے اس ساتھی نے کہا کہ یار یہ ایک شیطان عورت ہے، وہ آپ کو تنگ کرے گی۔ میں نے کہا ان شاء اللہ مجھے تنگ نہیں کرے گی۔ اس نے کہا کیسے؟ میں نے کہا بس چھوڑو۔ خیر ایسا ہوا کہ پہنچ گئے، چار پانچ دن تو ہمیں پتا ہی نہیں چلا ایک دوسرے کا، کیونکہ وہ اپنے وقت پہ آتی تھی، ہم اپنے وقت پہ آتے تھے۔ ایک دن دیکھ لیا تو مطلب اس نے ہمیں اور صرف خیر، تو وہ میں نے پھر اپنی گھر والی سے کہا کہ یہ بچی ہے نا، تو اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی چیز، کھانے کی، کیک بنا لیا، تو ہم نے کہا یہ ان کو دلوا دیتے ہیں۔
تو بچی کو بھیج دیا اور خود ہم دونوں کھڑے ہو گئے دروازے میں۔ اب وہ جب بچی پہنچ گئی تو اس نے بالکل اسی طریقے سے گشینک (Geschenk )والی بات وہ کر لی۔ وہ تو بالکل ایسے مزے میں آ گئی، جیسے جھومنا شروع کر لیا۔ اور اس کو اٹھا لیا اور کہتی ہے کہ "میں ضرور کھاتی، میرا معدہ خراب ہے" لیکن پھر سامنے دیکھا، "اچھا جی آپ کی بچی ہے جی؟ یہ مجھے کھیلنے کے لیے کچھ وقت کے لیے دے سکتے ہیں؟" میں نے کہا، "ٹھیک ہے، صحیح ہے۔"
تو ایک گھنٹے کے لیے وہ لے گئی اور جو ان کے پاس کھلونے ولونے تھے وہ سارے ان کے سامنے رکھ دیے اور پھر کبھی کبھی ہم سے مانگتی تھی۔ اور پھر ظاہر ہے ہمارے ساتھ تو بہت اچھا تعلق ہو گیا۔ تو مجھے وہ عرب کہتا ہے، "یار تمہاری بات پتہ نہیں یہ کیا بات ہے؟"میں نے کہا، "یہ ایسا ایسا ہوتا ہے۔"
تو اس لیے میں عرض کرتا ہوں کہ دیکھو، آپ جب بھی جائیں تو سفیر بن کر جائیں۔ کس چیز کے سفیر؟ اسلام کے سفیر۔ آپ اسلام کے سفیر بن کے جائیں، پھر اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ جو معاملہ کرتا ہے، آپ کو خود نظر آجائے گا۔
اپنے آپ کا سفیر نہ ہو، یعنی اپنی مرضی کا مالک نہ ہو۔ بلکہ جو ہو اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ ٹھیک ہے ہم ناقص ہیں، کمزور ہیں، ساری چیزیں صحیح طریقے سے نہیں کر سکتے، لیکن نیت کا بھی اعتبار ہوتا ہے۔
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ
تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ نیت جب اچھی ہو تو بعض دفعہ کمزوریاں بھی ignore کر دی جاتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں ایک مسلمان کے طور پر رہنا ہے۔بالخصوص میں جو جن سے میں مخاطب ہوں، یعنی جو ہماری خواتین ساتھی ہیں، ان سے میں عرض کروں گا، کہ وہ ان تمام چیزوں کو انتہائی محبت کے ساتھ، اچھے طریقے کے ساتھ، دوسری خواتین تک پہنچا دیں۔ اور ان کو یہ بات سمجھا دیں، کہ یہ ہمارے اپنے فائدے کی بات ہے۔ اس میں ہماری اپنی ہی خیر ہے۔ اس میں ہم دوسروں کے اوپر احسان نہیں کر رہے، اپنے اوپر احسان کر رہے ہیں۔ کیوں، وجہ کیا ہے کہ اللہ جل شانہ ہماری ساری ضرورتوں کو بھی جانتا ہے، ساری کمزوریوں کو بھی جانتا ہے، سارے احوال کو بھی جانتا ہے، اور وہ ہی سارے ہمارے مسائل کو حل کر سکتا ہے۔
باقی یہ ہے کہ، جو دوسرے لوگ ہیں ہمارے، جو NGOs وغیرہ ہیں، وہ تو آئی ہی اس لیے ہیں، کہ ہمارے اندر کچھ اس قسم کی چیزیں پیدا کر لیں، جو وہ چاہتے ہیں۔ عموماً وہ عورتوں کی صورت میں آتے ہیں، مطلب NGOs جو ہوتے ہیں، وہ ایسی باتیں پھیلاتے ہیں۔ یہ ہمارے بنوں میں بتاتے ہیں کہ پہلے بہت پردہ ہوتا تھااور عورتیں باہر اس طرح نہیں بغیر پردہ نہیں جاتی تھی ۔۔ مجھے اپنے ساتھیوں نے بتایا۔ لیکن پھر کچھ عورتیں انہوں نے دوسری جگہوں سے بلوا کے، وہ اس طرح صرف پھرتی تھیں۔ کچھ چہرہ کھولے رکھتیں بس وہ بازار میں ایک سرے سے شروع کر کے دوسرے سرے پہ پہنچ جاتی تھیں۔ کچھ لینا وینا نہیں ہوتا تھا بس صرف وہ ایک round لگا لیتی تھیں۔ اس طرح یہ کر کر کے کر کر کے اس وقت پھر انہوں نے لینا دینا بھی شروع کر لیا پھر آہستہ آہستہ عوام میں بے پردگی عام ہو گئی۔ یعنی کیسے طریقے چلاتے ہیں۔ یہ باقاعدہ وہ organize طریقے سے وہ کرتے ہیں سارا کچھ، ان کے باقاعدہ procedures ہیں، ان کی training ہوتی ہے۔ ہمیں ان چیزوں پہ نظر رکھنی ہے۔ اپنے آپ کو بچانے کے لیے۔ کہ ایسا نہ ہونے دیں۔ کیوں کہ وجہ کیا ہے کہ، عورتیں جذباتی مخلوق ہیں، اگر ان کو وہ دے دیں نا۔۔
ایک دفعہ ایک عورت نے مجھ سے، ضیاء الحق کے دور میں وہ شہادتوں کی بات تھی۔ تو عورت کی شہادت آدھی ہے کچھ اس طرح مطلب بات چل رہی تھی۔ تو ایک عورت نے مجھ سے بڑے سخت لہجے میں سوال کیا۔ شاہ صاحب یہ عورت کی شہادت کیوں آدھی ہے؟ میں نے کہا مردوں کی پوری ہے؟ کہتی ہیں ہاں۔ تو میں نے کہا کیا وہ شہادت دیتے ہیں؟ شہادت دینے کے لیے خوشی سے جاتے ہیں؟ کہتی ہیں نہیں۔ میں نے کہا پھر تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟ جب تمہیں اللہ نے معاف کیا ہوا ہے، اور اپنے گھر بٹھایا ہوا ہے، اور آپ کو شہادتوں کی صورت میں نہیں بلایا جا رہا، تو جہاں آپ کی شہادت مطلوب ہے وہاں پوری شہادت ہے آپ کی۔ لیکن جہاں آپ کی ضرورت نہیں ہے تو آپ آرام سے بیٹھ جاؤ۔ اللہ پاک نے آپ کو آرام سے بٹھایا ہوا ہے تو بس آرام سے بیٹھ جاؤ۔ یہ کام مردوں کے ہیں بس ٹھیک ہے وہ کرتے رہیں۔
تو پھر وہ سمجھ گئی۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ جو باتیں ہیں، اس قسم کے شیطانی خیالات، کہ یہ کیوں ہے، اور یہ کیوں ہے، اور یہ کیوں ہے، یہ کیوں ہے، یہ ساری چیزیں میں آپ کو بتاؤں، اپنی اپنی حیثیت کو ہمیں جاننا چاہیے۔ دیکھو، لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اللہ پاک کا قانون ہے، کہ اللہ پاک کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں دیتے۔ اچھا، جب یہ والی بات ہے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو ذمہ داریاں دی ہیں آپ کی طاقت کے مطابق دی ہیں۔ مردوں کو ان کی طاقت کے مطابق دی ہیں۔ یا اس طریقے سے مطلب جو معاشرے کے اندر ایک خاص مقام رکھنے والے ہیں، ان کو پھر ان کی حیثیت کے مطابق ذمہ داریاں دی ہوتی ہیں۔ اب یہ اگر ہم مان لے ہر ایک، کہ اچھا ہوا کہ مجھے ان جیسی ذمہ داری نہیں دی گئی ورنہ پھر میں پوری نہ کر سکتا۔ تو اسی طریقے سے عورتوں کو جب اللہ پاک نے وہ ذمہ داریاں نہیں دیں جو مردوں کی ہیں، اس پہ خوش ہونا چاہیے۔ اس پہ allergic نہیں ہونا چاہیے، بلکہ خوش ہونا چاہیے کہ اللہ پاک نے ہمیں ان چیزوں کا مکلف نہیں کیا۔ یہ کام مردوں کے ذمے ہیں وہ کرتے رہیں۔
باقی یہ ہے کہ، جہاں تک قربِ الٰہی کا تعلق ہے، ولایت کا تعلق ہے، ان چیزوں پر دارومدار نہیں ہے۔ دیکھو، فرعون کی بیوی آسیہ کن حالات میں تھی؟ وہ ولیہ تھی۔ اس طریقے سے ہر جگہ پر، عورت نے اپنے آپ کو اگر maintain رکھا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ درست رکھا ہے، تو اللہ پاک نے اس کو بلند کر دیا ہے۔ یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، ان کی حیا بے مثل تھی۔ بہت زیادہ۔ یعنی باقاعدہ ایک سوال اس طرح تھا تو اس پر جو ہے نا وہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر خوش ہو کے فرمایا کہ میری بیٹی ہے نا۔
تو انہوں نے حیا کے بارے میں کہا کہ اصل جو عورتوں کی جو ہے، زینت کیا چیز ہے؟ وہ حیا ہے، کہ اس کو کوئی نہ دیکھے۔ تو آپ نے فرمایا: میری بیٹی ہے نا۔ بہت خوش ہوئے۔
اور ان کی یہ اتنی حیا تھی کہ وہ جو ہے نا یعنی جنازے کے بارے میں بھی انہوں نے اپنا وہ کیا تھا کہ رات کے وقت اٹھایا جائے۔ اور یہ جو ڈولی سی بنی ہوتی ہے نا عورتوں کی میت کے اوپر، یہ ان کی سہیلی نے ان کے لیے design کی تھی۔ تو یہ اس وقت سے مطلب یہ شروع ہے۔
تو ان کی حیا ضرب المثل تھی۔ تو اس وجہ سے اللہ جل شانہ نے، مطلب ان کے نقش قدم پہ اگر کوئی عورت جاتی ہے -سبحان اللہ- ابھی تک آپ حیران ہوں گے، کہ وہ اپنی اولاد کے خواب میں تو آتی ہیں، کسی غیر اس میں نہیں آتیں، جو دیکھ سکے۔ عجیب بات ہے دیکھو نا ابھی تک ان کا معاملہ ہے۔ یہ اللہ پاک نے نظام ایسا رکھا ہوا ہے، کہ جو ان کی اولاد میں نہیں آتے، یعنی ان کے محرمات میں نہیں آتے، تو ان کی اس میں نہیں آتیں خواب میں۔ تو یہ اللہ پاک نے ان کا نظام رکھا ہوا ہے۔
لہٰذا، ہماری عورتوں کو حیا دار ہونا چاہیے۔ ہمیں بھی حیا دار ہونا چاہیے، یہ نہیں کہ یعنی کہ صرف عورتوں کو ہونا چاہیے، ہماری حیا داری اور ہے ان کی حیا داری اور ہے۔ ہماری حیا داری اپنی جگہ پر ہے، ان کی حیا داری اپنی جگہ پر ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ آج کل چونکہ بات عورتوں کی چل رہی ہے، اور عورتیں کہہ رہی ہیں عورت مارچ، اور یہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارا جسم ہماری مرضی، اس وجہ سے میں نے کہہ دیا کہ ہماری عورتوں کو تو حیا دار ہونا چاہیے۔ اللہ پاک نے اتنا فضل ہم پر کیا ہے کہ ایمان کی دولت سے نوازا ہے، نمبر ایک۔ پھر اللہ پاک نے -سبحان اللہ- اچھے لوگوں کے ساتھ رابطہ ہمارا کرایا، اور اللہ جل شانہ نے ہمیں دین پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی، نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی، اس پر اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور اس کے ساتھ ہمارا یہ طریقہ ہو کہ ہم لوگ حیا دار ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرما دے۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَآ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔