الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا(71) وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا(72) وَ لَىٕنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا(73) فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا(74) وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًا (75)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
اے ایمان والو! (دشمن سے مقابلے کے وقت) اپنے بچاؤ کا سامان ساتھ رکھو، پھر الگ الگ دستوں کی شکل میں (جہاد کے لئے) نکلو، یا سب لوگ اکٹھے ہو کر نکل جاؤ ﴿71﴾ اور یقیناً تم میں کوئی ایسا بھی ضرور ہوگا جو (جہاد میں جانے سے) سستی دکھائے گا، پھر اگر (جہاد کے دوران) تم پر کوئی مصیبت آجائے تو وہ کہے گا کہ اللہ نے مجھ پر بڑا انعام کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ موجود نہیں تھا ﴿72﴾
اور اگر اللہ کی طرف سے کوئی فضل (یعنی فتح اور مال غنیمت) تمہارے ہاتھ آئے تو وہ کہے گا گویا تمہارے اور اس کے درمیان کبھی کوئی دوستی تھی ہی نہیں۔
یہاں پر کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں ذکر آیا ہے جو صرف
یوں تو وہ زبان سے مسلمانوں سے دوستی کا دم بھرتے ہیں، لیکن جنگ میں شرکت سے متعلق ان کے خیالات تمام تر خود غرضی پر مبنی ہوتے ہیں۔ خود تو جنگ میں شریک ہوتے نہیں، اور جب مسلمانوں کو جنگ میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ان کو افسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ خوش ہوتے ہیں کہ ہم اس تکلیف سے بچ گئے، اور اگر مسلمانوں کو فتح ہوتی ہے، اور مال غنیمت حاصل ہوتا ہے تو یہ خوش ہونے کے بجائے حسرت کرتے ہیں کہ ہم اس مال غنیمت سے محروم رہ گئے۔
یعنی منافقین ایسے ہوتے ہیں، ہر دور میں ہوتے ہیں۔ البتہ یہ ہے کہ اللہ پاک کو تو ان کا پتہ ہوتا ہے، لہٰذا ان کے بارے میں قرآن پاک میں آ گیا۔ اور آپ ﷺ کو بھی بتایا گیا تھا اس وقت کے جو منافقین تھے، لیکن آپ ﷺ نے ان کے بارے میں سوائے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے، کسی اور کو نہیں بتایا۔ ہاں جن کا ذکر آیا ہے تو وہ الگ ہے۔
لیکن یہ ہے کہ آج کل یہ بات ہوتی ہے کہ نشانیاں تو ظاہر ہے منافقین کی بہت ساری ہوتی ہیں، لیکن اس پر حتمی حکم لگانا اس دنیا میں بہت مشکل ہے۔ لہٰذا وہ چیزیں ہم اپنے لیے تو لے لیں کہ ایسا نہ ہو کہ ہم لوگ ایسے کام کریں جو منافقوں کی علامتیں ہیں۔ لیکن دوسروں کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ معاملہ بڑا نازک ہے۔ کیونکہ منافقین تو کفار سے بھی زیادہ سخت جگہ پہ ہوں گے، تو ایسا نہ ہو کہ ہم ایسے لوگوں کو منافق کہہ دیں جو منافق نہ ہوں، صرف اعمال میں سست ہوں۔
تو چونکہ کفر کا تعلق جو ہوتا ہے وہ دل کے ساتھ ہے، اعمال کے ساتھ نہیں ہے۔ اعمال میں سستی کی وجہ سے انسان گناہ گار ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی نماز نہیں پڑھتا، تو اس سے وہ کافر نہیں ہوتا۔ کوئی روزہ نہیں رکھتا، تو اس سے کافر نہیں ہوتا۔ لیکن اگر نماز اور روزے کے حکم سے انکار کر دے تو کافر ہو جائے گا۔ انکار کرنا وہ ظاہری طور پر ہے، وہ مطلب زبانی ہے، تو لہٰذا ایسی صورت میں تو ہو جائے گا۔ لیکن اگر دل میں انکار کرے گا تو منافق ہوگا۔ سامنے (ظاہری) طور پر مسلمان نظر آئے گا، اندر کافر ہوگا، اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔
تو یہ اصل میں صرف یہ بتانے کے لیے کہ ایسے لوگ ہوں گے، تو ہمیں بندوبست تو کرنا پڑے گا ایسے لوگوں سے حفاظت کے لیے۔ لیکن ان پر حکم ہم نہیں لگا سکتے۔ تو ایسے لوگ جو ہوتے ہیں وہ صرف خود غرضی کی بنیاد پر شریک ہوتے ہیں کہ اگر کوئی فائدہ ان کو ہو تو اس میں تو شامل ہوں، اور اگر خدانخواستہ کوئی نقصان ہو، تو نہ صرف یہ کہ اس میں شامل نہیں ہوں بلکہ اس پہ خوش ہو جائیں کہ اچھا ہوا کہ ان کے ساتھ ایسا ہوا۔ تو ایسے لوگوں سے اپنی حفاظت کرنی پڑے گی۔
اور یہ فرمایا گیا کہ:
”کاش میں بھی ان لوگوں کے ساتھ ہوتا تو بہت کچھ میرے بھی ہاتھ لگ جاتا!“ (یعنی مالِ غنیمت) ﴿73﴾ لہٰذا اللہ کے راستے میں وہ لوگ لڑیں جو دنیوی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ دیں۔ اور جو اللہ کے راستے میں لڑے گا، پھر چاہے قتل ہو جائے یا غالب آجائے، (ہر صورت میں) ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔ ﴿74﴾
یعنی غازی ہو یا شہید ہو۔
اور (اے مسلمانو!) تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں اور اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال لایئے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں، اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کردیجئے، اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی مددگار کھڑا کردیجئے“ ﴿75﴾
یہ واقعتاً ایسے لوگ آج کل بھی ہیں، جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ شام میں ہیں، برما میں ہیں، اس طرح مختلف جگہوں پر ہیں۔ وہ بیچارے بہت پِس رہے ہیں، اور ان کی دعائیں یہی ہوں گی جو یہاں پر قرآن پاک میں ایسے لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ وہ یہی دعائیں کر رہے ہوں گے۔ لہٰذا جو لوگ ان کی مدد کو پہنچتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بڑا نوازیں گے۔
لیکن بہرحال یہ ہے کہ یہ چیزیں ایسی ہیں جو کہ معاشرے میں ہیں اور ہوں گی۔ تو مسلمانوں کو ان تمام چیزوں سے بچنا بھی چاہیے اور جو لوگ اس قسم کے موجود ہوں، ان کے بارے میں منصوبہ بندی بھی کرنی چاہیے، یعنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں۔ آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں۔ کان بھی بالکل alert ہوں، اور ہر چیز کے بارے میں ہمیں احساس ہو کہ ہمیں کہاں کہاں سے نقصان ہو سکتا ہے اس کی پیش بندی کی جائے۔
اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔