اسباب کی حقیقت: کفار کی مادی ترقی اور مسلمانوں کی ذمہ داری

درس نمبر167، سورۃ آل عمران: آیات:196 تا 199- (اشاعتِ اول) 13 مئی، 2022، بمطابق 11 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      دنیا کا دارالابتلاء ہونا اور اس میں اسباب (وسائل) کا اثر۔

·      کفار کی مادی خوشحالی سے دھوکہ نہ کھانے کی قرآنی تنبیہ۔

·      مسلمانوں کو اسباب سے غافل کرنے کی شیطانی چالیں۔

·      اسرائیل (یہودیوں) کی زرعی اور دفاعی منصوبہ بندی کی تاریخی مثالیں۔

·      اسرائیلی خاتون وزیراعظم کا رسول اللہ ﷺ کی تلواروں کا حوالہ اور مسلمانوں کی عیاشی پر تنقید۔

·      اسباب کو اختیار کرنا سنتِ نبوی ہے، سستی اور کاہلی اسلام کا شیوہ نہیں۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِى الۡبِلَادِؕ‏ (196) مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ ثُمَّ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَنَّمُؕ وَ بِئۡسَ الۡمِهَادُ‏ (197) لٰكِنِ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِؕ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ‏ (198) وَاِنَّ مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَمَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ خٰشِعِيۡنَ لِلّٰهِ ۙ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ‏ (199)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ


جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کا شہروں میں (خوشحالی کے ساتھ) چلنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے ﴿196﴾ یہ تو تھوڑا سا مزہ ہے (جو یہ اڑا رہے ہیں) پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بدترین بچھونا ہے ﴿197﴾ لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہوئے عمل کرتے ہیں، اُن کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اللہ کی طرف سے میزبانی کے طور پر وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے کہیں بہتر ہے ﴿198﴾ اور بیشک اہل کتاب میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کے آگے عجز و نیاز کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اُس کتاب پر بھی جو تم پر نازل کی گئی ہے اور اُس پر بھی جو اُن پر نازل کی گئی تھی، اور اللہ کی آیتوں کو تھوڑی سی قیمت لے کر بیچ نہیں ڈالتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہیں۔ بیشک اللہ حساب جلد چکانے والا ہے۔ ﴿199﴾


اللہ جل شانہٗ نے کفار کے بارے میں ایک عمومی اشکال جو مسلمانوں کو ہوتا ہے، اشکال تو اس کو کم کہہ سکتے ہیں، شیطان کا وسوسہ اس کو زیادہ کہہ سکتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ چونکہ یہ جو زندگی ہے دارالابتلاہے۔ تو دار الابتلا ہونے کی وجہ سے یہاں جو اسباب اللہ پاک نے بنائے ہیں اور اس کے اندر اثر ڈالا ہے، اللہ نے اپنے حکم سے۔ جب تک اللہ پاک کوئی دوسرا حکم نہ دے تو وہ اثر رہے گا۔ مثلاً پانی آگ کو بجھاتا ہے۔ کھانا کوئی کھاتا ہے تو سیر ہو جاتا ہے۔ زہر کھاتا ہے تو مر جاتا ہے۔ تو یہ اسباب ہیں۔ اللہ پاک نے بنائے ہیں، جب تک اللہ پاک اس کو تبدیل کرنے کا حکم نہ دے تو یہ اسباب، یہ چلتے رہیں گے۔

اس وجہ سے اسباب کو اختیار کرنا سنت نبوی ہے کہ اسباب کو اختیار کر کے نتیجہ خدا پر چھوڑ دیا جائے، یہ طریقۂ کار ہے۔ اب ہوتا یوں ہے کہ شیطان جو ہے کفار کو تو اسباب پورا پورا اختیار کرنے کا شہ دیتے ہیں۔ اگر ان کی کوئی سستی ہوتی ہے تو نفس کی وجہ سے ہوتی ہے ورنہ شیطان ان کو support کر رہا ہوتا ہے کہ وہ اسباب کو اختیار کریں۔ اور اس طریقے سے وہ دنیا کے اندر ممتاز position حاصل کر لیں۔ اور مسلمانوں کو اس سے غافل کرتا ہے، مسلمانوں کو اس پر لاتا ہے کہ وہ بس سارا کچھ سمجھیں کہ بس اللہ تعالیٰ ہی ہمارے لیے کر لے، خود وہ کچھ نہ کریں۔ اور سستی اور کاہلی اور اس قسم کی چیزوں میں ان کو ڈال لیتا ہے۔ اس سے ان کا مقصود اس کا یہ ہوتا ہے کہ ان کی پوزیشن دنیا میں کمزور رہے۔ تاکہ ایک طرف کفار کو مسلمان ہونے کا وہ نہ ہو، شوق نہ ہو کہ مسلمانوں کو کمزور حالت میں دیکھیں۔ اور مسلمانوں کو ان کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے گویا کہ دیکھنے کا وسوسہ ڈالے کہ دیکھو نا یہ کتنی اچھی پوزیشن میں ہیں، یہ تو ایسے ہیں، یہ تو ایسے ہیں، یہ تو ایسے ہیں۔


یہ کرنل محمد خان یہ "بجنگ آمد" کتاب اس نے لکھی ہے، اور مزاقیہ انداز میں لکھی ہے، لیکن ہے بڑے کام کی کتاب، مطلب اس نے جو اپنے تاثرات بیان کیے ہیں۔ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم جا رہے تھے عراق سے فلسطین۔ جنگ عظیم تھی۔ تو وہ جا رہے تھے تو کہتے ہیں کہ ہم جس وقت ہم نے border cross کیا اور فلسطین کے علاقوں میں داخل ہو گئے تو کہتے ہیں مجھے بہت افسوس ہوا کہ جو مسلمانوں کے علاقے تھے، وہاں بالکل کھیتی باڑی تتر بتر، کوئی پروگرام نہیں، کوئی منصوبہ نہیں، بس وہ جیسے کہ بس آڑھی ترچھی لکیریں کھینچ کے بس انہوں نے بس کام چلایا ہے، کوئی خاص پروگرام نہیں ہے ان کے پاس۔


کہتے ہیں جب ہم یہودیوں کی بستیوں میں گئے نا تو دیکھا کہ زمین کا پورا انتظام ہے اور پورے زراعتی اصول ہیں، Agriculture Science اس کے مطابق وہ سارے plots بنائے بنے ہوئے ہیں اور اس میں جو ہے نا کھیتی باڑی ہو رہی ہے۔ کہتے ہیں مجھے بہت افسوس ہوا کہ دیکھو یہودیوں نے حالانکہ ان کے پاس تھوڑے علاقے تھے اس وقت۔ انہوں نے اس کو اتنا زبردست طریقے سے سنبھالا ہوا ہے، اور مسلمان اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں اب یہ دیکھو نا یہ اگرچہ اس کی ساری کتاب مذاق سے بھری ہوئی ہے، لیکن یہ اس نے سنجیدہ بات لکھی ہوئی ہے۔ کہ مطلب یہ بات بالکل صحیح ہے۔ اس طریقے سے اس وقت بھی اسرائیل کا جو نظام آبپاشی ہے وہ پوری دنیا کا نمبر ون نظام ہے۔ کہ انہوں نے (پانی کی) ایک ایک بوند کو store کیا ہوا ہے، اور اس کو ضائع نہیں ہونے دیتے، اور اس کو وہ agriculture میں استعمال کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جو اردن ہے، وہ پانی جو ہے نا اسرائیل سے خرید کر لیتا ہے۔ پاس ہی ہے، اسرائیل سے خرید کے پانی استعمال کرتا ہے۔


تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان لوگوں نے اسباب کو پورا پورا استعمال کیا۔ ان لوگوں نے اپنے اسباب کو استعمال نہیں کیا، اب وہ دنیا میں ایسی position ہے کہ لوگ للچائی ہوئی نظروں سے ان کو دیکھتے ہیں کہ دیکھو نا یہ بس کیسے، اچھا ان کا بچہ بچہ سپاہی ہے۔ آپ اندازہ کریں۔

بڑی عجیب بات ہو گئی کہ وہ جو ان کی وہ تھی نا وزیراعظم، عورت تھی۔ اس وقت امریکہ کے ساتھ ان کا معاہدہ ہوا، تو معاہدے کے وقت جو امریکہ کے صدر آئے ہوئے تھے، وہ جو کر رہے تھے، تو اس نے خود چائے بنائی اس کے لیے۔ coffee بنائی، بس یہی ان کی تواضع تھی اور ان کے ساتھ ایک بہت بڑا معاہدہ sign کیا یعنی تاریخی معاہدہ ہے جو یعنی اسلحہ لینے کا۔


تو ان کی parliament میں اس پہ اچھی خاصی بات ہو گئی کہ تم لوگوں نے، تم نے اتنا مہنگا معاہدہ کیوں کر لیا؟ یہ تو مطلب ہے اس کا کہ ہم تو ایک وقت کھانا بھی نہیں کھا سکیں گے، یہ تم نے کیا کیا، ہمارے اوپر اتنا بوجھ ڈالا؟ اس نے جو جواب دیا وہ سونے سے لکھنے کے قابل ہے۔ اس عورت نے جو یہودی وزیراعظم تھی۔ اس نے کہا کہ مسلمانوں کے جو پیغمبر محمد ﷺ ہیں، جس وقت فوت ہو رہے تھے، ان کے ہاں کھانے کا کچھ نہیں تھا، کھانے کا کچھ نہیں تھا، لیکن دیوار کے اوپر غالباً پانچ تلواریں تھیں، کتنی کہ وہ لگی ہوئی تھیں۔ ان کے پاس اسلحہ تھا لیکن کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ اب دیکھ لو، یعنی ایمان ان پر نہیں ہے لیکن اپنے اسباب ان سے کیسے مطلب سیکھ رہے ہیں۔اور ہماری کیا حالت ہے؟ ہمیں معلوم ہے۔ ہم لوگ عیاشی کی چیزیں ان سے منگواتے ہیں، وہ جو اصل چیز ہے وہ نہیں لیتے۔ تو یہ شیطان جو ہے نا ہم لوگوں کو دھوکے میں ڈالتا ہے۔ ہمیں اسباب کی دنیا سے کاٹتا ہے۔ اور ان کو اسباب کی دنیا پہ لاتا ہے۔ نتیجتاً وسوسے کا ایک ground create کرتا ہے۔ کہ مسلمانوں کو کہتا ہے دیکھو نا وہ کیسے کامیاب ہیں، وہ صحیح لوگ ہو سکتے ہیں۔ اور مسلمان بڑی کمزور حالت میں ہوتے ہیں، تو ان کو کافروں کو کہتے ہیں دیکھو نا ان کی کیا حیثیت ہے، یہ کیا ہیں، اگر یہ اچھے ہوتے تو ایسے ہوتے۔ مطلب ہے دونوں طرف وہ وسوسہ اس طرح ڈال دیتا ہے۔


تو یہ بات ہے کہ ہم لوگوں کو اپنے جو وسائل ہیں ان کی قدردانی کرنی چاہیے۔ اپنے وسائل کو صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ یعنی کتابوں میں لکھا ہے کہ اگر کسی زمین کے اندر دس من غلہ اگانے کی صلاحیت ہے، اگر کسی نے پانچ من اگا لیا تو پانچ من کا ان کے ساتھ حساب ہو سکتا ہے، کہ تم لوگوں نے محنت کیوں نہیں کی؟اب ذرا غور کر لیں کہ ہماری ہماری صورتحال کیا ہے۔ تو دیکھو قرآن پاک کی جو آیت ہے، یعنی صاف صاف بتا رہے ہیں کہ اگر ان کی دنیا میں کوئی پوزیشن ہے، اگر ان کی دنیا میں کوئی پوزیشن ہے تو وہ اس پر للچاؤ نہیں۔

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ

"یعنی جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ان کا شہروں میں خوشحالی کے ساتھ چلنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ تھوڑا سا مزہ ہے جو یہ اڑا رہے ہیں، پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بدترین بچھونا ہے۔"


تو یہ اس وسوسے کا علاج ہے جو اس صورت میں لوگوں کو ہوتا ہے۔ تاکہ ہم لوگ ان کی اس پوزیشن کو دیکھ کے، ہم کہیں- نعوذ باللہ من ذلک- ان کی طرف کیوں، وجہ کیا ہے؟ اب انگریزوں نے یہاں پر حکومت کی اور بڑی زبردست حکومت کی۔ اپنے اسباب کے لحاظ سے۔ کسی نے بعد میں ان سے پوچھا کہ آپ لوگوں نے کروڑوں لوگوں پر، ہزاروں لوگوں نے کیسے حکومت کی؟ دس ہزار سے کبھی وہ زیادہ نہیں ہوئے پورے ہندوستان میں۔ کروڑوں لوگوں پر حکومت کی۔آپ لوگوں نے کیسے حکومت کی؟ تو انہوں نے جواب دیا، عقل سے۔ اپنی عقل سے۔


تو مطلب یہ ہے کہ اب ان لوگوں نے یہاں پر جو حکومت کی نا، تو اس کی جڑیں یہاں ابھی تک چل رہی ہیں۔ کس طرح چل رہی ہیں؟ ان سے لوگ اتنے متاثر ہیں، کہ مطلب یہ ہے کہ ان کے طریقوں کو ابھی تک اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کے طریقوں کو اپنانے میں فخر سمجھتے ہیں۔ اور اپنے طریقوں کو اپنانے میں کمزوری سمجھتے ہیں۔ یہ اثر ہوتا ہے ان لوگوں پہ۔ تو شیطان کی پلاننگ بہت مضبوط ہے۔ تو اس وجہ سے ہمیں بھی اپنی پلاننگ مضبوط کرنی چاہیے اور ایسی چیزوں سے اثر نہیں لینا چاہیے۔ اپنی سستی، اپنی غفلت کو دور کرنا چاہیے۔ اور جو اللہ پاک نے اسباب کی دنیا بنائی ہے، اس اسباب کی دنیا کو اللہ کے لیے استعمال کرنا چاہیے، مسبب الاسباب کے لیے استعمال کرنا چاہیے، اس کی رضا کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ نہ یہ کہ ہم مسبب الاسباب سے شکوے کرنے شروع کر لیں کہ دیکھو کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہے؟ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہے؟ تو اپنی جو غفلت ہے اس کو نہیں دیکھتے کہ ہماری غفلت کیا ہے، بجائے اس کےکہ ہم ادھر سے شکایت کرتے ہیں۔


تو بس یہ والی بات ہمیں سمجھنی چاہیے کہ اسباب کی دنیا کو استعمال کرنا چاہیے صحیح۔ اور میں آپ کو ایک اور بات بتا دوں، صاف صاف عرض کر سکتا ہوں۔ الحمد للہ، مسلمان اگر اسباب کو استعمال کر لیں، صحیح انداز میں مسلمان اگر اسباب کو استعمال کر لیں، تو اللہ پاک ان کو کفار سے زیادہ ترقی دیتے ہیں۔ یہ چیز ہم نے وہاں جرمنی میں دیکھی ہے، امریکہ میں دیکھی ہے۔ کہ وہاں پر ہم لوگوں نے جتنی محنت کی، اتنی محنت پاکستان میں کرتے تھے، اتنا ہمیں نہیں ہوا، لیکن وہاں جو ہم نے محنت کی، وہاں الحمد للہ تھوڑی محنت سے اللہ پاک نے ہمیں بڑی ممتاز پوزیشن پہ پہنچایا تھا۔ تو اس کا مطلب ہے اللہ پاک مدد تو فرماتے ہیں نا، لیکن اب کیا کریں، ہمارے پاس تو دو چیزیں ہیں؛ ہمارے پاس اسباب کو بھی اختیار کرنا ہے، مسبب الاسباب کو بھی لینا ہے۔ اگر ہم اسباب کو اختیار کر کے مسبب الاسباب کے اوپر یقین رکھیں، اور اس کی رضا کو سامنے رکھیں، تو پھر اللہ جل شانہٗ ان اسباب کے اندر برکت ڈال لیتے ہیں۔ برکت ایک ایسی چیز ہے جس کو define نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کا انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ برکت کیسی ہوتی ہے۔


تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو اسباب کو اختیار کر کے مسبب الاسباب پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اس کی رضا کے لیے ساری کوشش کرنی چاہیے، تو پھر اللہ پاک ہمارے ناکافی اسباب کو بھی کافی بنا سکتے ہیں، لیکن یہ دو باتیں ہوں، ایک تو سستی اور غفلت کی وجہ سے اسباب چھوڑیں نہیں، اور دوسری بات یہ ہے کہ اپنے رب سے ناطہ توڑیں نہیں۔ اپنے رب کے لیے ہم یہ کریں، اس کے لیے سارے اسباب اختیار کر لیں، پھر ان شاء اللہ، اللہ پاک کی جو رحمت ہے اور کرم ہے اور برکت جو دیتے ہیں، وہ ہم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر ایمانِ کامل عطا فرما دے اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرما دے۔


وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ


اسباب کی حقیقت: کفار کی مادی ترقی اور مسلمانوں کی ذمہ داری - درسِ قرآن - دوسرا دور