ایک رکعت میں متعدد سورتوں کی تلاوت اور رکوع و سجود کی کیفیات

بَابٌ فِي المجاہدہ، درس نمبر: 156 حدیث نمبر: 102 اشاعتِ اول: 24 دسمبر، 2022 بمطابق 29 جمادی الاول 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• تہجد کی نماز میں ایک ہی رکعت کے اندر طویل سورتوں (سورہ بقرہ، آل عمران، نساء) کی تلاوت۔

• تلاوت کے دوران آیاتِ رحمت پر دعا، آیاتِ عذاب پر پناہ اور آیاتِ تسبیح پر سبحان اللہ کہنے کا مسنون طریقہ۔

• قرآن مجید کی موجودہ ترتیب کے مطابق نماز میں سورتیں پڑھنے کا حکم۔

• طویل قیام کی مناسبت سے رکوع اور سجدے کا بھی طویل ہونا۔

• رکوع کی تسبیح "العظیم" اور سجدے کی تسبیح "الاعلیٰ" کے درمیان فرق، اسمِ تفضیل کا مفہوم اور اس میں پوشیدہ حکمتِ عبدیت۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.


ایک رکعت میں کئی سورتوں کو پڑھ سکتے ہیں

(102) ❖ الثَّامِنُ: وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللّٰهِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، ثُمَّ مَضَىٰ؛ فَقُلْتُ يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَىٰ؛ فَقُلْتُ يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَقُولُ: "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ" فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ: "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ: "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى" فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِهِ" (رواه مسلم)


"حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی آپ ﷺ نے سورہ بقرہ پڑھنی شروع کردی، میں نے خیال کیا کہ سو آیت پڑھ کر رکوع میں چلے جائیں گے لیکن آپ ﷺ پڑھتے رہے میں نے خیال کیا کہ سورہ بقرہ ایک رکعت میں ختم کر کے رکوع کریں گے لیکن پڑھتے رہے بقرہ ختم کر کے آل عمران کو پڑھا پھر سورہ نساء کو پڑھا، ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے جا رہے تھے، جب تسبیح والی آیات پڑھتے "سُبْحَانَ اللهِ" کہتے اور جب سوال والی آیت پڑھتے تو سوال کرتے اور جب تعوذ کی آیت پڑھتے تو "اعوذ بالله" پڑھتے، پھر رکوع میں گئے اس میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ" کہتے رہے اور آپ کے رکوع کا عرصہ قیام کے برابر تھا پھر رکوع کے بعد کھڑے ہوئے "سمع الله لمن حمده، ربنا لک الحمد" پڑھتے رہے، تقریباً رکوع کے بقدر قومہ میں کھڑے رہے، پھر سجدہ میں چلے گئے اس میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى" پڑھتے رہے، آپ کا سجدہ بھی تقریباً قیام کے برابر تھا۔


جو آپ ﷺ نے فرمایا تھا نا کہ نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو پھر تو ظاہر ہے.


ایک رکعت میں کئی سورتیں پڑھ سکتے ہیں

اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ قرآن مجید کو اسی ترتیب سے نماز میں پڑھا جائے جس ترتیب سے قرآن مجید میں سورتیں لکھی ہوئی ہے ہاں بچوں کو ابتداء چھوٹی چھوٹی سورتیں سکھانے کی علماء نے اجازت دی ہے۔ مگر نماز میں اس طرح پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔


اس طرح:

رکوع کی مقدار قیام کے برابر تھی۔ اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں:

اول جتنا قیام تھا اسی کے برابر رکوع بھی تھا مگر محدثین کے نزدیک زیادہ معتبر دوسرا مطلب ہے کہ آپ ﷺ کا اسی نمازوں میں جس میں قرأت عادتاً طویل ہوتی اس میں عادتاً رکوع بھی لمبا ہوتا تھا۔


یعنی انہوں نے اس سے یہ مراد لی ہے نا کہ جس طرح قیام لمبا ہوتا تھا اس طرح رکوع بھی لمبا ہوتا تھا۔ یعنی یہ نہیں فرمایا کہ جتنا قیام لمبا ہوتا تھا اتنا رکوع لمبا ہوتا تھا، یہ والی بات انہوں نے نہیں لی۔ انہوں نے اس سے یہ لی ہے کہ جس طرح قیام لمبا ہوتا تھا اس طرح رکوع بھی لمبا ہوتا تھا۔ نحو من ذلک، نحو من قیامہ اس طرح، یعنی مطلب اس طرح ہوتا تھا نا۔


رکوع اور سجدے کی تسبیح کی وجہ

ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى: آپ ﷺ رکوع میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ" تسبیح پڑھتے تھے اور سجدے میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى" اس کی حکمت یہ لکھی ہے کہ الْأَعْلَى یہ اسم تفضیل ہے، اس میں زیادہ تعظیم ہے بنسبت "الْعَظِيمِ" کے اور سجدہ میں زیادہ تواضع ہوتی ہے بنسبت رکوع کے، اس لئے شریعت نے بھی "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى" سجدے میں پڑھنے کا حکم دیا ہے۔


دیکھیں، بڑوں کے سامنے، یعنی بڑے کے سامنے جھکا جاتا ہے۔ اور جو بہت اعلیٰ، ہوتے ہیں، تو ان کے سامنے اپنی حیثیت ہی کچھ نہیں رہتی۔ یعنی جیسے پڑ جاتے ہیں مطلب انسان اس کے سامنے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ، یہ اسی کا مطلب ہے کہ، جس شان کے مطابق اللہ جل شانہ کی عظمت کسی پہ کھلی ہوتی ہے، تو اس کے حساب سے وہ پھر اپنی عبدیت کا اظہار کرتے ہیں۔ تو سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سے مراد یہی ہے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔








ایک رکعت میں متعدد سورتوں کی تلاوت اور رکوع و سجود کی کیفیات - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور