الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ (190) الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلٰی جُنُوْبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (191)
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں، اور رات دن کے باری باری آنے جانے میں ان عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہوئے، (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں، (اور انہیں دیکھ کر بول اٹھتے ہیں کہ): ہمارے پروردگار! آپ نے سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا، آپ (ایسے فضول کام سے) پاک ہیں، پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجیے۔
اللہ اکبر۔ یہ آیتِ کریمہ آیاتِ معرفت میں سے ہے۔ اور اس میں عارفین اور اولو الالباب کی نشانی بتائی گئی ہے۔
اصل میں ہر انسان کے اندر تین نظام چل رہے ہیں، جو اگرچہ اپنے طور پر خود مختار ہیں، لیکن ان کا باقی اپنے دوسرے دو نظاموں کے ساتھ آپس میں بہت بڑا تعلق ہوتا ہے، ان کا ایک دوسرے پر اثر ہوتا ہے۔
ان میں عقل ہے، نفس ہے، اور دل ہے۔ پھر ان تین میں سے دو نظام بنتے ہیں۔ ایک عقل کا دل کے ساتھ اور ایک دل کا نفس کے ساتھ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی جو عقل ہے، یہ غور و فکر، تجزیہ، اندازہ، علم اور فیصلے کے لیے ہے۔ یعنی جو فیصلہ ہے وہ اندازے کی بنیاد پر، سوچ و فکر کی بنیاد پر، غور و فکر کی بنیاد پر یہ کرتی ہے۔
اور یہ انسان استعمال کر سکتا ہے، دنیا میں بھی استعمال کر سکتا ہے، آخرت میں، آخرت کی چیزوں کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہے۔ اس میں ظاہر ہے آخرت کی جو چیزیں ہیں، وہ ایمان بالغیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور جو دنیا کی چیزیں ہیں وہ سامنے کی چیزیں ہیں، مشاہدے کی باتیں ہیں۔ تو گویا کہ مشاہدے کی چیزوں سے بھی اثر لیتا ہے اور جو غیب کی چیزیں ہیں، یعنی آخرت کی جو بتائی گئی ہیں ایمان کے ذریعے سے، ان سے بھی اثر لیتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک چیز خود کوئی دیکھ لے۔ یعنی سانپ کو دیکھے، تو اس سے ڈر کے اپنے آپ کو بچائے گا۔ اور دوسرا آدمی سانپ کو دیکھا تو نہیں، لیکن کوئی اشارہ آدمی جس پر اس کو پورا اعتماد ہے اس کو کہتا ہے کہ یہاں پر سانپ ہے۔ تو اس سے بن دیکھے ڈرے گا اور اپنی حفاظت کا بندوبست کرے گا ۔
تو اسی طریقے سے انسان جو خود observe کرتا ہے، اس کا بھی اثر لیتا ہے۔ اور جس کو ایمان کے ذریعے سے اطلاع دی گئی ہو کہ فلاں ہوگا، فلاں ہوگا، فلاں ہوگا، اس سے بھی وہ اثر لیتا ہے۔
اب یہ جو ایمان کے ذریعے سے جو اثر لیتا ہے، اس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ یعنی دل میں چونکہ ایمان ہوتا ہے، لہذا وہ دل سے اثر لیتا ہے۔ اور دل پر اثر ہوتا ہے ذکر کا۔ یعنی ذکر کے ذریعے سے انسان کا دل صاف ہوتا ہے، اور دنیا کی محبت سے دور ہوتا ہے، نتیجتاً جو آسمانی باتیں ہوتی ہیں، یعنی آخرت کی باتیں ہوتی ہیں، غیب کی باتیں ہوتی ہیں، اس سے پھر اثر لیتا ہے۔
جن دو کا آپس میں جو فیصلے کے لیے اشتراک ہے، اور سمجھ کے لیے جو اشتراک ہے، اس کو دل و دماغ کہتے ہیں۔
تو اب پتہ چل گیا کہ دل و دماغ جو ہے، اس کا تعلق نہ صرف غور و فکر کے ساتھ ہے، بلکہ سمجھ کے ساتھ بھی ہے، اور ایمان کے ساتھ بھی ہے، اور ساتھ قوتِ عازمہ، اس کے ساتھ بھی ہے۔ تو یہ گویا کہ مطلب یہ ہے کہ ایک پورا chamber بن گیا، دل و دماغ۔
دوسرا chamber جو ہے وہ بن گیا قلب و جگر، یعنی نفس کا اور جو ہے نا دل کا جو آپس میں باہمی ربط ہے۔ کیونکہ دل کے اندر قوتِ عازمہ ہوتی ہے۔ جیسے وہ کہتے ہیں نا فلاں شخص کا دل کمزور ہے، مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور دوسرا آدمی ،اس کا دل مضبوط ہوتا ہے، تو قوتِ عازمہ جو ہوتی ہے، مطلب وہ دل میں ہوتی ہے، اور کام نفس کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ یعنی ہاتھ پاؤں اور تمام چیزیں، آنکھ، یہ نفس کے ذریعے سے ہوتے ہیں۔
تو اب یہ گویا کہ دو chamber ہو گئے، ایک غور و فکر کا ہے، اور جس میں انسان کی قوتِ عازمہ اس میں ہوتی ہے۔ اور دوسرے میں یہ ہوتا ہے کہ فہم اور فکر کا ہوتا ہے۔
اب جب یہ چیز ہماری سمجھ میں آتی ہے، تو اللہ جل شانہ نے یہاں جو ذکر کیا اولو الالباب کا، ان کا تعلق ان چیزوں کے ساتھ ہے کہ جو غور و فکر کرتے ہیں ایمانی انداز سے، ان چیزوں میں جو دنیا میں نظر آ رہی ہیں۔ جو غور و فکر کرتے ہیں ایمانی انداز سے، ان چیزوں میں جو دنیا میں نظر آ رہی ہیں۔تو دنیا میں کیا چیزیں نظر آ رہی ہیں؟ وہ عرض کرتا ہوں۔ کائنات، کائنات نظر آ رہی ہے۔ کائنات کے اندر غور و فکر ہوتا ہے۔ سورج ہے، چاند ہے، ستارے ہیں، اور اس طرح فضائیں ہیں، یہ سب اس میں ہے۔ اور زمین کی جو حرکت ہے، یہ بھی ہے۔
تو اب زمین کی جو حرکت ہے، اس سے انسان بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ observation کے لحاظ سے۔ زمین کی جو حرکت ہوتی ہے۔ آسمان کے جو ستارے ہیں وہ تو چونکہ دور ہیں، تو اس سے اندازہ لیتا ہے، لیکن بہت ساری چیزیں جن کا تعلق ہمارے مشاہدات کے ساتھ ہے، وہ زمین سے متعلق ہیں۔
مثلاً زمین گھومتی ہے، تو دن اور رات بنتے ہیں۔ اور زمین چونکہ ترچھی ہے، تو دن اور رات چھوٹے بڑے ہوتے ہیں۔ اور ساتھ یہ ہے کہ زمین سورج کے گرد بھی گھومتی ہے، تو اس وجہ سے موسم بھی بدلتے ہیں۔
اب موسموں کا بدلنا ہر ایک کو نظر آتا ہے۔ ایک بچے کو بھی نظر آتا ہے، بوڑھے کو بھی نظر آتا ہے، عقلمند کو بھی نظر آتا ہے، بیوقوف کو بھی نظر آتا ہے۔ اس میں کوئی استثناء نہیں ہے، سب کو نظر آتا ہے، دن کا نظر آنا۔ اور اس کے لیے کسی کی خبر دینے کی بھی ضرورت نہیں کہ وہ سامنے خود ہی نظر آتا ہے۔
اور ساتھ ساتھ یہ کہ دن چھوٹے بڑے بھی ہوتے ہیں، یہ بھی سب کو نظر آتا ہے۔ اب یہ کہ اس پہ غور و فکر کون کر سکتا ہے؟ ہاں، وہ یہاں پر بات ہے۔ علم جو ہے نا حاصل ہوتا ہے جیسے اینٹ کے اوپر اینٹ رکھی جاتی ہے، تو جتنا علم حاصل ہوتا ہے اس کی بنیاد پر مزید علم حاصل کرتا ہے۔ جتنا علم مزید حاصل ہوتا ہے پھر اس پر مزید علم حاصل ہوتا ہے۔ یعنی یہ گویا کہ تدریجاً علم بڑھتا ہے۔ علم کے ذریعے سے علم بڑھتا ہے۔ جیسے پیسے کے ذریعے سے پیسہ بڑھتا ہے۔ اس طرح علم کے ذریعے سے علم بڑھتا ہے۔
اب یہ جو علم کے ذریعے سے علم بڑھتا ہے، تو اس میں جو مسلسل غور و فکر کرنے والے لوگ ہیں، وہ کون لوگ ہیں؟ جیسے آج کل ہم کہتے ہیں سائنسدان۔ آج کل کےجیسےسائنسدان ہیں، ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، اور وہ اس قسم کے جو تمام چیزوں کے اندر غور و فکر کرتے ہیں۔
اچھا اب ان کے اندر جو غور و فکر کرتے ہیں، تو اگر ان کے ساتھ ذکر کی بات ہوگی، یعنی دل ان کا ٹھیک ہوگا، اللہ کی طرف مائل ہوگا، دنیا کی محبت ان میں نہیں ہوگی، اور اللہ تعالیٰ کا تعلق ہوگا، اب ان کی جو ہے نا کیا ہوگا، وہ ان کا غور و فکر ایک طرح ہوگا۔ اور جن میں دنیا کی محبت ہوگی، اللہ کے ساتھ تعلق نہیں ہوگا، ان کا غور و فکر دوسرے طریقے سے ہوگا۔ایک ڈاکٹر جس کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے، اس کا انداز علاج کا اور ہوگا۔ اور جس کا اللہ کے ساتھ تعلق نہیں ہے اس کا انداز اور ہوگا۔ مطلب ہر چیز کے اندر اس میں فرق ہے۔
تو جن کا اندازِ فکر یہ ہو، کہ وہ اللہ جل شانہ کی طرف سے جو احکامات آئے ہوئے ہیں اور اللہ پاک کی طرف سے خبریں جو آئی ہیں، ان چیزوں کا خیال رکھ کر ان چیزوں کے اندر غور و فکر کر کے مزید ان کا علم بڑھتا ہے، اور ان کی سوچ و فکر بڑھتی ہے،ان لوگوں کو اولو الالباب کہا گیا، اولو الالباب۔
تو مطلب یہ ہے کہ اولو الالباب وہ لوگ ہیں جو کائنات کے اندر غور و فکر کرتے ہیں، لیکن ایمانی خبروں سے اثر لے کر۔ ایمانی خبروں سے اثر لے کر وہ جو فیصلے کرتے ہیں اور جو غور و فکر کرتے ہیں، وہ اولو الالباب ہیں۔ ان کے لیے پھر جو ہے نا وہ کیا ہے؟ یہ ہر وقت ان کا اگر علم بڑھتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا تعلق بھی بڑھتا ہے۔ اور ان چیزوں کے اوپر یقین چونکہ بڑھتا ہے، نتیجتاً اس کے بارے میں فکر بھی بڑھتی ہے۔
اور فکر کے بڑھنے کی پھر نشانی یہ ہوتی ہے کہ اخیر میں یہ کہہ اٹھتے ہیں: "اے ہمارے پروردگار! آپ نے سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا"
بلکہ میں یوں کہہ سکتا ہوں کہ سب سے پہلے اپنی زندگی کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ نے ہمیں بے مقصد نہیں پیدا کیا۔ اب مقصد کہاں سے معلوم ہوگا؟ وہ ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے، ایک اور قرآن پاک کی آیت ہے: "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ"۔ نہیں پیدا کیا میں نے انسان و جنات کو مگر اپنی عبادت کے لیے، اپنی بندگی کے لیے۔اب جب یہ بات سمجھ میں آ گئی، تو روز بروز ان کا یہ نتیجہ بھی بڑھے گا، اور دوسری طرف یہ بات ہے کہ ان کا عبادت کی طرف دھیان بھی بڑھے گا۔ اور عبادت کے اندر خلوص بھی زیادہ آئے گا۔ اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ وہ اپنے مقاصد کو دیکھے گا کہ ہمارا مقصد یہ ہے۔
تو یہاں پر یہ ہوگا کہ وہ یہی کہے گا کہ :پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجیے:۔ پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجیے۔ یعنی وہ اپنا منتہائے فکر جو ہے نا اس کو رکھے گا کہ اللہ پاک ناراض نہ ہو۔ کیونکہ دوزخ کس کی جگہ ہے؟ اللہ تعالیٰ جن سے ناراض ہیں ان کی جگہ ہے۔ اے اللہ ہم سے آپ ناراض نہ ہوں۔ تو یہی چیز آیاتِ معرفت ہے۔
یعنی جس سے انسان اللہ تعالیٰ، یعنی وہ لوگ جو نشانیوں سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتے ہیں، وہ اولو الالباب ہیں۔ اور اولو الالباب کے بارے میں یہیں پر بات ہے۔
اے اللہ ہمیں بھی اولو الالباب میں سے فرما دے۔ اور ہمیں بھی دوزخ کے عذاب سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ بے شک تو قادر ہے تمام چیزوں پر اور تو نے ہمیں بے مقصد نہیں پیدا کیا، اے اللہ ہمیں اپنے مقصد کی، یعنی فکر عطا فرما دے اور اس کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرمانا اور ہر قسم کے فضول کاموں سے ہمیں نجات عطا فرما۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔