دنیاوی نعمتیں بمقابلہ آخرت کی پائیداری: ایک حقیقی سودا

درس نمبر 164، سورۃ آل عمران: آیات:184 تا 189- (اشاعتِ اول) 10 مئی، 2022، بمطابق 8 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      ہر نفس کا موت کا مزہ چکھنا اور قیامت کے دن اعمال کا حقیقی بدلہ۔

·      دنیاوی زندگی کی بے ثباتی اور اس کا محض دھوکے کا سامان ہونا۔

·      دنیا کی نعمتوں (پھل، محلات، حوریں) کا آخرت کی نعمتوں کے لیے محض ایک نمونے (Sample) کی حیثیت رکھنا۔

·      دنیا کی ہر راحت اور مزے کے ساتھ پوشیدہ تکالیف اور مصیبتوں کا تقابل جنت کی بے داغ اور خالص نعمتوں سے۔

·      حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ الله علیہ کی بادشاہت چھوڑنے کا واقعہ اور اللہ کی طرف سے انہیں عطا کردہ روحانی بادشاہت کا تذکرہ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


فَإِن كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَاءُوْا بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ ‎184‏ كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ‎185‏ لَتُبْلَوُنَّ فِيْ أَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوْا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِن تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَإِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ‎186 ‏وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ الَّذِيْنَ أُوْتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهٗ فَنَبَذُوْهُ وَرَاۤءَ ظُهُوْرِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا ۖ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ ‎187‏ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَا أَتَوا وَّيُحِبُّوْنَ أَن يُحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ ‎188‏ وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَاللَّهُ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‎189

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ


(اے پیغمبر) اگر پھر بھی یہ لوگ تمہیں جھٹلائیں تو (یہ کوئی نئی بات نہیں) تم سے پہلے بھی بہت سے ان رسولوں کو جھٹلایا جا چکا ہے جو کھلی کھلی نشانیاں بھی لائے تھے، لکھے ہوئے صحیفے بھی اور ایسی کتاب بھی جو حق کو روشن کردینے والی تھی۔ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کسی کو دوزخ سے دور ہٹا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہ صحیح معنی میں کامیاب ہو گیا۔ اور یہ دنیاوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔


(مسلمانو!) تمہیں اپنے مال و دولت اور جانوں کے معاملے میں اور آزمایا جائے گا (اور) آزمایا جائے گا اور تم اہل کتاب اور مشرکین دونوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے اور اگر تم نے صبر اور تقویٰ سے کام لیا تو یقیناً یہی کام بڑی ہمت کے ہیں (جو تمہیں اختیار کرنے ہیں)۔ (اور ان لوگوں کو وقت نہیں بھولنا چاہیے) جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا کہ "تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے ضرور کھول کھول کر بیان کرو گے، اس کو چھپاؤ گے نہیں"۔ پھر انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کر لی۔ اس طرح کتنی بری ہے وہ چیز جو یہ مول لے رہے ہیں۔


یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جو لوگ اپنے کیے پر بڑے خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف ان کاموں پر بھی کی جائے جو انہوں نے کیے ہی نہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ نہ سمجھنا کہ وہ عذاب سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان کے لیے دردناک سزا (تیار) ہے اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت صرف اللہ ہی کی ہے اور اللہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ


یہ اس میں کچھ باتیں ایسی آئی ہیں، مطلب اس سیاق و سباق میں اور جو ترجمہ میں نے ابھی کیا ہے جس کی ضرورت ہمیں بہت زیادہ ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ یہاں فرمایا گیا کہ ہر جاندار کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ یعنی یہ ہر ایک کے ساتھ ہے۔ کوئی بھی شخص اس سے فارغ نہیں ہے۔ چاہے پیغمبر ہے چاہے مطلب یہ ہے کہ وہ البتہ یہ کہ پیغمبر اپنی قبر میں زندہ ہوتا ہے یہ تو یقیناً، لیکن یہ ہے کہ ظاہر ہے اس دنیا سے جو جانا ہوتا ہے، تو اعمال کا بدلہ ادھر ہی ملتا ہے۔ فرماتے ہیں:

اور تم سب کو تمہارے اعمال کے پورے پورے بدلے قیامت کے دن ملیں گے۔


اب کامیابی کس چیز میں ہے؟ فرمایا :

پھر جس کسی کو دوزخ سے دور ہٹا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہ صحیح معنوں میں کامیاب ہو گیا۔

یعنی یہ جو دنیا ہے، اس کے بارے میں فرما رہے ہیں:

یہ دنیاوی زندگی تو جنت کے مقابلے میں دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔

یہاں انسان کو دھوکہ لگتا ہے کہ جیسے کہ یہ مال یا یہ سامان یا یہ چیزیں جو یہاں پر میں برت رہا ہوں، جو نفس کے لیے بہت پسندیدہ ہیں، یہ شاید واقعی ایسی ہی ہیں، نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بہت عارضی ہیں۔ یہ ہمیں صرف محسوس ہو رہی ہیں اور محسوس ہونا بھی اس لیے ہے کہ اس کو ابتلا کا اور امتحان کا سامان بنایا گیا ہے۔


اب میں آپ کو بتا دوں، مثلاً آپ جاتے ہیں کسی اور ملک میں، اب یہاں پر کچھ چیزیں آپ نے خریدنی ہیں وہاں کی، تو وہ چیزیں آپ خریدیں گے ادھر ملیں گی وہاں پر مثلاً۔ تو اس کی تصویریں آپ کو بھیج دی جائیں کہ یہ ایسا ہے ایسا ہے یا ویڈیوز بھیج دیے جائیں جو بھی چیزیں ہوں۔ آپ اسے select کر کے پھر وہاں اس کو حاصل کر لیں، لیکن اس کے لیے جو Payment ہے وہ یہاں پر کر لیں آپ۔ تو اب چیز تو آپ کو ادھر ملے گی لیکن یہاں پر آپ کو اس کی تصویریں مل گئیں، آپ کو اس کے مطلب ڈیزائن مل گئے، ساری چیزیں مل گئیں، تو صحیح ہے مطلب ٹھیک ہے۔ اسی طریقے سے دنیا کی جو چیزیں ہیں، یہ نمونے کی چیزیں ہیں۔ مثال کے طور پر سیب میں کھا رہا ہوں، تو اصل سیب جنت میں ہے۔ لیکن یہاں اس کا نمونہ ہے۔ اگر نمونہ نہ ہوتا تو مجھے کوئی کہتا آپ کو سیب ملے گا، تو مجھے کیا پتہ ہوتا کہ سیب کیا چیز ہے؟ میں اس کے لیے کیسے شوق رکھتا؟ اگر مجھے بتا دیا جائے کہ وہاں آپ کو بڑے بڑے محل ملیں گے، تو یہاں محل اگر مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ محل کیا چیز ہے، تو محل کے بارے میں میرے ذہن میں کیا ہوتا؟ اگر وہاں پرآپ کو اچھی اچھی حوریں مل رہی ہیں، تو اگر یہاں خوبصورتی کا تصور نہ ہوتا تو میں کیسے مجھے اندازہ ہوتا کہ حوریں ملیں گی، کیسے ملیں گی؟ اس طرح اگر مجھے دودھ اور شہد ہیں، وہ اگر یہاں مجھے سامنے نہ ہوتا تو مجھے کیسے پتہ ہوتا کہ وہاں پر کیسے ہیں؟ تو یہاں نمونے ہیں۔ اور وہاں پر اصل ہے۔


اصل دو لحاظ سے ہے، ایک تو یہ بہت عارضی ہے، یعنی اس کی پائیداری نہیں ہے۔ اور دوسرا جو ہے نا وہاں پر ہمیشہ کے لیے ہے۔ تو ہمیشہ والی چیز کے مقابلے میں ایک ناپائیدار چیز کی کیا حیثیت ہوتی ہے؟ وہ تو ختم ہونے والی ہوتی ہے۔ بے شک اگر آپ کے پاس بھی ہو لیکن ختم ہونے والی چیز ہے۔ میں یہاں پر دیکھتا ہوں، اس دنیا میں کسی کو عارضی نوکری ملتی ہے، عارضی نوکری ملتی ہے۔ مثلاً وہ دو تین مہینے کی ہے اور اس کی تنخواہ بہت زیادہ ہے۔ اوردوسری نوکری آپ کو مستقل ملتی ہے۔ وہ اس کی آدھی بھی نہیں ہے۔ لیکن آپ کیا کریں گے، وہ عارضی نوکری لیں گے یا مستقل نوکری لیں گے؟ مستقل نوکری کے لیے پتا نہیں لوگ کیا کیا کرتے ہیں۔ تو اس طرح مطلب گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ اس سے ہمیں نمونے مل رہے ہیں اور وہاں ہمیں اصل مل رہی ہے۔ تو یہ ہماری بڑی ضرورت ہے کہ ہم ذرا اس بات کو سوچیں کہ اللہ جل شانہ نے جو یہاں مزے بنائے ہیں، تو یہ مزے اس لیے نہیں ہیں کہ ہم اس میں گم ہو کر آخرت کو بھول جائیں۔ بلکہ اِس کو دیکھ کر اُس کو یاد کر لیں، آخرت کو یاد کر لیں۔ یعنی ان چیزوں کو دیکھ کر کہ یہ تو مطلب اس طرح چیزیں وہاں پر ہوں گی، تو ہمیں مطلب وہ چیزیں حاصل کرنی چاہییں۔


پھر دوسری بات یہ ہے کہ یہاں پر مصیبت ہے ساتھ۔ یہاں پر ہر، ہر، ہر راحت کے ساتھ ایک مصیبت ہے۔ مثلاً میٹھی چیزیں بہت اچھی چیزیں ہیں، بہت پسندیدہ چیزیں ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ ہے کہ ڈاکٹر کہتے ہیں بھئی زیادہ میٹھا نہ کھاؤ ورنہ پھر شوگر ہو جائے گا، یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا۔ اچھا حتی کہ چلو شوگر نہ بھی ہو، موٹاپا ہو جائے گا۔ اچھا موٹاپا نہ ہو لیکن بہت زیادہ کھا لو تو بدہضمی ہو جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ یعنی یہاں کے مزوں کے ساتھ مصیبتیں ہیں۔ یہاں پر آپ کا بہت بڑا مکان ہے، چلو مکان کو نظر لگ جائے گی۔ مطلب ،یہاں آپ کو آرام سے کوئی چیز نہیں مل رہی۔ ہر راحت کے ساتھ ایک مصیبت بھی ہے۔


جبکہ وہاں پر یہ چیزیں نہیں ہوں گی۔ وہاں پر سبحان اللہ! ہر چیز پاک ہو گی، گندی نہیں ہو گی۔ اب وہاں شراب ہے لیکن گندی نہیں ہے۔ وہاں پر عورتیں ہیں، گندی نہیں ہیں۔ وہاں پر دودھ ہے اور شہد ہے، وہ بہت اعلیٰ ہے۔ وہاں پر مکانات ہیں، وہ مکانات ،اس کو نظر نہیں لگے گی۔ یہ مطلب گویا کہ یوں سمجھ لیجیے وہاں ایسی چیزیں ہیں جو کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تو یہ جو یہاں جو چیزیں ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں، ان کے لیے اگر ہم نے وہ چیزیں چھوڑ دیں، تو یہ بیوقوفی ہو گی۔ اور اگر وہاں کی چیزوں کے لیے ہم نے یہ چیزیں چھوڑ دیں، تو یہ ایک ہوشیاری ہے۔


دیکھیں ابراہیم بن ادھم رحمۃ الله علیہ نے بادشاہت چھوڑی تھی۔ بادشاہت کس لیے چھوڑی تھی؟ کہ اس کو اللہ پاک نے پھر سبحان اللہ اس سے بڑی بادشاہت دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت نوازا۔ وہاں پر بھی نوازا، یہاں پر بھی نوازا۔ وہ یہاں پر جو ہے نا وہ ان کے ، چونکہ وہ بہت عادل بادشاہ تھے تو ان کے جو لوگ تھے جو یعنی عملہ تھا اور تمام چیزیں، وہ ان کو ڈھونڈ رہے تھے۔ تو ایک جگہ پر دیکھا کہ وہ ایک جگہ پر گدڑی سی رہے ہیں اپنی۔ تو وہاں لوگ پہنچ گئے وزیر اعظم وغیرہ سارے کہ حضرت آپ ہم سے کیوں ناراض ہیں؟ آپ تشریف لائیں اور یہ اور وہ اس طرح۔ انہوں نے کہا آپ ہمیں کیوں بلا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا حضرت وہاں پر حکومت کریں، انہوں نے کہا اچھا تم میری ساری باتیں مانو گے؟ کہتے ہیں جی بالکل ہم مانیں گے۔


تو حضرت نے اپنی سوئی جو تھی اس کو دریا میں پھینک دیا۔ فرمایا: یہ سوئی میری نکالو۔ تو وہ سوئی اس کے لیے غوطہ خوروں کو بلایا گیا اور کیا، سوئی کہاں بھئی، سوئی کون نکال سکتا ہے؟ اخیر میں تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا اچھا۔ تو انہوں نے دریا کی مچھلیوں کو حکم دیا کہ میری سوئی چاہیے۔ اب بہت ساری مچھلیاں اوپر آئیں اور انہوں نے کسی نے سونے کی سوئی پکڑی ہوئی ہے کسی نے چاندی کی۔ انہوں نے کہا نہیں نہیں، وہ میری سوئی۔ تو ایک مچھلی کے منہ میں وہ سوئی تھی، اس کو لے لیا۔ انہوں نے کہا دیکھو یہ حکومت بڑی ہے یا وہ حکومت بڑی ہے؟ تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ جل شانہ نے پھر یہیں پر بھی بہت کچھ دیا، لیکن اصل تو وہاں کی ہے۔ اصل تو وہاں کی ہے۔ تو جن لوگوں نے سودا کر لیا اس کا، کہ یہاں کی چیزوں کے بدلے میں وہاں کی چیزوں کا، یہ کمال کے لوگ ہیں۔ اللہ ہمیں بھی ان میں سے کر دے۔

وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين



دنیاوی نعمتیں بمقابلہ آخرت کی پائیداری: ایک حقیقی سودا - درسِ قرآن - دوسرا دور