حقیقتِ نماز اور مومن و منافق کی پہچان

اشاعت، اول :جمعرات، 17 ستمبر 2020

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      نماز کی حقیقی روح اور حالتِ ہوش کی اہمیت

·      نماز: مخلص مسلمانوں اور منافقین کے درمیان حدِ فاصل

·      منافقین پر فجر اور عشاء کی نماز کا بوجھ

·      تحویلِ قبلہ کا حکم اور منافقین کی آزمائش

·      نماز کے افعال اور اسلامی لشکر کے طریقوں میں مماثلت

·      شبِ جمعہ درود شریف کی فضیلت اور اہمیتِ حبِّ رسول ﷺ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

آج جمعے کی رات ہے اور جمعے کی رات کو ہمارے ہاں سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب سیرت النبی ﷺ کے حصہ پنجم سے تعلیم ہو رہی ہے۔



گذشتہ سے پیوستہ

ہوشیاری

نماز، عقل، ہوش، بیداری اور آیاتِ الٰہی میں تدبر و غور، خدا کی تسبیح و تہلیل اور اپنے لیے دعائے مغفرت کا نام ہے۔ اس لیے وہ تمام چیزیں جو انسان کے عقل و ہوش اور فہم و احساس کو کھو دیں، نماز کی حقیقت کے منافی ہیں۔ اس لیے اس وقت بھی جب شراب کی ممانعت نہیں ہوئی تھی اس کو پی کر نشے کی حالت میں نماز پڑھنا، نماز پڑھنا جائز نہیں تھا۔

لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ حَتّٰی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ۔ نشے کی حالت میں تم نماز کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھ لو کہ جو کچھ کہتے ہو۔ اس بنا پر ایک نماز کا پابند آدمی تمام ایسی چیزوں سے جو اس کے عقل و ہوش کو گم کر دیں قطعاً پرہیز کرے گا۔


مسلمان کا امتیازی نشان

مذہبی، بلکہ سیاسی حیثیت سے بھی اسلام کو سب سے زیادہ مخلصین اور منافقین کے امتیاز کی ضرورت تھی۔ قانون ان دونوں گروہوں میں کوئی امتیاز نہیں کر سکتا تھا۔ احکام میں حج ایک ایسی چیز تھی جس کے اہلِ عرب مدت سے خوگر تھے۔ اس کے ساتھ ان کے مذاق کی چیز تھی، خلائق کا اجتماع ایک میلے کی صورت اختیار کر لیتا تھا جو عرب کے تمدن کا ایک لازمی جزو تھا۔ فخر و امتیاز کے مواقع بھی اس میں حاصل ہو سکتے تھے۔ گویا اسلام نے اس کی اصلاح کر دی، زکوٰۃ بھی کوئی حدِ فاصل نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ اکثر منافقین متمول تھے اور یہ جاہ و فخر کا بھی ذریعہ ہو سکتی تھی۔ اس کے ساتھ عرب کی فیاض طبیعت پر بھی گراں نہیں ہو سکتی تھی۔ فقراء کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ بھی فطری ہے۔ صرف معمولی تحریک کی ضرورت تھی۔ روزہ بھی اس کا معیار نہیں قرار پایا کیونکہ روزے میں چھپے چھپے کھا لینے کا موقع آسانی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ صرف نماز ایک ایسی چیز ہے جو ان دو گروہوں میں حدِ فاصل ہو سکتی تھی۔ چنانچہ قرآن پاک نے اس فریضے میں سستی کو منافقین کی خاص پہچان قرار دیا۔ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالٰى۔ جب وہ نماز پڑھنے کو اٹھتے ہیں تو کسل مندی کے ساتھ اٹھتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کام انسان مجبوراً کرتا ہے، اس کی شان اور ہوتی ہے۔ اور جو انسان ولولے کے ساتھ جو کام کرتا ہے، اس کی شان اور ہوتی ہے۔ تو منافق کو تو پتہ ہوتا ہے نا کہ وہ اندر سے تو کافر ہوتا ہے۔ اندر سے مسلمان ہوتا نہیں ہے، تو ان کے لیے ایک مفت کی fatigue ہے۔ وہ کیوں نماز پڑھے؟ لیکن پڑھنا تو ہوتا ہے لوگوں کے سامنے۔ تو وہ جو بس جس کو کہتے ہیں نا بس صرف وہ یعنی اس کی Routine ہی پوری کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی دلی Attachment اس کے ساتھ کچھ نہیں ہوتی۔ نتیجتاً اس کی نماز بالکل مختلف ہوتی ہے۔ وہ سستی والی نماز ہوتی ہے۔ بس اس میں بس مردہ مردہ کام ہوتے ہیں۔ سجدے میں بھی، رکوع میں بھی، کوئی خاص اس میں والہانہ پن نہیں ہوتا۔کیوں، وجہ کیا ہے؟ دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں، وجہ یہ ہے کہ پانچ وقت نماز پڑھنی پڑتی ہے، پانچ وقت۔ تو پانچ وقت میں آپ اپنی Will power کے ساتھ کتنی دفعہ کر سکیں گے؟ کبھی تو آپ ظاہر ہو ہی جائیں گے۔ چونکہ اندرونی تحریک ہے نہیں تو بیرونی طور پر آپ کب تک چلائیں گے؟ اس وجہ سے پتہ چل جاتا ہے۔

وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ۔ خشوع و خضوع والوں کے علاوہ سب پر نماز سب پر گراں ہے۔ خصوصاً عشاء اور فجر کی نماز کہ یہ نسبتاً راحت کے اوقات ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "لَيْسَ صَلَاةٌ أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ"۔ "منافقین پر فجر اور عشاء سے کوئی نماز زیادہ گراں نہیں۔" حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب ہم صحابہ میں سے کسی کو عشاء اور صبح کی نمازوں میں غیر حاضر پاتے تھے تو ہم اس سے بدگمان ہو جاتے تھے کہ کہیں منافق تو نہیں۔

مدینہ آ کر نماز میں قبلے کی تبدیلی جہاں اور مصلحتیں اس کی تھیں وہاں ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ اس سے مخلصین اور منافقین کی تمیز ہو جائے۔ مکہ معظمہ کے لوگ جو کعبہ کی عظمت کے قائل تھے بیت المقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ مدینہ میں یہود آباد تھے جن میں سے کچھ مسلمان ہو گئے تھے وہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے اور کعبے کی عظمت تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اس لیے عرب منافقین کی پہچان بیت المقدس کو قبلہ بنانے سے اور یہود منافقین کی پہچان کعبے کو قبلہ بنانے سے ہو سکتی تھی۔

مطلب یہ کہ جو عرب تھے وہ بیت المقدس مجبوراً نماز پڑھتے تھے نا۔ تو ان کا دل تو نہیں چاہتا تھا۔ اور جو یہود منافقین بظاہر مسلمان تھے، تو ان کے لیے خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنا بہت مشکل تھا۔

چنانچہ قرآن پاک میں ہے، وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ۔ "اور جس قبلے پر تم ہو اس کو ہم نے قبلہ نہیں بنایا لیکن اس لیے تاکہ ہم ان کو جو رسول کی پیروی کرتے ہیں، ان سے الگ کر دیں جو الٹے پاؤں پھر جائیں گے اور یہ قبلہ گراں ہوا لیکن ان پر جن کو خدا نے ہدایت دکھائی"۔

یہ پہچان و شناخت اب قیامت تک رہے گی۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا، جس نے ہمارا ذبیحہ کھایا اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی وہ مسلمان ہے۔

باطل کی شکست اور حق کی خاطر لڑنا انسان کا فرض ہے۔ اس فرض کو انجام دینے کے لیے انسان کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ اس تیاری کا نقشہ ہماری روزانہ کی نمازیں ہیں، چنانچہ ابو داؤد میں ہے كَانَ النَّبِيُّ وَالْجُيُوشُ إِذَا عَلَوْا كَبَّرُوا وَإِذَا هَبَطُوا سَبَّحُوا، فَوُضِعَتِ الصَّلَاةُ عَلَى ذَلِكَ۔ آپ ﷺ اور آپ کا لشکر جب پہاڑی پر چڑھتا تو تکبیر، اور جب نیچے اترتا تو تسبیح کہتا تھا۔ نماز اسی طریقے پر قائم کی گئی۔

تو میرے خیال میں یہ آج کے لیے کافی ہے۔ اب ان شاءاللہ ہم درود شریف پڑھیں گے۔ یہ جمعہ کی رات ہے۔ اور جمعہ کی رات میں آپ ﷺ کی طرف سے خصوصی فرمائش کی گئی ہے کہ نورانی دن اور نورانی رات میں مجھ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجو۔ کثرت کے ساتھ۔ اس وجہ سے ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ جمعرات یعنی جمعہ کی رات، اور جمعہ کے دن، جمعہ کے دن عصر کے بعد اور جمعہ کی رات کو ہم لوگ کوشش کرتے ہیں کہ درود شریف پڑھیں زیادہ۔ تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان شاءاللہ العزیز ہم درود شریف پڑھیں گے۔ ہاں، یہ الگ بات ہے کہ محبت کے ساتھ پڑھا جائے تو اور بات ہے۔ محبت کے ساتھ، جذبے کے ساتھ پڑھا جائے۔ آپ ﷺ کے ساتھ محبت ہو۔ ویسے آپ ﷺ کی محبت جو ہے نا، یہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایمان کی تکمیل بتائی گئی نا آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہے جب تک مجھ سے، اپنے والدین سے زیادہ، اپنی اولاد سے زیادہ، بلکہ تمام لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرو۔ اور ایک روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا، جب تک اپنے آپ سے بھی مجھ سے زیادہ محبت نہ کرو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ محبت تو ہے ہی ویسے ضروری، لیکن درود شریف پڑھتے وقت اگر اس محبت کو بڑھایا جائے، تو مزید ماشاءاللہ اس کے اندر وہ طاقت آ جاتی ہے۔ کیونکہ درود شریف یہ ہمیں آپ ﷺ کے قریب کرنے والا ہے اور سنت اعمال پر لانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اس وجہ سے ہم کوشش کرتے ہیں کہ دونوں کو جمع کر لیں۔ تو پہلے نعت سنی جائے گی ان شاءاللہ، پھر اس کے بعد ان شاءاللہ درود شریف کی مجلس ہو گی۔



نعت شریف


اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں

اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں



جس کسی دل میں ان کی محبت نہ ہو

ایک پتھر ہی ہے اس میں جاں ہی نہیں


وہ ہیں محبوب ِ رب کریم مصطفے ٰ

وہ کہ مظہر ہدایت کے ہیں مجتبٰی

تو مری اب زباں پہ ہو صلِّ علی




اب درود و سلام میں ہمیشہ پڑھوں

دل سے میں ہر جگہ صرف یہاں ہی نہیں



ہیں سراپا وہ رحمت ہمارے لیے

ان کا رستہ ہدایت ہمارے لیے

منبعِ فیض و حکمت ہمارے لیے




جو کبھی بھی جدا ہوگیا ان سے تو

اس کے بچنے کا کوئی مکاں ہی نہیں





اب بھی ملتا ہے ان کی نظر کے طفیل

ان کی تعلیم دیں پُر اثر کے طفیل

ہے بشر زندہ خیر البشر کے طفیل




نام لیوا اگر نہ رہے ان کا تو

پھر خدا کی قسم یہ جہاں ہی نہیں



پڑھ کے سیرت میں ان کی ہی انساں بنوں

ان کے پیچھے رہوں مردِ میداں بنوں

ان کو میں چھوڑ کر کیسے تیرا بنوں




گر محبت نہ حاصل ہو ان کی شبیر ؔ

پھر کہوں یوں کہ اس میں ایماں ہی نہیں




اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں

ایک پتھر ہی ہے اس میں جاں ہی نہیں

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ



حقیقتِ نماز اور مومن و منافق کی پہچان - درسِ سیرۃ النبی ﷺ - دوسرا دور