کائنات میں غور و فکر (تفکر) اور اللہ تعالیٰ کی بے بہا قدرت کی معرفت

بَابٌ فِي التَّفَكُّرِ فِي عَظِيْمِ مَخْلُوقَاتِ اللّٰهِ تَعَالٰى، - آیات سورۃ آل عمران: 190 اور 191، اشاعتِ اول: 29 نومبر، 2022 بمطابق 4 جمادی الاول 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        سورہ آل عمران کی آیات (190-191) کی تلاوت، ترجمہ اور شانِ نزول

•        تفکر (غور و فکر) کی اہمیت اور اسے ایک عظیم عبادت قرار دینا

•        کائنات، نظامِ شمسی اور زمین کی گردش پر سائنسی طرزِ استدلال

•        زمین کا اپنے Axis (محور) کے گرد گھومنا اور موسموں کی تبدیلی

•        کشش ثقل (Gravity) اور فضائی دباؤ (Pressure) کا حیرت انگیز توازن

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔

کائنات میں غور و فکر کا بیان

وَقَالَ اللَّهُ تَعَالٰی:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ (190) الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلٰى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (191)

ارشادِ خداوندی ہے: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں، اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے پروردگار تو نے اس مخلوق کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے، پس ہمیں بھی عذابِ جہنم سے نجات عطا فرما۔

ان آیاتِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ

حضرت عطاء بن رباح رحمۃ اللہ علیہ ایک موقع پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے۔ اور کہا کہ آپ ﷺ کی کوئی عجیب بات جو آپ نے دیکھی ہو، مجھے بتلائیے۔ اس پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کی تو تمام شان ہی عجیب تھی، ہاں ایک عجیب بات یہ ہے کہ ایک رات آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میرے ساتھ لیٹ گئے۔ اور فرمایا کہ مجھے اجازت دو کہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کروں۔ پھر آپ ﷺ بستر سے اٹھے، وضو فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ قیام فرمایا، اس قدر روئے کہ آنسو سینہ مبارک پر بہنے لگے۔ پھر رکوع فرمایا، اس میں بھی روئے، پھر سجدہ کیا، اس میں بھی روئے۔یہاں تک کہ صبح بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور نماز کی اطلاع دی۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ ﷺ اس قدر روئے حالانکہ آپ ﷺ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ: میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اور میں کیوں نہ روتا جبکہ اللہ تعالیٰ نے آج رات ہی مجھ پر یہ آیات نازل فرمائی ہیں: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ... إِلَى الْآخِرِ۔اور وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔ تفکر کہتے ہیں کسی چیز کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرنے کو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ غور و فکر کرنا، یہ بھی عبادت ہے۔ اسی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "تَفَكُّرُ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ قِيَامِ لَيْلَةٍ" ایک گھڑی کا غور و فکر پوری رات کی عبادت سے بہتر ہے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غور و فکر کو افضل عبادت فرمایا ہے۔ حضرت حسن بن عامر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ کرام اور تابعین سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ ایمان کا نور اور روشنی غور و فکر ہے۔

سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ غور و فکر ایک نور ہے جو تیرے دل میں داخل ہو رہا ہے۔ بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت میں تفکر کرتے تو معصیت و نافرمانی نہ کر سکتے۔

یا اللہ !

مطلب یہ ہے کہ جو اسے فرماتے ہیں کہ ایمان کا نور اور روشنی غور و فکر ہے، یہ بھی فرمایا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ غور و فکر ایک نور ہے جو تیرے دل میں داخل ہو رہا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ جو معرفت ہے، یعنی وہ آپ کے دل میں داخل ہو رہی ہے۔ کیونکہ یہ آیاتِ معرفت ہیں۔ یعنی اس میں اللہ جل شانہ کی نشانیوں کو دیکھ کر اللہ پاک کی معرفت حاصل ہو رہی ہے۔ کیونکہ اللہ پاک کی قدرتیں بے بہا ہیں، اور جب انسان کائنات میں غور کرتا ہے تو ان قدرتوں کا ظہور اس پہ کھلتا ہے۔

اب جیسے یہ زمین سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ اور اپنے محور کے اوپر بھی چکر لگا رہی ہے۔ اور پھر اس کا جو محور ہے، وہ سیدھا نہیں ہے۔ بلکہ یہ تھوڑا سا ترچھا ہے، (23.5 ) درجے کے لگ بھگ یہ ترچھا ہے۔ تو اس ترچھے پن سے کتنی چیزیں وجود میں آتی ہیں؟ اگر یہ ترچھا نہ ہوتا تو سارے موسم ایک جیسے ہوتے۔ اور دن اور رات برابر ہوتے۔ یہ جتنی بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں، یہ صرف اسی ایک Angle کے تبدیل ہونے کی وجہ سے ہیں۔

پھر دیکھیں کتنی تیزی کے ساتھ یہ گھوم رہی ہے، اتنی تیزی کے ساتھ! یعنی آپ اندازہ کر لیں کہ پچیس ہزار میل ،زمین کا جو محیط ہے خطِ استوا پر، یہ چوبیس گھنٹے میں طے کرتی ہے۔ تو ایک گھنٹے میں کتنا ہو گیا؟ تقریباً ہزار سے زیادہ ہو گیا نا؟ ہزار سے زیادہ ہو گیا نا۔ اب مجھے بتاؤ ایک ہزار میل فی گھنٹہ! یہ جہاز کی زیادہ سے زیادہ رفتار کیا ہو گی؟ تقریباً سات سو کلومیٹر ہوتی ہے نا زیادہ سے زیادہ۔ اب سات سو کلومیٹر، میلوں میں بدل لیں تو تقریباً چار سو اور پانچ سو کے درمیان میل آتے ہیں۔ تو چار پانچ سو میل فی گھنٹہ رفتار کا جہاز جاتا ہے تو کتنا تیز ہوتا ہے؟ اور زمین جو ہے اس سے دگنی رفتار سے زیادہ تیز چل رہی ہے۔ خطِ استوا پر جو ہے۔ خطِ استوا سے دوری کی وجہ سے تھوڑا تھوڑا کم ہوتا ہے، لیکن ہماری Speed بھی، Cos وہ اس کا لے لیں Cos 34 تو 0.866 سے ضرب دیں، وہ تقریباً سات آٹھ سو میل تو ہے۔

تو اب دیکھیں، سات آٹھ سو میل (کی رفتار سے)ہم اس میں پھر رہے ہیں۔ لیکن کیا ہم گرتے ہیں زمین سے؟ اچھا، اب گرنے سے بچنے کی علیحدہ بات ہے۔ یہ جو کششِ ثقل ہے، اس نے ہمیں روکا ہوا ہے۔ اور فضا کے Pressure نے۔ اب یہ اگر زیادہ ہوتا، تو ہم زمین کے ساتھ چپک جاتے، چل بھی نہ سکتے۔ اور کم ہوتا، تو گر جاتے۔ اب یہ بیلنس کس نے بنایا ہوا ہے؟ کہ زمین کے ساتھ چپک بھی نہیں رہے، اور گر بھی نہیں رہے۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں، قدرتیں ہیں!

اچھا یہ تو میں نے آپ کو صرف ایک بتائی ہے نا، یعنی ایک حرکت، محوری۔ زمین جو ہے، سورج کے گرد 17 میل فی سیکنڈکی رفتار سے جا رہی ہے۔ جس پر ہم بیٹھے ہوئے ہیں! 17 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے! اب یہ کتنا ہو گا بھئی ایک گھنٹے میں؟ 17 میل فی سیکنڈ کو 3600 سے ضرب دو نا! تو ہزاروں میل فی گھنٹہ یہ ہم اس کے حساب سے جا رہے ہیں۔

پھر جو پورا نظامِ شمسی ہے، یہ چکر لگا رہا ہے! اب بتاؤ۔ ان تمام چکروں کے اندر ہم لوگ محفوظ بیٹھے ہوئے ہیں تو آخر یہ کوئی چیز تو ہے نا! یہ دیکھو میں نے قرآن پاک کی باتیں آپ کو نہیں بتائیں۔ قرآن میں تو اتنا تھا جتنا میں نے بتایا۔ یہ ہمارے آج کل کے دور کے سائنسدان بتا رہے ہیں۔ اور پھر بھی اللہ ان کو یاد نہیں آتا! تو میرے خیال میں اس غفلت کو بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ کتنی ہے۔

تو اگر اس غفلت سے آدمی نکل آئے، اور ان آیات میں غور کر لے، تو یہ بہت بڑی بات ہے یا نہیں ہے؟ بہت بڑی بات ہے۔ تو یہ میں آپ سے اس لیے عرض کرتا ہوں کہ دیکھو، آپ ﷺ نے جو فرمایا، اور پھر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو اس میں تشریح فرمائی، ان چیزوں میں غور کرنا چاہیے۔ یہ تو آفاق میں غور کرنا ہے نا، پھر اپنے آپ کے اندر غور کرنا: "وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ"یہ اتنی ساری چیزیں ہیں، جو کہ ہم لوگوں کو یعنی جگانے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن ہم پھر بھی نہیں جاگتے! تو اس کا مطلب ہے کہ ہم بہت ہی سخت سوئے ہوئے ہیں۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی نیند سے جگا دے جو اللہ کی یاد سے غافل کر دے۔ اور اللہ جل شانہ کا ذکر کرنے کی اور اللہ پاک کو یاد کرنے کی اور اس کی وجہ سے گناہوں سے دور رہنے کی اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ۞ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ۞ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔


کائنات میں غور و فکر (تفکر) اور اللہ تعالیٰ کی بے بہا قدرت کی معرفت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور