تفکر فی مخلوقاتِ الٰہی اور حق کی تلاش کا قرآنی طریقہ

بَابٌ فِي التَّفَكُّرِ فِي عَظِيْمِ مَخْلُوقَاتِ اللّٰهِ تَعَالٰى، وَفَنَاءِ الدُّنْيَا، وَأَهْوَالِ الْاٰخِرَةِ، وَسَائِرِ أُمُورِهِمَا، وَتَقْصِيْرِ النَّفْسِ، وَتَهْذِيْبِهَا، وَحَمْلِهَا عَلَى الِْاسْتِقَامَةِ۔ - اشاعتِ اول: 28 نومبر، 2022 بمطابق 3 جمادی الاول 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوقات، دنیا کے فنا ہونے اور آخرت کے احوال پر تفکر و تدبر کی اہمیت۔

•        سورۃ سبأ کی آیت 46 کی تفسیر، مفہوم اور شانِ نزول۔

•        حق کی تلاش کے لیے تنہائی (فُرادیٰ) اور دو افراد (مَثنٰی) کے مل کر اخلاص کے ساتھ غور و فکر کرنے کی افادیت۔

•        مشورے کی اہمیت اور زیادہ ہجوم کے باعث پیدا ہونے والے فکری انتشار کے نقصانات۔

•        کفارِ مکہ پر حجت تمام کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کی 40 سالہ صادق اور امین زندگی کا حوالہ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔


بَابٌ فِي التَّفَكُّرِ فِي عَظِيْمِ مَخْلُوقَاتِ اللّٰهِ تَعَالَى، وَفَنَاءِ الدُّنْيَا، وَأَهْوَالِ الْآخِرَةِ، وَسَائِرِ أُمُورِهِمَا، وَتَقْصِيْرِ النَّفْسِ، وَتَهْذِيْبِهَا، وَحَمْلِهَا عَلَى الِاسْتِقَامَةِ۔


اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوقات میں غور و فکر کرنے، دنیا کے فنا ہونے، آخرت کی ہولناکیوں اور دنیا و آخرت کے تمام امور، نفس کی کوتاہی اور اس کی اصلاح و تہذیب اور اس کو استقامت پر آمادہ کرنے کا بیان۔


اللہ کی مخلوق کی عظمتوں کے بارے میں غور و فکر کرنا۔ قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى:

﴿إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ ۖ أَنْ تَقُومُوا لِلّٰهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا﴾


ارشادِ خداوندی ہے، میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لیے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہو جاؤ اور غور کرو۔ اس آیت میں اہلِ مکہ پر حجت تمام کرنے کے لیے ان کی... ان کو ایک درمیانی راہ بتائی گئی ہے۔


﴿إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ ۖ أَنْ تَقُومُوا لِلّٰهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا﴾۔ تو میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لیے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہو جاؤ اور غور و فکر... اس آیت میں اہلِ مکہ پر حجت تمام کرنے کے لیے ان کو ایک درمیانی راہ بتائی جا رہی ہے کہ تم ایک کام کرو کہ خود اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم... اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عقل سے سوچو کہ یہ سچا ہے یا جھوٹا۔


تَقُومُوا، اس سے مراد کھڑا ہونا نہیں بلکہ ایک محاورہ ہے کہ کام کا پورا پورا اہتمام کرو۔ جیسے إِقَامَةُ الصَّلَاةِ ہے۔ تو یہ ہے کہ خلوت و تنہائی میں خود غور کرنا اور سوچنا، یہ فُرَادَىٰ ہے۔ اور اپنے احباب... احباب اور اکابر سے مشورہ کرنا...


مگر اس میں ایک بات یہ کہی کہ مَثْنَىٰ، دو دو ہوں، یعنی زیادہ ہجوم نہ ہو، کیونکہ زیادہ لوگ ہوں گے تو پھر بھی نتیجہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا۔ مگر اس میں ایک شرط لگائی گئی کہ لِلّٰهِ، یہ اللہ کے لیے ہو۔ اس کو راضی کرنے کے لیے اور پچھلے خیالات و عقائد سے خالی الذہن ہو کر حق کی تلاش کریں، تو ضرور ان کو حق مل جائے گا۔ ان کی عقل ضرور اس بات کی گواہی دے گی کہ نبی کوئی پاگل و دیوانہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کے چالیس سال سے اس قوم... چالیس سال اس قوم کے اندر گزرے ہیں۔ اس کے ایک ایک عمل کو... جانتے ہیں، پھر ایک دم وہ کلمۂ توحید... لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کی دعوت دے تو لازماً یہ وحی کے ذریعے سے ہو گا۔


تو یہ بات آ گئی کہ سب سے پہلے اس آیت کے اندر تفکر کرنے کی، یہ بابِ تَفَعُّل سے ہے، یعنی فکر پر اپنے آپ کو متوجہ کرنا، تفکر۔ تو اس کے... اللہ نے یہ فرمایا کہ تم فکر کرو۔ لیکن کیسے کرو؟ بِوَاحِدَةٍ، یعنی... اپنے آپ کے ساتھ... مطلب یہ ہے کہ...


یعنی ایک بات کی جو... وَأَنْ تَقُومُوا لِلّٰهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ... مطلب یہ ہے کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی... یعنی بِوَاحِدَةٍ، ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، تاکہ تم، یعنی ایک کام کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوشش کرو، تو اس کے لیے پھر تم کیا کرو؟ تم اکیلے سوچو خود اور مشورے کے ذریعے سے حق تک پہنچنے کی کوشش کر لو۔ یعنی آپس میں غور و فکر کرو۔


جیسے ہوتا ہے نا، مطلب مشورہ ہوتا ہے، تو مشورے میں یہ ہوتا ہے کہ ہر ایک کے دل میں کوئی بات آتی ہے تو وہ سب کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ تو اس میں جو حق کی بات ہوتی ہے اس پر دل پھر جمع ہو جاتے ہیں۔ تو اس طریقے سے اگر کوئی فکر کرنا شروع کر لے، تو یہ گویا کہ اللہ پاک سے لینے کا ایک راستہ ہے۔ اللہ پاک سے لینے کا ایک راستہ ہے۔ جیسے انسان دعا کے ذریعے سے مانگتا ہے اللہ تعالیٰ سے، تو فکر کے ذریعے سے بھی...


جب وہ اخلاص کے ساتھ ہو۔ مثال کے طور پر کوئی شخص کسی مسئلے میں پھنسا ہے، دینی مسئلے میں، اور اس میں تہہ تک پہنچنا چاہتا ہے کہ اصل بات کیا ہے، حقیقت کیا ہے۔ تو ایسی صورت میں پھر وہ ظاہر ہے غور و فکر خود بھی کرے گا، اپنے آپ کے ساتھ تنہائی میں غور و فکر کرے گا۔ پھر یہ ہے کہ کچھ اور ساتھی جن پر اس کو اعتماد ہو گا کہ یہ بھی میرے ہم... یعنی مطلب ہے ہم فکر ہیں اور اس چیز کے طالب ہیں، تو ان کو بھی اپنے ساتھ شامل کر کے کچھ نتیجے پہ پہنچنے کی کوشش کرے گا۔


اب اس میں صرف ایک بات کی بات کہی ہے کہ اگر بہت سارے لوگ ہوں تو اس میں پھر یعنی یہ طے کرنا بڑا مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ بھانت بھانت کی بولیاں ہو جائیں گی۔ تو اس میں حق بات تک پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔ تو ایسی صورت میں جو صرف... یعنی اپنے ہم فکر لوگ ہوں ان کے ساتھ مشورہ کیا جائے اور جسے کہتے ہیں سر جوڑ کر بیٹھ جائیں۔ یعنی ہمارے ہاں محاورہ ہے کہ سر جوڑ کر بیٹھیں۔ تو یہ سر جوڑ کر بیٹھ جائیں۔ ایک بات پر غور و فکر کرنا شروع کر لیں، تو اللہ تعالیٰ اس میں کوئی راستہ دے دیتا ہے۔


یہ اصل میں اس کے بارے میں بات ہے۔ تو اصل میں اس کا شانِ نزول تو یہی ہے کہ جو کفارِ مکہ ہیں، ان کے لیے یہ ایک سہولت... کے طور پر بتائی گئی کہ تم لوگ... یعنی جو اس پیغمبر کے بارے میں جاننے کے لیے خود بھی سوچو کہ ان کی زندگی کیسے گزری ہے۔ اور... دوسروں کو بھی ساتھ ملا کے سوچو، فکر کرو کہ ان کی زندگیاں کیسے گزری ہیں۔ کیا کبھی اس نے جھوٹ بولا ہے؟


اگر ابھی تک جھوٹ نہیں بولا تو پھر کیسے وہ جھوٹ بولنا شروع کرے گا فوراً۔ چالیس سال تھوڑے تو نہیں ہوتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی امانت میں خیانت کی ہے؟ اگر امانت میں خیانت نہیں کی تو اب اتنی بڑی امانت میں کیسے خیانت کر سکتا ہے کہ اس کو اللہ پاک نے کوئی بات بتائی نہ ہو اور اس میں وہ اپنی طرف سے بات کر لے۔


تو یہ ساری باتیں جو ہیں، یہ اس کو سوچنے کے لیے ایک ترتیب بتائی گئی ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہمیں اس ترتیب کو استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو ہمارے طریقوں کی غلطیاں ہیں، اس کے ذریعے سے ان کو ختم فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔




تجزیہ اور خلاصہ:

بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


سب سے جامع عنوان: تفکر فی مخلوقاتِ الٰہی اور حق کی تلاش کا قرآنی طریقہ

متبادل عنوان: غور و فکر (تفکر) کی اہمیت اور سورۃ سبأ کی روشنی میں اس کے اصول


اہم موضوعات:


اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوقات، دنیا کے فنا ہونے اور آخرت کے احوال پر تفکر و تدبر کی اہمیت۔

سورۃ سبأ کی آیت 46 کی تفسیر، مفہوم اور شانِ نزول۔

حق کی تلاش کے لیے تنہائی (فُرادیٰ) اور دو افراد (مَثنٰی) کے مل کر اخلاص کے ساتھ غور و فکر کرنے کی افادیت۔

مشورے کی اہمیت اور زیادہ ہجوم کے باعث پیدا ہونے والے فکری انتشار کے نقصانات۔

کفارِ مکہ پر حجت تمام کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کی 40 سالہ صادق اور امین زندگی کا حوالہ۔

خلاصہ:

اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے اللہ کی عظیم مخلوقات، دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کے احوال پر تفکر (غور و فکر) کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ آپ نے سورۃ سبأ کی آیت 46 کی روشنی میں سمجھایا کہ حق کی تلاش اور دینی مسائل کے حل کے لیے انسان کو چاہیے کہ وہ تنہائی میں یا کسی ایک مخلص ہم خیال ساتھی کے ہمراہ بیٹھے (سر جوڑ کر بیٹھے) اور خلوصِ نیت کے ساتھ غور کرے۔ آپ نے واضح کیا کہ مشورے میں زیادہ ہجوم حق بات تک پہنچنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ آخر میں آپ نے اس آیت کے شانِ نزول کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ کفارِ مکہ کو یہ دعوتِ فکر دی گئی تھی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی 40 سالہ سچی اور امانت دارانہ زندگی پر غور کریں، جس سے ان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ آپ ﷺ کی طرف سے پیش کی جانے والی توحید کی دعوت بلاشبہ وحیِ الٰہی پر مبنی ہے۔

54.9s


تفکر فی مخلوقاتِ الٰہی اور حق کی تلاش کا قرآنی طریقہ - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور